Ayahs 6:40–41آیت 40
(قل) اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے والے مشرکین سے کہہ دیجیے (ارئیتکم ان اتکم عذاب اللہ واتتکم الساعۃ اغیر اللہ تدعون ان کنتم صدقین) ” بھلا بتلاؤ، اگر تمہارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آجائے، تو کیا تم اللہ کے سوا اوروں کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو ؟ “ یعنی جب تم ان تکالیف اور کرب و غم میں مبتلا ہوتے ہو اور تم ان کو ہٹانے پر مجبور ہوتے ہو، تب اس وقت تم اپنے خداؤں اور بتوں کو پکارتے ہو یا تم اپنے رب بادشاہ حقیقی کو پکارتے ہو ؟ (بل ایاہ تدعون فیکشف ماتدعون الیہ ان شآء و تنسون ماتشرکون) ” بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر وہ دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے اور ان کو بھول جاتے ہو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔ “ جب سختیوں کے وقت تمہارا اپنے معبودوں کے بارے میں یہ حال ہے کہ تم ان کو بھول جاتے ہو کیونکہ تمہیں علم ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت وحیات کے اور نہ وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں اور تم (اس وقت) نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو، کیونکہ تم جانتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی ہے جو مجبور کی دعا قبول کرتا ہے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ فراخی اور خوشحالی کے وقت تم شرک کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو ؟ کیا عقل یا نقل نے تمہیں اس راہ پر لگایا ہے یا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑ رہے ہو ؟
Ayahs 6:42–45آیت 42
(ولقد ارسلنا الی ام من قبلک) ” اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ “ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا (فاخذنھم بالباساط والضرآء) ” ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں پر پکڑتے رہے۔ “ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی (لعلھم یتضرعون) ” تاکہ وہ عاجزی کریں۔ “ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑ گڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں۔ (فلولا اذ جآء ھم باسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم) ” پس کیوں نہ گڑ گڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا، لیکن سخت ہوگئے دل ان کے “ یعنی ان کے دل پتھر ہوگئے ہیں جو حق کے سامنے نرم نہیں پڑتے (وزین لھم الشیطن ما کانوا یعملون) ” اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے “ اس لئے وہ سمجھتے رہے کہ جس راستے پر وہ گامزن ہیں یہی دین حق ہے۔ پس وہ اپنے باطل میں غلطاں کچھ عرصہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور شیطان ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔
(فلما نسوا ماذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیء) ” پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو کھول دیئے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے “ یعنی ان پر دنیا، اس کی لذتوں اور اس کی غفلتوں کے دروازے کھول دیئے (حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتہ فاذا ھم مبلسون) ” یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا، پس اس وقت وہ ناامید ہو کر رہ گئے “ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوگئے۔ یہ عذاب کی سخت ترین نوعیت ہے کہ انہیں اچانک غفلت اور اطمینان کی حالت میں پکڑ لیا جائے تاکہ ان کی سزا سخت اور مصیبت بہت بڑی ہو۔ (فقطع دابر القوم الذین ظلموا) ” پھر کٹ گئی جڑ ظالموں کی “ یعنی عذاب سے وہ برباد ہوگئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہوگئے۔ (والحمد اللہ رب العلمین) ” اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر نے جھٹلانے والوں کی جو ہلاکت مقدر کی ہے اس پر پروردگار عالم کی تعریف ہے، کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے اولیاء کی عزت و تکریم، اس کے دشمنوں کی ذلت و رسوائی اور رسولوں کی تعلیمات کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔
Ayahs 6:46–47آیت 46
” کہہ دیجیے، بتلاؤ ! اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمہارے کان اور آنکھیں اور مہر لگا دے تمہارے دلوں پر “ یعنی تم اس حالت میں باقی رہ جاؤ کہ تمہاری سماعت ہو نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت (من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ) ” تو کون ایسا معبود ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لادے ؟ “ جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو یہ چیز عطا کرسکے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی ہستیوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جن کے پاس کچھ بھی قدرت و اختیار نہیں مگر جب اللہ چاہے۔
