15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 15:24–44

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں۔ اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب اسکو (صورت انسانیہ میں) درست کرلوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گرپڑے

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

(اس نے) کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

(اس نے) کہا پروردگار جیسا تو نے مجھے راستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا راستہ ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے۔

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے۔

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کیلئے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں۔

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔ (الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں کو۔ “ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے (خلقنہ من قبل) ’ دپیدا کیا ہم نے اس کو پہلے “ یعنی تخلیق آدم سے پہلے (من نار السموم) ” لوکی آگ سے “ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے، پس جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا : آیت) ” میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں۔ پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کرلوں “ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کرچکوں (ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین) ” اور اپنی روح اس میں پھونک دوں، تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گڑ پڑنا۔ “ پس انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ (فسجد المآئکۃ کلھم اجمعون) ” پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا “ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدم کی تکریم کے لئے تھا، کیونکہ حضرت آدم وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں۔ (الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین) “ ” مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کردیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو “ یہ شیطان یک آدم اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اے ابلیس ! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے “ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدم اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خود پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ” میں آدم سے بہتر ہوں۔ “ (قال) اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا : (فاخرج منھا فانک رجیم) ” پس تو نکل جا یہاں سے، بیشک تو مردود ہے “ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کردیا گیا ہے۔ (وان علیک اللعنۃ) ” اور تجھ پر لعنت ہے “ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے۔ (الی یوم الدین) ” جزا کے دن تک “ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔ (قال رب فانظرنی) ’ شیطان نے کہا ’ اے رب مجھے ڈھیل دے “ یعنی مجھے مہلت دے (الی یوم یبعثون، قال فانک من المنظرین، الی یوم الوقت المعلوم) ” قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک “ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کرلینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لئے ابتلاء اور امتحان ہے، تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہوجائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ (قال رب بما اغویتنی لا زینن لھم فی الارض) ” شیطان نے کہا، اب رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں “ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آرساتہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ (ولا غوینھم اجمعین) ” اور ان سب کو بہکا دوں گا “ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔ الا عبادک منھم المخلصین) ” مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لئے خلاص کرلیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔ ) اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ھذا صراط علی مستقیم) ” یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا “ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔ (ان عبادی لیس لک علیھم سلطن) ” جو میرے بندے ہیں ان پر تجھ کچھ قدرت نہیں۔ “ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انہیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انہیں شیطان سے بچاتا ہے (الا من اتبع) ” مگر جس نے تیری پیروی کی “ اور اللہ رحمٰن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہوگیا۔ (من الغوین) ” بہکے ہوؤں میں سے ہے “ (الغاوی) ” گمراہ “ (الراشد) ” ہدایت یافتہ ‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔ (وان جھنم لموعدھم اجمعین) ” اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے “ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لئے۔ (لھا سبعۃ ابواب) ” اس کے سات دروازے ہیں “ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہوگا۔ (لکل باب منھم) ” ہر دروازے کے واسطے ان میں سے “ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے (جزء مقسوم) ” ایک حصہ ہے بانٹا ہوا “ یعنی ان کے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (فکبکبوا فیھا ھم والغاون، وجنودا بلیس اجمعون) الشعراء، 95, 93, 26) ’ دپس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔ “
Ayahs 15:45–50

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع) سے داخل ہوجاؤ۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی اس کو ہم نکال (کر صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں۔

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے۔

آیت 45 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کیپ یرو کاروں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اور دائمی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ فرمایا : (ان المتقین) ” بیشک پرہیز گار “ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں (فی جنت وعیون) ” باغتا اور چشموں میں ہوں گے “ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر قوت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔ جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا (ادخلوھا بسلم امنین) ” داخل ہوجاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ “ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے، یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ (ونزعنا مافی صدورھم من غل) ” اور نکال ڈلایں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ “ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے (اخوانا علی سرر متقبلین) ” وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بٹیھے ہوں گے۔ “ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تخوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔ (لایمسھم فیھا نصب) ” نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ “ انہیں ظاہیر تھکاوٹ لاحق ہوگی، نہ باطنی، اور یہ اس وجہ سے ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہوگا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ (وما ھم منھا بمخرجین) ” اور نہ وہاں وہاں سے نکالے جائیں گے۔ “ یعنی وہ کسی بھ وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں۔ چناچہ فرمایا : (نبی عبادی) ” میرے بندوں کو بتادو۔ “ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ (انی انا الغفور الرحیم) ” میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں۔ “ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کرلیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کشواں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے، تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں۔ نیز انہیں اس بات سے بھی آگاہ کردیجیے ! (وان عذا بی ھو العذاب الالیم) ” میرا عذاب، وہ درد ناک عذاب ہے “ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، کیونکہ جب انہیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوگی کہ (فیومئذ لایعذب عذابہ احد، ولایوثق وثاقہ احد) (الفجر :26-25/89) ” اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کرسکے گا۔ “ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندہ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بےپایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہوجائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہوا اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
Ayahs 15:51–56

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنا دو ۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ ابر اہیم کے پاس آئے تو سلام کہا (انہوں نے) کہا ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

(مہمانوں نے کہا) کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

(وہ) بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کہے کی خوشخبری دیتے ہو ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہو جئے۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابر اہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے میں مایوس کیوں ہونے لگا ؟ اس سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔

آیت 51 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (ونبءھم عن ضیف ابراہیم) ” ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں “ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے، کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہوگی اور وہ ان کی پیروی کریں گے۔۔۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔ (اد دخلوا علیہ فقالوا سلماً ) ” جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام “ یعنی انہوں نے ابراہیم کو سلام کیا اور ابراہیم نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا (انا منکم وجدون) ” ہم تم لوگوں سے خائف ہیں۔ “ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیم کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہوگئے۔ (قالوا) فرشتوں نے ان سے کہا : (لاتوجل انا نبشرک بغلم علیم) ” ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں “ یہاں لڑکے سے مراد اسحاق ہیں۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ” علیم “ سیم راد ہے ” کثیر العلم “ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے (آیت) ” اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔ “ ابراہیم نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا (ابشر تمونی) ” کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔ “ (علی ان مسنی الکبر) ” جب کہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا “ بنا بریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دو چار تھے (فبم تبشرون) ” پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو ؟ “ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہوچکے ہیں۔ (قالوا بشرنک بالحق) ” انہوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے “ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر۔۔۔ اے نبوت کے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔۔۔ تمہیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادرد ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ (فلا تکن من القنطین) ” پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں “ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔ ابراہیم نے جواب میں فرمایا : (ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضآلون) ” رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں “ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں، لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پاسکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لئے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے۔ پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو بٹے کی بشارت دی تو انہوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