Ayahs 6:74–83آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
(وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی (نری ابراہیم ملکوت السموت ولارض) ” ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات “ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے (ولیکون من الموقنین) ” اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو “ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔ (فلما جن علیہ الیل) ” جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔ “ یعنی جب رات تاریک ہوگئی (را کو کباً ) ” اس نے ایک ستارہ دیکھا “ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہوگا، کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنا بریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(قال ھذا ربی) ” کہنے لگییہ میرا رب ہے۔ “ یعنی انہوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام پر اترتے ہوئے کہا کہ ” یہ میرا رب ہے “ آؤ ہم دیکھیں کہ کیا یہ ربوبیت کا مستحق ہے ؟ کیا ہمارے سامنے کوئی ایسی دلیل قائم ہوتی ہے جو اس کے رب ہونے کو ثابت کرتی ہو ؟ کیونکہ کسی عقلمند کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ بغیر کسی حجت وبرہان کے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لے۔ (فلما افل) یعنی جب یہ ستارہ غائب ہوگیا (قال لا احب الافلین) ” تو کہا، میں غائب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا، یعنی جو ظاہر ہونے کے بعد غائب ہو کر عبادت کرنے والے سے اوجھل ہوجائے۔ کیونکہ معبود کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس شخص کے مصالح کا اتنظام اور اس کے تمام معاملات کی تدبیر کرے جو اس کی عبادت کرتا ہے۔ رہی وہ ہستی جو اکثر اوقات غیر موجود اور غائب ہوتی ہے تو عبادت کی کیوں کر مستحق ہوسکتی ہیں ؟ کیا ایسی ہستی کو معبود بنانا سب سے بڑی بےوقوفی اور سب سے بڑا باطل نہیں ؟
(فلما را القمر بازغاً ) ” پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے۔ “ یعنی جب انہوں نے چاند کو طلوع ہوتے دیکھا اور یہ مشاہدہ بھی کیا کہ اس کی روشنی ستاروں کی روشنی سے زیادہ ہے اور یہ ان کے مخالف بھی ہے (قال ھذا ربی) ” کہا، یہ میرا رب ہے “ یعنی دلیل کی خاطر مخالفین کے مقام پر اتر کر کہا (فلما افل قال لئن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضآئلین ) ” جب وہ غائب ہوگیا، بولے، اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو میرا رب، تو بیشک رہوں گا میں گمراہ لوگوں میں “ ابراہیم اپنے رب کی راہنمائی کے بےحد محتاج تھے اور انہیں علم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست نہ دکھائے تو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اگر اپنی اطاعت پر وہ ان کی اعانت نہ کرے تو کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ (فلما را الشمس بازغۃ قال ھذا ربی ھذا اکبر ‘ ” پس جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا، یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے “ یہ تمام (ستاروں اور چاند) سے بڑا ہے “ (فلما افلت) ” جب وہ غروب ہوگیا “ یعنی جب سورج بھی غروب ہوگیا تو ہدایت متحقق ہوگئی اور ہلاکت مضمحل ہوگئی (قال یقوم این بری مما تشرکون) ”(تو) کہا، اے میری قوم ! بیشک میں ب یزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو “ کیونکہ اس کے بطلان پر سچی اور واضح دلیل قائم ہوچکی ہے۔
انی وجھت وجھی للذی فطر السموت ولارض حنیفاً ) ” میں نے متوجہ کرلیا اپنے چہرے کو اسی کیطرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر “ یعنی صرف الہ واحد کی طرف یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہو کر اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر (وما انا من المشرکین) ” اور میں نہیں ہوں شرک کرنے الا۔ “ پس یوں ابراہیم نے شرک سے برأت کا اظہار کیا اور توحید کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور توحید پر دلیل قائم کی۔۔۔ یہ ہے ان آیات کریمہ کی تفسیر جو ہم نیبیان کی ہے اور یہی صواب ہے، نیز یہ کہ یہ مقام جناب ابراہیم کی طرف سے اپنی قوم کے ساتھ مناظرے کا مقام تھا اور مقصد ان اجرام فلکی وغیرہ کی الوہیت کا بطلان تھا۔ رہا ان لوگوں کا موقف کہ یہ جناب ابراہیم کے ایام طفولیت میں غور و فکر کا مقام تھا تو اس پر کوئی دلیل نہیں۔ (وحآ جہ قومہ ط قال اتحاجونی فی اللہ وقد ھدین) ” اور اس سے جھگڑا کیا اس کی قوم نے، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے ایک ہونے میں جھگڑتے ہو اور وہ مجھ کو سمجھا چکا، یعنی بھلا اس شخص کے لئے جھگڑنے میں کون سا فائدہ ہے جس کے سامنے ہدایت واضح نہیں ہوئی۔ جبکہ وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا ہے اور وہ یقین کے بلند ترین مقام پر فائز ہے تو وہ خود لوگوں کو اس راستے کی طرف بلاتا ہے جس پر وہ خود گامزن ہے۔
