7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 7:96–101

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے خزانے کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی تو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ بیخبر سو رہے ہوں ؟

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا اہل شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں ؟

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے ؟ سو خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہوں

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے مرجانے کے بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ؟ اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لیکر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

آیت 96 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء ومرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کیلئے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکرو استدراج کے طور پر انہیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لئے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دار و مدار ہے اور انہیں بغیر کسی تنگ اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا، مگر وہ ایمان لائے نہ انہوں نے تقویٰ اختیار کیا (فاخذنھم بما کانوا یکسبون) ” پس ہم نے ان کی بد اعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کردیا۔ “ ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہ بچے گا۔ (ظھر الفساد فی البرو البحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون) (الروم :31/3) ” بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔ “ (افامن اھل القری) ” کیا بستیوں والے (جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی) اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں ؟ “ (ان یاتیھم باسنا) ” اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب “ یعنی ہمارا سخت عذاب (بیاتاً وھم نآئمون) ” راتوں رات، جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں “ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں (او امن اھل القرای ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعمبون) ” کیا بےخوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جب کہ وہ کھیلتے ہوں “ یعنی کون سی چیز انہیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انہوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کرلیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کے موجب ہیں ؟ (افامنوا مکر اللہ) ” کیا وہ بےخوف ہوگئے ہیں اللہ کے داؤ سے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ (فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون) ” پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں “ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جز اور سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء ومرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ بندے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بےخوف ہوجائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایہ ایمان سلب ہوجائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک) (1) ” اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ “ اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لئے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے، کیونکہ بندہ۔۔۔ خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ اس کی سلامتی یقینی نہیں۔ (1) جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب دعاء : یامقلب القلوب۔۔۔ ، حدیث :3522
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو دیکھا تو بدکار ہی دیکھا

آیت 102 اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مر جانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، زمین میں وارث نبی ہیں ؟ پھر انہوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کردیا۔ کیا انہیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے ؟ کیونکہ اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ (ونطبع علی قلوبھم فھم لایسبعون) ” اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں، پس وہ نہ سنیں۔ “ یعنی جب اللہ تعالیٰ انہیں تنبیہ کرے تو وہ متنبہ نہ ہوں، انہیں نصیحت کرے، مگر وہ نصیحت نہ پکڑیں اور اللہ تعالیٰ آیات اور عبرتوں کے ذریعے سے ان کی راہ نمائی کرے، مگر وہ راہنمائی حاصل نہ کریں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے پس ان کے دلوں پر میل کچیل جم جاتا ہے اور وہ زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔۔۔ ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے حق ان میں داخل نہیں ہوسکتا، بھلائی ان تک پہنچ نہیں سکتی۔ وہ کوئی ایسی بات نہیں سن سکتے جو انہیں فائدہ دے۔ وہ تو صرف وہی بات سن سکتے ہیں جو ان کے خلاف حجت بنے گی۔ (تلک القریٰ ) ” وہ بستیاں “ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے (نقص علیک من انبآءھا) ” ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں “ جس سے بعرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لئے اجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لئے نصیحت (ولقد جآء تھم رسلھم بالبینت) ” اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ “ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کردینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو توقیت بخشی۔ مگر اس چیز نے انہیں کوئی فائدہ دیا نہ ان کے کسی کام آئی۔ (فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل) ” پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلا جھٹلا چکے تھے “ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کردینے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔ “ (کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین) ” اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ “ یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (وما وجدنا لاکثرھم من عھد) ” ہم نے ان ہی سے اکثر میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔ “ یعنی ہم نے اکثر قوموں میں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، عہد کی پاسداری نہیں دیکھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی وصیت کا التزام اور اس پر ثابت قدمی، جو اس نے تمام جہانوں کو کر رکھی ہے اور نہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احکام کی تعمیل کی ہے جو اس نے اپنے انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے ان تک پہنچائے ہیں (وان وجدنا اکثر ھم لفسقین) ” اور اکثر ان میں پائے نافرمان “ یعنی ہم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے اور بےراہ رو ہو کر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہی پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مبعوث فرما کر، کتابیں نازل کر کے اپنے بندوں کو آزمایا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عہد اور اس کی ہدیات کی اتباع کریں۔ مگر بہت کم لوگوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی، یعنی صرف ان لوگوں نے جن کے لئے پہلی ہی سعادت لکھ دی گئی تھی اور رہے اکثر لوگ تو انہوں نے ہدیات سے روگردانی کی اور ان تعلیمات کو تکبر سے ٹھکرا دیا جو رسول لے کر آئے تھے۔ پس اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے۔