Ayah 12:41پس یوسف نے قید کے دونوں ساتھیوں کو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت اور اخلاص کی طرف دعوت دی، تو یہ احتمال بھی ہے کہ ان دونوں ساتھیوں نے یوسف کی دعوت قبول اور آپ کی اطاعت اختیار کرلی ہو اور اللہ کی نعمت کا ان پر اتمام ہوگیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے شرک پر جمے رہے ہوں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہو۔ پھر یوسف نے ان دونوں کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کے مطابق ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی۔ فرمایا : (یصاحبی السجن اما احدکما) ” میرے جیل خانے کے رفیقو ! تم میں سے ایک “ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نکال رہا ہے۔ اس کے بارے میں یوسف نے بتایا کہ وہ قید سے آزاد ہوگا (فیسقی ربہ خمراً ) ” پس وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔ ‘ یعنی وہ اپنے آقا کو جس کی وہ خدمت کیا کرتا تھا شراب پلائے گا اور یہ تعبیر اس کے قید سے نکلنے کو مستلزم تھی۔ (واما الاخر) ’ درہا دوسرا قیدی “ جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہے اور پرندے روٹیاں کھا رہے ہیں (فیصلب فتاکل الطیر من راسہ) ” وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ “ یوسف نے روٹیاں سر پر اٹھانے کی جن کو پرندے کھا رہے ہوں، یہ تعبیر بتلائی کہ اس کا سر قلم کیا جائے گا۔ اس کے سر کا گوشت، چربی اور مغز جدا کئے جائیں گے، اس کو دفن نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے پرندوں سے بچایا جائے گا، بلکہ اسے ایسی جگہ صلیب پر لٹکایا جائے گا جہاں پرندے اس کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ جناب یوسف نے آگاہ فرمایا کہ خواب کی یہ تعبیر، جو انہوں نے ان کو بتائی ہے پوری ہو کر رہے گی۔ فرمایا (قضی الامر الذی فیہ تستقتین) ” وہ امرتم مجھ سے پوچھتے تھے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ “ یعنی جس معاملے کی تعبیر و تفسیر کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے اس کا فیصلہ ہوچکا۔
Ayah 12:42(وقال) یعنی یوسف نے فرمایا : (للذی ظن انہ ناج منھما) ” اس شخص سے جس کی بابت انہوں نے گمان کیا تھا کہ وہ بچے گا “ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب پلا رہا ہے۔ (اذکرنی عند ربک) ” اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا “ یعنی اس کے پاس میرے قصے اور میرے معاملے کا ذکر کرنا شاید وہ نرمپڑ جائے اور مجھے اس قید خانے سے نکال دے۔ (فانسہ الشیطن ذکر ربہ) ” لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ “ یعنی قید سے نجات پانے والے اس شخص کو شیطان نے اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا (1) اور نیز ہر اس چیز کو فراموش کرا دیا جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا باعث تھی اور انہی چیزوں میں یوسف کا تذکرہ بھی تھا جو اس چیز کے مستحق تھے کہ بہترین اور کامل ترین بھلائی کے ساتھ ان کو بدلہ دیا جاتا۔ یہ اس لئے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کا حکم پورا ہو۔ (فلبث فی السجن بضع سنین) ” پس ٹھہرے رہے یوسف جیل میں کئی سال “ (بضع) کا اطلاق تین سے لے کر نوتک کے عدد پر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سات برس تک قید میں رہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے چاہا کہ اس کا حکم پورا ہو اور یوسف کو قید سے نکالنے کا اذن دے تو اس نے یوسف کو قید سے نکالنے، ان کی شان بلند کرنے اور ان کی قدر و منزلت نمایاں کرنے کے لئے ایک سبب مقدر کردیا۔۔۔ وہ تھا بادشاہ کا خواب دیکھنا۔
(فاضل مصنف کے برعکس اکثر مفسرین نے (ذکر ربہ) میں رب سے آقا، صعنی بادشاہ وقت مراد لیا ہے، یعنی نجات پانے والے کو شیطان نے بھلا دیا اور اس نے حضرت یوسف کی خواہش کے مطابق بادشاہ سے آ کر ان کے جیل میں محبوب رہنے کا ذکر نہیں کیا۔ (ص۔ ی)
Ayah 12:43جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوسف کو قید خانے سے نکالنا چاہا تو بادشاہ کو ایک عجیب و غریب خواب دکھایا۔ جس کی تعبیر تمام قوم کو متاثر کرتی تھی۔۔۔ تاکہ یوسف اس خواب کی تعبیر بتائیں اور یوں ان کا علم و فضل ظاہر ہو اور دین و دنیا میں ان کو رفعت حاصل ہو۔ اس میں تقدیر کی مناسبت یہ ہے کہ بادشاہ نے۔۔۔ جو رعایا کے تمام امو کا ذمہ دار ہوتا ہے۔۔۔ یہ خواب دیکھا، کیونکہ قوم کے مصالح کا تعلق بادشاہ سے ہوتا ہے۔ اس بادشاہ نے ایک خواب دیکھا جس نے بادشاہ کو خوف زدہ کردیا۔ اس نے اپنی قوم کے اہل علم اور اصحاب الرائے کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا : (انی اری سبع بقرت سمان یاکلھن سبع عجاف) ’ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں۔ “ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں، جن میں قوت ختم ہوچکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں۔ (و) اور میں نے دیکھا ہے (سبع سنبلت خضر واخر یبست) ’ سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔ ‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں۔ (یایھا الملا افتونی فی رء یای ) ” اے دربار والو ! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ “ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ (ان کنتم للربا تعبرون) ” اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے “
Ayah 12:44پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کرسکے۔ کہنے لگے : (اضغاث احلام) ” یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ “ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاص ہے نہ اس کی کوئی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انہوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں۔ پھر انہوں نے کہا : (وما نحن بتاویل الاحلام بعلمین) ” ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔ “ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔
پس انہوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خودپسندی کو ایک جگہ جمع کردیا، کیونکہ انہوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا، نیز یہ یوسف پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے، کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ، خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسف نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسف نے اس خواب کی تعبیر بتادی تو ان کے ہاں یوسف کی قدر اور وقعت بہت بڑ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدم کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے سکے، پھر آدم سے وسال کیا انہوں نے فرشتوں کو ہر چیز کا نا مبتا دیا اور اس طرح فرشتوں پر آدم کی فضیلت ثابت ہوگئی۔
اسی طرح قیامت کے روز، اللہ کی مخلوق میں بہترین ہستی، جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی فضیلت ظاہر ہوگی، اللہ مخلوق کو الہام کرے گا اور تمام مخلوق جناب آدم، پھر جناب نوح، پھر جناب ابراہیم، پھر جناب موسیٰ اور پھر جناب عیسیٰ سے شفاعت کی درخواست کرے گی مگر وہ معذرت کردیں گے، پھر تمام مخلوق نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی استدعا کرے گی جسے قبول کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے ” ہاں میں شفاعت کروں گا، میں ہی اس کا مستحق ہوں “۔۔۔ اور یوں آپ تمام مخلوق کی شفاعت کریں گے اور اس طرح وہ اس مقام محمود پر فائز ہوں گے جس پر اولین و آخرین رشک کریں گے۔ پاک ہے وہ ذات جس کا لطف و کرم مخفی ہے، اور وہ اپنے اولیاء و اصفیا اور اپنے خاص بندوں کو نہایت دقیق طریقے سے اپنے فضل و احسان سے نوازتی ہے۔
Ayah 12:45(وقال الذی نجامنھما) ” ان دونوں جوانوں میں سے جو بچ گیا تھا، اس نے کہا “ اور یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نچوڑ رہا ہے جس سے یوسف نے کہا تھا کہ وہ اپنے آقا کے پاس ان کا ذکر کرے (واد کر بعد امۃ) ” اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی۔ “ یعنی کئی سال کی مدت کے بعد اسے یوسف اور ان کا ان دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر بتانا اور یوسف کا وصیت کرنا یاد آیا اور اسے معلوم تھا کہ اس خواب کی تعبیر صرف یوسف ہی بتاسکتے ہیں۔ اس لئے وہ کہنے لگا : (انا انبئکم بتاویلہ فارسلون) ” میں بتاؤں تم کو اسی کی تعبیر، پس تم مجھے بھیجو، یعنی مجھے یوسف کے پاس بھیجو تاکہ میں ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھ سکوں۔ انہوں نے اسے بھیج دیا وہ یوسف کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یوسف نے اس کے فراموش کردینے پر اس پر عتاب نہیں فرمایا، بلکہ اس نے جو کچھ پوچھا یوسف نے اسے نہایت غور سے سنا اور اس کے سوال کا جواب دیا۔
Ayah 12:46اس شخص نے کہا تھا : (یوسف ایھا الدصیق) ” اے یوسف، اے سچے ! “ یعنی اپنے اقوال و افعال میں بہت ہی سچے شخص (افتنا فی سیع بقرت سمان یاکلھن سبع عجاف وسبع سنبلت خضر واخر یبست لعلی ارجع الی الناس لعلھم یعلمون) ” ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلاؤ، کہ سات موٹی گائیں، ان کو سات کمزور گائیں کھا جاتی ہیں اور سات ہری بالیاں، دوسری خشک بالیوں کو، تاکہ میں لوگوں کی طرف واپس جاؤں شاید ان کو معلوم ہو “ کیونکہ اس خواب نے ان لوگوں کو سخت پریشان کر رکھا ہے اور وہ اس خواب کی تعبیر جاننے کے لئے سخت بےتاب ہیں۔
یوسف نے اس خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے کہا کہ سات موٹی تازی گایوں اور سات ہری بالیوں سے سات آئندہ سالوں کی سرسبزی و شادابی کی طرف اشارہ ہے اور سات لاغر اور کمزور گایوں اور سات سوکھی بالیوں سے شادابی کے بعد آنے ولای خشک سالی اور قحط کے ساتھ سالوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس تعبیر کا پہلو غالباً یہ ہے۔۔۔ اللہ اعلم۔۔۔ چونکہ کھیتی کا دارو مدار شادابی اور خشک سالی پر ہے، جب شادابی آتی ہے تو کھیتیوں اور فصلوں کو طاقت ملتی ہے، وہ خوشنما نظر آتی ہیں، غلے کی بہتات ہوتی ہے، قحط سالی میں کھیتیوں کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ گیہوں کی بالیاں سب سے اچھی اور سب سے بڑی خوراک لئے ہوئے ہوتی ہیں، وجود مناسبت کی بنا پر یوسف نے تعبیر بیان کی۔
