Ayahs 34:30–32آیت 30
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لئے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوش خبری دے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انہیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔
(ولکن اکثر الناس لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔ انہوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انہیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا : (ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) ” اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہوگا ؟ “ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے ؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے ؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیر خواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لئے تیار اور اس کے لئے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آکر کہتا ہے :” میں تمہارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہوچکا ہے وہ تمہیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔ “ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں :” اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہماریپ اس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے ؟ “ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا ؟
خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کرسکتے ہوں، تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلقو میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنیوالے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خاہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لئے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لئے رد کرنا کہ اس نے عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا، سب سے بڑی حماقت نہیں !
(قل) ” کہہ دیجیے :“ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں (لکم میعاد یوم لاتساخرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون) ” تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔ “ تو اس دن سے ڈرو اور اس کے لئے تیار کرو۔
Ayah 34:33آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کے لئے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفر و ضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ (یقول الذین استضعفوا) ” وہ لوگ جو کمزور کئے گئے تھے وہ کہیں گے “ یعنی متبعین (للذین استکبروا) ” ان سے جنہوں نے تکبر کیا۔ “ اس سے مراد قائدین کفر ہیں (لولا انتم لکنا مومنین) ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔ “ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہوگئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمہاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہوگا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔ (قال الذین استکبروا للذین استضعفوآ) ” جنہوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنئاے ہوئے لوگوں سے کہیں گے ‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ (انحن صددنکم عن الھدی بعد اذ جآء کم) ” کیا ہم نے تمہیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا ؟ “ یعنی کیا ہم نے تمہیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا ؟ (بل کنتم مجرمین) ” بلکہ تم مجرم تھے۔ “ یعنی تم مقہور و مغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمہارے سامنے کفر کو مزید کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔
(آیت) ” اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے : بلکہ تم رات دن مکر و فریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لئے شریک ٹھہرائیں۔ “ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکر و فریب کیا اور اس مکرو فریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے پھر سا کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کردیا۔
آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انہیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دو سے سے بےزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لئے فرمایا : (واسروا الندامۃ لما راوا العذاب) ” اور جب وہ عذبا کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ “ یعنی اس حجت کا تار و پود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بےحد پشیمان ہوگا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کرلینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔
قیامت کے بعض موقعوں پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ با آواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے : (آیت) ” اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش ! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت ! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ “ (آیت) ” وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔ “
(وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفروا) ” اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ “ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انہیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ “ (ھل یجزون) یہ عذاب اور یہ سزا جو انہیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انہیں پہنائے گئے ہیں (الا ماکانوا یعملون) صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کر کے ارتکاب کیا کرتے تھے۔
Ayahs 34:34–41آیت 34
اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنہوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھات یپیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انہوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا (وقالوا نحن اکثر اموالاً و اولاداً ) ” اور انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں “ یعنی ان لوگوں سے جنہوں نے حق کی اتباع کی۔ (وما نحن بمعذبین) ” اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ “ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی۔ اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمہارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لئے رزق کو کشادہ کردیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کردیتا ہے۔
مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنہیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا (وھم فی الغرفت امنون) یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انہیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انہیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہوگا نہ کوئی حزن و غم۔ رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بےبس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لئے بھگا دوڑ کرتے ہیں تو (اولئک فی العذاب محضرون) ” وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔ “ جہنم کے فرشتے انہیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انہیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا : (یبسط الرزق لمن یشآء من عابدہ ویقدر لہ) ” وہ اپن بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ “ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو : (وما انفقتم من شیء) ” اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔ “ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر (فھو یخلفہ) ” تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمہیں اور رزق عطا کردیتا ہے۔ “ اس لئے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہوجائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ (وھو خیر الرزقین) ” اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ “ اس لئے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
Ayah 34:42آیت 42
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور وہ جس دن ان سب کو جمع کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ یعنی فرشتوں وغیرہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ (ثم یقول للملئکۃ) ” پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا “ مشرکین کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے (اھولآء ایاکم کانوا یعبدون) ” کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے “ اور وہ جواب میں ان مشرکین کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
(قالوا سبحنک) ” وہ کہیں گے : تو پاک ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس چیز سے تنزیہ و تقدیس کرتے ہوئے کہ اس کا کوئی شریک یا ہمسر ہو، کہیں گے : (انت و لینا من دونھم) ” ہمارا سرپرست اور والی تو ہی ہے نہ کہ یہ مشرک۔ “ ہم تو خود تیری سرپرستی کے محتاج اور ضرورت مند ہیں ہم دوسروں کو اپنی عبادت کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں ؟ یا یہ بات کییس درست ہوسکتی ہے کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو اپنا سرپرست اور شریک بنائیں ؟ بلکہ یہ مشرکین (کانوا یعبدون الجن) ” جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ “ شیاطین انہیں حکم دیتے تھے کہ وہ ہماری اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کریں اور یہ ان کے حکم کی اطاعت کرتے تھے۔ ان کی اطاعت ہی درحقیقت ان کی عبادت تھی کیونکہ اطاعت، عبادت ہی کا دوسرا نام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو بھی معبود بنا رکھا تھا : (آیت) ” اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے۔ “ (اکثرھم بھم مومنون) ” ان میں سے اکثر لوگ ان پر ایمان لاتے تھے “ جنوں کو سچا جانتے اور ان کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ ایمان ایسی تصدیق کا نام ہے جو اطاعت کی موجب ہو۔
جب فرشتے ان کے شرک اور عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا : (فالیوم لایملک بعضکم لبعض نفعا ولا ضراً ) ” پس آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ “ تمہارے درمیان تمام تعلقات منقطع ہوگئے ہیں اور تم ایک دوسرے سے کٹ گئے ہو۔ (ویقول الذین ظلموا) یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا، ہم انہیں جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے کہیں گے : (ذوقوا عذاب النار التی کنتم بھا تکذبون) ” دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ “ آج تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم اپنی تکذیب کی پاداش میں اس جہنم میں داخل ہوچکے، نیز اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے ان اسباب سے اجتناب نہ کیا جو جہنم میں داخلے کے موجب تھے۔
Ayahs 34:43–49آیت 43
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے اور کہا کرتے تھے : (ماھذا الا اجل یرید ان یصدکم عما کان یعبدابآؤ کم) ” یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے۔ “ یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے۔ “ یعنی جب وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کا حکم دیا کرتا تھا تو اس وقت اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ تم اپنے باپ دادا کی عادات کو ترک کردو، جن کی تم تعظیم اور ان کی پیروی کرتے ہو۔ پس انہوں نے گمراہوں کے کہنے پر حق کو ٹھکرا دیا اور اس کو ٹھکراتے وقت انہوں نے کوئی دلیل اور برہان پیش کی نہ کوئی شبہ وارد کیا اور یہ کون سا شبہ ہے کہ جب رسول بعض گمراہ لوگوں کو اتباع حق کی دعوت دیں تو یہ لوگ دعویٰ کریں کہ گزشتہ زمانے میں ان کے بھائی بند بھی، جن کے یہ پیروکار ہیں، اسی طریقہ پر کار بند تھے ؟
اگر آپ ان کی اس سفاہت، حماقت اور گمراہ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ان کے حق کو ٹھکرانے پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی حماقت کے ڈانڈے مشرکوں، دہریوں، فلسفیوں، صابیوں، ملحدوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل بھاگنے والوں کے گمراہ نظریات سے جا ملتے ہیں۔ قیامت تک ہر شخص کے لئے یہی اسوہ رہے گا جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے افعال کو دلیل بنا کر انبیاء ومرسلین کی دعوت کو ٹھکرایا اور اس کے بعد حق کو مطعون کیا (وقالوا ماھذ الا افک مفتری) ” اور انہوں نے کہا کہ یہ قرآن صرف اور صرف گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔ “ یعنی یہ اس شخص کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے جو اسے لے کر آیا ہے (وقال الذین کفروا للحق لما جآء ھم ان ھذا الا سخرمبین) ” اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ “ یعنی یہ کھلا جادو ہے جو ہر ایک پر ظاہر ہے۔ وہ یہ بات حق کی تکذیب اور بےعقل لوگوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لئے کہتے تھے۔ جب وہ تمام اعتراضات واضح ہوگئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جاسکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جاسکے۔
(وما اتینھم من کتب یدرسونھا) ” اور ہم نے نہ تو انہیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔ “ کہ وہ کتاب ان کے لئے کوئی دلیل ہوتی (وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر) ” اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے “ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا : (وکذب الذین من قبلھم وما بلغوا) ” اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انہوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے “ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے (معشارما اتینھم فکذبوا) ” اس ساز و سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انہوں نے جھٹلایا “ یعنی ان سے پہلے امتوں نے (رسلی فکیف کان لکیر) ” میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذبا کیسا ہوا ؟ “ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا ؟
ہم اس سیق بل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو اللہ نے سمندر میں غرق کردیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے اور کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو ! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھ ویسے ہی عذبا نازل ہوجائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔
Ayah 34:50آیت 50
(قل) اے رسول ! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھگا دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے در پے رہنے والوں سے کہہ دیجیے : (انما اعظکم بواحدۃ) ” میں تمہیں صرف ایک بات کی وصیت کترا ہوں “ تمہیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمہارے ساتھ خیر خواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موبج کے اپنی بات چھوڑ دو ، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں : (ان تقوموا للہ مثنی وفرادی) ” کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ۔ “ یعنی ہمت، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کے ساتھ، تحقیق و جستجو کی خاطر اکٹھے ہو کر اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ اور تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مخاطب کرے۔ تم اکیلے اکیلے اور دو دو کھڑے ہو کر اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، اپنے رسول کے احوال میں غور و فکر کرو کہ کیا وہ مجنون ہے ؟ کیا اس کے کلام اور ہئیت و اوصاف میں مجانین کی صفات پائی جاتی ہیں ؟ یا وہ سچا نبی ہے اور آنے والے سخت عذاب کے ضرر سے تمہیں ڈراتا ہے ؟ اگر وہ اس نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کریں، تو دوسروں سے زیادہ ان پر واضح ہوجائے کہ رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ہیں، اس لئے کہ آپ کی ہئیت مجانین کی ہئیت کی مانند نہیں ہے۔
اس کے برعکس آپ کی ہئیت بہترین، آپ کی حرکات و سکنات جلیل ترین، ادب، سکنیت، تواضع اور وقار کے اعتبار سے آپ کی تخلیق کامل ترین تھی۔ یہ صفات جلیلہ کسی نہایت عقل مند اور باوقار شخص ہی میں ہوسکتی ہیں۔ پھر وہ آپ کے فصیح وبلیغ کلام، آپ کے خوبورصت الفاظ اور آپ کے ان کلمات پر غور کریں جو دلوں کو امن و امیان سے لبریز کردیتے ہیں، نفوس کا تزکیہ اور قلوب کی تطہیر کرتے ہیں، جو انسان کو مکارم اخلقا اور اچھی عادات کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس برے اخلاق اور رذیل عادات سے روکتے ہیں۔ آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے ہیں تو ہیبت، جلال اور تعظیم کی بنا پر آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں مجانین کی بکوسا اور ان کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور ان کے اس کلام سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ان کے احوال سے مطابقت رکھتا ہے ؟
ہر وہ شخص جو آپ کے احوال میں غور و فکر کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کا قصد رکھتا ہے کہ آیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں، ، خواہ وہ اکیلا غور و فکر کرے یا کسی اور کے ساتھ مل کر، وہ یقین جازم کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور نبی صادق ہیں، خاص طور پر یہ مخاطبین، کیونکہ آپ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کو شروع سے لے کر آخر تک اچھی طرح جانتے ہیں۔ البتہ ایک اور مانع ہوسکتا ہے جو نفوس کو داعی حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی برأت بیان کرتے ہوئے فرمایا : (قل ماسالتکم من اجر) ” کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ “ یعنی تمہارے حق کی اتباع کرنے پر (فھو لکم) یعنی میں تمہیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمہارے لئے ہے۔ (ان اجری الا علی اللہ وھو علی کل شیء شھید) ” میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ “ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمہارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمہیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل وبراہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ (یقذف بالحق) ” اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں “ باطل پر جو اس کا سر توڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہوجاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کردیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہوگئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہوگیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہوگیا اور باطل کا قلع قمع ہوگیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو (علامہ الغیوب) ” سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے “ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔
لہٰذا وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کردیتا ہے، اس نے فرمایا : (قل جآء الحق) ” کہہ دیجیے : حق آگیا ہے “ یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہوگیا اور اس کی دلیل غالب آگئی ہے۔ (وما یبدی الباطل وما یعید) ” اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔ “ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہوگئے۔ باطل (یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کرسکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کرسکتا ہے۔
جب حق واضح ہوگیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ ﷺ نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کردیا اور ان پر ثابت کردیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتادیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکتی ہے۔ اگر آپ ﷺ (معاذ اللہ) گمراہ ہیں، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمہاری بات کو صحیح مان لیں۔ تو آپ کی گمراہی آپ کے لئے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔
(وان اھتدیت) ” اور اگر میں راہ راست پر ہوں “ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدیات کا سبب تو صرف یہ ہے کہ (یوحی الی ربی) ” میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے “ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچمشہ بھی وہی ہے۔ بیشک میرا رب (سمیع) ” سنتا ہے “ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور (قریب) ” قریب ہے “ ہر اس شخص کے جوا سے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
Ayahs 34:51–54آیت 51
اللہ تبارک فرماتا ہے : (ولو تری) ” اور اگر آپ دیکھیں “ اے رسول ! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال (اذفرعوا) ” جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے “ عذبا اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انہوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب ان کے لئے عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا تو ان کے لئے بھاگنے کی کوئی جگہ ہوگی نہ وہ بچ ہی سکیں گے (واخذوا من مکان قریب) ” اور وہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ “ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے کہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (وقالوآ) ” اور وہ پکار اٹھیں گے “ اسی حالت میں، کہ (امنا) ” ہم ایمان لائے “ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ (و) ” اور “ لیکن (انی لھم التناوش) ” اب انہیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا “ (من مکان بعید) ” اتنے دور کے مقام سے “ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہوگئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہوگیا ہے۔ اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن (کفروا بہ من قبل ویقذفون) ” اس سے پہلے تو انہوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے) ”(بالغیب من مکان بعید) ” دور دراز سے بن دیکھے ہی “ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کرسکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آ کر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کردیتا ہے۔
(وحیل بینھم وبین مایشتھرون) یعنی ان کے درمیان اور ان کی لذات و شہوات، مال و اولاد، ان کی فوجوں اور خدم و حشم کے دریمان رکاوٹیں حائل کردی جائیں گی۔ وہ اکیلے اکیلے اپنے اعمال کے ساتھ اسی طرح حاضر ہوں گے جس طرح انہیں اکیلے پیدا کیا گیا تھا اور جن چیزوں کے وہ مالک تھے انہیں اپنے پیچھے چھوڑ آئیں گے۔ (کما فعل باشیاعھم) ” جیسے ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا تھا “ گزشتہ قوموں میں سے۔ جب ان پر ہلاکتخیز عذاب نازل ہوا تو ان کے اور ان کی دل پسند چیزوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کردی گئیں۔ (انھم کانوا فی شک مریب) ” بیشک وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔ “ جو انہیں بدگمانی اور دلی قلق میں مبتلا کرتا تھا، اس لئے وہ ایمان نہ لائے اور جب ان سے توبہ کے لئے کہا گیا تو انہوں نے توبہ نہ کی۔