89. Surah Al-Fajr
الفجرThe Dawn · 30 ayahsتفسیر القرطبی
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader
اے اطمینان پانے والی روح !
ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader
اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader
تو میرے (ممتاز) بندوں میں داخل ہوجا
وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader
اور میری بہشت میں داخل ہوجا
یا ایتھا النفس المطمئنہ۔۔۔ تا۔۔ جنتی۔
جب اس آدمی کی حالت کا ذکر کیا جس کا مقصود دنیا تھی اس نے اللہ تعالیٰ پر غنی کرنے اور تنگی دینے پر تہمت لگائی تھی اب اس آدمی کی حالت کا ذکر ہے جس کا نفس اللہ تعالیٰ سے مطمئن تھا اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس پر بھروسہ کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے ایک قول ہے نفس مطمئنہ سے مراد سکون پانے والا اور یقین رکھنے والا نفس ہے، جس نے یقین کیا اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور اس کے سامنے تواضع کا اظہار کیا، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد وہ نفس ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب پر مطمئن ہے۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہے اس سے مراد نفس مومنہ ہے حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد ایمان اور یقین رکھنے والا نفس ہے، مجاہد نے کہا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی نفس ہے جو یہ جانتا ہے کہ جو چیز اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہے وہ اس کو کبھی بھی نہیں پائے گا اور جس کو اس نے پایا ہے وہ اس کو چھوڑنے والا نہیں تھا، مقاتل نے کہا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن پانے والا، حضرت ابی بن کعب کی قرات میں ہے یا ایھا النفس الآمنۃ المطمئنۃ۔ ایک قول یہ بھی کیا گیا ہے اس سے مراد وہ نفس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو وعدہ کیا اس پر یقین رکھتے ہوئے عمل کیا، ابن کیسان نے کہا، یہاں مطمئنہ سے مراد مخلص نفس ہے اس سے مراد نفس عارضہ ہے جو پلک جھپکنے کے برابر صبر نہیں کرسکتا، ایک قول یہ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوتا ہے اس کی وضاحت یوں ہے، الذین آمنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ۔ الرعد 28) جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوگئے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ایمان پر مطمئن اور دوبارہ اٹھائے جانے اور ثواب کی تصدیق کرنے والا۔
ابن زید نے کہا : وہ مطمئن ہیں کیونکہ موت کے وقت دوبارہ اٹھائے جانے اور محشر کے دن انہیں جنت کی بشارت دی جائے گی، حضرت عبداللہ بن بریدہ نے اپنے باپ سے روایت نقل کی کہ اس سے مراد حضرت حمزہ کا نفس ہے صحیح بات یہ ہے کہ ہر مومن، مخلص اور طاعت شعار نفس میں حکم عام ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ نے جب ارادہ کیا کہ وہ اپنے مومن بندے کی روح قبض کرے تو وہ نفس اللہ تعالیٰ سے مطمئن ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس نفس مطمئن ہوتا ہے، حضرت عمرو بن عاص نے کہا، جب مومن فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے اور ان دونوں کے ساتھ جنت سے تحفہ بھی بھیجتا ہے دونوں اسے کہتے ہیں، اے نفس مطمئنہ، راضیۃ مرضیہ، نکلو روح اور ایمان کی طرف نکلو اپنے رب کی طرف نکلو، جو تم سے راضی ہے نہ کہ تم سے ناراض ہے تو وہ کستوری کی پاکیزہ ترین خوشبو کے ساتھ نکلتا ہے جو کسی کی ناک نے روح زمین پر پائی تھی، حدیث کا ذکر کیا۔
سعید بن زید، نے کہا، ایک آدمی نے نبی کریم کی موجودگی میں یہ آیت پڑھی، یا ایتھا النفس المطمئنہ، حضرت ابوبکر نے عرض کی یارسول اللہ یہ کتنا اچھاکلام ہے ؟ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، فرشتہ تجھے یہی کہے گا، اے ابوبکر، حضرت سعید بن جبیر نے کہا، حضرت ابن عباس کا وصال طائف میں ہوا تو ایک ایسا پرندہ آیاجس شکل و صورت کا کبھی پرندہ نہیں دیکھا وہ آپ کے جنازہ میں داخل ہوگیا پھر اسے باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھا گیا جب آپ کو دفن کیا گیا توقبر کے کنارے اسی آیت کو تلاوت کیا گیا مگر یہ معلوم نہ تھا کہ کس نے اسے تلاوت کیا ہے۔ ضحاک نے یہ روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت عثمان بن عفا کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے بئر رومہ کو وقف کیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ حضرت خبیب بن عدی کے حق میں نازل ہوئی جنہیں اہل مکہ نے سولی پر لٹکادیا تھا انہوں نے آپ کا چہرہ مدینہ کی طرف کیا تو اللہ تعالیٰ نے چہرہ مکہ مکرمہ کی طرف کردیا۔ واللہ اعلم۔
الی ربک : سے مراد اپنے صاحب اور اپنے جسم کی طرف لوٹ جا، یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ، اور عطا کا قول ہے، طبری نے اسے پسند کیا ہے اس کی دلیل حضرت ابن عباس کی قرات ہے، فادخلی فی عبدی، علی التوحید، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز حکم دیگا کہ وہ جسموں کی طرف لوٹ جائیں حضرت ابن مسعود کی قرات یہ ہے فی جسد عبدی، حضرت حسن بصری نے کہا، اپنے رب کے ثواب اور کرامت کی طرف لوٹ جا، حضرت ابوصالح نے کہا، اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جا، موت کے وقت اسے کہا جائیگا، میرے بندوں کے جسموں میں داخل ہوجاؤ، اس کی دلیل حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود کی قرات ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، یہ قیامت کے روز ہوگا، یہ ضحاک کا قول ہے جمہور کا قول ہے کہ جنت ہی دارخلود ہے نیک لوگوں کا مسکن ہے، اور صالحین کا گھر ہے، فی عبادی، سے مراد ہے میرے بندوں میں سے صالحین میں شامل ہوجاؤ، جس طرح فرمایا، لندخلنھم فی الصالحین۔ العنکبوت) ہم انہیں ضرور صالحین میں داخل کریں گے، اخفش نے کہا، فی عبادی، کا معنی ہے میری جماعت میں، معنی ایک ہی ہے یعنی ان کی لڑی میں پر وجا، اور ان کے ساتھ میری جنت میں داخل ہوجا۔