Ayahs 42:30–31آیت 30
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں، جو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے، سا سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ “
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو مؤخر کرنا کسی بھول کی بنا پر ہے نہ عجز کی بنا پر (وما انتم بمعجزین) فی الارض) ” اور تم زمین میں (اسے عاجز) نہیں کرسکتے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کو تم پر جو قدرت حاصل ہے اس بارے میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں پاؤ گے بلکہ تم زمین کے اندر بےبس اور عاجز ہو۔ اللہ تم پر جو حکم نافذ کرتا ہے تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (وما لکم من دون اللہ من ولی) ” اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں۔ “ جو تمہاری سرپرستی کرے اور تمہیں فوائد عطا کرے (ولا نصیر) ” اور نہ مددگار۔ “ جو تم سے ضرر رساں چیزوں کو دو ر کرے۔
Ayahs 42:32–35آیت 32
یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل (الجوار فی البحر) ” سمندر میں جہاز “ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر (کالا غلام) بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کردیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انہیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لئے ایسے اسباب مہیا کئے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : (ان یشایسکن الریح) ” اگر وہ (اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔ “ ا ہیو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے (فیظللن ) ” اور وہ رہ جائیں۔ “ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں (رواکد) سطح سمندر پر ٹھہر جائیں آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لئے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے، یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کردے مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔
(آیت) ” بیشک صبر شکر کرنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔ ‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے الا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں۔ وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے۔ (شکور) نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابقصرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا ہے یا ان سے عناد رکھنے والا ہے اور وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔ پھر فرمایا : (ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا) ” اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ “ کہ اپنے باطل نظریہ کے ذریعے انہیں جھٹلاتے ہیں۔ (مالھم من محیص) اس عذاب سے انہیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہوگا۔
Ayahs 42:36–40آیت 36
اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیار کرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، لہٰذا فرمایا : فما اوتیتم من شیء) ” پس جو کہ تمہیں دیا گیا ہے۔ “ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ (فمتاع الحیوۃ الدنیا) ” پس یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔ “ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے (وما عندا اللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے۔ “ بےپایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ (خیر) لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیاوی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ (وابقی) ” اور زیادہ پائیدار ہے۔ “ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا، فرمایا : (للذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون) یعنی جنہوں نے ایمان صحیح جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کرلیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے، لہٰذا ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو غیر مکمل ہے۔ جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسا کرنے کا نام توکل ہے۔
(آیت) ” اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ “ کبائر اور فواحش، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لئے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے مثلاً : زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لئے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا۔ یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے اور رہا ان کا انفرادی وجود تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔
(واذا ما غضبواھم یغفرون) ” اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔ “ یعنی انہوں نے مکار اخلاق اور محسان عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتی کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انہیں ناراض کردیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفو و درگزر پر خود ان یک ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انہیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ “
(والذین استجابوا لربھم) ” اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔ “ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کا مطمح نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض وغایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا، اس لئے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔
اس لئے فرمایا : (واقاموا الصلوۃ) یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ (ومما رزقنھم ینفقون) ” اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی نفقات واجبہ، مثلاً : زکوۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ مثلاً ، عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔
(وامرھم) ان کے دینی اور دنیاوی معاملات (شوری بینھم) ” باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔ “ یعنی متر کہ امور میں ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کی کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غور و فکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس کے بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہوجاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کرلیتے ہیں جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لئے عمال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شامل ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہوجائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔ (والذین اذا اصابھم البغی) ” اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو۔ “ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادہ کی جاتی ہے۔ (ھم ینتصرون) ” وہ بدلہ لیتے ہیں۔ “ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے رساتوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت اسعتمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالا خصائل کے اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔
Ayahs 42:41–45آیت 41
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مرتاب بیان کئے ہیں، عقوبات کے تین مرتاب ہیں : عدل، فضل اور ظلم
(1) کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اس جیسی برئای، متربہ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اور اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔
(2) برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبہ فضل ہے، اس لئے فرمایا : (فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ) ” پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عضو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عضو پا مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، کفو پر آمادہ کرتا ہے، نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے تو جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے معاف کردے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔
(3) رہا مرتبہ ظلم تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے : (ان لایحب الظلمین) ” یقیناً وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظمل ہے۔ (ولمن انتصر بعد ظلمہ) جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے (فاولئک ما علیھم من سبیل) تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (والذین اذا اصابھم البغی) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ولمن انتصر بعد ظلمہ) دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد لینا ضروری ہے۔
رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا جبکہ ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا ہے۔
(انما السبیل) یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انہی لوگوں پر قائم ہوگی (علی الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر الحق) ” جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔ “ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے۔ (اولئک لھم عذاب الیم) یعنی انکے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہوگا۔ (ولمن صبر) ” اور جو صبرے کرے۔ “ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے (وغفر) یعنی ان سے جو جرم ہوا، مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے (ان ذلک لمن عزم الامور) یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ ٰ نے ترغیب دی، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انہی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیقف بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔
نفس کے لئے قول یا فعل سے انتقام نہلینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا اس کو بخشش دینا اور اس کے مقابلے میں حس نسلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پر مشقت کام ہے مگر یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لئے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرت ا ہے۔
Ayahs 42:46–47آیت 46
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں تنہا ہے۔ (ومن یضلل اللہ) جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے (فمالہ من ولی م بعدہ) ” تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ “ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہنمائی کرے۔ (وتری الظلمین لما راوا العذاب) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کر تتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ (یقولون ھل الی مرد من سبیل) اور کہیں گے : کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے ؟ ان کی یہ درخواست ایک امر محال کے لئے ہوگی جس کا پورا ہونا ممکن نہیں۔ (وترھم یعرضون علیھا) ” اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوزخ (کی آپ) کے سامنے لائے جائیں گے۔ “ (خشعین من الذل) یعنی آپ ان کے اجسام کو اس ذلت کی وجہ سے عاجز اور بےبس دیکھیں گے جو ان کے دلوں میں جاگزیں ہے (ینظرون من طرف خفی) یعنی وہ جہنم کو اس کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے چوری چوری ترچھی نظر سے دیکھیں گے۔ (وقال الذین امنوا) جب مخلوق کا انجام ظاہر ہوجائے گا اور اہل صدق دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوجائیں گے تو اہل ایمان کہیں گے : (ان الخسرین) حقیقت میں خسارے والے وہ لوگ ہیں (الذین خسروآ انفسھم واھیلھم یوم القیمۃ ” جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ “ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو بےپایاں ثواب سے محروم کرلیا اور درد ناک عذاب کو حاصل کیا۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور وہ ان کے ساتھ کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔
(الا ان الظلمین) ” آگاہ رہو ! بیشک ظالم ہی۔ “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (فی عذاب مقیم) ” ہمیشگی کے عذاب میں رہیں گے۔ “ یعنی وہ درد ناک عذاب کے عین وسط میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکل سکیں گے نہ ان سے عذاب منقطع ہوگا اور وہ اس عذاب کے اندر سخت مایوس ہوں گے۔ (وما کان لھم من اولیآء ینصرونھم من دون اللہ) ” اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں۔ “ جیسا کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو امیدیں دلایا کرتے تھے، پس قیامت کے روز ان پر اور دوسرے لوگوں پر عیاں ہوجائے گا کہ وہ اسباب جن کے ساتھ انہوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، منقطع ہوگئے اور جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا تو ہوہ ان سے ہٹایا نہ جاسکے گا۔ (ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل) ” اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کے لئے کوئی راستہ نہیں۔ “ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حاصل کرسکے۔ یہ لوگ اس وقت گمراہ ہوئے جب یہ سمجھتے تھے کہ ان خود ساختہ شریکوں میں نفع پہنچانے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت ہے، تب ان کی گمراہی واضح ہوجائے گی۔
Ayah 42:48آیت 48
