55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 55:41–42

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں سے اور ان کے پاؤں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انہیں گھسیٹ کرلے جایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان سے محض زجر وتوبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہو اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہوجائے۔
Ayah 55:43

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے

جنہوں نے وعدہ وعید کو جھٹلایا جب ان پر جہنم کی آگ بھڑکے گی تو ان سے کہا جائے گا (هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) یہی وہ جہنم ہے جسے گناہ گار جھٹلاتے تھے۔ پس ان کی تکذیب ان کو رسوا کرے گی اور اب وہ اس کے عذاب اس کی سزا، اس کی بھرکتی ہوئی آگ اور اس کی بیڑیوں کا مزا چکھیں گے یہ ان کے لیے ان کی تکذیب کی جزا ہے۔
Ayahs 55:44–45

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا) وہ جہنم کے درمیان گھو میں گے۔ یعنی جہنم اور اس کے شعلوں کے طبقوں میں گھومتے پھریں گے۔ (وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ ) اور وہ سخت کھولتے ہوئے پانی کے درمیان بھی گھو میں گے جس کی حرارت انتہا کو پہچنی ہوئی ہوگی اور زمہریر جس کی ٹھنڈک بہت شدید ہوگی۔ (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) پھر اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Ayahs 55:46–49

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اسکے لئے دو باغ ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ سے ڈرنے والے تقوی شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا۔ یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس نے نواہی کو ترک کردیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات اور عمارتیں اور ان میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انہوں نے منہیات کو ترک کردیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہوگی۔ ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ) ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔ یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں ان جنتوں میں بیشمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم ونازل ڈالیوں پر بیشمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔
Ayahs 55:50–51

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان میں دوچشمے بہہ رہے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ان جنتوں کے اندر ( عَيْنٰنِ تَجْرِيٰنِ ) دو چشمے بہہ رہے ہوں گے وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کرلے جائیں گے۔
Ayahs 55:52–53

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ ) ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے (زوجن) دو دو انواع ہوں گی ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہوگا اور جو دوسری نوع میں نہ ہوگا۔
Ayahs 55:54–55

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

(اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استر اطلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ۭ ) وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم ہوں گے۔ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے نیز یہ کہ وہ تکیے لگائے ان بچھونوں پر بیٹھیں گے یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہوگا جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتی کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلی ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے ان کی خوبصورتی کیسی ہوگی۔ (وَجَنَا الْجَنَّـتَيْنِ دَانٍ ) ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔ الجنی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل یعنی ان دو جنتوں کے پھل تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے کھڑا ہوا بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کرسکے گا۔
Ayahs 55:56–57

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(فِيْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ۙ ) ان میں نیچی نگاہیں والی (حوریں) ہوگی اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انہیں پر جمی ہوں گی۔ ( لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ) یعنی ان سے پہلے انہیں جن وانس میں سے کسی نے حاصل نہ کیا ہوگا بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور نازواد کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔
Ayahs 55:58–59

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
Ayahs 55:60–61

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ) احسان کی جزا احسان ہی ہے۔ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندون کو فائدہ پہنچایا اس کے سوا کچھ اور ہوسکتی ہے کہ ثواب جزیل فوز کبیر نعمتیں اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کرکے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہں۔
Ayahs 55:62–65

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

دونوں خوب گہرے سبز

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ ) اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی ان کے برتن، زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہوگا یہ جنتین گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔
Ayahs 55:66–67

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ) ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔ یعنی فوارے۔
Ayahs 55:68–69

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ) ان جنتوں میں تمام اقسام کے پھل ہوں گے خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بیشمار فوائد ہیں۔
Ayahs 55:70–71

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

(فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ) یعنی جنت کے ان تمام باغات میں بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی پس وہ ظاہری اور باطنی جمال حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔
Ayahs 55:72–73

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

یعنی وہ حوریں موتیوں خے خیموں میں مستور ہوں گی جنہوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کررکھا ہوگا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں جیسا کہ باپردہ شہزدایوں کی عادت ہے۔
Ayahs 55:74–75

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ان دونوں جنتیوں کے اصحاب کا تکہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہوگا یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوں گے۔ ان کے بیٹھنے کی جگہ کے پیچھے اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔
Ayahs 55:76–77

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

( وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ) العبقری۔ ہر اس بنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے (ومن دونھما جنتان) ۔ اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا (فیھما عینین تجرین۔ ان میں دو چشمے جاری ہیں۔ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا (فیھما عینین نضاختان) ۔ ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا (ذواتا افنان) دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں اور آخرالذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا (فیھما من کل فاکھۃ زوجن) ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا (فیھما فاکھۃ ونخل ورمان۔ ان دونوں میں پھل کھجور اور انار ہوں گے ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا (متکئین علی فرش بطائنھا من استبرق وجناالجنتین دان۔ ) جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔ اور آخر الزکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ) ان جنتوں سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا (فیھن قصرات الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولاجان۔ ) وہاں نیچی نگاہ والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی جن وانس نے ہاتھ نہیں لگایا اور آخرالذکر جنت کے بارے میں فرمایا (حور مقصورات فی الخیام) الرحمن۔ 72) ۔ حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی ان دونوں کے درمیان جو تفاوت وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنت کے بارے میں فرمایا (ھل جزاء الاحسان الا الاحسان) احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے ؟ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں آخرالذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں فرمایا نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں مقربین یعنی انبیا صدیقین اور اللہ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور اخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔
Ayah 55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تمہارا پروردگار جو صاحب جلال و عظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی ہے اور بہت زیادہ ہے وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیا کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