29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 29:41–43

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم یہ مثالیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اسے تو اہل دانش ہی سمجھتے ہیں

آیت 41 یہ مثال ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس شخص کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کا مقصد ان سے عزت قوت اور منفعت کا حصول ہے حالانہ حقیقت اس کے مقصود کے بالکل برعکس ہے۔ اس شخص کی مثال اس مجڑی کی سی ہے جس نے جالے کا گھر بنایا ہوتا کہ گرمی سردی اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔ (وان اوھن البیوت) مگر سب سے کمزور گھر ( لبیت العنکبوت) ” مکڑی کا گھر ہوتا ہے مکڑی کا شمار کمزور حیوانات میں ہوتا ہے اور اس کا گھر تو سب سے کمزور گھر ہے وہ گھر بنا کر اس میں کمزوری کے سوا کچھ اضاعہ نہیں کرتی۔ اسی طرح مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھی ہیں وہ ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہیں یہ لوگ غیر اللہ کی اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریچے سے عزت اور فتح و تصرت حاصل کریں مگر وہ اپنی کمزوری اور بےبسی ہی میں اضاعہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بہت سے مصالح کو ان پر بھروسہ کرتے ہوئے ان پر چھوڑ دیا اور ان سے الگ ہوگئے کہ عن قریب ان کے معبود ذمہ داری اٹھالیں گے تو ان کی معبودوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ پس انہیں ان سے کوئی فائدہ اور کوئی ادنیٰ سی مدد بھی حاصل نہیں ہوسکی۔ اگر انہیں اپنے حال کے بارے میں حقیقی علم ہوتا اور انہیں ان ہستیوں کی بےبسی کا حال بھی معلوم ہوتا تو وہ انہیں کبھی معبود نہ بناتے ان سے بڑزای کا اظہار کرتے اور رب قادر و رحیم کو اپنا والیو مددگار بناتے۔ ببندہ جب اس قادر و رحیم کو اپنا سرپرست بنا کر اس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے دین و دنیا کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ اسے قلب و بدن اور حال و اعمال میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کے معبود ان باطل کی کمزوری بیان کرنے کے معد اس سے زیادہ بلیغ اسلوب کی طرف ارتقاء کیا فرمایا کہ ان معبود ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں بلکہ یہ تو مجر و نام ہیں جو انہوں نے گھڑ لئے ہیں اور محض وہم و گمان ہے جس کو انہوں نے عقیدہ بنا لیا ہے۔ تحقیق کے وقت ایک عقل مند شخص پر اس کا بطلان واضح ہوجائے گا بنابریں فرمایا : (ان اللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شیء) یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے .... اور وہ غائب و موجود کا علم رکھنے والا ہے .... کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کو پکارتے ہیں ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ان کا کوئی وجود ہے نہ وہ حقیقت میں الٰہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : (ان ھی الا اسماء سمیتموھا انتم وابا ئکم ما انزل اللہ بھا من سلطن) (النجم : 35؍32) ” یہ صرف نام ہیں جن کو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے جس پر اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ “ اور فرمایا : (وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء ان یتبعون الا الظن وان ھم الا یخرصون) (یونس : 1؍66) ” اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کچھ خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ صرف وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ محض قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ “ (وھو العزیز) جو تمام قوت کا مالک اور جو تمام مخلوق پر غالب ہے (الحکیم) جو تمام چیزوں کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے جس نے ہر چیز کو بہترین تخلیق سے نوازا اور اس نے جو حکم دیا بہترین حکم دیا۔ (وتلک الامثال نضربھا لناس) ” اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ مثالیں لوگوں کے فائدے اور ان کی تعلیم کی خاطر بیان کی ہیں کیونکہ ضرب الامثال علوم کو توضیح کے ساتھ بیان کرنے کا طریقہ ہے۔ ضرب الامثال کے ذریعے سے امور عقلیہ کو امورحیہ کے قریب لایا جاتا ہے اور مثالوں کے ذریعے سے معانی مطلوبہ واضح ہوجاتے ہیں۔ (وما یعقلھا) مگر اس میں غور و فکر کے بعد اس میں وہی لوگ فہم حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے قلب میں عقل کے ساتھ وہی لوگ اس کی تطبیق کرتے ہیں، (الا العلمون) جو حقیقی اہل علم ہیں اور علم ان کے قلب کی گہرائیوں میں جگزیں ہے۔ یہ ضرب الامثال کی کی مدح و توصیف ہے نیز ان میں تدبر کرنے اور ان کو سمجھنے کی ترغریب اور جو کوئی ان میں سمجھ پیدا کرتا ہے اس کی مدح ثنا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرب الا مثال استعمال کرنے والا شخص اہل علم میں سے ہے اور تیز جو ان کو نہیں سمجھتا وہ اہل علم میں شمار نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قراٰن مجید میں جو امثال بیان کی ہیں وہ بڑے بڑے امور مطالب عالیہ اور مسائل جلیلہ میں بیان کی ہیں اہل علم جانتے ہیں کہ ضرب الامثال دیگر اسالیب بیان سے زیادہ اہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو در خور اعتناء قرار دیا ہے اور اپنے کو ترغیب دی ہے کہ وہ ان میں غور و فکر کریں اور ان کی معرفت محاصل کرنے کی پوری کوشش کریں۔ رہا وہ شخص جو ضرب لامثال کی اہمیت کے باوجو ان کو نہیں سمجھتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اہل علم میں سے نہیں ہے کیونکہ جب وہ نہایت اہم مسائل کی معرفت نہیں رکھتا تو غیر اہم مسائل میں اس کی عدم معرفت زیادہ اولیٰ ہے بنابریں اللہ تمارک و تعالیٰ نے زیادہ تر اصول دین وغیرہ میں ضرب الامثال استعمال کی ہیں۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے

آیت 44 یہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے کہ جس نے آسمانوں کو ان کی بلندیوں ان کی کشادگی ان کی خوبصورتی اور ان کے اندر سورج چاند دیگر سیار گان اور فرشتوں کی موجودگی کے باوجود اکیلے تخلیق کیا ہے اور وہی ہے جو زمین اور اس کے پہاڑوں سمندروں صحراؤں بیابانوں اور درختوں کی تخلیق میں متفرد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو عبث بےکار اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو صرف اس لئے تخلیق فرمایا ہے کہ اس کا حکم اور شریعت نافذ ہو اور اس کے بندوں پر اس کی نعمت کا اتمام ہوتا کہ بندے اس کی حکمت اس کے غلبہ اور اس کی تدبیر کائنات کا مشاہدہ کریں جو اس حقیقت کی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے کہ وہ اکیلا ان کا معبود محبوب اور الٰہ ہے۔ (ان فی ذلک لایۃ للمؤ منین) بیشک اس میں اہل ایمان کے لئے بہت سے مطالب ایمانیہ کی طرف راہنمائی کے لئے نشانیاں ہیں جب بندہء مومن ان میں تدبر کرتا ہے تو ان نشانیوں کو عیاں دیکھتا ہے۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے جانتا ہے

آیت نمبر : 45 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وحی و تنزیل یعنی اس کتاب عظیم کی تلاوت کا حکم دیتا ہے۔ یہاں اس کتاب عظیم کی تلاوت کا معنی یہ ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ‘ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کیا جائے ‘ اس کی ہدایت کو راہ نما بنایا جائے ‘ اس کی خبر کی تصدیق ‘ اس کے معانی میں تدبر اور اس کے الفاظ کی تلاوت کی جائے۔ تب اس کے الفاظ کی تلاوت ‘ معنی ہی کا جز شمار ہوگی۔ جب تلاوت کا معنی مذکورہ بالا امور کو شامل ہے تو معلوم ہوا کہ مکمل اقامت دین تلاوت کتاب میں داخل ہے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (واقم الصلوٰۃ) ” اور نماز قائم کرو۔ “ عام طور پر عطف خاص کے باب میں سے ہے اور اس کی وجہ نماز کی فضیلت ‘ اس کا شرف اور اس کے اچھے اثرات ہیں۔ (ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر) ” بیشک نماز فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔ “ (الفحشآء) سے مراد ہر وہ بڑا گناہ ہے جس کی قباحت مسلم اور نفس میں اس کی چاہت ہو۔ (المنکر) سے مراد ہر وہ گناہ ہے جس کو عقل و فطرت برا سمجھے۔ نماز کا فواحش و منکرات سے روکنے کا پہلو یہ ہے کہ بندۂ مومن جو نماز کو قائم کرتا ہے اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے ارکان و شرائط کو پورا کرتا ہے ‘ اس کا دل روشن اور پاک ہوجاتا ہے ‘ اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ‘ نیکیوں میں رغبت بڑھ جاتی ہے اور برائیوں کی طرف رغبت کم یا بالکل معدوم ہوجاتی ہے۔ اس طریقے سے نماز پر دوام اور اس کی محافظت ضرور فواحش و منکرات سے روکتی ہے۔ پس فواحش و منکرات سے روکنا نماز کا سب سے بڑا مقصد اور اس کا سب سے بڑا ثمرہ ہے۔ نماز کو قائم کرنے میں ایک اور مقصد بھی ہے جو پہلے مقصد سے عظیم تر ہے اور وہ ہے نماز کا اللہ تعالیٰ کے قلبی ‘ لسانی اور بدنی ذکر پر مشتمل ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور بہترین عبادت جو مخلوق کی طرف سے پیش کی جاتی ہے وہ نماز ہے ‘ نیز نماز کے اندر تمام جوارح کی عبودیت شامل ہوتی ہے جو کسی اور عبادت میں نہیں ہوتی ‘ بنا بریں فرمایا (ولذکر اللہ اکبر) ” اور اللہ کا ذکر بڑا ہے۔ “ اس میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور اس کی مدح کی ‘ اس لیے آگاہ فرمایا کہ نماز کے باہر اللہ تعالیٰ کا ذکر نماز سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ‘ جیسا کہ جمہور مفسرین کا قول ہے ‘ مگر پہلا معنی اولیٰ ہے کیونکہ نماز اس ذکر سے بہتر ہے جو نماز سے باہر ہو کیونکہ نماز بذات خود سب سے بڑا ذکر ہے۔ (واللہ یعلم ما تصنعون) اور تم جو نیکی یا برائی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے ‘ وہ تمہیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو ان میں سے بےانصافی کریں (ان کے ساتھ اسی طرح کا مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

