Ayahs 27:54–58(آیت) 54
ہمارے بندے اور رسول لوط کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے فرمایا : (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم بےحیائی کرتے ہو ؟ “ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے (وانتم تبصرون) ” اور تم دیکھتے ہو “ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا پھر اللہ تبارے و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء) ” کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو “ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تم اپنی شہوت مردوں سے پوری کرتے ہو جبکہ ان کے پیٹھیں غلاظت، گندگی اور خباثت کا مقام ہیں اور اللہ نے تمہارے لئے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے تمہارا معاملہ بالکل الٹ ہوگیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنادیا (بل انتم قوم تجھلون) ” حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو “ یعنی تم اس فعل کی قباحت اور اس پر مرتب ہونے والی سزا اور عذاب سے جاہل ہو۔
(فما کان جواب قومہ) ” آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا “ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انہوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلا وطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا (الا ان قالوا اخرجوا ال لوط من قریتکم) ” انہوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو “ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوط کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے تو انہوں نے جواب دیا (انھم اناس یتطھرون) ” وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں “ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کا برے کرے انہوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنادیا انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انہوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے اکا ارادہ کرلیا، مصیبت کا دار و مدار زبان پر ہوتا ہے، اس لئے کہنے لگے (آیت) ” انہیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں “ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم ایسی خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو جو تمہاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے
(فانجینہ واھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین) ” پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچیھ رہنے والوں میں سے ہوگی اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوط کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان خوبصورت مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارداے سے لوط کے پاس آئے لوط نے دروازہ بند کرلیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا پھر فرشتوں نے لوط کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ انہیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لئے صبح کا وقت مقررہ کیا گیا ہے انہوں نے لوط سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھرو الوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہوگا لوط اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آلیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کردیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر براسئے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا :” وامطرنا علیھم مطرا فسآء مطر المنذرین ) ” اور ہم نے ان پر مبینہ برسایا پس (جو) مینہ اس دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا “ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کردیا۔
Ayah 27:59(آیت 59)
یعنی کہہ دیجیے (الحمد للہ) ” حمد و ستائش اللہ ہی کے لئے ہے “ جو اپنے کمال اوصاف، اپنے جمال عطا و بخشش، اہل تکذیب کو سزا دینے اور ظالموں کو عذاب دینے میں عدل و حکمت کی بنا پر کامل حمد و ستائش اور مدح وثناء کا مستحق ہے نیز اس کے بندوں انبیاء ومرسلین پر سلام بھیجے جن کو اس نے تمام جہانوں میں سے منتخب فرمایا جو رب کائنات کے چنے ہوئے اور محبوب بندے تھے اور یہ اس لئے ہے تاکہ ان کا ذکر اور ان کی تعظیم اور زیادہ ہو نیز اس لئے بھی کہ وہ شر اور گندگی سیپ اک ہیں، اپنے رب کے بارے میں جو کہتے ہیں وہ نقائص و عیوب سے محفوظ ہے۔ (اللہ خیر امایشرکون) ’ دبھلا اللہ بہتر ہے یا جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ “ یہ استفہام محقق اور معروف ہے، یعنی اللہ، رب عظیم، جو کامل اوصاف اور عظیم الطاف کا مالک ہے، بہتر ہے یا یہ اصنام واوثان بہتر ہیں، جن کی یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو خود اپنے لئے اور اپنے عبادت گزاروں کے لئے ذرہ بھر بھلائی کے مالک نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہستیوں سے بہتر ہے جن کو یہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 27:60آیت 60
اللہ تعالیٰ نے ان تمام تفاصیل کا ذکر کیا ہے جن سے صاف واضح ہوجاتا ہے کہ وہی الٰہ معبود ہے، صرف اسی کی دباعت حق اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت باطل ہے۔ چناچہ فرمایا :
