5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 5:40–43

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے ؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانیوالے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کردینا یا اعراض کرنا اگر تم ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

آیت 40 چور اس شخص کو کہا اجتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضا مندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دائیاں ہاتھ کاٹنا، جیسا کہ بعض صحابہ کی قرأت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہوجائیں اور خون رک جائے۔ سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔ (1) حفاظت : چوری کے اطلاق کے لئے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چورنے اگر کسی ایسے مال کی چروی کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (2) نصاب : چور کا ہاتھ کاٹنے کے لئے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینا ریا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر ہو۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ” سرقہ “ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لئے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لئے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہوگا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہوجاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دائیاں ہاتھ کاٹ دیئے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چروی کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دائیاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہا کہتے ہیں کہ اس کو قید کردیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مرجائے۔ (جزآء بما کسبا) ” یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کمایا، یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے (نکالا من اللہ) ” یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے “ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لئے ہے، کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہوگا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، تو وہ چوری سے باز آجائیں گے (واللہ عزیز حکیم) ” اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لئے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا کم دیا ہے۔ (فمن تاب من بعد ظلمہ وا صلح فان اللہ یتوب علیہ ان اللہ غفور رحیم) ” پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی، تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے “ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کرلیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بےپایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے ' یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

آیت 44 رسول اللہ ﷺ مخلوق پے بےحد شفقت فرماتے تھے اس لئے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپ ﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہوجاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزہ نہ ہوا کریں، کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بنا بریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (من الذین قالوا امنا بافواھم ولم تو من قلوبھم) ” ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں “ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں۔ حاشا اللہ الہ ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے، کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے، تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔ (ومن الذین ھادوا) ” اور ان میں سے جو یہودی ہیں۔ “ (سمعون للکذب سمعون لقوم اخرین لم یاتوک) ” جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لئے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے “ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے (لم یا توک) ” آپ کے پاس کبھی نہیں آئے “ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس (یحرفون الکلم من بعد مواضعہ) ’ وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھاکنا چھوڑ کر “ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لئے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہ کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے، کیونکہ وہ اتنہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی (یقولون ان اوتیتم ھذا فخذوہ و ان لم توتوہ فاحذروا) ” کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا “ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لئے آپ کے پاس آتے ہیں۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ” اگر محمد ﷺ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کرلو اور اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔ “ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ (ومن یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئاً ) ” اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے، آپ اس کے لئے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کرسکتے “ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے (انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء) (الصص :56/68) ” آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔ “ (اولئک الذین لم یرد اللہ ان یطھر قلوبھم ) ” یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے “ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہوجاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہوجاتا ہے، تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف، تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔ (لھم فی الدنیا خزی) ” ان کے لئے دنیا میں بھی ذلت ہے۔ “ یعنی دنیا میں ان کے لئے فضیحت اور عار ہے (ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم) ” اور آخرت میں عذاب عظیم ہے “ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے (سمعون للکذب) ” جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لئے “ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لئے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انہیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتا ہے (اکلون للسحت) ” کھانے والے ہیں حرام کے “ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں۔ پس انہوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کرلیا (فان جآءوک فاحکم بینھم او اعرض عنھم) ” اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں۔ “ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں۔ یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں جو فیصلہ کروانے کے لئے آپ ﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنا بریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہوگا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان تعرض عنھم فلن یضروک شیاء و ان حکمت فاحکم بینھم بالقسط ان اللہ یحب المقسطین) ” اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے “ حتی کہ۔۔۔۔۔۔ خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیو نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔ پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ۔۔۔ بالمومنین) ” اور وہ سک طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جب کہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھرجاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں “ اس لئے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے، تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تو رات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کردیا جو ان کے پاس ہے، تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ (وما اولئک بالمومنین) ” اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ “ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔ (انا انزلنا التوارۃ ) ” بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی۔ “ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرآن پر تورات نازل کی (فیھا ھدی) ” جس میں ہدایت ہے “ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے (ونور) ” اور روشنی ہے۔ “ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولقد اتینا موسیٰ وہرون الفرقان و ضیآء و ذکر للمتقین) (الانبیاء 38/21) ” اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔ “ (یحکم بھا) ” فیصہل کرتے تھے اس کے ساتھ “ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں (النبیون الذین اسلموا) ” پیغمبر جو فرماں بردار تھے “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔ جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں، تو رات کو اپنا امام بناتے ہیں، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے ؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کردیں جس میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور عقیدے کو قبول کئے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے ؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ (والربنیون و الاحبار) ” درویش اور عالم “ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (ربانیون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیائے کرام کا ہوتا ہے (احیار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے (بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شھدآء) ” اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے “ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بےعلم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا۔۔۔ وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان شمتبہ امور میں ان کے لئے مرجع ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈلای اس لئے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں، نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکوۃ، حج، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انہیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں۔ بنا بریں فرمایا (فلا تخشوا الناس واخشون ولاتشتروا بایتی تمنا قلیلاً ) ” پس تم لوگوں سے نہ ڈرو تم مجھی سے ڈرو ! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو “ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔ اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہوجاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم وتعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بےکاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بےکار اور ضائع کردیا۔ دنیا کے بدلے دنی کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتوؤں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کردیا۔ اے اللہ ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور افیت عطا کر۔ (ومن لم یحکم بما انزل اللہ) ” اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔ “ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے (فاولئک ھم الکفرون) ” تو ایسے ہی لوگ کفار ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
Ayahs 5:45–46

