Ayah 5:10آیت 10
(وعد اللہ) ” اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں (وعملوا الصلحت) ” اور نہوں نے نیک عمل کئے “ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کردینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزآء بما کانوا یعملون) (السجدہ :18/32) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے ان کے اعمال کے صلہ کے طور پر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی۔ “ (والذین کفروا وکذبوا بایتنآ ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ “ یعنی انہوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کردیا تھا (اولئک اصحب الجحیم) ” وہ جہنمی ہیں۔ “ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔
Ayahs 5:11–12آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انہیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں، انہی پر لوٹا دیا۔ اس لئے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کی خلاف اس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی مدد ہے، اس لئے ان کو چاہیے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، اس کی عبادت اور اس کا ذکر کریں۔ کافروں، منافقوں اور باغیوں میں سے جن لوگوں نے بھی اہل ایمان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا، یہ آیت کریمہ ان سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے لئے اور دیگر تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں، اس لئے فرمایا : (وعلی اللہ فلیتوکل المومنون) ” اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ “ یعنی وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور اعتماد کریں، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنے محبوب امور کے حصول میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور بندے کے ایمان کے مطابق ہی، اس کا اللہ پر توکل ہوتا ہے اور یہ دل کے ان واجبات میں سے ہے جن پر اتفاق ہے۔
Ayah 5:13آیت 13
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا پھر اس میثاق اور عہد کا صوف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انہوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل) ” اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔ “ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا (وبعثنا منھم اثنی عشر نقیباً ) ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کردیئے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انہیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انہیں آمادہ کرتے تھے۔ (وقال اللہ) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں) سے فرمایا جنہوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا (انی معکم) ” میں تمہارے ساتھ ہوں “ یعنی میری اعانت و نصرت تمہارے ساتھ ہے، کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ (لئن اقمتم الصلوۃ) ” اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔ “ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے (واتیتم الزکوۃ) ” اور زکوۃ دیتے رہو گے۔ “ یعنی مستحق لوگوں کو زکوۃ دو گے (وامنتم برسلی) ” اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔ “ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں (وعزر تموھم) ” اور ان کی مدد کرو گے۔ “ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے (واقرضتم اللہ قرضا حسنا) ” اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے “ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔
جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کرلو گے (لاکفرن عنکم سیاتکم ولادخلنکم جنت تجری من تحتھا الانھر) ” تو میں تم سے تمہاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔
(فمن کفر بعد ذلک) ” پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔ “ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے، کفر کے رویہ اختیار کرتا ہے (فقد ضل سوآء السبیل) ” تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ “ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہوگا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ” کاش ہمیں بھی معلوم ہوتا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ کیا انہوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا ؟ “ پس اللہ نے واضح کردیا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے گئے اس عہد کو توڑ دیا۔ چناچہ فرمایا : (فبما نقضھم میثاقھم) ” تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔ “ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں۔
(1) (لعنھم) ” ہم نے ان پر لعنت کی۔ “ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کردیا، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لئے اور انہوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
(2) (وجعلنا قولبھم قسیۃ) ” اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ “ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنادیا۔ پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آسکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ کوئی شوق انہیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لئے بےقرار کرسکتے ہیں۔ کوئی شوق انہیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لئے بےقرار کرسکتا ہے۔ بندے کے لئے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہوجائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں۔
(3) (یحرفون الکلم عن مواضعہ) ” یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامتا سے بدل دیتے ہیں۔ “ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چناچہ انہوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنادیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔
(4) (ونسوا حظاً مما ذکروا بہ) ” اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ “ انہیں تو رات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰ پر نازل کی گئی تھیں، مگر انہوں نے ان کو فراموش کردیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انہوں نے جناب موسیٰ کے علم کو فراموش کردیا بنا بریں علم ان سے ضائع ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہوگیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔
اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے بعض ان امور کو جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے، یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انہوں نے فراموش کیا۔
(5) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا : (ولا تزال تطلع علی خآئنۃ منھم) ” اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں۔
پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی، وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلبگار ہیں۔