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں، وہ جس چیز کا حکم دے اس کی تعمیل کریں اور جس چیز سے روکے اس سے اجتناب کریں اس کو ٹالنے کی بجائے اس پر جلدی سے عمل کریں قیامت کے دن کے آنے سے پہلے کہ جب وہ آئے گا تو اس کو روکا جاسکے گا نہ کسی رہ جانے والی چیز کا تدارک ہوسکے گا۔ اس دن بندے کے پاس کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی جہاں وہ پناہ لے کر اپنے رب سے بچ سکے اور اس سے بھاگ سکے بلکہ فرشتے تمام خلائق کو پیچھے سے گھیرے ہوئے ہوں گے اور انہیں پکار کر کہا جائے گا : (آیت) ” اے جن و انس کے گروہ ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جانے کی طاقت رکھتے ہو تو پھر نکل جاؤ، تم نکل نہیں سکتے مگر طاقت کے ساتھ۔ “ اس روز بندہ اپنے کئے ہوئے جرائم کا انکار نہیں کرسکے گا بلکہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس کے اعضا اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
اس آیت اور اس نوع کی دیگر آیات کریمہ میں جھوٹی امیدوں کی مذمت کی گئی ہے اور ہر وہ عمل جو بندے کو پیش آسکتا ہے، فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ تاخیر میں بہت سی آفتیں ہیں۔ (فان اعرضوا) بیان امل کے بعد اگر یہ لوگ اس چیز سے منہ موڑیں جو آپ نے پیش کی (فما ارسلنک علیھم حفیظاً ) ” تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ “ کہ آپ ان کے اعمال کی نگرانی کریں اور آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ (ان علیک الا البلغ) ” آپ کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے۔ “ جب آپ نے اپنی ذمہ داری کو پورا کردیا تو اللہ تعالیٰ پر آپ کا اجرواجب ٹھہرا، خواہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا روگردانی کریں، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے جس نے ان کے چھوٹے بڑے اور ظاہری، باطنی اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی حالت بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، یعنی اسے جسمانی صحت، رزق کی فراوانی اور عزت و جاہ عطا کرتا ہے تو (فرح بھا) ” وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ “ یعنی وہ اس طرح خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی انہی چیزوں پر مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس کے اس رویئے سے ان چیزوں پر اس کی طمانیت اور منعم حقیقی سے روگردانی لازم آتی ہے۔ (وان تصبھم سیءۃ) ” اگر انہیں کوئی برائی پہنچتی ہے۔ “ یعنی کوئی مرض یا فقر وغیرہ لاحق ہوتا ہے (بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفور) ” ان اعمال کے سبب جوا نہوں نے کئے تو انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔ “ یعنی اس کی فطرت میں سابقہ نعمت کی ناشکری اور اسے جو تکلیف پہنچتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ سے ناراضی رچی بسی ہوئی ہے۔
Ayahs 42:49–50آیت 49
اس آیت کریمہ میں اللہ، تعالیٰ کے لامحدود اقتدار، اپنی مخلوق اور اپنی ملکیت میں اپنی مشیت کے مطابق تصرف کے نفاذ اور تمام امور کی تدبیر کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عمومی تدبیر اسباب سے پیدا شدہ ان اشیاء کو بھی شامل ہے جنہیں بندے اختیار کرتے ہیں، پس نکاح اولاد کے لئے ایک سبب ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں جو چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے، مخلوق میں کسی کو بیٹیاں عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے۔ کسی کو بانجھ رکھتا اور ان کے ہاں اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ (انہ علیم) بیشک وہ ہر چیز کا علم اور (قدیر) ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، وہ اپنے علم اور مہارت کے ذریعے سے تمام اشیاء میں اور اپنی قدرت کے ذریعے سے تمام مخلوقات میں تصرف کرتا ہے۔
Ayahs 42:51–53آیت 51
چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے : (لو لایکلمنا اللہ اوتاتینا ایۃ) (البقرۃ 118/2) ” ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ “ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں، یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔
(1) یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر روحی کا القا کرتا ہے۔
(2) (او) یا اس کے ساتھ بالمشافہ کلام کرتا ہے مگر (من ورآی حجاب) پردے کے پیچھے سے جیسا کہ حضرت موسیٰ بن عمران کو شرف کلام حاصل ہوا۔
(3) (او) یا اللہ تعالیٰ فرشتے کے توسط سے کلام کرتا ہے پس (یرسل رسولا) ” وہ کسی پیغام رساں کو بھیجتا ہے۔ ” مثلاً : حضرت جبرئیل کو یا فرشتوں میں سے کسی دوسرے فرشتے کو (فیوحی باذنہ) اور وہ فرشتہ مجرد اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اپنے رب کے حکم سے وحی القا کرتا ہے۔ (انہ) ” بیشک وہ “ اللہ تعالیٰ اپنے اوصاف میں بہت بلند اور افعال میں بہت عظیم ہے، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کی مطیع ہے۔ (حکیم) وہ تمام مخلوقات اور شرائع میں سے ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھنے میں حکمت والا ہے۔
(وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی بھیجی تو (اوحینا الیک روحاً من امرنا) ” ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح بھیجی۔ “ اور وہ روح یہ قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو روح کے نام سے موسوم کیا کیونکہ روح سے جسم زندہ ہوتا ہے اور قرآن سے قلب و روح زندہ ہوتے ہیں۔ قرآن سے دین و دنیا کے مصالح کو زندگی ملتی ہے کیونکہ اس میں خیر کثیر اور بےپایاں علم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ اور اپنے اہل ایمان بندوں پر ان کی طرف سے کسی سبب کے بغیر محض احسان ہے۔
بنا بریں فرمایا : (ماکن تدری) ” آپ نہیں جانتے تھے۔ “ یعنی آپ پر قرآن نازل ہونے سے پہلے (ما الکتب ولا ایمان) ” کتاب کو نہ ایمان کو۔ “ یعنی آپ کے پاس کتب سابقہ کی خبروں کا علم تھا نہ شرائع الہیہ پر ایمان و عمل کا علم بلکہ آپ تو ان پڑھ تھے، لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے، لہٰذا آپ کے پاس یہ کتاب آئی۔ (جعلنہ نوراً نھدی بہ من نشآء من عبادنا) ” ہم نے اسے نور اور ہدایت بنایا ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ “ جس سے ہمارے بندے کفر و بدعت کی تاریکیوں اور ہلاک کردینے والی خواہشات میں، روشنی حاصل کرتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے سے حقائق کو پہچانتے ہیں اور اس کتاب سے راہنمائی حاصل کر کے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔
(وانک لتھدی الی صراط مستقیم) یعنی آپ ان کے سامنے صراط متقیم واضح کرتے ہیں، صراط مستقیم کی ترغیب دیتے اور اس کے متضاد راستوں پر چلنے سے روکتے اور ان سے ڈراتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض) یعنی یہ وہ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا اور انہیں آگاہ کیا کہ یہ راستہ اس کے پاس اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ (الا الی اللہ تصیر الامور) یعنی تمام اچھے برے معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوگا تو اچھی جزا ہوگی او اگر برا عمل ہوگا تو بری جزا ہوگی۔