10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 10:31–33

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے ؟ اور جاندار سے بےجان کون پیدا کرتا ہے ؟ اور (دنیا کے) کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں ؟

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

آیت : (31-33) (قل) یعنی ان کے تو حیدر بوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ (من یرزقکم من السماء والارض) ” کون ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے “ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ؟ (امن یملک السمع والابصار) ” یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا “ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا ‘ یہ مفضول پر فاضل کی فضیلت پر تنبیہ کے باب سے ہے ‘ نیز ان کے شرف اور فوائد کی بنا پر ان کا ذکر کیا۔ (ومن یخرج الحی من المیت) ” اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے “ مثلاً شجر و نباتات کی تمام اقسام کو دانے اور گٹھلی سے پیدا کیا ‘ مومن کو کافر سے جنم دیا اور پرندے کو انڈوں سے تخلیق کیا۔ (ویخرج المیت من الحی) ” اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے “ یعنی مذکورہ تمام چیزوں کے برعکس (ومن یدبر الامر) ” اور کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ “ یعنی کون ہے جو عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کرتا ہے ؟ اور اس میں تدابیر الہیہ کی تمام اقسام شامل ہیں۔ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں (فسیقولون اللہ) ” تو وہ کہیں گے ‘ اللہ “ کیونکہ وہ ان تمام امور کا اقرار کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مذکورہ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ (فقل) تو الزامی حجت کے طور پر ان سے کہہ دیجئے ! (افلا تتقون) ” پھر تم ڈرتے کیوں نہیں۔ “ کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ خالص اللہ واحدہ لاشریک کی عبادت کرتے اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بندگی کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکتے۔ (فذلکم) ” پس یہی “ یعنی وہ ہستی ‘ جس نے اپنے مذکورہ اوصاف بیان کیا۔ (اللہ ربکم) ” اللہ ہے ‘ تمہارا رب “ وہ معبود محمود ہے جو مختلف نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوقات کا مربی ہے۔ (الھق فماذا بعد الحق الا الضلل) ” اور وہ حق ہے ‘ پس حق کے سوائے گمراہی کے کیا ہے ؟ “ یعنی وہ تمہارا پروردگار برحق ہے ‘ حق کے بعد ‘ گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اکیلا ہی تمام کائنات کا خالق اور اس کی تدبیر کرتا ہے ‘ بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے عطا کی ہوئی ہے۔ تمام بھلائیاں وہی لاتا ہے اور تمام برائیوں کو وہی دور کرتا ہے ‘ وہ اسمائے حسنیٰ سے موسوم ‘ صفات کاملہ سے موصوف اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔ (فانی تصرفون) ” پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو “ یعنی جس ہستی کے یہ اوصاف ہیں اسے چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کی طرف کیوں کر پھیرے جا رہے ہو جن کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جو خود انی ذات کے لئے کسی نفع و نقصان ‘ موت وحیات اور زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ جن کا اقتدار میں کسی بھی لحاظ سے ذرہ بھر بھی حصہ اور شراکت نہیں۔ وہ اس کے پاس ‘ اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتیں۔ پس ہلاکت ہے اس کے لئے جو ایسوں کو شریک ٹھہراتا ہے اور برائی ہے اس کے لئے جو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے۔ یقیناً اپنے دین سے محروم ہونے کے بعد وہ اپنی عقلوں سے بھی محروم ہوگئے ‘ بلکہ وہ اپنی دنیا اور آخرت بھی کھو بیٹھے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا : (کذلک حقت کلمت ربک علی الذین فسقوا انھم لا یومنون) ” اسی طرح ثابت ہوگئی تیرے رب کی بات ان لوگوں پر جو نافرمان ہوئے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو واضح نشانات اور روشن دلائل دکھائے جن میں عقل مندوں کے لئے عبرت ‘ اہل تقویٰ کے لئے نصیحت اور جہانوں کے لئے ہدایت ہے۔
Ayahs 10:34–36