آیت نمبر : 46 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل کتاب سے ایسی بحث کرنے سے روکتا ہے جو بصیرت کی بنیاد پر اور کسی مسلمہ قاعدے کے مطابق نہ ہو ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ جب بھی اہل کتاب سے بحث کریں تو احسن انداز ‘ حسن اخلاق اور نرم کلامی سے ان کے ساتھ بحث کریں اور دعوت اسلام بہترین طریقے سے پیش کریں اور باطل کو قریب ترین ذریعے سے رد کریں۔ اس بحث کا مقصد محض جھگڑنا اور مدمقابل پر غلبہ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد حق کا بیان اور مخلوق کی ہدایت ہو۔ اہل کتاب میں سے ایسے آدمی کے سوا جس نے اپنے اس ارادے اور حالت کا اظہار کرکے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اس کے بحث کرنے کا مقصد وضاحت حق نہیں بلکہ وہ تو صرف غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے بحث کرنے کا مقصد ضائع ہوجائے گا۔ (وقولوآ امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم والھنا والھکم واحد) ” اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ “ یعنی اہل کتاب کے ساتھ تمہاری بحث اور مناظرے کی بنیاد اس کتاب پر ہونی چاہیے جو تم پر نازل ہوئی ہے اور جو ان پر نازل ہوئی ہے ‘ نیز تمہارے رسول اور ان کے رسول پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر ایمان اس بحث و مناظرے کی اساس ہو۔ ان کے ساتھ اس طریقے سے بحث کریں جس سے کتب الٰہیہ اور انبیاء ومرسلین میں جرح و قدح لازم نہ آتی ہو جیسا کہ مناظرہ وہ بحث کے وقت جہلا کا وتیرہ ہے۔ جہلاء اپنے مدمقابل کے حق اور باطل ‘ ہر بات میں جرح و قدح کرتے ہیں۔ یہ طریقۂ بحث ظلم ‘ واجب کو نظرانداز کرنا اور اداب مناظرہ کی حدود سے تجاوز ہے کیونکہ واجب یہ ہے کہ مخالف کے باطل نظریات کو رد کیا جائے اور اس کی حق باتوں کو قبول کیا جائے۔ اپنے موقف کو حق ثابت کرنے کے لیے مخالف کی حق بات کو کبھی رد نہ کیا جائے خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ‘ نیز اہل کتاب کے ساتھ اس نہج پر مناظرہ کرنے سے ان پر قرآن اور قرآن کے لانے والے رسول ﷺ کا اقرار لازم آتا ہے کیونکہ جب وہ ان اصول دینیہ پر بحث کرے گا جن پر تمام انبیاء و رسل اور کتب الٰہیہ متفق ہیں، مناظرہ کرنے والے دونوں گروہوں کے نزدیک وہ مسلمہ اور اس کے حقائق ثابت شدہ ہیں، نیز تمام کتب سابقہ اور انبیاء ومرسلین قرآن اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ کی تائید کرتے ہیں۔۔۔ یہ کتب الٰہیہ ان حقائق کو واضح کرتی ہیں ‘ ان پر دلالت کرتی ہیں اور انہی کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔۔۔ تو اس پر تمام کتابوں اور تمام رسولوں کی تصدیق لازم آئے گی اور یہ اسلام کے خصائص میں سے ہے۔ یہ کہنا کہ ہم فلاں کتاب کی بجائے فلاں کتاب کی دلیل کو تسلیم کرتے ہیں ‘ یہی حق ہے جس پر کتب سابقہ دلالت کرتی ہیں تو یہ ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ ان کا یہ قول کتب الٰہیہ کی تکذیب ہے کیونکہ اگر وہ قرآن کی دلیل کی تکذیب کرتا ہے ‘ جو گزشتہ کتب سماویہ کی تصدیق کرتا ہے ‘ تو یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ ان تمام کتب سماویہ کی تکذیب کرتا ہے جن پر ایمان لانے کا وہ دعویدار ہے ‘ نیز ہر وہ طریقہ جس سے کسی بھی نبی کی نبوت ثابت ہوتی ہے تو اسی طریقے سے محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت بہتر طور پر ثابت ہوتی ہے۔ ہر وہ شبہ جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں جرح و قدح کا باعث ہے اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ دیگر انبیاء کی نبوت میں جرح و قدح کا موجب بن سکتا ہے۔ اگر دیگر انبیاء کی نبوت میں اس شبہ کا بطلان ثابت کیا جاسکتا ہے تو نبی اکرم ﷺ کی نبوت میں اس قسم کے شبہات کا بطلان بہ درجہ اولیٰ ثابت کیا جاسکتا ہے۔ (ونحن لہ مسلمون) ” اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ “ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے ‘ اسے معبود بناتا ہے ‘ اس کی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لاتا ہے ‘ اس کی اور اس کے رسولوں کی اطاعت کرتا ہے تو وہ سعادت مند ہے اور جو کوئی اس راستے سے انحراف کرتا ہے وہ بدبخت ہے۔
Ayahs 29:47–48

