Ayahs 10:71–73آیت : (71-73)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے : (واتل علیھم) ” اور ان کو سنائیے “ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجئے (نبا نوح) ” نوح کا حال “ یعنی جب نوح علیہ الصلوۃ السلام کی دعوت کا حال ‘ جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کی دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا ‘ چناچہ آپ ان سے کہتے رہے : (یقوم ان کان کبر علیکم مقامی وتذکیری) ” اے میری قوم ! اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور میرا نصیحت کرنا “ یعنی میرے تمہارے پاس ٹھہرنا اور تمہیں وعظ و نصیحت کرنا جو تمہارے لئے فائدہ مند ہے (بایت اللہ) ” اللہ کی آیتوں سے “ یعنی واضح دلائل کے ذریعے سے اور یہ چیز تمہارے لئے بہت بڑی اور تم پر شاق گزرتی ہے اور تم مجھے نقصان پہنچانے یا دعوت حق کو ٹھکرانے کا ارادہ رکھتے ہو۔ (فعلی اللہ توکلت) ” تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے “ یعنی اس تمام شر کو دفع کرنے میں جو تم مجھے اور میری قوم کو پہنچانا چاہتے ہو ‘ میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ یہی توکل ‘ میرا لشکر اور میرا تمام ساز و سامان ہے اور تم اپنے تمام تر سر و سامان اور تعداد کے ساتھ جو کچھ کرسکتے ہو کرلو (فاجمعوا امرکم) ” اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام “ تم متام لوگ اکٹھے ہو کر ‘ کہ تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے ‘ میرے خلاف جدوجہد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ (وشرکائکم) ” اور جمع کرو اپنے شریکوں کو “ یعنی ان تمام شریکوں کو بلالو ‘ جن کی تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو اور انہیں تم اپنا ولی و مددگار بناتے ہو۔ (ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ) ” پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں اشتباہ “ یعنی اس بارے میں تمہارا معاملہ مشتبہ اور خفیہ نہ ہو ‘ بلکہ تمہارا معاملہ ظاہر اور اعلانیہ ہو۔ (ثم اقضوا الی) ” پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو “ یعنی میرے خلاف جو کچھ تمہارے بس میں ہے ‘ سزا اور عقوبت کا فیصلہ سنا دو ۔ (ولا تنظرون) ” اور مجھے مہلت نہ دو ۔ “ یعنی تم مجھے دن کی ایک گھڑی کے لئے بھی مہلت نہ دو ۔
یہ نوح (علیہ السلام) کی رسالت کی صحت اور آپ کے دین کی صداقت کی قطعی دلیل اور بہت بڑی نشانی ‘ کیونکہ آپ تنہا تھے آُ کا کوئی قبیلہ تھا جو آپ کی حمایت کرتا نہ آپ کے پاس کوئی فوج تھی جو آپ کی حفاظت کرتی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنی حماقت انگیز آراء ‘ فساد دین اور اپنے خود ساختہ معبودان کے عیوب کا پر چار کیا اور آپ کے ساتھ بعض اور عداوت کا مظاہرہ کیا جو پہاڑوں اور چٹانوں سے زیادہ سخت تھی وہ مشرکین قدرت اور سطوت رکھنے والے لوگ تھے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا ” تم ‘ تمہارے گھڑے ہوے شریک اور جن کو تم بلانے کی استطاعت رکھتے ہو سب اکٹھے ہوجاؤ اور میرے خلاف جو چال تم چل سکتے ہو اگر قدرت رکھتے ہو تو چل کر دیکھ لو۔ “ پس وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔ تب معلوم ہوا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سچے ‘ اور وہ اپنی دھمکیوں میں جھوٹھے تھے۔ اس لئے فرمایا : (فان تولیتم) ” پس اگر تم میری دعوت سے منہ موڑتے ہو “ اور اس کی کوئی وجہ نہیں ‘ کیونکہ یہ بات تمہارے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ تم باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف نہیں آتے ‘ بلکہ اس کے برعکس تم تو حق سے منہ موڑ کر باطل کی طرف جا رہے ہو جس کے فاسد ہونے پر دلائل قائم ہوچکے ہیں۔ بایں ہمہ (فما سالتکم من اجر) ” میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا “ یعنی میں اپنی دعوت اور تمہاری لبیک پر تم سے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتا تاکہ تم میرے بارے میں یہ نہ کہتے پھرو کہ یہ تو ہمارے مال ہتھیانے کے لیے آیا ہے اور اسی وجہ سے ہم اس کی دعوت قبول نہیں کرتے۔ (ان اجری الا علی اللہ) ” میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمے ہے۔ “ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے ثواب اور اجر کا طلب گار نہیں۔ (و) نیز میں تمہیں کسی ایسی بات کا حکم نہیں دیتا جس کی مخالفت کر کے اس کے متضاد بات پر عمل کروں ‘ بلکہ (امرت ان اکون من المسلمین) ” مجھے حکم ہے کہ میں فرماں بردارہوں “ پس جن امور کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں سب سے پہلے میں خود ان میں داخل ہوتا ہوں اور سب سے پہلے میں خود اس پر عمل کرتا ہوں۔
(فکذبوہ) ” پس انہوں نے نوح کو جھٹلایا “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو شب و روز اور کھلے چھپے دعوت دی مگر آپ کی دعوت نے ان کے فرار میں اضافہ کے سوا کچھ نہ کیا (فنجینہ ومن معہ فی الفلک) ” پس ہم نے حکم دیا تھا کہ وہ اسے ماری آنکھوں کے سامنے بنائین جب تنور سے پانی ابل پڑا تو ہم نے انہیں حکم دیا ؛ (احمل فیھامن کل زوجین اثنین واھلک الا من سبق علیہ القول ومن امن) (ھود :40/11) ” اور ہم نے نوح کو ایک ایسی کشتی میں سوار کیا جو تختوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی۔ “ جو ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔ (وجعلنھم خلئف) ” اور ہم نے انہیں خلیفہ بنایا “ یعنی جھٹلانے والوں کو ہلا کرنے کے بعد ہم نے انہیں زمین میں جانشین بنایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل میں برکت ڈالی اور ان کی نسل ہی کو باقی رکھا اور ان کو زمین کے کناروں تک پھیلا دیا۔ (واغرقنا الذین کذبو بایتنا) ” اور ہم نے ان کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا “ یعنی جنہوں نے واضح کردینے اور دلیل قائم کردینے کے بعد بھی ہماری آیات کی تکذیب کی (فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین) ” پس دکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا۔ “ ان کا انجام رسوا کن ہلاکت تھی اور مسلسل لعنت تھی جو ہر زمانے میں ان کا پیچھا کرتی رہی ‘ آپ ان کے بارے میں صرف حرف ملامت ہی سنیں گے اور ان کے بارے میں برائی اور مذمت کے سوا کچھ نہیں دیکھیں گے۔۔۔۔۔ پس ان جھٹلانے والوں کو اس عذاب سے ڈرنا چاہیے جو انبیاء و رسل کو جھٹلانے والی ان قوموں پر ہلاکت انگیز اور رسوا کن عذاب نازل ہوا تھا۔