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

آیت : ( 34-36) اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بےبسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا ‘ جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ‘ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل ھل من شرکائکم من بیدوا الخلق) ” کہہ دیجئے ! کیا ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو “ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے ؟ (ثم یعیدہ) ” پھر اسے دوبارہ زندہ کرے “ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے ‘ یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کرسکتی ہو ‘ وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔ (قل اللہ یبدو الخلق ثم یعیدہ) ” کہہ دیجئے ! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بغٰر کسی شریک کی شراکت اور بغیر کسی عماون کی مدد کے تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے (فانی توفکون) ” پس کہاں پھرے جاتے ہو تم ؟ “ یعنی ھر اس ہستی کی عبادت سے منحرف ہو کر جو مخلوق کی ابتدا کرنے اور پھر اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے ‘ ایسی ہستیوں کی عباست کر رہے ہو جو کچھ تخلیق کرنے سے قاصر ‘ بلکہ خود مخلوق ہیں۔ (قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق) ” کہہ دیجئے ! کیا ہے تمہارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف رہنمائی کرے “ یعنی اپنے بیان اور رہنمائی یا اپنے الہام اور توفیق کے ذریعے سے ‘ حق کی طرف راہ نمائی کرسکتا ہو۔ (قل اللہ) ” کہہ دیجئے اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا (یھدی للحق) ” رہنمائی کرتا ہے حق کی طرف “ دلائل وبراہین اور الہام و توفیق کے ذریعے سے حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور راست ترین راستے پر گامزن ہونے میں مدد دیتا ہے۔ (افمن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی) ” کیا پس جو شخص راہ بتائے صحیح ‘ اس کی بات ماننی چاہیے ‘ یا اس کی جو آپ راہ نہ پائے ‘ مگر یہ کہ اس کو راہ بتلائی جائے۔ “ یعنی اپنے عدم علم اور گمراہی کے سبب سے اور اس سے مراد ان کے گھڑ ؁ ہوئے شریک ہیں جو کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں نہ خود ہدایت یافتہ ہیں ‘ سوائے اس کے کہ خود ان کی راہ نمائی کی جائے۔ (فما لکم کیف تحکمون) ” تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو۔ “ یعنی کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ہے کہ تم یہ باطل فیصلہ کرتے ہو اور اس حقیقت پر دلیل وبرہان کے ظاہر ہونے کے بعد کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی صحت کا حکم لگاتے ہو۔ جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ ان کے معبود ان باطل میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ‘ وہ معنوی اور فعلی اوصاف موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جائے ‘ بلکہ اس کے برعکس یہ معبودان باطل نقائص سے متصف ہیں جو ان کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہیں ‘ تب وہ کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ انہیں بھی معبود قرار دیتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے لئے اس کو خوش نما بنادینا شیطان کا کام ہے ‘ یہ قبیح ترین بہتان اور سب سے بڑی گمراہی ہے ‘ لیکن یہی اس کا دل پسند اعتقاد بن گیا ہے اور وہ اسی کو حق سمجھتا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (وما یتبع اکثرھم) ” اور نہیں پیروی کرتے ان کے اکر لوگ “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنے گھڑے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں (الا ظنا) ” مگر گمان کی۔ “ یعنی وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کے شریکوں کو نہیں کارتے ‘ کیونکہ اصل میں عقلاً و نقلاً اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ‘ یہ لوگ محض اپنے ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں (ان الظن لا یغنی من الحق شیئا) ” اور بیشک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا ‘ پس انہوں نے ان کو معبود کے نام سیموسوم کردیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی عبادات بھی کرنے لگے (ان ھی الا اسماء سمیتموھا انتھم و اباؤکم ما انزل اللہ بھا من سلطن) (النجم : 23/53) ” وہ تو صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے گھڑ لئے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ “ (ان اللہ علیم بما یفعلون) ” بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ان کے افعال کو خوب جانتا ہے اور وہ ان افعال پر انہیں سخت سزا دے گا۔
Ayahs 10:37–41

