Ayahs 7:41–42آیت 41
اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے عذاب کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان پر ایمان نہ لایا۔۔۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بالکل واضح تھیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کیا اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انہوں نے ان کو جھٹلایا اور پیٹھ پھیر کر چل دیئے۔۔۔ یہ ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے۔ ان کی روحید اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آسمان کی طرف بلند ہوں گی اور اجازت طلب کریں گی مگر ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ وہ موت کے بعد آسمان کی طرف اسی طرح بلند نہ ہوسکیں گی جس طرح انہوں نے ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی طرف التفات نہ کیا، کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اہل ایمان کی روحید جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مطیع ہیں، اس کی آیات کی تصدیق کرنے والی ہیں، ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوں گی اور عالم علوی میں وہاں پہنچ جائیں گی جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا اور اپنے رب کے قرب اور اس کی رضا کا لطف اٹھائیں گی۔
اہل جہنم کے بارے میں فرمایا : (ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل) ” وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ داخل ہو اونٹ “ یعنی معروف اونٹ۔ (فی سم الخیاط) ” سوئی کے ناکے میں “ یعنی جب تک اونٹ جو کہ سب سے بڑا حیوان ہے، سوئی کے ناکے میں سے جو کہ سب سے تنگ گزرنے کی جگہ ہے، نہ گزر جائے۔ یہ کسی چیز کو محال کے ساتھ معلق کرنے کے باب میں سے ہے، یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں گزرنا محال ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (آیت) ” جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ تعالیٰ جنت کو اس پر حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا “ اور یہاں فرمایا : (وکذلک تجزی المجرمین) ” اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں گناہ گاروں کو “ یعنی وہ لوگ جن کے جرائم بہت زیادہ اور جن کی سرکشی بےانتہا ہے۔
(لھم من جھنم مھاد) ” ان کے لئے جہنم کا بچھونا ہے “ یعنی ان کے نیچے آگ کے بچھونے ہوں گے (ومن فوقھم غراش) ” ان کے اوپر سے اوڑھنا “ یعنی عذاب کے بادل ہوں گے جو ان پر چھائے ہوئے ہوں گے (وکذلک نجزی الظلمین) ” اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو “ اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کو ہم ان کے جرم کے مطابق جزا دیتے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
Ayahs 7:43–44آیت 43
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافرمان ظالموں کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، تب اس نے اہل اطاعت بندوں کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (والذی امنوا) ” اور جو لوگ ایمان لائے۔ “ یعنی جو دل سے ایمان لائے (وعملوا الصلحت) ” اور عمل نیک کرتے رہے۔ “ یعنی اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے۔ پس اس طرح وہ ایمان و عمل، اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو جمع کرتے ہیں اور بیک وقت فعل واجب اور ترک محرمات پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد (وعملوا الصلحت) ایک عام لفظ ہے جو واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہے، اور بسا اوقات بعض نیکیاں بندے کی مقدرت سے باہر ہوتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لانکلف نفساً الاوسعھا) ” ہم ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتے ہیں “ اور اس کی مقدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ لہٰذا اس حال میں اس پر فرض ہے کہ وہ استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اگر بعض فرائض و واجبات کی تعمیل سے عاجز ہو اور ان کو بجا لانے پر قادر نہ ہو تو یہ فرائض اس پر سے ساقط ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا “ یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص پر صرف وہی چیز فرض کرتا ہے جسے سر انجام دینے کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا : (لایکلف اللہ نفساً الا مآ اتھا) (الطلاق :8/65) ” اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اسی کے مطابق جو اس کو عطا کیا ہے “ فرمایا : (وما جعل علیکم فی الدین من حرج) (الحج :28/22) ” اور (اللہ تعالیٰ نے) تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ “ فرمایا : (فاتقوا اللہ ما استطعتم) ” التغابن :16/63) ” پس جہاں تک طاقت ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ “ پس معلوم ہوا کہ عاجز ہونے کی صورت میں واجب کی ادائیگی لازم نہیں اور نہ اضطراری صورتحال میں محرمات سے اجتناب واجب رہتا ہے۔