(ولا اخاف ماتشرکون بہ) ” اور میں نہیں ڈرتا ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو اس کے ساتھ “ کیونکہ یہ جھوٹے خدا مجھے کوئی نقصان نہیں دے سکتے، نہ مجھے کسی نفع سے محروم کرسکتے ہیں (الا ان یشآء ربی شیاء وسیع ربی کل شی علما افلا تتذکرون) ” مگر یہ کہ چاہے اللہ، میرا رب، احاطہ کرلیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا، کیا تم نہیں نصیحت پکڑتے ؟ “ پس تم جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے جو کہ عبودیت کا مستحق ہے۔ (وکیف اخاف ما اشرکتم) ” اور میں کیوں کر ڈروں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو “ درآنحالیکہ یہ معبود ان باطل عاجز محض اور کسی قسم کا فائدہ پہنچانے سے محروم ہیں (ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ مالم ینزل بہ علیکم سلطناً ” اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم اللہ کا ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہو جس پر اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری “ یعنی سوائے خواہش نفس کی پیروی کے اس پر کوئی دلیل نہیں (فای الفریقین احق بالامن ان کنتم تعلمون) ” پس کون سا گروہ امن کا زیادہ مستحق ہے اگر تم جانتے ہو ؟ “
اللہ تبارک و تعالیٰ فریقین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (الذین امنوا ولم یلبسوآ ایمانھم بظلم) ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہیں ملایا انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم “ یعنی ایمان کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ (اولئک لھم الامن وھم مھتدون) ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ “ وہ ہر قسم کے خوف سے مامون ہوں گے، عذاب اور شقاوت وغیرہ میں سے کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی سے نوازے جائیں گے۔ اگر انہوں نے اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم سے ملوث نہ کیا ہوگا یعنی انہوں نے شرک کیا ہوگا نہ گناہ، تو انہیں امن کامل اور ہدایت تام نصیب ہوگی اور اگر انہوں نے اپنے ایمن کو شرک سے تو پاک رکھا مگر وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتے رہے تو انہیں اگرچہ کامل امن اور کامل ہدایت تو حاصل نہ ہوگی تاہم انہیں اصل ہدایت اور امن حاصل ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں یہ دو امور حاصل نہیں وہ ہدایت اور امن سے محروم رہیں گے بلکہ ان کے نصیب میں بدبختی اور گمراہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قطعی دلائل وبراہین بیان کر کے ابراہیم کے حق میں فیصلہ کردیا تو فرمایا (وتلک حجتنا اتینھا ابرھیم علی قومہ) ” اور یہ ہے ہماری دلیل، کہ دی تھی ہم نے ابراہیم کو، اس کی قوم کے مقابلے میں “ یعنی ان دلائل وبراہین کی مدد سے ابراہیم نے ان کو نیچا دکھایا اور ان پر غالب آئے۔
(نرفع درجت من نشآء) ” ہم جس کے چاہتے ہیں، درجے بلند کرتے ہیں “ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم کے دنیا و آخرت میں درجات بلند فرمائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ علم کے ذریعے سے صاحب علم کو دوسرے بندوں پر فوقیت عطا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ خاص طور پر وہ عالم جو صاحب علم بھی ہے اور معلم بھی۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے حب حال اسے لوگوں کا امام بنا دیتا ہے۔ اس کے افعال کو دیکھا جاتا ہے، اس کے آثار کی پیروی کی جاتی ہے، اس کے نور سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے علم کی مدد سے تیرہ و تار تاریکیوں میں رواں دواں رہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجت) (المجادلہ :11/08) ” تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا کیا گیا، اللہ ان کے درجات بلند کرتا ہے۔ “ (ان ربک حکیم علیم) ” بیشک تمہارا رب دانا، علم والا ہے۔ “ اس لئے وہ علم و حکمت کو ان کے شایان شان مقام پر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس مقام کو اور جو کچھ اس کے لئے مناسب ہے خوب جانتا ہے۔
Ayahs 6:84–90آیت 84
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیم کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی، اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقب اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب) ” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب “ یعقوب یعنی اسحاق کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ (ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب) ” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب “ یعقوب یعنی اسحاق کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ (کلا) ” سب کو “ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو (ھدینا) ” ہم نے ہدایت دی۔ “ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی (ونوحا ھدینا من قبل) ” اور اس سے قبل ہم نے نواح کو ہدایت سے نوازا “ یہ ہدیات اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کی صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولوالعزم رسول تھے۔ نوح ان میں سے ایک تھے۔