(امن خلق السموت والارض) یعنی، بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں کو اور ان کے اندر سورج، چاند، ستاروں اور فرشتوں کو، نیز زمین کو اور اس کے اندر پہاڑوں، سمندروں، دریاؤں اور درختوں وغیرہ کو پیدا کیا ؟
(وانزل لکم) ” اور نازل کیا تمہارے لئے “ یعنی تمہاری خاطر (من السماء ماء فانکبتنا بہ حدائق) ” آسمان سے پانی، پھر ہم ہی نے اس سے باغات لگائے “ (ذات بھجۃ) ” رونق والے۔ “ یعنی وہ درختوں کی کثرت، ان کے تنوع اور اچھے پھلوں کی وجہ سے خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ (ماکان لکم ان تنبتوا شجرھا) اگر بارش نازل کرکے تم پر اللہ تعالیٰ نے احسان نہ کیا ہوتا تو تم ان درختوں کو کبھی اگا نہ سکتے۔ (ء الہ مع اللہ) ” کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے “ جو یہ افعال سرانجام دیتا ہو اور اس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بھی عبادت کی جائے ؟ (بل ھم قوم یعدلون) ” بلکہ یہ لوگ (تو اللہ تعالیٰ کے) ہمسر ٹھہراتے ہیں۔ “ اس حقیقت کا علم رکھنے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عالم علوی اور عالم سفلی کا خالق اور رزق نازل کرنے والا ہے، وہ غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں۔
Ayah 27:61(آیت 61
یعنی کیا یہ بت اور اضام جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوتا، جو رزق دینے پر قادر ہیں نہ کوئی نفع پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں، وہ بہتر ہیں یا اللہ تعالیٰ ؟ جس نے (جعل الارض قرارا) ” زمین کو قرار گاہ بنایا “ جہاں بندے گھر اور ٹھکانا بناتے ہیں، کھیتی باڑی کرتے ہیں، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور ادھر ادھر آتے جاتے ہیں۔ (وجعل خللھا انھرا) یعنی اس نے زمین کے اندر دریا جاری کئے جن سے اس کے بندے اپنی کھیتیوں اور باغات میں فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے خود پانی پیتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں۔
(وجعل لھا رواسی) ” اور رکھ دئیے اس کے اندر بوجھ۔ “ یعنی زمین کے اندر پہاڑ جمادئیے جو اسے مضبوط رکھتے ہیں تاکہ یہ کہیں ڈھلک نہ جائے اور پہاڑ میخوں کا کام دیں تاکہ زمین نہ ہلے (وجعل بین البحرین) ” دو دریاؤں کے مابین بنائی “ یعنی نمکین اور کھاری سمندر اور میٹھے سمندر کے درمیان (حاجزا) ” رکاوٹ۔ “ جو ان دونوں کو غلط ملط ہونے سے روکے ہوئے ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دونون پانیوں کی منفعت مقصود ضائع ہوجائے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کی رکاوٹ حائل کردی۔ اللہ تعالیٰ نے دریاؤں کی گزر گاہوں کو سمندر سے بہت دور رکھا ہے تاکہ دریاؤں سے مصالح اور مقاصد کا حصول ممکن ہو۔
(ء الہ مع اللہ) ” کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے “ جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو اور یوں اسے اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا جائے ؟ (بل اکثرھم لایعلمون) ” بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے “ اس لئے وہ اپنے سرداروں کی تقلید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ورنہ اگر انہیں پوری طرح عالم ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کبھی شرک نہ کرتے۔
Ayah 27:62(آیت 62
یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہستی ہے جو مضطرب و مجبور کی دعاؤں کا جواب دیتی ہو کہ جسے کرب و غم نے بےقرار کر رکھا ہو، جس کے لئے مطلوب کا حصول مشکل ہو اور جس مصیبت میں وہ مبتلا ہے اس سے گلوخلاصی پر مجبور ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا برائی، مصیبت، شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو کون دور کرتا ہے ؟ کون ہے جو تمہین زمین میں خلیفہ بناتا ہے، زمین میں تمہیں تمکن عطا کرتا ہے، تمہیں رزق سے نوازتا ہے اور تمہیں اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کرتا ہے ؟ اور تم گزرے ہوئے لوگوں کے خلیفہ بنتے ہو جس طرح عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں موت سے ہمکنار کرے گا اور تمہارے بعد کچھ اور لوگوں کو لے آئے گا۔ کیا للہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو ؟
کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے تمام افعال صدر ہوتے ہوں حتیٰ کہ اے مشرکو ! تمہیں خود بھی اس کا اقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تھی تو دین کو خالص کرکے صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے کیونکہ انہیں علم تھا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس تکلیف کو دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ (قلیلا ماتذکرون) یعنی تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو اور بہت کم تدبر کرتے ہو حالانکہ یہ معاملات ایسے ہیں کہ اگر تم ان سے نصیحت پکڑو تو تمہیں نصیحت آجائے اور تم ہدایت کی طرف لوٹ آؤ مگر غفلت اور اعراض تم پر مسلط ہے بنا بریں تم جہالت سے باز آتے ہو نہ راہ راست پر چلتے ہو۔
Ayah 27:63(آیت 63
