Ayah 35:40آیت 40
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کی بےبسی، ان کے نقص اور ہر لحاظ سے ان کے شرک کے بطلان کو واضح کرتے ہئے فرماتا ہے : (قل) یعنی اے رسول ! ان سے کہہ دیجیے : (ارء یتم) مجھے اپنے شریکوں کے بارے میں آگاہ کرو (الذین تدعون من دون اللہ) ” جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو “ کیا وہ دعا اور عبادت کے مستحق ہیں ؟ (ارونی ماذا خلقوا من الارض) ” مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے ؟ “ آیا انہوں نے سمندروں کو پیدا کیا ہے یا پہاڑوں کو ؟ انہوں نے حیوانات کو پیدا کیا ہے یا جمادات کو ؟ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان تمام چیزوں کا خلاق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کیا تمہارے خود ساختہ شریکوں کے لئے (فی السموت) آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں کوئی حصہ ہے ؟ وہ یہی جواب دی گے کہ تخلیق و تدبیر کائنات میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔۔۔ جب ان خود ساختہ معبودوں نے کوئی چیز پیدا کی ہے نہ خالق کی تخلیق میں یہ شریک ہیں تو پھر تم ان کی بےبسی کا اقرار کرنے کے باوجود ان کو کیوں پکارتے اور ان کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ پس ان کی عبادت کے جواز کی دلیل ختم ہوگئی اور ان کی عبادت کا بطلان ثابت ہوگیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کے جواز کی سمعی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے اس کا بھی ابطال فرمایا : (ام اتینھم کتباً ) ” کیا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے “ جو ان کے شرک کو جائز قرار دیتی ہو یا انہیں شرک اور بتوں کی عبادت کا حکم دیتی ہو (فھم) لہٰذا وہ اپنے شرک کے بارے میں (علی بینت) کسی دلیل پر ہوں یعنی اس نازل شدہ کتاب میں کوئی ایسی چیز ہو جو شرک کے جواز اور اس کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہو ؟
معاملہ ایسے نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہے نہ محمد مصطفیٰ ﷺ سے قبل ان کی طرف کوئی رسول ہی مبعوث کیا گیا ہے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ان پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہے اور ان کی طرف کوئی رسول مبعوث کیا گیا ہے جس نے ان کے زعم کے مطابق، انہیں شرک کا حکم دیا ہے، تب بھی ہمیں قطعی یقین ہے کہ یہ جھوٹ کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا ہم نے اس کی طرف یہی وجحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا صرف میری عبادت کرو۔ “ لہذٰا تمام انبیاء ومرسلین اور تمام آسمانی کتابیں اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں اخلاص کا حکم دیا ہے۔ (وما امروا الا لیعبدواللہ مخلصین لہ الذین حنفآء) (البینۃ :5/98) ” اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر اور دین کو صرف اللہ کے لئے خلاص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔ “
اگر یہ کہا جائے کہ جب عقلی اور نقلی دلائل شرک کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں تب وہ کون سی چیز ہے جو مشرکین کو شرک پر آمادہ کرتی ہے حالانکہ ان کے اندر عقل مند اور ذہین و فطین لوگ بھی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : (بل ان یعد الظلمون بعضھم بعضا الا غروراً ) ” بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعدہ کرتے ہیں “ یعنی یہ وہ مسلک ہے جس پر گامزن ہونے والے لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں، محض ایک دوسرے کو اس کی تلقین کرتے ہیں، ایک دوسرے کی باتوں کو آراستہ کرتے ہیں، متاخرین گمراہ متقدمین کی اقتدا کرتے ہیں، یہ جھوٹی آرزوئیں ہیں جو شیاطین انہیں دلاتے ہیں اور ان کے برے اعمال ان کے سامنے سجاتے ہیں۔ یہ برے اعمال ان کے قلوب میں جڑ پکڑ لیتے ہیں اور ان کی صفت بن جاتے ہیں تب ان کو زائل اور ختم کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور کفر اور شرک پر جمے رہنے سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں جو سامنے ہیں۔
Ayah 35:41آیت 41
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال قدرت، بےپایاں رحمت اور وسعت حلم و مغفرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روک رکھا ہے، اگر وہ ٹل جائیں تو اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی ایسی نہیں جو انہیں روک سکے۔ ان کی طاقت اور ان کے قویٰ ان کے بارے میں عاجز آجائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ زمین و آسمان ویسے ہی رہیں جیسے وجود میں لائے گئے تاکہ مخلوق کو استقرار، فائدہ اور عبرت حاحصل ہو، نیز وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان، قوت اور قدرت کو جان لیں اور ان کے دل اللہ کے جلال و تعظیم اور محبت و تکریم سے لبریز ہوں اور تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہ گاروں کو مہلت عطا ہونے اور نافرمانوں کو سزا دینے میں عدم عجلت کی بنا پر جان لیں کہ وہ کامل حلم و حکمت کا مالک ہے حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ آسمان کو حکم دے تو ان پر پتھروں کی بارش برسا دے اور اگر اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے تو وہ ان کو نگل جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی بےپایاں مغفرت اور اس کا حلم و کرم ان پر سایہ کناں ہے (انہ کان حلیما غفوراً ) ” بیشک وہ بہت بردبار معاف کرنے والا ہے۔ “
Ayahs 35:42–44آیت 42
اے اللہ کے رسول ! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ (لئن جآء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم) ” اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوں گے۔ “ یعنی وہ یہود و نصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انہوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا (فلما جآء ھم نذیر) ” چناچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آگیا “ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ( ْازادھم) ” نہیں زیادہ کیا ان کو “ اس گمراہی نے (الا نفوراً ) ” مگر نفرت ہی میں “ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو اور بڑھا دیا۔ ان کا یہ قسمیں اٹھانا کسی اچھے مقصد اور طلب حق کے لئے نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کو ضرور اس کی توفیق عطا کردی جاتی لیکن انکا قسمیں اٹھانا تو مخلوق اور حق کے مقابلے میں زمین پر تکبر کرنے اور اپنی بات میں مکرو فریب کرنے سے صادر ہوا تھا۔ ان کا مقصد محض فریب کاری تھا اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ توا اہل حق اور حق کے متلاشی ہیں تو سادہ لوح لوگ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر ان کے پیچھے چل پڑے۔
(ولا یحق المکرالسی) ” اور نہیں پڑتا وبال بری چال کا “ جس کا مقصد برا مقصد اور جس کا انجام برا اور باطل ہے (الا باھلہ) ” مگر بری چال چلنے والوں ہی پر “ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں اور ان قسموں کے بارے میں اپنے بندوں کے سامنے واضح کردیا ہے کہ وہ جھوٹے اور فریب کار ہیں، چناچہ اس سے ان کی روسائی واضح، ان کی فضیحت نمایاں اور ان کا برا مقصد ظاہر ہوگیا۔ ان کا مکرو فریب ان ہی کی طرف لوٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے مکرو فریب کو ان کے سینوں کی طرف لوٹا دیا۔ ان کے لئے کوئی حیلہ باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ ان پر وہ عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ جس میں کوئی تغیر و تبدیل نہیں جو کوئی ظلم، عناد اور مخلقو کے ساتھ تکبر کے راستے پر گامزن ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے گا اور اس کی نعمتوں سے محروم ہوجائے گا، لہٰذا ان قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوا، ان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے۔
Ayah 35:45آیت 45
اللہ تعالیٰ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ محض غفلت کے ساتھ نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لئے اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی، جو ان سے زیادہ مال اور اولاد رکھنے والے اور ان سے زیادہ طاقتور تھے، جنہوں نے ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا۔ جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو ان کی قوت نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کا مال اور اولاد کسی کام نہ آئے اور اللہ تعالیٰ کی قدتر اور مشیت ان میں نافذ ہو کر رہی۔ (وما کان اللہ لیعجزہ من شیء فی السموت ولا فی الارض) ” اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اسے عاجز کرسکے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل قدرت کا مالک ہے۔ (انہ کان علیماً قدیراً ) ’ دبے شک وہ جاننے والا قدرت رکھنے والا ہے۔ “
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کامل حلم اور گناہ گاروں اور ارباب جرائم کو دی ہوئی ڈھیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولو یواخذ اللہ الناس بما کسبوا) ” اور لوگوں نے جو گناہ کئے اگر اللہ تعالیٰ ان پر ان کا مواخذہ کرتا “ (ما ترک علی ظھرھا من دآبۃ ) ” تو روئے زمین پر ایک جان دار کو بھی نہ چھوڑتا “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دیتا اور اس سزا کی سختی کا یہ حال ہوتا کہ غیر مکلف حیوانات بھی اس سے نہ بچتے (ولکن) مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا (یوخرھم الی اجل مستی فاذا جآء اجلھم فان اللہ کا نبعبادہ بصیراً ) ” اللہ تعالیٰ ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے پھر جب ان کا وقت آجائے گا تو بیشک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ “ یقیناً اللہ اپنے عمل کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