یہ آیت کریمہ توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان کی دلیل ہے اس لئے فرمایا : (انظر کیف نصرف الایت) ” دیکھو ! ہم کیوں کر طرح طرح سیب یان کرتے ہیں باتیں “ یعنی ہم اپنی آیتا کو کس طرح متنوع بناتے ہیں، ہم ہر اسلوب میں اپنی نشانی لاتے ہیں، تاکہ حق روشن اور مجرموں کی راہ واضح ہوجائے (ثم ھم یصدقون) ” پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں۔ “ یعنی اس کامل تبیین و توضیح کے باوجود بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے روگردانی اور اعراض کرتے ہیں۔ (قل اریتکم) یعنی مججھے خبر دو (ان اتکم عذاب اللہ بغتۃ اوجھرۃ) ” اگر تم پر اللہ کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے “ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آجائے یا اس عذاب کے مقدمات ظاہر ہوجائیں جن سے تمہیں اس عذاب کے وقوع کا علم ہوجائے (ھل یھلک الا القوم الظلمون) ” تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا۔ “ یعنی وہ ظالم لوگ ہلاک ہوں گے جو اپنے ظلم وعناد یک وجہ سے اس عذاب کے وقوع کا سبب بنے۔ اس لئے ظلم پر قائم رہنے سے بچو، کیونکہ ظلم ابدی ہلاکت اور دائمی بدبختی ہے۔
Ayahs 6:48–50آیت 48
اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انداز، یہ چیز مبشر، مبشربہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرحیہ منذر، منذربہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انداز کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیاء ومرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں (فمن امن و اصلح) ” پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کرے یعنی جو اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے ایمان، اعمال اور نیت کی اصلاح کرتے ہیں (فلا خوف علیھم) ” تو ایسے لوگوں کو کچھ خوف ہوگا “ آنے والے امور سے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا (ولا ھم یحزنون) ” اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔ “ اور گزرے ہوئے امور پر وہ غمزدہ نہ ہوں گے۔
(والذین کذبوا بایتنا یمسھم العذاب) ” اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ان کو عذاب پہنچے گا “ اور وہ اس کا مزا چکھیں گے (بما کانوا یفسقون) ” اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔ “
Ayahs 6:51–55آیت 51
یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انداز ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم) ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔ “ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔
(لیس لھم من دونہ) ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر “ یعنی اللہ کے بغیر (ولی ولا شفیع) ” کوئی دوست اور نہ سفارشی “ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے اور ان سے تکلیف دور ہوجائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا، کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں (لعلھم یتقون) ” تاکہ وہ پرہیز گار بنیں۔ “ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں۔ کیونکہ انداز، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ (ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ) ” اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ “ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں۔ بنا بریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انہیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپ ﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں، کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں اور یہی درحققیت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں۔
(ما علیک من حسابھم من شیء وما من حسابک علیھم من شیء ) ” نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ “ یعنی ہر شخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لئے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے (فتطردھم فتکون من الظلمین) ” پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ “ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، چناچہ جب آپ ﷺ فقرائے مومنین کی مجلس میں بیٹھتے تو دلجمعی سے ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے، ان کے ساتھ حسن خلق اور نرمی کا معاملہ کرتے اور انہیں اپنے قریب کرتے، بلکہ آپ ﷺ کی مجلس میں زیادہ تر یہی لوگ ہوتے تھے۔
ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ قریش میں سے یا اعراب میں سے چند اجڈ لوگوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم پر ایمان لائیں اور تمہاری پیروی کریں تو فلاں فلاں شخص جو کہ فقرائے صحابہ میں سے تھے، اپنے پاس سے اٹھا دو ، کیونکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ عرب ہمیں ان گھٹیا لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھیں۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپ ﷺ کے دل میں بھی یہ دیکھیں۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپ ﷺ کے دل میں بھی یہ خیال آیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات کے ذریعے سے آپ کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
