Ayahs 69:38–44اللہ تبار وتعالی نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنہیں نہیں دیکھ سکتی ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے یہ قسم رسول اللہ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو کفار کی تمام بہتان طرازیوں سے ، ، مثلا یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں منزہ قرار دیا ہے ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چناچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے غور و فکر کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز انہیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے وہ نبی کریم کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روش ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت اس کے اوصاف کی جلالت بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ اگر اس رسول نے اللہ پر کوئی جھوٹ بولا ہوتا (بعض الاقاویل) اور بعض جھوتی باتیں بنائی ہوتیں۔
Ayahs 69:45–46(لاخذنا بالیمین، ثم لقطعنا من الوتین) ۔ تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔ (وتین) وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہوجاتا ہے اگر یہ فرض کر بھی لیاجائے۔۔۔ حاشا وکلا۔۔۔ کہ آپ نے اللہ پر جھوت گھڑا ہے تو اللہ آپ کو فورا سزا دیتا اور آپ کی اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے کون اور اموال اس لیے کہ مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں نجات صرف اسی کے لیے ہے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت رکتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔ پس جب اللہ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہو اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح ونصرت سے نوازا گیا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔
Ayah 69:47(اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
Ayah 69:48(وانہ) بیشک یہ قرآن کریم (لتذکرۃ للمتقین) ۔ پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔ وہ اپنے دین ودنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں چناچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حسنہ اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین، اور ائمہ مجتہدین بن جاتے ہیں۔
Ayah 69:49(وانا لنعلم ان منکم مکذبین) ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں، اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا
Ayah 69:50(وانہ لحسرۃ علی الکافرین) ۔ اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے، چونکہ انہوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انہوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے اس سے رہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہوگئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہوگئے۔
Ayah 69:51(وانہ لحق الیقین) ۔ اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے، یعنی علم کا اعلی ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے، جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے، یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ماقبل مرتبے سے بلند تر ہے۔ اول۔ علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مسفاد ہوتا ہے۔ ثانی۔ عین الیقین وہ علم ہے جس کا ادراک حاسہ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث۔ حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسہ ذوق ولمس سے ہوتا ہے۔ اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل وبراہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اس میں جو حقائق ہیں اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔
Ayah 69:52(فسبح باسم ربک العظیم) ۔ پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر۔ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کرکے اس کی تقدیس بیان کریں۔