Ayah 31:33آیت نمبر : 33
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ سے مراد اس کے حکم کی تعمیل کرنا اور منہیات کو ترک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے سخت دن کے خوف کی طرف ان کی توجہ مبذول کرواتا ہے۔ جس روز ہر شخص کو اپنے سوا کسی کا ہوش نہیں ہوگا پس (لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا) ” نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔ “ یعنی وہ اس کی نیکیوں میں اضافہ کرسکے گا نہ اس کے گناہوں میں کوئی کمی کرسکے گا۔ ہر بندے کا عمل پورا ہوچکا ہوگا اور اس پر اس کی جزا و سزا بھی متحقق ہوچکی ہوگی۔ تو اس ہولناک دن کی طرف دیکھ ‘ جو بندے کو قوت عطا کرکے اس کے لیے تقویٰ کو آسان کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ وہ انہیں تقویٰ کا حکم دیتا ہے جس کے اندر ان کی سعادت ہے اور اس پر ان کے ساتھ ثواب کا وعدہ کرتا ہے ‘ انہیں عذاب سے ڈراتا ہے ‘ انہیں مواعظ اور (قیامت کے) خوفناک مقامات سے ڈرا کر ‘ برائیوں سے روکتا ہے۔۔۔ اے جہانوں کے رب ! تیری ہی ستائش ہے۔ (ان وعداللہ حق) ” بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ “ پس اللہ کے وعدے میں شک نہ کرو اور ایسے کام نہ کرو جو اس وعدے کو سچا نہ ماننے والوں کے ہوتے ہیں ‘ بنا بریں فرمایا : (فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا) یعنی دنیا کی زیب وزینت ‘ اس کی چکا چوند اور اس کے فتنے تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دیں (ولا یغرنکم باللہ الغرور) ” اور فریب دینے والا تمہیں اللہ کے بارے میں کسی طرح کا فریب نہ دے “ یعنی شیطان ہر وقت انسان کو فریب میں مبتلا رکھتا ہے اور کسی وقت بھی اس سے غافل نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق ہے اور اس نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا ‘ نیز کیا انہوں نے اس کا حق پورا کیا ہے یا اس بارے میں انہوں نے کوتاہی کی ہے ؟ یہ ایسا معاملہ ہے جس کا اہتمام واجب ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اسے اپنا نصب العین اور زندگی کا سرمایہ بنائے رکھے جس کے لیے کوشش کی جاتی ہے۔ اس راستے کی سب سے بڑی آفت فتنے میں مبتلا کرنے والی دنیا ہے اور سب سے بڑا راہ زن شیطان ہے جو وسوسے ڈالتا اور گمراہ کرتا ہے ‘ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا اور شیطان کے فریب میں مبتلا ہونے سے روکا ہے۔ (یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا) (النساء : 4/021) ” شیطان ان سے وعدہ کرتا ہے ‘ ان کو آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان کا وعدہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ “
Ayah 31:34آیت نمبر : 34
یہ امر متحقق ہے کہ علم الٰہی نے غیب و شاہد اور ظاہر و باطن ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اور کبھی کبھی بہت سے امور غیبیہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مطلع کردیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مذکور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا ‘ عام لوگ تو کیا ان امور کو کوئی نبی مرسل جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ ‘ لہٰذا فرمایا : (ان اللہ عندہ علم الساعۃ) صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا قل انما علمھا عند ربی لا یجلیھا لوقتھا الا ھو ثقلت فی السموٰت والارض لاتاتیکم الا بغتۃ) (الاعراف : 7/781) ” وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کی گھڑی کب آئے گی ‘ کہہ دیجیے اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا ‘ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری حادثہ ہوگا اور وہ تم پر اچانک ہی آجائے گی۔ “
(وینزل الغیث) وہ اکیلا ہی ہے جو بارش برساتا ہے اور وہی اس کے برسنے کا وقت جانتا ہے۔ (وما یعلم ما فی الارحام) پس رحموں کے اندر جو کچھ ہے اس نے تخلیق کیا ہے اور اس کے متعلق وہی جانتا ہے کہ آیا وہ نر ہے یا مادہ ‘ اس لیے اس پر مقرر کردہ فرشتہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے لڑکا یا لڑکی ؟ پس اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ (وما تدری نفس ماذا تکسب غدا) ” اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ “ یعنی دین اور دنیا کی کمائی میں سے (وما تدری نفسم بای ارض تموت) ” اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی۔ “ بلکہ یہ تمام علم صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مختص ہے۔ ان مذکورہ چیزوں کا علم مخصوص کرنے کے بعد بیان فرمایا کہ اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ اس لیے فرمایا : (ان اللہ علیم خبیر) بیشک اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و باطنی امور ‘ تمام چھپی ہوئی اور تمام اسرار نہاں سے باخبر اور ان کو جانتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کاملہ ہے کہ اس نے پانچ چیزوں کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے کیونکہ اس کے اندر ان کے مصالح پنہاں ہیں۔ صاحب تدبر پر یہ چیز مخفی نہیں۔