(وکذلک فتنا بعضھم ببعض لیوقولوا اھولآء من اللہ علیھم من بیننا) ” اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض لوگوں کو بعضوں سے، تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا ؟ یعنی یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش ہے کہ اس نے بعض کو خوشحال بنایا اور بعض کو محتاج اور تنگ دست پیدا کیا۔ بعض کو صاحب شرف پیدا کیا، بعض کو گھٹیا اور کم تر، جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی نادار اور کم تر شخص کو ایمان عطا کر کے اس پر احسان کرتا ہے تو یہ چیز خوشحال اور بلند مرتبہ شخص کے لئے امتحان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر سا کا مقصد اتباع حق ہے تو وہ ایمان لا کر مسلمان ہوجاتا ہے اور اسے ایمان لانے سے اس شخص کی مشارکت نہیں روک سکتی جس کو وہ مال و دولت اور جاہ و مرتبہ میں اپنے سے کمتر خیال کرتا ہے۔ اگر وہ طلب حق میں سچا نہیں تو یہ وہ گھاٹی ہے جو اسے اتباع حق سے روک دیتی ہے۔ جن کو وہ اپنے آپ سے کم تر خیال کرتے ہیں ان کو حقیر گردانتے ہوئے کہتے ہیں : (اھولاء من اللہ علیھم من بیننا) ” کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا ؟ “ اسی چیز نے ان کی عدم طہارت کے باعث ان کو اتباع حق سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کلام کو جو اللہ تعالیٰ پر اعتراض کو متضمن ہے کہ اس نے ان کو ہدیات سے نواز دیا اور ان کو محروم کردیا۔۔۔ جواب دیتے ہوئے فرمایا : (الیس اللہ باعلم بالشکرین) ” کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو ؟ “ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل صالح کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ایسے ہی کو اپنے فضل و احسان سے نوازتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے شکر گزار نہیں ہوتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے وہ اپنے فضل و کرم سے کسی ایسے شخص کو نہیں نوازتا جو اس کا اہل نہ ہوا اور یہ معترضین اسی وصف کے مالک ہیں۔ اس کے برعکس جن فقرا کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے وہ الہ تعالیٰ کے شکر گزار لوگ ہیں۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے مطیع مومن بندوں کو دور کرنے سے روک دیا تو ان کفار کے مقابلے میں انہیں اکرام، تعطیم، عزت اور احترام سے پیش آنے کا حکم دیا، چناچہ فرمایا : (واذا جآءک الذین یومنون بایتنا فقل سلم علیکم) ” جب آپ کے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو انہیں السلام علیکم کہیں۔ “ یعنی جب اہل ایمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کو سلام کہیں، ان کو خوش آمدید کہیں۔ سلام و تحیات سے ان کا استقبال کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے جود و احسان کی بشارت دیں جو ان کے عزائم اور ارادوں میں نشاط پیدا کرے اور انہیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ہر راستہ اور ہر سبب اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ ان کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈرائیں اور انہیں گناہوں سے توبہ کرنے کا حکم دیں تاکہ وہ اپنے رب کی مغفرت اور اس کے جود و کرم کو پاسکیں۔ (کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ انہ من عمل منکم سوآء بجھالۃ ثم تاب من بعدہ واصلح) ” لکھ لیا ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو جو کوئی کرے تم میں سے برائی، ناواقفیت سے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیک ہوجائے “ یعنی (قبولیت توبہ کے لئے) گناہوں کو ترک کرنا، ان کا قلع قمع کرنا، ان پر نادم ہونا اور اعمال کی اصلاح کرنا ضروری ہے، نیز ان امور کی ادائیگی جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور جو ظاہری اور باطنی اعملا فاسد ہوچکے ہیں۔ ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ جب یہ تمام امور موجود ہوں (فانہ غفور رحیم) ” تو بات یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جن امو کا حکم دیا ہے اس کی بجا آوری کے مطاق ان پر اپنی مغفرت اور رحمت کا فیضان کرتا ہے۔ (وکذلک نفصل الایت) ” اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ “ یعنی اسی طرح ہم اپنی آیات کو واضح کرتے ہیں، گمراہی میں سے ہدیات کے راستے کو ممیز کرتے ہیں، رشد و ہدایت اور ضلالت میں فرق کرتے ہیں تاکہ راہ ہدایت پر چلنے والے ہدایت پالیں، تاکہ حق کا راستہ عیاں ہوجائے جس پر گامزن ہونا چاہیے۔
(ولتستبین سبیل المجرمین) ” اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے “ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب تک پہنچاتا ہے، کیونکہ جب مجرموں کا راستہ ظاہر اور صاف واضح ہوجاتا ہے تو اس سے اجتناب کرنا اور اس سے دور رہنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر راستہ مشتبہ اور غیر واضح ہو تو یہ مقصد جلیل حاصل نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 6:56–58آیت 56