وہ کون ہے جو تمہیں اس وقت راہ دکھاتا ہے جب تم بحروبر کی تاریکیوں میں سفر کررہے ہوتے ہو جہاں تمہارے پاس کوئی راہنمائی کرنے والا ہوتا ہے نہ کوئی علامت دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی ایسا وسیلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے تم سے نجات حاصل کرسکو۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی تمہارے کام آتی ہے، وہ تمہارے لئے راستے کو آسان کرتا ہے وہ تمہیں اسباب مہیا کرتا ہے جن کے ذریعے سے تم صحیح راستہ پالیتے ہو۔ (ومن یرسل الریح بشرابین یدی رحمۃ) ” اور کون ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ “ یعنی بارش ہونے سے پہلے۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کو بھیجتا ہے وہ بادل اٹھاتی ہیں، ان کو اکٹھا کرتی ہیں پھر ان کو بار آور کرتی ہیں اور بارش برسنے سے پہلے ہی بندے ان ہواؤں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
(ء الہ مع اللہ) ” کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے “ جس نے یہ تمام افعال سرانجام دئیے ہیں یا صرف اکیلے اللہ تعالیٰ سے یہ افعال صدر ہوئے ہیں ؟ پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرون کو کیوں شریک ٹھہراتے ہو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ (تعلیٰ اللہ عما یشرکون) اللہ بہت بڑا اور ان کے شرک اور ہمسر قرار دینے سے منزہ اور پاک ہے۔
Ayah 27:64آیت 64
وہ کون ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا ہے، جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتا ہے اور ان مخلوقات کی تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر قیامت کے روز مخلوق کا اعادہ کرے گا ؟ وہ کون ہے جو تمہیں بارش اور نباتات کے ذریعے سے آسمان اور زمین سے رزق مہیا کرتا ہے ؟ (ء الہ مع اللہ) کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور ہستی ہے جو یہ سب کچھ کرنے کی قدرت رکھتی ہو ؟ (قل ھالوا برھانکم) یعنی اپنے دعوے پر کوئی حجت اور دلیل لاؤ (ان کنتم صدقین) ” اگر تم سچے ہو “ ورنہ تمہارا یہ قول کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کیش ریک ہیں، مجرد دعویٰ ہے۔ اس کی توثیق و تصدیق کسی دلیل کے ساتھ کرو ورنہ اس حقیقت کا اعتراف کرلو کہ تمہارا موقف باطل ہے اور تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ پس تم یقینی اور قطعی دلائل اور براہین کی طرف رجوع کرو جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ اللہ جو تمام تصرفات کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ عبادت کی تمام انواع کو صرف اسی کے ساتھ مختص کیا جائے۔
Ayahs 27:65–68(آیت 65
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) (الانعام : 6 / 95) ” اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) (لقمان : 31 / 43) ” قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بیشک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “
اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس لئے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخر کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برترچیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا : (وما یشعرون) یعنی وہ نہیں جانتے (ایان یبعصون) ” وہ کب اٹھائے جائیں گے ؟ “ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کرکے کب کھڑا کیا جائے گا۔ یعنی پس اسی لئے انہوں نے تیاری نہیں کی۔ (بل ادرک علمھم فی الاخرۃ) ” بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔ “ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور (بل ھم فی شک منھا) ” بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ “ یعنی آخرت کے بارے میں۔ شک علم کو زائل کردیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ (بل ھم منھا) ” بلکہ وہ اس سے “ یعنی آخرت کے بارے میں (عمون) ” اندھے ہیں۔ “ ان کی بصیرتیں ختم ہوگئیں۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقال الذین کفروء اذا کنا تراباواباؤنا انا لمخرجون) ” اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔ “ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انہوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔ (لقا وعدنا ھذا) ” ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی “ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ (ان ھذا الا اساطیر الاولین) یعنی، یہ تو محض پہلے لوگون کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبردی کہ وہ کئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبردی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں۔۔۔ یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لئے انہوں نے گناہ اور معاصی کا اعتکاب کیا، ان کے لئے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہوگئی اور عبادت کے مقابلے میں انہوں نے شہوات کو حلال ٹھہرالیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑگئے۔
Ayah 27:69(آیت 69
اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء ومرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (قل سیروا فی الرض فانظرو کیف کان عاقبۃ المجرمین) ” کہہ دیجئے ! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیا ہوا ؟ “ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
Ayahs 27:70–72(آیت 70