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلا ہے لیکن جو شخص بدلا معاف کردے وہ اس کیلئے کفّارہ ہوگا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں۔

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

آیت 45 یہ احکامات، تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیوں اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کردیا جائے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ (والجروح قصاص) ” اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے “ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے، تو جارح سے زخموں کا قصاص لیا جائے گا اور اسے حد، مقام، زخم کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کے مطابق اتنا ہی زخم لگایا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم سے پہلے کی شریعت کی پیروی ہمارے لئے بھی اس وقت تک لازم ہے جب تک کہ ہماری شریعت میں کوئی ایسی چیز وارد نہ ہو جو اس شریعت کے خلاف ہو۔ (فمن تصدق بہ) ” پھر جس نے معاف کردیا “ یعنی جو کوئی جان، اعضاء اور زخموں کے قصاص میں مجرم کو معاف کردیتا ہے۔ وراں حالیکہ قصاص کا حق ثابت تھا (فھو کفارۃ لہ) ” تو یہ اس کے لئے کفارہ ہے “ یعنی مجرم کے لئے کفارہ ہے، کیونکہ آدمی نے تو اس کو اپنا حق معاف کردیا اور اللہ تعالیٰ تو اپنے حق کو زیادہ معاف کردینے والا ہے۔ نیزیہ معاف کردینے والے کے حق میں بھی کفارہ ہے، کیونکہ جس طرح اس نے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو یا اس کو معاف کردیا جو اس سے متعلق ہے اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی لغزشوں اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلئک ھم الظلمون) ” اور جو کوئی اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا، تو یہی لوگ ظالم ہیں “ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں ” کفر سے کم تر کفر، ظلم سے کم تر ظلم اور فسق سے کم تر فسق ہوتا ہے۔ “۔۔۔ پس اگر اس فعل کو حلال سمجھتے ہوئے اس کو کیا جائے تو یہ سب سے بڑا ظلم ہے اور اگر اس کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کیا جائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔
Ayahs 5:47–48

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نزل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کردیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کردیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتادے گا۔

آیت 47 یعنی ان انبیاء ومرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا۔ وہ موسیٰ اور تورات کی حق و صدقات کے ساتھ گواہی دینے والے ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰ کی موافقت کرتے تھے۔ بسا اوقات عیسیٰ بعض احکام میں تخفیف فرما یدتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا : (ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم) (آل عمران :50/3) ” اور تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤ۔ “ (واتینہ الانجیل) ” اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔ “ یعنی ہم نے انہیں کتاب عظیم عطا کی جو تو رات کی تکمیل کرتی ہے۔ (فیہ ھدی ونور) ” اس میں ہدایت اور روشنی ہے “ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل سے حق کو واضح کرتی ہے۔ “ یعنی تورات کی صداقت کو ثاب کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے (ومصدقا لما بین یدیہ من التورۃ) اور تورات کی جو اس سے پہلے (نازل شدہ کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔ “ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے (وھدی وموعظۃ للمتقین) ” اور متقین کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے “ کیونکہ اہل تقویٰ ہی میں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں۔ (ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ) ” اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔ “ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لئے جائز نہیں (ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلئک ھم الفسقون) ” اور جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں۔ “
Ayahs 5:49–50

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم کے خواہشمند ہیں ؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے ؟