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (قل) ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارت یہیں (انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ) ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ “ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع ون قصان کے مالک ہیں نہ موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمہارے لئے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔
بنابریں فرمایا : (قل لا اتبع اھوآء کم قد ضللت اذا) ” کہہ دیجیے میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا “ یعنی اگر میں تمہاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہوجاؤں گا (ومآ ان من المھتدین) ” اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا “ رہی و وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں۔
(علی بینۃ من ربی) ” میں تو اپنے رب کی دلیل روشن پر ہوں۔ “ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوائے کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جسم ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔
(3) مگر اے مشرکو ! (کذبتم بہ) ” تم نے اس کی تکذیب کی “ اور یہ تمہاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لا محالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔
اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں (ان الحکم الا للہ) ” حکم صرف اللہ کا ہے “ جس طرح اس نے اوامرونواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسیطرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض درخورا عتنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کردیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کردیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہوگئی، تکہ وہ ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہوا او جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے (وھو خیر الفصلین) ” وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ “ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسافصلہ کرنا ہے جس پر اس کی تریف کی جای ہے حتی کہ وہ تعریف کئے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور معتین کردیتا ہے۔
(قل) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو جہالت عناد اور ظلم کی بنا پر عذاب کے لئے حچا رہے ہیں (لو ان عندی ماستعجلون بہ لقضی الامر بینی وبینکم) ” اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رے ہو، تو طے ہوچکا ہوتا جھگڑا، میرے اور تمہارے درمیان “ پس میں تم پر عذاب واقع کردیتا۔ اس جلدی مچانے میں تمہارے لئے بھلائی نہیں۔ لیکن تمام تر معاملہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ، اختیار میں ہے جو نہایت برد بار اور صبر کرنے والا ہے۔ نافرمان اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے اس کے سامنے بڑی جرأت سے گناہ کرتے ہیں مگر وہ ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے (واللہ اعلم بالظلمین) ” اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے “ ان کے احوال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، پس وہ ان کو مہلت دیتا ہے مگر مہمل نہیں چھوڑتا۔
Ayah 6:59آیت 59
یہ آیت کریمہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی تفصیل بیان کرتی ہے جو تمام غیوب کو شامل ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے ان غیبو میں سے کسی پر ظملع کردیتا ہے۔ اس نے اپنا بہت سا علم، عام جہان والے تو کجا ملائکہ مقربین اور انبیاء ومرسلین سے بھی پوشید ہر کھا ہے۔ صحراؤ اور بیابانوں میں حیوانات، درخت، ریت کے ذرات، کنکر اور مٹی سب اس کے علم میں ہیں۔ سمندروں کے جانوروں، ان کی معدنیات، ان کے شکار وغیرہ اور ان تمام اشیا کو وہ جانتا ہے جو ان کے کناروں کے اندر اور ان کے پانیوں میں شامل ہیں۔ (وما تطسقط من ورقۃ) ” اور نہیں گرتا کوئی پتا “ بحر و بر، آبادیوں، بیابانوں اور دنیا و آخرت کے درختوں پر سے اگر کوئی پتا گرتا ہے تو اسے بھی وہ جانتا ہے (ولا حبۃ فی ظلمت الارض ” اور نہیں کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں “ یعنی پھل اور کھیتیوں کے دانے، وہ بیج جو لوگ زمین میں بوتے ہیں اور جنگلی نباتات کے بیج جن سے مختلف اضناف کی نباتات پیدا ہوتی ہے (ولا رطب ولا یابس) ” اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز “ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے (الا فی کتب مبین) ” مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے “ یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور لوح محفوظ ان تمام امور کو شامل ہے۔ ان میں سے بعض امور تو بڑے بڑے عقل مندوں کو حیران اور مبہوت کردیتے ہیں اور یہ چیز رب عظیم کی عظمت اور اس کے تمام اوصاف میں اس کی وسعت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر تمام مخلوق کے اولین و آخرین جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا احاطہ کرنا چاہیں تو وہ اس پر قادر نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے۔ نہایت بابرکت ہے رب عظیم کی ذات جو وسعت والی، علم رکھنے والی قابل تعریف، بزرگی والی، دیکھنے والی اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والی ہے۔ وہ الہ جلیل ہے، کوئی اس کی حمد و ثنا کا شمار نہیں کرسکتا بلکہ وہ ایسے ہی جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ اس کی جو حمد و ثنا اس کے بندے بیان کرتے ہیں وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے اور انس کی کتاب تمام حوادث پر محیط ہے۔
Ayahs 6:60–61آیت 60
یہ آیت کریمہ تمام تر توحید الوہیت کے تحقق، مشرکین کے خلاف دلائل اور اس بیان پر مشتمل ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی محبت، تعظیم، اجلال اور اکرا مکا مستحق ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی، ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انہیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہوجاتا ہے اور ان یک بدن آرام کرتے ہیں، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان میں اسیطرح تصرف کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کرلیتے ہیں۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریع سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے، یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثم الیہ مرجعکم ) ” پھر اس کی طرف ہی تمہارا لوٹنا ہے “ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے۔ (ثم ینبئکم بما کمنتم تعملون) ” پھر وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔ “ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔
(وھو) ” اور وہ “ یعنی اللہ تعالیٰ (القاھر فوق عبادہ) ” غالب ہے اپنے بندوں پر “ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نیں۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر کرھا ہے اور بندے پر جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وان علیکم الحفظین کراماً کاتبین یعلمون ما تفعلون) (الانفطار :12-10/82) ” اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت متہاری باتوں کو لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں۔ “ ارشاد فرماتا ہے (عن الیمین و عن الشمال فعید، ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید) (ق :18-18/50) ” اس کے دائیں اور بائیں جانب بٹیھے ہوتے ہیں۔ وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔ “ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔
(حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا) ” یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے وہ جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں (وھم لایفرظون) ” اور وہ کوتاہی نہیں کرتے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کردی ہے اور اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کرسکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیرربانی کو نافذ کرتے ہیں۔
(ثم) ” پھر “ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے (ردوآ الی اللہ مولھم الحق) ” پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے “ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے۔ پھر وہ امرو نہی اور حکم شرعی کے ذریعے ان کا والی ہے، اس نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتابیں نازل کیں پھر ان کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان میں اپنا حکم جزائی نافذ کرے گا اور ان کو ان کے اچھے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور ان کی بدیوں اور برائیوں کی پاداش میں انہیں عذاب دے گا۔ (الا لہ الحکم) ” سن رکھو ! حکم اسی کا ہے “ وہ اکیلا جس کا کوئی شریک نہیں، فیصیل کا مالک ہے (وھو اسرع الحسبین) ” اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے “ کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے ہے اور اس نے ان کے اعمال کو بھی محفوظ کیا ہوا ہے۔ پہلے اس نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کیا، پھر فرشتوں نے اپنی اس کتاب میں ثبت کیا جو ان کے ہاتھوں میں ہے۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، وہ اپنے بندوں کو ان کے تمام احوال میں درخوراعتنا سمجھتا ہے، وہی حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کا مالک ہے پھر مشرکین کیوں کر اس ہستی سے روگردانی کر کے جو ان صفات کی مالک ہے ایسی ہستیوں کی بندگی اختیار کرتے ہیں جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، جو ذرہ بھر نفع کی مالک نہیں اور ان میں کوئی قدرت اور ارادہ نہیں ؟
ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کھلے عام کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت پر بہتان کی جرأت کرتے ہیں اور وہ ان کو معاف کردیتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کتنا حلیم ہے اور اس کا عفو اور اس کی رحمت ان پر سایہ کناں ہے تو ان کے داعیے اس کی معرفت کی طرف خود بخود کھنچے چلے آئیں اور ان کی عقل اس کی محبت میں (دیگر ہر شے سے) غافل ہوجائے اور وہ خود اپنے آپ پر سخت ناراض ہوں کیونکہ انہوں نے شیطان کی داعی کی اطاعت کی جو رسوائی اور خسارے کا موجب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے عاری ہیں۔
Ayahs 6:62–66آیت 62
(قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ! (من ینجیکم من ظلمت البر والبحر) ” کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے ؟ “ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمہیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لئے پکارتے ہو اور اپنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں (لنکونن من الشکرین) ” تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ ) کے شکر گزار ہوں گے “ اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعملا کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔ (قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب) ” کہہ دیجیے ! اللہ ہی تمہیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے “ (ثم انتم تشرکون) ” پھر بھی تم شرک کرتے ہو “ تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کردیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے ؟
Ayahs 6:67–68آیت 67
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا : (من فوقکم او من تحت ارجلکم) ” تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے “ (اویلبسکم شیعاً ) ” یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے “ یعنی تمہیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے (ویذیق بعضکم باس بعض) ” اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی ‘ یعنی تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لئے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عذاب آ لے اور وہ تمہیں تلف کر کے تمہارا نا مو نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بےپایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کردیا۔ یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں۔
(انظر کیف نصرف الایت) ” دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں “ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں (لعلھم یفقھون) ” تاکہ یہ لوگ سمجھیں۔ “ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انہیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الٰہیہ ان کی سمجھ میں آجائیں۔ (وکذب بہ) ” اور اس کو جھٹلایا۔ “ یعنی قرآن کو جھٹلایا (قومک وھو الحق) ” آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے “ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں (قل لست علیکم بوکیل) ” کہہ دیجیے ! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں “ کہ تمہارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمہیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں۔
(لکل نبا مستقر) ” ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ “ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہوسکتی (وسوف تعلمون) ” اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔ “ یعنی جس جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔
Ayah 6:69آیت 69
اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے اور مشغول ہونے سے مراد ہے ان کے بارے میں ناحق باتیں کرنا، اقوال باطلہ کی تحسین کرنا، ان کی طرف دعوت دینا، اقوال باطلہ کے قائلین کی مدح کرنا، حق سے روگردانی کرنا اور حق اور اہل حق کی عیب چینی کرنا۔ الہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اپنے رسول ﷺ کو اور تبعاً تمام اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی مذکورہ عیب چینی میں مشغول دیکھیں تو اس سے اعراض کریں۔ باطل میں مشغول لوگوں کی مجالس میں نہ جائیں جب تک کہ وہ کسی اور بحث میں مشغول نہ ہوجائیں۔ اگر وہ آیات الٰہی کی بجائے کسی اور بحث میں مشغول ہوں تو ان میں بیٹھنا اس ممانعت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ اگر ان میں بیٹھنے میں کوئی راجح مصلحت ہو تو وہ ان میں بیٹھنے پر مامور ہے، اگر ایسا نہ ہو تو یہ بیٹھنا مفید ہے نہ وہ اس پر مامور ہے۔ باطل میں مشغولیت کی مذمت درحقیقت حق میں غور و فکر اور بحث و تحقیق کی ترغیب ہے۔
(واما ینسینک الشیطن) ” اگر شیطان آپ کو بھلا دے۔ “ یعنی اگر آپ کو شیطان بھلا دے اور آپ غفلت و نسیان کی وجہ سے ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں (فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین) ” تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول ہوتے ہیں۔ جو ایسی باتیں کہتے یا کرتے ہیں جن کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو ان لوگوں میں بیٹھنا حرام ہے۔ منکرات کی موجودگی میں جبکہ وہ ان کے ازالے کی قدرت نہ رکھتا ہو، اس مجلس میں حاضر ہونا بھی ممنوع ہے۔