Ayah 10:74آیت : (74)
(ثم بعثنا من بعدہ) ” پھر بھیجے ہم نے اس کے بعد “ یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد (رسلا الی قومھم) ” کئی پیغمبران کی قوموں کی طرف “ یعنی جھٹلانے والوں کی طرف ‘ جو ان کی ہدایت کی طرف بلاتے تھے اور انہیں ہلاکت کے اسباب سے ڈراتے تھے۔ (فجاء وھم بالبینت) ” پس وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے “ یعنی ہر نبی نے اپنی دعوت کی تائید میں ایسے دلائل پیش کئے ‘ جو انکی دعوت کی صحت پر دلالت کرتے تھے۔
(فماکانو لیومنوا بما کذبو بہ من قبل) ” پس ان سے یہ نہ ہوا کہ وہ اس بات پر ایمان لے آئیں جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وقت سزا دی جبان کے پاس رسول آیا اور انہوں نے اس کی تکذیب میں جلدی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہوگیا۔ وہ اس سے قبل ایمان لانے پر متمکن تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ونقلب افدتھم وابسارھم کما لم یومنوا بہ اول مرۃ) (الانعام 110/6) ” ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے اور جس طرح وہ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے ‘ نشانیاں آنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ “ بنا بریں یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (کذلک نطبع علی قلوب المعتدین) ” اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں “ پسان کے دلوں میں کسی قسم کی بھلائی داخل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہی کیا بلکہ انہوں نے خود ہی حق کو ٹھکرا کر۔۔۔۔۔ جب حق ان کے پاس آیا اور اس کو اولین مرتبہ جھٹلا کر۔۔۔۔ اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
Ayahs 10:75–93آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘ کیونکہ عوام رؤسا کے تابع ہوتے ہیں (بایتنا) ” اپنی نشانیوں کے ساتھ “ ان کو ایسی آیات کے ساتھ مبعوث کیا جو اس چیز کی صداقت اور دلالت کرتی تھیں جنہیں یہ دونوں رسول لے کر آئے تھے ‘ یعنی توحید الٰہی اور غیر اللہ کی عبادت سے ممانعت۔ (فاستکبرو) ” پس انہوں نے تکبر کیا “ یعنی انہوں نے ان آیات کو دل میں مان لینے کے بعد ظلم کی بنا پر ان سے تکبر کیا (وکانوا قوما مجرمین) ” اور وہ گناہ گار لوگ تھے۔ “ یعنی جرم اور تکذیب کا ارتکاب ان کا وصف تھا۔
(فلما جاء ھم الحق من عندنا) ” پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا “ جو حق کی تمام انواع میں سب سے بڑٰ نوع ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کی عظمت کے سامنے سب سرا فگندہ ہوجاتے ہیں اور وہ ہے اللہ رب العلمین ‘ جو نعمتوں کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کا مربی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر حق آیا تو انہوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور قبول نہ کیا۔ (قالو ان ھذا لسحر مبین) ” اور کہا ‘ یہ تو کھلا جادو ہے “ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انہوں نے یہی کافی نہیں سمجھا کہ انہوں نے حق سے اعراض کیا اور اس کو رد کردیا۔۔۔۔ بلکہ انہوں نے اس حق کو سب سے بڑا باطل ‘ یعنی جادو قرار دے دیا جس کی حقیقت صرف ملمع سازی ہے۔۔۔ بلکہ انہوں نے اسے کھلا جادو قرار دے دیا۔۔۔۔ حالانکہ وہ واضح حق ہے۔
اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے۔۔۔۔۔ ان کے حق ٹھکرانے پر کہ جسے لوگوں میں سب سے بڑا ظالم شخص ہی ٹھکراتا ہے۔۔۔۔۔ ان کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : (اتقو لون للحق لما جائکم) ” کیا تم یہ کہتے ہو حق کو ‘ جب وہ تمہارے پاس آیا “ یعنی کیا تم حق کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ کھلا جادو ہے (اسحر ھذا) ” کیا یہ جادو ہے ؟ “ یعنی اس کے اوصاف میں غور کرو کہ وہ کس چیز پر مشتمل ہے مجرود اسی کے ذریعے سے قطعی طور پر یقین ہوجاتا ہے کہ یہ حق ہے (ولا یفلح اسحرون) ” اور جادو گر فلاح نہیں پاتے “ یعنی جادو گر دنیا میں فلاح پاتے ہیں نہ آخرت میں۔ پس غور کرو کہ انجام کس کا اچھا ہے ‘ کس کے لئے فلاح ہے اور کس کے ہاتھ پر کامیابی ہے۔ اس کے بعد انہیں معلوم ہوگیا اور ہر ایک پر عیاں ہوگیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے جنہوں نے فلاح پائی اور دنیا و آخرت میں ظفر یاب ہوئے۔ (قالوا) انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا : (اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ اباء نا) ” کیا تم ہمارے پاس اس لئے آٗے ہو ‘ تاکہ تم ہمیں اس دین سے روک دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ “ مثلاً شرک اور غیر اللہ کی عبادت وغیرہ اور تم ہمین حکم دیتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں چناچہ انہوں نے اپنے گمراہ باپ دادا کے قول کو حجت بنا لیا جس کی بنیاد پر انہوں نے اس حق کو ٹھکرا دیا جسے موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ (وتکون لکما البیریاء فی الارض) ” اور اس ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے “ یعنی تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو تاکہ تم سردار بن جاؤ اور تم ہمیں ہماری زمینوں سے نکال باہر کرو۔ یہ ان کی طرف سے خلافت حقیقت بات اور جہالت کی حوصلہ افزائی ہے۔ نیز ان کا مقصد عوام کو موسیٰ (علیہ السلام) کی عداوت پر ابھارنا اور ان پر ایمان لانے سے گریز کرنا ہے۔
جو شخص حقائق کو سمجھتا اور معاملات کی خامی اور خوبی میں امتیاز کرسکتا ہے وہ ان کی اس بات کو قابل حجت اور قابل اعتنا خیال نہیں کرتا ‘ کیونکہ دلائل کا رد دلائل اور براہیں ہی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے ‘ لیکن جو شخص حق پیش کرتا ہے اور اس کی بات کو اس قسم کے اقوال سے رد کردیا جائے ‘ تو یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رد کرنے والا ایسی دلیل لانے سے عاجز ہے جو مد مقابل کے قول کو رد کر دے ‘ کیونکہ اگر اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ ضرور پیش کرتا اور انے مد مقابل کو یہ نہ کہتا ” تیرا مقصد یہ ہے “ اور ” تیری مراد وہ ہے “ خواہ وہ اپنے مد مقابل کے مقصد اور مراد کے بارے میں خبر دینے میں سچا ہے یا جھوٹا۔۔۔۔۔۔ تاہم اس کے باوجود جو کوئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے احولا اور ان کی دعوت کی معرفت رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد زمین میں تغلب نہ تھا۔ ان کا مقصد تو وہی تھا جو دیگر انبیاء ومرسلین کا تھا۔۔۔۔۔۔ یعنی مخلوق کی ہدایت اور ان کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرنا جو ان کے لئے فائدہ مند ہیں۔ حقیقت دراصل یہ ہے جیسا کہ خود انہوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا (وما نحن لکما بمومنین) ” ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے “ یعنی انہوں نے تکبر اور عناد کی وجہ سے یہ کہا تھا ” ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ “ اور اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ جناب موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) نے جو دعوت پیش کی تھی وہ باطل تھی اور اس کی وجہ یہ بھی نہ تھی کہ اس میں یا اس کے معانی وغیرہ میں کوئی اشتباہ تھا۔ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم وتعدی اور ارادہ تغلب کے سوا کچھ نہ تھا جس کا الزام وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر لگا رہے تھے۔
(وقال فرعون) ” اور فرعون نے کہا “ یعنی فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت ‘ اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لئے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا : (ائتونی بکل سحر علیم) ” سب ماہر فن جادو گروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔ “ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادو گر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ‘ تاکہ وہ مختلف قسم کے جادو گروں کو اس کے پاس لے آئیں۔
(فلما جاء السحرۃ) ” پس جب جادو گر آئے “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کے لئے (قال لھم موسیٰ القوا ما انتم ملقون) ” تو ان سے موسیٰ نے کہا ‘ ڈالو جو تم ڈلاتے ہو۔ “ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمہارے لئے کچھ مقرر نہیں کروں گا۔۔۔۔ اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان پر غالب آنے کا پوریٰ یقین تھا ‘ اس لئے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کو کان سا کرتب دکھاتے ہیں۔
(فلما القوا) ” پس جب انہوں نے ڈالا “ یعنی جب انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ‘ تو یوں لگا جیسے دوڑتے ہوئے سانپ ہوں۔ (قال موسیٰ ماجئتم بہ السحر) ” موسیٰ نے کہا جو تم نے پیش کیا ہے ‘ وہ جادو ہے “ یعنی یہ بہت بڑا اور حقیقی جادو ہے۔ مگر اس جادو کے بڑ ہونے کے باوجود (ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین) ” اللہ اسے باطل کرے دے گا ‘ یقیناً اللہ شریروں کے کام کو نہیں سنوارتا۔ “ کیونکہ وہ اس کے ذریعے سے حق کے خلاف باطل کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس سے بڑا اور کون سا فساد ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح ہر مفسد جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی چال چلتا ہے یا حق کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے ‘ تو اس کا عمل باطل ہو کر زائل ہوجاتا ہے ہرچند کہ کسی وقت مفسد کا عمل رائج ہوجاتا ہے مگر مآل کار اسے مٹنا اور زائل ہونا ہے۔ رہے اصلاح کار ‘ تو ان کے اعمال میں ان کا مقصد ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اعمال و وسائل فائدہ مند ہیں اور ان اعمال کا ان کو حکم دیا گیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی اصلاح کرتا ہیا اور ان میں ترقی عطا کرتا ہے اور ان کو ہمیشہ نشونما دیتا رہتا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کے باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ (ویحق اللہ الحق بکلمتہ ولو کرہ المجرمون) ” اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے ‘ اگرچہ گناہ گاروں کو ناگوار ہو “ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے سر اطاعت خم کردیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور اپنے تمام ایمان میں ثابت قدم رہے۔
رہا فرعون ‘ اس کے اشراف قوم اور اس کے متبعین ‘ تو ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا ‘ بلکہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فما امن لموسیٰ الا ذریۃ من قومہ) ” پس نہیں ایمان لایا موسیٰ پر ‘ مگر کچھ لڑخے اس کی قوم کے “ یعنی بنی اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لے آئے ‘ جنہوں نے دلوں میں ایمان کے جاگزیں ہوجانے کی وجہ سے خوف کے مقابل میں صبر سے کام لیا۔ (علی خوف من فرعون وملاءھم ان یفتنھم) ” فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو آزمائش میں نہ ڈال دیں “ یعنی ان کے دین کے معاملے میں (وان فرعون لعال فی الارض) ” اور بیشک فرعون ملک میں متکبر و متغلب تھا “ یعنی زمین میں فرعون کو غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اس لئے وہ اس کی گرفت سے سخت خائف تھے۔ (و) ” اور “ خاص طور پر (انہ لمن المسرفین) ” وہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔ “ یعنی ظلم اور تعدی میں حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے نوجوانوں کے ایمان لانے میں حکمت یہ ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔۔ کہ حق کو نوجوان زیادہ قبول کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں زیادہ سرعت سے آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس بوڑھے جنہوں نے کفر میں پرورش پائی ہوتی ہے ‘ ان کے دلون میں چونکہ عقائد فاسد راسخ ہوتے ہیں ‘ اس وجہ سے وہ ‘ دوسروں کی نسبت حق سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔
(وقال موسیٰ ) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں ‘ کہا : (یقوم ان کنتم امنتم باللہ) ” اے میری قوم : اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر “ تو وظیفہء ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ (فعلیۃ توکلوا ان کنتم مسلمین) ” تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو ‘ اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ (فقالوا) انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا : (علی اللہ توکلنا ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظل میں) ” ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا ‘ اے ہمارے رب ‘ ہمٰن ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا ‘ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آ کر ہمیں آزمائش میں ڈالی اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔ (ونجنا برحمتک من القوم الکفرین) ” اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما۔ “ تاکہ ہم ان کے شر سے محفوظ ہوسکیں اور اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے شرعی احکام کو قائم اور بغیر کسی مخالفت اور نزاع کے ان کا اظہار کرسکیں۔
(واوحینا الی موسیٰ واخیہ) ” اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی “ جب فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ معاملہ بہت سخت ہوگیا اور انہوں نے چالا کہ وہ ان کو ان کے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالیں ‘ (ان تبوا لقومکما بمصر بیوتا) ” کہ تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر بناؤ “ یعنی تم اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ مسر میں اپنے لئے کچھ گھر مقرر کرلیں جہان وہ چھپ سکیں۔ (واجعلوا بیوتکم قبلۃ) ” اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ “ یعنی جب تم کنیسوں اور عام عبادت گاہوں میں نماز ادا نہ کرسکو تو گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ (واقیموا الصلوۃ) ” اور نماز قائم کرو “ کیونکہ نماز تمام معاملات میں مدد کرتی ہے۔ (وبشر المومنین) ” اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو ۔ “ یعنی اہل ایمان کو نصرت و تائید اور غلبہء دین کی خوشخبری سنا دیجئے ‘ کیونکہ تنگی کے ساتھ کئی آسانیاں ہوتی ہیں اور یقیناً تنگی کے ساتھ کئی آسانیاں ہوتی ہیں۔ جب تکلیف بڑھ جاتی ہے اور معاملہ تنگ ہوجاتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ کردیتا ہے۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے سرداران سلطنت کی قساوت اور روگردانی کے رویے کا مشاہدہ کیا ‘ تو ان کے لئے بددعا کی اور ہارون (علیہ السلام) نے اس پر آمین کہی ‘ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی : (ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ) ” اے ہمارے رب ! بیشک دی ہے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت “ یعنی وہ مختلف انواع کے زیورات ‘ ملبوسات ‘ سجے ہوئے گھر ‘ اعلیٰ قسم کی سواریاں اور خدام وغیرہ ‘ دنیاوی آرائشوں کو اپنا لئے زینت بناتے ہیں۔ (واموالا) اور بڑے بڑے مال (فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک) ” دنیا کی زندگی میں ‘ اے ہمارے رب ‘ تاکہ تیرے راستے سے لوگوں کو بہکائیں “ یعنی وہ اپنے مال و دولت کو تیرے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ‘ خود گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ (ربنا اطمس علی اموالھم) ” اے ہمارے رب ! ان کے مال کو برباد کر دے “ یعنی ان کے مال و دولت کو ‘ تبالی کے ذریعے سے تلف کر دے یا اسے پتھر بنا دے جس سے یہ استفادہ نہ کرسکیں۔ (واشدد علی قلوبھم) ” اور ان کے دلوں کو سخت کر دے “ (فلا یومنوا حتیٰ یروالعذاب الالیم) ” پو سہ نہ ایمان لائیں ‘ یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔ “ یہ بددعا انہوں نے سخت غصے کی وجہ سے کی تھی ‘ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی تھی ‘ اللہ کے بندوں کو خراب کر کے ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا تھا ‘ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے رب کی کامل معرفت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر ایمان کا دروازہ بند کر کے ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا دے گا۔
(قال قد اجیبت دعوتکما) ” اللہ نے فرمایا تمہاری دعا قبول ہوئی “۔۔۔۔۔ آیت کریمہ میں ثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے ‘ وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ (فاستقیما) ” پس دونوں ثابت قدم رہنا “ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ (ولا تتبعن سبیل الذین لا یعلمون) ” اور بےعلم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔ “ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنہوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انہوں نے اس بات سے بھی آگاہ کردیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیئے جو اعلان کرتے ہوئے (ان ھولاء) ” یہ لوگ “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم (لشر ذمۃ قلیلون۔ وانھم لنا لغائظون۔ وانا لجمیع حذرون) (الشعاء : 54-56/26) ” ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بساز و سامان تیار ہیں۔ “ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر مع کر لئے اور اس نے انے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انہیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔
(وجوزنا ببنی اسرائیل البحر) ” اور پار کردیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے “ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ سمند پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمند پر اپنا عصا ماریں ‘ انہوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی ھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمند میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم مکمل طور پر سمند سے باہر آگئے اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے سمدر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کردیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا (امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل) ” میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے “ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وانا من المسلمین) ” اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے۔۔۔۔۔۔۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا۔۔۔۔۔ فرمایا : (الئن) ” اب “ یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے ؟ (وقد عصیت قبل) ” حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا “ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ (وکنت من المفسدین) ” اور تو شرارتیوں میں سے تھا “ پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادی الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں ‘ تو ان کا ایمان لانا انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا ‘ کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے ‘ جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔
(فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک ایۃ) ” پس آج ہم تیرے بدن کو بچائے دیتے ہیں ‘ تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لئے نشانی ہو “ مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دلوں پر فرعون کا رعب اور دہشت چھائی ہوئی تھی۔ گویا انہیں فرعون کے ڈوبنے کا یقین نہیں آرہا تھا اور اس بارے میں انہیں شک تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ فرعون کی لاش کو کسی بلند جگہ پر ڈال دے ‘ تاکہ وہ لوگوں کے لئے نشان عبرت بن جائے۔ (وان کثیرا من الناس عن ایتنا لغفلون) ” اور اکثر لوگ ہماری آیتوں سے بیخبر ہیں۔ “ بنا بریں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتکر اراں ان کے سامنے آتی ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے ‘ کیونکہ وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور وہ شخص جو عقل اور دل بیدار رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیت ان امور پر سے سے بڑی دلیل ہیں جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔
(ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوا صدق) ” اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی جگہ “ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون کے مسکنوں میں آباد کیا اور ان کو آل فرعون کی اراضی اور ان کے گھرون کا مالک بنادیا۔ (ورزقنھم من الطیبت) ” اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں “ مطعومات اور مشروبات وغیرہ (فما اختلفوا) ” پس ان میں پھوٹ نہیں پڑی “ یعنی حق کے بارے میں (حتیٰ جاء ءھم العلم) ” حتیٰ کہ ان کے پاس علم آگیا “ جو ان کے اتحاد و اجتماع کا موجب تھا مگر انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور تعدی سے کام لیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یوں ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی خواہشات اور اغراض کے پیچھے لگ گئے جو حق کے خلاف تھیں اور یون ان میں بہت زیادہ اختلاف واقع ہوگیا۔ (ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون) ” بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ‘ تمہارا رب قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا۔ “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت عدل سے جو علم کامل اور قدرت شاملہ سے جنم لیتی ہے ‘ قیامت کے روز ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔
یعنی وہ بیماری ہے ‘ جس سے دین صحیح کے پیروکاروں کو سابقہ پڑتا ہے۔ شیطان جب کلی طور پر بندوں کو اپنی اطاعت کروانے اور دین ترک کروانے سے عاجز آجاتا ہے ‘ تب وہ ان کے درمیان اختلافات ابھارتا ہے اور ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیا ہے اس طرح وہ ان میں اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو شیطان کا مقصد پورا کرنے کا موجب بنتے ہیں ‘ پھر ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے لگانے سے ایک دوسرے کے خلاف عداوت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز اس لعین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
وربہ جب ان کا رب ایک ہے ‘ ان کا رسول ایک ہے ‘ ان کا دین ایک ہے اور ان کے مصالح عامہ بھی متفق علیہ ہیں ‘ پھر کس لئے وہ ایسے اختلافات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں ‘ ان کے اتحاد کو پراگندہ کرتے ہیں ‘ ان کے نظم و ربط کی رسی کو کھول دیتے ہیں اور یوں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح فوت ہوجاتے ہیں اور اختلافات کے سبب سے دین کے بہت سے امور معدوم ہوجاتے ہیں۔
اے اللہ ! ہم تیرے مومن بندوں کے لئے تیرے لطف و کرم کا سوال کرتے ہیں ‘ جو ان کے بکھرے ہوئے امور کو مجتمع کر دے ‘ جو ان کے درمیان حائل خلیج کو پر کر دے ‘ جو ان کے دور اور نزدیک کے لوگوں کو اکٹھا کر دے۔۔۔۔۔ یا ذالجلال والاکرام :
Ayahs 10:94–95آیت : ( 94-95)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (فان کنتم فی شک مما انزلنا الیک) ” اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا “ کہ آیا یہ صحیح ہے یہ غیر صحیح ہے ؟ (فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک) ” تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں “ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھئے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور یہ وہ بھی اعتراف کریں گے کہ وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب ‘ یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے ‘ بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی ‘ آپ سے عناد رکھا اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب سے اپنی صداقت پر گواہی لیں اور ان کو گواہی کو اپنی دعوت پر حجت اور اپنی صداقت پر دلیل بنائیں ‘ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
(1) جب شہادت کی اضافت کسی گروہ ‘ کسی مذہب کے ماننے والوں یا کسی شہر کے لوگوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ان میں عادل اور سچے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ خواہ اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں ‘ ان کی شہادت معتبر نہیں ‘ کیونکہ شہادت ‘ عدالت اور صدق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ مقصد بہت سے ربانی احبار کے ایمان سے حاصل ہوگیا تھا ‘ مثلاً عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے اصحاب اور بہت سے دیگر اہل کتاب جو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے خلفاء کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں ایمان لاتے رہے۔
(2) رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر اہل کتاب کی شہادت در اصل ان کی کتاب تورات ‘ جس کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ‘ کے باین پر مبنی ہے جب تورات میں ایسا مواد موجود ہو جو قرآن کی موافقت اور اس کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی صحت کی شہادت دیتا ہو ‘ تب اگر اولین و آکرین تمام اہل کتاب اس کے انکار پر متفق ہوجائیں ‘ تو ان کا یہ انکار رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن میں قادح نہیں۔
(3) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ اپنے لائے ہوئے قرآن کی صداقت پر اہل کتاب سے استشہاد کریں اور ظاہر ہے کہ یہ حکم علی الاعلان دیا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل کتاب میں بہت سے لوگ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ابطال کے بڑے حریص تھے۔ اگر ان کے پاس کوئی ایس مواد موجود ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو رد کرسکتا ‘ تو وہ ضرور اسے پیش کرتے ‘ چونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی اس لئے دشمنوں کا عدم جواب اور مستجیب کا اقرار اس قرآن اور صداقت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔
(4) اکثر اہل کتاب ایسے نہ تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کردیا ہو ‘ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کرلیا تھا اور انہوں نے اپنے اختیار سے آپ کی اطاعت کی ‘ کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو روئے زمین میں اکثر لوگ اہل کتاب تھے۔ اسلام پر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ شام ‘ مصر ‘ عراق اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے اکثر لوگ مسلمان ہوگئے ‘ یہ ممالک اہل کتاب کے مذہب کا گڑھ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کے پاس سرداریاں تھیں اور جنہوں نے اپنی سرداریوں کو حق پر ترجیح دی تھی ‘ نیز وہ لوگ باقی رہ گئے جنہوں نے ان سرداروں کی پیروی کی جو حقیقی طور پر نہیں ‘ بلکہ برائے نام اس دین کی طرف منسوب تھے ‘ مثلاً فرنگی ‘ جن کے دین کی حقیقت یہ ہے کہ دہریے ہیں اور تمام انبیاء ومرسلین کے مذاہب کے دائرے سے خارج ہیں اور صرف ملکی رواج کے طور پر اور اپنے باطل کے ملمع کی خاطر دین مسیح کی طرف منسوب ہیں۔ جیسا کہ ان کے حالات کی معرفت رکھنے والے جاتے ہیں۔
(لقد جاءک الحق) ” تحقیق آگیا آپ کے پاس حق “ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں (من ربک فلا تکونن من الممترین) ” آپ کے رب کی طرف سے ‘ پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں “ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (کتب انزل الیک فلا یکن فی صدرک حرج منہ) (الاعراف : 2/7) ” یہ کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے ‘ پس آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں آنی چاہیے۔ “
(ولا تکونن من الذین کذبوا بایت اللہ فتکون من الخسرین) ” اور آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ‘ پس آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ “ ان دونوں آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم کے بارے میں) دو چیزوں سے منع کیا ہے۔
1۔ قرآن مجید میں شک کرنا اور اس کے بارے میں جھگڑنا
2۔ اور اس سے بھی شدید تر چیز اس کی تکذیب کرنا ہے ‘ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی واضح آیات ہیں جن کو کسی لحاظ سے بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا اور تکذیب کا نتیجہ خسارہ ہے اور وہ ہے منافع کا بالکل معدوم ہونا اور یہ خسارہ دنیا و آخرت کے ثواب کے فوت ہونے اور دنیا و آخرت کے عذاب سے لاحق ہوتا ہے۔ کسی چیز سے روکنا دراصل اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔ تب قرآن کی تکذیب سے منع کرنا درحقیقت قرآن کی تصدیق کامل ‘ اس پر طمانیت قلب اور علم و عمل کے اعتبار سے اس کی طرف توجہ دینے کا نام ہے اور یوں بندہ مومن نفع کمانے والوں میں شامل ہوجاتا ہے جو جلیل ترین مقاصد ‘ بہترین خواہشات اور کامل ترین مناقب کے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اس خسارے کی نفی ہوجاتی ہے۔
Ayahs 10:96–97آیت : ( 96-97)
(ان الذین حقت علیھم کلمت ربک) ” جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پا چکا ہے۔ “ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ ‘ بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں ‘ تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہوچکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے ‘ تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیت و معجازات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘ بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلا کر ‘ جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر ‘ کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی اور اب وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد نام عذاب نہ دیکھ لیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حق یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے گا کہ وہ اب تک جس راستے پر چلتے رہے ہیں وہ گمراہی کا راستہ ہے اور جو چیز رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے مگر اس روز ان کا ایمان لانا انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس روز ظالموں کی معذرت کسی کام نہ آئے گی اور ان کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔ آیات و معجزات صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں جو دل رکھتے ہیں اور توجہ سے سنتے ہیں۔
Ayah 10:98آیت : (98)
(فلو لا کانت قریۃ) ” پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی “ یعنی جھٹلانے والی بستیوں میں سے ‘ (امنت) ” کہ وہ ایمان لائی “ جب انہوں نے عذاب دیکھا (فنفعھا) ایمانھا) ” پھر کام آیا ہو ان کو ان کا ایمان لانا “ یعنی ان تمام بستیوں میں سے کسی بستی کو عذاب دیکھ کرا یمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوا جیسا کہ فرعون کے ایمان لانے کے بارے میں گزشتہ صفحات میں قریب ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد گزر چکا ہے اور جیسے فرمایا : (فلما راوا با سنا قالوا امنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین۔ فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوابا سنا سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ) (المومن : 84-85/40) ” پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا ‘ تو کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ان کا ہم نے انکار کیا جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے ‘ لیکن ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کو ان کے ایمان لانے نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔ “ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : (حتی اذا جاء احد ھم الموت قال رب ارجعون۔ لعلی اعمل صالحا فیما ترکت کلا) (المومنون : 99-100/23) ” حتیٰ کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی ‘ تو وہ کہے گا اے میرے پروردگار ! مجھے دنیا میں پھر واپس بھیج دے شاید کہ میں جسے پیچھے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ‘ ہرگز نہیں ! “
اور اس میں حکمت ظاہر ہے کہ ایمان اضطراری حقیقی ایمان نہیں اگر اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو دور ہٹا لے جس سے مجبور ہو کر انہوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا ‘ تو وہ پھر کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ فرمایا : (الا قوم یونس لما امنوا کشفنا عنھم عزاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعنھم الی حین) ” سوائے یونس کی قوم کے ‘ جب وہ ایمان لائی ‘ (عذاب دیکھ لینے کے بعد) تو ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب اٹھا لیا دنیا کی زندگی میں اور ایک وقت تک ہم نے ان کو فائدہ پہنچایا “ پس حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم گزشتہ عموم سے مستثنیٰ ہے اس میں ضرور اللہ تعالیٰ ” عالم الغیب والشھادۃ “ کی حکت پوشیدہ ہے۔ جہاں تک پہنچنے اور اس کے ادراک سے ہمارا فہم قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وارسلنہ الی ماءۃ الف اویزیدون۔ فامنوا فمتعنھم الی حین) ّ الصافات : 139-148/37) ” اور یونس اللہ کے رسولوں میں سے تھا جب وہ (گھر سے) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوا ‘ اس وقت قرعہ ڈالا گیا تو اس نے زخ اٹھائی پس اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ قابل ملامت کام کرنے والوں میں سے تھا۔ پس اگر وہ اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتا تو قیام کے روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہتا ‘ پھر ہم نے اس کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر) اس حالت میں کھلے میدان میں ڈال دیا کہ وہ بیمار تھا اور اس پر کدو کی بیل لگا دی اور اس کو ایک لاکھ یا کچھ اوپر لوگوں کی طرف مبعوث کیا۔ پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ان کو ایک وقت مقرر تک فائدہ اٹھانے دیا۔ “
شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے علاوہ کوئی اور قوم ہوتی اور ان پر سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا تو وہ پھر اسی کام کا اعادہ کرتے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور رہا یونس (علیہ السلام) کی قوم کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں زیادہ جانتا تھا کہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں گے ‘ بلکہ وہ قائم رہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 10:99–100آیت : (99-100)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (ولو شاء ربک لا من من فی الارض کلھم جمیعا) ” اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے “ یعنی ان کے دلوں میں ایمان الہام کردیتا اور ان کے دلوں کو تقویٰ کے لئے درست کردیتا۔ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لائیں اور بعض لوگ کافر رہیں۔ (افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین) ” کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے ‘ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں “ یعنی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ یہ چیز غیر اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے۔ (ومان کان لنفس ان تو من الا باذن اللہ) ” اور کسی سے نہیں ہوسکتا کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت اور اس کے قدرتی و شرعی حکم سے۔ پس مخلوق میں سے جو اس کے قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے ‘ تو ایمان اس کے پاس پھلتا پھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو توفیق سے نوازتا اور اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ (ویجعل الرجس) ” اور ڈالتا ہے وہ گندگی “ یعنی شر و گمراہی (علی الذین لا یعقلون) ” ان لوگوں پر جو سوچتے نہیں “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی اور اس کے نصائح و مواعظ پر کان نہیں دھرتے۔
Ayahs 10:101–103آیت : ( 101-103)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمن میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ‘ ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بسیرت حاصل کریں۔ ان میں اہل ایمان کے لئے نشانیاں اور اہل ایقان کے لئے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محود ہے ‘ وہی صاحب جلال و اکرام و عظیم اسماء وصفات کا مالک ہے۔ (وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یومنون) ” اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں “ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیت الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
(فھل ینتطرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم) ” پس وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ “ یعنی یہ لوگ جو آیات الٰہی کے واضح ہوجانے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کو بھی اسی طرھ عذاب بھیج کر ہلا کردیا جائے ‘ جیسے ان کے پہلوں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ ان کے اعمال بھی وہی تھے جو ان کے اعمال ہیں اور سنت الٰہی اور الین و آکرین میں جاری وساری ہے۔ (قل فانتظرو وانی معکم من المنتظرین) ” کہہ دیجئے ! پس انتظار کرو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ “ عنقیرب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کا انجام اچھا ہے ‘ دنیا اور آخرت میں نجات کس کے لئے ہے اور یہ نجات صرف انبیاء ومرسلین اور ان کے پیروکاروں کے لئے ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ثم ننجی رسلنا والذین امنوا) ” پھر ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو (دنیا و آخرت کی تکالیف اور شدائد سے) نجات دیتے ہیں “ (کذلک حقا علینا) ” اسی طرح ہمارے ذمہ ہے “ یعنی ہم نے اپنے اور پر واجب ٹھہرایا ہے کہ (ننج المومنین) ” ایمان والوں کو نجات دیں گے۔ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ ‘ مومن بندوں میں جذبہء ایمان کی مقدار کے مطابق ‘ ان کا دفاع کرتا ہے اس سے انہیں تکلیف دہ امور سے نجات ملتی ہے۔
Ayahs 10:104–106آیت : ( 104-106)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین ‘ امام المتقین ‘ خیر الموقنین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (قل یایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی) ” کہہ دیجئے اے لوگو ! اگر تم میرے لائق ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو “ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں ‘ بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیں کو پکارتے ہو ‘ وہ سب باطل ہیں۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں۔ بنا بریں فرمایا : (فلا اعبد الذین تعبدون من دون اللہ) ” پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ “ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمہارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا ‘ کیونکہ یہ پیدا کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے۔ ‘ یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں ‘ ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاجا کرتی ہوں (ولکن اعبداللہ الذی یتو فکم) ” لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمہاری روحیں “ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ‘ وہی تمہیں موت دے گا ‘ پھر وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔۔۔۔ پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ‘ اس کے لئے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔
(وامرت ان اکون من المومنین) ” اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔ “ (وان اقم وجھک للدین حنیفا) ” اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر “ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیی کے لئے خالص کیجئے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجئے ‘ یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیئے۔ (ولا تکونن من المشرکین) ” اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ “ ان کا حال اکتیار کیجئے نہ ان کا ساتھ دیجئے۔ (ولا تدع من دون اللہ ما لا ینفعک ولا یضرک) ” اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان “ کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے ‘ مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان ‘ نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے (فان فعلت) ” اگر ایسا کرو گے “ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان (فانک اذا من الظلمین) ” تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ “ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوجا جنہوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا (ان الشرک لظلم عظیم) (لقمان : 13/31) ” بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے “ اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہوجاتا ہے ‘ تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟
Ayah 10:107آیت : ( 107)
یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عبادت کا مستحق ہے ‘ کیونکہ نفع و نقصان اسی کے قبضہء قدرت میں ہے۔ وہی عطا کرتا ہے وہی محروم کرتا ہے۔ جب کوئی تکلیف مثلاً فقر اور مرض وغیرہ لاحق ہوتا ہے (فلا کاشف لہ الا ہو) ” تو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا “ کیونکہ اگر تمام مخلوق اکٹھی ہو کر کوئی فائدہ پہنچانا چاہیے تو وہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے اور اگر تمام مخلوق اکٹھی ہو کر کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (وان یردک بخیر فلا راد لفضلہ) ” اور اگر وہ آپ کو کوئی بھلائی پہنچانا چاہے ‘ تو اس کے فضل کو کوئی پھیرنے والا نہیں “ یعنی مخلوق میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اس کے فضل و احسان کو روک سکے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ) (فاطر :2/35) ” اللہ لوگوں کے لئے اپنی رحمت کا جو دروازہ کھول دے تو اس کو کوئی بند نہیں کرسکتا اور جو دروازہ بند کر دے اس کے بعد اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔ “
(یصیب بہ من یشاء من عبادہ) ” وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ پہنچاتا ہے “ یعنی وہ مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ (وھو الغفور) اللہ تعالیٰ تمام لغزشوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندے کو مغفرت کے اسباب کی توفیق سے نوازتا ہے۔ بندہ جب ان اسباب پر عمل کرتا ہے تو اللہ اس کے تمام کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (الرحیم) جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اس کا جو دواحسان تمام موجودات تک پہنچتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز لمحہ بھر کے لئے بھی اس کے فضل و احسان سے بےنیاز نہیں رہ سکتی۔
جب بندہ قطعی دلیل کے ذریعے سے معلوم کرلے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے جو نعمتوں سے نوازتا ہے ‘ وہی تکالیف کو دور کرتا ہے ‘ وہی بھلائیاں عطا کرتا ہے ‘ وہی برائیوں اور تکالیف کو ہٹاتا ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی ایسی نہیں جس کے ہاتھ میں یہ چیزیں ہوں ‘ سوائے اس کے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ جاری فرما دے۔۔۔۔ تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور وہ ہستیاں ‘ جنہیں یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں ‘ سب باطل ہیں۔