Ayah 14:37(آیت) ” اے رب ! میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو، ایسے میدان میں جہاں کھیتی نہیں، تیرے محترم گھر کے پاس “ یعنی آنجناب ﷺ نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہما التسلیم کو شام سے لاکر مکہ مکرمہ کی سرزمین میں بسایا تھا، اس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دودھ پیتے تھے۔ اس وقت یہ وادی بالکل سنسان تھی اور اس میں کوئی آبادی نہ تھی۔ جب آپ نے ماں بیٹے کو اس وادی میں آباد کردیا تو اس وقت یہ دعا مانگی : (ربنا انی اسکنت من ذریتی) یعنی میں نے اپنی تمام اولاد کو نہیں بلکہ اپنی کچھ اولاد کو یہاں لا بسایا ہے۔ کیونکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) شام میں تھے اسی طرح ان کے دیگر بیٹے بھی شام میں آباد تھے۔ وادی مکہ میں انہوں نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو آباد کیا۔
(بواد غیرذی ذرع) ” ایسی وادی میں جہاں کھیتی نہیں “ کیونکہ ارض مکہ بےآب وگیاہ تھی (ربنا لیقیموا الصلٰوۃ) ” اے رب ! تاکہ وہ نماز قائم کریں “ یعنی ان کو موحد اور نماز قائم کرنے والے بناکر کیونکہ نماز سب سے زیادہ خصوصیت کی حامل اور سب سے افضل عبادت ہے اور جس نے نماز کو قائم کرلیا، وہ دین کو قائم کرنے والا ہوگیا۔ (آیت) ” پس کردے کچھ لوگوں کے دل کہ مائل ہوں ان کی طرف “ یعنی لوگ ان سے محبت کریں اور اس جگہ سے محبت کریں جہاں یہ آباد ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے، آپ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو دین اسلام اور ملت ابراہیم کی طرف دعوت دی انہوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور نماز قائم کرنے والے بن گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی زیارت کو فرض قرار دیا جس کے پاس ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد آباد تھی اور اس میں ایک ایسا بھید پنہاں رکھا جو دلوں کے لئے کشش رکھتا ہے، دل اس گھر کی زیارت کا قصد کرتے ہیں اور اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے بلکہ بندۂ مومن جس قدر زیادہ اس گھر کی زیارت کرتا ہے اس کی آتش شوق اسی قدر زیادہ بھڑکتی ہے اور اس کا سرنہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف مضاف کیا ہے۔ (آیت) ” اور ان کو روزی دے پھلوں سے، شاید وہ شکر کریں “ اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت خلیل (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمالی اور ہر قسم کا پھل اس ارض پاک میں پہنچنے لگا آپ دیکھیں گے کہ مکہ مشرفہ میں ہر وقت ہر قسم کا پھل بافراط ملتا ہے اور رزق ہر طرف سے مکہ مکرمہ کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔
Ayah 14:38(آیت) ” اے ہمارے رب ! تو جانتا ہے جو ہم چھپا کر کرتے ہیں اور جو دکھا کر کرتے ہیں “ یعنی تو ہم کو ہم سے زیادہ جانتا ہے، پس ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اپنی تدبیر اور تربیت سے ہمارے لئے ان کاموں کو آسان فرمادے جن کو ہم جانتے ہیں اور ان کو بھی جن کو ہم نہیں جانتے، جو تیرے علم اور تیری رحمت کا تقاضا ہے۔ (آیت) ’۔ اور اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے، زمین میں اور نہ آسمان میں “ اور اس میں یہ دعا بھی شامل ہے جس میں حضرت خلیل (علیہ السلام) کا ارادۂ بھلائی اور اللہ رب العالمین کے لئے کثرت شکر کے سوا کچھ نہ تھا۔
Ayah 14:39(آیت ) ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحٰق عطا کئے “ اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے اور بڑھاپے میں، مایوسی کی حالت میں اولاد کا عطا ہونا ایک دوسری نعمت ہے۔ پھر ان سب کا صالح انسان اور نبی ہونا جلیل ترین اور افضل ترین مرتبہ ہے۔ (ان ربی لسمیع الدعآء) ” میرا رب دست دعا کا سننے والا ہے۔ “ یعنی جو کوئی اس سے دعا مانگتا ہے وہ قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔ میں نے بھی اس کے سامنے دست دعا دراز کیا اور اس نے مجھے ناامید نہیں کیا۔
Ayahs 14:40–4140-41: پھر خلیل (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے ان الفاظ میں دعا مانگی (آیت) ” اے میرے رب ! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اور میری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب ! بخش مجھ کو، میرے ماں باپ کو اور سب مومنوں کو جس دن قائم ہو حساب۔ “ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہر دعا قبول فرمالی، سوائے ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کے، جو انہوں نے اپنے باپ کے ساتھ ایک وعدے کی بنا پر مانگی تھی، اور جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے، تو آپ نے اس سے براءت کا اظہار کردیا۔
Ayah 14:42یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ظالموں کے لئے سخت وعید اور مظلوموں کے لئے تسلی ہے، فرمایا : (آیت) ” اور ہرگز مت خیال کریں کہ اللہ ان کاموں سے بیخبر ہے جو ظالم کرتے ہیں “ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دی ہے اور ان کو نہایت فراوانی سے رزق عطا کیا اور ان کو چھوڑ دیا کہ وہ نہایت اطمینان اور امن کے ساتھ چلیں پھریں۔ پس یہ مہلت اور رزق کی فراوانی ان کے حسن حال پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں میں اضافہ ہوجائے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑ لیتا ہے تو پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ (آیت : سورة ھود : 11؍201) ” اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی بستی کو اس کے ظلم کے سبب سے پکڑتا ہے، بیشک اس کی پکڑ بڑی سخت اور المناک ہوتی ہے “۔ یہاں ظلم سے مراد وہ ظلم بھی ہے جو بندے اور اس کے رب کے مابین ہے اور وہ ظلم بھی ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر روارکھتا ہے۔