یہ نہی اور ممانعت اس شخص کے لئے ہے جو ایسے لوگوں کی مجلس میں شریک ہوتا ہے اور تقویٰ کا دامن چھوڑ کر ان کے قول اور عمل محرم میں خود بھی شریک ہوجاتا ہے یا ان کے غیر شرعی افعال و اقوال پر خاموشی اختیار کرتا ہے اور ان پر نکیر نہیں کرتا، لیکن اگر وہ تقویٰ کا التزام کرتے ہوئے مجلس میں شریک ہو، شرکائے مجلس کو نیکی کا حکم دے، اس برائی اور بری گفتگو سے روکے جو اس مجلس میں صادر ہو، جس سے یہ برائی زائل ہوجائے یا اس میں تخفیف ہوجائے تو ایسی مجلس میں شریک ہونے میں کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ۔ بنا بریں اللہ تباکر و تعالیٰ نے فرمایا : (وما علی الذین یتقون من حسابھم من شیء و لکن ذکری لعلھم یتقون) ” اور پرہیز گاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمے نصیحت کرنی ہے، تاکہ وہ ڈریں۔ “ یعنی صرف اس لئے وہ ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائیں۔
اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وعظ و نصیحت کرنے والا ایسا اسلوب کلام استعمال کرے جو مقصود تقویٰ کے حصول میں زیادہ ممد اور کارگر ہو اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر عوظ و نصیحت سے برائی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہو تو وعظ و نصیحت ترک کرنا واجب ہے، کیونکہ جو وعظ و نصیحت مطلوب و مقصود کے مخالف ہو، تو اس کو ترک کرنا بھی مقصود ہے۔
Ayahs 6:70–72آیت 70
بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لئے خالص کریں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو، اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور اس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت سے خالی ہو کر لہو و لعب میں مستغرق ہوگیا اور ہر اس چیز میں مصروف ہوگیا جو اس کے لئے ضرر رساں ہے وہ اپنے بدن کے ساتھ لہو اور باطل میں مشغول ہے، کیونکہ عمل اور بھاگ دوڑ اگر غیر اللہ کے لئے ہو تو وہ لہو و لعب ہے۔۔۔ تو اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس سے بچا جائے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے اور اس کے احوال پر غور کیا جائے، اس کی کارستانیوں سے ہشیار رہے اور وہ تقرب الٰہی والے اعمال سے روکے تو اس کے دھوکہ میں نہ آئے۔
(وذکر بہ) ” اور اس کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیں۔ “ یعنی قرآن کے ذریعے سے ان کو نصیحت کیجیے جو بندوں کے لئے نفع مند ہے۔ قرآن کے احکامات سنا کر، اس کی تفصیلات بیان کر کے، قرآن میں جو اچھے اوصاف مذکور ہیں ان کی تحسین کر کے اور وہ اوصاف جو بندوں کے لئے ضرر رساں ہیں ان سے ان کو منع کر کے، اس کی انواع کی تفصیل بیان کیجیے اور جو قبیح اوصاف بیان ہوئے ہیں، جن کا ترک کرنا ضروری ہے (ان سب کے ساتھ) ان کو نصیحت کیجیے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ کہیں نفس اپنے کسب کی وجہ سے ہلاکت میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی بندے کے گناہوں میں گھس جانے، اللہ علام الغیوب کے سامنے جرأت کرنے اور گناہوں پر قائم رہنے سے پہلے اسے نصیحت کیجیے، تاکہ وہ باز آجائے اور اپنے فعل سے رک جائے۔
(لیس لھا من دون اللہ ولی ولا شیع) ” نہیں ہوگا واسطے اس کے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی، یعنی نفس کو اس کے گناہوں کا احاطہ کرلینے سے پہلے نصیحت کرو کیونکہ اس کے بعد مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آئے گا۔ نہ کوئی قریبی رشتہ دار اور نہ کوئی دوست، اللہ کے سوا اس کا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا اور نہ اس کی کوئی سفارش کرنے والا ہوگا (و ان تعدل کل عدل) ” اگرچہ وہ ہر چیز معاوضے میں دینا چاہے۔ “ یعنی اگر یہ نفس ہر قسم کا فدیہ دے خواہ وہ زمین بھر سونا کیوں نہ ہو (لا یوخذ منھا) ” وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔ “ یعنی اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ دے گا (اولئک) وہ لوگ جو مذکورہ اوصاف سے موصوف ہیں (الذین ایسلوا) یعنی ان کو ہلاک کردیا گیا اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہوگئے اور یہ ان کے اعمال کے سبب سے ہے (لھم شراب من حمیم) ” ان کا مشروب ابلتا ہوا گرم پانی ہوگا “ جو ان کے چہروں کو بھون دے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا (و عذاب الیم بما کانوا یکفرون) ” اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک ہے۔ ‘
Ayah 6:73آیت 73