اولئک) ” ایسے ہی لوگ “ یعنی ایمان اور عمل صالح سے متصف لوگ (اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون) ” اہل بہشت ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ یعنی انہیں جنت سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ وہ خود جنت کے بدلے کوئی اور چیز چاہیں گے، کیونکہ انہیں جنت میں انواع و اقسام کی لذتیں حاصل ہوں گی، تمام خواہشات پوری ہوں گی، انہیں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی اور اس سے بلند تر کسی مقام کی طلب نہ ہوگی۔ (ونزعنا ما فی صدورھم من عل) ” اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی ہوگی “ یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہوگا کہ دنیا میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کینہ اور بغض اور ایک دوسرے سے مقابلے کی جو رغبت موجود تھی، اللہ تعالیٰ اس کو زائل اور ختم کر دے گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی اور باصفا دوست ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) اور ان کے دلوں میں جو کینہ اور کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔ “ اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم عطا کرے گا جس پر ہر ایک کو خوشی اور مسرت ہوگی اور ہر ایک یہی سمجھے گا کہ جو نعمتیں اسے عطا ہوئی ہیں ان سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں اس لئے وہ حسد اور بغض سے محفوظ ومامون رہیں گے، کیونکہ حسد اور بغض کے تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔ (تجری من تحتھم الانھر) ” بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں “ یعنی وہ جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے نہریں نکال لیں گے۔ اگر وہ نہریں اپنے محلات میں لے جانا چاہیں یا اپنے بلند وبالا خانوں میں یا پھولوں سے سجے ہوئے باغات کی روشوں میں لے جانا چاہیں تو لے جائیں گے۔ یہ ایسی نہریں ہوں گی جن میں گڑھے نہیں ہوں گے اور بھلائیاں ہوں گ جن کی کوئی حد نہ ہوگی۔
(و) ” اور “ اس لئے جب وہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو دیکھیں گے (آیت) کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔ “ یعنی وہ پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے ہم پر احسان فرمایا، ہمارے دلوں میں الہام فرمایا اور اس پر ایمان لے آئے اور ایسے اعمال کئے جو نعمتوں کے اس گھر تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمان و اعمال کی حفاظت کی حتی کہ اس نے ہمیں اس جنت میں داخل کردیا۔ بہت ہی اچھا ہے وہ رب کریم جس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں، ظاہری اور باطنی اتنی نعمتوں سے نوازا کہ کوئی ان کو شمار نہیں کرسکتا۔ (آیت) اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔ “ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنی ہدایت اور اتباع رسل سے نہ نوازا ہوتا تو ہمارے نفوس میں ہدایت کو قبول کرنے کی قابلیت نہ تھی۔ (لقد جآءت رسل ربنا بالحق) ” یقیناً لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات “ یعنی جب وہ ان نعمتوں سے متمتع ہو رہے ہوں گے جن کے بارے میں انبیاء ومرسلین نے خبر دی تھی اور یہ خبر ان کے لئے علم الیقین کے بعد حق الیقین بن گئی۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے یہ بات متحقق ہوگئی اور ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کا انبیا و رسل نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ سب کچھ حق الیقین ہے جو انبیاء ومرسلین لے کر مبعوث ہوئے۔ جس میں کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال نہیں۔
(ونودوآ) ” اور منا دی کردی جائے گی۔ “ تہنیت و اکرام اور سلام و احترام کے طور پر انہیں پکارا جائے گا (ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا) ” یہ جنت ہے، وارث ہوئے تم اس کے “ یعنی تم اس کے وارث ہو اور یہ تمہاری جاگیر ہے، جب کہ جہنم کافروں کی جاگیر ہوگی۔ (بما کنتم تعملون) ” اپنے اعمال کے بدلے میں “ سلف میں سے کسی نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اللہ تعالیٰ کے عفو کی وجہ سے جہنم سے نجات پائیں گے، اس کی رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنیں گے اور اس کی منازل کو باہم تقسیم کریں گے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے، بلکہ اس کی رحمت کی بلند ترین نوع ہے۔
Ayah 7:45آیت 45