جس امر کی انہیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو (حظ) ” حصہ، نصیبہ “ کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔ “ اور خط نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما یلقھآ الا الذین صبروا وما یلقھآ الا ذوحظ عظیم) (حم السجدہ :35/31) ” یہ بات صرف ان لوگوں کو صنیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الا قلیلاً منھم) ” تھوڑے آدمیوں کے سوا۔ “ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنہوں نی اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی (فاعف عنھم واصفخ) ” پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے در گزر فرمائیں۔ “ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کردینے کے قابل ہوا اسے معاف کردیا کریں اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے (ان اللہ یحب المحسنین) ” بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ “ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انہیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔
Ayahs 5:14–15آیت 14
یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا (ومن الذین قالوا انا نصریٰ ) ” اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں۔ “ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ کے مددگار ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا۔ (فنسوا حظاً مما ذکروا بہ) ” پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی “ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہوگئے (فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضآء الی یوم القیمۃ) ” پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک “ یعنی ہم نے انہیں ایک دوسرے پر مسلط کردیا، ان کے درمیان شر و فساد اور کینہ نے جنم لیا جو قیامت تک کے لئے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عدات وکا باعث ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ نصاریٰ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بغض، مخالفت اور عداوت رکھتے چلے آرہے ہیں (وسوف ینبءھم اللہ بما کانوا یصنعون) ” اور عنقریب اللہ ان کو خبر دے گا، جو کچھ وہ کرتے تھے “ اور انہیں ان کی کارستانیوں پر عذاب دے گا۔
Ayahs 5:16–17آیت 16
جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا اور وہ یہ کہ آپ ﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتی کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہشمند کے لئے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، تو ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کردینا جو وہ چھپاتے تھے، وراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپ ﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً ان کی کتابوں میں جناب محمد ﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے) رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا۔
(ویعفوا عن کثیر) ” اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے ‘ یعنی آپ ﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا (قد جآء کم من اللہ نور) ” تحقیق آگیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور “ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیاروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ (وکتب مبین) ” اور روشن کتاب۔ “ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کردیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ اس کے اسما وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لئے اختیار کرتا ہے۔ (یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم) ” اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضا مندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے رساتوں کی “ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر سا کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔
(ویخرجھم من الظلمت) ” اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے “ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے (الی النور) ” روشنی کی طرف “ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ (ویھدیھم الی صراط مستقیم) ” اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ “
Ayah 5:18آیت 18
اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنا بریں یہ اعتضاد باطل ان میں در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق ای کنظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الووہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیرپیدا ہوئے۔ کیا انہوں آدم اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انہوں نے مسیح کے بارے میں کیا ؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعویٰ بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چناچہ فرمایا : (قل فمن یملک من اللہ شیئاً ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم وا مہ ومن فی الارض جمعیاً ) ” فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آپے کچھ بھی اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو “ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لئے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے (وللہ ملک السموت والارض وما بینھما) ” اور زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے “ پس وہ ان میں تکوینی، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندہ محتاج کو لائق ہے کہ وہ الہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بےنیاز ہو ؟۔۔۔ یہ سب سے بڑا محال ہے۔
عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں (یخلق ما یشآء) ” وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ “ چاہے تو عورت اور مرد کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر عورت کے، صرف مرد سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر مرد کے عورت سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰ کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو مرد اور عورت دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدئاش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو لاگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں، بنا بریں فرمایا (واللہ علی کل شی قدیر) ” اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ “
یہود و نصاریٰ کے دعادی میں سے، جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں، ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں (نحن ابنوآء اللہ وآحبآوہ) ” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں “ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی اہنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے، کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل وبرہان سے محروم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (قل فلم یعذبکم بذنوبکم) ” کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمہیں تمہارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا ؟ “ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمہیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔
(بل انتم بشرممن خلق) ” بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے “ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں (یغفر لمن یشآء و یعذب من یشآء) ” وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔ “ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ (وللہ ملک السموت والارض وما بینھما والیہ المصیر) ” اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ “ یعنی کس چیز نے تمہارے لئے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جب کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ ملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنہیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 5:19اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب عطا کر کے ان پر احسان فرمایا اور اس سبب سے انہیں دعوت دی کہ وہ اس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجا (علی فترۃ من الرسل) ” رسولوں کے مبعوث ہونے کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد “ اور ان کی شدید احتیاج کی بنا پر یہ چیز اس بات کی داعی ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لایا جائے اور ان کے سامنے تمام مطالب الہیہ اور احکام شرعیہ بیان کئے جائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح ان پر حجت پوری کردی تاکہ وہ یہ نہ کہیں (ما جآء نا من بشیر ولا نذیر) ” کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ کوئی ڈرانے والا “ (فقد جآء کم بشیر و نذیر) ” پس تحقیق تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا “ جو دنیوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دیتا ہے اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہے جو اس ثواب کے حصول کے موجب ہیں نیز ان اعمال کو بجا لانے والوں کی صفات بیان کرتا ہے اور دنیوی اور اخروی عذاب اور ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اس عذاب کا باعث بنتے ہیں اور ان اعمال کا ارتکاب کرنے والوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہے۔
(واللہ علی کل شیء قدیرٌ) ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ تمام اشیاء نے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے اطاعت سے سرتسلیم خم کر رکھا ہے کسی کو اس کی نافرمانی کی مجال نہیں۔ یہ اس کی قدرت کا ملہ ہے کہ کہ اس نے رسول مبعوث فرمائے، کتابیں نازل کیں جو ان رسولوں کی اطاعت کرتا ہے، اسے ثواب عطا کرتا ہے اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔
Ayahs 5:20–26آیت 20
اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لئے نشاط پیدا کرتا ہے (اذ جعل فیکم انبیآء) ” جب پیدا کئے اس نے تمہارے اندر نبی “ جو تمہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمہیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمہیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمہیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے (وجعلکم ملوکاً ) ” اور تم کو بادشاہ بنایا “ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمہارے لئے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہوگیا۔
(واتکم) ” اور تم کو عنایت کیا “ یعنی تمہیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں (مالم یوت احدا من العلمین) ” جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں “ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات، جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لئے آگے بڑھنے کی موجب ہیں۔ بنا بریں فرمایا : (یقوم ادخلوا الارض المقدسۃ) ” اے میری قوم ! ارض مقدسہ میں داخل ہوجاؤ “ یعنی سر زمین پاک میں (التی کتب اللہ لکم) ” جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے “ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقیناان کے دل اس خبر سے مطمئن ہوجاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے۔ (ولا ترتد وا علی ادبارکم) ” اور نہ لوٹو اپنی ٹھوں کی طرف “ یعنی واپس نہ لوٹو (فتنقلبوا خسرین) ” پھر جا پڑو گے نقصان میں “ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کرسکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کرسکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
انہوں نے (اس کے جواب میں) موسیٰ کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے (یموسی ان فیھا قوماً جبار ین) ” اے موسیٰ ! اس میں ایک زبردست قوم ہے “ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں یعنی اس لئے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں (آیت) ” اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں، تو ہم اس میں داخل ہوجائیں گے “ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے، کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں، نیز انہیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح نصرت سے نوازا جائے گا، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح ون صرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
(قال رجلن من الذین یخافون) ” دو آدمیوں نے کہا، جو ڈرنے والوں میں سے تھے “ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انہوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لئے کہا (انعم اللہ علیھما) ” جن پر اللہ نے انعام کیا تھا “ جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انہیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی۔ (ادخلوا علیھم الباب فاذا دخلتموہ فانکم غلبون) ” تم دروازے میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤ گے تو تم غالب ہو گے “ یعنی تمہارے اور تمہاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کرلو اور شہر کے دروازے میں ھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چناچہ فرمایا : (وعلی اللہ فتوکلوآ ان کنتم مؤمنین) ” اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو “ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ توکل بندہ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انہوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی : (آیت) ” اے موسیٰ ! جب تک وہ اس میں ہیں، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں “ اس مشکل صورتحال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہوجاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا جبکہ آپ ﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا، تو صحابہ نے عرض کی ” یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں لیکر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی : (فاذھب انت و ربک فقاتلا انا ھھنا قعدون) ” جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔ “ (1)
