Ayahs 5:62–66آیت 62
(قد) یعنی اے رسول کہہ دیجیے ! (یاھل الکتب ) ” اے اہل کتاب ! “ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن وتشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن وتشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ (آیت) ” تم ہی میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ “ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن وتشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے اور بایں ہمہ کو ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو ! تمہارے لئے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جب کہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے۔۔۔ تو یہ برائی تمہارے فسق کی معیت میں تمہارے ہماری بابت طعن وتشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
اہل ایمان پر ان کا طعن وتشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (قل) یعنی ان کو برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے (ھل انبئکم بشر من ذلک) ” کیا میں تمہیں خبردوں اس سے بھی بری بات کی ؟ “ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن وتشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے (من لعنہ اللہ) ” جس پر اللہ نے لعنت کی۔ “ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا (وغضب علیہ) ” اس پر غضب نازل کیا “ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا (وجعل منھم القردۃ والخنا زیر و عبد الطاغوت) ” اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی “ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، و طاغوت ہے۔
(اولئک) یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے (شرمکاناً ) ” ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔ “ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرلیا۔
یہ ” افعل التفضیل “ کو ایک دوسرے اسلوب میں استعملا کرنے کی نوع ہے اور اسی طرح یہ قول ہے۔
(واضل عن سوآء السبیل) ” اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے “ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں۔ (واذا جآء و کم قالوآ امنا) ” اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے “ یعنی وہ مکر و فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں (وقد دخلوا بالکفروھم قد خرجوابہ) ” حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں۔ “ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بد حال کوئی اور ہوسکتا ہے ؟ (واللہ اعلم بما کانوا یکتمون) ” اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں “ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اععمال کا بدلہ دے گا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکراران یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے۔ (وتری کثیراً منھم) ” اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا “ یعنی یہودیوں میں سے (یسارعون فی الاثم والعدوان) ” وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں “ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں (واکلھم السحت) ” اور ان کے حرام کھانے پر “ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لئے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں (لبئس ماکانوا یعملون) ” بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں “ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشفیع کی انتہا ہے۔
(لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم و اکلھم السحت) ” کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے “ یعنی علمئا جو عوام الناس کے نفع کے در پے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انہوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں، انہیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں (لبئس ما کانوا یصنعون) ” بلا شبہ وہ بہت برا کرتے ہیں۔ “
اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا : (وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ) ” یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے “ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے (غلت ایدیھ و لعنوا بما قالوا) ” انہی کے ہاتھ بند ہوجائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر “ یہ انہی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لئے بد دعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل، اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کو متضمن ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کر کے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشآء) ” بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے “ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جو دو کرم یک جھونکوں سے مستفید ہوں۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں۔ اس کی دادو ہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلادھار بارش کی ماند ہے۔
وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بےنیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے، محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بدسب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جود و کرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کردیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔
پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لئے اسی کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح وثناء کو کوئی شمار نہیں کرسکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح وثناء بیان کی۔ بالا و بلند سے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لئے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مہون ہے۔
اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بےنیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں۔ اگر اللہ تاعلیٰ ان یہود کے ساتھ جنہوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا، تو وہ ہلاک ہوجاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہوجاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستا خانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے برد باری سیپ یش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔
(ولیزیدن کثیراً منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا) ” اور یقیناً ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا “ یہ بندے کے لئے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لئے آگے بڑھیں، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سرجھکا دیں، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔۔۔ وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد کھا اور شبہات یا طلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔
(والقینا بینھم العداوۃ والبغضآء الی یوم القیمۃ) ” اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک “ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو، بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعددی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ (کلما او قدوا ناراً للحرب) ” جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لئے “ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں۔ (اطفاھا اللہ) ” اللہ اس کو بجھا دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ ان کو بےیارو مددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ (ویسعون فی الارض فساداً ) ” اور یہ ملک میں فساد کے لئے دوڑے پھرتے ہیں۔ “ یعنی زمین میں فساد پھیلان یکے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ارتکاب کرتے ہیں، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں (واللہ لایحب المفسدین) ” اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انہیں اس کی سزا دے گا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے، تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کردیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے “ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں۔ (ولو انھم اقاموالتورۃ ولانجیل وما انزل الیھم من ربھم) ” اور اگر وہ قائم کرتے تو رات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے “ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تو رات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں۔ یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔
اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے (لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم “ ” تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے “ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لئے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض) (الاعراف :96/8) ” اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ “
(منھم) ” ان میں سے “ یعنی اہل کتاب میں سے (امۃ مقتصدۃ) ” ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر “ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے۔ (و کثیر منھم سآء مایعملون) ” اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔ “ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں۔
Ayah 5:67آیت 67
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو حکم ہے اور یہ سب سے بڑا اور جلیل ترین حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اسے اس کے بندوں تک پہنچایا جائے۔۔۔ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جو امت نے آپ سے حاصل کئے، مثلاً عقائد، اعمال، اقوال، احکام شرعیہ اور مطالب الٰہیہ وغیرہ۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو پوری طرح پہنچا دیا، آپ ﷺ نے لوگوں کو دعوت دی، ان کو برے انجام سے ڈرایا، ان کو ایمان لانے پر اچھے انجام کی خوشخبری سنائی، ان کے لئے آسانیاں پیدا کیں، ان پڑھ جاہلوں کو علم سکھایا حتی کہ وہ علمائے ربانی بن گئے۔ آپ ﷺ نے اپنے قول و فعل، اپنے مراسلات اور ایلچیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کو پہنچا دیا۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف آپ نے امت کی راہنمائی نہ کی ہو اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے آپ نے امت کو ڈرایا نہ ہو۔ آپ کی اس تبلیغ کی گواہی افاضل امت یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے دی اور ان کے بعد ائمہ دین اور مسلمانوں نے دی۔
(وان لم تفعل) ” اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا۔ “ یعنی جو چیز آپ ﷺ کے رب کی طرف سے آپ پر اتاری گئی ہے اگر آپ نے اسے لوگوں تک نہ پہنچایا (فما بلغت رسالتہ ) ” تو نہیں پہنچایا آپ نے اس کا پیغام “ یعنی آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری نہیں کی (واللہ یعصمک من الناس) ” اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کی حمایت اور لوگوں سے آپ کی حفاظت کا وعدہ ہے۔ آپ کے لئے مناسب یہی ہے کہ آپ تعلیم و تبلیغ پر توجہ مرکوز رکھیں، مخلوق کا خوف آپ کو اس مقصد سے نہ ہٹا دے۔ کیونکہ مخلوق کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اس نے آپ کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے اور آپ کی ذمہ داری پہنچا دینا ہے جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے لئے ہے۔
رہے کفار جن کا خواہشات نفس کی پیروی کے سوا کوئی مقصد نہیں تو ان کے کفر کے سبب سے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے گا، نہ انہیں بھلائی کی توفیق عطا کرے گا۔
Ayah 5:68آیت 68
یعنی اہل کتاب کی گمراہی کی منادی اور ان کے باطل کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیجیے ! (لستم علی شیء) ” تم کسی چیز پر نہیں ہو “ یعنی تم کسی بھی دینی اصول پر قائم نہیں ہو۔ تم قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان لائے ہو نہ تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کی تصدیق کی ہے، تم نے حق کو تھاما ہے نہ کسی اصول پر تمہارا اعتماد ہے (حتی تقیموا التورءۃ والانجیل) ” جب تک تم تورات اور انجیل کو قائم نہ رکھو گے۔ “ یعنی جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر ایمان لا کر ان کو قائم نہ کرو، ان کی اتباع نہ کرو اور جن امور کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں ان میں سے ہر چیز کو مضبوطی سے تھام نہ لو اور جب تک کہ تم اس چیز کو قائم نہ کرو (وما انزل الیکم من ربکم) ” جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے “ جس نے تمہاری تربیت کی اور تمہیں نعمتوں سے نوازا۔ تم پر اس کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ تمہاری طرف کتابیں نازل فرمائیں۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو، اس کے احکام کا التزا کرو اور اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کے عہد کی جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے اسے پورا کرو۔
(آیت) ” اور جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے، اس سے ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ ہوگا اس لئے آپ کافروں کے گروہ پر متاسف نہ ہوں۔ “
Ayahs 5:69–70آیت 69
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل قرآن، اہل تورات اور اہل انجیل کے بارے میں بیان فرماتا ہے کہ ان سب کی سعادت اور نجات ایک ہی طریقے اور ایک ہی اصول میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا۔۔۔ لہٰذا ان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اسی کے لئے نجات ہے۔ ان کو کوئی خوف نہ ہوگا، انہیں خوف زدہ کرنے والے امور کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ امور جو وہ پیچھے چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں غمگین نہ ہوں گے۔۔۔ یہ حکم مذکور تمام زمانوں کو شامل ہے۔
