Ayah 30:41آیت نمبر : 41
بحر و بر میں فساد برپا ہوگیا ‘ یعنی ان کی معیشت میں فساد اور اس میں کمی ‘ ان کی معیشت پر آفات کا نزول اور خود ان کے اندر امراض اور وباؤں کا پھیلنا ‘ یہ سب کچھ ان کے کرتوتوں کی پاداش اور فطری طور پر فاسد اور فساد برپا کرنے والے اعمال کے سبب سے ہے۔ یہ مذکور عذاب اس لیے ہے (لیذیقھم بعض الذی عملوا) ” تاکہ وہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔ “ یعنی وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اعمال کی جزا دینے والا ہے۔ اس نے انہیں دنیا ہی میں ان کے اعمال کی جزا کا ایک نمونہ دکھا دیا۔ (لعلھم یرجعون) ” شاید کہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آجائیں “ جن کی وجہ سے فساد برپا ہوا ہے۔ اس طرح ان کے احوال درست اور ان کے معاملات سیدھے ہوجائیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی آزمائش کے ذریعے سے انعام کیا اور اپنے عذاب کے ذریعے سے احسان کیا ورنہ اگر وہ ان کے تمام کرتوتوں کی سزا کا مزا چکھاتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار نہ چھوڑتا۔
Ayah 30:42آیت نمبر : 42
زمین میں چلنے پھرنے کے حکم میں ‘ بدنی سیر اور قلبی سیر دونوں شامل ہیں۔ قلبی سیر کا مقصد گزرے ہوئے لوگوں کے انجام پر غور و فکر ہے۔ (کان اکثر ھم مشرکین) ” ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔ “ تم ان کے انجام کو بدترین انجام پاؤ گے۔ عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف سے مذمت ‘ لعنت اور لگاتار رسوائی ان کا پیچھا کرتی رہی۔ پس تم بھی ان جیسے اعمال سے بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل اور اس کی حکمت ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔
Ayahs 30:43–45آیت نمبر : 43 ۔ 45
اپنے دل ‘ چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے ‘ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے ‘ اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کرلیجیے (من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ) ” اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔ “ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آجائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہوگا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے سرانجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہوچکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ (یومئذ یصدعون) اس دن لوگ بکھر جائیں گے اور الگ الگ حاضر ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
(من کفر) ” جس نے کفر کیا “ ان میں سے (فعلیہ کفرہ) ” تو اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ “ یعنی اس کی سزا صرف اسی کی ذات کو ملے گی اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (ومن عمل صالحا) ” اور جس نے نیک عمل کیے۔ “ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ ادا کرتا ہے۔ (فلا نفسھم) ” تو وہ اپنے ہی لیے “ نہ کہ کسی دوسرے کے لیے (یمھدون) یہ اعمال صالحہ تیار کر رہے ہیں ‘ اپنی ہی آخرت کو آباد کر رہے ہیں ‘ جنت کے بالا خانوں اور منازل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔
بایں ہمہ ان کی جزا ان کے اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بےپایاں فضل اور لامحدود کرم کی بنا پر ان کو اتنی جزا دے گا جہاں تک ان کے اعمال کی رسائی ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بےپایاں احسانات ‘ عنایات فاخرہ ‘ ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے برعکس ‘ چونکہ اللہ کفار سے ناراض ہے اس لیے وہ ان کو سزا دیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت نہیں کرے گا جیسے اس نے اپنے محبوب بندوں پر کی ‘ اس لیے فرمایا : (انہ لا یحب الکفرین) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ “
Ayahs 30:46–47آیت نمبر : 46