اللہ تعالیٰ یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اہل ایمان اور کفار جنت اور جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں سب کچھ ویسا ہی پائیں گے جیسا انبیاء و رسل نے ان کو خبر دی تھی اور جیسا کہ ثواب و عقاب کے بارے میں انبیا کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریر تھا، فرماتا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے : (ان قدو جدنا ما وعدنا ربنا حقاً ” کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پا لیا۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر جنت کا وعدہ کیا تو ہم نے اس کے وعدہ کو سچاپایا، اس نے ہمیں جنت میں داخل کردیا ہم نے وہاں وہ سب کچھ دیکھا جو اس نے ہمارے لئے بیان کیا تھا (آیت) ” بھلا جو وعدہ تمہارے رب نے تم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا ؟ “ یعنی تمہارے کفر اور معاصی پر تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچاپایا ؟
(قالو انعم) ” وہ کہیں گے، ہاں ! “ ہم نے اسے سچ پایا۔ پس تمام مخلوق کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچی ہوسکتی ہے ؟ تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے اور معاملہ حق الیقین بن جائے گا۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدے پر خوش ہوں گے، کفار بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔ وہ اپنے بارے میں خود اقرار کریں گے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں۔
(فاذن مؤذن بینھم) ” تو (اقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا۔ “ پکارنے والا اہل جنم اور اہل جنت کے درمیان پکار کر کہے گا : (ان لعنۃ اللہ) ” کہ لعنت ہے اللہ کی ” یعنی ہر بھلائی سے بعد اور محرومی (علی الظلمین) ” ظالموں پر “ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی رحمت کے دروازے کھولے مگر انہوں نے اپنے ظلم کی وجہ سے ان سے منہ موڑا، خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور دوسروں کو بھی اس راستے پر نہ چلنے دیا۔ پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا راستہ سیدھا رہے اور اس پر چلنے والے اعتدال کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ (و) ” اور “ یہ کفار (یبغونھا عوجاً ) ” ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی “ یعنی سیدھے راستے سے ہٹا ہوا (وھو بالاخرۃ کفرون) ” اور وہ آخرت کے منکر تھے “ یہی کفر ہے جو راہ راست سے ان کے انحراف کا باعث بنا اور یہی کفر ہے جو فنس کی شہوات محرمہ، کو محور بنانے آخرت پر عدم ایمان، عذاب سے عدم خوف اور ثواب سے نا امیدی کا موجب بنا۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان پر سایہ کناں، اس کا فضل ان کے شامل حال اور اس کا احسان ان پر متواتر ہے۔
Ayahs 7:46–52آیت 46
یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ” مقام اعراف “ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جاسکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جاسکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے (ان سلم علیکم) ” سلامتی ہے تم پر “ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی جاگزیں کرتا ہے جب وہ ان کو اپنی تکریم سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے۔ (واذا ضرفت ابصارھم تلقآء اصحب النار) ” اور جب ان کی نظر اہل جہنم کی طرف جائے گی “ تو ان کو بہت ہی ہولناک اور قبیح منظر دیکھنے کو ملے گا۔ تو وہ پکار اٹھیں گے۔ (ربنا لا تجلعنا مع القوم الظلمین) ” اے ہمارے رب ہم کو ظالموں کے ساتھ نہ کرنا “ اہل اعراف جب اہل جنت کو دیکھیں گے تو وہ بھی جنت میں ان کی معیت کی خواہش کریں گے اور وہ ان کو تحیہ وسلام پیش کریں گے اور جب غیر اختیاری طور پر ان کی نظریں اہل جہنم کی طرف اٹھیں گی تو وہ عمومیطور پر ان کی حالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔
عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ونادی اصحب الاعراف رجالاً یعرفونھم بسیمھم) ” اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔ “ اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں۔۔۔ کہیں گے : (ما غنی عنکم جمعکم) ” آج تمہاری جماعت تمہارے کچھ کام نہ آئی۔ “ یہاں تمہارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لئے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضحمل ہوگئی اور کچھ بھی تمہارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمہارے تکبر نے تمہیں کیا فائدہ دیا ؟ پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے (اھولآء) ” اب یہ وہی ہیں “ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا (الذین اقسمتم لاینالھم اللہ برحمۃ) ” جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔ “ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خودپسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔
(ادخلوا الجنۃ) ” تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ “ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہوجاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ (لاخوف علیکم) مستقبل میں تمہیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا (ولا انتم تحزنون) اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون، مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ! (آیت) ” وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔ “
اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہوجائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہوجائیں۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کی غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔
Ayah 7:53آیت 53
جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بےانتہا بھوک اور انتہائی تکلیف وہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لئے بلائیں گے اور کہیں گے : (افیضوا علینا من المآء اومما رزقکم اللہ) ” بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمہیں عطا کیا ہ ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے : (ان اللہ حرمھما) ” اللہ نے ان دونوں کو حرام کردیا ہے “ یعنی جنت کا پانی اور کھانا (علی الکفرین) ” کافروں پر “ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انہوں نے اس دین کو۔۔۔ جس پر قائم رہنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور اس پر انہیں بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا تھا، کھیل تماشا بنا لیا (لھوا ولعباً ) ” تماشا اور کھیل “ یعنی ان کے دل غافل اور دین سے گریزاں تھے اور انہوں نے دین کا تمسخر اڑایا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے دین کے بدلے لہو و لعب کو اختیار کرلیا اور دین قیم کے عوض لہو و لعب کو چن لیا۔
(وغرتھم الحیوے الدنیا) ” اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ‘ یعنی دنیا نے اپنی زیب وزینت سے اور دنیا کی طرف بلانے والوں کی کثرت نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ پس وہ دنیا سے مطمئن ہو کر اس سے خوش اور راضی ہوگئے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسے بھول گئے (فالیوم ننسھم) ” پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے “ یعنی انہیں عذاب میں چھوڑ دے رہے ہیں (کمانسوا القآء یومھم ھذا) ” جیسا انہوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو “ گویا کہ وہ صرف دنیا ہی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ان کے سامنے کوئی مقصد اور کوئی جزا نہیں (وما کانوا بایتنا یجحدون) ” اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔ “
حال یہ ہے کہ ان کا یہ کفر و حجود اس بنا پر نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی روشن دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر تھے (جئنھم بکتب فصلنہ) ’ دہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ “ بلکہ ہم تو ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے کر آئے جس میں ہم نے وہ تمام مطالب کھول کھول کر بیان کردیئے ہیں مخلوق جن کی محتاج ہوتی ہے۔ (علی علم) ” خبر داری سے “ یعنی ہر زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے کہ ان کے لئے کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کھول کھول کر بیان کرنا اس ہستی کا سا نہیں جو معاملات کا علم نہیں رکھتی اور بعض احوال اس سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور اس سے کوئی نامناسب فیصلہ ہوجاتا ہے۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بیان کرنا اس ہستی کا سا ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ (ھدی و رحمۃ لقوم یومنون) ” اور وہ مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ “ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے اہل ایمان کے لئے گمراہی میں سے ہدایت واضح ہوجاتی ہے۔ حق و باطل اور رشد و ضلالت کے درمیا نفرق واضح اور نمایاں ہوجاتا ہے، نیز وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بن جاتے ہیں اور دنیا و آخرت میں بھلائی اور سعادت کا نام ہے اور ان سے اس رحمت کے ذریعے سے گمراہی اور شقاوت دور ہوجاتی ہے۔
وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انہوں نے اس کے اوامرو منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لئے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ھل ینظرون الا تاویلہ) ” کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہوجائے “ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ یوسف نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا (آیت) یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا “ فرمایا : (یوم یاتی تاویلہ یقول الذین نسوہ من قبل) ” جس دن ظاہر ہوجائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے “ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے سفارش تلاش کرتے ہوئے اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیاء ومرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے : (قد جآءت رسل ربنا بالحق فھل لنا من شفعآء فیشفعوا لنا اونرد) ” بیشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفاشر کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیئے جائیں “ (فنعمل غیرالذین کنا نعمل) ” تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے “ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے (فما تنفعھم شفاعۃ الشفعین) (المدثر :38/83) ” پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ “ ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا، تاکہ وہ نیک عمل کرسکیں، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ولو ردوا لعادوالما نھوا عنہ وانھم لکذبون) (الانعام :28/6) ” اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بیشک یہ جھوٹ ہیں۔ “
(قد خسروانفسھم) ” بیشک نقصان میں ڈالا انہوں نے اپنے آپ کو “ جب کہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لئے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں۔ (وضل عنھم ما کانوا یفترون) ” اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے “ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب ہی میں نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیاء ومرسلین کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔
Ayah 7:54آیت 54
اللہ تبارک و تعالیٰ واضح کرتا ہے کہ وہ اکیلا رب معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ چناچہ فرماتا ہے : (ان ربکم اللہ الذی خلق السموت ولارض) ” بیشک تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو “ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، زمین و آسمان کی وسعت، ان کی عظمت، ان کے محکم ہونے، ان کے مہارت کے ساتھ بنے ہوئے اور ان کی انوکھی تخلیق کے باوصف (فی ستۃ ایام) ” چھ دن میں “ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق پوری کردی اور ان کے اندر اپنے تمام امور ودیعت کردیئے۔ (استوی علی العرش) ” وہ عرش پر جا ٹھہرا۔ “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عرش عظیم پر مستوی ہوا اور عرش عظیم تمام آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے، سب پر محیط ہے۔ اللہ تعالیٰ عرش عظیم پر اس طرح مستوی ہوا جس طرح اس کے جلال، اس کی عظمت اور اس کی سلطنت کے لائق ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی ہوا، اس کا اقتدار تمام ممالک کو شامل ہے، اس نے اپنے تمام احکام تکوینی اور احکام دینی جاری فرمائے۔ بنابریں فرمایا : (یغشی الیل) ” اڑھاتا ہے وہ رات کو “ (النھار) ” دن پر “ یعنی اندھیری رات روشن دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور زمین پر اندھیرا چھا جاتا ہے، انسان آرام کرتے ہیں اور مخلوقات اپنے اپنے مسکنوں میں دن بھر کے آنے جانے اور تھکاوٹ سے آرام پاتے ہیں۔ (یطلبہ حثیثاً ) ” کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا “ جب رات آتی ہے تو دن چلا جاتا ہے اور جب دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور یہ گردش لیل و نہار ہمیشہ جاری رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی بساط لپیٹ دے گا اور بندے اس جہان فانی سے دوسرے جہان میں منتقل ہوجائیں گے۔ (والشمس والقمر و النجوم مسخرت بامرہ) ” اور پیدا کئے سورج، چاند اور تارے، تابع دار اپنے (اللہ) کے حکم کے “ یعنی سورج، چاند اور ستارے اس کی تسخیر و تدبیر سے مسخر ہیں، جو اس کے اوصاف کمال کی دلیل ہے۔ پس ان کی تخلیق اور ان کا اتنا بڑا ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ پر اور اس کائنتا کا محکم، ضمبوط اور منظم ہونا اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پر دلالت کرتا ہے اور سورج، چاند اور ستاروں میں جو ضروری اور بعض دیگر فوائد اور مصالح رکھے گئے ہیں، وہ اس کے بےکراں علم اور بےپایاں رحمت پر دلیل ہیں۔ نیز اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