Ayahs 5:71–73آیت 71
(لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل) ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشرنقیباً ۔۔۔ الآیۃ) (المائدہ :12/5) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ (وارسلنا الیھم رسلاً ) ” اور ان کی طرف رسول بھیجے “ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا (کلما جآء ھم رسول بما لا تھوی انفسھم) ” جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے “ یعنی حق کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے حق کو جھٹلایا، اس سے عناد رکھا اور اس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا (فریقاً کذبوا و فریقاً یقتلون) ” انہوں نے رسولوں کے ایک گروہ کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کیا۔ “
وحسبوآ الا تکون فتنہ) ” اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔ “ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے (فعموا وصموا) ” پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہوگئے “ (ثم تاب اللہ علیھم) ” پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی “ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کردیا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی (ثم) پھر انہوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے (عموا و صموا کثیر منھم) ” ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ “ یعنی انہی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندیھ اور گونگے ہوگئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے (واللہ بصیر بما یعملون) ” اور اللہ وہ جو کچھ کرتے ہیں، اس کو دیکھتا ہے “ پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہوگی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزا ہوگی۔
Ayahs 5:74–75آیت 74-75
اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے (ان اللہ ھو المسیح ابن مریم) ” بیشک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے “ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے۔۔۔ دراں حالیکہ عیسیٰ نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : (یبنی اسرآئیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم) ” اے نبی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے “ مسیح نے اپنے لئے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لئے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ (انہ من یشرک باللہ) ” جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی (خواہ وہ عیسیٰ ہوں یا کوئی اور) اللہ کا شریک ٹھہراً ا ہے۔ “ (فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماو ۂ النار) ” تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے “ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔ یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت۔۔۔ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کردیا۔۔۔ اس لئے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے (وما للظلمین من انصار) ” اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا “ جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کرسکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے (لقد کفر الذین قالوآ ان اللہ ثالث ثلثہ) ” یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے “ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ، عیسیٰ اور مریم۔۔۔ اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے۔۔۔ یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انہوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کرلیا ؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہوگئے ؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا ؟
اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا : (وما من الہ الا الہ واحد) ” اور نہیں ہے کوئی معبود، مگر ایک ہی معبود “ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جاسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (وان لم ینتھوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منھم عذاب الیم) ” اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انہیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا “ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں یک توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا : (افلا یتوبون الی اللہ) ” کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے ؟ “ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
(ویستغفرونہ) اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ؟ (واللہ غفور رحیم) ” اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلند یوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا (افلا یتوبون الی اللہ) ” کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے ؟ “
پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیح اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا : (ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل) ” نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے “ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انہیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے (وامہ) ” اور ان کی ماں “ یعنی مریم (صدیقہ) ” صدیقہ ہیں۔ “ یعنی جناب مریم کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صد یقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیاء ومرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔
صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لئے یہی کافی ہے۔
اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وما ارسلنا من قبلک الا رجالاً نوحی الیھم) (یوسف :109/12) ” اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ “
جب حضرت عیسیٰ انبیاء ومرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الہ قرار دے دیا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (کانا یاکلن الطعام) ” وہ دونوں کھانا کھاتے تھے “ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریم الہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بےنیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کردی تو فرمایا : (انظر کیف نبی ن لھم الایت) ” کیھو ہم کیسے ان کے لئے آیات بیان کرتے ہیں “ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں۔ بایں ہمہ انہیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں، جھوٹ اور افترا بردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔
Ayah 5:76آیت 76