آیت 49 (وانزلنا الیک الکتب) ” اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب “ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے (بالحق) ” حق کے ساتھ “ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے (مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ) ” اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے “ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقفت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق اور اس کے بڑے بڑے قوامنین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں۔ ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے۔ پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے (ومھیمنا علیہ) ” اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے “ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں، نیز مطالب الہیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں۔ یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آچکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہی اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت، دانائی اور احکام ہیں، جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردد ہے، کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہوچکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طر سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ (فاحکم بینھم بما انزل اللہ) ” پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فصلہ کیجیے (ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق) ” اور آپ پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں “ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپ ﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنی ٰ کو لیں گے۔ (لکل جعلنا منکم) ” تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے “ یعنی اے قومو ! (شرعہ ومنھاجا) ” ایک دستور اور راہ “ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کردیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے نفاذ کے وقت عدل کی طرف راجع رہی ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زماں و مکاں میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں۔ (ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ) ” اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا “ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخرامت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا (ولکن لیبلوکم فی مآاتکم) ” لیکن وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیئے ہوئے حکموں میں “ پس وہ تمہیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے، تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہشمند ہوتی ہے اس لئے فرمایا : (فاستبقوا الخیرت) ” نیک کاموں میں جلدی کرو۔ “ ینی نیکیوں کے حصول کے لئے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو، کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر شمتمل ہوتی ہیں، ان کا فاعل اور ان دو امور کو مدنظر کھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (1) جب نیکی کرنے کا وقت آجائے اور اس کا سبب ظاہر ہوجائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (2) اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔ اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحباب پر بھی عمل کرے، تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔ (الی اللہ مرجعکم جمعاً ” تم سب کا لوٹنا اللہ کی کی طرف ہے “ تمام امم سابقہ ولاحقہ کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں (فینبتکم بما کنتم فیہ تختلفون) ’ پس وہ تمہیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے “ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمہارے درمیان اختلاف تھا۔ چناچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔ (وان احکم بینھم بما انزل اللہ) ” اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا “ کہ جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد (فاحکم بینھم او اعرض عنھم) ” ان کے درمیان فصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں “ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے اور یہ (دوسری) آیتک ریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپ ﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں، تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت، یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط) ” اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ “ یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ (ولاتبع اھوآءھم ) ” اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں “ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپ ﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک) ” ؁ ور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکانہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا “ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے نیز انے سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپ ﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔ (فان تولوا ) ” پس اگر وہ نہ مانیں “ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں (فاعلم) ” تو جان لیجیے “ کہ یہ روگردانی ان کے لئے سزا ہے (انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم) ” اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے “ کیونکہ گناہوں کے لئے دنیا و آخرکت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لئے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے (وان کثیراً من الناس لفسقون) ” اور اکثر لوگ نافرمان ہیں “ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔ (افحکم الجاھلیۃ یبغون) ” اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ؟ “ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعرضا کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فصلے ہیں۔ (1) اللہ او اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ (2) جاہلیت کا فیصلہ پس جو کوئی اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں۔ (ومن احسن من اللہ حکماً لقوم یوفنون) ” اور اللہ سے بہتر کون ہے فیصلہ کرنے والا، اس قوم کے لئے جو یقین رکھتی ہے ‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کرسکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی تباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔
Ayahs 5:51–53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے انکو دوست بنائیگا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم انکو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فرح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے عمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑگئے۔

آیت 51 اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاری کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ انہیں اپنا دوست نہ بنئایں (بعضھم اولیآء بعض) ” کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں “ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمہارے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے نقصان کی کوئی پروا نہیں، بلکہ وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انہیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا : (ومن یتولھم منکم فانہ منھم) ” اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہے “ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کرے گا، وہ اہی میں سے ہے “ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتی کہ بندہ انہی میں سے ہوجاتا ہے۔ (ان اللہ لایھدی القوم الظلمین) ” اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا “ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لئے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔ جب اللہ تبار کو تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ (فتری الذین فی قلوبھم مرض) ” پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے “ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو درست بنایا ہے اس لئے کہ (نحشی ان تصیبنا دآئرۃ) ” ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے “ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہوجائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر احسان انہیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے : (فعسی اللہ ان یاتی بالفتح) ” ہوسکتا ہے اللہ فتح کرے “ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے (او امرمن عندہ) ” یا کوئی حکم اپنے پاس سے “ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہوجائیں۔ (فیصبحوا علی مآ اسروا) ” پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں “ (فی انفسھم ندمین) ” اپنے نفسوں میں نادم “ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انہیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انہیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفارہ کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انہیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (ویقولالذین امنوا) ” اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں : (اھولآء الذین اقسموا باللہ جھد ایمانھم انھم لمعکم) ” کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں “ یعنی انہوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں۔ مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہوگیا، ان کے تمام بھید عیاں ہوگئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان، جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہوگئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہوگئیں (حبطت اعمالھم) ” پس (دنیا میں) ان کے تمام اعمال اکارت گئے “ (فاصبحوا خسرین) ” اور وہ خائب وہ خاسر ہو کر رہ گئے “ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انہیں گھیر لیا۔
Ayahs 5:54–55

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

آیت 54 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے جو کوئی اس کے دین سے پھرجاتا ہے وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص اور سچے بندے ہیں۔ اللہ رحمان و رحیم ان کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لانے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنے اوصاف میں سب سے کامل، اپنے جسم میں سب سے طاقتور اور اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے (یحبھم و یحبونہ) ” اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ “ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جلیل ترین نعمت ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے بندے کو نوازا ہے اور سب سے بڑی فیلت ہے جس سے اللہ نے اپنے بندے کو مشرف فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کے لئے تمام اسباب مہیا کردیتا ہے، ہر قسم کی مشکل اس پر آسان کردیتا ہے، نیک کام کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے اور بندوں کے دلوں کو محبت اور مودت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ اپنے رب کے ساتھ بندے کی محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں ظاہری اور باطنی طور پر رسول اللہ ﷺ کی متابعت کی صفت سے متصف ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ) (آل عمران :31/3) ” کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کترے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ “ جیسے بندے کے ساتھ رب کی محبت کے لوازم میں سے ہے کہ بندہ کثرت سے فرائض اور نوافل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک صحیح حدیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نقل فرمایا ہے ” میرا بندہ جس چیز کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان میں فرائض سے بڑھ کر کوئی چیز مجھے محبوب نہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ “ (1) اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لوازم میں سے، اس کی معرفت اور کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنا بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بغیر اس کے ساتھ محبت ناقص ہے، بلکہ اس محبت کا وجود ہی نہیں اگرچہ اس کا دعویٰ کیا جائے۔ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ کثرت سے اس کا ذکر کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے تھوڑے سے عمل کو قبول فرما لیتا ہے اور اس کی بہت سی لغزشوں کو معاف کردیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگوں کی صفات میں سے یہ ہے (اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکفرین) ” نرم ہیں مومنوں پر، سخت ہیں کافروں پر “ پس وہ اہل ایمان کے ساتھ محبت، ان کے لئے خیر خواہی، ان کے لئے نرمی اور مہربانی، ان کے لئے رحمت ورافت اور ان کے ساتھ شفقت بھرے رویئے کی بنا پر ان کے لئے نرم خو (1) صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضح، حدیث :65-2 ہوتے ہیں، نیز کسی ایسی چیز کے قرب کی بنا پر جو اس سے مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں، اس کی آیت سے عناد رکھنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے لئے بہت سخت ہوتے ہیں۔ ان کی عداوت پر ان کی ہمت اور عزائم مجتمع ہوتے ہیں اور وہ ان پر فتح حاصل کرنے کے لئے ہر سبب میں پوری کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” جہاں تک ہوسکے قوت و طاقت کے ساتھ اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر ان کے مقابلے کے لئے مستعد رہو، اس کے ذریعے سے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرائے رکھوں۔ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم) (الفتح :29/38) ” وہ کافروں کے لئے نہایت سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے بارے میں سخت رویہ رکھنا، ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس سے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے اور ان کے ساتھ سختی اور ناراضی میں بندہ اپنے رب کی موافقت کرتا ہے اور ان کے بارے میں سخت رویہ ان کو دین اسلام کی طرف ایسے طریقے سے دعوت دینے سے مانع نہیں جو بہتر ہو۔ ان کے بارے میں سخت رویہ اور دعوت دین میں نرمی دونوں یکجا ہوں۔ دونوں امور میں ان کے لئے مصلحت ہے جس کا فائدہ انہی کی طرف لوٹتا ہے۔ (سجاھدون فی سبیل اللہ) ” وہ (اپنی جان، مال، اقوال اور افعال کے ذریعے سے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں “ (ولا یخافون لومۃ لآئم) ” وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے “ بلکہ وہ اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور مخلوق کی ملامت کی بجائے اپنے رب کی ملامت سے رتے ہیں۔ اور یہ رویہ ان کے ارادوں اور عزائم کی پختگی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کمزور دل والا، ارادے کا بھی کمزور ہوتا ہے۔ ملامت گروں کی ملامت پر اس کی عزیمت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے اور نکتہ چینیوں پر اس کی قوت کمزور ہوجاتی ہے۔ مخلوق کی رعایت، ان کی رضا اور ناراضی کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر ترجیح کے مطابق بندوں کے دلوں میں غیر اللہ کا تعبد جنم لیتا ہے۔ قلب، غیر اللہ کی عبادت سے اس وقت تک محفوظ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے ڈرتا چھوڑ نہ دے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان صفات جمیلہ اور مناقب عالیہ سے نواز کر ان کی مدح کی ہے جو ایسے افعال خیر کو مسلزم ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ ان پر محض اس کا فضل و احسان ہے، تاکہ وہ خودپسندی کا شکار نہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں جس نے ان پر احسان کیا، تاکہ وہ ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ نوازے اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم معجوب نہیں۔ بنا بریں فرمایا۔ (ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء واللہ واسع علیم) ” یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے “ یعنی وہ وسیع فضل و کرم اور بےپایاں احسان اک مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اللہ تعلایٰ اپنے اولیا کو وسیع فضل و کرم سے نوازتا ہے جس سے وہ اوروں کو نہیں نوازتا۔ مگر وہ علم رکھتا ہے کہ کون اس کے فضل کا مستحق ہے پس وہ اسی کو عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اصولی اور فروعی طور پر رسالت سے کسے نوازنا۔
Ayahs 5:56–57