(آیت) ” ان کو تو اس دن کے لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ کھلی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں “ یعنی ہول اور دہشت کی وجہ سے آنکھیں ادھر ادھر دیکھ نہیں سکیں گی، کھلی کی کھلی رہ جائیں گی
Ayah 14:43۔ (مھطعین) ” دوڑتے ہوں گے “ جب پکارنے والا انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دینے کے لئے پکارے گا تو وہ جلدی سے اس پکار پر لبیک کہیں گے، وہ اس سے بچ نہ سکیں گے، ان کا کوئی ٹھکانا ہوگا نہ کوئی پناہ گاہ (مقنعی رء وسھم) ” اوپر اٹھائے اپنے سر “ یعنی اپنے سروں کو اس طرح اٹھائے ہوئے ہوں گے کہ ان کے ہاتھ ان کی ٹھوڑیوں کے ساتھ بندھے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سراوپر کو اٹھ جائیں گے۔ (آیت) ” ان کی طرف ان کی آنکھیں پھر کر نہیں آئیں گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے “ ان کے دل خالی ہوں گے اور حلق تک آجائیں گے مگر وہ ہر قسم کے غم وہموم اور حزن وقلق سے لبریز ہوں گے۔
Ayahs 14:44–4544-45: اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجئے اور انہیں برے اعمال سے ڈرائیے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انہیں شدائد میں آپکڑے گا۔ (فیقول الذین ظلموا) ” تب ظالم لوگ کہیں گے “ یعنی جنہوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہو کر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہوگا۔ (ربنا اخرنا الی اجل قریب) ” اے ہمارے رب ! مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک “ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہوچکی ہے (نجب دعوتک) ” کہ ہم قبول کرلیں تیری دعوت کو “ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے (ونتبع الرسل ) ” اور پیروی کرلیں ہم رسولوں کی “ ان کی یہ تمام آہ وزاریاں دردناک عذاب سے گلو خلاصی کے لئے ہوں گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں۔ ( سورة الانعام : 6؍82) ” اگر انہیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام دوبارہ کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ “ اس لئے ان کو سخت زجروتوبیخ کی جائے گی اور کہا جائے گا۔ (آیت) ” کیا تم پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو دنیا سے نہیں ٹلنا “ یعنی اس دنیا سے منتقل ہو کر آخرت میں نہیں جاؤ گے، یہ تو اب تم پر واضح ہوگیا کہ تم اپنی قسم میں سخت جھوٹے تھے اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ تمہارے سب دعوے بھی جھوٹ تھے۔
(و) تمہارے اعمال کی کوتاہی کی وجہ یہ نہ تھی کہ تمہارے پاس واضح دلائل نہ آئے تھے۔ بلکہ (آیت) ” تم ان بستیوں میں آباد تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر واضح ہوگیا تھا کہ کیسا کیا ہم نے ان کے ساتھ “ ان کو مختلف انواع کی سزائیں دے کر، اور جب انہوں نے واضح دلائل کی تکذیب کی تو کیسے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا ؟ ہم نے تمہارے سامنے واضح مثالیں بیان کردی ہیں جو دل میں شک کا ادنیٰ ساشائبہ بھی نہیں رہنے دیتیں۔ پس ان آیات بینات نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ اس کے برعکس تم نے روگردانی کی اور اپنے باطل پر جمے رہے، حتیٰ کہ تم پر یہ روز بد آگیا جس میں تمہاری جھوٹی معذرت خواہی کوئی فائدہ نہ دے گی۔
Ayah 14:46(وقد مکروا) ” اور چال چلی “ یعنی انبیاء ومرسلین کو جھٹلانے والوں نے (مکرھم) ” اپنی چال “ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انہوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ (وعنداللہ مکرھم) ” اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا حاطہ کئے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انہی کے خلاف گئیں۔ (فاطر : 53؍34) ” اور بری چالوں کا وبال انہی لوگوں پر پڑتا ہے جو چالیں چلتے ہیں “۔ (آیت) ” اگرچہ ان کی چال ایسی تھی کہ ٹل جائیں اس سے پہاڑ “ یعنی انبیاء ورسل اور وحی کو جھٹلانے والوں کی چالیں اور سازشیں اتنی بڑی ہیں کہ ان کے سبب سے بڑے بڑے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔ یعنی (نوح : 17؍22) ” انہوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں۔ “ ان کی سازشیں اتنی بڑی تھیں کہ ان کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشیں انہی پر الٹ دیں۔
اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص شامل ہے جو باطل کی نصرت اور حق کے ابطال کے لئے انبیاء ورسل کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آئیں اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچا سکے، بلکہ انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا۔
Ayah 14:47اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بےیارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کررکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے۔۔۔ خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ (ان اللہ ) ” بیشک اللہ “ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بےبس نہیں کرسکتی، اس لیے کہ وہ ( علیہ السلام) زیز ذوانتقام) ” زبردست بدلہ لینے والا ہے۔ “ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کرسکتا ہے اور یہ قیامت کے رز ہوگا۔
Ayah 14:48(آیت) ” جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ “ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنادیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہوگی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کرکے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہوجائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہوجائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔
(وبرزو اللہ) ” اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔ “ یعنی قیامت کے روز تمام خلائق اپنی قبروں سے اٹھ کھڑی ہوگی اور ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپ نہ سکے گا۔ (الواحد القھار) ” یگانہ، زبردست “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء وصفات کی عظمت اور اپنے افعال کی عظمت میں منفرد ہے۔ وہ تمام کائنات پر غالب ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے دست تصرف اور تدبیر کے تحت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت کرسکتی ہے نہ ساکن ہوسکتی ہے۔
Ayah 14:49(وتری المجرمین) ” اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو “ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے (یومیذ) ” اس روز “ (مقربین فی الاصفاد) ” باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں “ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہئیت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔
Ayah 14:50(سرابیلھم) ” ان کے کرتے “ یعنی ان کے کپڑے (من قطران) ” گندھک کے ہوں گے “ یعنی وہ انتہائی شدید شغلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کے بدبو ہوں گے۔ (وتغشی وجوھھم) ” اور ان کے چہروں کو لپیٹ لے گی۔ “ جو ان کے بدن میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہوں گے۔ (النار) ” آگ “ یعنی آگ ان کے چہرے کو گھیر لے گی اور ہر جانب سے اس کو جلا ڈالے گی اور چہرے کے علاوہ جسم کے دیگر حصے تو بدرجہ اولیٰ اس آگ میں جلیں گے۔
Ayah 14:51یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں ہے بلکہ یہ ان کے اعمال کی جزا ہے جن کا انہوں نے اکتساب کر کے آگے بھیجے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لیجزی اللہ کل نفس ماکسبت) ” تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کا نہایت عدل و انصاف کے ساتھ بدلہ دے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی ظلم نہ ہو (ان اللہ سریع الحساب) ” بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے “ جیسا کہ فرمایا : (اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون) ”(الانبیاء :1/21) ” لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں ڈوبے اور منہ موڑے ہوئے ہیں۔ “ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ بہت سرعت سے ان کا حساب کتاب ہوگا اور ایک ہی گھڑی میں تمام مخلوق کا حساب کتاب ہوجائے گا جیسے اللہ تعالیٰ آن واحد میں تمام مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے اور ان میں مختلف انواع کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی معاملہ اسے کسی دوسرے معاملے سے غافل نہیں کرسکتا اور یہ سب کچھ اس کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔
Ayah 14:52جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کو پوری طرح کھول کھول کر اس قرآن میں بیان کردیا تو پھر اس کی مدح میں فرمایا (ھذا بلغ للناس) ” یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو “ یعنی یہ ان کے لئے کافی ہے، وہ اسے زاد راہ بنا کر بلند ترین مقامات پر اور افضل ترین کرامات تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ یہ تمام علوم اور اصول و فروع پر مشتمل ہے جس کے بندے محتاج ہیں (ولینذروابہ) ” اور تاکہ انہیں اس ڈرایا جائے “ کیونکہ اس میں برے اعمال اور اس عذاب سے ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بد اعمال لوگوں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔
(ولیعلموآ انما ھو اللہ واحد) ” اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود صرف وہی ایک ہے “ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور حدانیت پر ایسے دلائل اور براہین بیان کئے ہیں جن سے یہ علم حق الیقین بن جاتا ہے (ولیذکر اولوالباب) ” اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔ “ یعنی عقل کامل کے حامل لوگ اس سے نصیحت پکڑیں، وہ کام کریں جو انکے لئے فائدہ مند ہے اور وہ کام چھوڑ دیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہے۔ ایسا کرنے سے وہ عقل مند اور اصحاب بصیرت بن جائیں گے۔ اس لئے کہ قرآن کے ذریعے سے ان کے معارف اور آراء صائبہ میں اضافہ اور ان کے افکار روشن ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے قرآن کے تازہ افکار حاصل کئے ہیں، قرآن انہیں بلند ترین اخلاق و اعمال کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ ان پر قومی ترین، واضح ترین دلائل سے استدلال کرتا ہے۔ ایک ذہین بندہ مومن جب اس قاعدہ کلیہ کو اپنا لائحہ عمل بنا لیتا ہے تو وہ دائمی طور پر ہر قابل ستائش خصلت میں ترقی کی راہوں پر گامزن رہتا ہے۔