جب موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : (قال رب انی لا املک الا نفسی واخی) ” اے میرے رب ! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے “ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کرسکتا (فافرق بیننا و بین القوم الفسقین) ” پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں “ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں (قال) اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا : (فانھا محرمہ علیھم اربعین سنۃ یتبھون فی الارض) ” وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ہے، اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ “ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کردیا گیا، نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان گناہوں کا کفارہ بنادیا اور ان سے وہ سزا دور کردی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہوجاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو، یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لئے مؤخر کردیا جاتا ہے۔
چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مرچکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے، بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہوگئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انہیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا
1۔ سیرت ابن ہشام، (228/2)
لے پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بےحد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر بسا اوقات ان کے لئے ان کا دل بہت نرم پڑجاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کردیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کردیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا : (فلا تاس علی القوم الفسقین) ” پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔ “ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقیناً انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انہیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
Ayahs 5:27–31آیت 27
یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں “ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔
یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ (اذ قربا قربانا) ” جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔ “ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی (فتقبل من احدھما ولم یتقبل من الاخر) ” پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نامقبول “ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔
(قال) وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا : (لاقتلنک) ” میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔ “ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا : (انما یتقبل اللہ من المتقین) ” اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے “ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ” متقین “ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں ہو۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا، نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں، اس لئے اس نے کہا : (لائن بسطت الی یدک لتقتلنی ما انا بباسط یدی الیک لاقتلک) ” اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے، تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماں “ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ (انی اخاف اللہ رب العلمین) ” میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں “ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کرسکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔
اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لئے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے (انی ارید ان تبوآ) ” میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔ “ (باثمی واثمک) ” میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ “ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مججھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے (فتکون من اصحب النار، وذلک جزوا الظلمین “ پھر ہوجائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔ “
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹانہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتی کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں (فقتلہ فاصبح من الخسرین) ” پس اس نے اسے قتل کردیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا “ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہوگیا اور اس نے ہر قاتل کے لئے ایک سنت رائج کردی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے۔ “ (1) بنا بریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ” دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔ (2)
جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے، کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا (فبعث اللہ غراباً یبحث فی الارض) ” تو اللہ نے ایک کو ابھیجا جو زمین کریدتا تھا “ یعنی وہ زمین کھودتا تھا، تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے (لیریہ) ” کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔ “ کیونکہ میت کا بدن بھی ستر ہوتا ہے۔ (فاصبح من الندمین) ” اپس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگیا “ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے
Ayah 5:32آیت 32
-1 صحیح مسلم، الزکاۃ باب الحث علی الصدقۃ۔۔۔ الخ، حدیث :1018
-2 جامع الترمذی، العلم، باب ماجاء ان الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث 2683
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (من اجل ذلک ) ” یعنی آدم کے بیٹوں کے اس واقعہ کے بعد جس کا ہم نے ذکر کیا ہے جس میں ان میں سے ایک نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور اپنے مابعد قتل کا طریقہ جاری کردیا اور یہ کہ قتل کا انجام دنیا و آخرت میں انتہائی مضر اور خسارے والا ہے (کتبنا علی بنی اسرآئیل ) ” ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا “ یعنی ان لوگوں پر جنہیں کتب سماویہ سے نوازا گیا۔ (انہ من قتل نفساً بغیر نفس او فساد فی الارض) ” جس نے کسی جان کو بغیر جان کے یا بغیر فساد کرنے کے قتل کردیا “ یعنی ناحق (فکمانما قتل الناس جمعیاً ” گویا کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ “ کیونکہ اس کے پاس کوئی داعیہ نہیں جو اسے تبین پر آمادہ کرتا اور قتل ناحق کے اقدام سے روکتا۔ پس جب اس نے اس جان کو قتل کرنے کی جسارت کی جو قتل ہونے کی مستحق نہ تھی، تب معلوم ہوا کہ اس مقتول ناحق اور دیگر مقتولین کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ یہ تو نفس امارہ کے داعیے کے مطابق ہے۔ پس اس کا اس نفس کو قتل کرنے کی جسارت کرنا تمام نفوس انسانی کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جس نے کسی نفس انسانی کو زندگی بخشی، یعنی نفس امارہ کے داعیے کے باوجود کسی نفس کو باقی رکھا اور اسے قتل نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے خوف نے اسے قتل ناحق سے روک دیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ کیونکہ اس کے ہمراہ جو خوف الٰہی ہے، وہ اسے ایسے نفس کے قتل سے روکتا ہے جو قتل کا مستحق نہیں۔