Ayah 12:47اس خواب کی تعبیر بتانے کے سات ھساتھ جناب یوسف نے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ شادابی کے سالوں کے دوران قحط سالی کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں کیسے تیایر کرنی چاہیے اور کیا کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، چناچہ فرمایا : (تزرعون سبع سنین داباً ) ” تم لگاتار سات سال تک (شادابی کی وجہ سے) کھیتی باڑی کرتے رہو گے “ (فما حصد تم) ” پس جو فصلیں تم کاٹو “ (قذروہ) ” تو اس (فصل) کو چھوڑو دو ‘۔ (فی سنبلہ) ” اس کے خوشوں میں “ کیونکہ اس سے غلہ زیادہ عرصہ تک باقی رہ سکتا ہے اور تلف ہونے کا امکان بعید تر ہوتا ہے (الا قیلاً مما تاکلون) ’ دتھوڑے غلے کے سوا جو تم کھاتے ہو۔ “ یعنی شادابی کے ان دونوں میں اپنی خوراک کا اس طرح انتظام کرو کہ کم سے کم خوراک استعمال کرو، تاکہ زیادہ سے زیادہ خوراک کا ذخیرہ کرسکو۔ جس کا فائدہ اور وقعت زیادہ ہوگی۔
Ayah 12:48ثم یاتی من بعد ذلک) ’ د پھر سا کے بعد آئیں گے۔ “ یعنی شادبای کے ان سات سالوں کے بعد (سبع شداد) ” خشک سالی اور سخت قحط کے سات سال آئیں گے۔ “ (یاکلن ماقدمتم لھن) (یعنی قحط کے یہ سات سال) ’ دوہ سب کچھ کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ذخیرہ کیا ہوگا “ خواہ کتنا ہی زیادہ ذخیرہ کیوں نہ کیا ہو۔ (الا قلیلاً مما تحصنون) ” مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے تم بیج کے واسطے “ یعنی جنہیں تم اصلی فصل کی تیاری کے لئے روک کر رکھو گے۔
Ayah 12:49(ثم یاتی من بعد ذلک) ” پھر اس کے بعد آئے گا۔ “ یعنی سخت قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد (عام فیہ بغاث الناس وفیہ یعصرون) ” ایک سال، اس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے “ یعنی اس سال بہت کثرت سے بارشیں ہوں گی، بہت زیادہ سیلاب آئیں گے۔ کثرت سے غلہ پیدا ہوگا جو ان کی خوراک کی ضرویات سے زیادہ ہوگا، حتی کہ وہ انگوروں کا رس نچوڑیں گے جو ان کے کھانے سے زیادہ ہوں گے۔
شاید اس شادابی اور سرسبز سال پر استدلال اس لئے کیا۔۔۔ حالانکہ بادشاہ کے خواب میں اس سال کی صراحت نہیں تھی کہ یوسف نے سات سالہ قحط کی تعبیر سے سمجھا کہ ان کے بعد آنے والے سال میں قحط کی شدت زائل ہوجائے گی۔ کیونکہ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ سات سال کا لگاتار قحط بکثرت شادابی کے ذریعے سے ہی ختم ہوسکتا ہے ورنہ اندازے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 12:50جب قاصد بادشاہ اور لوگوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں یوسف کی تعبیر کے بارے میں آگاہ کیا تو انہیں تعبیر سن کر تعجب ہوا اور بےحد خوش ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وقال الملک) ” بادشاہ نے (وہاں موجود لوگوں سے کہا) کہا “ (ائتونی بہ) ” اسے میرے پاس لاؤ۔ “ یعنی یوسف کو قید خانے سے نکال کر میرے سامنے حاضر کرو۔ (فلما جآء الرسول) ’ دپس جب بادشاہ کا ایلچی جناب یوسف کے پاس آیا “ اور اسے بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لئے کہا، تو انہوں نے اس وقت تک قید خانے سے باہر آنے سے انکار کردیا جب تک کہ ان کی برأت مکمل طور پر لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوجاتی۔ یہ چیز ان کے صبر، عقل اور اصابت پر دلالت کرتی ہے۔ (قال) اس وقت انہوں نے بادشاہ کے ایلچی سے کہا : (ارجع الی ربک) ” بادشاہ کے پاس واپس جا “ (فسئلہ ما بال النسوۃ التی قطعن ایدیھن) ” بادشاہ سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ “ کیونکہ ان کا معاملہ بالکل ظاہر اور واضح ہے (ان ربی بکیدھن علیم) ” میرا رب تو ان کا فریب، سب جانتا ہے۔ “
Ayah 12:51بادشاہ نے ان عورتوں کو بولایا اور ان سے پوچھا (ماخطبکن ) ” تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ “ (اذ راودتن یوسف عن نفسہ) ’ دجب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا ؟ “ کیا تم نے یوسف میں کوئی برائی دیکھی ؟ ان عورتوں نے یوسف کی برأت کا اقرار کیا اور کہنے لگیں : (قلن حاش للہ ما علمنا علیہ من سوآء) ” حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ “ یعنی تھوڑا یا بہت ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ تب وہ سبب زائل ہوگیا جس پر تہمت کا دار و مدار تھا۔ اب کوئی سبب باقی نہ بچا سوائے اس الزام کے جو عزیز مصر کی بیوی نے لگایا تھا۔ (قالت امرات العزیز الئن حصص الحق) ” عزیز کی بیوی نے کہا، اب حق واضح ہوگیا ہے “ یعنی حق واضح ہوگیا ہے جب کہ ہم نے یوسف کو برائی اور تہمت میں ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جو اس کو محبوب کرنے کا باعث بنا۔ (انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین) ” میں نے ہی اس کو اس کے جی سیپ ھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ یقیناً سچا ہے “ یعنی یوسف اپنے اقوال اور اپنی برأت کے دعوے میں سچے ہیں۔
Ayah 12:52(ذلک) یعنی یہ اقرار جس میں، میں نے تسلیم کیا ہے کہ میں نے ہی یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ (لیعلم انی لم اخنہ بالغیب) ’ دتا کہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی “ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد عورت کا خاوند ہے، یعنی یہ اقرار میں نے اس لئے کیا، تاکہ میرا خاوند جان لے کہ میں نے یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی، مگر میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ میں نے مجرد اس کو پھسلانے کی کوشش کی مگر میں نے عزیز مصر کے بستر کو خراب نہیں کیا۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یوسف ہوں، یعنی تاکہ یوسف جان لے کہ وہ سچا ہے اور میں نے ہی اس پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ جب وہ میرے پاس موجود نہیں تھا تو میں نے اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ (وان اللہ لایھدی کیدالخآئنین) ” اور یہ کہ اللہ دغا بازوں کا فریب نہیں چلنے دیتا “ یہ لازمی امر ہے کہ ہر خائن کی خیانت اور اس کی سازش کا وبال آخر کار اسی کی طرف پلٹے گا اور حقیقت حال ضرور واضح ہوگی۔