یعنی اے محمد ! ﷺ آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکرو فریب کا برا انجام آخر کار انہی کی طرف لوٹے گا۔ (ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر المکرین) (الانفال : 8103) ” وہ چال چلتے ہیں، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے، اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ “
آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوص ہوئے ہیں، عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (متیٰ ھذا الوعد ان کنتم صدقین) ” اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ “ یہ ان کی جہالت اور حماقت پر مبنی رائے ہے کیونکہ اس وعدے کا وقوع اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے مطابق مقرر کررکھا ہے۔ اس کا جلدی نہ آنا ان کے کسی مطلوب و مقصود پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جس کے بارے میں وہ جلدی مچاتے ہیں اس کے بارے میں ڈراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (قل عسی ان یکون ردف لکم) یعنی ہوسکتا ہے وہ وقت مقرر قریب آگیا ہو اور ہوسکتا ہے وہ تم پر واقع ہونے کے قریب ہو۔ (بعض الذی تستعجلون) یعنی وہ عذاب جس کے لئے تم جلدی مچاتے ہو۔
Ayahs 27:73–75(آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جودوسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہر کو نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کردیتے ہیں۔ (وان ربک لیعلم ماتکن صدورھم) ” اور بلا شبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں، تمہارا رب ان کو جانتا ہے۔ “ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے۔ (وما یعلنون) ” اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ “ اس لئے انہین اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔ (وما من غائبۃ فی السماء والارض) یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھپی ہوئی چیز اور عالم علوی اور عالم سفلی کا کوئی بھید ایسا نہیں جو (الا فی کتب مبین) ” واضح کتاب میں نہ ہو۔ “ اس کتاب نے ان تمام امور و حوادث کا احاطہ کررکھا ہے جو اب تک وقوع میں آچکے ہیں اور جو قیامت تک واقع ہوں گے۔ پولیس جو بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ وقوع میں آتا ہے وہ اس کے مطابق ہوتا ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے۔
Ayahs 27:76–77(آیت 76
یہ آیت کریمہ اس بارے میں خبر دیتی ہے کہ قرآں کتب سابقہ کی تصدیق و توضیح اور ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ چونکہ کتب سابقہ کے بارے میں بنی اسرائیل میں اشتباہ و اختلاف واقع ہوا ہے اس لئے قرآن کریم نے ایسی توضیحات بیان کی ہیں جن سے اشکار دور ہوجاتا ہے اور مختلف فیہ مسائل میں راہ صواب واضح ہوجاتی ہے اور جب اس میں جلالت و وضاحت، ہر اختلاف کا ازالہ اور ہر اشکال کی تفصیل جمع ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے، مگر سب بندے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اس لئے واضح فرمادیا کہ قرآن کا فائدہ، اس کی روشنی اور راہنمائی صرف اہل ایمان کے لئے مختص ہے۔ پس فرمایا : (وانہ نھدی) ” اور بیشک یہ ہدایت ہے۔ “ یعنی ضلالت، شبہات اور گمراہی کے جھاڑ جھنکار کے درمیان راہ ہدایت ہے۔ (ورحمۃ) ” اور رحمت ہے۔ “ اس سے ان کے سینے ٹھنڈے اور ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں (للمومنین) یہ ان لوگوں کے لئے رحمت ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو قبول کرتے ہیں، اس میں تدبر اور اس کے معافی میں غور و فکر کرتے ہیں۔ پس انہی لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور رحمت سے سرفراز کیا جائے گا جو سعادت اور فوز و فلاح کو متضمن ہے۔
Ayah 27:78(آیت 78
یعنی اللہ تبارت و تعالیٰ ان اختلاف کرنے اور جھگڑنے والوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں معاملات کے بارے میں دلیل کے مخفی رہ جانے اور بعض دیگر مقاصد کی بنا پر اختلاف کرنے والوں کے درمیان اشتباہ واقع ہوجاتا ہے، مگر جب ان معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا تو حق واقع کے مطابق واضھ اور روشن ہو کر سامنے آجائے گا (وھو العزیز) وہ تمام خلائق پر غالب ہے پس اس کے سامنے سراطاعت خم کردو (العلیم) وہ تمام اشیاء کا علم رکھتا ہے (العلیم) وہ اختلاف کرنے والوں کے اقوال سے آگاہ ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ اقوال کس لئے صادر ہوئے ہیں، ان کے مقاصد اور ان کی غرض وغایت کیا ہے، ان اختلاف کرنے والوں کو وہ اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
Ayahs 27:79–81(آیت 79
یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجئے ! (انک علی الحق المبین) ” بیشک آپ واضح حق پر ہیں “۔ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لئے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس مکیں کوئی اشتباہ ہے۔ جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لئے فرمایا : (انک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء) ” کچھ شک نہیں کہ آُ مردوں کو سناسکتے ہیں نہ بہروں کو “۔ یعنی جب آپ ان کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں اور خاص طور پر (اذا والوامدبرین) ” اس وقت جب وہ منہ پھیر کر جارہے ہوں “ تب یہ عدم سماع کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ (وما انت بھدی العمی عن ضللتھم) ” اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہیں۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (انک لتھدی من اجبت ولکن اللہ یھدی من یشاء) (القصص : 82 تا 65) ” آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔ “ (ان تسمع الامن یومن بایتنا فھم مسلمون) ” آپ تو ان ہی کو سناسکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مطیع ہوجاتے ہیں۔ “ یہی لوگ جو آپ کے سامنے سراطاعت خم کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اپنے اعمال اور اپنی اطاعت کے ذریعے سے ان آیات کی اتباہ کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (انما یستجیب الذین یسمعون والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون) (الانعام : 6 تا 63) ” حق کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زندہ کرے گا پھر وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ “
Ayah 27:82(آیت 82
یعنی جب لوگوں پر وہ بات پوری ہونے کا وقت آپہنچے گا جسے اللہ تعالیٰ نے حتمی قرار دیا ہے اور اس کا وقت مقرر کردیا ہے (اخرجنا لھم دابۃ من الرض) ” تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے “ یا زمین کے جانوروں میں سے ایک جانور، جو آسمان کے جانوروں میں سے نہیں ہوگا۔ (تکلمھم) یہ جانور بندوں کے ساتھ کلام کرے گا کہ بیشک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے، یعنی اس وجہ سے کہ لوگوں کا علم اور آیات الہٰی پر ان کا یقین کمزور ہوجائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس جانور کو ظاہر فرمائے گا جو کہ اللہ تعالیٰ کی حیرت انگیز نشانیوں میں سے ہے تاکہ اس چیز کو وہ لوگون پر کھول کھول کر بیان کردے جس میں وہ شک کیا کرتے تھے۔ یہ جانور وہ مشہور جانور ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس بارے میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں، (اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ نے اس جانور کی کیفیت اور اس کی نوع ذکر نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ تو دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے لئے ظاہر کرے گا اور وہ خارق عادت کے طور پر لوگوں سے کلام کرے گا اور یہ ان سچے دلائل میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بتایا۔ واللہ اعلم) (1) (أ۔ بریکٹوں کے درمیان والی عبارت نسخہ الف کے حاشے میں شیخ (مولف تفسیر) کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہے (ازمحقق)
Ayahs 27:83–85(آیت 83
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ (ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون) ” جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ستھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔ “ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجر و توبیخ اور ملامت کی جائے گی۔ (حتی اذا جاء و) اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجر و تبیخ کرتے اور ڈانٹے ہوئے پوچھے گا (اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما) ” کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمہارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ “ تم پر اس وقت تک توقف کرنا فرض تھا جب تک کہ حق منکشف نہ ہوجاتا اور صرف کسی علم کی بنیاد پر کلام کرتے۔ تم نے ایک ایسے امر کی کیونکر تکذیب کردی جبکہ تمہیں اس کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں (اماذا کنتم تعلمون) ” اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے ان کے علم اور ان کے عمل کے بارے میں سوال کرے گا تو وہ ان کے علم کو حق کی تکذیب کرنے والا اور ان کے عمل کو غیر اللہ کے لئے یا ان کے رسول ﷺ کی سنت کے خلاف پائے گا۔
(واذا وقع القول علیھم بما ظلموا) اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لئے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ (فھم لاینطقون) ” تو وہ بول نہیں سکیں گے۔ “ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
Ayah 27:86(آیت 84 ۔
یعنی کیا انہوں نے اس عظیم نشانی اور بہت بڑی نعمت کا مشاہدہ نہیں کیا ؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے شب و روز کو مسخر کردیا۔ یہ رات اپنے اندھیرے کی وجہ سے نعمت ہے لوگ اس میں سکون پاتے اور تھکن سے آرام کرتے ہیں اور کام کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اور دن اپنی روشنی کی وجہ سے نعمت ہے تاکہ لوگ اس روشنی میں پھیل جائیں اور اپنی معاش اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہوجائیں۔ (ان فی ذلک لایت لقوم یومنون) ” اس میں لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں “ اللہ تعالیٰ کی کامل وحدانیت اور اس کی بےپایاں نعمت پر۔
