Ayahs 17:41–44آیت نمبر 41
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لئے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان کئے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان کئے ہیں اور انہیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انہیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتیٰ کہ وہ باطل کے لئے تعصب میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔
جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل وبراہین بیان کئے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ہیں جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے (قل) یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لئے ہیں۔ (لو کان معہ الھتہ کما یقولون) ، ، اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں، ، یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق (اذا لا بتغو الیٰ ذی العرش سبیلاً ) ، ، تو نکالتے صاحب عرض کی طرف کوئی راستہ، ، یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعلایٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے ؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے ؟
اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ (آیت) (نبی اسرائیل : 57/17) ، ، جن لوگوں کو یہ پکارٹے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔ ، ، اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (آیت) (الفرقان : 18/17/25) ، ، اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا ؟ یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے ؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں۔ ، ،
اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لئے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آجاتے اور جو غالب آجاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انہیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انہیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انہوں نے معبود کیوں بنایا ہے ؟ تب اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ (آیت) (المومنون : 91/23) ، ، اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہوجاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔۔ فرمایا : (سنبحنہ و تعالیٰ ) ، ، وہ پاک اور بلند ہے۔ ، ، یعنی اللہ تعالیٰ مقدس اور منزہ ہے اس کے اوصاف عالیشان ہیں۔ (عما یقولون) ، ، ان سے جو وہ کہتے ہیں، ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور ان کے اس کا ہمسر بنا لینے سے پاک ہے (علواً کبیراً ) ، ، بہت بلند۔ ، ، پس وہ عالی قدر اور عظیم الشان ہے اور اس کی کبریائی ظاہر ہے اس کی کبرائی برداشت نہیں کرسکتی کہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہو۔ جو کوئی اس بات کا قائل ہے وہ صاف گمراہ اور بہت بڑا ظالم ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات نہایت عاجز اور اس کی کبریائی کے سامنے بہت حقیر ہیں۔ ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اوپر ہے، سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ، قدرت میں ہے۔ (آیت) (الزمر : 67/39) ، ، قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ ، ،
تمام عالم علوی اور عالم سفلی اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کسی وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی یہ فقرو احتیاج ہر لحاظ سے ‘ تخلیق ‘ رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطراری طور پر بھی فقرو احتیاج جدا نہیں ہوتی یہ فقرو احتیاج ہر لحاظ سے ‘ تخلیق ‘ رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطرای طور پر بھی فقرو احتیاج ہے کہ ان کا کوئی معبود و حبوب ہو جس کا وہ تقرب حاصل کریں اور ہرحال میں اس کی پناہ لیں۔ بنا بریں فرمایا (تسبح لہ السموت السبع والارض ومن فیھن وان من شیء) ” اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور نہیں ہے کوئی چیز۔ “ یعنی حیوان ناطق ‘ حیوان غیر ناطق ‘ درخت ‘ نباتات ‘ جمادات ‘ زندہ اور مردہ (الا یسبح بحمدہ ) ” مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ “ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے (الا یسبح بحمدہ) مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ “ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے (ولکن لا تفقھون تسبیحھم ) ” لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے “ یعنی تم باقی تمام مخلوقات کی تسبیح نہیں سمجھتے جن کی زبان تمہاری زبان سے مختلف ہے۔ مگر اللہ علام الغیوب ان سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (انہ کان حلیم غفورا ) ” بیشک وہ بردبار اور بڑا بخشنے والا ہے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی فوراً سزا نہیں دیتا جو اس کے بارے میں ایسی بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر گرپڑیں۔ مگر اللہ تعالیٰ انہیں مہلت دیتا ہے ‘ انہیں نعمتوں سے نوازتا ہے ‘ ان سے درگزر کرتا ہے ‘ ان کو رثق عطا کرتا ہے اور ان کو اپنے دروازے پر بلاتا ہے تاکہ وہ اس گناہ عظیم سے توبہ کریں اور وہ ان کو ثواب جزیل عطا کرے اور ان کے گناہ بخش دے۔ اگر اس کا حلم اور مغفرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گرپڑتے اور زمین کی پیٹھ پر ایک جاندار بھی زندہ نہ بچتا۔
Ayahs 17:45–55(آیت نمبر (45
اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ) ” اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں “ ان کے ہوتے ہوئے یہ اس قرآن کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ البتہ یہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوجاتی ہے۔ (و فی اذانھم و قرا) ” اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے “ یعنی ان کے کان قرآن سننے سے بہرے ہیں۔ (واذا ذکرت ربک فی القران وحد ہ) اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں ‘ ان کے ہوتے ہوئے یہ اس قرآن کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ البتہ یہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوجاتی ہے۔ (و فی اذانھم و قرا ) ” اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے “ یعنی ان کے کان قرآن سننے سے بہرے ہیں۔ ( واذا ذکرت ربک فی القران وحدہ) ” اور جب آپ ذکر کرتے ہیں اپنے رب کا قران میں کہ وہ اکیلا ہے “ یعنی توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے اور شرک سے روتے ہوئے (ولوا علی ادبار ھم نفورا) ” تو بھاگ جاتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر “ قرآن سے نہایت سخت بغض رکھنے اور اپنے باطل موقف سے محبت کی وجہ سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ اذا ھم یستبشرون) (الزمر : (45/39” جب تنہا اللہ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کر اہٹ کی وجہ سے منقبض ہوجاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ خداؤں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوشی سے کھل جاتے ہیں۔ “
(نحن اعلم بما یستمعون بہ ) ” ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے یہ سنتے ہیں “ یعنی ہم نے ان کو قرآن کے استماع کے وقت اس سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا ہے کیونکہ ہم ان کے برے ارادوں کا علم رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی بات ہی ہاتھ آئے تاکہ اس کے ذریعے سے اس میں عیب جوئی کریں۔ ان کا قرآن سننا طلب ہدایت اور قبول حق کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ تو اس کی عدم اطاعت کا تہیہ کئے ہوئے ہیں اور جن کا یہ حال ہو تو استماع قرآن ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا ‘ اس لیے فرمایا : (اذ یستمعون الیک و اذ ھم نجوی) ” جب وہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں “ یعنی جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کرتے ہیں۔ (اذ یقول الظلمون) ” جب کہ ظالم کہتے ہیں “ اپنی سرگوشیوں میں : (ان تتبعون الا رجلا مسحورا) ” جس کی تم پیروی کرتے ہو ‘ وہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے۔ “ پس جب ان کی باہمی سرگوشی اس طرح کی بےانصافی پر مبنی ہوتی تھی جس کی بنیاد اس امر پر تھی کہ یہ شخص جادو زدہ ہے تو اس لیے وہ اس کے قول کا اعتبار نہیں کرتے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص نا معقول باتیں کرتا ہے اور اسے خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ (انظر) یعنی تعجب کے ساتھ ان کے طرف دیکھیے۔ ( کیف ضربو الک الامثال) ” کیسے بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں “ جو کہ گمراہ ترین اور حق وثواب سے سب سے زیادہ ہٹی ہوئی مثالیں ہیں (فضلو) ” پس وہ گمراہ ہوگئے۔ “ یعنی اس بارے میں وہ گمراہ ہوگئے یا یہ ضرب الامثال ان کی گمراہی کا سبب بن گئیں کیونکہ انہوں نے اپنے معاملات کی بنیاد ان مثالوں پر رکھی اور کسی فاسد چیز پر رکھی ہوئی بنیاد اس سے زیادہ فاسد ہوتی ہے۔ (فلا یستطیعون سبیلا) (” پس وہ راہ نہیں پاسکتے “ یعنی انہیں کسی طور بھی راستہ نہیں مل سکتا ‘ اس لیے ان کے نصیب میں محض گمراہی اور صرف ظلم ہے۔ آیت نمبر (49
اللہ تبارک و تعالیٰ ‘ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں ‘ اس کو جھٹلانے والوں اور اس کو بعید سمجھنے والوں کا یہ قول نقل کرتا ہے۔ ) (ء اذا کنا عظا ما و رفاتا ) ” کیا جب ہم ہوجائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا “ یعنی جب ہم بوسیدہ ہوجائیں گے (ء انا لمبعون ثون خلقا جدید ) ” کیا پھر ہم اٹھیں گے نئے بن کر ؟ “ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا ان کے زعم کے مطابق یہ بہت محال ہے۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کر کے اور اس کی آیات کو جھٹلا کر سخت جہالت کا ثبوت دیا ہے ‘ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی کمزور اور عاجز قدرت پر قیاس کیا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں اور وہ اس پر قدرت نہیں رکھتے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی اسی پر قیاس کرلیا۔
پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو جہالت کی مثال بنایا ہے۔۔۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں ‘ حالانکہ ان کی جہالت سب سے واضح ‘ سب سے نمایاں ‘ دلائل وبراہین کے اعتبار سے سب سے روشن اور سب سے بلند ہے۔۔۔ تاکہ وہ اپنے بندوں کو دکھائے کہ یہاں سوائے اس کی توفیق اور اعانت یا ہلاکت اور ضلالت کے کچھ بھی نہیں۔ ( ربنا لا تزع قلوبنا بعداذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب) (آل عمران : (8/3” اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت بخش دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر م ہیں اپنی رحمت سے نواز ‘ بیشک تو بہت نوازنے والا ہے۔ “
بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ زندگی بعد موت کو بعید سمجھنے والوں سے کہہ دیں (کونوا حجارۃ اوحدیدا۔ او خلقا مما یکبر فی صدورکم ) ” تم ہوجاؤ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جس کو تم مشکل سمجھو اپنے جی میں “ تاکہ تم اس طرح اپنے زعم کے مطابق اس بات سے محفوظ ہوجاؤ کہ تم قدرت الہٰی کی گرفت میں آؤ یا اس کی مثیت تمہاری بابت نافذ ہو۔ پس تم کسی بھی حالت میں اور کسی بھی وصف میں منتقل ہو کر اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے اور اس زندگی میں اور موت کے بعد تم اپنے بارے میں کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے ‘ اس لیے تدبیر اور تصرف اس ہستی کے لیے چھوڑ دو جو ہر چیز پر قادر اور ہر چیز پر محیط ہے۔
