12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

(آیت) ” اپنے باپ کے پاس جاؤ اور کہو، ابا جان ! آپ کے بیٹے نے تو چوری کی “ یعنی وہ چوری کے جرم میں دھر لیا گیا ہے اس کے باوجود کہ ہم نے اس کے بارے میں بھرپور کوشش کی مگر ہم اس کو ساتھ نہ لاسکے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی گواہی نہیں دیتے جو ہمارے سامنے نہ تھی ہم تو صرف اسی چیز کا مشاہدہ کرسکتے تھے جو ہمارے سامنے تھی، کیونکہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ بادشاہ کا پیمانہ بنیامین کی خرجی سے برآمد ہوا۔ (آیت) ” اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا “ اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اسے اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کرتے نہ اس کو ساتھ لے جانے کے لئے اتنی کوشش کرتے اور نہ آپ کو کوئی عہد دیتے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

(آیت) ” اور دریافت کرلیجیے “ یعنی اگر آپ کو ہماری بات میں کوئی شک ہے، تو (آیت) ” اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے جس میں ہم آئے ہیں “ ہم نے جو آپ کو خبر سنائی ہے اس کے بارے میں پوری اطلاع رکھتے ہیں۔ (آیت) ” اور ہم البتہ سچے ہیں۔ “ ہم نے جھوٹ بولا ہے نہ ہم نے تغیر و تبدیل کیا ہے، بلکہ یہی واقعات ہیں۔ ( جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں)
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے اور انہیں ان واقعات سے آگاہ کیا تو یعقوب (علیہ السلام) بہت غم زدہ ہوئے اور ان کی اداسی کئی گنا بڑھ گئی۔ پہلے کی طرح اس واقعہ میں بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو مہتم قرار دیا (آیت) ” (اور) کہا بلکہ بنا لی ہے تمہارے جی نے ایک بات، پس اب صبر ہی بہتر ہے “ یعنی میں اس معاملے میں صبر جمیل کی پناہ لیتا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناراضی ہے نہ بےصبری کا مظاہرہ اور نہ مخلوق کے پاس شکوہ۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ غم و کرب بہت شدید ہوگیا تو انہوں نے سکون کا سہارا لینے کے لئے کہا : (آیت) ” شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو “ یعنی یوسف، بنیامین اور سب سے بڑا بھائی، جو مصر میں رہ پڑا تھا۔ (آیت) ” بیشک وہ جاننے والا ہے “ جو میرے حال کو جانتا ہے، جو یہ بھی جانتا ہے کہ میں اس کی طرف سے کشادگی اور نوازش کا محتاج اور اس کے احسان کا ضرورت مند ہوں۔ (آیت) ” وہ دانا ہے “۔ جس نے اپنی حکمت ربانی کے تقاضے کے مطابق ہر چیز کا اندازہ اور اس کا منتہا مقرر کیا ہے۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

یعنی جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے انہیں یہ خبر سنائی تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیرلیا، ان پر غم واندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دل میں چھپے ہوئے غم اور کرب کی وجہ سے رو رو کر ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ (آیت) ” سو وہ اپنے آپ کو گھونٹ رہا تھا “ یعنی ان کا دل حزن و غم سے لبریز تھا۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

(آیت) ” اور کہا، اے افسوس یوسف پر “ یعنی پرانا حزن و غم اور نہ ختم ہونے والا اشتیاق جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، ظاہر ہوگیا اور اس نئی اور پہلی مصیبت کی نسبت قدرے ہلکی مصیبت نے پہلی مصیبت کی یاد تازہ کردی۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے ان کے حال پر تعجب کرتے ہوئے کہا : ” اللہ کی قسم ! آپ اسی طرح یوسف کو یاد کرتے رہیں گے “ یعنی آپ اپنے تمام احوال میں یوسف (علیہ السلام) کو یاد کرتے رہے ہیں۔ (آیت) ” یہاں تک کہ آپ فنا ہوجائیں گے “ آپ حرکت تک نہیں کرسکیں گے اور آپ میں بولنے کی قدرت نہیں رہے گی۔ (آیت) ” یا ہوجائیں گے آپ ہلاک۔ “ یعنی آپ یوسف (علیہ السلام) کو یاد کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے اس کو یاد کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

(آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : (آیت) ” میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب “ یعنی میں جو بات کرتا ہوں (آیت) ” اور اپنا غم “ وہ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے (آیت) ” اللہ کے سامنے “ یعنی میں اپنے حزن و غم کا شکوہ تمہارے پاس یا کسی اور کے پاس نہیں کرتا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس کرتا ہوں۔ اس لئے تم جو چاہو کہتے رہو۔ (آیت) ” اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے “ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور انہیں میرے پاس لوٹائے گا اور ان سب کو میرے پاس اکٹھا کرکے میری آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

یعنی یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا : (آیت) ” اے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کو “ یعنی پوری حرص اور کوشش کے ساتھ دونوں کو تلاش کرو۔ (آیت) ” اور اللہ کے فیض سے ناامید نہ ہو “ کیونکہ امید بندے کو اپنے مقصد کے لئے کوشش اور جدو جہد کے لئے آمادہ کرتی ہے اور مایوسی اسے سست اور کاہل بنا دیتی ہے اور سب سے بہترین چیز جس کے بندے کو امید رکھنی چاہیے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و مہربانی۔ (آیت) ” اور اللہ کے فیض سے کافر ہی ناامیدہوتے ہیں۔ “ کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس لئے کفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنے ایمان کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی کی امید رکھتا ہے۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ (آیت) ” جب وہ اس کے پاس گئے “ یعنی جب وہ یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (آیت) تو انہوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا : (آیت) ” اے عزیز ! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں “ یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہوگئے ہیں۔ (آیت) ” اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ “ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بےوقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں۔ (آیت) ” پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔ “ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کرکے ہم پر صدقہ کیجیے۔ (آیت) ” بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کا ثواب عطا کرتا ہے۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا، تو یوسف (علیہ السلام) نرم پڑگئے اور انہوں نے ان کو اپنا تعارف کروایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” کیا تمہیں معلوم ہے، تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ “ رہے یوسف (علیہ السلام) تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید۔۔۔۔۔۔ واللہ۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے (آیت) یا اس سے مراد وہ حادثہ ہے جس کی بنا پر باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوئی اور اس جدائی کے اصل سبب اور موجب وہی تھے۔ (آیت) ” جب تم ناسمجھ تھے “ یہ ان کی جہالت پر ایک قسم کا اعتزار ہے یا ان پر زجروتوبیخ ہے کیونکہ انہوں نے جاہلوں کا سا کام کیا، حالانکہ یہ کام ان کے شایان شان نہیں تھا۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

انہوں نے پہنچان لیا کہ جو شخص ان سے مخاطب ہے وہ یوسف ہے اس لئے انہوں نے پوچھا : (آیت) ” کیا آپ یوسف ہیں ؟ انہوں نے کہا، ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے “ کہ اس نے ہمیں ایمان، تقویٰ اور زمین میں اقتدار سے نوازا۔ یہ سب کچھ صبر اور تقویٰ کا ثمرہ ہے۔ (آیت) ” بیشک جو شخص اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے “ یعنی جو کوئی فعل حرام سے پرہیز کرتا ہے، آلام و مصائب پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ (آیت) ” تو اللہ نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتا۔ “ یہ تمام امور احسان کے زمرے میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کو ضائع نہیں کرتا۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

(آیت) ” انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، اللہ نے آپ کو ہمارے مقابلے میں پسند کرلیا ہے “ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کے ذریعے سے ہم پر فضیلت سے نوازا، ہم نے آپ کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا، ہم نے آپ کو تکلیف پہنچانے اور آپ کو اپنے باپ سے دور کرنے کی خواہش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت بخشی اور ان امور کو آپ کے لئے ممکن بنادیا جو آپ چاہتے تھے۔ (آیت) ” اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے۔ “
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے اپنے جو دو کرم کی بنا پر ان سے کہا : (آیت) ” آج تم پر کوئی الزام نہیں “ یعنی میں تمہارا کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی ملامت نہیں کرتا۔ (آیت) ” اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے گزشتہ جرائم پر عار دلائے بغیر ان کے ساتھ انتہائی نرمی اور فراخ دلی کا سلوک کیا اور ان کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، یہ احسان کی انتہا ہے، اس سلوک کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندے ہی کرسکتے ہیں۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا : (آیت) ” تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا “ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کردیا تھا۔۔۔ جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔۔۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح، ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسف (علیہ السلام) کو مطلع کیا گیا۔ (آیت) ” اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ “ یعنی اپنے بال بچوں، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمہاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

