80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 80:40–41

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرج پڑ رہی ہوگی

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ Open ayah 80:41 in the Quran reader

(اور) سیاہی چڑھ رہی ہوگی

ووجوہ یومئذ علیھا غبرہ۔ ترھقھا قترہ۔ غبرہ سے مراد غبار اور دھواں ہے ترھق کا معنی چھاجانا ہے قترہ کا معنی ہے گرہن اور سیاہی، حضرت ابن عباس نے اسی طرح فرمایا، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ذلت اور سختی، کلام عرب میں قتر سے مراد غبار ہے یہ قترہ کی جمع ہے، ابوعبید سے یہی مروی ہے فرزدق نے یہ شعر پڑھا۔ متوج برداء الملک یتبعہ۔ موج تری فوقہ الرایات والقترا۔ وہ بادشاہ کی چادر کو تاج بنائے ہوئے ہے اس کے پیچھے موج ہے تو اس کے اوپر جھنڈے اور غبار دیکھے گا۔ خبر میں ہے : جب قیامت کے روز چوپاؤں کو مٹی بنا دیا جائے گا تو اس مٹی کو کافروں کے مونہوں پر ڈال دیا جائے گا۔ زید بن اسلم نے کہا، قترہ اس مٹی کو کہتے ہیں جو آسمان کی طرف بلند ہو اور غبرہ اس مٹی کو کہتے ہیں جو زمین کی طرف آئے، غبار اور غبرہ ایک ہی چیز ہے۔
Ayah 80:42

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۠ Open ayah 80:42 in the Quran reader

یہ کفار بدکردار ہیں

او لئک ھم الکفرۃ الفجرہ۔ کفرہ، کافر کی جمع ہے، فجرہ، فاجر کی جمع ہے اس سے مراد وہ جھوٹا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد فاسق ہے کیونکہ فجر فجور اس وقت کہتے ہیں جب وہ فسق کرے اور فجر اس وقت کہتے ہیں جب وہ جھوٹ بولے اس کا اصل معنی مائل ہونا ہے فاجر سے مراد مائل ہونے والا اس کی وضاحت اور گفتگو پہلے گزرچکی ہے۔ والحمدللہ وحدہ۔