Ayah 12:53چونکہ اس کلام میں عورت کے اپنے لئے تزکیہ کے دعوے کا شائبہ پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ بھی پایا جاتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملے میں اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ اس لئے عورت نے استدارک کے طور پر کہا : (آیت) ” اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتی۔ “ یعنی میں نے یوسف کو پھسلانے، اس کے ساتھ برائی کے ارادے اور اس کی شدید حرص اور اس کے بارے میں سازش کرنے میں اپنے آپ کو بری قرار نہیں دیتی۔ (آیت) ” کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔ “ یعنی نفس انسان کو بہت کثرت سے برائی، یعنی بےحیائی اور دیگر تمام گناہوں کا حکم دیتا ہے۔ نفس شیطان کی سواری ہے اور شیطان نفس کے راستے سے انسان میں داخل ہوتا ہے۔ (آیت) ” سوائے اس شخص کے جس پر میرا رب رحم کر دے “ اور اسے اس کے نفس امارہ سے نجات دے دے اور اس طرح اس کا نفس امارہ نفس مطمئنہ میں بدل جائے۔ ہلاکت کے داعی کی نافرمانی کرکے ہدایت کے داعی کی آواز پر لبیک کہے۔ اس میں نفس کا کوئی کمال نہیں، بلکہ یہ اللہ کا اپنے بندے پر بےانتہا فضل و کرم اور اس کی بےپایاں رحمت ہے۔ (آیت) ” بیشک میرا رب بخشنے والا “ جب کوئی گناہ اور معاصی کے ارتکاب کی جرات کرنے کے بعد توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ (آیت) ” رحم کرنے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرکے اور اسے نیک اعمال کی توفیق عطا کرکے اس پر رحم کرتا ہے۔ ان آیات کریمہ کی تفسیر میں قرین صواب یہی ہے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے یوسف (علیہ السلام) کا نہیں، کیونکہ یہ بات عورت کے کلام کے سیاق میں آئی ہے اور یوسف (علیہ السلام) تو اس وقت قید میں تھے۔
Ayah 12:54جب بادشاہ اور لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی کامل براءت متحقق ہوگئی ‘ تو بادشاہ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا : (آیت) ” اسے میرے پاس لاؤ اور اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ “ یعنی میں اس کو مقربین خاص میں شامل کرلوں گا اسے میرے پاس نہایت عزت و احترام سے لے کر آؤ۔ (آیت) ” پس جب اس نے ان سے گفتگو کی “ یعنی جب بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) سے گفتگو کی تو اسے ان کی باتیں اچھی لگیں اور اس کے ہاں ان کی وقعت اور زیادہ ہوگئی، تو اس نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا : (آیت) ” بیشک آپ آج ہمارے ہاں “ (آیت) ” صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہیں۔ “ یعنی آپ ہمارے ہاں بلند مرتبہ کے مالک اور ہمارے رازوں کے امین ہیں۔
Ayah 12:55(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے مصلحت عامہ کی خاطر بادشاہ سے مطالبہ کیا۔ (آیت) ” مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجیے۔ “ یعنی مجھے زمین کی پیدا وار، اس کے محاصل کا نگران، محافظ اور منتظم مقرر کردیں (آیت) ” کیونکہ میں حفاطت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں۔ “ یعنی جس چیز کا آپ مجھے نگران بنائیں گے میں اس کی حفاظت کروں گا اس میں سے کچھ بھی بےمحل استعمال ہو کر ضائع نہیں ہوگی، میں ان محاصل کے داخل خارج کو منضبط کرسکتا ہوں میں ان کے انتظام کی کیفیت کا پورا علم رکھتا ہوں۔ میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ کسے عطا کرنا ہے کسے محروم رکھنا ہے اور ان میں تصرفات کی پوری طرح دیکھ بھال کرسکتا ہوں۔ یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے اس عہدے کا مطالبہ، عہدے کی حرص کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ نفع عام میں رغبت کی وجہ سے تھا۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے بارے میں کفایت اور حفظ و امانت کے متعلق جو کچھ جانتے تھے وہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ بنا بریں یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں زمین کے محاصل کے خزانوں کے انتظام پر مقرر کر دے۔ چناچہ بادشاہ نے انہیں زمین کے محاصل کے خزانوں کا والی اور منتظم مقرر کردیا۔
Ayah 12:56اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اسی طرح “ یعنی ان مذکورہ اسباب اور مقدمات کے ذریعے سے (آیت) ” ہم نے یوسف کو جگہ دی اس ملک میں، وہ اس میں جہاں چاہتے، جگہ پکڑتے “ وہ نہایت آسودہ زندگی، بیشمار نعمتوں اور بےپناہ جاہ و جلال میں رہنے لگے۔ (آیت) ” ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں، پہنچا دیتے ہیں “ یوسف (علیہ السلام) پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی جو اس نے ان کے لئے مقدر کر رکھی تھی جو صرف دنیاوی نعمتوں پر ہی مشتمل نہ تھی۔
(آیت) ” اور ہم محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتے “ اور یوسف (علیہ السلام) کا شمار تو سادات محسنین میں ہوتا ہے۔ ان کے لئے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی بھلائی ہے۔