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے

آیت نمبر : 47-48 (وکذلک انزلنا الیک الکتب) ” اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اتاری کتاب “ یعنی اے محمد ﷺ ہم نے آپ پر یہ کتاب کریم نازل کی جو ہر بڑی خبر کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے جو ہر خلق حسن اور ہر امر کامل کی طرف دعوت دیتی ہے ‘ جو تمام کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے جن کے بارے میں گزشتہ انبیاء نے خبر دی ہے۔ (فالذین اتینھم الکتب) ” پس جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے “ انہوں نے اسے اس طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور ان کے ہاں کسی حسد نے مداخلت کی ہے نہ خواہشات نفس نے۔ (یومنون بہ) ” وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ “ کیونکہ انہیں اس کے برحق اور سچے ہونے کا یقین ہوگیا ہے ‘ اس لیے کہ انہی کی کتابوں میں ایسی باتیں ہیں جو قرآن کے موافق ہیں اور بشارتیں ہیں اور ایسے امور ہیں جن کے ذریعے سے وہ حسن و قبح اور صدق و کذب میں امتیاز کرتے ہیں۔ (ومن ھؤلآء) ” اور ان لوگوں میں سے۔ “ جو موجود ہیں (من یؤمن بہ) ” ایسے بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس کے ساتھ۔ “ یعنی جو اس پر رغبت اور خوف کی بنا پر نہیں بلکہ بصیرت کی بنا پر ایمان لاتے ہیں (وما یجحد بایتنا الا الکفرون) ” اور صرف کفار ہی ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں “ جن کی فطرت میں انکار حق اور عناد رچا بسا ہوا ہے۔ اس حصر کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے اس کا انکار کیا یعنی ان میں سے کسی شخص کا مقصد متابعت حق نہیں۔ ورنہ جس شخص کا مقصد صحیح ہے تو وہ لازمی طور پر ایمان لاتا ہے کیونکہ یہ واضح دلائل پر مشتمل ہے اور ان دلائل کو ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے جو عقل سے بہرہ ور ہے ‘ جو اسے توجہ سے سنتا ہے اور اس کی صداقت پر گواہ بھی ہے۔ اس عظیم کتاب کی صداقت پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ اسے وہ نبی امین لے آیا ہے جس کی صداقت اور امانت کا اس کی پوری قوم اعتراف کرتی ہے ‘ جس کے پورے معمولات اور تمام احوال کو اس کی قوم اچھی طرح جانتی ہے وہ اپنے ہاتھ سے لکھ نہیں سکتا بلکہ وہ تو لکھا ہوا پڑھ نہیں سکتا۔ اس صورتحال میں ایک کتاب پیش کرنا سب سے بڑی اور قطعی دلیل ہے ‘ جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب اور قابل ستائش ہے ‘ بنا بریں فرمایا : (وما کنت تتلوا) یعنی آپ پڑھ نہیں سکتے تھے (من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک اذا) ” اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ‘ اگر ایسا ہوتا۔ “ یعنی اگر آپ کا یہ حال ہوتا کہ آپ لکھ پڑھ سکتے تھے (لارتاب المبطلون) ” تو اہل باطل ضرور شک کرتے “ اور کہتے کہ محمد ﷺ نے تمام چیزیں پچھلی کتابوں سے پڑھی ہیں یا وہاں سے نقل کی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے قلب پر ایک جلیل القدر کتاب نازل فرمائی۔ اس جیسی کتاب لانے یا اس جیسی ایک سورت ہی بنا لانے کے لیے بڑے بڑے فصیح وبلیغ اور جھگڑالو دشمنوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی مگر وہ بالکل عاجز آگئے بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کو دیکھ کر انہوں نے اس کا مقابلہ کرنے کا خیال بھی دل سے نکال دیا۔
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

آیت نمبر : 49 (بل) ” بلکہ “ یہ قرآن کریم (ایت بینت) ” واضح آیات ہیں “ نہ کہ مخفی (فی صدور الذین اوتوا العلم) ” ان لوگوں کے سینوں میں جو علم دیے گئے ہیں۔ “ یہ لوگ تمام مخلوق کے سردار ‘ ان کے زیادہ عقل و خرد رکھنے والے اور کامل لوگ ہیں۔ جب ان آیات بینات نے اس قسم کے اصحاب خرد کے سینوں کو منور کر رکھا ہے تو دوسروں پر تو بدرجہ اولیٰ حجت ہیں اور دوسرے لوگ انکار کرکے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور یہ انکار ظلم کے سوا کچھ نہیں ‘ بنا بریں فرمایا : (وما یجحد بایتنآ الا الظلمون) ” اور ہماری آیات کا انکار صرف ظالم لوگ کرتے ہیں۔ “ یعنی ان آیات کا انکار ایک جاہل شخص ہی کرسکتا ہے جو علم کے بغیر بحث کرتا ہے اور اہل علم اور ان لوگوں کی اقتدا نہیں کر ستا جو اس کی حقیقت کی معرفت رکھتے ہیں ‘ یا ان آیات کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو حق کو جان کر اس سے عناد رکھتے ہیں اور اس کی صداقت کو پہچان کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
Ayahs 29:50–52

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

آیت نمبر : 52-51-50 جب رسول اللہ ﷺ یہ کتاب عظیم لے کر آئے تو ان ظالموں نے اعتراض کیا اور معینہ معجزات کے نزول کا مطالبہ کیا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعا) (بنی اسرائیل : 71/09) ” اور انہوں نے کہا ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے پانی کا ایک چشمہ جاری نہ کردے۔ “ معجزات و آیات کا تعین ان کے بس کی بات ہے نہ رسول ﷺ کے اختیار میں ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی تدابیر ہیں اور کسی کے اختیار میں کچھ نہیں ‘ اس لیے فرمایا : (قل انما الایت عنداللہ) ” کہہ دیجیے ! معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔ “ لہٰذا اگر وہ چاہے تو وہ یہ آیات نازل کردے اور نہ چاہے تو روک دے۔ (وانمآ انا نذیر مبین) ” اور میں تو صرف کھلا خبردار کرنے والا ہوں “ اس سے زیادہ میرا کوئی مرتبہ نہیں۔ مقصد تو باطل سے حق کو واضح کرنا ہے۔ جب کسی بھی طریقے سے مقصد حاصل ہوگیا تو معین معجزات کا مطالبہ کرنا ظلم و جور ‘ اللہ تعالیٰ اور حق کے ساتھ تکبر اور عناد ہے ‘ بلکہ اگر رسول اللہ ﷺ ان آیات و معجزات کو نازل کرنے پر قادر ہوتے اور ان کے دلوں میں یہ بات ہوتی کہ وہ ان معجزات کے بغیر حق کو نہیں مانیں گے تو یہ حقیقی ایمان نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جو ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہے اس لیے وہ ایمان لے آئے۔ وہ اس لیے ایمان نہیں لائے کہ وہ حق ہے بلکہ اس لیے ایمان لائے ہیں کہ ان کا معجزے کا مطالبہ پورا ہوگیا۔ فرض کیا اگر ایسا ہی ہو تو معجزات نازل کرنے کا کون سا فائدہ ہے ؟ چونکہ مقصد تو حق بیان کرنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (اولم یکفھم) ” کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ؟ “ یعنی کیا انہیں آپ کی صداقت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کی صداقت کا یقین کافی نہیں ؟ (انآ انزلنا علیک الکتب یتلیٰ علیھم) ” کہ بلاشبہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ “ یہ مختصر اور جامع کلام ہے جو واضح آیات اور بہت سے روشن دلائل پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ رسول ﷺ کا ان پڑھ ہونے کے باوجود مجرد قرآن کا پیش کرنا ہی آپ کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے اس پر مستزاد اس کا انہیں مقابلہ کرنے کا چیلنج دینا اور ان کا مقابلہ کرنے میں بےبس ہونا دوسری بڑی دلیل ہے ‘ پھر علانیہ ان کے سامنے اس کا پڑھا جانا ‘ اس کا غالب و ظاہر ہونا اور یہ دعویٰ کیا جانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور رسول ﷺ کا ایسے حالات میں اس کو دلائل کے ذریعے سے غالب کرنا ‘ جبکہ آپ کے انصار و اعوان بہت کم اور مخالفین اور دشمن بہت زیادہ تھے ‘ تو ان حالات میں بھی آپ کا اس کو نہ چھپانا اور آپ کا اپنے عزم و ارادے سے باز نہ آنا بلکہ برسر عام شہروں اور بستیوں میں پکار پکار کر کہنا کہ یہ میرے رب کا کلام ہے۔۔۔ آپ کی صداقت کا بین ثبوت ہے۔ کیا کوئی اس کے ساتھ معارضہ کرسکتا ہے ‘ یا اس سے مقابلہ کرنے کی بات کرسکتا ہے ؟ پھر گزشتہ کتابوں پر اس کی نگہبانی کرنا ‘ صحیح باتوں کی تصدیق کرنا ‘ تحریف اور تغیر و تبدل کی نفی کرنا اور پھر اس کا اپنے اوامرو نواہی میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرنا ‘ اس کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ اس نے کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے یہ حکم نہ دیا ہوتا اور کسی ایسی چیز سے نہیں روکا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے اس چیز سے نہ روکا ہوتا بلکہ یہ کتاب اصحاب بصیرت اور خرد مندوں کے نزدیک عدل و میزان کے عین مطابق ہے۔ پھر اس کے ارشادات ‘ اس کی ہدایت و رہنمائی اور اس کے احکام تمام حالات و زماں کے لیے جاری وساری ہیں ‘ نیز تمام امور کی اصلاح اسی سے ممکن ہے۔۔۔۔ یہ تمام چیزیں اس شخص کے لیے کافی ہیں جو حق کی تصدیق چاہتا ہے اور حق کا متلاشی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کفایت عطا نہیں کرتا ‘ جس کے لیے قرآن کافی نہ ہو اور ایسے شخص کو شفا سے نہیں نوازتا جس کے لیے قرآن شافی نہ ہو۔ جو کوئی قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور اسے اپنے لیے کافی سمجھتا ہے تو یہ اس کے لیے رحمت اور بھلائی ہے ‘ اس لیے فرمایا : (ان فی ذلک لرحمۃ وذکری لقوم یؤمنون) ” بیشک مومنوں کے لیے اس میں نصیحت اور رحمت ہے۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم کتاب علم کثیر ‘ لامحدود بھلائی ‘ تزکیۂ قلب و روح ‘ تطہیر عقائد ‘ تکمیل اخلاق ‘ فتوحات الٰہیہ اور اسرار ربانیہ پر مشتمل ہے۔ (قل کفی باللہ بینی وبینکم شھیدا) ” کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ “ اس لیے میں نے اسے گواہ بنایا ہے اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کا عبرتناک عذاب نازل ہو اگر اللہ تعالیٰ میری تائید اور مدد کرتا اور میرے لیے میرے تمام معاملات آسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جلیل القدر شہادت تمہارے لیے کافی ہونی چاہیے اور اگر تمہارے دلوں میں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت۔۔۔ جسے تم نے سنا ہے نہ دیکھا ہے۔۔۔ دلیل کے لیے کافی نہیں تو اللہ تعالیٰ (یعلم ما فی السموت والارض) ” آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ میرا حال ‘ تمہارا حال اور میری باتیں اس کے جملہ علم میں شامل ہیں۔ اگر میں نے اس پر جھوٹ گھڑا ہے ‘ حالانکہ وہ اس کا علم رکھتا ہے اور مجھے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے ‘ تو یہ اس کے علم ‘ قدرت اور حکمت میں قادح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولو تقول علینا بعض الاقاویل۔ لاخذنا منہ بالیمین۔ ثم لقطعنا منہ الوتین) (الحاقۃ : 96/44۔ 64) ” اور اگر اس نے ہم پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑلیتے اور پھر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔ “ (والذین امنوا بالباطل وکفروا باللہ اولئک ھم الخسرون) ” اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کا انکار کیا ‘ وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ “ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان نہ لاکر خسارے میں رہے اور چونکہ ان سے دائمی نعمتیں چھوٹ گئیں اور حق کے مقابلے میں باطل حاصل ہوا اور نعمتوں کے مقابلے میں الم ناک عذاب ‘ اسی لیے وہ قیامت کے روز ‘ اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔
Ayahs 29:53–55

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو ان پر عذاب آ بھی گیا ہوتا اور وہ (کسی وقت میں) ان پر ضرور ناگہاں آ کر رہے گا اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب ان کو ان کے اوپر اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) ان کا مزہ چکھو

آیت نمبر : 55-54-53 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ اور قرآن کی تکذیب کرنے والے جہلا کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز یہ کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے اور تکذیب میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) (الملک : 76/52) ” یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولولا اجل مسمی) اگر اس عذاب کے لیے ایک مدت مقرر نہ کردی گئی ہوتی (لجآء ھم العذاب) ” تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ “ یعنی ان پر ہمیں عاجز اور بےبس سمجھنے اور حق کی تکذیب کرنے کی بنا پر عذاب نازل ہوجاتا۔ اگر ہم ان کو ان کی جہالت کی بنا پر پکڑتے تو ان کی باتیں انہیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بن جاتیں ‘ بایں ہمہ اس کے وقت نزول کو دور نہ سمجھیں کیونکہ یہ عذاب عنقریب ان کو پہنچے گا (بغتۃ وھم لا یشعرون) ” اچانک اور ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔ “ لہٰذا ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب وہ اتراتے اور تکبر کرتے ہوئے میدان ” بدر “ میں اترے تو وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا ‘ ان کے بڑے بڑے سردار قتل ہوگئے اور تمام شریر لوگوں کا استیصال ہوگیا اور (مکہ میں) کوئی گھرانہ ایسا نہ بچا جسے یہ مصیبت نہ پہنچی ہو۔ ان پر اس طرح عذاب آیا کہ ان کو وہم و گمان اور شعور تک نہ تھا۔۔۔ تاہم اگر ان پر دنیاوی عذاب نازل نہیں ہوا تو اخروی عذاب ان کے سامنے ہے جس سے کوئی شخص نہیں بچ سکے گا خواہ دنیا میں اس پر عذاب نازل ہوا ہو یا اسے مہلت دے دی گئی ہو۔ (و ان جھنم لمحیطۃ بالکفرین) ” اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرنے والی ہے۔ “ جہنم کا عذاب ان سے دور ہوگا نہ اسے ان سے ہٹایا جاسکے گا۔ جہنم کا عذاب انہیں ہر طرح سے گھیر لے گا جیسے ان کے گناہوں ‘ ان کی برائیوں اور ان کے کفر نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ یہ عذاب بہت سخت عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (یوم یغشھم العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلھم و یقول ذوقوا ما کنتم تعلمون) ” جس دن ان کو عذاب ڈھانپ لے گا ‘ ان کے اوپر اور ان کے قدموں کے نیچے سے اور اللہ کہے گا ‘ چکھو مزا اس کا جو تم کرتے تھے۔ “ کیونکہ تمہارے اعمال تمہارے لیے عذاب بن گئے جس طرح تمہارا کفر اور تمہارے گناہ بیشمار تھے اسی طرح تمہارے لیے عذاب بھی لامحدود ہوگا۔
Ayahs 29:56–59

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلا ہے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

آیت نمبر : 56-59 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (یعبادی الذین امنوآ) ” اے میرے بندوں جو ایمان لائے ہو ! “ اور جنہوں نے میرے رسول کی تصدیق کی ہے (ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون) ” میری زمین فراخ ہے ‘ پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ یعنی جب کسی سرزمین میں تمہارے لیے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین میں چلے جاؤ جہاں تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہیں بہت کشادہ ہیں۔ تمہارا معبود ایک ہے اور موت تمہیں آکر رہے گی پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ اس شخص کو بہترین جزا سے نوازے گا جس نے ایمان اور عمل صالح کو اکٹھا کیا ‘ وہ انہیں رفیع الشان بالا خانوں اور خوبصورت منازل میں ٹھہرائے گا وہاں وہ تمام چیزیں جمع ہوں گی جسے نفس چاہتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور ان منازل میں تم ہمیشہ رہو گے۔ (نعم) نعمتوں بھری جنت کے اندر یہ منازل بہترین (اجر العلمین) ” اجر ہے عمل کرنے والوں کا “ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے۔ (الذین صبروا) ” جنہوں نے صبر کیا “ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر (وعلی ربھم یتوکلون) ” اور وہ اس معاملے میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ “ عبودیت الٰہی پر ان کا صبر اس بارے میں سخت جدوجہد اور شیطان کے خلاف بہت بڑی جنگ کا تقاضا کرتا ہے ‘ جو اس عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ان کو دعوت دیتا رہتا ہے۔ ان کا توکل ‘ اللہ تعالیٰ پر ان کے بہت زیادہ اعتماد کا مقتضی ہے نیز اللہ تعالیٰ پر ان کا حسن ظن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ان کے اعمال کو متحقق کرکے پایۂ تکمیل کو پہنچائے گا جن کا انہوں نے عزم کیا ہے۔ ہرچند کہ توکل ‘ صبر کے اندر داخل ہے تاہم یہاں اس کو الگ بیان کیا ہے کیونکہ بندہ ہر فعل کے کرنے اور ترک کرنے میں ‘ جن کا انہیں حکم دیا گیا ہے ‘ توکل کا محتاج ہے اور کسی کام کو ترک کرنا یا اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا توکل علی اللہ کے بغیر اتمام پذیر نہیں ہوتا۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

آیت نمبر :60 اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات ‘ خواہ وہ عاجز ہوں یا طاقت ور ‘ سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ (من دآبۃ) روئے زمین پر کتنے ہی کمزور اعضا اور کمزور عقل والے چوپائے ہیں (لاتحمل رزقھا) ” جو اپنا رزق نہیں اٹھائے پھرتے “ اور نہ وہ ذخیرہ کرتے ہیں بلکہ ان کے پاس رزق کے لیے کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ‘ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں وقت پر رزق مہیا کرتا ہے۔ (اللہ یرزقھا وایاکم) ” اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ “ تم سب اللہ تعالیٰ کی کفالت میں ہو جو تمہارے رزق کا اسی طرح انتظام کرتا ہے جس طرح اس نے تمہاری تخلیق اور تدبیر کی ہے۔ (وھو السمیع العلیم) ” اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ “ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ کوئی جاندار عدم رزق کی بنا پر ہلاک نہیں ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہ گیا اور اسے رزق مہیا نہ ہوسکا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا ویعلم مستقرھا ومستودعھا کل فی کتب مبین) (ھود : 11/6) ” اور زمین پر چلنے والا کوئی جان دار ایسا نہیں جس کے رزق کی کفالت اللہ کے ذمہ نہ ہو وہ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانا ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے ہر چیز ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ “
Ayahs 29:61–63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا ؟ تو کہہ دیں گے خدا نے، تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا ؟ تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

آیت نمبر : 63-62-61 ان آیات کریمہ میں مشرکین کے خلاف ‘ جو توحید الوہیت اور توحید عبادت کی تکذیب کرتے ہیں۔۔۔ توحید ربوبیت کے ذریعے سے ‘ جس کا وہ اقرار کرتے ہیں۔۔۔ الزای استدلال کیا گیا ہے۔ آپ ان سے پوچھیں کہ زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کون ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کے مرنے کے بعد اس کو زندگی عطا کرتا ہے اور کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر ہے ؟ (لیقولن اللہ) تو وہ جواب دیں گے کہ اکیلے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان تمام امور میں بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی ‘ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں ‘ بےبسی کا اعتراف کریں گے۔ ان کے جھوٹ اور بہتان طرازی پر تعجب کیجیے کہ وہ خود ساختہ معبودوں کی عاجزی اور بےبسی کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز کی تدبیر کرنے کے مستحق نہیں بایں ہمہ وہ ان کی عبادت کی طرف مائل ہیں۔ آپ ان کو لوگوں کی اس فہرست میں لکھ دیجیے جن میں عقل معدوم ہے ‘ جو بیوقوف اور ضعیف العقل ہیں۔ کیا آپ کسی اور شخص سے زیادہ کم عقل اور بےبصیرت پائیں گے جو اپنی حاجت روائی کے لیے کسی پتھر کے بت یا قبر کے پاس آتا ہے حالانکہ اسے علم ہے کہ وہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟ جو تخلیق پر قادر ہیں نہ رزق رسانی پر ؟ پھر ان کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہیں اور انہیں اپنے رب کا شریک بنا دیتے ہیں جو خالق و رزاق اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ ہر قسم کی حمد و ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہدایت اور گمراہی کو کھول کھول کر بیان کردیا اور مشرکین کے موقف کا بطلان واضح کردیا تاکہ اہل ایمان اس سے بچے رہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ہر قسم کی حمد و ستائش کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو تخلیق فرمایا ‘ جو ان کی تدبیر کرتا ہے ‘ جو ان کو رزق بہم پہنچاتا ہیک ‘ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رزق کو تنگ کردیتا ہے یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اس کے بندوں کے لیے درست اور مناسب کیا ہے۔
Ayahs 29:64–69

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ سے شرک کرنے لگ جاتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور خدا تو نیکوکاروں کے ساتھ ہے