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دو امور کی بنا پر قتل جائز ہے۔
(2) اگر کسی نے جان بوجھ کر ناحق قتل کیا ہو اگر قاتل مکلف اور بدلہ لئے جانے کے قابل ہو، وہ مقتول کا باپ نہ ہو، تو اسے (قصاص میں) قتل کرنا جائز ہے۔
(2) وہ لوگ جو لوگوں کے دین، جان اور اموال کو ہلاک کر کے زمین میں فساد برپا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں، مثلاً مرتدین، اہل کفر، محاربین اور بددعات کی طرف دعوت دینے والے وہ لوگ جن کو قتل کئے بغیر ان کے شر و فساد کا سدباب نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح وہ راہزن وغیرہ ہیں جو لوگوں کا مال لوٹنے یا ان کو قتل کرنے کے لئے شاہراہوں میں لوگوں پر حملہ کردیتے ہیں۔
فرمایا : (ولقد جآء تھم رسلنا بالبینت) ” ان کے پاس ہمارے رسول دلائل لے کر آئے “ ان دلائل نے کسی کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہنے دی (ثم ان کثیراً منھم) ” پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ۔ “ یعنی لوگوں میں سے (بعد ذلک) ” اس کے بعد “ یعنی حجت کی کاٹ کرنے والے اس بیان کے بعد، جو کہ زمین میں راست روی اور استقامت کا موجب ہوتا ہے (المسرفون) ” حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔ “ گناہوں کے اعمال اور انبیاء و رسل کی مخالفت میں جو کہ واضح دلائل اور براہین کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، حد سے بڑھنے والے ہیں۔
Ayahs 5:33–35آیت 33
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں۔
مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کردیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہوجاتے ہیں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے، یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہوجائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں یعنی دائیاں ہاتھ اور بائیاں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انہوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلا وطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیار کیا ہے۔
(ذلک) یہ سزا (لھم خزی فی الدنیا) ” ان کے لئے دنیا میں فضیحت اور عار ہے “ (ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم) ” اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ “ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے، نیز یہ زمین کے اندر اصالح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔
(الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم) ” ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو آجائیں، توبہ کرلی۔ “ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کرلیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ (فاعلموا ان اللہ غفور رحیم) ” تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے “ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہوجائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلا وطنی وغیرہ سزائیں معاف ہوجائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہوجائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پالینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی تو بہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔
اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے کے مطابق تقویٰ اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی نارضی اور اس کے غضب سے بچیں اور وہ اس طرح کہ بندہ مومن مقدور بھر ان امور سے اجتناب کرے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں قلب، زبان اور جوارح کے ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچے اور ان گناہوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے، تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات حاصل کرسکے۔
(وابتغوآ الیہ الوسیلۃ) ” اور ڈھونڈو اس کی طرف وسیلہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب، اس کے پاس مرتبہ اور اس کی محبت طلب کرو۔ یہ چیز فرائض قلبی مثلاً محبت الٰہی، اس کے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت اور اس پر توکل، فرائض بدنی مثلاً زکوۃ اور حج وغیرہ اور قلب و بدن سے مرکب فرائض مثلاً نماز، ذکر اور تلاوت اور لوگوں سے اپنے اخلاق، مال، علم، جاہ اور بدن کے ذریے سے بھلائی سے پیش آنے اور ان کی خیر خواہی کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ پس یہ تمام اعمال تقرب الٰہی کا ذریعہ ہیں۔ بندہ اعمال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگتا ہے تو اللہ اس کے کان بن جاتا ہے جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ (1)
پھر اللہ کے قریب کرنے والی عبادات میں سے جہاد فی سبیل اللہ کا خصوصی طور پر بیان کیا اور یہ جہاد نام ہے، کافروں کے ساتھ لڑائی میں اپنی پوری طاقت صرف کرنے کا، مال، جان، رائے، زبان کے ذریعے سے اور اللہ کے دین کی مدد میں اپنی مقدور بھر سعی و کوشش کرنے کا اس لئے کہ عبادت کی یہ قسم تمام طاعات میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور قربات میں سب سے افضل ہے، نیز یہ کہ جو اس کی ادائیگی کا اہتمام کرلیتا ہے، وہ دیگر فرائض و عبادات بہ طریق اولیٰ بجا لاتا ہے۔ (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ۔ “ اگر تم نے گناہوں کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کیا، نیکیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ تلاش کرلیا اور اس کی رضا کی خاطر اس کے راستے میں جہاد کیا، تو امید کی جاسکتی ہے کہ تم فالح پالو گے۔ فلاح اپنے ہر مطلوب و مرغوب کے حصول میں کامیابی اور مرہوب سے نجات کا نام ہے۔ پس اس کی حقیقت ابدی سعادت اور دائمی نعمت ہے۔
Ayahs 5:36–39آیت 36
1۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا محبوب انسان اپنے تمام اعضاء کو اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ پسند کرتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا جزء بن جاتا یا اللہ اس میں حلول کرجاتا ہے جیسا کہ بعض مشرکین میں اس قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں۔ (ص۔ ی)
قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہوگا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا، اور اتنا ہی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو درد ناک دائمی عذاب کے سوا کچھ باقین ہیں بچا۔ اس عذاب سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے بلکہ وہ اس عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