Ayahs 41:39–41آیت نمبر (39)
اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اناسن کو اپنے دشمن اناسن کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ اناسن شیطان کو جو اس کا دشمن ہے کیسے دور ہٹائے ؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔ یعنی آپ کسی بھی وقت شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں یعنی شیطان کا وسوسہ اس کا شرکو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا یا اس کے کسی حکم کی اطایت کا خدشہ محسوس کریں ” تو اللہ کی پناہ مانگیے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے وہ آپ کے حال کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کی ضرورت مند ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کے نشانیوں میں سے جو اس کے کمال قدرت نفوز مشیت لامحدودقوت اور بندوں پر بےپایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس حقیقت پر دلالت کرنی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں دن اور رات ہیں۔ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے اور سورج اور چاند ہیں۔ جن کے بغیر بندوں کی معاش ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بیشمار مصالح وابستہ ہیں۔
تم سورج کو سجدہ کرونہ چاند کو “ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں۔ اور اللہ کو سجدہ کر جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ “ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو ، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائدان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں جو نہایت بابرکت اور بلدن ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔ اگر وہ تکبر و ستکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات وبراہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اللہ ان سے بےنیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اس لیے فرمایا پس جو تیرے رب کے پاس ہیں یعنی مقرب فرشتے “ وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قومی ہوتا ہے اور اس کی نشانیوں میں سے جو اس کے کمال قدرت ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفروہونے پر دلالت کرتی ہیں ایک نشانی یہ ہے کہ بیشک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ” پس جب ہم اس پر پانی اترتے ہیں۔ “ یعنی بارش براستے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے “ یعنی کے نباتات ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ” اور ابھرنے لگتی ہے یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے بیشک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا جس نے اس کے مرجانے اور بنجر ہوجانے کے بعد اس کو زندہ کیا وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہوجانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بےبس نہیں۔
Ayah 41:42آیت نمبر (42)
اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق وصواب سے ہٹادینا۔ یا تو ان آیات الہٰی کا انکار کردینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا یا ان آیات الہیٰ کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک وتعالٰی نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہے اور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزادے گا۔ بنا بریں فرمایا :” کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا “ مثلا اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عزاب سکے محفوظ ومامون اور اس کے ثواب کا مستحق ہے ؟ اور یہ یہی طور پر معلوم ہے کہ یہی شخص بہتر ہے۔ جب باطل سے حق واضح ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والا راستہ ہلاکت کو گھاٹیوں میں پہنچانے والے راستے سے الگ ہوگیا تو فرمایا ” تم جو چاہو کرلو۔ چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کرلو جو رضائے الٰہی اور جنت کی منزل کو جاتا ہے اور چاہو تو گمراہی کے راستے کو اختیار کرلو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بدیختی کی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے ” بیشک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے اس لیے وہ تمہارے احوال و اعمال کے مطابق جزادے گا۔ جی اس کہ فرمایا : اور کہ دیجیے حق تمہارے رب کی طرف سے ہے جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے۔ پھر فرمایا :” بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ذکر (قرآن کریم) کا یعنی جو لگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں جو بندوں کو ان کے دنی دنیاوی اور اخروی مصالح کی یاددہانی کراتا ہے اور جو اس کی اتباع کرے اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے جب کہ وہ ان کے پاس آیا۔ “ یعنی افضل اور کامل ترین ستی کے ذریعے سے ان کے رب کی طرف سے نعمت کے طور پر آیا۔ اور حال یہ ہے کہ ” بیشک وہ ایک کتاب ہے جو اوصاف کمال کی جامع ہے ” زبردست “ یعنی ہر قسم کے ارادہ تحریف اور برائی سے محفوظ و مامون ہے۔ اسی لیے فرمایا ” اس پر جھوٹ کا دخل آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ “ یعنی شیاطین جن وانس میں سے کوئی شیطان ‘ چوری ‘ یا دخ اندازی یا کمی بیشی کے ارداے سے اس کے قریب نہیں آسکتا۔ یہ اپنی تزیل میں محفوظ اور اس کے الفاظ ومعانی ہر تحریف سے مامون ومصون ہیں۔ جس ہستی نے اسے نازل کیا ہے اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھا یا ہے اور فرمایا : بیشک ہم نے ” ذکر “ (یعنی قر آپ ن) کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