(آیت) ” اور جب یہ قافلہ جدا ہوا “ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوب (علیہ السلام) نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی اور کہنے لگے : (آیت) ” میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ “ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے، کیونکہ یعقوب (علیہ السلام) نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) سمجھتے تھے، چناچہ وہ کہنے لگے : (آیت) ” اللہ کی قسم ! آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں “ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

(آیت) ” پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا “ یعنی جب ایلچی حضرت یوسف (علیہ السلام) ، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا (آیت) ” تو ڈال دیا اس کو “ یعنی قمیص کو (آیت) ” ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہوگئے “ یعنی یعقوب (علیہ السلام) اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم واندوہ کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں۔ یعقوب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے۔۔۔ جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کر رہے تھے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا : (آیت) ” کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے “ کیونکہ میں یوسف (علیہ السلام) کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔
Ayahs 12:97–98

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

97-98: جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” ابا جان ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں بیشک ہم گناہ گار تھے “ کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی بنا پر ہم خطا کار ہیں۔ (آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا : (آیت) ” میں ضرور تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بلا شبہ وہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ اور مجھے امید ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا، تم پر رحم کرے گا اور تمہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لئے استغفار کو فضیلت والے وقت سحر تک موخر کردیا تاکہ استغفار کامل ترین اور قبولیت کے قریب ترین ہو۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

(آیت) جب یعقوب علیہ السلام، ان کے بیٹے اور گھر والے تیار ہو کر اپنے ملک فلسطین روانہ ہوئے، ان کا مقصد مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچ کر وہاں آباد ہونا تھا، پس جب وہ مصر پہنچ گئے (آیت) ” وہ یوسف کے پاس پہنچے، تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی “ یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ بٹھایا ان کو اپنا قرب عطا کیا اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ (آیت) اور اپنے تمام گھر والوں سے کہا : (آیت) ” داخل ہو مصر میں، اگر اللہ نے چاہا، بےخوف ہو کر “ ہر قسم کے خطرناک حالات اور سختیوں سے محفوظ ہو۔ وہ اسی حالت میں مصر میں داخل ہوئے ان سے تمام سختی اور معاشی تنگی دور ہوگئی اور بہجت و سرور حاصل ہوگیا۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