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

آیت : (37-41) (وما کان ھذا الرآن ان یفتری من دون اللہ) ” اور نہیں ہے یہ قرآن کہ اسے گھڑ یلا جائے اللہ کے ورے ورے ہی “ یعنی یہ غیر ممکن اور غیر متصور ہے کہ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ پر گھڑ لیا گیا ہو کیونکہ یہ عظیم کتاب ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا : (لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید) (حتم السجدۃ : 43/41) ” باطل کا دخل اس میں آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے ‘ یہ دانا اور قابل ستائش ہستی کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔ “ یہ ایسی کتاب ہے (لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یا توا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) (بنی اسرائیل : 88/17) ” اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھے ہوجائیں کہ وہ اس قرآن جیسی کوئی کتاب بنا کر لائیں تو اس جیسے کوئی کتاب نہ لاسکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔ “ یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعے سے جہانوں کے پروردگار نے بندوں کے ساتھ کلام کیا ‘ تب مخلوق میں سے کوئی ہستی اس جیسے کلام یا اس کے قریب قریب کلام پر کیوں کر قادر ہوسکتی ہے۔ حالانکہ کلام متکلم کی عظمت اور اس کے اوصاف کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہستی اپنی عظمت اور اپنے اوصاف کمال میں اللہ تعالیٰ جیسی ہوسکتی ہے ‘ تو اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائے۔ اگر ہم فض کرلیں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ پر کتاب گھڑ لی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور فوری سزا دیتا۔ (ولکن) مگر اللہ تعالیٰ نے کائنات پر بےپایاں رحمت اور تمام بندوں پر حجت کے طور پر اس کتاب کو نازل فرمایا (تصدیق الذین بین یدیہ) ” تصدیق کرتی ہے پہلے کلام کی “ یعنی آسمانی کتابیں جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں ان کی تصدیق ہے ‘ یہ کتاب ان کی موافقت اور ان کی شہادت کی بنا پر ان کی تصدیق کرتی ہے ‘ ان کتابوں نے اس کے نازل ہونے کی خوشخبری سنائی تھی اور پھر اسی طرح ہوا جس طرح ان کتب الیہہ نے خبر دی تھی۔ (و تفصیل الکتاب) ” اور کتاب کی تفصیل ہے۔ “ یعنی اس میں حلال و حرام ‘ احکام دینیہ ‘ احکام قدریہ اور اخبار صادقہ کی تفصیل ہے۔ (لاریب فیہ من رب العلمین) ” اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔ “ یعنی کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘ بلکہ یہ یقینی حق ہے اور جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی پرورش اور اس کی تربیت کی۔ سب سے بڑی تربیت کی قسم یہ ہے کہ اس نے ان پر یہ کتاب نازل فرمائی جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح پر مبنی اور مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق پر مشتمل ہے۔ (ام یقولون) ” کیا یہ کہتے ہیں ؟ “ یعنی اس کتبا کی تکذیب کرنے والے عناد اور تعدی کی بنا پر کہتے ہیں : (افترہ) ” اس نے خود اسے بنا لیا ہے “ یعنی محمد ﷺ نے اس کو تصنیف کیا ہے۔ (قل) ” کہہ دیجئے “ یعنی ان پر اس کو لازم کرتے ہوئے کہ وہ جس کا دعویٰ کرتے ہیں اگر اس پر قدرت رکھتے ہیں تو وہ (اس جیسی کتاب) لے آئیں ورنہ ان کی بات باطل ہے۔ (وادعو من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین) ’ اور بلا لو ‘ جس کو تم بلا سکو اللہ کے سوا ‘ اگر تم سچے ہو “ یعنی جو اس جیسی سورت بنا لانے میں تمہاری مدد کرے اور یہ محال ہے اگر ایسا کرنا ممکن ہوتا تو ضرور اس پر قدرت رکھنے کا دعویٰ کرتے اور اس جیسی کتاب لا دکھاتے۔ مگر چونکہ ان کی بےبسی ظاہر ہوگئی ہے اس لئے ان کا قول باطل ہوگیا جو کہ دلیل سے محروم ہے۔ وہ چیز جس نے ان کو قرآن ‘ جو حق پر مشتمل ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی حق نہیں ‘ کی تکذیب پر آمادہ کیا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ وہ اس کا علم نہیں رکتے۔ اگر وہ اس کا علم رکھتے ہوتے اور اگر انہوں نے اس کو سمجھ لیا ہوتا جیسا کہ سمجھنے کا حق ہے ‘ تو وہ ضرور اس کی حقانیت کی تصدیق کرتے۔ اسی طرح اب تک ان کے پاس ان کے ساتھ کئے ہوئے اس وعدے کی حقیقیت ‘ کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرے گا اور ان کو سزا دے گا ‘ نہیں آٗی۔ اور یہ تکذیب جو ان کی طرف سے صادر ہوئی ہے ان سے پہلے لوگوں کی طرف سے صادر ہونے والی تکذیب کی جنس سے ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (کذلک کذاب الذین من قبلھم فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین) ” اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے ‘ پس دیکھو ‘ کیسا انجام ظالموں کا “ اس سے مراد وہ عذاب ہے جس نے ان میں سیکوی کو باقی نہ چھوڑا ‘ لہٰذا ان لوگوں کو تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ کہیں ان پر بھی وہ عذابنازل ہوجائے جو انبیاء و رسل کو جھٹلانے والی اور ہلاک ہونے والی قوموں پر نازل ہوا۔ یہ آیت کریمہ تمام امور میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور اس سے یہ راہ نمائی بھی حاصل ہوتی ہے کہ انسان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی چیز کے بارے میں پوری حقیقت حال معلوم کئے بغیر اسے قبول یارد کر دے۔ (ومنھم من یومن بہ) ” اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے “ یعنی قرآن کریم اور اس کی لائی ہوئی تعلیم پر ایمان رکھتے ہیں (ومنھم من لایومن بہ وربک اعلم بالمفسدین) ” اور بعض وہ ہیں جو اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتے اور آپ کا رب شرارت کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ “ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے ظلم ‘ عناد اور فساد کی بنا پر قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کے فساد کی پاداش میں انہیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ (وان کذبوک) ” اگر وہ آ کو جھٹلاتے ہیں “ تو آپ ان کو اپنی دعوت پہنچاتے رہئے ‘ ان کے حساب میں سے کچھ بھی آپ کے ذمے نہیں اور نہ آپ کا حساب ان کے ذمے ہے ‘ ہر شخص کا عمل اسی کے لئے ہے۔ فرمایا : (فقل لی عملی ولکم عملکم انتم بریون مما اعمل وانا بری مما تعملون) ” آپ کہہ دیجئے ! میرے واسطے میرا عمل ہے اور تمہارے واسطے تمہارا عمل ‘ تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عملوں سے بری ہوں “ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے (من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا) (حم السجدہ : 46/41) ” جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے ‘ جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی پر ہے۔ “
Ayahs 10:42–44

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

آیت : (42-44) اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے رسول ﷺ کی اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کیت کذیب کی ‘ چناچہ فرمایا : (ومنھم من یستمعون) ” اور انمیں سے بعض کان لگاتے ہیں آپ کی طرف “ یعنی وحی کی قراءت کے وقت نبی کریم ﷺ کو غور سے سنتے ہیں ‘ رشد و ہدایت کے حصول کی خاطر نہیں ‘ بلکہ تکذٰب اور کمزوریاں تلاش کرنے کے لئے سنتے ہیں اور اس طرح کا سننا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور سننے والے کو کوئی بھلائی عطا نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پس توفیق کا دروازہ بند ہوگیا اور وہ سننے کے فائدے سے محروم ہوگئے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (افانت شمع الصم ولو کانو الا یعقلون) ” کیا آُ بہروں کو سنائیں گے ‘ اگرچہ وہ سمجھ نہ رکتھ ہوں “ یہ استفہام بمعنی نفی متقرر (استفہام انکاری) ہے ‘ یعنی آپ بہروں کو نہیں سنا سکتے جو بات کو غور سے نہیں سنتے خواہ آپ بآواز بلند کیوں نہ سنوائیں خاص طور پر جب کہ وہ عقل سے محروم ہوں۔ جب بہرے کو سنوانا محال ہے جو کلام کو سمجھنے سے قاصر ہے ‘ تب یہ تکذیب کرنے والے بھی اسی طرح سننے سے قاصر ہیں آپ ان کو بھی نہیں سنوا سکتے جس سے یہ نفع اٹھا سکیں۔ رہا سماع حجت ‘ تو انہوں نے اتنا ضرور سن لیا جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کیحجت بالغہ قائم ہو۔ سماعت حصول کے راستے میں سے ایک بہر بڑا راستہ ہے جو ان پر مسدود ہوچکا ہے اور یہ بھلائی سے متعلق مسموعات ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسرے راستے کو مسدودہونے کا ذکر فرمایا ہے اور وہ ہے نظر کا راستہ ‘ چناچہ فرمایا (ومنھم من ینظر الیک) ” اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ “ اور ان کا آپ کی طرف دیکھنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ آپ کو کوئی راحت دے سکتا ہے۔ پس جس طرح آپ اندھوں کو راہ نہیں دکھا سکتے جو بصارت سے محروم ہیں اسی طرح آپ بہروں کی بھی راہ نمائی نہیں کرسکتے۔ جب ان کی عقل ‘ سمعت اور بصارت ‘ جو حصول علم اور معرفت حقائق کا ذریعہ ہیں ‘ خرابی کا شکار ہوجائیں تب ان کے لئے حق تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے ؟ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد : (ومنھم من ینظر الیک) دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے احوال ‘ آپ کے طریقوں ‘ آپ کے اخلاق اور آپ کے اعمال کو دیکھنا آپ اور آپ کی دعوت کی صداقت پر دلیل مہیا کرتا ہے اور یہ نظر ‘ صاحب بصیرت کو دیگر دلائل سے مستغنی کردیتی ہے۔ (اناللہ لا یظلم الناس شیا) ” للہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا “ پس وہ لوگوں کی برائیوں کو بڑھاتا ہے ‘ نہ نیکیوں میں کمی کرتا ہے۔ (ولکن الناس انفسھم یظلمون) ” لیکن لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ “ ان کے پاس حق آتا ہے مگر یہ اسے بول نہیں کرتے ہیں ‘ تب اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان کے دلوں ‘ ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دیتا ہے۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہ تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔

آیت : (45) اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا نہایت سرعت سے ختم ہوجانے والی ہے اور اللہ تعالیٰ جس روز تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا ‘ جس میں کوئی شک نہیں ‘ تو ان کو یوں لگے گا گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی ٹھہرے ہیں اور ان پر کسی نعمت یا تکلیف کے دن نہیں گزرے۔ وہ ایک دوسرے سے اس طرح متعارف ہوں گے جس طرح وہ دنیا میں متعارف تھے۔ اس روز متقی لوگ فائدے میں رہیں گے اور وہ لوگ نقصان اٹھائی گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو جھٹلایا ‘ وہ راہ راست پر گامزن ہوئے نہ دین قویم پر چلے ‘ کیونکہ وہ نعمتوں سے محروم ہوں گے اور جہنم کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

آیت : (46) اے رسول ! ان جھٹلانے والوں کے بارے میں غمزدہ نہ ہوں اور نہ ان کے بارے میں عجلت سے کام لیں ‘ کیونکہ وہ عذاب ان پر ضرور نازل ہوگا جس کا ہم ان کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں ‘ تو یہ عذاب دنیا میں نازل ہوگا اور آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور آپ کا دل ٹھنڈا ہوگا یا ان کے منے کے بعد انہیں آخرت میں اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا ‘ انہیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ فرماے گا اس نے ان کے اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ انہوں نے فراموش کردیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے لئے سخت وعید ہے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے جن کو ان کو قوم نے جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا۔
Ayahs 10:47–49

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب ؟

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لئے (موت) کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

آیت : (47-49) (ولکل امۃ) ” ہر امت کے لئے “ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے (رسول) ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ (فاذا جاء رسولھم) ” پس جب ان کا رسول آتا۔ “ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ‘ اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا۔ (وھم لا یظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا “ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا ‘ اس لئے آپ کو جھٹلانے والے گزشتہ زمانوں میں ہلاک کی گئی قوموں کی مشابہت سے بچیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں یہ نہ سمجھیں کہ وہ دیر سے آئے گا اور پھر وہ یہ کہتے پھریں (متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) ” کب ہے یہ وعدہ ‘ اگر تم سچے ہو “ یہ ان کی طرف سے سخط ظلم کا رویہ ہے کہ وہ نبی ﷺ سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور لوگوں کے سامنے بیان کردینا ہے۔ رہا ان کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب کا نازل کرنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جب اس کی مدت معینہ اور حکمت الہیہ کے مطابق انکا وقت مقررہ آن پہنچے گا ‘ تو ان کے ساتھ ایک گھڑی کی تاخیر نہ کی جائے گی نہ تقدیم۔ اس لئے اس کی تکذیب کرنے والے جلدی مچانے سے بچیں ‘ کیونکہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عذاب جب نازل ہوتا ہے تو مجرموں کی قوم پر نازل ہونے سے اسے روکا نہیں جاسکتا۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :
Ayahs 10:50–52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے ؟

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا (تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ) (اس وقت کہا جائیگا کہ) اور اب (ایمان لائے) اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزا چکھو (اب تم انھیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دُنیا میں) کرتے رہے۔

آیت : (50-52) (قل ارئیتم ان اتکم عذابہ بیاتا) ” کہہ دیجئے ! بتلاؤ ‘ اگر تمہارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔ “ یعنی رات کے وقت سوتے میں۔ (اونھارا) ” یا دن کو “ یعنی تمہاری غفلت کے وقت (ماذا یستعجل منہ المجرمون) ” و وہ کیا چیز ہے جس کے لئے مجرمین جلدی کا مطالبہ کر رہے ہیں ؟ “ یعنی وہ کون سی بشارت ہے ‘ جس کے لئے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے ‘ جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں ؟ (اثم اذا ما وقع امنتم بہ) ” کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہوچکے گا ‘ تب اس پر تم ایمان لاؤ گے ؟ “ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس ھال میں جب کہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایمان لے آئیں ہیں ‘ عتاب اور زجرو توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا : (الئن) ” اب “ یعنی اب تم اس شدت اور سخت مشقت کی حالت میں ایمان لاتے ہو ؟ (وقد کنتم بہ تستعجلون) ” تم تو اس عذاب کے لئے بہت جلدی مچایا کرتے تھے۔ “ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وقوع عذاب سے قبل اگر وہ اسے منانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے اپنی ناراضی کو دور کردیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب واقع ہوجاتا ہے ‘ تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا ‘ جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا ‘ تو اس نے کہا : (امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ نبوا اسرائیل وانا من المسلمین) (یونس : 90/10) ” میں ایمان لایا کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی اس کے سامنے سراطاعت خم کردینے والوں میں سے ہوں۔ “ تو اس کو جواب دیا گیا : (الئن وقد عصیت قبل و کنت من المفسدین) (یونس : 91/10) ” اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور فساد کرنے ولوں میں سے تھا۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (فلکم یک ینفعھم ایمانھم لما راؤا باسنا سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ) (المومن : 85/40) ” پس جب وہ ہمارا عذاب دکھ لیں گے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہیں۔ “ اور یہاں فرمایا : (اثم اذا ما وقع امنتم بہ الئن) ” کیا جب وہ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟ (تو کہا جائے گا) اب تم “ (ایمان کا دعویٰ کرتے ہو ؟ ) (وقد کنتم بہ تستعجلون) ” اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ “ یہ ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائی اور یہ ہے وہ ‘ جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ (ثم قیل للذین ظلموا) ” پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا “ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا (ذوقوا عذاب الخلد) ” چکھو عذاب ہمیشگی کا “ یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے ‘ یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لئے دور نہ ہوگا (ھل تجزون الا بما کنتم یکسبون) ” اسی چیز کا بدلہ تمہیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے “ یعنی کفر ‘ تکذیب رسالت اور معاصی کی تمہیں جزا دی جا رہی ہے۔
Ayahs 10:53–56

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہ کرسکو گے۔

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے (اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

آیت : ( 54-56) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : (ویستنبولک) ” اور آپ سے دریافت کرتے ہیں۔ “ یہ مکذبین تحقیق و تبسین اور طلب ہدایت کے لئے نہیں ‘ بلکہ عناد و نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں (احق ھو) ” کیا آیا یہ سچ ہے ؟ “ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا۔ پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ (قل) ” کہہ دیجئے ! “ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجئے ! (ای وربی انہ لحق) ” قسم ہے میرے رب کی ‘ یہ یقیناً حق ہے “ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں (وما انتم بمعجزین) ” اور تم عاجز نہ کرسکو گے۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو دوبارہ اٹھانے سے عاجز اور بےبس نہیں کرسکتے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں تمہیں پیدا کیا ہے جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے اسی طرح وہ دوبارہ تمہیں پیدا کرسکتا ہے ‘ تاکہ وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے۔ (و) ” اور “ جب قیامت برپا ہوگی (لو ان لکل نفس ظلمت) اگر ہو ہر گناہ گار کے پاس جس نے کفر و معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا (ما فی الارض) ” جو کچھ زمین میں ہے “ یعنی زمین میں جو سونا چاندی وغیرہ ہے ‘ تو وہ سب کا سب اپنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے فدیہ میں دے دے۔ (لافتدت بہ) ” تو وہ ضرور فدیے میں دے دے۔ “ مگر یہ فدیہ دینا اس کے کسی کام نہ آئے گا ‘ کیونکہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب تو نیک اور برے اعمال پر منحصر ہے۔ (واسرو الندامۃ لما راو العذاب) ” اور چھپے چھپے پچھتائیں گے وہ جب دیکھیں گے “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا دل ہی دل میں انے اعمال پر پچھتائیں گے مگر اب رہائی کا کوئی وقت نہیں ہوگا۔ (وقضی بینھم بالقسط) ” اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔ “ یعنی کامل انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ جس میں کسی پہلو سے بھی ظلم و جور نہیں ہوگا۔ (الا ان للہ ما فی السموت والارض) ” خبردار ! اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ وہ ان کے درمیان حکم دینی اور حکم قدری کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور قیامت کے روز حکم جزائی کے مطابق فیصلہ کرے گا ‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الا ان وعد اللہ حق ولکن اکثرھم لا یعلمون) ” خبردار ‘ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ اسی لئے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے تیاری نہیں کرتے ‘ بلکہ بسا اوقات وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے ‘ حالانکہ نہایت تواتر کے ساتھ قطعی دلائل اور عقلی اور نقلی براہین اس ملاقات پر دلالت کرتے ہیں۔ (ھو یحی ویمیت) ” وہی جان بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ “ یعنی وہ زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے اور وہ ہر قسم کی تدبیر کرتا ہے اور تدبیر کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں (والیہ ترجعون) ” اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ “ قیامت کے روز ‘ پس وہ تمہیں تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
Ayahs 10:57–58

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

آیت : (57-58) اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کرم کے اوصاف حسنہ ‘ جو بندوں کے لئے ضروری ہیں ‘ بیان کر کے اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (یایھا الناس قد جائتکم موعظۃ من ربکم) ” اے لوگو ! تمہارے پاس تمہار تب کی طرف سے نصیحت آگئی “ یعنی وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمہیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کرکے تمہیں ان سے بچاتا ہے۔ (و شفاء لما فی صدور) ” اور شفا دلوں کے روگ کی “ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب ‘ مثلاً امراض شہوات ‘ جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات ‘ جو علم یقینی میں قادح ہیں۔۔۔۔ کے لئے شفا ہے۔ اس کتاب کریم کے اندر مواعظ ‘ ترغیب و ترہیب اور وعد و وعید کے جو مضامین ہیں وہ بندے کے لئے رغبت و رہبت کے موجب ہیں۔ جب آپ اس کتاب کریم میں بھلائی کی طرف رغبت ‘ برائی سے ڈر اور قرآن کے معانی میں بتکرار ایسا اسلونب پاتے ہیں ‘ تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے مراد کو نفس کی مراد پر مقدم رکھنے کی موجب بنتی ہے اور بندہ مومن کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی رضا شہوت نفس سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔ اسی طرح اس کے اندر جو دلائل براہین ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے ذکر کیا ہے اور انہیں بہترین سلوب میں بیان کیا ہے جو ایسے شبہات کو زائل کردیتا ہے جو حق میں قادح ہیں اور اس کے ذریعے سے قلب یقین کے بلند ترین مراب پر پہنچ جاتا ہے اور جب قلب اپنی بیماری سے صحت یاب ہوجاتا ہے اور وہ لباس عافیت کو زیب تن کرلیتا ہے ‘ تو جوارح اس کی پیروی کرتے ہیں اس لئے کہ جوارح ‘ دل کی درستی سے درست رہتے ہیں اگر دل فاسد ہوجاتا ہے تو جوارح بھی خرابی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ (وھدی ورحمۃ للمومنین) ” اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت۔ “ پس ہدایت ھق کے علم اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اور ” رحمت “ سے مراد وہ بھلائی ‘ اھسان اور دنیاوی و اخروی ثواب ہے جو ہدایت یافتہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہدایت جلیل ترین وسیلہ اور رھمت کامل ترین مقصود و مطلوب ہے۔ اس کی طرف صرف اہلامان ہی کو راہ نمائی طا ہوتی ہے اور اہل ایمان ہی رحمت سے نوازے جاتے ہیں۔ جب بندہ مومن کو ہدایت حاصل ہوتی ہے اور اسے ہدایت سے جنم لینے والی رحمت سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ سعادت ‘ فلاح ‘ نفع ‘ کامیابی ‘ فرحت اور سرور کے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمانکو خوش ہونے کا حکم دیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (قل بفضل اللہ) ” کہہ دیجئے ! اللہ کے فضل کے ساتھ “ فضل سے مراد قرآن ہے جو سب سے بڑی نعمت ‘ احسان اور اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑافضل ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ (وبرحمتہ) ” اور اس کی مہربانی کے ساتھ “ یعنی دین ‘ ایمان ‘ اللہ تعالیٰ کی عبادت ‘ اس کی محبت اور اس کی معرفت۔ (فئذلک فلیفر ھوا ھو خیر مما یجمعون) ” پس اس پر انہیں خوش ہونا چاہیے ‘ یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ “ یعنی دنیا کی متاع اور اس کی لذات سے بہتر ہے۔ دین کی نعمت ‘ جس سے دنیا ‘ آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مال و متاع کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دنیا کا مال و متاع تو عنقریب مضمحل ہو کر زائل ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فل و رحمت پر خوش ہونے کا صرف اس لئے حکم دیا ہے کہ یہ نفس کے انبساط ‘ نشاط ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے شکر ‘ اس کی قوت ‘ علم و ایمان میں شدید رغبت کا موجب اور علم و ایمان میں ازدیا کا داعی ہے۔ یہ فرحت اور خوشی محمود ہے۔ اس کے برعکس دنیا کی شہوات و لذات اور باطل پر خوش ہونا مذموم ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون کے بارے میں اس کی قوم کا قول نقل فرمایا ہے : (لا تفرخ ان اللہ لا یحب الفرحین) (القصص : 76/28) ” کوشی میں اتراؤ مت ! اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو اپنے اس باطل پر اتراتے تھے جو انبیاء و رسل کی لائی ہوئی وحی کے متناقض تھا۔ (فلما جائتھم رسلھم بالبینت فرحوا بما عند ھممن العلم) (المومن : 83/40) ” جب ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے ‘ تو (بزعم خود) جو علم ان کے پاس تھا اس کی بنا پر اترانے لگے۔ “
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال ' (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

آیت : (59-60) مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لئے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کئے تھے ‘ ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قل ارئیتم ما انزل اللہ لکم من رزق) ” کہہ دیجئے ‘ بھلا بتلاؤ اللہ نے تمہارے لئے جو روزی اتاری “ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذریعہ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ (فجعلتم منہ حراما و حلالا) ” پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال “ یعنی اس فاسد قول پر انکو زجرو توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجئے : (اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون) ” کیا اللہ نے تمکو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو ؟ “ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں۔ (وما ظن الذین یفترون علی اللہ لکذب یوم القیمۃ) ” اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن “ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ویوم القمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھھم مسودۃ) (الزممر : 60/39) ” اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ‘ آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔ “ (ان اللہ لذ وفضل علی الناس) ” بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ 0 ولکن اکثرھم لا یشکرون) ” لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ “ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی میں نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے نازل کیا۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

