Ayahs 22:67–70آیت 67
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لئے (منسکا) ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لکل جعلنا منکم شرآ و منھا جاو لو شاء اللہ لجعلکم آپ واحآ و لکن لیبلوکم فی ما اٰتکم) (الماء آ : 5 /84) ” ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لئے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمہیں دیئے ہیں وہ ان میں تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ “
(ھم ناسکوہ) یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں، اس لئے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش نہیں، خاص طور پر ان پڑھوں کے لئے جو شرک اور کھلی جہالت میں مبتلا ہیں کیونکہ جب رسول کی رسالت دلائل کے ساتھ ثابت ہوگئی تو اس پر اعتراض کو ترک کرنا، ان تمام احکام کو قبول کرنا اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرنا واجب ہے، جو رسول لے کر آیا ہے، بناء بریں فرمایا : (فلاینازعنک فی الامر) یعنی آپ کی تکذیب کرنے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں، جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بنا پر مردار کی حلت کے بارے میں آپ سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ” جسے تم قتل کرتے ہو اسے تو کھالیتے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے “ اور جیسے وہ سود کی حلت کے لئے کہتے ہیں : ” تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے “ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات، جن کا جواب دینا لازم نہیں۔ وہ درحقیقت، اصل رسالت ہی کے منکر ہیں، جس میں کسی بحث اور مجادلے کی گنجائش نہیں بلکہ ہر مقام کے لئے ایک الگ دلیل اور گفتگو ہے۔
اس قسم کا اعتراض کرنے والا، منکر رسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش حق کے لئے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے : ” آپ کیساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم اثبات پر گفتگو ہوسکتی ہے “ ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر اقتصار کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ٓ کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی طرف بلائیں اور اسی رویے کو اپنائے رکھیں، خواہ معترضین اعتراض کریں یا نہ کریں اور یہ مناسب نہیں کہ کوئی چیز آپ کو اس دعوت سے ہٹا دے کیونکہ (انک لعلی ھدی مستقیم) ” یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں “ جو معتدل اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اور علم حق اور اس پر عمل کا متضمن ہے۔ آپ کو اپنی دعوت کی حقانیت پر اعتماد اور اپنے دین پر یقین ہے، لہٰذا یہ اعتماد اور یقین اس امر کے موجب ہیں کہ آپ اپنے موقف پر سختی سے جمے رہیں اور وہ کام کرتے رہیں جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے۔
آپ کا موقف مشکوک اور کمزور نہیں یا آپ کی دعوت جھوٹ پر مبنی نہیں کہ آپ لوگوں کی خواہشات نفس اور انکی آراء کی طرف التفات کریں اور ان کا اعتراض آپ کی راہ کو کھوٹا کر دے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین) (النمل : 72 /97) ” اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے، بیشک آپ واضح حق پر ہیں۔ “
نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد (انک لعلی ھدی مستقیم) میں جزئیات شرع پر معترضین کے اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو عقل صحیح پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت ہر اس چیز کا وصف ہے جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ ہدایت وہ طریق کار ہے جس سے اصولی اور فروعی مسائل میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا حسن اور جن میں پنہاں عدل و حکمت عقل صحیح اور فطرت سلیم کے نزدیک معروف ہے اور یہ چیز مامورات و منہیات کی تفاصیل پر غور کرنے سے معلوم کی جاسکتی ہے۔
بناء بریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حالت میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : (وان جدلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون) ” اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں، تو کہہ دیجئے، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے مقاصد اور تمہاری نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ تمہیں قیامت کے دن ان کی جزا دے گا اور تمہارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ پس جو کوئی صراط مستقیم کے موافق ہوگا وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جنہیں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہوگا وہ جہنمیوں میں شامل ہوگا۔