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھی ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔

(آیت 56) اللہ تبار کو تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے (انما ولیکم اللہ و رسولہ) ” تمہارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے “ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی، یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسول ﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ بھی انہی کو دوست بنائے اور وہ ہیں اہل ایمان جو ایمان کے ظاہری اور باطنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور معبود کے لئے دین کو خالص کرتے ہیں، یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط و فرائض اور اس کو مکمل کرنے والے امور کے ساتھ قائم کرتے ہیں، مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اپنے میں سے مستحق لوگوں کو زکوۃ دیتے ہیں۔ (وھم رکعون) ” اور ( اللہ کے آگے) جھکتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور تذلل اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (انما ولیکم اللہ و رسولہ والذین امنوا) میں حصر کا اسلوب دلالت کرتا ہے کہ ان مذکورہ کی دوستی پر اقتصار کرنا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے برأت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوستی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ومن یتول اللہ و رسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغبون) ” اور جو اللہ سے، اس سے اور ایمان والوں سے دوستی رکھتا ہے، تو بیشک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے “ یعنی وہ اس گروہ میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عبودیت اور ولایت کی اضافت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حزب غالب ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وان جندنالھم الغبون) (الصافات :183/38) ” بیشک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ “ یہ اس شخص کے لئے بہت بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کر کے اس کے گروہ اور لشکر میں شامل ہوجاتا ہے کہ غلبہ اسی کے لئے ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ مغلوب بھی ہوجاتا ہے مگر انجام کار فتح و غلبہ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے۔
Ayahs 5:58–61

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانیوالے کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سُؤر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانا ہے۔ اور وہ سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں۔ اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا انکو خوب جانتا ہے

آیت 58 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام۔۔۔ جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا۔۔۔ کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان ان سے دوستی کی بجائے دشمنی رکھیں۔ یہ لوگ دین اسلام میں ن کتہ چینیاں کرتے ہیں، اسلام کے ساتھ استہزا کرتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور دین کی تحقیر کرتے ہیں خصوصاً نماز کے بارے میں جو کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا شعار اور سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب مسلمان نماز کے لئے اذان دیتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سبب ان کی کم عقلی اور جہالت ہے۔ ورنہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ نماز کی افادیت کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے اور انہیں معلوم ہوجاتا کہ نماز ہی ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے نفوس انسانی متصف ہوتے ہیں۔ پس اے مومنو ! جب تمہیں کفار کا حال معلوم ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تمہارے اور تمہارے دین کے ساتھ کتنی شدید عداوت رکھتے ہیں جو کوئی اس صورتحال کے بعد بھی انہیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام اس کے نزدیک بہت سستی چیز ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس میں طعن وتشنیع کرتا ہے یا اسے کفر اور ضلالت قرار دیتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے اندر مروت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ آپ اپنے لئے دین قیم کا کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دین حق ہے اور اس کے سوا تمام ادیان باطل ہیں جب کہ حال یہ ہے کہ آپ ان جاہل اور احمق لوگوں کی سوالات پر راضی ہیں جو آپ کے دین کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جو ادنیٰ سا بھی فہم رکھتا ہے۔