(فسیقولون) ” پس وہ کہیں گے “ یعنی جب آپ زندگی بعد موت کے بارے میں ان پر حجت قائم کرتے ہیں۔ ) (من یعید نا قل الذی فطر کم اول مرۃ ) ” کون لوٹا کر لائے گا ہم کو ؟ کہہ دیجیے ! وہ جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔ “ یعنی جب تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا اسی طرح وہ تمہیں نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ (کما بدانا اول خلق نعیدہ) (النبیاء : (104/21” جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم تخلیق کا اعادہ کریں گے۔ “ (فسینغضون الیک روسھم) ” تو (تعجب سے) تمہارے آگے سر ہلائیں گے۔ “ یعنی وہ آپ کی بات پر تعجب اور انکار سے سر ہلاتے ہیں ( وویقولون متی ھو) ” اور کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا ؟ “ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا وقت کب ہوگا جیسا کہ تم کہتے ہو۔ یہ ان کی طرف سے زندگی بعد موت کا اقرار نہیں ‘ بلکہ یہ ان کی سفاہت اور بزعم خود ‘ دلیل میں بےبس کرنا ہے۔ (قل عنی ان یکون قریبا) ” کہہ دیجیے ! شاید یہ نذدیک ہی ہوگا “ اس لیے اس کے وقت کے تعین کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کا فائدہ اور اس کا دارومدار تو اس کے اقرار ‘ اس کی تحقیق اور اس کے اثبات میں ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اسے ضرور آنا ہے اس اعتبار سے وہ قریب ہی ہے۔
(یوم یدعوکم ) ” جس دن وہ تم کو پکارے گا “ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمہیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ (فتستجیبون بحمدہ ) ” پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے “ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور اس کی نافرمانی نہیں کرسکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (بحمدہ) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ (وتظنون ان لبثتم الا قلیلا) ” اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو “ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمہیں حاصل رہی ہیں۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے : (متی ھو ) ” قیامت کا دن کب ہوگا ؟ “ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا : (ھذا الذی کنتم بہ تکذبون) (المطففین : (18/83” یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ “ (آیت نمبر (53: یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انہیں بہتر اخلاق ‘ اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں چناچہ فرمایا : (و قل لعبادی یقولوا التیھی احسن ) ” کہہ دو میرے بندوں سے ‘ بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔ “ یہ ہر اس کلام کے بارے میں حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے مثلاً قرآءت قرآن ‘ ذکر الہٰی ‘ حصول علم ‘ امر بالمعروف ‘ نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلامی وغیرہ۔ اگر دو اچھے امور درپیش ہوں اور ان دونوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے ‘ اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں۔ (ان الشیطان ینزع بینھم ) ” بیشک شیطان ان کے درمیان جھڑپ کرواتا ہے “ یعنی شیطان بندوں کے دین و دنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا رہتا ہے اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے ‘ اس لیے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف مصروف جنگ رہیں۔ اس لیے کہ وہ تو انہیں دعوت دیتا رہتا ہے (لیکونو من اصحب السعیر) (فاطر : (6/35” تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔ “ اگرچہ شیطان ان کے درمیان فساد اور عداوت ڈالنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے لیکن اس بارے میں کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ اپنے دشمن شیطان کی مخالفت کی جائے ‘ نفس امارہ کا قلع قمع کیا جائے جس کے راستے سے شیطان داخل ہوتا ہے ‘ اس طرح وہ اپنے رب کی اطاعت کرسکیں گے ‘ ان کا معاملہ درست رہے گا اور راہ ہدایت پالیں گے۔
(ربکم اعلم بکم ) ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے “ اس لیے تمہارے لیے وہی چاہتا ہے جس میں تمہاری بھلائی ہے اور تمہیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمہاری کوئی مصلحت ہے بسا اوقات تم ایک چیز کا ارادہ کرتے ہو مگر بھلائی اس کے برعکس کسی اور چیز میں ہوتی ہے۔ (ان یشا یرحمکم او ان یشا یعذبکم ) ” اگر وہ چاہے ‘ تو تم پر رح کرے اور اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ “ پس جسے چاہتا ہے اسباب رحمت کی توفیق عطا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہوجاتا ہے۔ پس وہ اسباب رحمت سے محروم ہو کر عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ (وما ارسلنک علیھم وکیلا ) ” اور ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار بنا کر نہیں بھیجا “ کہ آپ ان کے معاملات کی تدبیر کریں اور ان کو جزا دیں۔ وکیل اور کارساز تو صرف اللہ ہے اور آپ تو صرف صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں۔