یہ ان دلائل کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی الٰہ معبود اور بادشاہ محمود ہے۔ ان دلائل میں سے ایک (ان یرسل الریاح) بارش سے پہلے اس کا ہواؤں کو بھیجنا ہے۔ (مبشرت) جو بادلوں کو اٹھا کر خوشخبری دیتی ہیں ‘ پھر بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں اور بارش کے برسنے سے پہلے نفس خوش ہوتے ہیں۔ (ولیذیقکم من رحمتہ) ” اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے۔ “ وہ تم پر بارش برساتا ہے ‘ جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ تم اس کی رحمت کا مزا چکھتے ہو اور وہ تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی بندوں کو ان کا رزق فراہم کرتی ہے ‘ لہٰذا تم ان اعمال صالحہ کی کثرت کے مشتاق ہوجاؤ جو اس کی رحمت کے خزانے کھول دیں۔ (ولتجری الفلک) ” اور تاکہ کشتیاں چلیں “ سمندر کے اندر (بامرہ) اس کے حکم قدری سے (ولتبتغوا من فضلہ) اور اپنی معاش اور مصالح میں تصرف کے ذریعے سے اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (ولعلکم تشکرون) ” اور شاید کہ تم شکر ادا کرو “ اس ہستی کا جس نے تمہارے لیے یہ اسباب مہیا کیے اور تمہارے لیے رزق کے ذرائع پیدا کئے۔ نعمتوں سے مقصود یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اور زیادہ نعمتوں سے سرفراز کرے اور ان نعمتوں کو تمہارے پاس باقی رکھے۔
رہا نعمتوں کے مقابلے میں کفر اور معاصی کا ارتکاب کرنا تو یہ اس شخص کا حال ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو کفر سے بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عنایات کے بدلے ناشکری کرتا ہے۔ اس کے اس رویے سے نعمتیں اس شخص سے کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوجاتی ہیں۔
Ayahs 30:48–50آیت نمبر : 48 ۔ 50
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ (یرسل الریح فتثیر سحابا) ” وہ ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں “ زمین سے (فیبسطہ فی السمآء) پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے (کیف یشآء) جس حالت میں چاہتا ہے (ویجعلہ) ” اور اس کو کردیتا ہے “ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو (کسفا) ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ (فتری الودق یخرج من خللہ) پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے ‘ تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کردیں۔ (فاذآ اصاب بہ) ” پھر جب اسے برسا دیتا ہے “ یعنی اس بارش کو (من یشآء من عبادہ اذا ھم یستبشرون) ” اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ‘ تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ “ وہ بارش برسنے پر ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں کیونکہ وہ بارش کے سخت ضرورت مند تھے۔ (وان کانوا من قبل ان ینزل علیھم من قبلہ لمبلسین) وہ اس سے پہلے بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سخت مایوس تھے۔ جب اس حالت میں بارش برستی ہے تو یہ ان کے لیے انتہائی خوشی کا موقع بن جاتا ہے۔
(فانظر الی اثر رحمت اللہ کیف یحی الارض بعد موتھا) ” اب اللہ کی اس رحمت کے نتائج پر غور کیجیے کہ وہ کیسے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ “ زمین لہلہانے لگتی ہے اور وہ قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ (ان ذلک) وہ ہستی جو زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے زندہ کرتی ہے (لمحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر) ” مردوں کو زندہ کرنے والی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کبھی کسی چیز سے قاصر نہیں رہی اگرچہ اس کی قدرت مخلوق کی عقل و فہم سے باریک تر ہوتی ہے۔ ان کی عقل اس کی قدرت کے کرشموں سے حیران ہوجاتی ہے۔
Ayahs 30:51–53آیت نمبر : 51 ۔ 53
اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کا حال بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کے سایہ کناں ہونے ‘ زمین کے مرجانے کے بعد اس کے زندہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بارش کے بعد اگنے والی نباتات اور ان کی کھیتیوں پر نقصان دہ اور انہیں تلف کردینے والی ہوا بھیج دے (فراوہ مصفرا) ” لہٰذا وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑتا دیکھیں “ جو تلف ہونے کی حالت کو پہنچ چکی ہے (لظلوا من م بعدہ یکفرون) ” تو وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگ جائیں گے “ اور اس کی گزشتہ نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ (فانک لاتسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعآء) ” بلاشبہ آپ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو “ خاص طور پر اس وقت (اذا ولوا مدبرین) ” جب یہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں “ تب تو آپ ان کو بدرجہ اولیٰ نہیں سنا سکتے کیونکہ ان کے اندر اطاعت اور نفع بخش سماعت کے موانع بہت زیادہ ہیں جس طرح آواز حسی کے سننے سے بہت سے موانع ہوتے ہیں۔
