Ayahs 17:78–81(آیت نمبر (78
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں (لد لوک الشمس) ” سورج ڈھلنے سے “ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہوجانے سے لے کر ‘ اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں (الی عسق الیل ) ” رات کے اندھیرے تک “ ینی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں۔ (وقران الفجر) ” اور فجر کا قرآن پڑھنا “ یعنی فجر کی نماز ‘ اور اسے ” قرآن “ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراءت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراءت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجاگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کین کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت ‘ صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت ‘ نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے ‘ نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر ‘ عصر ‘ مغرب اور عشاء کو سی عذر کی بناء پر جمع کیا جاسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قرآءت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قرآءت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کردیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔
(و من الیل فتھجد بہ ) ” اور رات کے ایک حصے میں آپ اس قرآن کے ساتھ جاگئے “ یعنی اس کے تمام اوقات میں نماز پڑھئے (نافلۃ لک) ” آپ کے لیے زیادت ہے۔ “ یعنی تاکہ رات کی یہ نماز آپ کے لیے زیادہ ثواب ‘ بلند مراتب اور بلند درجات کی باعث ہو ‘ بخلاف دیگر اہل ایمان کے ‘ کہ ان کے لیے یہ نماز ان کی برائیوں کا کفارہ ہے۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ پانچ نمازیں آپ پر اور تمام اہل ایمان پر فرض ہیں اور تہجد کی نماز خصوصی طور پر آپ پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تکریم بخشی کہ آپ کا وظیفہء عبادت دوسرے مومنوں سے زیادہ مقرر فرمایا تاکہ وہ آپ کی عظمت شان کو سمجھیں اور آپ اس کے ذریعے سے مقام محمود پر فائز ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اولین و آخرین آپ کی ستائش کریں گے۔ یہ شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے جب تمام خلاق حضرت آدم ‘ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیھم السلام کے پاس شفاعت کروانے کے لیے جائیں گے تو یہ تمام رسول شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے اور پیچھے ہٹ جائیں گے تب لوگ بنی آدم کے سردار حضرت رسول اکرم ﷺ سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتے ہوئے اس مقام کی ہولناکیوں سے ان کو نجات دے۔ نبی مصطفیٰ ﷺ اپنے رب کے پاس شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور آپ کو ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اولین و آخرین آپ پر رشک کریں گے اور یوں تمام مخلوق آپ کی احسان مند ہوگی۔
(و قل رب ادخلنی مد خل صدق و اخرجنی مخرج صدق ) ” کہہ دیجیے ! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا “ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہوتا کہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو (واجعل لی من لدنک سلطنا نصیر ) ” اور کردے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل “ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاع عطا کر ‘ جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہرحال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع ‘ عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کم متضمن ہے۔
(وقل جاء الحق و زحق الباطل) ” اور کہہ دیجیے ! حق آگیا اور بال نکل بھاگا۔ “ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف ناز ( علیہ السلام) فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کردیں کہ حق آگیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا ‘ یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ (ان الباطل کان زھوقا) ” بیشک باطل ہے نکل بھاگنے والا ‘ یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہوجاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہوجاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی ‘ اسی لیے باطل صرف انہیں زمانوں اور انہیں علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں۔
Ayah 17:82(آیت نمبر (82:
” اور اتارتے ہیں ہم قرآن میں سے جس میں شفا ہے اور مومنوں کے لیے رحمت اور گناہ گاروں کا تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے “ یعنی قرآن کریم شفا اور رحمت پر مشتمل ہے اور یہ شفا اور رحمت ہر ایک کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے جو اس کی آیات کی تصدیق کر کے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ رہے ظالم جو اس کی تصدیق نہیں کرتے یا اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اس کی آیات ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرتی ہیں کین کہ ان پر حجت قائم ہوجاتی ہے۔ پس وہ شفا جس کو قرآن متضمن ہے وہ قلوب کے لیے شفائے عام ہے اور قلوب کو شبہات ‘ جہالت ‘ آراء فاسدہ ‘ انحراف مذموم اور گھٹیا مقاصد جیسے مراض کو دور کرتی ہے کیونکہ قرآن علم یقینی پر مشتمل ہے جو ہر قسم کی جہالت اور تمام شبہات کو زائل کردیتا ہے۔ قرآن وعظ و تذکیر پر مشتمل ہے جو ہر شہوت کو ختم کردیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت ہو۔ قرٓن ابدان کے آلام و امراض سے شفا کو بھی متضمن ہے۔
رہی رحمت ‘ تو قرآن کے اندر ایسے اسباب اور وسائل ذکر کئے گئے ہیں جن کو اختیار کرنے کی قرآن ترغیب دیتا ہے جب بندہ ان کو اختیار کرلیتا ہے تو بےپایاں رحمت ‘ ابدی سعادت دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے۔
Ayah 17:83(آیت نمبر (83:
انسان جہاں بھی ہے یہ اس کی فطرت ہے ‘ سوائے اس کے جس کی اللہ راہنمائی فرمائے ‘ کہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں عطا ہوتی ہیں تو وہ ان نعمتوں پر بہت خوش ہوتا ہے ‘ ان پر اتراتا ہے ‘ حق سے روگردانی کرتا ہے ‘ اینٹھتا ہے اور اپنے رب سے منہ موڑ لیتا ہے ‘ وہ اس کا شکر ادا کرتا ہے نہ اس کو یاد کرتا ہے۔ (و اذا مسہ الشر ) ” اور جب اس کو برائی پہنچتی ہے “ مثلا بیماری وغیرہ (کان یوسا) ”ٌ و مایوس ہوجاتا ہے۔ “ یعنی بھلائی سے بالکل مایوس ہوجاتا ہے ‘ رب سے اپنی امید منقطع کرلیتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جس حالت میں ہے ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ اور وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ ہدایت سے نواز دیتا ہے وہ نعمتیں میسر ہونے پر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھک جاتا ہے اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے اور جب وہ سختی اور مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو اللہ کے سامنے گڑگڑاتا ہے اللہ تعالیٰ سے عافیت اور اس مصیبت کے دور ہونے کی امید رکھتا ہے اور اس سے اس کی مصیبت ہلکی ہوجاتی ہے۔
Ayah 17:84(آیت نمبر (84:
(قل کل ) ” کہہ دیجیے ہر ایک “ یعنی لوگوں میں سے۔ (یعمل علی شاکلتہ) ” کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر “ یعنی اس طریقے پر جو اس کے احوال کے لائق ہوتا ہے۔ اگر وہ نیک بندوں میں سے ہیں تو ان کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ان کا عمل رب کائنات کی رضا کی خاطر ہوتا ہے اور اگر وہ نیک اور ابرار لوگوں کی بجائے ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے الگ ہوگیا ہو تو ان کے لیے صرف وہی عمل مناسب ہوتا ہے جو اس نے مخلوق کو خوش کرنے کے لیے کیا ہو اور ان کے موافق صرف وہی عمل ہوتا ہے جو ان کی اغراض کے موافق ہو۔ (فربکم اعلم بمن ھواھدی سبیلا) ” پس تمہارا رب اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔ “ یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پس اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہے جو صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ اسے اپنے حال پر چھوڑ کر ہدایت سے محروم کردیتا ہے۔ )
Ayahs 17:85–86آیت نمبر (85:
یہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کو باز رکھنے کو متضمن ہے جو ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن سے ان کا مقصد محض تعنت اور مسول کو لاجواب کرنا ہوتا ہے۔ درآنحالیکہ وہ اہم امور کے بارے میں سوال نہیں کرتے۔ پس وہ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں جس کا تعلق مخفی امور سے ہے۔ کوئی شخص بھی روح کا وصف اور اس کی کیفیت بیان نہیں کرسکتا اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس علم میں بھی قاصر ہیں جس کے وہ محتاج ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ نے فرمایا کہ وہ ان کے سوال کا یہ جواب دیں۔ (قل الروح من امر ربی) ” کہہ دیجیے ! روح میرے رب کے امر سے ہے “ یعنی من جملہ مخلوقات سے ہے جن کے بارے میں میرے رب نے حکم دیا کہ ” ہوجاؤ “ اور وہ وجود میں آگئیں ‘ لہذا ان کے بارے میں سوال کرنا تمہارے لیے کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر امور میں بھی تمہارا علم معدوم ہے۔ اس آیت مقدسہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جب مسؤل سے کسی معاملے میں سوال کیا جائے تو تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ ( لایعنی) سوال کا جواب دینے سے گریز کرے جو سائل نے پوچھا ہے اور اس امر میں اس کی راہنمائی کرے جس کا وہ محتاج ہے اور جو اس کے لیے فائدہ مند ہے۔
