Ayahs 15:57–78آیت 57
(قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہوگی۔ رہے لوط تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیم قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا : (آیت) ” اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صدار ہوچکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جاسکتا۔ “ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔ (فلما جآء ال لوط المرسلون) ” پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔ “
(قال) تو لوط نے فرشتوں سے کہا : (انکم قوم منکرون) ” بیشک تم اوپر سے لوگ ہو “ یعنی میں تمہیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انہوں نے جواب دیا۔ (بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون) ” ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔ “ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔ (واتینک بالحق) ” اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں “ جو مذاق نہیں ہے۔ (وانا لصدقون) ” اور بیشک ہم سچے ہیں۔ “ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں۔
(فاسر باھلک یقطع من الیل) ’ دپس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے “ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو (واتبع ادبارھم ولایلتفت منکم احد) ” اور تو ان کیپ یچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے “ یعنی جلدی سے نکل جاؤ (وامضوا حیث تومرون) ” اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے “ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ (وقضینا الیہ ذلک) ” اور مقرر کردی ہم نے اس کی طرف یہ بات “ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں (آیت) ” ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔ “ یعنی صبح سویرے عذاب انہیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔ (وجآء اھل المدینۃ) ” اور اہل شہر آئے۔ “ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوط رہتے تھے۔ (یستبشرون) ” خوشیاں کرتے “ یعنی لوط کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انہیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوط کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوط نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا :
(آیت) ” یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔ “ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آجاؤ۔ (قالوا) انہوں نے لوط کے قول ” مجھے رسوا نہ کرو “ کے جواب میں بس یہی کہا : (اولم ننھک عن العلمین) ” کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے “ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بری الذمہ ہے۔
(قال) لوط نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا : (ھولاء بنتی ان کنتم فعلین) ” یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے “ مگر انہوں نے جناب لوط کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔ (1)
اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا : (لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون) ” آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں “ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔ پس جب فرشتوں نے حضرت لوط کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہوگئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ (فاخذتھم الصیحۃ مشرقین) ” پس آپکڑا ان کو چنگھاڑنے سورج نکلتے وقت ‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ (فجعلنا عالیھا سافلھا) ” پھر کر ڈلای ہم نے وہ بستی اوپر تلے “ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا (وامطرنا علیھم حجارۃ من سجیل) ” اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی “ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا (ان فی ذلک لایت للمتوسمین) ” بیشک اس میں دھیان کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں “ یعنی غور و فکر کرنے والوں کے لئے وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انہیں معلوم ہے کہ جوئی کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب، تو اللہ تعالیٰ اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انہوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔ (وانھا) یعنی حضرت لوط کی قوم کا شہر (لبسبیل مقیم) ” واقع ہے سیدھے راستے پر “ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لئے ایک عام گزر گاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا
(1) بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنس خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لئے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کرلو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کرلو، میں اپنی بیٹیاں تمہارے حبالہ، عقد میں دینے کو تیار ہوں۔ (ص۔ ی)
ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔ (ان فی ذلک لایۃ للمومنین) ” بیشک اس (واقعے) میں مومنوں کے لئے نشانیاں ہیں، اور اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیم پے بےحد عنایات تھیں۔ لوط اور ان پر ایمان لانے والے ابل ایمان ابراہیم کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں۔ گویا حضرت لوط حضرت ابراہیم کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا اردہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم کے پاس سے ہو کر جائیں، تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتی کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کردیا اور وہ مطمئن ہوگئے۔
(2) اسی طرح حضرت لوط پر اللہ تعالیٰ کی بےپایاں عنایت تھیں۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لئے بسا اوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتی کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا : (آیت) ” ان کے عذاب کے لئے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟ “
(3) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلا کرنے کا ارادہ کترا ہے، تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہوجاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کردیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔
Ayahs 15:79–83آیت 79
یہ حضرت شعیب کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الایکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الایکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں، تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا، بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت طشعیب ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ (فانتقمنا منھم) ” پس ہم نے ان سے بدلہ لیا “ اور چھتری والے دن کے عذاب نے ان کو آلیا، بلاشبہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔ (وانھما) ” اور یہ دونوں “ یعنی دیار قوم لوط اور اصحاب ایکہ (لبامام مبین) ’ دکھلے راستے پر ہیں۔ “ یعنی یہ دونوں بستیاں واضح راستے پر واقع ہیں جہاں ہر وقت مسافروں کے قافلے گزرتے رہتے ہیں۔ ان کے وہ آثار نمایاں ہیں جن کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور عقل مند لوگ اس سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔
Ayahs 15:84–85آیت 84
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل حجر یعنی صالح کی قوم کے بارے میں آگا فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انہوں نے اپنے رسولوں، یعنی صالح کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک سرول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا، کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انہوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انہوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔ (واتینھم ایتنا) اور ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنہیں صالح لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ (فکانوا عنھا معرضین) ” پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے “ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔
(وکانوا) ” اور تھے وہ “ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر (ینحتون من الجبال بیوتاً امنین) ” تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ “ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالح کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بےپناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے : (آیت) ” اے صالح ! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔ “ (فاخذتھم الصیحۃ مصبحین) ” سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت “ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔ (فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون) ” پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔ “ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعونان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔
Ayahs 15:86–93آیت 86
یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و آسمان کی تخلیق، مخلوقات کو دوسری مرتبہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ (فاصفح الصفح الجمیل) ’ دپس درگزر کریں اچھی طرح درگزر کرنا “ یعنی ان سے اس طرح درگزر کیجیے کہ اس میں کسی قسم کی اذیت نہ ہو بلکہ اس کے برعکس برائی کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیے، اس کی تقصیر کو بخش دیجیے، تاکہ آپ اپنے رب سے بہت زیادہ اجرو ثواب حاصل کریں۔ کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔
اس آیت کریمہ کے جو معانی میں نے یہاں ذکر کئے ہیں مجھ پر اس سے بہتر معانی ظاہر ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ۔۔۔ رسول اللہ ﷺ کو جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ ہے نہایت اچھے طریقے سے درگزر کرنا، یعنی وہ اچھا طریقہ جو بغض، کینہ اور قولی و فعلی اذیت سے پاک ہو۔ اس طرح درگزر کرنا نہ ہو جو احسن طریقے سے نہیں ہوتا اور یہ ایسا درگزر کرنا ہے جو صحیح مقام پر نہ ہو۔ اس لئے جہاں سزا دینے کا تقاضا ہو وہاں عفو اور درگزر سے کام نہ لیا جائے، مثلاً زیادتی کرنے والے ظالموں کو سزا دینا، جن کو سزا کے سوا کوئی اور طریقہ درست نہیں کرسکتا۔۔۔ یہ ہے اس آیت کریمہ کا معنی۔
(ان ربک ھو الخلق) بیشک آپ کا رب تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ (العلیم) اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اس کی مخلوقات اور اس کے احاطہ علم یعنی تمام کائنات میں سے کوئی چیز اسے بےبس نہیں کرسکتی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (ولقد اتینک سبعاً من المثانی) ” ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں، دہرائی جانے والی “ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ” سات لمبی سورتیں “ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں۔ یا اس سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ پس (والقرآن العظیم) کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہوگا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطباق جو سورة فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ﷺ کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ” سبع مثانی “ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ فرمایا : (آیت) ’ دکہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں۔ “
بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لئے دیں “ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکر و نظر کو شہوات دنیا میں مشغول کردیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمعتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بےنیاز رہیے۔ (ولا تحزن علیھم) ” اور ان پر غم نہ کھائیں “ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کردیا گیا ہے۔ (واحفض جناحک للمومنین) ” اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رکھیں “ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آئیے۔ (وقل انی انا النذیر المبین) ” اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں “ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو بلیغ کی ذمہ داری آپ ﷺ پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کردی تو ان کا حساب آپ ﷺ پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔ (کما انزلنا علی المقتسمین) ” جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر “ یعنی (آپ ان کو اسی طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپ ﷺ مبعوث ہوئے، اور لوگوں کو اللہ کے راستی سے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔ (الذین جعلوا القرآن عضین) ” جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ “ یعنی جنہوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور جزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے۔ ، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لئے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں۔ (فوربک لنسئلنھم اجمعین) ’ دپس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے “ یعنی ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا (عما کانوا یعملون) ” ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔ “ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لئے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجر و توبیخ ہے۔