یعنی اس ہستی کر طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے خلق و امر میں حکمت والی ہے جو ہر چیز کو اس کے مناسب حال مقام پر رکھتی ہے قبل تعریف ہے جو اپنی صفات کمال نعوت جلال اور اپے عدل واحاسن پر قابل تعریف ہے بنا بریں اس کی کتاب تمام تر حکمت ٹھصیل مصالح و منافع اور دفع مفاسد کی تکمیل پر مشتمل ہے جن پر وہ ہستی قابل تعریف ہے۔
Ayah 41:43آیت نمبر (43)
” نہیں کہا جاتا ہے آپ سے ” رسول ! یہ اقوال جو آپ کی تکذیب کرنے والوں اور آپ سے عنادرکھنے والوں کی زبان سے صادر ہو رہے ہیں۔ مگر وہی جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا “ یعنی یہ اقوال ان اقوال کی جنس سے ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہے گئے بلکہ باساوقات انھوں نے ایک جیسی بات کہی مثلا ان گیاء ومرسلین کی تکذیب کرنے والی امتوں نے اخلاص اللہ اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت پر تعجب کا اظہار کیا اور ہر ممکن طریقے سے اس دعوت کو رد کیا۔ وہ بھی کہتے تھے تم ہماری ہی برح بشرہو۔ اسی طرح ان کا اپنے رسولوں سے معجزات کا مطالبہ کرنا جن کا دکھانا ان پر لازم نہ تھا اور اسی قسم کے دیگر الٖفاظ جو اہل تکذیب کی زبان سے صادر ہوئے۔ چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشا بہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ تمام انبیاء ومرسلین نے کفار کی ایذاراسنی اور ان کی تکذیب پر صبر کیا اس لیے آپ بھی صبر کیجئے جس طرح آپ سے قبل انبیاء ومر سلین نے صبر کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کا توبہ اور اسباب مغفرت کی طرف آنے کی دعوت دی اور انھیں اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے ڈرایا چناچہ فرمایا : ” بیشک آپ کا رب معاف کردینے والا بھی ہے “
یعنی تیرا رب عظیم مغفرت کا مالک ہے جو اس شخص کے ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے جو توبہ کر کے گناہ سے رک جاتا ہے۔ (وذو عقاب الیم) ” اور درد ناک سزا دینے والا بھی ہے۔ “ اس شخص کے لئے درد ناک عذبا ہے جو تکبر کرتے ہوئے گناہ پر اصرار کرتا ہے۔
Ayahs 41:44–45آیت 44
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اپنی کتاب رسول عربی ﷺ پر، آپ کی قوم کی زبان، عربی میں نازل کی تاکہ اس سے ان پر راہ ہدایت واضح ہوجائے۔ اس کتاب کریم کا یہ وصف زیادہ اعتنا کا موجب ہے اور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ سرتسلیم خم کر کے اسے قبول کیا جائے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عظیم کو کسی عجمی زبان میں بھیجا ہوتا تو اس کی تکذیب کرنے والے کہتے۔ (لولا فضلت ایتہ) اس کی آیات کو واضح کیوں نہ کیا گیا، اس کی تفسیر کیوں نہ بیا ن کی گئی (اعجمی و عربی) ” یہ کیا بات ہے کہ کتاب عجمی زبان میں اور مخاطب عربی ؟ “ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ محمد ﷺ عربی ہیں اور کتاب عجمی ہو ؟ یہ نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے اسی لئے اپنی کتاب سے ہر امر کی نفی کردی جس میں اہل باطل کے لئے کوئی شبہ ہوسکتا ہے اور اسے ایسے اوصاف سے موصوف فرمایا جو ان پر اطاعت کو واجب ٹھہراتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اہل ایمان جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے نوازا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بلند درجے پاتے ہیں اور دیگر لوگوں کے احوال اس کے برعکس ہوتے ہیں۔
بنا بریں فرمایا : (آیت) ” ھو للذین امنوا ھدی و شفآء) ” کہہ دیجیے کہ جو ایمان لاتے ہیں، ان کے لئے یہ ہدایت اور شفا ہے۔ “ یعنی یہ کتاب انہیں رشد و ہدایت اور راہ راست دکھاتی ہے اور انہیں معلوم نافعہ کی تعلیم دیتی ہے جس سے ہدیات کامل حاصل ہوتی ہے۔ اس کتاب عظیم میں ان کے جسمانی اور روحانی امراض کی شفا ہے کیونکہ کتاب، برے اخلاق اور برے اعمال پر ان کی زجر و توبیخ کرتی ہے اور انہیں ایسی خالص توبہ پر آمادہ کرتی ہے جو گناہوں کو دھوکر قلوب کو شفا بخشتی ہے۔
(والذین لایومنون) ” اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے “ قرآن پر (فی اذانھم وقر) ” ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔ “ یعنی وہ اس کو سننے سے محروم اور اس سے روگردانی کا شکار ہیں۔ (وھو علیھم عمی) ” یہ ان کے حق میں اندھا پن ہے “ جس کی وجہ سے انہیں رشد و ہدایت نظر آتی ہے نہ راہ راست ملتی ہے۔ یہ کتاب ان کی گمراہی میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ جب یہ لوگ حق کو ٹھکرا دیت یہیں تو ان کے اندھے پن میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان پر ایک اور تہہ چڑھ جاتی ہے۔ (اولئک ینادون من مکان بعید) ” یہ وہ ہیں جنہیں دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔ “ یعنی جنہیں ایمان کے لئے پکارا اور اس کی طرف بلایا جا رہا ہو اور وہ جواب نہ دے سکتے ہوں ایسے لوگ اس شخص کی مانند ہیں جسے بہت دور سے پکارا جا رہا ہو، جسے پکارنے والے کی آواز سنتی ہو نہ وہ جواب دے سکتا ہو۔
مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے وہ اس کی راہنمائی اور اس کی روشنی سے مستفید ہوسکتے ہیں نہ انہیں اس عظیم کتاب سے کوئی بھلائی حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اعراض اور کفر کے سبب سے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر لئے ہیں۔
