Ayahs 50:41–45(واستمع) اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کو پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیل ( علیہ السلام) ہیں، یعنی جب اسرافیل ( علیہ السلام) صور میں پھونکیں گے (من مکان قریب) ” نزدیک کی جگہ سے۔ “ یعنی کسی ایسی جگہ سے جو مخلوق کے قریب ہے۔ (یوم یسمعون الصیحۃ) جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سیں گے (بالحق) جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ (ذلک یوم الخروج) وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوتا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہوگا، اسی لئے فرمایا : (انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر۔ یوم تشقق الارض عنھم) ” بےشکم ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ جس روز ان سے زمین پھٹ جائے گی “ یعنی مردوں سے (سراعا) وہ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیزی سے حشر کے میدان کی طرف آئیں گے۔ (ذلک حشر علینا یسیر) ” یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔” یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے نہایت آسان ہے، جس میں کوئی تکان ہے نہ کلفت۔
(نحن اعلم بما یقولون) ہم جانتے ہیں جو وہ آپ کو تکلیف دہ باتیں کہتے ہیں، جن سے آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سب کچھ جانتے ہیں تب آپ کو معلوم ہوگیا کہ ہم آپ پر کیسی عنایت رکھتے ہیں، آپ کے معاملات کو کیسے آسان بناتے ہیں اور آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف کیسے مدد سے نوازتے ہیں۔ پس آپ کے دل کو خوش اور آپ کے نفس کو مطمئن ہونا چاہیے اور تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہم آپ ﷺ پر اس سے زیادہ رحمت ورافت رکھتے ہیں جو آپ خود اپنے آپ پر رکھتے ہیں۔ اس لئے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے انتظار اور اولوالعزم رسولوں کی سیرت کے ذریعے سے تسلی حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے۔
(وما انت علیھم بجبار) آپ کو ان پر مسلط نہیں کیا گیا (انما انت منذر ولکل قوم ھاد) (الرعد : 13/8) ” آپ تو صرف متنبہ کرنے والے ہیں اور ہر ایک قوم کے لئے ایک راہ نما ہوتا ہے۔ “ بنا بریں فرمایا : (فذکر بالقران من یخاف وعید) یہاں تذکیر سے مراد وہ نصیحت ہے جو عقل و فطرت میں راسخ ہے یعنی نیکی سے محبت کرنا، اس کو ترجیح دینا اور اس پر عمل کرنا نیز بدی کو ناپسند کرنا اور اس سے دور رہنا اس تذکیر سے وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور رہے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی وعید سے خائف ہیں نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو نصیحت کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ان پر حجت قائم ہوتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہیں : (ما جاء نا من بشیر ولا نذیر) (المائدۃ : 5/19) ” ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ متنبہ کرنے والا۔ “