(و ربک اعلم بمن فی السموت والارض) ” اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں “ یعنی وہ تمام مخلوق کو جانتا ہے۔ پس ان میں سے جو کوئی جس چیز کا مستحق ہے اور اس کی حکمت جس کا تقاضا کرتی ہے اسے وہی عطا کرتا ہے اور وہ تمام حسی اور معنوی خصائل میں ان کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کرتا ہے۔ جیسے اس نے بعض انبیاء علیھم السلام کو وحی میں ان کے اشتراک کے باوجود بعض فضائل اور خصائص میں ‘ جو محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ‘ بعض پر فضیلت دی ہے ‘ مثلاً اوصاف ممدوحہ ‘ اخلاق جمیلہ ‘ اعمال صالحہ ‘ کثرت متبعین اور ان میں سے بعض پر کتابوں کا نزول جو عقائد اور احکام شریعت پر مشتمل ہیں ‘ جیسا کہ داؤد (علیہ السلام) پر زبور نازل فرمائی جو کہ ایک معروف آسمانی کتاب ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے گرام علیھم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے اور ان میں سے بعض کو کتاب شریعت عطا کی ‘ تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار اس کتاب اور نبوت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی اور اس فضیلت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ کو عطا کی گئی۔
Ayahs 17:56–57(آیت نمبر (56
(قل) ” کہہ دیجیے۔ “ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ‘ جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے ‘ جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔۔۔ کہ اگر وہ سچے ہیں تو (ادعوا الذین زعمتم ) ” پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو “ یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں (من دونہ ” اللہ کو چھوڑ کر “ پس غور کرو کہ آیا وہ تمہیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمہیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ ) من دونہ ) ” اللہ کو چھوڑ کر “ پس غور کرو کہ آیا وہ تمہیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمہیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ (فلا یملکون کشف الضر عنکم ) ” سو وہ نہیں اختیار رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے کا “ یعنی یہ خود ساختہ معبود ‘ فقر اور سختی وغیرہ کو بالکل دور نہیں کرسکتے۔ ( ولا تحویلا) ” اور نہ بدلنے کا “ اور نہ یہ باطل معبود کسی سختی کو کسی ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہی کرسکتے ہیں۔ پس جب ان باطل معبودوں کے یہ اوصاف ہیں تو تم اللہ کے سوا انہیں کس لیے پکارتے ہو ؟ یہ کسی کمال کے مالک ہیں نہ افعال نافعہ کے۔ تب ان بےبس اور بےاختیار ہستیوں کے معبود بنانا عقل و دین کی کمی اور رائے کی سفاہت ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب انسان سفاہت میں پڑے رہنے کی وجہ سے اس کا عادی ہوجاتا ہے اور اس کو اپنے گمارہ آباء و اجداد سے اخذ کرتا ہے تو اسی سفاہت کو انتہائی درست رائے اور عقل مندی سمجھنے لگتا ہے اور اس کے برعکس اللہ واحد کے لیے۔۔۔ جو تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے۔۔۔۔ اخلاص کو سفاہت خیال کرتا ہے۔ یہ کتنا تعجب خیز معاملہ ہے ‘ جیسا کہ مشرکین کا قول ہے : (اجعل الا لھۃ الھا واحدا ان ھذا لشیء عجاب (آ : (5/38:) کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنادیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ “
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبدت کرتے ہیں وہ ان سے بیخبر ہیں ‘ وہ خود اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے بیخبر ہیں ‘ وہ خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور اس کی طرف وسیلہ کے متلاشی ہیں۔ فرمایا : (اولک الذی یدعون ) ” وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں “ یعنی انبیاء و صالحین اور فرشتے (یبتغون الی ربھم الوسیلۃ ایھم اقرب ) ” وہ ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کون زیادہ نذدیک ہے “ یعنی اپنے رب کے قرب کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مقدور بھر ایسے اعمال میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہیں (و یرجون رحمۃ ہ و یخفون عذابہ ) ” اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ “ پس وہ ہر اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو عذاب کا موجب ہے۔ (ان عذاب ربک کان محذورا) ” آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے “ اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام اسباب سے بچا جائے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں۔
خوف ‘ امید اور محبت ‘ یہ تین امور جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقربین کا وصف قرار دیا ہے ‘ ہر بھلائی کی اساس ہیں۔ جس نے ان تینوں امور کی تکمیل کرلی ‘ اس کے تمام امور مکمل ہوگئے اور اگر قلب ان امور سے خلی ہے تو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہوجائے گا اور برائیاں اس کو گھیر لیں گی اور اللہ تعالیٰ نے محبت الہٰی کی علامت یہ بتائی ہے کہ بندہ ہر اس کام میں جدو جہد کرتا ہے جو قرب الہٰی کا ذریعہ ہے اور اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ‘ خیر خواہی اور حتی المقدوران کو بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے اس کے قرب کے حصول کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان تمام امور کے بغیر اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔
Ayah 17:58(آیت نمبر (58
یعنی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے جھٹلانے والی کوئی بستی ایسی نہیں جسے روز قیامت سے پہلے ہلاکت یا عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کی مقرر کردہ تقدیر ہے جس کا وقوع لازمی ہے ‘ لہذا اس سے قبل کہ عذاب کا حکم آجائے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوجائے تکذیب کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے رسولوں کی تصدیق کریں۔
Ayahs 17:59–69(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح اگر ان کے پاس بڑے بڑے معجزات آتے ‘ تب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔ اس لیے کہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ چیز ان سے اوجھل اور ان پر مشتبہ ہوگئی جو رسول لے کر آیا تھا کہ آیا یہ حق ہے یا باطل کیونکہ رسول تو ان کے پاس بیشمار دلائل وبراہین لے کر آیا ہے جو اس کی دعوت کی حقانیت پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ دعوت اس شخص کی ہدایت کی موجب ہے جو ہدایت کا طلب گار ہے ان کے سوا دیگر معجزات و برا وبراہین بھی انہیں دلائل کی مانند ہیں جو رسول اللہ ﷺ پیش کرچکے ہیں انہیوں نے جو سلوک ان کے ساتھ کیا تھا ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے اور ان کی حالت یہ ہو تو معجزات کا نازل نہ کرنا ان کے لیے بہتر اور فائدہ مند ہے۔ (وما نرسل بالایت الا تخویفا) ” اور انہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے “ یعنی ان آیات کا یہ مقصد نہ تھا کہ یہ ایمان کی موجب اور اس کی طرف دعوت دیتی تھیں اور ایمان کا حصول ان کے بغیر ممکن نہ تھا بلکہ ان آیات کا مقصد صرف تخویف و ترہیب تھا تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں۔
(و اذا قلنا لک ان ربک احاط بالناس ) ” اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر لیا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وقدرت سے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ پس ان کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں جہاں یہ چھپ سکیں اور کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں اللہ سے بھاگ کر پناہ لے سکیں اور یہ چیز عقل مند کے لیے ان امور سے باز رہنے کے لیے کافی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں جس نے تمام لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔
(وما جعلنا الرء یا التی ارینک الا فتنۃ للناس ) ” اور نہیں کیا ہم نے وہ خواب جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کی آزمائش کے لی۔ “ اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد شب معراج ہے۔ (والشجرۃ الملعونۃ فی القران ) ” اور (ایسے ہی) وہ درخت جس جس پر قرآن میں پھٹکار ہے “ جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد زقوم (تھوہر) کا پودا ہے جو جہنم کی تہہ سے گتا ہے۔۔۔ معنی یہ ہے کہ یہ دونوں امور لوگوں کے لیے آزمائش بن گئے یہاں تک کہ کفار اپنے کفر پر جم گئے اور ان کا شر اور زیادہ ہوگیا۔ جب آپ ان کو بعض امور کے بارے میں آگاہ فرمایا جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ فرمایا تھا اور آپ نے خبر دی تھی کہ ” مجھے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا “ جو ایک خارق عادت واقعہ تھا تو بعض کمزور ایمان والے اپنے ایان سے پھرگئے۔ زقوم کے پودے کے بارے میں خبر دینا ‘ جو جہنم کی تہہ سے اگتا ہے ‘ یہ بھی ایک خارق عادت معاملہ ہے جو ان کے لیے تکذیب کا موجب بنا۔ پس اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں اور بڑے بڑے خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کرلیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ اور اس کے سبب سے ان کے شر میں اضافہ نہ ہوجاتا ؟ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان خوارق کو ان سے ہٹا دیا۔ یہ جن سے آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ بڑے بڑے امور کا قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ مذکور نہ ہونا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے کیونکہ وہ امور جن کی نظیر کا لوگوں نے مشاہدہ نہ کیا ہو بسا اوقات ان کی عقل ان کو قبول نہیں کر پاتی اور یوں یہ چیز بعض اہل ایمان کے دلوں میں شکوک و شبہات کا باعث بنتی ہے اور ایسا مانع رکاوٹ بن جاتی ہے جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتی ہے اور ان کو اسلام سے متنفر کرتی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے عام الفاظ استعمال کئے ہیں جو تمام امور کو شامل ہیں۔ (آیت نمبر (61
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کی سخت عداوت اور اس کی بندوں کو گمراہ کرنے کی بےپناہ حرص کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب اس نے آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا ‘ تو شیطان نے تکبر کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ (قال) اور نہایت تکبر سے کہ : (ء اسجد لمن خلقت طینا) ” کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کا بنایا “ یعنی جس کو تو نے گارے سے پیدا کیا اور بزعم خد وہ آدم سے بہتر ہے کیونکہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں متعدد پہلوؤں سے اس قیاس باطل کی خرابی بیان کی جا چکی ہے۔ جب ابلیس پر واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو فضیلت بخشی ہے (قال) تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا : (ارء یتک ھذا الذی کر مت علی لین اخرتن الی یوم القیمۃ لا حتنکن ذریتہ ) ” بھلا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے ‘ اگر تو مجھے قیامت تک ڈھیل دے دے تو میں اس کی اولاد کو اپنے بس میں کرلوں گا “ یعنی میں ضلالٹ کے ذریعے سے ضرور ان کو تباہ کروں گا اور ضرور ان کو سیدھے راسیتے سے بھٹکاؤں گا۔ (الا قلیل ) ” سوائے تھوڑے لوگوں کے “ اس خبیث کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بنی آدم میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو اس سے عداوت رکھیں گے اور اس کی بات نہیں مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : (اذھب فمن تبعک منھم ) ” جا ‘ ان میں سے جس نے تیری پیروی کی “ اور اپنے رب اور اپنے حقیقی سرپرست کو چھوڑ کر تجھے چن لیا۔ (فان جھنم جزاکم جزا موفورا) ” پس تم سب کی سزا جہنم ہے ‘ سزا پوری “ یعنی تمہارے لیے تمہارے اعمال کی پوری پوری جزا جمع کردی گئی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگالے ‘ چناچہ فرمایا : (واستفزز من استطعت منھم بصوتک ) ” اور بہکالے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔ “ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ (واجلب علیھم بخیلک و رجلک ) ” اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔ “ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے ‘ شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے (و شارکھم فی الاموال و الاولاد ) ” اور ساجھا کہ ان سے مالوں میں اور اولاد میں۔ “ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے ‘ مثلاً زکوٰۃ کفارات ‘ حقوق واجبہ ادا نہ کرنا ‘ اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شرکو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا ‘ ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روز گار میں حرام ذریعے اختیار کرنا ‘ وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھتے ‘ پانی پیتے اور جمع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا ‘ مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث (i) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہوجاتا ہے۔ (وعد ھم) یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں ‘ بنا بریں فرمایا : (وم یعد ھم الشیطن الا غرور ) ” شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے ‘ وہ فریب ہوتا ہے “ یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے ‘ جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے اور ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے ‘ کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الشیطن یعد کم الفقر و یا مرکم بالفحشاء واللہ یعد کم مغفرۃ منہ و فضلا) (البقرہ (268/2: ” شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمہیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمہیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ “
یہ خبر دینے کے بعد کہ شیان بندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے سے اس کے فتنے سے بچا جاسکتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبودیت ‘ ایمان پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل ‘ چناچہ فرمایا : (ان عبادی لیس لک علیھم سلطن ) ” بیشک میرے بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا “ یعنی تجھے ان پر کوئی تسلط ہوگا نہ تو ان کو بھٹکا سکے گا ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام عبودیت کی بنا پر ان سے ہر قسم کے شرکو دور ہٹا دے گا ‘ شیطان مردود سے ان کی حفاظت کرے گا اور ان کے لیے کافی ہوجائے گا۔ (وکفی بربک وکیلا ) ” اور آپ کا رب کافی ہے بطور کار ساز “ یعنی جو کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو آپ کا رب اس کا کار ساز ہے اور اس کے لیے کافی ہے۔ (آیت نمبر (66
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کشتیوں ’‘ سفینوں اور دیگر سواریوں کو مسخر کردیا اور ان کو الہام کے ذریعے سے کشتی سازی کی صنعت و دیعت کی ‘ موجیں مارتا ہوا سمندر ان کے لیے مسخر کردیا جس کی پیٹھ پر یہ سفینے تیرتے پھرتے ہیں تاکہ بندے اس پر سوار ہوں اور اپنے مال و متاع کی نقل و حمل میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بےپایاں رحمت ہے وہ ہمیشہ سے ان پر بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والاے۔ وہ انہیں ہر وہ چیز عنایت کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں اور جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جو یہ دلالت کرتی ہے کہ باطل معبودوں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ جب سمندر میں انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نیچے بلند ہوتی ہوئی موجوں کی وجہ سے جب وہ ہلاکت سے ڈرتے ہیں تو وہ ان تمام زندہ اور مردہ معبودوں کو بھول جاتے ہیں جنہیں وہ اپنی خوش حالی میں اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے۔۔۔۔ اس وقت تو ایسے لگتا ہے جیسے انہیوں نے کسی وقت بھی ان کمزور معبودوں کو نہیں پکارا جو کسی قسم کی تکلیف دور کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کائنات کو پیدا کرنے والے کو پکارتے ہیں جس کو تمام مخلوق اپنی سختیوں میں مدد کے لیے پکارتی ہے اور وہ اس حال میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے اور اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں۔
پس جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کردیتا ہے اور انہیں صحیح سلامت کنارے پر لگا کر سمندر کی ہلاکت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو انہیوں نے اللہ کو پکارا تھا۔ پھر وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا سب شریک بنا دیتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان ‘ جو کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ کسی کو محروم کرسکتی ہیں اور اپنے رب اور مالک سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ یہ انسان کی جہالت اور نا سپاسی ہے۔ بیشک انسان اللہ تالی کی نعمتوں کا سخت ناسپاس ہے ‘ سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ راہ راست دکھا دے۔ پس اسے عقل سلیم سے نواز دیتا ہے اور وہ راہ راست پر گامزن ہوجاتاے ‘ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مصیبتیں دور کرتا ہے ‘ اہوال سے نجات دیتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ سختی اور نرمی میں ‘ خوشحالی اور تنگدستی میں تمام اعمال کو صرف اسی کے لیے خالص کیا جائے۔ رہا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ اس کی کمزور عقل کے حوالے کر دے تو وہ مصیبت اور سختی کے وقت صرف موجودہ اور عارضی مصلحت کو ملحوظ اور اس حال میں اپنی نجات کو مد نظر رکھتا ہے اور جب اسے اس مصیبت سے نجات حاصل ہوتی ہے اور اس سے سختی دور ہوجاتی ہے تو وہ اپنی حالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو بےبس کردیا اور اس کے دل میں آخرت کا خیال تو کجا اسے اپنے دنیاوی انجام کے بارے میں بھی کبھی خیال نہیں آتا۔
اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کہہ کر یاد دہانی کروائی ہے۔ (افا منتم ان یخسف بکم جانب البرا او یرسل علیکم حاصبا ) ” کیا تم ’ اس سے) بےخوف ہو کر اللہ تمہیں خشکی کی طرف ( لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو تمہیں عذاب کے طور پر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی طوفانی ہوا بھیج دے اور یہ وہ عذاب ہے جو ان کو پہنچے گا اور وہ سب ہلاک ہوجائیں اس لیے یہ نہ سوچو کہ سمندر کے سوا کہیں اور عذاب نہیں آسکتا اور اگر تم یہی سمجھتے ہو تو کیا تم اس بات سے محفوظ ہو کہ (ان یعید کم فیہ تارۃ اخری فیر سل علیکم قاصفا من الریح ) ” وہ تمہیں پھر سمندر میں لے جائے دوسری مرتبہ ‘ پھر بھیجے وہ تم پر سخت ہوا کا جھونکا “ یعنی سخت تیز ہوا جو جہاں سے گزرے ہر چیز کو توڑ کر رکھ دے۔ (فیغر قکم بما کفرتم ثم لا تجدو لکم علینا بہ تبیع ) ” پس وہ تمہیں تمہاری نا شکری کی وجہ سے غرق کر دے ‘ پھر نہ پاؤ تم اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا “ یعنی کوئی تاوان اور مطالبہ ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذرہ بھر تم پر ظلم نہیں کیا۔
Ayah 17:70(آیت نمبر (70
یہ اس کا بےپناہ کرم و احسان ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔ کہ اس نے بنی آدم کو ہر لحاظ سے عزت و تکریم سے نوازا۔ انہیں علم و عقل عطا کر کے ‘ انبیاء و رسل بھیج کر اور ان پر کتابیں نازل کر کے اکرام بخشا ‘ ان میں سے اپنے اولیاء اور دیگر چنے ہوئے بندے پیدا کیے اور ان کو اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ (وحملنھم فی البر ) ” اور ہم نے سواری دی ان کو خشکی میں “ یعنی ہم نے انہیں اونٹوں ‘ خچروں ‘ گدھوں اور دیگر زمینی سواریوں پر سوار کرایا۔ (والبحر ) ” اور دریا میں “ یعنی ہم نے انہیں بحری جہازوں اور کشتیوں پر سوار کرایا۔
(ورزقنھم من الطیبت) ” اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے روزی دی “ یعنی ہم نے انہیں ماکولات ‘ مشروبات ‘ ملبوسات اور بیویاں عطا کیں ‘ چناچہ ہر وہ پاک چیز جس کے ساتھ ان کی ضروریت وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ان کو مشرف فرمایا اور اس کا حصول ان کے لیے نہایت آسان کردیا۔
(و فضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا) ” اور ہم نے بہت سی مخلوق پر ان کو بڑی فضیلت عطا کی “ یعنی ہم نے انہیں بہت سے مناقب کے ذریعے سے خصوصی اعزاز بخشا اور انہیں بہت سے فضائل عطا کیے جو مختلف اقسام کی دیگر مخلوقات کو عطا نہیں کیے۔۔۔۔ پھر وہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے جس نے نعمتیں عطا کیں ‘ تکالیف دور کیں ؟ یہ نعمتیں انہیں اللہ تعالیٰ سے محجوب نہ کریں کہ وہ ان نعمتوں میں مشغول ہو کر اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوجائیں بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان نعمتوں کو اپنے رب کی نافرمانی میں استعمال کیا۔
Ayahs 17:71–72(آیت نمبر (71:
قیامت کے روز مخلوق کا جو حال ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ( اپنی عدالت میں) بلائے گا ان کے ساتھ ان کے امام اور رشدو ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے راہ نما یعنی انبیاء ومرسلین اور ان کے نائبین بھی ہوں گے۔ پس ہر امت اللہ کے حضور پیش ہوگی اور اس امت کو وہی رسول ‘ اللہ کے حضور پیش کرے گا جس نے دنیا میں اسے دعوت توحید پیش کی تھی۔ ان کے اعمال اس کتاب کے سامنے پیش کیے جائیں گے ‘ جسے لے کے رسول اس امت میں مبعوث ہوا تھا کہ آیا ان کے اعمال اس کتاب کے موافق ہیں یا نہیں۔ تب یہ لوگ دو قسم کے گروہوں میں منقسم ہوجائیں گے۔ (فمن اوتی کتبہ بیمینہ) ” پس جس کو ملا اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں “ کیونکہ اس نے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے اپنے ہادی و راہنما کی پیروی کی تھی اور اس کی کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنایا تھا تب اس کی نیکیاں بڑھ گئیں اور اس کے گناہ کم ہوگئے۔ (فاولاک یقرو کتبھم) ” پس وہ ( خوش خوش) اپنے اعمال ناے کو پڑھیں گے “ کیونکہ وہ اس اعمال نامے میں ایسی چیزیں دیکھیں گے جنہیں دیکھ کر انہیں فرحت و سرور حاصل ہوگا۔ (ولا یظلمون فتیلا ) ” اور ان پر ایک دھاگے برابر ظلم نہیں ہوگا “ یعنی انہوں نے جو نیک عمل کئے ہیں اس بارے میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
ومن کان فی ڈذہ (اور جو رہا اس دنیا میں (اعمیٰ ) ” اندھا “ یعنی حق کے دیھنے سے۔ پس اس نے حق کو قبول کیا نہ اس کی پیروی کی بلکہ وہ گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ( فھو فی الاخرۃ اعمی) ” تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا “ یعنی جس طرح وہ دنیا میں جنت کے راستے پر گامزن نہ ہوا اسی طرح وہ آخرت میں بھی جنت کے راستے کو دیکھ نہ سکے گا (واضل سبیلا) ” اور بہت دور پڑا ہوا راستے سے “ کیونکہ عمل کی جزا بھی اسی کی جنس سے ہوتی ہے ‘ یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر امت کو اس کے دین اور کتاب کی طرف بلایا جائے گا کہ آیا اس نے اس کتاب کے مطابق عمل کیا یا نہیں ؟ ان کا کسی ایسے نبی کی شریعت کے مطابق مواخذہ نہیں کیا جائے گا جس کی اتباع کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو صرف اسی وقت عذاب دیتا ہے جب اس پر ححجت قائم کردی گئی ہو اور اس نے اس کی مخالفت کی ہو اور نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور انہیں بہت زیادہ فرحت و سرور حاصل ہوگا اور اس کے برعکس برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ غم زدہ ہوں گے وہ شدت حزن و غم اور ہلاکت کی وجہ سے اپنے اعمال ناموں کو پڑھنے پر قادر نہ ہوں گے۔
Ayahs 17:73–77(آیت نمبر (73:
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد ﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (و ان کا دو الیفتنو نک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیرہ ) ” یقیناً قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا “ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کرچکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے انہوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ ‘ اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔
(واذا) ” اور تب “ یعنی اگر آپ وہ کچھ کرتے جو وہ چاہتے ہیں تو (لا تحذوک خلیلا) ” وہ بنا لیتے آپ کو دوست “ یعنی خاص دوست ‘ جو ان کو ان کے دوستوں سے زَْذء عزیز ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن آداب سے نوازا ہے جو قریب اور بعید ‘ دوست اور دشمن سب کو پسند ہیں۔ مگر آپ کم علوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے ساتھ صرف اس حق کی وجہ سے عداوت رکھتے ہیں جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ان کو آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قد نعلم انہ لیحزنک الذی یقولون فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون) (الانعام : (33/6” ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ یہ باتیں بناتے ہیں ان سے آپ کو دکھ ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔ “
(ولو لا ان ثبتنک ) ” اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا “ بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا (لقد کدت ترکن الیھم شیا قلیلا) ” تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا “ یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں (اذا) ” تب “ یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہوجاتے (لا ذقنک ضعف الحیوۃ وضعف الممات) ” ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب) زندگی میں اور دگنا مرنے میں “ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔
(ثم لا تجد لک علینا نصیرا) ” پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا “ جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا ‘ آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعلاٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔
(وان کا دو الیستفزونک من الارض لیخرجوک منھا) ” اور یقنًا قریب تھا کہ وہ پھسلا دیں آپ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں وہ آپ کو یہاں سے “ یعنی آپ کے ساتھ ان کے درمیان رہنے پر بغض کے سبب سے آپ کو سر زمین مکہ سے نکالنے اور آپ کو جلا وطن کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو آپ کے بعد بہت تھوڑا عرصہ یہاں ٹھہر سکیں گے یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہوجائے جیسا کہ سنت الہی ہے اور تمام قوموں کے بارے میں سنت الہی میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا۔ جس قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا اور اس کو نکال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں اس پر عذاب نازل کردیا۔ جب کفار مکہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تو وہ کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں نہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر میدان بدریں عذاب نازل کردیا ‘ ان کے تمام بڑے بڑے اور سر کردہ سردار قتل کردیے گئے اور ان کی مکر توڑ دی گئی فلہ الحمد
یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ بندہ گڑ گڑا کر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطا کرے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسباب اختیار کرنے میں کوشاں رہے۔ نبی مصطفیٰ ﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی تھے بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا : (ولو لا ان ثبتنک لقد کدت ترکن الیھم شیء قلیل) اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔
ان آیات کریمہ میں اللہ کی طرف سے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس نے اپنے رسول پر احسان فرمایا اور اس کو شر سے محفوظ رکھا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے یہ امر پسند کرتا ہے کہ وہ اسباب شر کے وجود کے وقت اس کی نعمتوں کا ادراک کریں کہ اس نے ان کو شر سے بچایا اور ایمان پر ثبات عطا کیا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بندے کے بلند مرتبے کے مطابق اس کو پے درپے نعمتیں عطا ہوتی ہیں۔ اسی طرح جب وہ قابل ملامت فعل سر انجام دیتا ہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کا جرم کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس ارشاد کے ذریعے سے نصیحت فرمائی حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں۔ (اذا لا ذقنک ضعف الحیوۃ و ضعف الممات ثم ل تجدلک علینا نصیرا) آپ یت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کے جرائم بڑھ کر کئی گنا ہوجاتے ہیں ‘ ان پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ثابت ہوجاتا ہے ‘ تب اللہ ان پر عذاب واقع کردیتا ہے جیسا کہ قوموں کے بارے میں سنت الہی ہے جب وہ اپنے رسول کو اس کے وطن سے نکال دیتی ہیں۔