(آیت) ” اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر “ یعنی انہیں شاہی تخت اور مقام عزت پر بٹھایا (آیت) ” اور سب اس کے آگے سجدے میں گرپڑے۔ “ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے والدین اور ان کے بھائی ان کی تعظیم اور عزت و اکرام کے لئے ان کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ (آیت) جب یوسف (علیہ السلام) نے انہیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں، تو کہنے لگے : (آیت) ” ابا جان ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا “ یعنی جب یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ تھی اس خواب کی تعبیر، جو اس مقام پر پہنچ کر پوری ہوئی۔ (آیت) ” میرے رب نے اسے سچ کردیا۔ “ یعنی میرے رب نے اس خواب کو حقیقت بنا دکھایا اور اسے خواب پریشان نہ بنایا۔ (آیت) ” اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا۔ “ (آیت) ” جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تم کو گاؤں سے (یہاں) لے آیا “ یہ یوسف (علیہ السلام) کی مہربانی اور حسن تخاطب ہے کہ انہوں نے اپنے بھائیوں کے لئے اتمام عفو کی خاطر اپنی حالت قید کا تو ذکر کیا مگر اندھے کنوئیں میں ان پر جو کچھ گزری، اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ انہوں نے اپنے بھائیوں کے قصور کا ذکر کیا نیز ان کو صحرا سے مصر لانے میں اللہ تعالیٰ کے احساب کا ذکر کیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ پیرا یہ بھی اختیار نہیں کیا کہ ” تمہیں بھوک اور بدحالی سے نکال کر یہاں لایا “ نہ یہ کہا “ اس نے تم پر احسان کیا “ بلکہ کہا ” اس نے مجھ پر احسان فرمایا “ اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو اپنی طرف لوٹایا۔ نہایت بابرکت ہے وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنی رحمت کے لئے مختصر کرلیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے بےپایاں رحمت سے نوازتا ہے وہ بہت زیادہ نوازشات کرنے والا ہے۔ (آیت) ” بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا “ اور یہ نہیں کہا : (آیت) ” شیطان نے میرے بھائیوں کو بہکا دیا “ بلکہ پیرا یہ استعمال کیا گیا گویا گناہ اور جہالت دونوں طرف سے صادر ہوئی۔۔۔ تمام ستائش اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے شیطان کو رسوا کرکے دھتکار دیا اور اس انتہائی تکلیف دہ جدائی کے بعد اس نے ہمیں پھر اکٹھا کردیا۔ (آیت) ” بیشک میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے “ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اپنے کرم اور احسان سے اس طرح نوازتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا اور بعض ناپسندیدہ امور کے ذریعے سے بلند ترین منازل پر پہنچا دیتا ہے۔ (آیت) ” بیشک وہ جاننے والا “ یعنی وہ جو تمام معاملات کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور وہ بندوں کے ضمیر میں نہاں رازوں کو بھی جانتا ہے۔ (آیت) وہ حکمت والا ہے اور تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے اور تمام امور کو ان کے اوقات مقرر پر وقوع پذیر کرتا ہے۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجئیو۔

جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو زمین میں مکمل اقتدار عطا کردیا اور ان کے والدین اور بھائیوں کی ملاقات کے ذریعے سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کردیں، تو یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے، اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے اور اسلام پر ثبات اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” اے رب تو نے مجھے بادشاہی سے حصہ دیا “ یہ انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ وہ زمین کے خزانوں کے منتظم اور بادشاہ کے بہت بڑے وزیر تھے۔ (آیت) ” اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ “ یعنی تو نے مجھے آسمانی کتاب کی تفسیر اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا۔ (آیت) ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے اسلام پر موت دے “ یعنی مجھے اسلام پر قائم اور ثابت قدم رکھ حتیٰ کہ اسلام ہی پر مجھے وفات دے۔ یہ دعا موت کے جلدی آنے کی دعا نہیں ہے۔ (آیت) ” اور مجھے نیک بندوں میں داخل کردیجیے۔ “ یعنی مجھے انبیاء و ابرار، اپنے چنے ہوئے اور بہترین بندوں میں شامل کر۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ پر یہ قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا : (آیت) یعنی یہ خبر جس سے ہم نے آپ کو آگاہ کیا ہے۔ (آیت) ” غیب کی خبریں، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں “ اور اگر ہم آپ کی طرف وحی نہ کرتے تو اس جلیل القدر واقعہ کی خبر آپ تک نہ پہنچ سکتی۔ (آیت) ” اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے “ (آیت) ” جب وہ اتفاق کر رہے تھے اپنے کام پر “ یعنی یوسف کے بھائی فریب پر اتفاق کر رہے تھے۔ (آیت) ” اور وہ چال چل رہے تھے۔ “ جب کہ ان کے اور ان کے باپ کے درمیان جدائی ڈالنے کے لئے اس طرح سازش کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی اور نہ کسی کے لئے یہ ممکن ہی تھا کہ اصل واقعہ معلوم کرسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اصل واقعہ سے آگاہ نہ کرے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنے کے بعد وہ حالات بیان فرمائے، جن کا علم، اللہ کی وحی کے بغیر مخلوق کو حاصل نہیں ہوسکتا، تو وہاں فرمایا : (آیت) ” اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی تو آپ طور کے غربی جانب نہ تھے اور نہ آپ اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔ “ اور یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) ” اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں “ (آیت) ” ایمان لانے والے “۔ کیونکہ ان کے مدارک و مقاسد فاسد ہوچکے ہیں اس لئے خیر خواہوں کی خر خواہی انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انہیں تعلیم دیتے رہیں انہیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لئے بھلائی اور ان سے شرکا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہی اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ' تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لئے نصیحت ہے “ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے، تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں۔ اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