(الہ لہ الخلق والامر) ” اسی کے لئے ہے پیدا کرنا بھی اور حکم بھی۔ “ یعنی وہی تخلیق کا مالک ہے جس سے تمام مخلوقات مخلوق علوی، مخلوق سفلی، ان کے اعیان، اوصاف اور افعال صادر ہوتے ہیں اور امر کا بھی مالک ہے جو شریعت و نبوت کو متضمن ہے۔ پس ” تخلیق “ اس کے احکام کونی و قدری کو اور ” امر “ احکام دینی و شرعی کو متضمن ہے اور احکام جزا کا اجراء دار بقا میں ہوگا (تبرک اللہ) یعنی وہ بلند اور عظمت والا ہے اس کی بھلائی اور احسان بہت زیادہ ہے، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اپنی عظمت اوصاف اور کمال صفات کی بنا پر بہت بابرکت ہے اور مخلوق کو بےپایاں بھلائی اور بیشمار نیکی سے نواز کر دوسروں کو بھی برکت عطا کرتا ہے۔ پس اس کائنات میں جو برکات نظر آتی ہیں وہ اس کی رحمت کے آثار ہیں۔ بنابریں فرمایا : (تبرک اللہ رب العلمین) ” بڑا بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی صفت عظمت و جلال کا ذکر فرمایا جو عقل مندوں کی اس حقیقت کی طرف راہ نمائی کرتی ہے کہ تمام حوائج میں وہی اکیلا معبود قمصود ہے۔ تو اب اس چیز کا حکم دیا جو اس حقیقت پر مترتب ہوتی ہے۔
Ayahs 7:55–56آیت 55
” دعا “ میں دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اسے پکاریں (تضرعا) ” عاجزی سے۔ “ یعنی گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور جم کر اس کی عبادت کریں۔ (وخفیۃ) ” اور چپکے سے “ یعنی با آواز بلند اور علانیہ نہ گڑا گڑائیں جس سے ریا کا خدشتہ ہو بلکہ چھپ چھپ کر خالص اللہ تعالیٰ کے لئے آہ وزاری کریں (انہ لا یحب المعتدین) ” وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ “ یعنی تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی حد سے تجاوز ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزوں کا سوال کرے جو بندے کے لئے درست نہیں، یا دوسرے سے سوال کرنا ہی چھوڑ دے، یا وہ بہت زیادہ بلند آواز میں دعا مانگے۔ یہ تمام امور تجاوز حدود میں شامل ہیں جو ممنوع ہیں۔ (ولا تفسدوا فی الارض) ” اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ “ یعنی اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ (بعد اصلاحھا) ” اس کی اصلاح کے بعد “ یعنی اطاعت اور نیکی کے ذریعے سے اس کی اصلاح کرلینے کے بعد، کیونکہ معاصی، اخلاق، اعمال اور رزق کو فاسد کردیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ’ لوگوں کی بد اعمالیوں کے سبب سے بحر و بر میں فساد پھیل گیا۔ “ جیسے نیکیوں سے اخلاق، اعمال، رزق اور دنیا و آخرت کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے۔
(وادعوہ خوفاً وطمعاً ) ” اور اس (اللہ) سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں ماگنتے رہو۔ “ اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اسے پکارو، نیز یہ امید بھی رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرمائے گا اور اس بات سے بھی ڈرو کہ کہیں اللہ تعالیٰ دعا کو رد نہ کر دے۔ اس بندے کی طرحدعا نہ مانگو جو ناز و ادا کے ذریے سے اپنے رب کے سامنے جرأت اور گستاخی کا مرتبک ہوتا ہے۔ جو خودپسندی کا شکار ہے اور جس نے اپنے نفس کو اس کی اصل حیثیت سے بڑھ کر حیثیت دی ہے اور نہ اس شخص کی طرح دعا مانگو جو غافل دل کے ساتھ دعا ماگنتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آداب دعا کے بارے میں جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دعا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ہو اور دعائے خفی اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو متضمن ہے۔ دعا کا چھپانا اور اس کا اخفاء یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ سے خئاف ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دا کی قبولیت کی امید رکھتا ہو، غافل دل کے ساتھ دعا نہ کرے، اپنے آپ کو مامون نہ سمجھے اور نہ قبولیت دعا کے بارے میں بےپروائی کا اظہار کرے اور یہ چیز دعا میں احسان کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ ہر عبادت میں احسان یہ ہے کہ بندہ اس عبادت میں اپنی پوری جدوجہد صرف کر دے، اسے نہایت کا مل طریقے سے ادا کرے اور کسی طور بھی اس میں نقص واقع نہ ہونے دے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ان رحمت اللہ قریب من المحسنین) ” اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر پہنچنے والے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے والے لوگ۔ پس بندہ جتنا زیادہ احسان کے مقام پر فائز ہوگا اتنی ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے قریب ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں احسان کی ترغیب ہے، جو مخفی نہیں۔