(قل) اے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے کہہ دو جو تمہیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ دین جو ان کے معبودوں کے وصف کی تشریح کر کے واضح کرتا ہے۔ ایک عقل مند شخص کو ان معبودوں کو چھوڑنے کے لئے ان کے اوصاف کا ذکر ہی کافی ہے، کیونکہ ہر عاقل شخص جب مشرکین کے مذہب میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بطلان پر دلائل وبراہین کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے بطلان کا اسے قطعی یقین ہوجاتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے (اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا ولا یضرنا) ” کیا ہم اللہ کے سوا، ان ہستیوں کو پکاریں جو ہمیں نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ “ اس وصف میں ہر وہ معبود داخل ہے جس کی بھی اللہ کے سوا بندگی کی جاتی ہے کیونکہ وہ نفع دے سکتی ہے نہ نقصان، اسے کسی معاملے کا کوئی اختیار نہیں، تمام معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ، قدرت میں ہے۔
(ونرد علی اعقابنا بعد اذھدنا اللہ) ” اور کیا پھرجائیں ہم الٹے پاؤں، اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدیات سے نوازے جانے کے بعد کیا کیا ضلالت کی طرف پلٹ جائیں، رشد کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف لوٹ جائیں، نعمتوں بھری جنت کے راستے کو چھوڑ کر ان راستوں پر چل نکلیں جو اپنے سالک کو عذاب الیم کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں ؟ رشد و ہدایت رکھنے والا شخص اس حال پر کبھی راضی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے (کالذی ساتھ وتہ الشیطین فی الارض) جسے شیاطین نے بیابان میں اس کے راستطے سے بھٹکا دیا ہو جو اس کی منزل کو جاتا تھا (حیران لہ اصحب یدعونہ الی الھدی) ” وہ حیران ہے، اس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلاتے ہیں “ اور شیاطین اسے ہلاکت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ وہ دونوں پکارنے والوں کے درمیان حیران و سرگراں ہے۔
تمام لوگوں کا یہی حال ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے۔ اس لئے کہ لوگ اپنے اندر کشش رکھنے والے امور اور متعارض داعیے رکھتے ہیں۔ رسالت، عقل صحیح اور فطرت سلیم کے دواعی (یدعونہ الی الھدی) ” اس کو صحیح راستے کی طرف بلاتے ہیں۔ “ اور اعلیٰ علیین کی بلندیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور شیطان کے داعیے اور وہ لوگ جو اس کی راہ پر گامزن ہیں اور نفس امارہ اسے گمراہی اور اسفل سافلین کی پستیوں میں گر جانے کی دعوت دیتے ہیں۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے تمام امور میں یا اکثر امور میں ہدایت کے دواعی کے ساتھ چلتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں دونوں قسم کے داعیے مساوی ہوتے ہیں، اس وقت دو جاذب امور باہم متعارض ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اہل سعادت اور الہ شقاوت کی پہچان ہوتی ہے۔
(قل ان ھدی اللہ ھو الھدی) ” اللہ نے جو راہ بتلائی ہے، وہی سیدھی راہ ہے “ یعنی اس راستے کے سوا کوئی راستہ ہدایت کا راستہ نہیں، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان پر مشروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر راستے گمراہی، موت اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں (وامرنا لنسلم لرب العلمین) ” اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں۔ “ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانیں، اس کے اوامرونواہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں اور اس کی عبودیت کے تحت داخل ہوجائیں، کیونکہ یہ بندوں پر سب سے بڑی نعمت اور اس کی سب سے کامل ربوبیت ہے جو اس نے اپنے بندوں تک پہنچائی ہے۔ (وان اقیموا الصلوۃ) ” اور یہ کہ نماز پڑھتے رہو۔ “ یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط، سنن اور اس کی تکمیل کرنے والے تمام امور کے ساتھ قائم کریں (واثقوہ) ” اور اس سے ڈرتے رہو۔ “ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اسے بجالا کر اور جس چیز سے روکا ہے اس سے اجتنا کر کے تقویٰ کا التزام کرو (وھو الذین الیہ تخشرون) ” اور تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
(وھو الذی خلق السموت ولارض بالحق) ” وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ “ تاکہ وہ بندوں کو حکم دے اور بعض چیزوں سے روکے پھر اس پر انہیں ثواب و عقاب دے (ویوم یقول کن فیکون قولہ الحق) ” اور جس دن کہے گا کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گا، اس کا ارشاد برحق ہے۔ “ جس میں کوئی شک ہے نہ کوئی ایچ پیچ اور نہ اللہ تعالیٰ کوئی عبث بات کہتا ہے۔ (ولہ الملک یوم تنفخ فی الضور) ” اور اسی کی بادشاہی ہے جس دن پھونکا جائے گا صور “ یعنی قیامت کے روز، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قیامت کے دن کا ذکر اس لئے کیا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام ملکیتیں ختم ہوجائیں گی اور اللہ واحد وقہار کی ملکیت باقی رہ جائے گی۔ (علم الغیب والشھادۃ وھو الحکیم الخبیر) ” وہ جاننے والا ہے چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔ “ جو حکمت تام، نعمت کامل اور احسان عظیم کا مالک ہے، اس کا علم اسرار نہاں، باطنی راز اور چھپے ہوئے امور کا احاطہ کئے ہوئے ہے جس کے سوا کوئی معبود اور کوئی رب نہیں۔