(ومن ذریتہ) ” اور ان کی نسل میں سے “ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی زمرہ میں حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں، کیونکہ حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیم کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیم کی مدح و ثنا میں ہے اور لوط اگرچہ حضرت ابراہیم کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جنبا خلیل کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجردان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لئے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔
(داؤد و سلیمن) ” داؤد اور سلیمان “ یعنی سلیمان بن داؤد (وایوب و یوسف) ” ایوب اور یوسف “ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب (وموسی وھرون) ” موسیٰ اور ہارون “ یعنی عمران کے بیٹے (وذلک) ” اور اسی رطح “ یعنی جس سرح طہم نے ابراہیم خلیل اللہ کی ذریت کو صالح بنایا، کیونکہ ابراہیم نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سیفائدہ پہنچایا (نجزی المحسنین) ” ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔ “ نیکو کار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انہیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں۔
(وزکریا ویحیی) ” زکریا اور یحییٰ “ یعنی یحییٰ زکریا کے فرزند (و عیسی) یعنی عیسیٰ ابن مریم (ولیاس کل) ” اور الیاس کو بھی یہ سب “ یعنی یہ تمام لوگ (من الصلحین) ” نیکو کار تھے۔ “ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔ (واسمعیل) یعنی حضرت ابراہیم کے بیٹے جو نسل انسانی کے ایک بڑے گروہ کے جد امجد تھے، یعنی گروہ عرب کے باپ اور اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ وسلم کے جد امجد (ویونس) یعنی یونس بن متی (ولوطا) یعنی ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے (وکلا) یعنی ان تمام انبیاء ومرسلین کو (فضلنا علی العلمین) ” ہم نے جہانوں پر فضیلت دی “ کیونکہ فضیلت کے چار درجے ہیں جن کا ذک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں کیا ہے (آیت) ” جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صلحاً “ اور یہ مذکور انبیائے کرام (علیہم السلام) بہت بلند درجے پر فائز ہیں بلکہ علی الاطلاق تمام رسولوں سے افضل ہیں۔ پس وہ تمام انبیاء ومرسلین جن کا قصہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے، بلاشبہ ان نبیوں میں سے افضل ہیں جن کا ذکر نہیں فرمایا۔
(ومن ایآئبھم) یعنی ان انبیائے مذکورین کے آباؤ اجداد میں سے (وذریتھم واخوانھم) ” اور ان کی اولاد اور بھائیوں میں سے “ یعنی ہم نے ان کے آباؤ اجداد، ان کی ذریت اور ان کے بھائی بند لوگوں کو ہدایت سے نوازا (واجتبینھم) ” ہم نے ان کو چن لیا “ (وھد ینھم الی صراط مستقیم) ” اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی۔ “ (ذلک) ” یہ “ یعنی یہ ہدایت مذکورہ (ھدی اللہ) ” اللہ کی ہدیات ہے “ جس کی ہدایت کے سوا کوئی ہدایت نہیں (یھدی بہ من یشآء من عبادہ) ” وہ ہدایت دیتا ہے اس کی جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے “ پس اسی سے ہدایت طلب کرو، اگر وہ راہنمائی نہ کرے تو اس کے سوا تمہیں راہ دکھانے والا کوئی نہیں اور جن کی ہدایت اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہے، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔
(ولو اشرکوا) ” اگر یہ لوگ شرک کرتے “ یعنی بفرض محال (لحبط عنھم ما کانوا یعملون) ” تو ان کے عمل برباد ہوجاتے “ کیونکہ شرک تمام اعمال کو ساقط اور اکارت کردیتا ہے اور جہنم میں خلود اور دوام کا موجب بنتا ہے۔ اگر یہ چنے ہوئے بہترین لوگ بھی شرک کرتے حالانکہ وہ اس سیپ اک ہیں، تو ان کے اعمال بھی اکارت ہوجاتے دیگر لوگ تو اس جزا کے زیادہ مستحق ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے (اولئک) یعنی یہ مذکورہ بالا لوگ (الذین ھدی اللہ فبھدءھم اقتدہ) ” وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس آپ ان کی ہدایت کی پیروی کریں “ یعنی اے رسول کریم ﷺ ان انبیائے اخیار کی پیروی اور ان کی ملت کی اتباع کیجیے اور واقعی رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پہلے انبیاء ومرسلین کی پیروی کی اور ان کے ہر کمال کو اپنے اندر جمع کرلیا۔ آپ ﷺ کے اندر ایسے فضائل اور خصائص جمع تھے جن کی بنا پر آپ کو تمام جہانوں پر فوقیت حاصل ہوئی۔ آپ تمام انبیا ومرسلین کے سردار اور متقین کے امام تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔ یہ ہے (آپ ﷺ کی سیرت کا) وہ پہلو جس سے بعض صحابہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء ومرسلین سے افضل ہیں۔
(قل) یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے آپ ﷺ کی دعوت سے اعراض کیا۔ (لا اسئلکم علیہ اجراً ) ” میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا۔ “ یعنی میں تم سے اپنی تبلیغ اور تمہیں اسلام کی دعوت دینے کے عوض کسی مال اور تاوان کا مطالبہ نہیں کرتا جو تمہارے اسلام نہ لانے کا سبب بنے، میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے (ان ھو الا ذکری للعلمین) ” یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کے لئے “ جو چیز ان کے لئے مفید ہے، اس سے وہ نصیحت پکڑتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور جو چیز ان کے لئے ضرر رساں ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب اور اس کے اسماؤ صفات کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اخلاق حمیدہ، ان کے حصول کے مناہج اور اخلاق رذیلہ اور ان میں مبتلا کرنے والے امور کا علم حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ تمام جہانوں کے لئے نصیحت ہے اس لئے یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس نعمت کو قبول کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