(قل) یعنی اے رسول ﷺ ان سے کہہ دیجیے ! (اتعبدون من دون اللہ) کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں ؟ (مالا یملک لکم ضراً ولا نفعاً ) ” جو تمہارے لئے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “ اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضہ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ (واللہ ھو السمیع) ” اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے (العلیم) ” جاننے والا ہے۔ “ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی مالک ہے، وہی عبادت کی تمام انواع اور خالص اطاعت کی مستحق ہے۔
Ayahs 5:77–81آیت 77
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق) ” اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو “ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انہوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا (ولاتتبعوآ اھوآء قوم قد ضلوا من قبل) ” اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔ “ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ (واضلوا کثیراً ) ” اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔ “ یعنی جس دین پر یہ کار بند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کرچکے ہیں (وضلوا عن سوآء السبیل) ” اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ “ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انہوں نے جمع کرلیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
(لعن الذین کفروا من بنی اسرآئیل) ” بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی “ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کردیا گیا (علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم) ” داود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان پر “ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرارپ ر، بائیں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہوگئی اور انہوں نے اس حجت و دلیل سے عنا رکھا (ذلک) یعنی کفر اور لعنت (بما عصوا وکانوا یعتدون) ” اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ “ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی، کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں، یہ تھے کہ وہ (کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ) ” برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ “ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لئے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کی ہتک پر انہیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی نارضا ہوتے اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں، مثلاً
(1) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لئے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔
(2) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔
(3) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شر پر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑجاتے ہیں اور وہ اہل شرکا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ حتی کہ انہیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔
(4) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں وہتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں۔
اس سے بڑی کونسی برائی ہوسکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انہیں باطل حق نظر آنے لگے۔
(5) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہوجاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس لئے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنئاے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔
چونکہ یہ برئایوں پر سکوت کی جزا ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انہی لوگوں میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعددی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص (لبئس ماکانوا یفعلون) ” البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔ “
(تری کثیراً منھم یتولن الذین کفروا) ” آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں “ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں (لبئس ماقدمت لھم انفسھم) ” برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لئے آگے بھیجا “ یعنی انہوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا۔۔۔ اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہوجاتی ہے اور جس کی نارضای کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انہوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انہوں نے انہیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کردیا۔
ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیآء) ” اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ، نبی ﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑگئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت، موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔
چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لئے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا (ولکن کثیراً منھم فسقون) ” لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبی ﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے سوالات رکھتے ہیں۔
Ayah 5:82آیت 82
اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے (لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا) ” آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو “ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لئے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر وعناد رکھتے ہیں۔ (ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوآ انا نصریٰ ) ” اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں “ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرماتے ہیں :
(1) (منھم فسیسین ورھباناً ) ” یہ اس لئے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔ “ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں، کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کو زائل کردیتی ہے۔ بنا بریں ان کے اندر یہود کی سی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔
(2) (وانھم لایستکبرون) ” اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ “ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
Ayahs 5:83–86آیت 83
اس کا ایک سبب یہ بھی ہے (واذا سمعوامآ انزل الی الرسول) ” جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی “ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں، آنسو جاری ہوجاتے ہیں، پس اسی لئے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا : (ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین) ” اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔ “ اور یہ محمد ﷺ کی امت کے لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ عادل ہیں اور انکی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وکذلک جعلنکم امۃ وسطاً لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرہ :173/2)
” اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔ “
گویا انہیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا : (وما لنا لانؤمن باللہ وما جآء نا من الحق ونطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصلحین) ” اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ درآں حالیہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فاثابھم اللہ بما قالوا) ” پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا “ یعنی انہوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی (جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا و ذلک جزآء المحسنین) ” باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا “ یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لئے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لئے عذاب کا ذکر کیا۔ (والذین کفروا وکذبوا با یتنآ اولئک اصحب الجعیم) ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں “ کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔
Ayahs 5:87–88آیت 87
(یایھا الذین امنوا لاحرموا طیبت مآ احل اللہ لکم) ” اے ایمان والو ! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے، تم انہیں حرام مت کرو “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں، انہیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ پس اللہ تعلایٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمہارے لئے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ ورنہ تم کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ پر افتراپردازی کے ساتھ حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب بھی ٹھہرو گے۔۔۔ اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے (ولا تعتدوان اللہ لایحث المعتدین) ” اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، بلکہ ان سے ناراض ہوتا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا (وکلوا مما رزقکم اللہ حللاً ) ” اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمہیں دی ہے اسے کھاؤ۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمہاری طرف بھیجا ہے جو تمہیں میسر ہیں۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے، نیزہ وہ پاک بھی ہو یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں۔
(واتقوا اللہ) ” اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ “ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو (الذین انتم بہ مؤمنون) ” وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو “ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز مثلاً ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہوجاتی۔ البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہوجائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یایھا النبی لم تحرم مآ احل اللہ لک) (التحریم :1/66) ” اے نبی ! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لئے حلال قرار دی ہے ؟ “ مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔ (1)
اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انہیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انہیں اسعتمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔
Ayahs 5:89–90آیت 89
(1) اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے، ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہا رفاضل مفسر (رح) نے کیا ہے، دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارہ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے تفسیر فتح القدیر، آیت زیر بحث زاد المعاد، ج :312-302/5 فتح الباری، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیہ، ج : 2، کتاب اطلاق وغیر ھامن الکتب (ص۔ ی)
یعنی تمہاری ان قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہارا مؤاخذہ نہیں کرے گا جو تم سے لغواً صادر ہوتی ہیں۔ اس سے مراد وہ قسمیں ہیں جو انسان بغیر کسی نیت اور ارادے کے کھا لیتا ہے یا یہ سمجھتے ہوئے کھاتا ہے کہ وہ سچا ہے مگر معاملہ اس کے برعکس نکلتا ہے : (ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان) ” لیکن پکڑتا ہے ان قسموں پر جن کو تم نے مضبوط باندھا “ یعنی جس کا تم عزم کرلیتے ہو اور جس پر تمہارے دل جم جاتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم) (البقرہ :220/2) ” مگر وہ قسمیں جو تم دلی ارادے سے کھاتے ہو، ان پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا۔ “
(فکفارتہ) ” تو اس کا کفارہ “ یعنی ان قسموں کا کفارہ جو تمقصد اور ارادے سے کھاتے ہو (اطعام عشرہ ۃ مسکین) ” دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے “ اور یہ کھانا (من اوسط ماتطعمون اھلیکم) ” اوسط درجے کا کھانا جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو “ (اوکسوتھم) ” یا ان دس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے “ اور یہاں لباس سے مراد کم از کم اتنا لباس ہے جس سے نماز ہوجاتی ہے (او تحریر رقبۃ) ” یا ایک گردن آزاد کرنی ہے “ یعنی مومن غلام جیسا کہ بعض دیگر مقام پر اسے ایمان کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔
جب ان مذکورہ تینوں صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل کرلے تو اس کی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا (فمن لم یجد) ” اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔ “ یعنی جب کوئی ان تینوں صورتوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو (فصیام ثلثۃ ایام) ” تو تین دن کے روزے رکھنے ہیں “ (ذلک) یعنی یہ مذکورہ صورت (کفارۃ ایمانکم اذا خلفتم) ” تمہاری قسموں قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو۔ “ یہ ان کو مٹا دیتا ہے اور گناہ کو ختم کردیتا ہے۔
(واحفظو ایمانکم) ” اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ “ اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹے اور کثرت سے حلف اٹھانے سے اپنی قسموں کی حفاظت کرو اور جب تم حلف اٹھا ہی لو پھر ٹوٹنے سے اس کو بچاؤ۔ سوائے اس کے کہ قسم توڑنے میں کوئی بھلائی ہو۔ پس قسم کی کامل حفاظت یہ ہے کہ انسان بھلائی پر عمل کرے اور اس کی قسم بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ (کذلک یبین اللہ لکم ایتہ) ” اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لئے اپنی آیات “ جو حلال و حرام کو بیان کرنے والی اور احکام کو واضح کرنے والی ہیں (لعلکم تشکرون) ” شاید تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنو “ کہ اس نے تمہیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔ پس بندہ مومن پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے کہ اس نے احکام شریعت کی معرفت اور ان کی توضیحات سے نوازا۔