Ayahs 7:57–58آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدتر اور رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” اور وہی ہے جو چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والی اس کی رحمت (بارش) سے پہلے “ یعنی وہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو زمین سے اٹھاتی ہیں اور مخلوق اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے اور اس کے برسنے سے قبل ان کے دلوں میں خوشی کے کنول کھل اٹھتے ہیں۔ (حتی اذا اقلت) ” یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں “ یعنی ہوائیں (سحاباً ثقالاً ) ” بھاری بادلوں کو “ بعض ہوائیں ان بادلوں کو اٹھات یہیں، بعض دوسری ہوائیں ان کو اکٹھا کرتی ہیں اور کچھ ہوائیں ان کو بار دار کرتی ہیں (سقنہ لبلد میت) ” تو ہانک دیتے ہیں ہم اس (بادل) کو ایک مردہ شہر کی طرف “ اس علاقے کے حیوانتا ہلاکت کے قریب اور وہاں کے باسی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو چل کے تھے (فانزلنا بہ المآء) ” پھر اس (بادل) سے مینہ براستے ہیں۔ “ یعنی اس بادل کے ذریعے سے ہم نے اس مردہ زمین پر خوب پانی برسایا، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو مسخر کیا جو بادلوں کو پانی سے لبریز کرتی ہے اور دوسری ہوا اللہ کے حکم سے ان بادلوں کو لخت لخت کر کے بکھیرتی ہے (فاخرجنا بہ من کل الثمرت) ” پھر نکالتے ہیں ہم اس سے ہر طرح کے پھل “ پس وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر خوش ہوجاتے ہیں اور اس کی بھلائی سے خو خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (کذلک نخرج لعلکم تذکرون) ’ داسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت پکڑو “ یعنی جس طرح ہم نے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو نباتات کے ذریعے سے زندہ کیا اسی طرح ہم مردوں کو، جب وہ اپنی قبروں میں ریزہ ریزہ ہو کر مٹی بن چکے ہوں گے، زندہ کریں گے۔ یہ استدلال بہت واضح ہے دونوں امور میں کوئی فرق نہیں۔ زندگی بعد موت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کا انکار کرنا۔۔۔ حالانکہ اس کا انکار کرنے والا اس کے نظائر کا مشاہدہ کرتا ہے۔۔۔ عناد اور محسوسات کے انکار کے زمرے میں آتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو چشم غفلت سے دیکھنے کی بجائے چشم عبرت سے ان میں غور کرنے اور تدبر و تفکر کی ترغیب دی گئی ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان مختلف قطعات زمین میں تیں قطعات کا ذکر فرمایا ہے جس پر بارش برستی ہے۔ (والبلد الطیب) ” اور جو شہر پاکیزہ ہے “ یعنی جس کی مٹی اور صال پاکیزہ ہے، جب اس پر بارش اترتی ہے (یخرج نباتہ) ” اس کا سبزہ نکلتا ہے “ جو اس کے لئے تیار ہوتی ہے (باذن ربہ) ” اس کے بر کے حکم سے “ یہ نباتات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے ظاہر ہوتی ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو اشیا کے وجود میں اسباب کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے۔ (والذین خبث لایخرج الا نکداً “” اور جو خراب زمین ہے اس میں سے خراب اور حسیس نباتات ہی نکلتی ہیں “ جس میں کوئی فائدہ اور کوئی برکت نہیں ہوتی۔ (کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون) ” اسی طرح ہم آیتوں کو شکر گزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ “ یعنی ہم آیات کی مختلف انواع اور مثالیں ان لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اقرار کر کے اس کے شکر گزار ہوتے ہیں اور ان نعمتوں میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق تصرف کرتے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جو ان احکام اور مطالب الہیہ سے مستفید ہوت یہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تفصیل بیان کی ہے کیونکہ وہ ان احکام الہیہ کو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت خیال کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس پہنچی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس نعمت کا محتاج سمجھتے ہوئے اس یخوشی خوشی قبول کرتے ہیں اور ان احکام میں غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی استعداد کے مطابق ان کے سامنے ان احکام کے معانی بیان کردیتا ہے۔
یہ دلوں کے لئے ایک مثال ہے جب ان پر وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے یہ مادہ حیات ہے اور بادل بارش کا مادہ ہے۔ قلوب طاہرہ کے پاس جب وحی آتی ہے تو اسے قبول کرتے ہیں اور اسے سیکھتے ہیں اور اپنی فطرت کی پاکیزگی اور اپنے عنصر کی اچھائی کے مطابق نشو و نما پاتے ہیں۔ قلوب خبیثہ جن میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی جب ان کے پاس وحی آتی ہے تو وہ قابل قبول مقام و محل نہیں پاتی بلکہ وہ انہیں غافل اور روگرداں یا مخالفت کرنے والے پاتی ہے۔ پس اس کی مثال اس بارش کی مانند ہے جو شور زدہ زمین، ریت کے ٹیلوں اور چٹانوں پر برستی ہے تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) الخ ” اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنے اپنے اندازے کے مطابق ندی نالے بہہ نکلے اور پانی نے پھولا ہوا جھاگ اٹھایا۔ “