Ayah 6:91آیت 91
اللہ تعالیٰ نے یہود و مشرکین کے نفی رسالت کے قول کو سخت قبیح قرار دیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی۔ جو اس بات کا قائل ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں عیب جوئی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مہمل چھوڑ دے گا ان کو کوئی حکم دے گا نہ ان کو کسی چیز سے روکے گا اور اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کی نفی کی ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور وہ یہ رسالت ہے۔ اس رسالت کے سوا بندوں کے لئے سعادت، کرامت اور فلاح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں، تب اس نفی رسالت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات میں اور کون سی طعن وتشنیع ہے ؟
(قل) ان کے فساد قول کو متحقق کرتے ہوئے اور جس چیز کا وہ خود اقرار کرتے ہیں اس کو منواتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ! (من انزل الکتب الذی جآء بہ موسی) ” کون ہے جس نے وہ کتاب اتاری جسے موسیٰ لے کر آئے ؟ “ اور وہ ہے تو رات عظیم (نورا) جو جہالت کی تاریکیوں میں روشنی ہے (وھدی) اور گمراہی میں ہدیات ہے اور علم و عمل میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو شائع ہو کر پھیل چکی ہے اور جس کے تذکروں نے کانوں اور دلوں کو لبریز کردیا ہے حتی کہ انہوں نے اسے کتابوں میں لکھنا شروع کیا اور پھر جیسے جی چاہا اس میں تصرف کیا۔ جو ان کی خواہشات کے موافق تھا اسے ظاہر کیا اور جو ان کے خلاف تھا اسے چھپا کر کتمان حق کے مرتکب ہوئے اور ایسا حصہ بہت زیادہ ہے۔
(وعلمتم) ” اور تمہیں وہ علوم سکھائے گئے “ جو اس کتاب جلیل کے سبب سے تھے (مالم تعلموآ انتم، ولا ابآء کم) ” جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا “ جب آپ نے اس ہستی کے بارے میں ان سے پوچھ لیا جس نے یہ کتاب نازل کی، جو ان صفات سے موصوف ہے تو انہیں اس کا جواب دیجیے (قل اللہ) ” کہہ دیجیے ! اللہ “ یعنی انہیں بتلا دیں کہ کتاب نازل کرنے والا اللہ ہے۔ (ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون) ” پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بےہودہ باتوں میں کھیلتے رہیں۔ “ یعنی پھر ان کو ان کے اپنے حال پر باطل میں مشغول چھوڑ دیجیے، تاکہ یہ ان چیزوں کے ساتھ کھیلتے رہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 6:92–93آیت 92
(وھذا) ” اور یہ “ یعنی قرآن مجید (کتب انزلنہ مبرک) ” کتاب ہے، اس کو اتارا ہم نے آپ کو طرف، برکت والا “ یعنی برکت اس کا صوف ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ بھلائیوں اور نیکیوں پر مشتمل ہے (مصدق الذی بین یدیہ) ” جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ “ یعنی یہ کتاب، گزشتہ کتابوں کی موافقت کرتی ہے اور ان کی صداقت پر گواہ ہے۔ (ولتنذرام القری ومن حولھا) نیز ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ بستیوں کی ماں، یعنی مکہ مکرمہ کے لوگوں اور اس کے اردگرد دیار عرب بلکہ تمام شہروں کے لوگوں کو ڈرائیں، تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بچیں اور ان امور سے بچیں جو اس کے عذاب کے موجب ہیں۔ (والذین یومنون بالاخرۃ یومنون بہ) ” اور جن کو یقین ہے آخرت کا، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “ کیونکہ جب خوف دل میں جاگزیں ہوتا ہے تو اس کے تمام ارکان آباد ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے لگ جاتا ہے (وھم علی صلاتھم یحافظون) ” اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ نمازوں پر دوام کرتے ہیں، اس کے ارکان وحدود، اس کے لئے آداب و شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر تمام امور کی حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔
Ayah 6:94آیت 94
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی بات یا حکم منسوب کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو سب سے بڑا ظلم اس لئے کہا گیا ہے، کیونکہ یہ بہتان پر مبنی ہے۔ اس میں ادیان، ان کے اصول و فروع میں تغیر و تبدل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سب سے بڑی برائی ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے، اسی افترا میں شامل ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی عظمت و غلبہ کے سامنے جسارت کا ارتکاب کرنے کے ساتھ اس بات کو بھی واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس (جھوٹے نبی) کی پیروی کریں اور اس بات پر لوگوں سے لڑائی کریں اور اپنے مخالفین کے جان و مال کو وہ حلال قرار دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا جیسے مسلیمہ کذاب، اسود عنسی، مختار ثقفی اور دیگر مدعیان نبوت جو اس وصف سے متصف ہیں۔