Ayah 17:87(آیت نمبر (87:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن اور وحی جسے اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کیا ہے وہ آپ پر اور بندوں پر رحمت اور احسان ہے قرآن اور وحی علی الاطلاق رسول اللہ ﷺ کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ فضل و کرم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔ پس جس ہستی نے آپ پر یہ فضل و کرم کیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ اسے واپس لے لے پھر آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو یہ فضل و کرم واپس لاسکے اور آپ کو کوئی ایسا وکیل اور کار ساز نہیں ملے گا جو اللہ کے حضور اس بارے میں بات کرسکے۔ پس آپ کو اس بارے میں خوش ہوتا چاہیے اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہنی چاہیں اور تکذیب کرنے والوں کی تکذیب اور گمراہوں کا استہزاد تمسخر آپ کو غم زدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سامنے جلیل ترین نعمت پیش کی گئی انہوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ کیونکہ یہ اللہ کے نذدیک بہت حقیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔
Ayah 17:88(آیت نمبر (88:
یہ اس بات کی قطعی دلیل اور واضح برہان ہے کہ جو کچھ رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ صحیح اور صداقپ پر مبنی ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام جنوں اور انسانوں کو معارضے کی دعوت دی ہے کہ وہ اس جیسا قرآن بنا لائیں اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ بھی فرمایا دیا کہ وہ اس جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ خواہ وہ ایک دوسرے کی مدد ہی کیونگ نہ کرلیں۔ یہ سب کچھ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جھٹلانے والوں کی بہت زیادہ خواہش تھی کہ وہ کسی طریقے سے اس دعوت کو جھوٹا ثابت کریں جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے اور وہ لغت عرب کے ماہر اور فصاحت و بلاغت کے مالک تھے۔۔ اگر ان میں اس دعوت کا مقابلہ کرنے کی ذرا سی بھی اہلیت ہوتی تو وہ ضرور اس کا مقابلہ کرتے۔ اس سے یہ واضح ہوگیا کہ انہیوں نے طوعا و کر با اس بارے میں میں اپنی بےبسی کو تسلیم کرلیا اور قرآن کے معارضے سے عاجز آگے۔۔۔ اور وہ مخلوق جو مٹی سے پیدا کی گئی ‘ جو ہر پہلو سے ناقص ہے ‘ جو علم ‘ قدرت ‘ ارادہ اور مشیت سے محروم ہے ‘ اس کا کلام اور کمال اس کے رب کا عطا کردہ ہے ‘ رب کائنات کے کلام کا کس طرح مقابلہ کرسکتی ہے ‘ جو تمام بھید کو جاننے والا ہے ‘ جو کمال مطلق ‘ حمد مطلق اور مجد عظیم کا مالک ہے ‘ وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر سات سمندروں کو روشنائی اور تمام درختوں کے قلم بنا دیے جائیں ‘ تو تمام روشنائی ختم ہوجائے گی اور قلم فنا ہوجائیں گے مگر اللہ تعالیٰ کے کلمات کبھی ختم نہ ہوں گے۔
پس جیسے اللہ تعالیٰ کی صفات میں ‘ اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کے مماثل نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام بھی جو کہ اس کی صفت ہے۔۔۔ بےمثل ہے۔ اس کی ذات ‘ اس کے اسماء ‘ اس کی صفات اور اس کے افعال میں کوئی چیز اس کی مثیل نہیں۔ تب ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو مخلوق کے کلام کو خالق کے کلام کے مشابہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ محمد ﷺ نے اسے اپنے دل سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کی ہے۔
Ayahs 17:89–100(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق معجزات و آیات کا مطالبہ کر کے تعنت کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے نفس کی طرف سے ‘ جو ظالم اور جاہل ہے ‘ آیات گھڑتے ہیں پس وہ رسول اللہ ﷺ سے ‘ جو یہ قرآن لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو ہر قسم کی دلیل اور برہان پر مشتمل ہے ‘ کہتے ہیں : (لن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا) ” ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو جاری کر دے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ “ یعنی بہتی ہوئی نہیں جاری کر دے۔