آیت : ( 61) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عمومی مشاہدہ کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ نیز وہ فرماتا ہے کہ وہ بندوں کے تمام احوال اور ان کی حرکات و سکنات سے آگاہ اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ انہین دائمی مراقبہ کی دعوت دیتا ہے۔ فرمایا : (وما تکون فی شان) ” اور تم جس حال میں ہوتے ہو “ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی احوال میں سے جس حال میں بھی ہوتے ہیں۔ (وما تتلو انہ من قرآن) ” یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو “ یعنی آپ قرآن میں سے جو کچھ تلاوت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا (ولا تعملون من عمل) ” اور جو بھی عمل آپ کرتے ہیں “ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا عمل۔ (الا لنا علیکم ھودا اذ تفیضون فیہ) ” مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں “ یعنی تمہارے کام شروع کرنے اور اس کام میں تمہارے استمرار کے وقت ‘ لہٰذا اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کو مد نظر رکھو اور تمام اعمال کو خیر خواہی اور خوب کوشش سے بجا لاؤ۔ جو امور اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ان اسے بچو ‘ کیونکہ الہ تعالیٰ تمہارے تمام باطنی اور ظاہری امور سے آگاہ ہے۔ (وما یعزب عن ربک) ” ور نہیں غائب رہتا آپ کے رب سے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم ‘ اس کے سمع و بصر اور اس کے مشاہدہ سے باہر نہیں۔ (من مثقال ذرۃ فی الارج ولا فی السماء ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین) ” ایک ذرہ بھر ‘ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا ‘ مگر وہ کھلی ہوئی کتاب میں ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس پر اس کا قلم جاری ہوچکا ہے۔ یہ دونوں مراتب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے مراتب ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اکثر ان کو مقرون بیان کیا ہے۔ 1۔ تمام اشیا کا احاطہ کرنے والا علم الٰہی۔ 2۔ تمام حوادثکا احاطہ کرنے والی تقدیر (کتاب) الٰہی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السماء والارض ان ذلک فی کتبان ذلک علی اللہ یسرا) (الحج : 70/22) ” یا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب کچھ کتاب یعنی لوح محفوظ پر لکھا ہوا ہے اور بیشک یہ سب کچھ اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ “
Ayahs 10:62–64

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

آیت : (62-64) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ان کے اعمال و اوصاف اور ان کا ثواب کا ذکر کرتا ہے ‘ چناچہ فرماتا ہے : (الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم) ” خبردار ! اللہ کے جو دوست ہیں ‘ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا “ یعنی قیامت کے روز میدان محشر میں جو خوفناک اور ہول ناک حالات ہوں گے ‘ وہاں انہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ (ولا ھم یحزنون) ” اور نہ و غمگین ہوں گے “ ان اعمال پر جو انہوں نے پہلے کئے ہوں گے ‘ کیونکہ انہوں نے اعمال صالحہ کے سوا کچھ نہیں کیا ہوگا۔ چونکہ انہیں کسی قسم کا خوف ہوگا نہ وہ غمزدہ ہوں گے ‘ اس لئے وہاں ان کے لئے امن وسعادت اور خیر کثیر ہوگا جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پس ہر وہ شخص جو مومن اور متقی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہے۔ اسی لئے فرمایا : (لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا و فی الارض) ” ان کے لئے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں “ دنیا کے اندر بشارت سے مراد ‘ ثنائے حسن ‘ مومنوں کے دلوں میں محبو و مودت ‘ سچے خواب ‘ بندہ مومن کا اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے بہرہ ور ہونا ‘ اللہ تالیٰ کا بہترین اعمال و اخلاق کے راستوں کو آسان کردینا اور بندے کو برے اخلاق سے دور کردینا اور آخرت کی بشارتوں میں اولین بشارت یہ ہے کہ روح قبض کئے جانے کے موقع پر ان کو بشارت دی جاتی ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنو و بشیروا بالجنۃ التی کنتھم توعدون) (حم السجدہ : 30/41) ” بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ‘ ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کونہ کرو اور نہ غم زدہ ہو اور جنت کی خبر سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ “ اور قبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی خوشخبری دی جائے گی اور قیامت کے روز نعمتوں بھری جنت میں دخول اور دردناک عذاب سے نجات کے ساتھ اس خوشخبری کا اتمام ہوگا۔ (لا تبدیل لکلمت اللہ) ” الہ کے کلمات بدلتے نہیں “ بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ حق ہے جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ‘ کیونکہ وہ انے قول میں سچا ہے اور اس کی مقر کی ہوئی قضا و قدر میں کوئی شخص اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ (ذلک ھوالفوز العظیم) ” یہی ہے بڑی کامیابی “ کیونکہ یہ تمام محذورات سے نجات اور ہر محبوب چیز کے حصول میں ظفریابی پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” فوز “ کو حصر کے ساتھ بیان کیا ہے ‘ کیونکہ فوز و فلاح اہل ایمان اور اہل تقویٰ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ بشارت ہر خیر وثواب کو شامل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ایمان اور تقویٰ پر مرتب فرمایا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس کو تقیید کے ساتھ نہیں ‘ بلکہ مطلق بیان کیا ہے۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

آیت : (65) یعنی جھٹلانے والوں کی باتوں میں سے کوئی بات ‘ جن کے ذریعے سے وہ آپ پر اور آپ کے دین پر نکتہ چینی کرتے ہیں ‘ آپ کو غم زدہ نہ کرے ‘ کیونکہ انکی یہ باتیں انکو عزت فراہم کرسکتی ہیں نہ آپ کو کوئی نقصان دے سکتی ہے۔ (ان العزۃ للہ جمیعا) ” بیشک عزت سب کی سب اللہ ہی کے لئے ہے “ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت سے محروم کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (من کان یرید العزۃ فللہ العزۃ جمیعا) (فاطر : 10/35) ” جو کوئی عزت کا طلب گار ہے تو عزت تمام تر اللہ کے لئے ہے۔ “ جسے عزت چاہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذیرعے سے اسے طلب کرے اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو اس کی تائید کرتا ہے (الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ) (فاطر : 10/35) ” پاک باتیں اسی کی طرف بلند ہوتی ہیں اور عمل صالح اس کو بلند کرتا ہے۔ “ یہ بات معلوم ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت صرف آپ اور آپ کے متعین کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ول العزۃ الرسولہ وللمومنین) ( المنافقون : 8/63) ” عزت تمام تر اللہ ‘ اس کے رسول اور اہل امان کے لئے ہے۔ “ (ھوالسمیع العلیم) ” وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ “ یعنی اس کی سماعت نے تمام اوازوں کا احاطہ کر رکھا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے اور اس کا علم تمام ظاہری اور باطنی چیزوں پر محیط ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ‘ کوئی چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر بھی چیز اس سے اوجھل نہیں۔ وہ آپ کی بات سنتا ہے اور آپ کے بارے میں آپ کے دشمنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور پوری تفصیل کا علم رکھتا ہے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے علم اور کفایت کو کافی سمجھئے۔ اس لئے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہے۔
Ayahs 10:66–67