(ومن قال سانزل مثل مآ انزل اللہ) ” اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اتار اللہ نے “ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ اس چیز پر قادر ہے جس پر اللہ تعالیٰ قادر ہے، وہ احکام میں اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کرسکتا ہے، وہ بھی اسی طرح شریعت بنا سکتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے اس وعید میں وہ شخص بھیش امل ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کرسکتا ہے اور قرآن جیسی کتاب وہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک بالذات محتاج اور عاجز بندہ جو ہر لحاظ سے ناقص ہے، یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک طاقتور اور بےنیاز ہستی کے ساتھ خدائی میں شریک ہے جو ہر پہلو سے اپنی ذات، اسما اور صفات میں کمال مطلق کی مالک ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ظالموں کی مذمت کی سوت ساتھ ہی اس عذاب کا بھی ذکر فرما دیا جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے اور حالت نزع میں ان کو دیا جائے گا۔ (ولو تری اذا الظلمون فی غمرت الموت) ” اور اگر آپ دیکھیں جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختویں میں “ یعنی جب یہ ظالم موت کی شدت، اس کے ہول اور اس کے کرب میں مبتلا ہوں تو آپ ایک نہایت ہولناک حالت اور معاملہ دیکھیں گے کہ کوئی اس کا وصف بیان نہیں کرسکتا (والملئکۃ باسطوآ ایدیھم) ” اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں “ جب نزع کی حالت میں فرشتے ان ظالموں کو ماریں گے اور عذاب کے ساتھ ان کی طرف ہاتھ بڑھئایں گے ان کی روحوں کو قبض کرتے اور حرکت دیتے وقت۔ جبکہ روحیں جسموں سے نکلنے سے انکار کریں گی، کہیں گے : (اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون) ” کہ نکالو تم اپنی جانیں، آپ تمہیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گا “ یعنی ایسا سخت عذاب جو تمہیں ذلیل و رسوا کر دے گا اور جزا ہمیشہ عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ (بما کنتم تقولون علی الہ غیر الحق) ” اس لئے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق باتیں لگاتے تھے۔ “ تم جھوٹ بولتے تھے اور حق کو ٹھکراتے تھے جو انبیاء لے کر تمہارے پاس آئے تھے (وکنتم عن ایتہ تستکبرون) ” اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔ “ اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کی اطاعت اور ان کے احکام کو ماننے سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے تھے۔
یہ آیت کریمہ برزخ کے عذاب اور برزخ کی نعمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس خطاب اور عذاب کا رخ ان کی طرف عین نزع کے وقت اور موت سے تھوڑا سا پہلے اور پھر موت کے بعد ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ روح جسم رکھتی ہے جو داخل ہوتی ہے اور خارج ہوتی ہے جس کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ وہ جسد کے ساتھ مل کر رہتی ہے اور اس سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ یہ ان کا برزخی حال ہے۔
قیامت کے روز جب یہ وارد ہوں گے تو نہایت افلاس کی حالت میں اکیلے اکیلے آئیں گے۔ ان کے ساتھ گھر والے ہوں گے نہ مال ہوگا نہ اولاد ہوگی، ان کے ساتھ لشکر ہوں گے نو اعوان و انصار، وہ قیامت کے روز اسیطرح ہر چیز سے عاری اور عریاں حالت میں آئیں گے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، کیونکہ اشیا تو اس کے بعد ان اسباب کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہیں جو ان کے لئے مقرر ہیں۔ اس روز وہ تمام امور منقطع ہوجائیں گے جو دنیا میں بندے کے ساتھ تھے۔ سوائے نیک اعمال یا بداعملا کے، اور یہ اعمال ہی آخرت کا مادہ ہیں جن سے آخرت ظہور پذیر ہوگی، آختر کا حسن و قبح، اس کا سرور و غم اور اس کا عذاب و نعمت اعمال کے مطابق حاصل ہوگا۔ یہ اعمال ہی ہیں جو نفع دیں گییا نقصان دیں گے، جو اچھے لگیں گے یا برے لگیں گے اور ان اعمال کے علاوہ اہل و اولاد، مال و متاع اور اعوان و انصار، تو یہ سب دنیا میں رہ جانے والے اسباب، زائل ہوجانے والے اوصاف اور بدل جانے والے احوال ہیں۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :
ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ وترکتم ماخولنکم ) ” البتہ تم ہمارے پاس آگئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے دیئے تھے تمہیں “ یعنی جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا اور جن نعمتوں سے ہم نے تمہیں نوازا تھا (ورآء ظھورکم) ” اپنے پیچھے “ انہیں پیچھے چھوڑ آئے ہو اور وہ تمہارے کسی کام نہ آئیں گی (وما نری معکم شفعآء کم الذین زعمتم انھم فیکم شرکوآء) ” اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ سفارشیوں کو جن کو تم گمان کرت ی تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے “ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ، انبیاء اور صالحین وغیرہم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے، حالانکہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں مگر وہ لوگ ان مخلوق ہستیوں کے لئے ایک حصہ صھہراتے تھے اور اپنی عبادت میں ان کو شریک کرتے تھے اور یہ ان کا زعم باطل اور ظلم ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور ان کی عبادت کا مستحق ہے، لہٰذا ان کے شرک فی العبادۃ بعض بندوں کو عبادت کا مستحق ٹھہرانے اور ان کو خالق ومالک کا مقام دینے کی بنا پر قیامت کے روز ان کو زجر و تبیخ کی جائے گی اور ان سے مذکورہ بات کہی جائے گی۔ (لقد تقطع بینکم) ” تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے۔ “ یعنی آج تمہارے اور تمہارے شرکاء کے مابین سفارش وغیرہ کے تمام روابط اور تعلقات منقطع ہوگئے اور ان تعلقات نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ (وضل عنکم ما کنتم تزعمون) ” اور جاتے رہے وہ دعوے جو تم کیا کرتے تھے۔ “ وہ نفع، امن، سعادت اور نجات جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے، گم ہوگئے جن کو شیطان تمہارے سامنے مزین کیا کرتا تھا، تمہارے دلوں میں انہیں خوبصورت بنایا کرتا تھا اور تمہاری زبانوں پر ان کا ذکر رہا کرتا تھا اور تم اپنے اس زعم باطل کے فریب میں مبتلا رہے جس کی کوئی حقیقت نہیں یہاں تک کہ ان تمام دعوؤں کا بطلان واضح ہوگیا اور ظاہر ہوگیا کہ تم خود اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال و متاع کے بارے میں خسارے میں پڑے رہے۔
Ayahs 6:95–98آیت 95
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بےپایاں فضل و کرم اور پانی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں، خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ان اللہ فالق الحب و النوی) ” بیشک اللہ پھاڑ نکلتا ہے دانہ اور گٹلھی “ یہاں دانہ ہرق سم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا مثلاً وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور یدگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، انسان، مویشی اور دیگر جانور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ بیج اور گٹھلی سے جو کچھ اگاتا ہے یہ اسے کھاتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک اور ہر قسم کی منفعت حاصل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و احسان کی جھلک دکھاتا ہے جس سے عقل ششدر اور بڑے بڑے اصحاب فضیلت حیران رہ جاتے ہیں۔ وہ ان کو اپنی انوکھی صنعت گری اور اپنی حکمت کما کمال دکھاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ایک مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور اس کے سواہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔
(یخرج الحی من المیت) ” وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے “ مثلاً وہ منی سے حیوان اور انڈے سے چوزہ پیدا کرتا ہے، دانے اور گٹلھی سے اناج اور درخت پیدا کرتا ہے (و مخرج المیت) ” اور مردہ کو نکالتا ہے “ میت سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو نشو و نما کی صلاحیت سے محروم ہوں یا ان کے اندر روح نہ ہو (من الحی) ” زندہ سے “ مثلاً درختوں اور کھیتیوں سے گٹھلیاں اور دانے پیدا کرتا اور پرندے سے انڈہ نکالتا ہے۔
(ذلکم) ” وہ ہستی، جو یہ تمام افعال سر انجام دیتی ہے اور ان اشیاء کی تخلیق اور تدبیر میں منفرد ہے وہ (اللہ ربکم) ” اللہ ہے، رب تمہارا “ تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اس کی الوہیت و عبودیت کو تسلیم کرے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام جہانوں کی ربوبیت فرمائی اور اپنے فضل و کرم سے ان کو غذا مہیا کی (فانی توفکون) ” پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟ “ یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو اور جو اس شان کا مالک ہے اس کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو خود اپنے لئے کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے غذاؤں کی تخلیق کے مادے کا ذکر فرمایا تو اب اس احسان کا ذکر کیا جو اس نے مساکن مہیا کر کے مخلوق پر کیا ہے اور ہر وہ چیز تخلیق کر کے جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں، مثلاً روشنی، تاریکی اور وہ تمام منافع اور مصالح جو اس پر مترتب ہوتے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (] فالق الاصباح) ” پھاڑ نکالنے والا ہے صبح کی روشنی کا “ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دانے اور گٹلھی کو پھاڑتا ہے اسیط رح اندھیری رات کے اندھیروں کو جو تمام روئے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں، صبح کے اجالے کے ذریعے سے پھاڑتا ہے جو دھیرے دھیرے تاریکی کے پردے کو چاک کئے چلا جاتا ہے حتی کہ تمام تاریکی ختم ہوجاتی ہے اور مخلوق اپنے مصالح، معاش اور اپنے دین و دنیا کے فوائد کے حصول میں مصروف ہوجاتی ہے۔
چونکہ مخلوق سکون، آرام اور ٹھہرنے کی محتاج ہوتی ہے اور یہ امور دن اور رات کے وجود کے بغیر مکمل نہیں ہوتے (وجعل) اللہ تعالیٰ نے بنایا (الیل سکنا) ” رات کو آرام کے لئے “ جس میں آدمی اپنے گھروں اور خواب گاہوں میں، جانور اور مویشی اپنے ٹھکانوں میں اور پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے ہیں اور سب راحت اور آرام میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اسے روشنی کے ذریعے سے زائل کردیتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ (والشمس والقمر حسباناً ) ” اور سورج اور چاند حساب کے لئے “ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند بنائے جن کے ذریعے سے زمان و اوقات کی پہچان کی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے عبادات کے اوقات منضبط ہوتے ہیں، معاعملات کی مدت مقرر ہوتی ہے اور سورج اور چاند کے وجود ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ اگر سورج اور چاند کا وجود اور ان کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا نہ ہوتا تو عامتہ الناس ان تمام امور کو معلوم کر کے علم میں اشتراک نہ کرسکتے بلکہ چند افراد کے سوا کوئی بھی ان امور کی معرفت حاصل نہ کر پاتا اور وہ بھی نہایت کوشش اور اجتہاد کے بعد اور اس طرح تمام ضروری مصالح فوت ہوجاتے۔
(ذلک) یہ مذکوررہ انداز (تقدیر العزیز العلیم) ” اندازہ ہے غالب جاننے والے کا “ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ یہ بڑی بڑی مخلوق اس کی تدبیر کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے اور اس کے حکم سے مطیع اور مسخر ہو کر اپنے راستے پر جاری وساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو حدود مقرر کردی ہیں او وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتی، آگے ہوسکتی ہے نہ پیچھے۔ (العلیم) وہی ہستی ہے جس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور اوائل و اواخر کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے علم محیط کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو ایک اندازے پر ایک انوکھے نظام کے ذریعے سے مسخر کر رکھا ہے کہ جس کے حسن و کمال اور مصالح اور حکمتوں کے ساتھ اس کی مطابقت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
(وھو الذین جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی المت البر والبحر) ” وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لئے ستارے، تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں “ جب راستے تم پر مشتبہ ہوجاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لئے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں، بنا بریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کرسکتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں۔
(قد فضلنا الایت) ” ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں۔ “ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کردیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کردیا، حتی کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہوگئیں (لقوم یعلمون) ” جاننے والوں کے لئے۔ “ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں سے کے سامنے واضح کردیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جہلاء اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جس لے کر انبیاء ومرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہوسکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکار دور نہیں ہوتا۔
(وھو الذین انشاکم من نفس واحدۃ) ” اور وہی ذات ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا “ اور وہ آدم ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم سے تمام نسل انسانی کو پیدا کیا جس نے روئے زمین کو بھر دیا ہے اور یہ اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نسل انسانی کے افراد کی خلقت، ان کے اخلاق اور اوصاف میں اس قدر تفاوت ہے کہ ان کو ضبط میں لانا اور ان کے تمام اوصاف کا ادراک ممکن ہی نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا مستقر یعنی ان کی غایت و انتہا مقرر فرما دی ہے جس کی طرف ان کو لے جایا جا رہا ہے اور وہ ہے آخرت کی جائے قرار، اس سے آگے کوئی غایت و منتہا نہیں۔ دنیا وہ گھر ہے جہاں رہنے کے لئے مخلوق کو پیدا کیا گیا اور ان کو اس لئے وجود میں لایا گیا تاکہ وہ ان اسباب کے لئے بھاگ دوڑ کریں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین ان سے آباد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے آباء کی پشتوں میں اور ماؤں کے رحموں میں امانت رکھ دیا، وہاں سے یہ امانت اس دنیا میں آجاتی ہے، پھر برزخ میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ہر جگہ اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے جس کو ٹھہراؤ اور ثبات نہیں ب ل کہ منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ دار آخرت میں اسے پہنچا دیا جائے جو اس کا مستقر و مقام ہے۔ رہا دنیا کا یہ گھر تو یہ صرف گزر گاہ (قد فصلنا الایت لقوم یفقھون) ” تحقیق ہم نے کھول کر بیان کردیں نشانیاں، ان لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں “ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی آیات کو سمجھیں اور اس کے دلائل وبراہین کا فہم حاصل کریں۔
Ayah 6:99آیت 99
اس آیت کریمہ میں مذکور نعمت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان اور دیگر مخلوق جس کے سخت محتاج ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت اور حاجت کے وقت پے در پے پانی برسایا، اس پانی کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی جسے انسان اور حیوانات کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق اس نباتات کو کھاتی ہے، اس کے عطا کردہ رزق سے انبساط محسوس کرتی ہے، لوگ اس کے احسان پر خوش ہوتے ہیں اور ان سے قحط اور خشک سالی دور ہوجاتی ہے۔ پس دل خوش ہوجاتے ہیں اور چہرے نکھر جاتے ہیں، بندوں کو اللہ رحمان و رحیم کی بےپایاں رحمت نصیب ہوتی ہے جس سے وہ متمتع ہوتے ہیں، اس سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ یہ چیز ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے انہیں یہ نعمتیں عطا کی ہیں اور اس کی عبادت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت میں اپنی کوشش صرف کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے اگنے والے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کیا تو اب (خصوصی طور پر) کھیتیوں اور کھجوروں کا ذکر فرمایا ہے، کیونکہ ان کی منفعت بہت زیادہ ہے اور اکثر لوگوں کی خوراک بھی انہیں سے حاصل ہوتی ہے۔
(فاخرجنا منہ خضراً نخرج منہ) ” پھر نکالی ہم نے اس سے سبز کھیتی، ہم نکالتے ہیں اس سے “ یعنی اس سرسبز نباتات میں سے (حبا متراکباً ) ” دانے، ایک پر ایک چڑھا ہوا “ یعنی گندم، جو مکئی اور چاول جیسی زرعی اجناس میں دانے اپنی بالیوں میں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے وصف میں ” ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے “ کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ ایک بالی میں متعدد دانے ہوتے ہیں، سب ایک ہی مادے سے خوراک حاصل کرتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے، تمام دانے متفرق ہوتے ہیں، ان کی جڑ ایک ہی ہوتی ہے۔ “ یہ دانوں کی کترت، ان کے بڑے اور غلے کے عام ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے تاکہ کچھ تو بیج کے لئے باقی رہے اور دوسرا غلہ کھایا اور ذخیرہ کیا جاسکے۔ (ومن النخل) ” اور کھجور سے “ اللہ تعالیٰ نے نکالا (من طلعھا) ” اس کے گابھے سے “ اور وہ کھجور کا خوشہ نکلنے سے قبل اس پر چڑھا ہوا غلاف ہے۔ پس اس غلاف میں سے کھجور کا خوشہ نکلتا ہے (قنوان دانیۃ) ” پھل کے گچھے، جھکے ہوئے “ یعنی قریب قریب لگے ہوئے خوشے، جن کا حصول بہت آسان ہوتا ہے جو کوئی خوشوں کو توڑنا چاہے وہ ان کے بہت قریب ہوتا ہے۔ انہیں کھجور سے حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا، خواہ کھجور کا درخت کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو، کیونکہ کھجور کے تنے سے کٹی ہوئی شاخوں کی جگہ سیڑھیاں سی بن جاتی ہیں ان کی مدد سے کھجور پر چڑھنا آسان ہوجاتا ہے (وجنت من اعناب والزیتون ولارمان) ” اور (اس پانی سے) انگور، زیتون اور انار کے باغات اگائے۔ “ چونکہ یہ درخت کثیر الفوائد اور عظیم وقعت کے حامل ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور نباتات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
(مشتبھا وغیر متشابہ) ” آپس میں ملتے جلتے بھی اور جدا جدا بھی “ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے مراد انار اور زیتون ہو، کیونکہ ان کے درخت اور پتے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے پھل غیر مشابہ (جدا جدا) ہوتے ہیں اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام درخت اور میوے وغیرہ ہوں جن میں سے بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور بعض اوصاف میں ایک دوسرے سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے (بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ )
ان تمام درختوں سے بندے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے پھل اور غذا حاصل کرتے ہیں اور عبرت پکڑتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے (نظروا) ” دیکھو “ یعنی غور و فکر اور عبرت کی نظر سے دیکھو (الی ثمرہ) تمام درختوں کے پھل کی طرف عام طور پر اور کھجور کے پھل کی طرف خاص طور پر (اذا اثمر) ” جب وہ پھل لائے “ (وینعہ) ” اور اس کے پکنے پر “ یعنی اس کے شگوفے نکلنے، پھل پکنے اور اس کے پک کر سر ہونے کی طرف دیکھو، کیونکہ اس میں عبرت اور نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے جود و احسان کی وسعت، اس کے کامل اقتدار اور بندوں پر اس کی بےپایاں عنایات پر استدلال کیا جاتا ہے۔
مگر ہر ایک تفکر و تدبر کے ذریعے سے عبرت حاصل نہیں کرتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی غور و فکر کرے وہ معنی مقصود کو پالے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے کو مومنین کے ساتھ خاص کیا ہے، چناچہ فرمایا : (انیذلکم لایت لقوم یومنون) ” اس میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں “ کیونکہ مومنین کا ایمان ان کو اپنے ایمان کے تقاضوں اور لوازم پر عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور ان لوازم میں آیات الٰہی میں غور و فکر، ان سے نتائج کا استخراج، ان کا معنی مراد اور یہ آیات عقلاً شرعاً اور فطرتاً جس چیز پر دلالت کرتی ہیں، سب شامل ہیں۔