(اوتکون لک جنۃ من نخیل و عنیب ) ” یا ہو تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا “ جن کی مدد سے تو بازاروں میں چلنے پھرنے اور آجانے سے مستغنی ہوجائے۔ ( اوتسقط السماء کما زعمت علینا کسفا)
” یا گرا دے ہم پر آسمان ‘ جیسا کہ تو کہا کرتا ہے ‘ ٹکڑے ٹکڑے کر کے “ یعنی عذاب سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے (اوتاتی باللہ و الملائکۃ قبیلا) ” یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے “ یعنی تما فرشتے ‘ یا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام فرشتے رو برو آجائیں اور وہ تیری نبوت کی گواہی دیں۔ (اویکون لک بیت من زخرف) ” یا ہو تیرے واسطے گھر سنہرا “ یعنی سونے وغیرہ سے منقش اور آراستہ (او ترقی فی السماء ) ” یا تو آسمان پر چڑھ جا۔ “ یعنی حسی طور پر آسمان پر چڑھ جائے۔ (و) ” اور “ اس کے باوجود (لن نو من لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقروہ ) ” ہم نہیں مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو ‘ یہاں تک کہ لائے تو ہمارے پاس کتاب جسے ہم پڑھیں “ چونکہ یہ کلام محض تعنت اور رسول کو بےبس کرنے کی خواہش اور داعیہ ہے ‘ یہ احمق ترین اور ظالم ترین لوگوں کا کلام ہے جو حق کو ٹھکرا دینے کو متضمن ہے ‘ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے حضور بےادبی اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بےبنیاد دعویٰ ہے کہ آپ یہ آیات خود تصنیف کرتے ہیں۔۔۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اللہ کی تنزیہ بیان کریں۔ (قل سبحان ربی ) ” کہہ دیجیے ! کہ پاک ہے میرا رب “ جو کچھ تم اللہ کے بارے میں کہتے ہو وہ اس سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ اس کی ذات اس سے پاکس ہے کہ اس کے احمکام اور آیات ان کی خواہشتات تفس اور گمراہ آراء و نظریات کے تابع ہوں۔ (ھل کنت الا بشرا رسولا) ” میں نہیں ہوں مگر ایک آدمی بھیجا ہوا “ میرے ہاتھ میں کچھ بھی اختیار نہیں۔۔۔ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اکثر لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ ان کی طرف جو رسول اور نبی مبعوث کئے گئے وہ سب انہی کی جنس میں سے تھے ‘ یعنی وہ سب بشر تھے۔
یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا کیوں کہ وہ فرشتوں سے بلا واسطہ احکام وصول وصول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ‘ اس لیے فرمایا : ( قل لو کان فی الارض ملاکۃ یمشون مطمئنین ) ” کہہ دیجیے ! اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے ‘ بستے “ یعنی اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لینے اور ان سے احکام اخذ کرنے کی طاقت رکھتے ہوتے ( لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا ) ” تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔ “ (لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسول ) ” تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔ “ قل کفی باللہ شہیدا بینی و بینکم انہ کان بعبادہ خبیرا بصیرا) کہہ دیجیے اللہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمہارے درمیان ‘ بیشک وہ ہے اپنے بندوں سے خبر دار ‘ دیکھنے والا۔ والا۔ “ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول کے لیے گواہی یہ ہے کہ اس نے آیات اور معجزات کے ذریعے سے اس کی تائید کی اور ان لوگوں کے خلاف آپ کو فتح و نصرت سے نوازا جنہوں نے آپ سے عداوت کی۔ اگر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی رگ جاں کاٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ باخبر اور دیکھنے والا ہے اور بندوں کے احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ (آیت نمبر (97:
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ہدیت اور گمراہی صرف اسی کے قبضہء قدرت میں ہے وہ جسے ہدایت سے نوازانا چاہتا ہے تو اسے آسان راہیں میسر کردیتا ہے اور اس کو تنگی سے بچا لیتا ہے اور وہی درحقیقت ہدایت یافتہ ہے اور جسے گمارہ کرتا ہے اسے اس کے نفس کے حوالے کر کے اس سے الگ ہوجاتا ہے تب اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی راہ نہیں دکھا سکتا اور ان کا اس روز کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو ان کو اللہ کے عذاب کے مقابلے میں مدد کرسکے جب اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان کے چہروں کے بل ‘ نہایت رسوائی کی حالت میں اندھے اور گونگے بنا کر اکٹھے کرے گا وہ دیکھ سکیں گے نہ بول سکیں گے۔ (ماوھم) ” ان کا ٹھکانا “ یعنی ان کی جائے قرار اور ان کا گھر (جھنم) ” جہنم ہے “ جہاں ہر قسم کا حزن و غم اور عذاب جمع ہے۔ (کلما خبت) ” جب وہ بجھنے لگے گی “ (زدنھم سعیرا) ” تو ہم ان پر اس آگ کو اور بھڑکا دیں گے۔ “ عذاب ان پر سے منقطع نہ ہوگا۔ ان کو موت آئے گی نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کی جزادی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے اور قیامت کے روز پر ایمان نہیں رکھتے تھے جس کے بارے میں تمام انبیاء و رسل نے آگاہ فرمایا اور تمام آسمانی کتابوں نے اس کے برپا ہونے کا اعلان کیا۔ انہیوں نے اپنے رب کو عاجز قرار دے کر اس کی قدرت کا ملہ کا انکار کردیا۔
(وقالواء اذا کنا عظا ما و رفاتاء انا لمبعروثون خلقا جدید) (بنی آسرائیل (49/17:” اور انہیوں نے کہا ‘ جب ہم ہوگئے ہذیاں اور چورا چورا ‘ کیا ہم اٹھائے جائیں گے نئے بنا کر “ یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ ان کی فاسد عقل کے مطابق ایسا ہونا بہت بعید تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض ) ” کیا انہوں نے انہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمان اور زمین بنائے “ جو کہ انسانوں کی تخلق سے زیادہ مشکل امر ہے۔ (قادر علی ان یخلق مثلھم) ” وہ قادر ہے کہ پیدا کرے ان جیسوں کو “ کیوں نہیں ! بیشک اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے (وجعل لھم اجلا لا ریب فیہ ) ” اور اس نے ان کے لیے ایک مدت مقرر کردی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ” اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس گھڑی کو اچانک لے آئے اور اس بات کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد موت پر دلائل وبراہین قائم کردیے ہیں۔ (فابی الظلمون الا کفرا) ” پھر بھی نہیں رہا جاتا ظالموں سے نا شکری کیے بغیر “ ظلم کرتے اور افترا کرتے ہوئے۔
( قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی ) ” کہہ دیجیے ! اگر تمہارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے “ جو کبھی ختم ہوتے ہیں نہ تباہ ہوتے ہیں ( اذا لا امسکتم خشیۃ الا نفاق) ” تو تم ضرور بند کر رکھتے ‘ اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں “ یعنی اس خوف سے کہ جو کچھ خرچ کرتے ہو کہیں ختم نہ ہوجائے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا ختم ہونا محال ہے مگر بخل اور کنجوسی انسان کی جبلت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔
Ayahs 17:101–104(آیت نمبر (101
یعنی اے رسول ! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے۔۔۔ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی ہم نے اپ ﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا ‘ ہم نے انہیں عطا کیے (تسع ایت بینت ) ” نو معجزات “ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں ایک ہی معجزہ کافی ہے۔۔۔ جیسے اژدہا ‘ عصا ‘ طوفانً ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جوئیں ‘ مینڈ ‘ خون ‘ یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے (فسعل بنی اسرائیل اذا جاء کم فقال لہ فرعون ) ” تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو ( ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا : (انی لا ظنک یموسی مسحورا) ” اے موسیٰ ! میں سمجھتا ہوں ‘ تجھ پر ضرور جادو کردیا گیا ہے۔ “ (قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اے فرعون ! (لقد علمت ) ”ٌجھے علم ہے “ ( ما انزل ھو لاء) ” نہیں نازل کیا ان معجزات کو “ (الا رب السموت والارض بصائر ) ” مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو “ اپنی طرف سے بندوں کے لیے پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ( وانی لا ظنک یفرعون مثبورا) ” اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔ “ یعنی اے فرعون ! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض ‘ مذموم ‘ دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔ (فاراد) پس فرعون نے ارادہ کیا (ان یستفزھم من الارض) ”” پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھویں کو سب کو غرق کردیا “ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنادیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔ “ یعنی بنی اسرائیل کو سر زمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے (فاغرقنہ و من معہ جمیعا) ” پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کردیا “ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنادیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وقلنا من بعدہ لنبی اسرآئیل اسکنو الارض فاذا جاء وعدالاخرۃ جئنا بکم لفیفا) ” اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا ‘ رہو تم زمین میں ‘ پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا ‘ تو ہم تم سب کو سمیٹ کرلے آئیں گے “ یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس عمل کی جزا دیں گے۔
Ayah 17:105(آیت نمبر (105:
یعنی ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ ‘ اپنے بندوں کے لیے امرو نہی اور ان کے عذاب و عقاب کی خاطر نازل کیا ہے (و بالحق نزل) ” اور حق کے ساتھ اترا “ یعنی یہ قرآن صدق و عدل اور شیطان مردود کے ہر وسوسہ سے محفوظ نازل ہوا (وما ارسلنک الا مبشرا ) ” اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والا بنا کر “ یعنی ان لوگوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دینے کے لیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی (ونذیرا) ” اور ڈرانے والا “ یعنی انہیں دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے کے لیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس سے ان امور کا بیان لازم آتا ہے جو تبشیر و انذار پر مبنی ہیں۔
Ayahs 17:106–109(آیت نمبر (106
یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی ‘ حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے (لتقراہ علی الناس علی مکث) ” تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں “ تاکہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں۔ (و نزلنہ تنزیلا ) ” اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔ “ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے ‘ ٹکڑوں میں تئیس (23) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ (ولا یا تونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیرا) (الفرقان (33/25:” اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھول دیا۔ “ پس جب حق واضح ہوجائے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک و شبہ نہیں (قل) (قل) تو ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (امنو بہ او لا تومنو ا) ” تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ “ اللہ تعالیٰ کو تمہاری کوئی حاجت نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس تکذیب کا نقصان تمہیں ہی پہنچے گا کیونکہ تمہارے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بندے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم نافع عطا کیا ہے۔ (اذا جتلی علیھم یخرون للا ذقان سجدا) ” جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گرپڑتے ہیں تھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے “ یعنی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کے سامنے نہایت عاجزی سے سرافگندہ ہوتے ہیں۔
(و یقولون سبحن ربنا ) ” اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب “ وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں (ان کان وعد ربنا ) ” اور بیشک ہمارے رب کا وعدہ “ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ (لمفعولا) ” ہونے والا ہے “ اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔ (و یخرون للاذقان ) ” اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں پر “ یعنی منہ کے بل (یبکون و یزید ھم ) ” روتے ہوئے اور زیادہ کرتا ہے ان کو “ یعنی قرآن (خشوعا ) ” خشوع خضوع میں۔ “ یہ اہل کتاب کے ان مومنین کی مانند ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد ایمان لائے۔