(آیت) ” اور کتنی ہی “ (آیت) ” نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے “ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں (آیت) ” اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں۔ “
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔

(آیت) ” اور “ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا جاتا ہے، تو (آیت) ” ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔ “ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں۔ پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو ؟

بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” کیا یہ بےخوف ہیں “ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بےخوف ہیں کہ (آیت) ” ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے “ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ (آیت) ” یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے “ (آیت) ” اور ان کو خبر نہ ہو۔ “ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کردیں جو ان کے لئے عذاب کا باعث ہیں۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) ’‘(لوگوں سے) کہہ دیجیے ! “ (آیت) ” یہ میرا راستہ ہے “ جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ (آیت) ” میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں “ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انہیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انہیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انہیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ (آیت) ” سمجھ بوجھ کر “ یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و شبہ کے پورے علم و یقین پر ہوں۔ (آیت) ” اور میرے متبعین بھی “ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جیسے میں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اس کی طرف بلاتا ہوں۔ (آیت) ” اور اللہ پاک ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور کی نسبت سے پاک ہے جو اس کے کمال کے منافی ہیں اور اس کے جلال کے لائق نہیں۔ (آیت) ” میں کسی بھی معاملے میں مشرکین میں شامل نہیں۔ “ بلکہ دین کو صرف اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لئے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

(آیت) ” اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے “ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لئے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپ ﷺ کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لئے انبیائے سابقین میں اسوہ حسنہ ہے۔ (آیت) ” ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں “ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے، بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے، تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ (آیت) ” کیا پس انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی “ جب وہ آپ ﷺ کی بات کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر انہوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا (آیت) ” تو وہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ “ یعنی اور وہ دیکھتے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا۔ لہٰذا تم بھی اس رویہ کو اختیار کرنے سے بچو جس رویے پر وہ قائم رہے ہیں ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے گا جو ان پر نازل ہوا تھا۔ (آیت) ” اور آخرت کا گھر “ یعنی جنت اور جنت کی دائمی نعمتیں (آیت) ” ان لوگوں کے لئے بہتر ہیں جو پرہیز گار ہیں “ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، کیونکہ دنیا کی نعمتیں منقطع ہو کر ختم ہوجانے والی ہیں۔ آخرت کی نعمت کامل اور کبھی نہ فنا ہونے والی ہے، بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ (آیت) ” یہ (اللہ تعالیٰ کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی “ (آیت) ” کیا تم سمجھتے نہیں۔ “ یعنی کیا تمہارے پاس اتنی سی بھی عقل نہیں جو اعلیٰ کو ادنیٰ پر ترجیح دے سکے۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے ان کی قوم کے مجرم اور لئیم لوگ انہیں جھٹلا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت پر مہلت دئیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انبیاء کرام پر ان کی سختیاں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور انبیاء ومرسلین یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید کی تصدیق کے باوجود کبھی کبھی ان کے دل میں مایوسی کا کوئی خیال سا گزرتا ہے اور ان کے علم اور یقین میں ایک قسم کا ضعف سا آجاتا ہے۔ جب معاملہ اس حال کو پہنچ جاتا ہے (آیت) ” تو ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی، پس جن کو ہم نے چاہا، نجات دے دی گئی “ اس سے مراد انبیاء و رسل اور ان کے متبعین ہیں۔ (آیت) ” اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھر انہیں کرتا۔ “ یعنی ہمارے عذاب کو مجرموں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جرات کرنے والے پر سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی کوئی پیش چل سکے گی نہ ان کی کوئی مدد کرسکے گا۔