آیت نمبر : 64-68 اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بےرغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وما ھذہ الحیوۃ الدنیآ) ” اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی “ یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت (الا لھو و لعب) ” مگر کھیل کود۔ “ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب وزینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کردیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں ‘ آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں۔ پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر ختم ہوجائے گی اور اس دنیا سے محبت کرنے والے کو ندامت اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ رہا آخرت کا گھر تو وہی (الحیوان) حقیقی زندگی ہے ‘ یعنی آخرت کی زندگی درحقیقت کامل زندگی ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ آخرت کے لوگوں کے بدن نہایت طاقتور اور ان کے قویٰ نہایت سخت ہوں ‘ کیونکہ وہ ایسے ابدان اور قویٰ ہوں گے جو آخرت کی زندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اس زندگی میں ہر وہ چیز موجود ہوگی جو اس زندگی کی تکمیل کے لیے ضروری ہے اور جس سے لذت پوری ہوتی ہے مثلاً دلوں کو تازگی اور فرحت بخشنے والی چیزیں اور جسموں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے ماکولات ‘ مشروبات اور پاک بدن بیویاں وغیرہ ہوں گی جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے خیال میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ (لو کانو یعلمون) ” اگر وہ جانتے ہوتے “ تو وہ کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے اور اگر انہیں عقل ہوتی تو آخرت کی کامل زندگی کو چھوڑ کر لہو و لعب کی زندگی کی طرف مائل نہ ہوتے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جنہیں علم ہے انہیں آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہیے کیونکہ انہیں دونوں جہانوں کی حالت معلوم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے خلاف الزامی دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ سمندر میں کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو موجوں کے تلاطم اور انتہائی شدت کے وقت ہلاکت کے خوف سے اپنے خود ساختہ معبودوں کو پکارنا چھوڑ دیتے ہیں اور خالص اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے ہیں جو ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ جب یہ شدت اور مصیبت ختم ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ‘ جس کو انہوں نے اخلاص کے ساتھ پکارا تھا ‘ ان کو بچا کر ساحل پر لے آتا ہے تو وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتے ہیں جنہوں نے ان کو طوفانوں کی مصیبت سے نجات دی نہ ان سے مشقت کو دور کیا۔ وہ سختی اور نرمی ‘ تنگی اور آسانی دونوں حالتوں میں خالص اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں پکارتے تاکہ وہ حقیقی مومنین کے زمرے میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کے ثواب کے مستحق بن سکیں اور اس کے عذاب سے بچ سکیں ؟ مگر سمندر سے نجات کی نعمت کے بعد ان کا شرک کرنا ہماری عنایات کے مقابلے میں کفر اور ہماری نعمت کے مقابلے میں برائی کا ارتکاب ہے تو وہ اس دنیا سے خوب فائدہ اٹھالیں جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کا مطمح نظر بطن و فرج کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ (فسوف یعلمون) ” عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔ “ جب وہ اس دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ شدت غم اور دردناک عذاب کیا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے امن والے حرم کا احسان جتلایا ہے کہ اہل حرم امن اور کشادہ رزق سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے اور وہ خوف زدہ رہتے ہیں ‘ تو یہ اس ہستی کی عبادت کیوں نہیں کرتے جس نے بھوک اور قحط میں کھانا کھلایا اور خوف اور بدامنی میں امن مہیا کیا ؟ (افبالباطل یؤمنون) ” کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ “ اس سے مراد ان کا شرک اور دیگر باطل اقوال و افعال ہیں۔ (وبنعمۃ اللہ یکفرون) ” اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں “ ان کی عقل و دانش کہاں چلی گئی کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ‘ باطل کو حق پر اور بدبختی کو خوش بختی پر ترجیح دے رہے ہیں ؟ وہ مخلوق میں سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔ (ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا) ” اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ؟ “ اور اپنی گمراہی اور باطل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا۔ (او کذب بالحق لما جآء ہ) ” یا اس نے حق کو جھٹلا دیا جب وہ اس کے پاس آیا “ رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے۔ مگر اس ظالم اور معاند حق کے سامنے جہنم ہے (الیس فی جھنم مثوی للکفرین) ” کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے ؟ “ اس جہنم کے ذریعے سے ان سے حق وصول کیا جائے گا ‘ انہیں رسوا کیا جائے گا اور جہنم ان کا دائمی ٹھکانا ہوگا ‘ جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ (والذین جاھدوا فینا) ” اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی۔ “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ‘ اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کرنے کی بھرپور کوشش کی (لنھدینھم سبلنا) ” ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے۔ “ یعنی ہم ان کو ان راستوں پر گامزن کردیتے ہیں جو ہم تک پہنثتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکوکار ہیں۔ (وان اللہ لمع المحسنین) اور اللہ تعالیٰ اپنی مدد ‘ نصرت اور ہدایت کے ذریعے سے نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ صحیح بات کی موافقت کرنے کے حق دار اہل جہاد ہیں۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی احسن طریقے سے تعمیل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے اور ہدایت کے اسباب کو اس کے لیے آسان کردیتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو کوئی شرعی علم کی طلب میں جدوجہد کرتا ہے اسے اپنے مطلوب و مقصود اور ان امور الٰہیہ کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی معاونت اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے جو اس کے مدارک اجتہاد سے باہر ہیں اور امور علم اس کے لیے آسان ہوجاتے ہیں کیونکہ شرعی علم طلب کرنا جہاد فی سبیل اللہ کے زمرے میں آتا ہے ‘ بلکہ یہ جہاد کی دو اقسام میں سے ایک ہے جسے صرف خاص لوگ ہی قائم کرتے ہیں۔۔۔ اور وہ ہے منافقین و کفر کے خلاف قولی اور لسانی جہاد۔ امور دین کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنا اور مخالفین حق ‘ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں کے اعتراضات کا جواب دینا بھی جہاد ہے۔