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

آیت : (66-67) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اسی کی ملکیت ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے احکام کے ذریعے اس میں تصرف کرتا ہے۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی مملوک ‘ اس کے سامنے مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ تمام مخلوق عبادت کا کچھ بھی استحقاق نہیں رکھتی اور کسی بھی لحاظ سے مخلوق اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں بن سکتی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء ان یثبعون الا اظن) ” اور یہ جو پیچھے پڑے ہوئے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے ‘ سو یہ کچھ نہیں ‘ مگر پیری کرنے والے ہیں اپنے گمان کی “ یعنی وہ ظن اور گمان ‘ جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا بہتان و افترا سے کام لیتے ہیں۔ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے میں اگر وہ سچے ہیں ‘ تو ان کے وہ اوصاف سامنے لائیں جو ان کو ذرہ بھر عبادت کا مستحق قرار دیتے ہیں۔ وہ کبھی ایسا نہیں کرسکیں گے۔ کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جو کوئی چیز پیدا کرسکتا ہو ؟ یا وہ رزق عطا کرتا ہو ؟ یا وہ مخلوقات میں سے کسی چیز کا مالک ہو ؟ یا وہ گردس لیل و نہار کی تدبیر کرتا ہو ؟ جس نے اسے لوگوں کی روزی کا سبب بنایا ؟ (ھوالذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ) ” وہی اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو ‘ تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو “ تاکہ اس تاریکی کے سبب سے جو تمام روئے زمین کو ڈھانک لیتی ہے ‘ نیند اور راحت میں سکون پاؤ ‘ اگر سورج کی روشنی ہمیشہ برقرار رہتی تو انہیں قرار و سکون نہ ملتا۔ (والنھا رمبصرا) ” اور دن کو (بنایا) دکھلانے والا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے دن کو روشن بنایا ‘ تاکہ دن کی روشنی میں مخلوق دیکھ سکے ‘ لوگ اپنی معاش اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لئے چل پھر سکیں۔ (ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون) ” اس میں سننے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ “ جو سمجھنے ‘ قبول کرنے اور شدو ہدایت طلب کرنے کے لئے سنتے ہیں۔ عناد اور نکتہ چینی کے لئے نہیں سنتے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں اور ان نشانیوں سے استدلال کرتے ہیں کہ الہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود اور معبود برحق ہے اور اس کے سوا ہر ایک ہستی کی الوہیت باطل ہے اور یہ کہ وہی رؤف و رحیم اور علم و حکمت والا ہے۔
Ayahs 10:68–70

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

آیت : ( 68-70) اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کیبہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قالوا اتخذ اللہ ولدا) ” انہوں نے کہا ‘ ٹھہرالی ہے اللہ نے اولاد “ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : (سبحنۃ) ” وہ پاک ہے “ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلندو برتر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کئے ہیں : (1) (ھوالغنی) ” وہ بےنیاز ہے۔ “ یعنی عناد (بےنیازی) اسی میں منحصر ہے اور عناد کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو ‘ ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے نائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ کس لئے بیٹا بنائے گا ؟ کیس اس وجہ سے کہ وہ بیٹے کا محتاج ہے ؟ یہ تو اس کے عنا اور بےنیازی کے منافی ہے۔ کوئی شخص صرف اسپنے عناد میں نقص کی بنا پر بیٹا بناتا ہے۔ ؂(2) دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (لہ ما فی السموت وما فی الارض) ” جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ “ یہ عام اور جامع کلمہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات اس کی ملکیت سے خارج نہیں ‘ تمام موجودات اس کی مخلوق ‘ اس کے بندے اور مملوک ہیں اور یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ یہ وصف عام اس بات کے منافی ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو ‘ کیونکہ بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوگا جو مخلوق ہوگا نہ مملوک۔ پس آسمانوں اور زمین کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا ولادت (اولاد ہونے) کے منافی ہے۔ (3) تیسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (ان عند کم من سلطن بھذا) ” تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں “ یعنی تمہارے پاس تمہارے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۃ ے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ اسے ضرور پیش کرتے۔ جب انہیں دلیل پیش کرنے کے لئے کہا گیا اور وہ دلیل قائم کرنے سے عاجز آگئے ‘ تو ان کے دعوے کا بطلان ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کا قول بلا علم ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اتقولون علی اللہ مالا تعلمون) ’ کیا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگات ہو جو تم نہیں جانتے “ پس بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے۔ (قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون) ” کہہ دیجئے ! جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندتے ہیں ‘ وہ کامیاب نہیں ہوں گے “ یعنی وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل نہ کرسکیں گے ‘ وہ دنیاوی زندگی میں اپنے کفر اور جھوٹ کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں گے پھر لوٹ کر اللہ کے حضور حاضر ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزہ چکھائے گا۔ (وما ظلمھم اللہ ولکن انفسھم یظلمون) (آلعمران : 118/3) ” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ “