27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 27:15–44

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ اسکا صریح فضل ہے

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سیلمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اسکے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کہ کیا سبب ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا ؟ کیا کہیں غائب ہوگیا ہے

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنی بےقصوری) کی دلیل صریح پیش کرے

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ (ہد ہد آموجود ہو اور) کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے انکے اعمال انھیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور انکو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ راستے پر نہیں آئے (اور نہیں سمجھتے )

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں نہ سجدہ کریں

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

(سلیمان نے) کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے انکی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(ملکہ نے) کہا دربار والو ! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(بعد اس کے یہ) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع و منقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنا کر) کہنے لگی کہ اہل دربار میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو (اور اصلاح نہ دو ) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم کیجیے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجئے گا

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسکو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں انکی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہو گے

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اس کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی انکو طاقت نہ ہوگی اور انکو وہاں سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان) نے کہا کہ اے دربار والو ! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اسکے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اسکے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اسکو پاس لا حاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت و شان کا) علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی (سلیمان نے) اسکو منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں (سلیمان نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔ “ (وقالا) ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا : (الحمد اللہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین) ” اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔ “ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے انہیں ایمان سے بہرہ مند کی اور انہیں سعادت مند لوگوں میں شامل کی اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء و رسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انہوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بےانتہا شکر ادا کیا جائے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مشترک مدح کی پھر سلیمان (علیہ السلام) کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انہوں نے وہ کارنامے سرانجام دئیے جو ان کے باپ داؤد (علیہ السلام) سرانجام نہ دے سکے۔ ( و ورث سلیمن داؤد) ” اور سلیمان، داؤد کے وارث بنے۔ “ یعنی و حضرت داؤد (علیہ السلام) کے علم ور ان کی نبوت کے وارث بنے انہوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کرلیا شاید انہوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ففھمنھا سلیمن) (الانبیاء : 21/79) ” پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔ “ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : (یایھا الناس علمنا منطق الطیر) ” لوگو ! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ “ سیلمان (علیہ السلام) پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہد ہد سیبات چیت کی اور ہد دہد نے ان کی باتوں کو جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی۔۔۔ اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمان (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ (واوتینا من کل شی) ” اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لئے انہوں نے اپنے رب سے دعا کی : (وھب لی ملکا لا ینبغی لاحدن من بعدی) (ص : 38/35) ” اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزاوار نہ ہو۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کردیا جو ان کے لئے ہر وہ کام کرتے تھے جو وہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کرسکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لئے مسخر کردیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ (ان ھذا ) ” بیشک یہ۔ “ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ (لھو الفضل المبین) ” البتہ وہ صریح فضل ہے۔ “ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعترف کیا۔ (وحشر لسلیمن جنودوہ من الجن والانس والطیر فھم یوزعون) ” اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور وہ قسم وار کئے جاتے تھے۔ “ یعنی ان کے سامنے ان کے بیشمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں، جنوں، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور انکا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹا یا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لئے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمان (علیہ السلام) کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ھذا عطاؤ نا فامنن اوامسک) (ص : 38/39) ” یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ “ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب وعطا کریں۔ پس سلیمان (علیہ السلام) یہ عظی لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے (حتی اذاتوا علی واد النمل قالت نملۃ) ” حتیٰ کہ جب وہ چیوینٹوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ “ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنہ کرتے ہوئے کہا : (یا یھا النمل ادخلو مسکنکم لا یحطمنکم سلیمن وجنودوہ وھم لایشعرون) ” اے چیونیٹو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ، ایسانہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشرک تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ “ اس چیونٹی نے خیر خواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طور پر چیونتیوں کو سماعت عطا کردی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے۔۔۔ یا اس چیونٹی نے ساتھی والی چیونٹی سے کہا ہوگا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹ تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کرگئی ہوگی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کے بچنے کیلئے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں۔ یہ چیونٹی سلیمان علیہ السلام، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لئے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انہوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہوگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ (فتبسم ضاحکا من قولھا) ” پس وہ (سلیمان علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔ “ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیر خواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسان تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سواء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء و رسل اس سے پاک ہوتے ہیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تبارک و تعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا : (رب اوزعنی) یعنی اے رب ! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے (ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی) ” کہ جو انسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں، ان کا شکر کروں۔ “ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انہیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا : (وان اعمل صالحا ترضہ ‘) ” اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے۔ “ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لئے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں، تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ (وادخلی برحمتک) ” اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔ “ یعنی جنت بھی جس رحمت کا حصہ ہے۔ (فی عبادک الصلحین) ” اپنے جملہ نیک بندوں میں “ کیونکہ رحمت، صالحین کے لئے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چناچہ فرمایا : (وتفقد الطیر) ” اور انہوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔ “ یہ چیز اپ کے کام عزم و خرم، آپ کی افواج کی بہترین اور تنظیم اور چھوتے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تم پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے ؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کو معائنہ اس لئے کیا تھا تاکہ وہ ہد ہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے ؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل، تو اگر ہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا :” سلیمان نے ہد ہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لئے پانی تلاش کرے جب انہوں نے ہد ہد کو موجود نہ پایا تو انہوں نے کہا جو کہا۔۔۔ “ یا عبارت اس طرح ہوتی ” سلیمان نے ہد ہد کے بارے میں تفتیش کی ” یا “ ہد ہد کے بارے میں تحقیق کی “ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انہوں نے تو پرندوں کا صرف اس لئے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنامقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمان (علیہ السلام) پانی کے متحاج نہ تھے کہ انہیں ہد ہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی۔ اس لئے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ وتا زمین کھود کر نکال لاتے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے ہوا کو مسخر کردیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایم مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہد ہد کے کیسے محتاج ہوسکتے تھے ؟ یہ موجود تفاسیر جو شہرت پاچکی ہیں ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے انے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ ان کی تطبیق سے بیخبر ہیں۔ پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں، متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں روی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں۔ ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتا ہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جائل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غور و فکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں۔ اگر کچھ تفسیر اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اسصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کرلیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کردے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔ اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہد ہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت و فطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہد ہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا : (مالی لا اری الھد ھد ام اکنا من الغائنبین) ” کیا وجہ ہے کہ ہد ہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ؟ “ کیا ہد ہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بیشمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے ؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے ؟ تب سلیمان (علیہ السلام) ہد ہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا : (لا عذبنہ عذابا شدید) ” میں اسے سخت سزادوں گا۔ “ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ (اولا اذبحنہ اولیا یتینی بسلطن مبین) ” یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔ “ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل و انصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہد ہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جاسکتی ہے اور ہد ہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہوسکتا ہے اس لئے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔ (فمکث غیر بعید) ” ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی “ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمان (علیہ السلام) کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کہ ہد ہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ (فقال) ہد ہد نے سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کیا : (احطت بما لم تحظ بہ) ” میں کچھ علم رکھتا ہوں جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند رجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کرسکے۔ “ (وجئتنک من سبا) ” اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں۔ “ یعنی یمنکے مشہور قبیلہ سے (بنبا یقین) ” ایک یقینی خبر۔ “ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔ پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا : (انی وجدت امراۃ تملکھم) ” میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔ “ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلہء سبا کی بادشاہ تھی۔ (واوتیت من کل شئی) ” اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے “ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلا مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے وغیرہ۔ (ولھا عرش عظیم) ” اور اس کے پاس بہر بڑا تخت (بادشاہی) ہے “ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہ۔ (وجدتھا وقومھا یسجدون للشمس من دون اللہ) ” میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ (وزین لھم الشیطن اعمالھم) ’ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے مزین کردیا ہے “ انہیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں (فصدھم عن السبیل فھم لا یھتدون) ’‘’ اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔ “ کیونکہ وہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔ (الا یسجدوا اللہ الذی یخرج الخب فی السموات والارض) ” وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ “ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دو درواز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیچ اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب صور پھونکا جائے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کر کھڑا کیا جائے گا تاکہ ان کا ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے (ویعلم ما تخفون وما تعلنون) ” اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔ “ (اللہ الا لہ الا ھو) ” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ “ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کا ملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں۔ (رب العرش العظیم) ” وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ “ جو تمام مخلوقات کے لئے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے، وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔ جب ہد ہد نے سلیمان (علیہ السلام) کو یہ عظیم خبر سنای تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہد ہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا : (سننظر اصدقت ام کنت من الکذیبن۔ اذھب بکتبی ھذا ) ” اچھا ہم دیکھیں گے کہ تم نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔ “ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ (فالقۃ الیھم ثم تول عنھم) ” اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔ “ یعنی ذرا دور ہٹ جا (فانظر ما ذا یرجعون) ” اور دیکھ کر وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ “ یعنی تجھے کی جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔ ہد ہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا : (انی القی الی کتب کریم) ” میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔ “ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے۔ پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا : (انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الا تعلوا علی واتونی مسلمین) ” وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔ “ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کرلو میرے احکام کو تسلیم کرکے فرمانبرداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمکل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط انکو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمان (علیہ السلام) کے خم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاجر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔ یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی :) یا یھا الملواء افتونی فی امری) ” اے اہل دربار ! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو ۔ “ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان (علیہ السلام) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کرلیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ (ما کنت قاطعۃ امرا حتی تشھدون) یعنی میں تمہاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ (قالو انحن اولا قوۃ واولوا باس شدید) ” انہوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں۔ “ یعنی اگر آپ سلیمان (علیہ السلام) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسے رائے کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہوجاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہے لگے : (والامر الیک) ” اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔ “ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم و احتیاط اور خیر خواہی کو جانتے تھے۔ (فانظری) ” پس دیکھئے “ یعنی غور وفکر کیجئے ! (ماذ تامرین) ” آپ کیا حکم فرماتی ہیں۔ “ قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا : (ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا) ” بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو (قتل و غارت، لوٹ مار کرکے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔ “ (وجعلوا عزۃ اھلھا اذلۃ) ” اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ “ یعنی وہ رؤسا اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجئے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تبہ ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہوگا۔ ملکہ نے کہا : (وانی مرسلۃ الیھم یھدیۃ فنظرۃ بمہ یرجع المرسلون) ” اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں۔ “ یعنی سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کرکے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے ؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟ پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں روانہ کیا۔ (فلما جاء سلیمن) ” پس جب وہ (قاصد) سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچا۔ “ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سیلمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (قال) تو حضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا : (اتئمد ونن بمال فما اتتن اللہ خیر مما اتتکم) ” کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو ؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ “ تمہاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیشمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بےنیاز کردیا ہے۔ (بل انتم بھدیتکم تفرحون) ” بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔ “ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔ پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کرلیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من و عن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا : (ارجع الیھم) ” ان کے پاس واپس جاؤ۔ “ یعنی یہ تحافء واپس ان کے پاس لے جاؤ (فلنا تینھم بجنود لا قبل لھم بھا) ” ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہوگی۔ “ (والنخرجنھم منھا اذلۃ وھم صغرون) ” اور ہم ان کو وہاں سے بےعزت کرکے نکال دیں گے۔ “ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمان (علیہ السلام) کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لئے انہوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا : (ایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین) ” کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آؤ۔ ‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ان کے تخت میں تصرف کرسکیں کیونکہ انکے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہوجائیں گے۔ (قال عفریت من الجن) ” جنات میں سے ” عفریت ‘ نے کہا۔” عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ (انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقاملک وانی علیہ لقوی امین) ” قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لا حاضر کرتا ہوں۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اور امانت دار ہوں۔ “ ظاہر ہے اس وقت سلیمان (علیہ السلام) شام کے علاتے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریبا چارہ ماہ کی مسافت تھی۔۔۔ دو ماہ جانے کے لئے اور دو ماہ واپس لوٹنے کیلئے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تکت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے ال کر پیش کردے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے فراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر (قال الذی عندہ علم من الکتب) ” وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا “۔۔۔ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں رہتا تھا اسے ” آصف بن برخیا “ کہا جاتا تھا اس کے پاس ” اسم اعظم ‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو اسوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے۔۔۔ (انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک) ” میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ ‘ یعنی وہ اس ” اسم اعظم “ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہوجائے گا چناچہ اس نے دعا مانگی اور ملکہء سبا کا تخت فوراً حاضر ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ (فلما راہ مستقرا عندہ) ” پس جب انہوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔ “ تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کی اور تمام امور کو آپ کے لئے آسان کردیا۔ (قال ھذا من فضل ربی لیبلویء اشکرام اکفر) ” کہا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں۔ “ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے۔۔۔ جیسا کہ جاہل ملوک و سلاطین کی عادت ہے۔۔۔ کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوقت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کرسکیں۔ پھر واضح کردیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا : (ومن شکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفر فان ربی غنی کریم) ” اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بےنیاز، کرم کرنے والا ہے۔ “ یعنی وہ اس کے اعمال سے بےنیاز ہے، وہ کریم ہے بےپایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزارا اور ناشکرکے سب کو شامل ہے البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے تو یہ ان کے زوال کا باعث بنتی ہے۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے پاس والوں سے فرمایا : (نکروا لھا عرشھا) ” اس ( ملکہ) کے لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو ۔ “ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کرکے اسے بدل ڈالو۔ (ننظر) ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ (اتھتدی) کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے ؟ (فلما جاء ت) ” پس جب وہ (ملکہء سبا) سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ “ تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ (قیل اھکذ عرشک) ” پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔ “ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے ؟ (قالت کانہ ھو) ” اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔ “ یہ ملکہء سبا کی ذہانت وفطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ” یہ وہی ہے “ کیونکہ اس میں تبدیلی ہوچکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہنچان چکی تھی اس لئے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا : (واوتینا العلم من قبلھا) ” اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہوگیا تھا۔ “ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہوچکی ہے (وکنا مسلمین) ” اور ہم مسلمان ہیں۔ “ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکہء سبا کا قول ہو یعنی ” ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (وصدھا ما کانت تعبد من دون اللہ) ’ اور اللہ کے سوا وہ جس کی پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔ “ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہنچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کردیتے ہیں (انھا کانت من قوم کفرین) ” (اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔ “ اس لئے وہ انہی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا۔۔۔ جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں کہ ہے کہ اس کی عقل اے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے۔۔۔ بہت نادر چیز ہے، اس لئے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرکے جو عقول کو حیران کردیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور سیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں۔ (قیل لھا ادخلی الصرح فلما راتۃ حسبتہ لجۃ) ” اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔ “ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ (وکشفت عن ساقیھا) ” اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا لیا “ پانی میں داخل ہونے کے لئے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لئے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیادی پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ” پانی “ میں داخل ہونے کیلئے تیار ہوئی تو اسے کہا گیا : (انہ صرح ممرد) ” یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں۔ “ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے (ن قواریر) ” شیشوں سے۔ “ اس لئے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان (علیہ السلام) کی نبوت اور رسالت کے بارے میں لعم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آگئی اور کہنے لگی : (رب انی ظلمت نفسی واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین) ” اے میرے رب ! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنت کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں۔ “ ملکہء سبا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا اطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پور پوری نہیں اترتیں۔ اس لئے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
Ayahs 27:45–53