Ayahs 27:87–90(آیت 87 ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انہیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انہیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلادینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چناچہ فرمایا : (ویوم ینفخ فی الصور ففزع) ” اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔ “ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ (من فی السموت ومن فی الارض) یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے کی اور خوف کی وجہ سے جو انہیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے (الا من شاء اللہ) سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کرتا ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ (وکل) یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق (اتوہ دخرین) ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا) (مریم : 91 تا 39) ” زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے (تری الجبال تحسبھا جامدۃ) ” آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں۔ “ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑجائیں گے اس لئے فرمایا : (وھی تمرمر السحاب) ” اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔ “ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ (صنع اللہ الذی اتقن کل شیء انہ خبیر بما تفعلون) ” یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بیشک وہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ “ پس وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : (من جاء بالحسنۃ) ” جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔ “ یہ اسم جنسی ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے (فلہ خیر منھا) ” تو اس کے لئے اس سے بہتر ہے۔ “ یہ کمترین تفصیل ہے۔ (1) (1۔ مصنف (رح) نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورة الانعام کی آیت (فلہ عشر امثالھا) کی تفسیر کردی ہے) (وھم من فزع یومذ امنون) یعنی وہ ان تماما مور سے مامون اور مصون ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہوگی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
(ومن جاء بالسیءۃ) ” اور جو برائی لے کر آئے گا۔ “ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے (فکبت وجوھھم فی النار) یعنی انہیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا (ھل تجزون الا ما کنتم تعملون) ” تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ “
Ayahs 27:91–93(آیت 91
اے محمد ﷺ ان سے کہہ دیجئے : (انما امرت ان اعبد رب ھذہ البلدۃ) ” مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔ “ یعنی مکہ مکرمہ (الذی حرمھا) ” جس نے اس کو محترم بنایا۔ “ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ (الہ کل شیء) عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے (وامرت ان اکون من المسلمین) (1) (1۔ یہاں مصنف نے سبقت قلم سے (وامرت ان اکون اول المسلمین) لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر کی ہے) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جلدی سے اسلام کی طرف بڑھوں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعمیل کی کیونکہ وہ اولین مسلمان اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے۔
(و) ” اور “ اسی طرح مجھے یہ حکم بھی دیا گیا ہے (ان اتلوا القرآن) ” کہ میں تمہارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں “ تاکہ تم اس کے ذریعے سے راہنمائی حاصل کرو اور اس کے الفاظ اور معافی کو سیکھو۔ یہی میری ذمہ داری ہے جو میں نے پوری کردی ہے۔ (فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ) ” پس جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ “ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور وہی اس کا پھل پائے گا۔ (ومن ضل فقل انما انا من المنذرین) ” اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔ “ اور ہدایت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (وقل الحمد للہ) یعنی دنیا و آخرت میں، تمام خلائق، خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندوں کی طرف سے ہر قسم کی حمد و ثنا صرف اسی کے لئے ہے۔ کیونکہ ان کی طرف سے اپنے رب کے لئے ہونے والی حمد و ثنا دوسرے لوگوں کی طرف سے ہونے والی حمد و ثنا کی بنسبت زیادہ عظمت کے لائق ہے کیونکہ ان کے درجات بلند، ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب کا مل نیز ان پر اس کے احسانات زیادہ ہیں۔ (سیریکم ایتہ فتعر فونھا) ” وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جنہیں تم پہچان لوگے۔ “ ان آیات الہٰی کی تمہیں ایسی معرفت حاصل ہوگی جو حق اور باطل کے بارے میں راہنمائی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کے ذریعے سے تم اندھیروں میں اپنی راہوں کو روشنی کرو گے۔ (لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحی من حی عن بینۃ) (الانفال : 18 تا 24) ” تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ “
(وما ربک بغافل عما تعملون) ” اور تمہارا رب تمہارے عملوں سے بیخبر نہیں ہے۔ “ بلکہ وہ تمہارے اعمال و احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے ان اعمال کی جزا کی مقدار کا بھی علم ہے وہ تمہارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا کہ تم اس فیصلے پر اس کی حمد و ثنا بیان کرو گے اور یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے تمہارے لئے اس کے خلاف حجت نہ ہوگا۔