Ayah 41:46آیت 46
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولقد اتینا موسیٰ الکتب) ” اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تھی “ جس طرح آپ کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انہوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہوسکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور اسبقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہوسکتا : (آیت) ” تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا “ جس سے اہل ایمان اور کفار کے درمیان فرق واضح ہوجاتا اور کافروں کو اسی حال میں ہلاک کردیا جاتا کیونکہ ان کی ہلاکت کا سبب پورا ہوچکا تھا۔ : (آیت) ” اور یہ اس (قرآن) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ “ شک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں وہ متزلزل ہوگئے ہیں، اس لئے انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کا انکار کیا۔
: (آیت) ” جس نے نیک کام کئے۔ “ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہو۔ (فلنفسہ) تو دنیا و آخرت میں اس کا ثواب اور فائدہ اسی کے لئے ہے (ومنا آپء فعلیھا) ” جس نے برے کام کئے ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ “ دنیا و آخرت میں اس کا نقصان اور عذاب بھی وہی بھگتے گا۔ اس آیت کریمہ میں فعل خیر اور ترک شرک کی ترغیب دی گئی ہے، نیز اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اصحاب اعمال اپنے نیک اعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور برے اعمال سے ان کو ضرر پہنچتا ہے، نیز یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (وما ربک بظلام للعید) ” اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ “ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا کہ ان پر ان کی برائیوں سے بڑھ کر عذاب مسلط کر دے۔
Ayahs 41:47–48یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اسی لئے فرمایا : (الیہ یرد علم الساعۃ) ” قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ “ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء ومرسلین اور فرشتے وغیرہ اس بارے میں اپنے عجز اور بےبسی کا اقرار کرتے ہیں۔ (وما تخرج من ثمرات من اکمامھا) ” اور نہ تو پھل پابھوں سے نکلتے ہیں۔ “ یعنی ان شگوفوں میں سے جن سے وہ عموماً نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی طور پر جانتا ہے۔
(وما تحمل من انثی) ” اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ۔ “ بنی آدم اور تمام حیوانات میں سے حاملہ جو حمل اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتاے۔ (ولا تضع) ” اور کوئی حاملہ بچہ نہیں جنتی “ (الا بعلمہ) ” مگر اس کے علم سے۔ “ مشرکین نے ان ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا جو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں ؟ (ویوم ینادیھم) اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کو زجر و توبیخ کے طور پر اور ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے پکارے گا اور فرمائے گا : (این شرکآء ی) ” میرے شریک کہاں ہیں ؟ “ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے، ان کی عبادت کرتے تھے، ان کی بنا پر تم جھگڑتے اور رسولوں سے عداوت رکھتے تھے (قالوآ) وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت اور ان کی شرکت کے بطلان کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے : (اذنک مامنا من شہید) ” ہم آپ سے کہہ چکے کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں۔ “ یعنی اے ہمارے رب ہم تیرے سامنے اقرار کرتے ہیں، تو گواہ رہنا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان معبودان باطل کی الوہیت اور شرکت کی وگاہی نہیں دیتا۔ اب ہم سب ان کی عبادت کے بطلان کا اقرار اور ان سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، اس لئے فرمایا : (وضل عنھم ماکانوا یدعون) ” اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔ “ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر، یعنی ان کے وہ تمام عقائد اور اعمال اکارت جائیں گے جن کے اندر انہوں نے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے عمریں گزاریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہ خود ساختہ معبود انہیں کوئی فائدہ دیں گے، ان سے عذاب دور کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے۔ ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی، ان کا گمان جھوٹا ثابت ہوگا اور ان کے خود ساختہ شریک ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ (وظنوا) اور اس حال میں انہیں یقین آجائے گا (مالھم من محیص) کہ کوئی ان کو بچانے والا ہے نہ مدد کو پہنچنے والا اور نہ ان کو کوئی جائے پناہ ہی ملے گی۔ یہ ہے اس شخص کا انجام جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واضح کردیا ہے کہ وہ شرک سے بچیں۔
Ayahs 41:49–51آیت 49 ۔ 51
اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کرسکتا ہے نہ شر پر، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا : (لایسئم الانسان من دعآء الخیر) یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے اپنی فوز و فلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لئے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے۔ وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ (وان مسہ الشر) ” اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔ “ یعنی بیماری، فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں (فیوس قنوط) تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت اسے ہلاک کر ڈالے گی اور ایسے اسباب اختیار کرنے کی فکر کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ اس رویے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے، ان لوگوں کو اگر بھلائی، نعمت اور کوئی محبوب چیز عطا وہتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور وہ اس چیز سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج اور مہلت نہ ہوں۔ اگر انہیں اپنی جان، مال اور اولاد میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو صبر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولئن اذقنہ) ” اور اگر ہم اسے چکھاتے ہیں۔ “ یعنی وہ شخص جو بھلائی کی دعا سے اکتاتا نہیں اور اگر سے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ (رحمۃ مما) ” اپنی طرف سے رحمت “ یعنی اس برائی کے بعد جو اسے پہنچی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرض سے شفا دیتا ہے یا اس کا فقر دور کر کے غنی بنا دیتا ہے۔
تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے : (ھذا لی) یعنی یہ مجھے عطا ہوا ہے کیونکہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ (وما اظن الساعۃ قآئمۃ) ” اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی۔ “ یہ اس کی طرف سے انکار قیامت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور رحمت کی ناسپاسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔
(ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی) فرض کیا اگر قیامت کی گھڑی آ ہی جائے اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے تو میرے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بھلائی ہے۔ جس طرح دنیا میں مجھے نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح آخرت میں بھی مجھے نعمتوں سے بہرہ مند کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑی جسارت اور بلاعلم قول ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (فلننبئن الذین کفروآ بما عملوا ولنذیقنھم من عذاب غلیظ) ” پس کافر جو عمل کرتے ہیں وہ ہم انہیں ضرور بتائیں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ “ یعنی جب ہم انسان صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں (اعرض) تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ (ونا بجانبہ) ور تکبر اور خود پسندی کی بناء پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ (وذا مسہ الشر) ” اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔ “ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آلیتا ہے (فذو دعآء عریض) تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔
Ayahs 41:52–54آیت 52
(قل) قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے : (ارئیتم ان کان) ” مجھے بتایئے اگر یہ ہو ! “ یعنی یہ قرآن (من عند اللہ) بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید) ” پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت اور عناد میں کیونکہ حق تم پر واضح ہوچکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔ اگر تمہیں اس کی حقیقت اور صحت میں کوئی شک ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور دلائل قائم کرے گا، مثلاً : آسمان اور زمین کی نشانیاں اور ایسے بڑے بڑے حوادث دکھائے گا جنہیں اللہ تعالیٰ وجود میں لاتا ہے جو صاحب بصیرت کے لئے حق پر دلالت کرتے ہیں۔ (وفی انفسھم) ” اور خود ان کے نفسوں میں بھی۔ “ ایسی نشانیاں ہیں جو اس کی تعجب خیز کاریگری اور اس کی لامحدود قدرت میں سے ہیں، نیز الہ تکذیب پر عذاب اور عبرتناک سزاؤں کے نزول اور اہل ایمان کی نصرت میں ان کے لئے دلائل ہیں۔ (حتی یتبین لھم) ” حتی کہ ان پر واضح ہوجائے گا۔ “ ان آیات سے جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں (انہ الحق) ” بلا شبہ وہ حق ہے۔ “
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے جس سے حق واضح ہوجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ایمان کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہوجاتا ہے۔ (اولم یکف بربک انہ علی کل شیء شھید) ” کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر شے پر گواہ ہے ؟ “ یعنی کیا ان کے لئے اس حقیقت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی نہیں کہ قرآن حق ہے اور اس کو پیش کرنے والی ہستی سچی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صداقت کی گواہی دی ہے اور وہ سب سے چا گواہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کی تائید فرمائی اور نصرت سے نوازا جو اس شخص کیلئے شہادت قولی کو متضمن ہے جو اس میں شک کرتا ہے۔
(الا انھم فی مریۃ من لقآء ربھم) ” آگاہ رہو ! یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں۔ “ یعنی وہ حیات بعد الموت اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں، اس لئے وہ آخرت کے لئے کوئی کام کرتے ہیں نہ آخرت کی طرفالتفات کرتے ہیں۔ (الا انہ بکل شیء محیط) آگاہ ہو ! بیشک اس نے اپنے علم، قدرت اور غلبے سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