Ayah 12:57اس لئے فرمایا : (آیت) ” آخرت کا اجر (دنیا کے اجر سے) بہتر ہے “ (آیت) ” ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔ “ یعنی جن لوگوں میں تقویٰ اور ایمان جمع ہے۔ پس تقویٰ کے ذریعے سے حرام امور، یعنی کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو ترک کیا جاتا ہے اور ایمان کامل کے ذریعے سے ان امور میں تصدیق قلب حاصل ہوتی ہے جن امور کی تصدیق کرنے کی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور فرض و مستحب، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، تصدیق قلب کی پیروی کرتے ہیں۔
Ayah 12:58جب یوسف (علیہ السلام) زمین کے محاصل کے ذخیرہ کے منتظم بن گئے تو انہوں نے بہترین طریقے سے ان کا انتظام کیا۔ انہوں نے شادابی کے سالوں میں مصر کی تمام قابل کاشت زمین میں غلہ کاشت کردیا اور اس غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے بڑے مکانات بنوائے۔ خراج اور لگا میں بہت سا غلہ جمع کیا، اس کی حفاظت کی اور اس کا بہترین انتظام کیا۔ جب قحط سالی شروع ہوئی اور قحط تمام علاقوں میں پھیل گیا حتیٰ کہ فلسطین بھی قحط کی لپیٹ میں آگیا جہاں یعقوب اور ان کے بیٹے رہتے تھے، تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو اناج کے لئے مصر بھیجا۔ (آیت) ” یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے “ تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جب کہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے “ یعنی انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہچانا۔
Ayah 12:59(آیت) ” اور جب تیار کردہ کرتے تھے۔ یہ ان کا احسان انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ (آیت) ” حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہ ان سے کہا ؟ (آیت) ” اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمہارے باپ کی طرف سے ہے “ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصرلانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا : (آیت) ” کیا ہم دیکھتے نہیں ہو کہ میں ماپ بھی پورا دیتا ہوں اور خوب مہمان نواز بھی ہوں۔ “ یعنی مہمان نوازی اور عزت و اکرام کرنے میں سب سے بہتر ہوں
Ayah 12:60، پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا : (آیت) ” پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لئے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا “ یہ بات حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس لئے کہی، کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔
Ayah 12:61(آیت) ” انہوں نے کہا، ہم ضرور خواہش کریں گے اس کی بابت اس کے باپ سے “ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) بنیامین سے بےحد محبت کرتے تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے بعد بنیامین ہی ان کے لئے تسلی کا باعث تھے۔ اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بلوانے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی۔ (آیت) ” اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔ “ یعنی جو کچھ آپ نے کہا ہے، ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔
Ayah 12:62(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : (آیت) ” اپنے خدام سے۔ “ یعنی اپنے کارندوں سے جو ان کی خدمت میں موجود تھے۔ (آیت) ” رکھ دوان کی پونجی “ یعنی وہ قیمت جس کے بدلے انہوں نے اناج خریدا تھا۔ (آیت) ” ان کے اسباب میں، شاید وہ اس کو پہچان لیں “ یعنی جب وہ اپنے مال کو جو انہوں نے قیمت کے طور پر ادا کیا تھا، واپس اپنے اپنے کجاوں میں دیکھیں گے (آیت) ” شاید پھر یہاں آئیں۔ “ یعنی شاید وہ اپنے مال کی واپسی کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے لوٹانے کے لئے مصر واپس آئیں۔
ظاہر ہے یوسف (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ پورے تول کے ذریعے سے نیکی کی تھی، پھر ان کی قیمت بھی ان کو اس طرح واپس لوٹ دی تھی کہ اس کی واپسی کا کوئی احسان نہیں انسان کے لئے دھڑ ٹھہراتا کہ محسن کے لئے پوری وفا داری کی جائے۔
Ayah 12:63بولے، ابا جان روک دی گئی ہے ہم سے ماپ “ یعنی اگر آپ ہمارا بھائی ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو ہمیں اناج نہیں ملے گا۔ (آیت) ” پس ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجیں کہ ہم ماپ لے کر آئیں “ یعنی تاکہ اناج حاصل کرنے میں ہمارا بھائی ہمارے لئے سبب بن سکے۔ پھر انہوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتے ہوئے کہا : (آیت) ” اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔ “ یعنی ہم کسی نا خوشگوار صورت حال میں اس کی حفاظت کریں گے۔
Ayah 12:64(آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” کیا میں تمہارا اسی طرح اعتبار کروں جیسے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں اعتبار کیا تھا ؟ “ یعنی یوسف کی حفاظت کے بارے میں تم اپنی ذمہ داری کے التزام کا وعدہ اس سے پہلے بھی کرچکے ہو۔ پاس ہمہ تم نے اس کی حفاظت کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا، لہٰذا مجھے تمہارے اس عہد پر کوئی بھروسہ نہیں کہ تم اس کی حفاظت کا التزام کرو گے۔ مجھے تو بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ (آیت) ” سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ یعنی وہ میرے حال کو جانتا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر رحم کرے گا اس کی حفاظت کرکے اسے میرے پاس لائے گا۔ گویا انہوں نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیجنے کے لئے اپنی گفتگو میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔
Ayah 12:65(آیت) ” اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو انہوں نے پایا کہ ان کا مال بھی واپس کردیا گیا ہے۔ “ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ مال قصداً واپس کیا تھا اور وہ اس مال کا واپس بھائیوں کو مالک بنانا چاہتے تھے۔ (آیت) انہوں نے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لئے ترغیب دیتے ہوئے باپ سے کہا : (آیت) ” ابا جان ! ہمیں (اور) کیا چاہیے۔ “ یعنی اس بہترین اکرام و تکریم کے بعد ہمیں اور کیا چاہیے جب کہ بادشاہ نے ہمیں اناج پورا دیا ہے اور نہایت خوبصورت طریقے سے ہمارا مال بھی واپس لو ٹا دیا ہے اور یہ بات اخلاص اور مکارم اخلاق پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” یہ ہماری پونجی جو ہمیں واپس کردی گئی ہے، اب جائیں تو غلہ حاصل کرسکیں گے اور اپنے گھر والوں کے لئے غلہ لاسکیں گے، کیونکہ وہ خوراک کے سخت محتاج ہیں۔ (آیت) ” اور ہم اپنے بھائی کی حفاطت کریں گے اور ایک اونٹ کی بھرتی بھی زیادہ لیں گے “ یعنی ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجنے کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ غلہ زیادہ ملے گا، کیونکہ ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیا جاتا تھا۔ (آیت) ” اور وہ بھرتی آسان ہے۔ “ یہ بڑا آسان سا کام ہے اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، کیونکہ یہ کوئی زیادہ لمبی مدت نہیں اور اس میں جو مصلحت ہے وہ بھی آپ کے سامنے واضح ہے۔
Ayah 12:66(آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” میں ہرگز اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، یہاں تک کہ دو تم مجھے عہد اللہ کا “ یعنی جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر پکا عہد نہ کرو۔ (آیت) ” کہ تم ضرور اس کو میرے پاس پہنچا دو گے، مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب “ یعنی سوائے کسی ایسی صورت حال کے جو تمہیں پیش آجائے جس پر تمہارا کوئی اختیار نہ ہو اور تم اس کو ہٹانے کی قدرت نہ رکھتے ہو۔ (آیت) ” پس جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا۔ “ یعنی جب یعقوب (علیہ السلام) کی خواہش کے مطابق انہوں نے عہد و پیمان دے دیا۔ (آیت) ” حضرت یعقوب علیہ نے کہا، اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی گواہی، اس کی حفاظت اور اس کی کفایت ہمارے لئے کافی ہے۔
Ayah 12:67پھر جب یعقوب (علیہ السلام) نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا، تو ان کو وصیت کی کہ جب وہ مصر پہنچیں تو (آیت) ” ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں، بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں “ یعنی وہ ان کے ایک ہی شخص کے بیٹے ہوتے ہوئے ان کی کثرت اور ان کے حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب سے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب ہے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے (آیت) ” میں تم کو اللہ کی کسی بات سے نہیں بچا سکتا “ پس جو چیز تقدیر میں لکھی جاچکی ہے وہ ہو کر رہے گی (آیت) ” حکم تو اللہ ہی کا ہے۔ “ یعنی فیصلہ وہی ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے اور حکم وہی ہے جو اس کا حکم ہے۔ پس جس چیز کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کر دے وہ ضرور واقع ہوتا ہے۔ (آیت) ” اسی پر میرا بھروسہ ہے “ یعنی جن اسباب کو اختیار کرنے کی میں نے تمہیں وصیت کی ہے، میں اس پر بھروسہ نہیں کرتا، بلکہ میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ (آیت) ” اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ “ کیونکہ توکل ہی کے ذریعے سے ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور توکل ہی کے ذریعے سے خوف کو دور کیا جاتا ہے۔
Ayah 12:68(آیت) ” اور جب “ یعنی جب وہ روانہ ہوگئے۔ (آیت) ”(اور) داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو حکم دیا تھا، (ان کا یہ فعل) ان کو اللہ کی کسی بات سے نہ بچا سکتا تھا، مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں، سو وہ اس نے پوری کرلی۔ “ اور وہ تھا اولاد کے لئے شفقت اور محبت کا موجب، ایسا کرنے سے ان کو ایک قسم کا اطمینان حاصل ہوگیا تھا اور ان کے دل میں جو خیال گزرا تھا وہ بھی پورا ہوگیا اور یہ یعقوب (علیہ السلام) کے علم کی کوتاہی نہیں، کیونکہ وہ انبیائے کرام اور علمائے ربانی میں سے تھے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کی مدافعت کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” وہ علم عظیم کے مالک تھے “ (آیت) ” کیونکہ ہم نے ان کو تعلیم دی تھی۔ “ یعنی انہوں نے اپنی قوت و اختیار سے اس کا ادراک نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا عطا کردہ علم کار فرما تھا۔ (آیت) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ یعنی اکثر لوگ معاملات کے انجام اور اشیاء کی باریکیوں کو نہیں جانتے۔ اسی طرح اہل علم پر بھی علم، احکام اور اس کے لوازم میں سے بہت کچھ مخفی رہ جاتا ہے۔
Ayah 12:69جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (آیت) ” تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی “ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو، جس کو لانے کے لئے انہوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا، پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کرلیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کردیا۔ (آیت) ” اس نے کہا، میں تیرا بھائی ہوں، پس غمگین مت ہو “ یعنی غم زدہ نہ ہو (آیت) ” ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں “ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انہوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسف (علیہ السلام) ، بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔
Ayah 12:70(آیت) ” پس جب تیار کردیا ان کے واسطے ان کا اسباب “ یعنی جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ (آیت) ” تو رکھ دیا پینے کا پیالہ “ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے (آیت) یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پھر جب انہوں نے اپنا سامان سمیٹ لیا اور وہ کوچ کرنے لگے تو (آیت) ” اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو ! تم تو چور ہو “ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔
Ayah 12:71(آیت) یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا : (آیت) ” اور ان کی طرف متوجہ ہوئے “ تہمت کو دور کرنے کے لئے، کیونکہ چور ہمیشہ اس شخص سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہو تاکہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے اور یہ لوگ ان کے پاس واپس آگئے، تہمت کے ازالے کے سوا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس صورت میں انہوں نے اعلان کرنے والوں سے پوچھا (آیت) ” تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ “ انہوں نے یہ نہیں پوچھا ” ہم نے تمہاری کیا چیز چرالی ہے ؟ “ کیونکہ وہ چوری کے اس الزام سے اپنے آپ کو یقینی طور پر بری سمجھتے تھے۔
Ayah 12:72(آیت) ” ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے گا، اس کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ ہے “ یعنی اس کو ڈھونڈنے کی اجرت میں ایک بار شتر اناج ملے گا (آیت) ” اور میں اس کا ضامن ہوں۔ “ یعنی یہ اناج دلانے کا میں ذمہ لیتا ہوں، یہ بات تلاش کرنے والے نے کہی تھی۔ (آیت)
Ayah 12:73” انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، تم جانتے ہو، ہم ملک میں بگاڑ ڈالنے کے لئے نہیں آئے “ گناہوں کی تمام اقسام کے ذریعے سے (آیت) ” اور نہ ہم چورہی ہیں “ کیونکہ چوری فساد فی الارض کی سب سے بڑی قسم ہے۔
انہوں نے قسم اس لئے اٹھائی تھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ فساد پھیلانے والے ہیں نہ چور۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے احوال کی خوب جانچ پڑتال ہوئی ہے جو ان کی پاکیزگی اور پرہیز گاری پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ کام ان کے علم سے نہیں ہوسکتا جن پر وہ چوری کی تہمت لگا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ پیرا یہ چوری کی تہمت کی نفی میں اس فقرے سے زیادہ بلیغ ہے (آیت) ” اللہ کی قسم ہم نے زمین میں فساد کیا ہے نہ ہم نے چوری کی ہے۔
Ayah 12:74“ (آیت) ” انہوں نے کہا، تو اس کی جزا کیا ہے “ یعنی اس فعل کی جزا کیا ہوگی (آیت) ” اگر تم جھوٹے ہوئے ؟ “ یعنی اگر بادشاہ کا پیمانہ تمہارے پاس ہوا۔
Ayah 12:75(آیت) ” انہوں نے کہا، اس کی جزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ پایا جائے تو وہی، یعنی جس کے سامان میں موجود ہوگا (آیت) ” اس کی جزا ہے۔ “ یعنی جس کی چوری کی گئی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ان کے دین میں چوری کی سزا یہ تھی کہ اگر اس پر چوری کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو وہ مال مسروقہ کے مالک کی ملکیت بن جاتا ہے، اسی لئے انہوں نے کہا : (آیت) ” ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ “
Ayah 12:76(آیت) ” پھر انہوں نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے سامان کو دیکھنا شروع کیا۔ “ یعنی تلاشی لینے والے نے پہلے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی خرجیوں کی تلاشی لی، تاکہ وہ شک زائل ہوجائے کہ سب کچھ قصداً کیا گیا ہے۔ (آیت) ” پھر “ یعنی جب بھائیوں کی خرجیوں سے کچھ نہ ملا، تو (آیت) ” اس برتن کو نکال لیا اپنے بھائی کی خرجی سے “ یعنی حقیقت واقعہ کی رعایت رکھتے ہوئے (آیت) یا (آیت) نہیں کہا۔
اس طرح یوسف (علیہ السلام) کے اس منصوبے کی تکمیل ہوگئی جس کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اس طرح اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے کہ ان کے بھائیوں کو اصل صورت حال کا علم نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اس طرح تدبیر کی ہم نے یوسف کے لئے “ یعنی ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے اس تدبیر کو آسان کردیا جس کے ذریعے سے وہ غیر مذموم ہو طریقے سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ (آیت) ” وہ اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا اس بادشاہ کے دین میں “ یعنی بادشاہ کے قانون کے مطابق مال مسروقہ کے مالک کو یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ چور کا مالک بن سکے۔ ان کے ہاں چوری کی کوئی اور سزا تھی۔ اگر فیصلہ بادشاہ کے قانون کے مطابق ہوتا تو یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اپنے پاس نہ رکھ سکتے۔ اس لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فیصلہ کروایا، تاکہ ان کے منصوبے کی تکمیل ہو۔
(آیت) ” ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں “ یعنی علم نافع اور اس راستے کی معرفت عطا کرکے جو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ جیسے ہم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے درجات بلند کئے۔ (آیت) ” اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔ “ یعنی ہر صاحب علم کے اوپر ایک شخص ہوتا ہے جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ غائب اور موجودہ کا علم رکھنے والی ہستی تک جا پہنچتا ہے۔
Ayah 12:77جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ معاملہ دیکھا، تو (آیت) ” انہوں نے کہا، اگر اس (بھائی) نے چوری کی ہے “ تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ (آیت) ” اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی “ ان کی مراد یوسف (علیہ السلام) تھے۔ ان کا مقصود خود اپنی براءت کا اظہار کرنا تھا۔ نیز یہ کہ بنیامین اور اس کے بھائی سے چوری صادر ہوئی ہے اور یہ دونوں ہمارے حقیقی بھائی نہیں ہیں۔ یہ ان کی طرف سے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی بنیامین کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش تھی۔ اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے اس کے جواب کو اپنے دل میں رکھا۔ (آیت) ” اور اس کو ان کے سامنے ظاہر نہیں کیا “ اس لیے ان کی اس بات پر کسی ایسے رد عمل کا اظہار نہ کیا جو انہیں ناگوار گزرے، بلکہ وہ اپنے غصے کو پی گئے اور تمام معاملے کو اپنے دل میں چھپالیا۔ (آیت) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کہا : (آیت) ” تم بدتر ہو درجے میں “ کیونکہ تم نے ایک بےبنیاد بات پر ہماری مذمت کی ہے اور خود اس سے بھی بدتر اعمال کے مرتکب ہوئے ہو۔ (آیت) ” اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔ “ ہماری بابت، جو تم ہمیں سرقہ سے متصف کرتے ہو، اللہ تبارک وتعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم چوری کے بہتان سے بری ہیں۔
Ayah 12:78پھر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی خوشامد شروع کردی کہ وہ ان کے بھائی کے بارے میں نرمی سے کام لیں، پس (آیت) ” انہوں نے کہا، اے عزیز ! اس کا باپ بوڑھا ہے، بڑی عمر کا “ یعنی وہ اس کی جدائی پر صبر نہیں کرسکے گا، اس کی جدائی پر اس پر بہت شاق گزرے گی۔ (آیت) ” پس اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لے، یقیناً ہم تجھے احسان کرنے والا دیکھتے ہیں “ پس ہم پر اور ہمارے باپ پر احسان کیجیے۔
Ayah 12:79(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے کہا : (آیت) ” اللہ پناہ میں رکھے جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ “ یعنی ہماری طرف سے یہ بہت بڑا ظلم ہوگا اگر ہم اس شخص کے بدلے جس کے پاس سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے، ایک بےگناہ شخص کو پکڑ لیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا ” جس نے چوری کی “ یہ جھوٹ سے احتراز ہے۔ (آیت) ” ہم تو پھر “ یعنی اگر ہم اس شخص کو پکڑنے کی بجائے جس کے سامان سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے کسی اور شخص کو پکڑ لیں (آیت) ” ظالم ہوں گے “ کیونکہ اس طرح ہم ایسے شخص کو سز ادیں گے جو سزا کا مستحق نہیں۔
Ayah 12:80جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اس بارے میں مایوس ہوگئے کہ وہ ان کے بھائی کے معاملے میں نرمی اختیار کریں۔ (آیت) ” تو وہ علیحدگی میں اکٹھے ہوئے اور اصلاح کرنے لگے۔ “ جہاں کوئی اور موجود نہ تھا انہوں نے سر گوشیوں میں ایک دوسرے سے مشورہ کیا۔ (آیت) ” ان کے بڑے نے کہا، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا “ یعنی تم سے اس کی حفاظت کرنے اور ساتھ لے کر آنے کا عہد لیا تھا، سوائے اس کے کہ تم کسی مصیبت میں گھر کر بےبس ہوجاؤ۔ (آیت) ” اور اس سے پہلے تم یوسف کے بارے میں کوتاہی کرچکے ہو “ پس تم میں دو امور اکٹھے ہوگئے ہیں۔
(1) یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تمہاری گزشتہ کو تاہی۔
(2) اس کے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ نہ لانا۔۔۔ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں جس کے ذریعے سے میں اپنے باپ کا سامنا کرسکوں۔
(آیت) پس میں تو یہیں مقیم رہوں گا اور یہاں سے نہیں جاؤں گا (آیت) ” یہاں تک کہ حکم دے مجھ کو میرا باپ یا اللہ میری بابت فیصلہ کر دے “ یعنی اللہ تعالیٰ میرے لئے اکیلے یا بھائی کے ساتھ آنا مقدر کر دے۔ (آیت) ” اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔ پھر اس نے اپنے بھائیوں کی وصیت کی کہ انہیں اپنے باپ سے جا کر کیا کہنا ہے۔