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہو (صالح نے) کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ یم رات کو اس پر اور اسکے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم بھی ایک چال چلے اور انکو کچھ خبر نہ ہوئی

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں جو لوگ دانش رکھتے ہیں ان کے لئے ان میں نشانی ہے

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

آیت 45 سے 53 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ (فاذاھم فریقین یختصمون) ” پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔ “ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔ (قال یقوم لم تستعجلون بالسئیۃ قبل الحسنہۃ) ” انہوں (صالح (علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم ! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اور نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمہارے احوال کو درست اور تمہارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمہیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو ؟ (لو لا تستغفرون اللہ) ” تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے ؟ “ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں بخش دے۔ (لعلکم ترحمون) ” تاکہ تم پر رضم کیا جائے۔ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ (قالو) انہوں نے اپنے نبی صالح (علیہ السلام) کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا : (اطیرنا بک وبمن معک) ” تم اور تمہارے ساتھی ہمرے لئے شکون بد ہیں۔ “ ان کا خیال تھا۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے۔۔۔۔ کہ انہوں نے صالح (علیہ السلام) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انہیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لئے صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (طئرکم عند اللہ) ” تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے (بل انتم قوم تفتنون) ” بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنہیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے “ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آکر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔ (وکان فی المدینہ) ” اور شہر میں تھے۔ “ یعنی اسی شہر میں، جس میں صالح (علیہ السلام) اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ (تسعۃ رھط یفسدون فی الارض ولا یصلحون) ” نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے “ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے وہ صالح کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن وتشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” اللہ نے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔ “ وہ اسی بری حالت میں رہے حتی کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی (تقاسموا) ” انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو سم دے کر کہا “ (لنبیتنہ واھلہ) ” ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے “ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انہیں قتل کردیں گے (ثم لنقولن لولیہ) ” پھر ہم اس کے وارث کو کہہ دیں گے “ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعوی کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کردیں گے اور کہیں گے (ماشھد نامھلک اھلہ وانا لصدقون) ” ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں “ پس انہوں نے اس پر ایکا کرلیا (ومکروا مکرا) ” اور انہوں نے مکر کیا “ انہوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کرلی حتی کہ انہوں نے حضرت صالح کے اولیاء کے خلوف سے اس بات کو اپن قوم سے بھی چھپاے رکھا (ومکرنا مکرا) ” اور ہم نے بھی ایک چال چلی “ ینی اپنے نبی صالح کی مدد ان کے معاملہ بگڑ گیا ؟ اس لئے فرمایا، (انا دمرنھم وقومھم اجمعین) ” ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا (فتلک بیوتھم خاویۃ) ” اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں “ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہد مہو گئیں، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہوگئے (بما ظلموا) ” بسبب اس کے جو انہوں نے ظلم کیا “ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام (ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون) ” بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں “ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے بنا بریں فرمایا (وانجینا الذین امنوا وکانوا یتقون) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی “ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعای، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