(ومآ انتء ھد العمی عن ضللتھم) ” اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہیں “ کیونکہ اندھے اپنے اندھے پن کے باعث دیکھ سکتے ہیں نہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ہی ہے (الا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون) ” آپ صرف انہیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ “ یعنی ہدایت کا سنوارنا صرف انہی لوگوں کو فائدہ دے سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ‘ ہمارے احکام کی تعمیل کرتے اور ہمارے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کا قوی داعیہ موجود ہے اور وہ ہے ہر آیت پر ایمان لانے اور مقدور بھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے مستعد رہنا۔
Ayah 30:54آیت نمبر : 54
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسعت علم ‘ عظمت اقتدار اور کمال حکمت کو بیان کرتا ہے کہ اس نے انسان کو کمزوری سے پیدا کیا اور وہ اس کی تخلیق کے ابتدائی مراحل ہیں یعنی اس نطفے سے جما ہوا خون بنایا پھر گوشت کا لوتھڑا بنایا اور پھر رحم کے اندر زندہ انسان بنایا پھر اس کو ماں کے پیٹ سے پیدا کیا۔ جب وہ سن طفولیت میں ہوتا ہے تو انتہائی ضعیف اور اس میں قوت وقدرت معدوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی قوت میں اضافہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جوانی کو پہنچ جاتا ہے ‘ اس کی قوت اور اس کے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجاتے ہیں۔ پھر اس مرحلے سے کمزوری اور بڑھاپے کی طرف لوٹتا ہے۔
(یخلق مایشآء) وہ اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ بندہ اپنے ضعف کا مشاہدہ کرے۔ اس کی قوت دو قسم کی کمزوریوں سے گھری ہوئی ہے اور فی نفسہ اس کے پاس نقص کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے طاقت عطا نہ کرے تو اسے طاقت حاصل ہوسکتی ہے نہ قدرت اور اگر اس کی قوت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے تو وہ بغاوت اور سرکشی میں بڑھتا چلاجائے گا۔ بندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت دائمی ہے وہ اپنی قدرت سے جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے ‘ اپنی قدرت سے تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اسے تھکن لاحق ہوتی ہے نہ کمزوری اور نہ کسی طرح اس میں کمی واقع ہوتی ہے۔
Ayahs 30:55–57آیت نمبر : 55 ۔ 57
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے بارے میں آگاہ فرما رہا ہے کہ وہ بہت جلد آنے والا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو (یقسم المجرمون) ” مجرم اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے “ کہ بلاشبہ وہ (مالبتوا) ” نہیں رہے تھے “ دنیا میں (غیر ساعۃ) ” سوائے ایک گھڑی کے “ وہ یہ عذر اس لیے پیش کریں گے کہ شاید دنیا کی مدت کو کم کہنا انہیں کوئی فائدہ دے۔
چونکہ ان کی یہ بات جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (کذلک کانوا یؤفکون) ” وہ اسی طرح غلط اندازے لگایا کرتے تھے۔ “ یعنی وہ دنیا کے اندر بھی ہمیشہ حقائق کو چھوڑ کر کذب بیان کرتے رہے اور جھوٹ گھڑتے رہے ‘ دنیا کے اندر انہوں نے حق کی تکذیب کی جسے انبیائے کرام لے کر آئے تھے اور آخرت میں وہ امر محسوس ‘ یعنی دنیا کے اندر طویل مدت تک رہنے کا انکار کریں گے۔ یہ ان کا بدترین خلق ہے اور بندہ اسی عادت اور ہیئت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرے گا۔
(وقال الذین اوتوا العلم والایمان) ” اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے۔ “ یعنی جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے ان دو چیزوں کے ساتھ احسان کیا اور حق کا علم اور وہ ایمان جو حق کی ترجیح کو مستلزم ہے ان کا وصف بن گیا۔ جب انہوں نے حق کو جان لیا اور حق کو ترجیح دی تو لازم ہے کہ ان کا قول واقع اور ان کے احوال کے مطابق ہو ‘ بنا بریں وہ حق بات کہیں گے : (لقد لبثتم فی کتب اللہ) ” تم اللہ کی کتاب کے مطابق رہے ہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مطابق ‘ جو اس نے اپنے حکم میں تمہارے لیے مقرر کردی تھی (الی یوم البعث) ” قیامت تک “ یعنی تمہیں اس قدر عمر دی گئی تھی کہ جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرسکتا تھا ‘ تدبر کرنے والا اس میں تدبر کرسکتا تھا اور عبرت پکڑنے والا اس میں عبرت پکڑسکتا تھا حتیٰ کہ قیامت آگئی اور تم اس حال کو پہنچ گئے۔ (فھذا یوم البعث ولکنکم کنتم لا تعلمون) ” پس یہ یوم قیامت ہے ‘ لیکن تم (اسے حق) نہیں جانتے۔ “ اس لیے تم نے اس کا انکار کیا ‘ تم نے دنیا میں ایک مدت تک کے لیے اپنے قیام کا انکار کیا جس میں توبہ اور انابت تمہارے بس میں تھی ‘ مگر جہالت اور اس کے آثار ‘ یعنی تکذیب تمہارا شعار اور خسارہ تمہارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔
(فیؤمئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم) ” یقیناً اس دن ظالمو کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہیں دے گی “ یعنی اگر وہ جھوٹ بولتے ہوئے یہ سمجھیں کہ ان پر حجت قائم نہیں ہوئی یا ایمان لانا ان کے بس میں نہ تھا تو اہل علم و ایمان کی گواہی بلکہ خود ان کی اپنی کھالوں ‘ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کی گواہی سیان کو جھٹلا دیا جائے گا۔ اگر وہ معذرت کی اجازت چاہیں کہ ان کو اب واپس لوٹا دیا جائے تو وہ ایسا کام ہرگز نہیں کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے۔۔۔ تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے گی۔ (ولا ھم یستعتبون) ” اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی “ یعنی وہ ہمیشہ زیرہ عتاب رہیں گے۔
Ayahs 30:58–60آیت نمبر : 58 ۔ 60
(ولقد ضربنا) ” اور ہم نے بیان کی “ اپنی عنایت ‘ رحمت ‘ لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر (للناس فی ھذا القران من کل مثل) ” لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال “ جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں ‘ تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہوچکی ہے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز مجرموں کی حالت کیا ہوگی۔ وہ شدت غم میں مبتلا ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔
ظالم کفار واضح حق کے بارے میں عناد رکھنے سے باز نہ آئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولئن جئتھم بایۃ) ” اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں “ جو آپ کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہو۔ (لیقولن الذین کفروآ ان انتم الا مبطلون) ” تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعل سازی کرتے ہو۔ “ یعنی وہ حق کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ باطل ہے۔ یہ ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے باعث تھا نیز اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ اپنی جہالت میں دور تک نکل گئے۔
(کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لایعلمون) ” اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔ “ اس لیے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی داخل ہوسکتی ہے نہ وہ اشیاء کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں بلکہ اس کے برعکس انہیں حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔
(فاصبر) ” پس صبر کیجیے ! “ اپنی دعوت الی اللہ اور جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہیے۔ اگر آپ ان کے اندر روگردانی اور اعراض دیکھتے ہیں تو یہ چیز آپ کو اپنی دعوت سے نہ روک دے۔ (ان وعداللہ حق) ” یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے “ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ چیز صبر میں مدد دیتی ہے کیونکہ جب بندے کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا عمل رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کا اجر اسے کامل طور پر مل جائے گا ‘ تو اسے اس راستے میں جو تکالیف اور مصائب پہنچتے ہیں وہ اسے معمولی نظر آتے ہیں ‘ اس کے لیے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے اور اسے ہر بڑا اور زیادہ عمل کم نظر آتا ہے۔
(ولا یستخفنک الذین لا یوقنون) یعنی وہ لوگ آپ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں جن کا ایمان کمزور اور یقین بہت کم ہے ‘ بنا بریں ان کی عقل بہت خفیف اور ان میں صبر بہت کم ہے۔ پس یہ لوگ آپ کو ہرگز کمزور نہ پائیں آپ ان سے بچتے رہیں اور ان کی پروا نہ کریں ورنہ وہ آپ کو بہت کمزور اور ہلکا سمجھیں گے اور آپ کو اوامرو نواہی میں عدم ثبات پر محمول کریں گے۔ اس بارے میں نفس ان کی معاونت کرتا ہے اور مشابہت اور موافقت تلاش کرتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن جو صاحب یقین ہو اور پختہ عقل رکھتا ہو اس کے لیے صبر کرنا بہت آسان ہے اور ہر کمزور یقین اور کمزور عقل شخص کم صبر والا ہوتا ہے۔ پہلی صورت گویا مغز کی مانند ہے اور دوسری صورت چھلکے کی سی ہے۔ واللہ المستعان۔