اس کے فیصلے کی تکمیل یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر ہوگا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے احاطہٓ علم اور احاطہٓ کتاب کا ذکر فرمایا : (الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السماء والارض) اللہ تعالیٰ پر تمام معاملات کے ظاہر و باطن، جلی و خفی اور اول و آخر میں سے کچھ بھی مخفی نہیں، زمین و آسمان کی موجودات کا احاطہ کرنے والا علم اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب میں درج کر رکھا ہے۔۔۔. اور وہ ہے لوح محفوظ۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا ” لکھ ! قلم نے عرض کیا ” کیا لکھوں ؟ فرمایا ” قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ “ (ان ذلک علی اللہ یسیر) اگرچہ تمہارے نزدیک اس کے تصور کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا مگر اللہ تعالیٰ کے لئے تمام اشیاء کے علم کا احاطہ کرنا بہت آسان ہے اور اس کے لئے یہ بھی بہت آسان ہے کہ آئندہ واقعات کے علم کو واقعات کے مطابق ایک کتاب میں درج کر دے۔
Ayahs 22:71–72آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انہوں نے اپنے گمراہ آباؤ اجداد سے حاصل کیا ہے۔۔۔. اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس۔۔۔. فی نفس الامر۔۔۔. کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو اس کے فساد و بطلان پر دلالت کرتی ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو، جو حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں، وعید سناتے ہوئے فرمایا : (وما للظلمین من نصیر) ” ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا “ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ کیا یہ لوگ جن کو اپنے موقف کے بطلان کا علم نہیں، یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات اور ہدایت آجائے گی وہ اس کی اتباع کریں گے یا وہ اپنے باطل ہی پر راضی ہیں ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا تتلی علیھم ایتنا بینت) ” جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری واضح آیات۔ “ وہ جو اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر آیات ہیں اور باطل میں سے حق کو واضح کرنے کو مستلزم ہیں۔۔۔. تو یہ ان آیات کی طرف التفات کرتے ہیں نہ ان کو درخور اعتناء سمجھتے ہیں بلکہ اس کے برعکس (تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر) آپ ان کے چروں کو، ان آیات الٰہی کے ساتھ ان کے بغض و کراہت کی بنا پر، بگڑا ہوا اور ان کو منقبض اور ترش رو دیکھتے ہیں۔ (یکادون یسطون بالذین یتلون علیھم ایتنا) یعنی ان کے شدت بغض اور حق کے ساتھ عناد اور عداوت کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ ان آیات کی تلاوت کرنے والے کو قتل کرنے یا مارنے کے لئے اس پر چڑھ دوڑیں۔ پس کفار کی یہ حالت بہت ہی بری حالت اور ان کا شر بہت ہی برا شر ہے مگر ان کی ایک حالت اس سے بھی بدتر ہے جس کی طرف یہ لوٹیں گے، اس لئے فرمایا : (قل افانبئکم بشر من ذلک النار وعدھا اللہ الذین کفروا وبئس المصیر) ” کہہ دیجئے ! کیا میں تمہیں خبر دوں اس سے بھی بدتر چیز کی، وہ آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کیا ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ “ پس اس کا شر بہت طویل اور عریض ہے، اس کے آلام بہت شدید ہیں جو ہمیشہ بڑھتے ہی رہیں گے۔
Ayahs 22:73–74آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کی قباحت، ان کی عبادت کرنے والوں میں عقل کی کمی اور ان سب کی کمزوری کو بیان کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے۔ فرمایا : (یایھا الناس) ” اے لوگو ! “ یہ خطاب مومنین اور کفار دونوں کے لئے ہے۔ اس سے اہل ایمان کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفار کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے۔ (ضرب مثل فاستمعوا لہ) یعنی اس بیان کردہ مثال کو غور سے سنو اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ تمہارے دلوں کو غافل اور تمہارے کانوں کو اس سے اعراض کرنے والا نہ پائے، بلکہ اپنے کانوں اور دلوں سے خوب غور سے سنو۔
وہ مثال یہ ہے۔ (ان الذین تدعون من دون اللہ) ” بیشک وہ لوگ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ “ یہ آیت کریمہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔ (لن یخلقوا ذبابا) ” وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے “ جو حقیر ترین اور خسیس ترین مخلوق ہے۔ پس وہ اس نہایت کمزور سی مخلوق کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں، اس لئے بڑی مخلوق تو وہ کیا پیدا کرسکتے ہیں ؟ (ولو اجتمعوا لہ) ” اگرچہ وہ سب اکٹھے کیوں نہ ہوجائیں۔ “ بلکہ اس سے بھی بلیغ تر بات یہ ہے کہ (ان یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ) ” اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو وہ اس سے وہ بھی نہیں چھڑا سکتے۔ “ یہ عجز اور بےبسی کی انتہاء ہے۔
(ضعف الطالب) ” کمزور ہے طالب۔ “ یعنی وہ جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے (والمطلوب) ” اور وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔ “ یعنی مکھی، پس دونوں ہی کمزور ہیں اور ان دونوں سے بھی کمزور تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کو رب العالمین کے مقام پر فائز کر رکھا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں (ماقدروا اللہ حق قدرہ) ” جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے “ کیونکہ انہوں نے ایک ایسی ہستی کو جو ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہے، اس اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ بنادیا جو ہر اعتبار سے بےنیاز اور طاقتور ہے۔ انہوں نے اس ہستی کو، جو خود اپنے یا کسی دوسرے کے لئے کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ زندگی اور موت کا اختیار رکھتی ہے اور نہ دوبارہ زندہ اٹھانے پر قادر ہے، اس ہستی کے برابر ٹھہرا دیا جو نفع و نقصان کی مالک ہے، جو عطا کرتی ہے اور محروم کرتی ہے، جو اقتدار کی مالک اور اپنی بادشاہی میں ہر قسم کا تصرف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
(ان اللہ لقوی عزیز) یعنی وہ کامل قوت اور کامل عزت کا مالک ہے اس کی قوت کاملہ اور کامل غلبے کا یہ حال ہے کہ تمام مخلوق کی پیشانیاں اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ اس کے ارادہ اور مشیت کے بغیر کوئی چیز حرکت کرسکتی ہے نہ ساکن ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوسکتا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ وہ تمام مخلوق کو اول سے لے کر آخر تک، ایک چنگھاڑ کے ذریعے سے زندہ اٹھا کر کھڑا کرے گا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ اس نے بڑے بڑے جابروں اور سرکش قوموں کو ایک معمولی سی چیز اور اپنے عذاب کے کوڑے سے ہلاک کر ڈالا۔
Ayahs 22:75–76آیت 75
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا کمال اور بتوں کی کمزوری اور عجز بیان کرنے کے بعد، نیزیہ کہ وہی معبود برحق ہے۔۔۔. انبیاء و رسل کا حال بیان کیا ہے اور ان کے وہ امتیازی فضائل بیان کئے جن کے ذریعے سے وہ دیگر مخلوق سے ممتاز ہیں، تو فرمایا : (اللہ یصطفی من الملء آ رسلا و من الناس) یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے جو اپنی نوع میں بہترین فرد اور صفات مجد کے سب سے زیادہ جامع اور منتخب کئے جانے کے سب سے زیادہ اہل اور مستحق ہوتے ہیں۔ پس رسول علی الاطلاق مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور جس ہستی نے ان کو رسالت کے منصب کے لئے منتخب کیا ہے وہ اشیاء کے حقائق سے لاعلم نہیں یا وہ ایسی ہستی نہیں کہ وہ کچھ چیزوں کا علم رکھتی ہو اور کچھ چیزوں سے لاعلم ہو بلکہ ان کو منتخب کرنے والی ہستی، سمیع وبصیر ہے جس کے علم اور سمع و بصر نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے، اس لئے اس نے اپنے علم ہی کی بنیاد پر ان لوگوں کو اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا ہے۔ وہ اس منصب کے اہل ہیں اور وحی کی ذمہ داری سونپے جانے کے لئے یہ صحیح لوگ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) (الانعام : 6 /421) ” اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ رسالت کسے عنایت فرمائے۔ “ (والی اللہ ترجع الامور) ” اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں، کچھ لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ لوگ ان کی دعوت کو رد کردیتے ہیں، کچھ لوگ ان کی لائی ہوئی وحی پر عمل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ پس یہ تو ہے رسولوں کی ذمہ داری اور ان کا وظیفہ۔ اور رہی ان اعمال کی جزا و سزا تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پس وہ اس جزاء و سزا میں فضل و کرم کا اہتمام بھی کرے گا اور عدل و انصاف کا بھی۔
Ayahs 22:77–78آیت 77
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لئے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لئے خالص کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کا انہی امور سے وابستہ کیا ہے، چناچہ فرمایا : (لعلکم تفلحون) یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور اس کے بندوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کے سوا، فلاح کے حصول کا کوئی راستہ نہیں۔ جسے اس راستے کی توفیق حاصل ہوگئی اسی کے لئے کامیابی، سعادت اور فلاح ہے۔
(وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ) ” اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے۔ “ مقصود و مطلوب کے حصول میں پوری کوشش کرنا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔۔۔. یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پوری طرح نافذ کیا جائے، مخلوق کو ہر طریقے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جائے۔ خیر خواہی سے، تعلیم، قتال اور تادیب سے، زجر و توبیخ یا وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اس مقصد کے لئے جس طریقے اور ذریعے کی بھی ضرورت ہو، اسے اختیار کیا جائے۔ (ھو اجتبکم) یعنی اے مسلمانوں کے گروہ ! اس نے تمہیں لوگوں سے چن لیا ہے اور تمہارے لئے دین کو منتخب کر کے اسے تمہارے لئے پسند کرلیا ہے، تمہارے لئے افضل ترین کتاب اور افضل ترین رسولٓ کو منتخب کیا، اس لئے جہاد کو اچھی طرح قائم کر کے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نوازش کا بدلہ دو ۔
چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ) سے بسا اوقات کسی متوہم کو یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی تعمیل طاقت سے باہر ہے یا جس کی تعمیل میں سخت مشقت ہے، اس لئے اس وہم سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا : (وما جعل علیکم فی الدین من حرج) ” اور نہیں کی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی۔ “ یعنی مشقت اور تنگی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو انتہائی آسان اور سہل بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف انہی امور کا حکم دیا ہے، جس کو بجا لانا نفوس انسانی کے لئے نہایت سہل ہے جو ان کے لئے گراں بار ہیں نہ تھکا دینے والے ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی ایسا سبب پیش آجائے جو تخفیف کا موجب ہو تو اللہ تعالیٰ اس حکم کو ساقط کر کے یا اس میں کمی کر کے اس میں تخفیف کردیتا ہے۔
اس آیت کریمہ سے ایک شرعی قاعدہ اخذ کیا جاتا ہے اور وہ ہے (المشآ تجلب التیسیر) ” مشقت اپنے ساتھ آسانی لے کر آتی ہے “ (الضرورات تبیح المحظورات) ” ضرورت ممنوع چیز کو مباح کردیتی ہے۔ “ بہت سے فروعی احکام اس قاعدہ کے تحت آتے ہیں جن کا ذکر احکام کی کتابوں میں معروف ہے۔
(ملٓ ابیکم ابرھیم) یعنی مذکورہ دین اور احکام تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہیں جن پر وہ ہمیشہ عمل پیرا رہے، اس لئے تم بھی ان کا التزام کرو اور ان پر عمل پیرا رہو۔ (ھو سمکم المسلمین من قبل) یعنی اس نے کتب سابقہ میں تمہارا نام ” مسلم “ رکھا ہے اور اسی نام سے تم مذکور و مشہور ہو یعنی ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے تمہارا نام ” مسلم “ رکھا ہے۔ (وفی ھذا) اور اس کتاب اور اس شریعت میں بھی تمہارا نام ” مسلم “ ہی ہے یعنی قدیم اور جدید زمانے میں تمہیں ” مسلم “ کے نام ہی سے پکارا جاتا رہا ہے۔ (لیکون الرسول شھیدا علیکم) تاکہ رسول تمہارے اچھے اور برے اعمال کی گواہی دیں۔ (وتکونوا شھداء علی الناس) تم انبیاء و رسل کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو کچھ نازل فرمایا تھا انہوں نے اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا کیونکہ تم بہترین، معتدل، بھلائی کے راستے پر گامزن اور امت وسط ہو۔
(فاقیمو الصلوٰٓ) نماز کو اس کے تمام ارکان، تمام شرائط وحدود اور اس کے تمام لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ (واتوالزکوٓ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں جن نعمتوں سے نوازا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے زکوٰٓمفروضہ ادا کرو۔ (واعتصمو اباللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ اور اس بارے میں صرف اسی پر بھروسہ کرو اور اپنی قوت و اختیار پر اعتماد نہ کرو۔ (ھومولکم) ” وہی تمہارا مولیٰ ہے “ جو تمہارے تمام امور کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ پس وہ بہترین طریقے سے تمہاری تدبیر، اور بہترین اندازے سے تم میں تصرف کرتا ہے۔ (فنعم المولی و نعم النصیر) ” پس کیا اچھا مولیٰ اور کیا اچھا مددگار ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ بہترین سرپرست ہے۔ پس اس سے اس کا مطلوب و مقصود حاصل ہوجاتا ہے اور جو کوئی اپنی مصیبت دور کرنے کے لئے اس سے مدد مانگتا ہے تو وہ بہترین مددگار ہے، اس سے اس مصیبت کو وہ دور کردیتا ہے۔