Ayah 53:41(ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى) پھر اس پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یعنی تمام اعمال کی کامل جزا۔ خالص نیک عمل کے یے اچھی جزا ہوگی۔ خالص برے عمل کے لیے بری جزا ہوگی اور ملے جلے اعمال کی جزا ان کے مطابق ہوگی۔ یہ ایسی جزا ہوگی کہ تمام مخلوق اس کے عدل و احسان کا اقرار اور اس پر اس کی حمد وثنا بیان کرے گی حتی کہ جہنمی جہنم میں داخل ہو رہے ہوں گے مگر ان کے دل اپنے رب کی حمدوثنا اس کی کامل حکمت کے اقرار اور اپنے آپ پر سخت ناراضی سے لبریز ہوں گے نیز وہ اس بات پر ناراض ہوں گے کہ انہوں نے اپنے آپ کو بدترین جگہ پر وارد کیا۔
Ayah 53:42(وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى) یعنی تمام معاملات کو تیرے رب کے پاس پہنچنا ہے تمام اشیا اور تمام مخلوقات دوبارہ زندہ ہو کر اسکی طرف لوٹیں گی ہرحال میں منتہی اللہ کی طرف ہے علم کی انتہا پر اللہ تعالیٰ کے حکم رحمت اور تمام کمالات کی انتہا اللہ تعالیٰ ہے۔
Ayah 53:43(وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى) یعنی وہی ہے جو ہنسنے اور رونے کے اسباب وجود میں لاتا ہے یہ اسباب خیر شر، فرحت مسرت اور حزن وغم پر مشتمل ہیں اور ہنسانے اور رلانے کے اندر اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پوشیدہ ہے۔
Ayah 53:44(وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَاَحْيَا) یعنی وجود میں لانے اور معدوم کرنے میں متفرد اور یکتا ہے جس نے مخلوق کو وجود بخشا ان کو اوامر ونواہی عطا کیے وہی ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور دنیا کے اندر انہوں نے جو عمل کیے ہوں گے وہ انہیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
Ayah 53:45(وَاَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ ) اور بلاشبہ اسی نے جوڑے بنائے پھر ان جوڑوں کی تفسیر بیان فرمائی۔ ( الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى) نر اور مادہ۔ یہ اسم جنس ہے جو تمام حیوانات، ناطق اور غیر ناطق جانروں سب کو شامل ہے وہ ان کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔
Ayahs 53:46–47(مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى) نطفے سے جبکہ وہ رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کے عظیم غلبہ میں متفرد ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس نے تمام چھوٹے بڑے حیوانات کو حقیر پانی کے نہایت کمزور قطرے سے وجود بخشا، پھر ان کو نشونما دے کر مکمل کیا حتی کہ وہ اس مقام پر پہنچے جہان پہنچے ہوئے ہیں ان حیوانات میں سے آدمی یا تو بلند ترین مقام پر اعلی علیین میں پہنچ جاتا ہے یا وہ ادنی ترین احوال، پس ترین مقامات کی طرف لوٹ جاتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے وجود کے ذریعے اعادہ وجود پر استدلال کیا ہے۔ چناچہ فرمایا (وان علیہ النشاۃ الاخری) اور بلاشبہ اسی کے ذمے دوبارہ پیدا کرنا ہے پس اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرے گا ان کو یوم موعود میں اکٹھا کرے گا اور ان کو نیکوں اور برائیوں کی جزا دے گا۔
Ayah 53:48(وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَاَقْنٰى) اور بیشک وہی غنی کرتا ہے اور وہی دولت دیتا ہے۔ وہ بندوں خو ان کے معاشی معاملات، یعنی تجارت اور صنعت وحرفت کے مختلف پیشوں میں آسانی پیدا کرکے مال دار بناتا ہے۔ (واقنی) یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کو مال کی تمام انواع عطا کرتا ہے جس سے وہ مال دار بن کر بہت سے اموال کے مالک بن جاتے ہیں یہ اللہ کی نعمت ہے کہ اس نے بندوں کو آگاہ فرمایا کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور یہ چیز بندوں پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسکا شکر ادا کریں اور اسی اکیلے کی عبادت کریں جس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 53:49(وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى) ۔ اور یقینا وہی شعری (ستارے) کا رب ہے۔ اور وہ مشہور ستارہ شعری عبود ہے جو مرزم کے نام سے موسوم ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے تاہم شعری کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا کہ کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں اس کی عبادت کی جاتی تھی پس اللہ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اشیا جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں مربوب، مدبر اور مخلوق ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو کیسے معبود قرار دیا جاسکتا ہے۔
Ayah 53:50(وَاَنَّهٗٓ اَهْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى) اور بلاشبہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا۔ اس سے مراد حضرت ہود کی قوم ہے جب انہوں نے حضرت ہود کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے انہی سخت ترین اور سرکش طوفان کے ذریعے سے ہلاک کرڈالا۔
Ayah 53:51(وَثَمُوْدَا۟) اور ثمود کو (ہلاک کیا) ۔ یہ حضرت صالح کی قوم تھی اللہ تبارک وتعالی نے حضرت صالح کو ثمود کی طرف مبعوث کیا مگر انہوں نے آپ کو جھٹلایا۔ اللہ نے معجز کے طور پر ان کی طرف اونٹنی بھیجی مگر انہوں نے اس کو ہلاک کرڈالا اور حضرت صالح کو جھٹلایا پس اس کی پاداش میں اللہ نے ان کو تباہ برباد کردیا۔ (فما ابقی) اور ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ رکھا بلکہ ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کردیا۔
Ayah 53:52(وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰى) اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو بھی، کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ نہایت ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے۔ حضرت نوح کی قوم ان قوموں سے زیادہ ظالم اور سرکش تھی پس اللہ نے ان کو غرق کر ڈالا۔
Ayah 53:53(وَالْمُؤْتَفِكَةَ ) اور الٹی ہوئی بستی کو (بھی) ۔ اس سے مراد اس میں آباد حضرت لوط کی قوم ہے (اھوی) ۔ اس نے دے ٹپکا۔ یعنی ان پر اللہ تعالیٰ نے ایسا عذاب بھیجا جو دنیا میں کسی پر نہیں بھیجا، اللہ نے ان کی بستیون کو تلپٹ کردیا اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی۔
Ayah 53:54بنا بریں فرمایا (فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى) ۔ ان پر انتہائی دردناک اور بدترین عذاب چھا گیا۔ یعنی عذاب ایک بڑی چیز تھی جس کا وصف بیان کرنا ممکن نہیں۔
Ayah 53:55(فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى) پھر اے انسان تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بالکل ظاہر ہیں جو کسی بھی لحاظ سے شک کے قابل نہیں پس بندوں کو جو بھی نعمت عطا ہوئی وہ صرف اللہ ہی کی طرف سے عطا کردہ ہے اس کے سوا کوئی مصائب کو دور نہیں کرسکتا۔
Ayah 53:56(ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى) یہ رسول تو پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے۔ یعنی یہ قریشی، ہاشمی رسول محمد بن عبداللہ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں بلک کہ آپ سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں جنہوں نے اسی چیز کی طرف دعوت دی تھی جس کی طرف آپ نے دعوت دی ہے تب آپ کی رسالت کا کس وجہ سے انکار کیا جاسکتا ہے اور کون سی دلیل ہے جس کی بنیاد پر آپ کی رسالت کو باطل ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ کیا آپ کے اخلاق تمام انبیائ ومرسلین کرام کے اخلاق سے اعلی وارفع نہیں ہیں ؟ کیا آپ ہر بھلائی کی طرف دعوت نہیں دیتے اور ہر برائی سے نہیں روکتے ؟ کیا آپ قرآن کریم لے کر تشریف نہیں لائے جس کے آگے سے باطل آسکتا ہے نہ پیچھے سے، جو حکمت والی قابل حمد و ستائش ہستی کی طرف سے اتارا ہوا ہے ؟ آپ سے پہلے جن لوگوں نے انبیائے کرام کو جھٹلایا اللہ نے ان کو ہلاک نہیں کیا۔ تب سیدالمرسلین امام المتقین اور قائد الغر المحجلین حضرت محمد کی تکذیب کرنے والوں پر عذاب نازل ہونے سے کیا چیز مانع ہے ؟
Ayah 53:57(اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ ) یعنی قیامت قریب آگئی ہے اس کا وقت آن پہنچا ہے اور اس کی علامات واضح ہوگئیں۔
Ayah 53:58(لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ) یعنی جب قیامت آجائے گی اور ان پر عذاب موعود ٹوٹ پڑے گا تو اسے اللہ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا۔
Ayah 53:59پھر اللہ تبارک وتعالی نے حضر محمد کریم کی نبوت کا انکار کرنے والوں اور قرآن کو جھٹلانے والوں کو وعید سنائی چناچہ فرمایا (اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ ) یعنی کیا تم اس کلام پر جو بہترین اور افضل و اشرف کلام ہے تعجب کرتے ہو اور اسے امور عادیہ اور حقائق معروفہ کے خلاف قرار دیتے ہو ؟ یہ ان کی جہالت، گمراہی اور عناد ہے ورنہ یہ تو ایسا کلام ہے کہ جب وہ بیان کیا جاتا ہے تو سراسر صدق ہے جب وہ بات کہتا ہے تو وہ حق کو باطل سے جدا کرنے والا قول ہے۔ بےہودہ بات نہیں ہے یہ قرآن عظیم ہے جسے اگر پہاڑ پر اتارا جاتا تو آپ دیکھتے کہ وہ خوف اور ڈر سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ جو اصلاھ کی طلب رکھنے والوں کی رائے عقل راست بازی ثابت قدمی اور ایمان وایقان میں اضافہ کرتا ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں بلکہ تعجب تو اس شخص کی عقل، سفاہت اور گمراہی پر ہونا چاہیے جو اس قرآن پر تعجب کرتا ہے۔
Ayah 53:60(وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَ ) اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں۔ یعنی تم اس کی تضحیک کرنے اور تمسخر اڑانے میں جلدی کررہے ہو حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے اوامر ونواہی کو سن کر اس کے وعدہ وعید پر توجہ دے کر اور اس کی سچی اور اچھی خبروں کی طرف التفات کرکے نفوس اس سے متاچر ہوتے دل نرم پڑتے اور آنکھیں روپڑتیں۔
Ayah 53:61(وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ) اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو۔ یعی تم اس سے اور اس پر تدبر کرنے سے غافل ہو یہ غفلت تمہاری قلت عقل اور تمہارے دین کی کھوٹ پر دلالت کرتی ہے اگر تم نے اللہ کی عبادت کی ہوتی اور اپنے تمام احوال میں اس کی رضا کے طلب گار رہے ہوتے تو تمہیں یہ بدلہ نہ ملتا جسے عقل مند لوگ ناپسند کرتے ہیں۔
Ayah 53:62(فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا) اب تم اللہ کے حضور سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص طور پر سجدے کا حکم دینا اس کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ کہ سجدہ عبادت کا سرنہاں اور اس کالب لباب ہے اس کی روح خشوع و خضوع ہے۔ حالت سجدہ بندے کا وہ عظیم ترین حال ہے جس میں بندے پر خضوع طاری ہوتا ہے بندے کا قلب وبدن دونوں خضوع کی حالت میں ہوتے ہیں بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا بلند ترین عضو اس حقیر زمین پر رکھ دیتا ہے جو قدموں کے روندنے کا مقام ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر عبادت کا حکم دیا جو ان تمام اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ان سے ناراضی ہوتا ہے۔