Ayahs 17:110–111آیت نمبر (110 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے : (ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن ) ” تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو “ یعنی ان دونوں ناموں میں سے چاہے جس نام سے پکارو (ایا ما تدعو فلہ الاسماء الحسن ) ” جو کہہ کر پکارو گے ‘ پس اسی کے ہیں سب نام اچھے “ یعنی اس کا کوئی اسم مبارک ایسا نہیں جو اچھا نہ ہو اور اس کو اس نام سے پکارنے سے روکا گیا ہو۔ تم جس نام سے بھی اسے پکارو گے اس سے مقصد حاصل ہوجائے گا۔ مگر مناسب یہی ہے کہ اسے ہر مطلوب کی ناسبت سے ‘ مطلوب کے مطابق نام سے پکارا جائے۔ (ولا تجھر بصلاتک ) ” اور پکار کر نہ پڑھیں اپنی نماز “ یعنی بہت بلند آواز سے قراءت نہ کیجیے (ولا تخفت بھا ) ” اور نہ چپکے سے پڑھیں “ یعنی ان دونوں امور سے بچا جانا چاہیے۔ زیادہ بلند آواز میں قراءت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ مشرکین قرآن مجید سن کر برا بھلا کہیں گے اور قرآن لانے والے کو سب و شتم کا نشانہ بنائیں گے اور بہت نیچی آواز میں قرآن پڑھنے سے اس شخص کا مقصد پورا نہ ہوسکے گا جو دھیمی آواز میں قرآن سننا چاہتا ہے۔ (وابتغ بین ذالک سبیلا) ” اور ڈونڈ لیں اس کے درمیان راستہ “ یعنی بہت زیادہ بلند آواز اور بہت زیادہ پست آواز کے بین بین اور ان دونوں کے درمیان متوسط راہ اختیار کیجیے۔
(ف قل الحمد للہ ) ” اور کہہ دیجیے ! تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے “ جو ہر لحاظ سے کمال ‘ مدح و ثنا اور حمد و مجد کا مالک اور ہر آفت اور نقص سے پاک ہے۔ (الذی لم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک) ” جو نہیں رکھتا اولاد اور نہیں اس کا کئی شریک بادشاہی میں “ بلکہ تمام تر اقتدار کا مالک اللہ واحد وقہار ہے ‘ تمام عالم علوی اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں ( ولم یکن لہ ولی من الذل ) ” اور نہیں ہے اس کا کوئی مددگار عاجزی کے وقت “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا سرپرست نہیں بناتا کہ وہ اس کے تعاون کے ذریعے سے عزت و غلبہ حاصل کرے۔ پس وہ بےنیاز اور قابل ستائش ہے ‘ وہ زمین اور آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ مگر وہ اپنے بندوں پر احسان کرتے اور ان کو اپنی رحمت سے ڈھنپتے ہوئے ان کو اپنا دوست بناتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (اللہ ولی اذین امنوا یخرجھم من الظلمت الی النور) (البقرہ : 257/2) ” جو لوگ ایمان لائے ‘ اللہ ان کا دوست ہے جو انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے “ ( و کبرہ تکبیرا) ” اور اس کی بڑائی بیان کر بڑا جان کر “ یعنی اس کے عظیم اوصاف کے بارے میں خبر دے کر ‘ اس کے اسماء حسنٰی کے ذریعے سے حمد و ثنا کے ساتھ ‘ اس کے افعال مقدسہ کے ذریعے سے ستائش کے ساتھ ‘ صرف اس کے لیے عبادت کے ذریعے اس کی عظمت و جلال بیان کرتے ہوئے اس کی تعظیم و جلال کا اعتراف کیجیے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور اخلاص دین صرف اسی کے لیے ہے۔ (آیت نمبر (1
حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے ‘ جو کہ صفت کمال ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا۔۔۔۔ اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔
(2) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔
کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر نواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔
استقات کا اثبات اس بات کا متقضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے اگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الہٰی اور ایمان و عقل سے لبریز کردیتی ہیں ‘ مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ‘ نیز گزرے ہوئے اور آہندہ آنے والے غیبی معاملات کی خببریں۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامرو نواہی نفوس انسانی کا تذکیہ ‘ ان کی نشو ونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامرو نواہی کامل عدل و انصاف ‘ اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبویت پر مشتمل ہیں۔ یہ کتاب ‘ جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان کیے گئے ہیں ‘ اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمدو ستائش کا مطالبہ کرے۔
لینذر باسا شدید من لدنہ ) ” تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے ‘ یعنی اس شخص کو اپنی اس قضاو قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے ‘ نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اور ان کو ان امور سے ڈریا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا : (ذلک یخوف اللہ بہ عبادہ یعباد فاتقون) (الزمر (16/39:” اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندوں ! پس مجھ سے ڈرو “ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو ان کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں ‘ ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کردیا اور ان ساباب کو بھی واضح کردیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔
(ویبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ) ” اور خوشخبری دیجیے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی ‘ تاکہ اس کے ذریعے سے ‘ نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے ‘ ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لاکر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب کئے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ‘ جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں۔ (ان لھم اجرا حسنا ) ” کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے “ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے اور اس اجر کو ” حسن “ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہوگا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ (ما کثین فیہ ابد) ” وہ اس میں ابدالہ آباد تک رہیں گے “۔ یہ اجر وثواب کبھی ان سے زائل ہوگا نہ یہ اس سے دور کئے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجرو ثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہوگی۔
(و ینذر الذین قالو اتخذ اللہ ولد ا) ” اور ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے “ یعنی یہودو نصاریٰ اور مشرکین ‘ جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں ‘ بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں۔
(کبرت کلمۃ تخرج من افوھھم ) ” بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے “ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے ‘ اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہوسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی متقضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ومن اظلم من افتری علی اللہ کذبا) (الانعام (21/6” اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ “ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا : ( ان یقولون الا گذبا ) ” یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں “ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں۔
غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے ‘ چناچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی۔ (ما لھم بہ من علم و لا لا باءھم) اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے ‘ فرایا : (کبرت کلمۃ تخرج من افواھم) پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔۔
چونکہ نبی اکرم ﷺ خلائق کی ہدیت کی بےانہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بےحد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے : (لعلک باخہ نفسک الا یکونو مومین) (الشعرا 3/26: ” شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کرلیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “ ایک اور مقام پر فرمایا : (فلا تذھب نفسک علیھم حسرت) (فاطر (8/35: ” پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔ “ یہاں فرمایا : (فلعلک باخع نفسک) ” کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک ڈالیں گے۔ “ یعنی ان کے غم میں حالانکہ آپ کا اجرو ثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہوچکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا ‘ کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت ‘ ان تام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ‘ امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہوجائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قوی کو نہدم کردیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہوجائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ سے فرماتا ہے : ( انک لا تھدی من احببت) (القصص (56/28:” آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اعتراف کیا۔ (رب انی لا املک الا نفسی و احی) (المائدہ 25/5:” اے میرے رب ! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ “ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدیت دینے کا اختیار نہیں رکھتے ‘ جنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (فذکر انما انت مذکر لست علیھم بمصیطر) (الغاشیہ (22-21/88:” آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ‘ آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔ “