76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

ان سے (ثمر دار شاخیں اور) انکے سائے قریب ہونگے اور میوں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہونگے

ودانیۃ علیھم ظللھا۔ یعنی جنت میں درختوں کے سائے نیک لوگوں کے قریب ہوں گے وہ ان پر سایہ فگن ہوں گے۔ یہ ان نعمتوں پر اضافہ کی خاطر ہوگا اگرچہ وہاں کوئی سورج اور چاند نہیں ہوگا جس طرح ان کی کنگیاں سونے وارچاندی کی ہوں گی اگرچہ وہاں نہ کوئی میل ہوگی اور نہ پراگندگی ہوگی ایک قول یہ کیا جاتا ہے جنت میں درختوں کی بلندی سو سال کی مسافت تک ہوگی جب اللہ کا ولی اس کے پھل کی خواہش کرے گا تو وہ جھک جائیں گے یہاں تک وہ انہیں لے لے گا، دانیہ حال ہونے اور متکئین پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جس طرح تو کہتا ہے، فی الدار متکئا ومرسلہ علیہ الحجال۔ گھر میں عبداللہ ٹیک لگائے ہوئے ہے اور اس پر پردے لٹکائے گئے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جنت کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی جزاھم جنۃ دانیۃ پس یہ محذوف موصوف کی صفت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ بطور مدح منصوب ہے یعنی دنت دانیہ یہ فراء کا قول ہے۔ ظللھا یہ دانیۃ کی وجہ سے مرفوع ہے اگر دانیہ کو مرفوع پڑھاجائے کہ ظللھا مبتداء ہو اور دانیہ اس کی خبر ہو تو یہ بھی جائز ہے پھر یہ جملہ جزاھم کی ھم ضمیر سے حال ہوگا اس طرح اس کی قرات بھی کی گئی ہے، حضرت عبداللہ کی قرات میں ودانیا علیھم ہے کیونکہ فعل پہلے ہے۔ حضرت ابی کی قرات میں ودان ہے جملہ مستانفہ ہونے کی حیثیت میں مرفوع ہے۔ وذللت قطوفھا تذلیلا۔ یعنی ان کے پھلوں کو مسخر کردیا گیا ہے اسے کھڑا، بیٹھا اور لیٹا ہوالے لے گا دوری اور کانٹا ان کے ہاتھوں کو واپس نہیں کرے گا یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، اگر کوئی کھڑا ہوگا تو وہ پھل اوپراٹھ جائیں گے اور اگر وہ بیٹھا ہوگا تو وہ نیچے آجائیں گے اگر وہ پہلو کے بل لیٹے گا توہ پھل اس کے قریب ہوجائیں گے تو وہ اس سے کھالے گا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے جنت کی زمین چاند کی ہے اس کی مٹی زعفران کی ہے اس کی خوشبو اذفر کستوری کی ہے اس کے درختوں کے تنے سونے اور چاندی کے ہیں ان کی شاخین لولو، زبرجد اور یاقوت ہیں پھر ہر ایک کے نیچے پھل ہے جس نے اس میں سے کھایا وہ اسے کوئی تکلیف نہ دے گا جس نے اس سے بیٹھے ہوئے کھایا وہ اذیت نہ دے گا جس نے اسے پہلو کے بل لیٹ کر کھایا وہ اسے کوئی اذیت نہ دے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب وہ اس کے پھل کھانے کا ارادہ کرے گا تو وہ پھل اس کی طرف لٹک جائیں گے یہاں تک کہ وہ جو چاہیں گے ان میں سے لے گا۔ تذلیل القطوف سے مراد آسانی سے لے لینا ہے، قطوف سے مراد پھل ہیں اس کا واحد قطف ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس بار بار کاٹا جاتا ہے جس طرح اسے جنی کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ اسے چنا جاتا ہے۔ تذلیلا یہ اس ذل کی تاکید ہے جس کے ساتھ صفت بیان کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ونزلناہ تنزیلا۔ الاسرائ) ہم نے اسے نازل کیا۔ وکلم اللہ موسیٰ تکلیما۔ النسائ) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، ماوردی نے کہا، یہ احتمال موجود ہے کہ گچھوں کی تذلیل ہے مراد ان کا غلاف سے باہر آنا اور گٹھلی سے پاک ہونا ہو۔ میں نے کہا : اس میں حقیقت سے بہت ہی دوری ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے روایت نقل کی ہے کہ سفیان نے، حماد سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہوئے فرمایا۔ جنت کی کھجوریں ان کے تنے سبز زمرد کے ہوں گے ان کی جڑیں سرخ سونے کی ہوں گی ان کے پتے اہل جنت کے لباس ہوں گے انہیں سے ان کے حلے ہوں گے، ان کے پھل مٹکوں اور ڈولوں جیسے ہوں گے دودھ سے زیادہ سفید ہوں گے، شہد سے زیادہ میٹھے ہوں گے مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے اس میں گٹھلی نہیں ہوگی۔ ابوجعفر نحاس نے کہا : ایک قول یہ کیا جاتا ہے مذل اسے کہتے ہیں جسے پانی نے سیراب کیا ہو۔ مذلل اسے بھی کہتے ہیں جس کو نری کی وجہ سے تھوڑی سے ہواجھکادیتی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مذلل سے مراد جسے سیدھا کیا جائے کیونکہ اہل حجاز کہتے ہیں : ذلل نخللک۔ اپنی کھجور کو سیدھا کر۔ مذلل ایسی چیز کو بھی کہتے ہیں جو قریب ہو اسے لیاجاسکے۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، حائط ذلیل چھوٹی دیوار، ابوجعفر نے کہا، یہ اقوال جو ہم نے ذکر کیے انہیں علماء لغت نے ذکر کیا ہے اور انہوں نے امراء القیس کے اس قول میں ذکر کیے ہیں۔ وساق کانبوب السقی المذلل، پنڈلی اس بردی، (عمدہ کھجور) کی طرح ہے جسے خوب سیراب کیا گیا ہو۔
Ayahs 76:15–16

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

ویطاف علیھم بانیۃ۔۔۔ تا۔۔۔ سلسبیلا۔ ویطاف علیھم بانیۃ من فضۃ واکواب۔ جب وہ مشروب کا ارادہ کریں گے تو ان نیک لوگوں کے اوپر خدام چاندی کے برتن لے کر گھومیں گے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، جنت میں جو کچھ ہے دنیا میں تو صرف ان کے نام ہی ہیں۔ جنت میں جو کچھ ہے وہ بہت ہی اعلی اور عمدہ ہے یہاں سونے کی برتنوں کی نفی نہیں کی گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ کبھی چاندی کے برتنوں میں انہیں پلایا جاتا ہے اور کبھی سونے کے برتنوں میں انہیں پلایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب۔ الزخرف 71) گردش میں ہوں گے ان پر سونے کے تھال اور جام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے چاندی کا ذکر کرکے سونے پر متنبہ کیا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، سرابیل تقیم الحر (النحل) 81) اور پاجامے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں، یعنی سردی سے بچاتے ہیں، دونوں میں سے ایک کو ذکر کرکے دوسرے پر آگاہ کیا۔ اکواب سے مراد بڑے کو زرے ہیں جن کا نہ دستہ ہوتا ہے نہ ہی سنت۔ اس کا واحد کو ب ہے : عدی نے کہا : متکئا تقرع ابوابہ، یسعی علیہ العبد بالکوب۔ دراں حالیکہ وہ ٹیک لگائے ہوئے ہیں اس کے دروازوں کو کھٹکھٹایا جاتا ہے غلام پیالہ لے کر اس پر دوڑتا ہے۔ سورة زخرف میں ہے قواریرا، قواریرا من فضہ۔ وہ شیشے کی صفائی اور چاندی کی سفیدی والا ہوگا، اس کی صفائی شیشے کی صفائی ہوگی جب کہ وہ چاندی سے ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنت کی زمین میں چاندی کی ہوگی، اور برتن زمین کی مٹی سے بنائے جاتے ہیں جو اس چاندی کے ہوں گے، حضرت ابن عباس نے یہ ذکر کیا ہے فرمایا، جنت میں کوئی ایسی چیز نہیں مگر دنیا میں تمہیں اس کی مثل عطا کیا گیا مگر قواریرا من فضۃ، جو صفائی میں شیشہ اور رنگت میں چاندی جیسے ہوں گے، کہا، اگر تو دنیا کی چاندی لے اسے باریک کرے یہاں تک کہ تو اسے مکھی کے پر جیساباریک کردے تو اس کے پیچھے سے پانی نہیں دیکھ سکے گا مگر جنت کے قواریرا چاند کی طرح اور شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔ قدروھا تقدیرا۔ عام قراء کی قرات قاف اور دال کے فتحہ کے ساتھ ہے یعنی ساقیوں نے ان کا اندازہ لگایا ہے جو انہیں لے کر ان پر گردش کریں گے۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، وہ بغیر کسی کمی بیشی کے ان کی طلب کے مطابق لائیں گے کلبی نے کہا، وہ زیادہ لذیذ واراشتہاء والی ہوگی، معنی اس کا یہ ہے وہ فرشتے جوان پر گردش کریں گے انہوں نے اس کا اندازہ لگایا ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی بیان کیا ہے ان فرشتوں نے اس کا تفصیلی بھر اندازہ لگایا ہوگا وہ نہ زیادہ ہوگا نہ کم ہوگا یہاں تک کہ وہ بوجھ اور انتہائی چھوٹا ہونے کی بنا پر انہیں اذیت نہیں دے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے پینے والوں نے اپنے دلوں میں خواہش کے مطابق اندازہ لگایا ہوگا۔ عبید بن عمر، شعبی اور ابن سیرین نے قدروھا پڑھا ہے، یعنی انہیں ان کے ارادہ کے مطابق بنایا گیا، مہدوی نے یہ قرات حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے اور کہا، جس نے اسے قدروھا پڑھا ہے تو وہ دوسری قرات کے معنی کی طرف راجع ہے گویا اصل کلام یوں ہے قدرواعلیھا حرف جر کو حذف کردیا گیا ہے معنی اس کا یہ ہے ان پر اس کا اندازہ لگایا گیا، سیبویہ نے یہ شعر پڑھا : آلیت حب العراق الدھر اکلہ، والحب یاکلہ فی القریہ السوس۔ تو نے عراق کی گندم کے بارے میں قسم اٹھائی ہے تو کسی کو نہیں کھلائے گا زمانہ اس کو کھارہا ہے جب کہ اسے دیہات میں کیڑا کھارہا ہے۔ اس کی رائے یہ ہے کہ کلام اصل میں علی حب العراق۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس اندازے کی صورت یہ ہوگی کہ پیالے اڑیں گے وہ پینے والے کی طلب کے مطابق پھرجائیں گے، اللہ تعالیٰ کے فرمان، قدروھا تقدیرا۔ کا یہی مطلب ہے یعنی وہ طلب سے زائد نہیں ہوگا اور اس سے کم بھی نہیں ہوگا۔ پیالوں کو پینے والوں کی طلب کے مطابق پیالوں کو الہام کیا جائے گا یہاں تک کہ پیالے اس مقدار کے حساب سے بھرجائیں گے اس قول کو ترمذی حکیم نے، نوادرالاصول، میں ذکر کیا ہے۔
Ayah 76:17

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور وہاں ان کو ایسے مشروب پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

ویسقون فیھا کا سا کان مزاجھا زنجبیلا۔ کا سا سے مراد ایسا پیالہ ہے جس میں شراب ہو اس میں زنجبیل کی آمیزش ہو یا معنی ہے اللہ کے حکم میں وہ زنجبیل تھی عرب اسے شراب کو پسند کرتے تھے جس میں زنجبیل کی آمیزش ہو کیونکہ اس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے کیونکہ وہ زبان کو چھیل دیتی ہے اور کھائی ہوئی چیز کو ہضم کردیتی ہے تو جو وہ اعتقاد رکھتے تھے اس کے باعث انہیں آخرت میں انتہا، درجے کی نعمت اور خوشبو کی طرف راغب کیا گیا، مسیب بن علس عورت کے ہونٹ کی صفت بیان کرتا ہے : کان طعم الزنجبیل بہ، اذا ذقتہ وسلافۃ الخمر۔ جب میں نے اسے چکھا گویا زنجبیل اور نچڑے ہوئے شراب کا ذائقہ اس میں ہے۔ مجاہد نے کہا : زنجبیل اس چشمہ کا نام ہے جس سے ابرار کی شراب میں آمیزش کی جائے گی قتادہ نے اس طرح کہا، زنجبیل ایسا چشمہ ہے مقرب جس سے خالص پئیں گے اور باقی جنتیوں کی شراب میں اس سے آمیزش کی جائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے جنت میں ایک ایسا چشمہ ہے جس میں زنجبیل کا ذائقہ ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں ایسی شراب ہوگی جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی، معنی یہ ہوگا کہ گویا اس میں زنجبیل ہے۔
Ayah 76:18

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

عینا فیھا تسمی سلسبیلا۔ عینا، کا سا سے بدل ہے یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے مضمر ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، تقدیر کلام ہوگی یسقون عینا۔ یہ بھی جائز ہے کہ حرف جار کے حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، یعنی اصل یہ ہے من عین جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان، عینا یشرب بھاعباد اللہ۔ الانسان 6) میں یہ گفتگو گزرچکی ہے، فیھا میں ضمیر سے مراد جنت ہے۔ سلسبیلا سے مراد لذیذ شراب ہے، یہ سلالہ سے فعلیل کا وزن ہے عرب کہتے ہیں، ھذا شراب سلسل، سلسال، سلسل، سلسبیل۔ سب کا معنی ایک ہے یعنی عمدہ، لذیذ ذائقہ والی۔ صحاح میں ہے، تسلسل الماء فی الحلق۔ پانی حلق میں سے تیزی سے اتر گیا۔ سلسلہ میں نے اسے حلق میں انڈیلا۔ ماء سلسل وسلسال۔ مٹھاس اور صفائی کی وجہ سے حق میں آسانی سے اترجاتا ہے۔ سلاسل ضمہ کے ساتھ بھی اسی کی مثل ہے۔ زجاج نے کہا، لغت میں یہ سلسبیل ہے یہ اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس میں حد درجہ کی سلاست ہو، گویا چشمہ کو اس کی صفت کا نام دیا گیا ہے مجاہد سیمروی ہے، سلسبیلا اسے کہتے ہیں تیز چلنے والا جوان کے حلقوں میں تیزی سے اترجاتا ہے، حضرت ابن عباس سے اسی طرح مروی ہے، وہ تیز چلنے والا ہے، ماوردی نے یہ ذکر کیا ہے اس معنی میں حضرت حسان بن ثابت کا شعر ہے، یسقون من ورد البریص علیھم، بردی یصف الرحیق السلسل۔ جو آدمی بریص کے مقام پر ان پروارد ہوتا ہے وہ اسے بردی کا پانی پلاتے ہیں جس کی خالص شراب میں آمیزش کی گئی ہوتی ہے۔ ابوالعالیہ اور مقاتل نے کہا : اسے سلسبیل اس لیے نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ راستوں اور ان کے گھروں میں بہتا ہے جنت عدن سے عرش کے نیچے سے جنتیوں کی طرف یہ چشمہ بہتا ہے، قتادہ نے کہا، وہ جہاں چاہیں گے اس کا پانی ان کے پیچھے پیچھے چلے گا، عکرمہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، قفال نے کہا، وہ معزز چشمہ ہے اس کو پانی کے لیے راستہ اپناؤ، یہ حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے، تسمی کا معنی ہے فرشتوں اور ابرار اور جنتیوں کے ہاں اس نام سے اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ سلسبیلا کو تنوین دی گئی ہے کیونکہ یہ آیت کا اسرا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، الضونا اور السبیلا۔
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) آئیں گے جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوے موتی ہیں

ویطوف علیھم والدان۔۔۔ تا۔۔۔ مشکورا۔ ویطوف علیھم ولدان مخلدون۔ اس میں امر کی وضاحت کی کہ کون ان پر برتن لے کر گھومے گا ان کی وہ بچے خدمت کریں گے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے کیونکہ خدمت کرنا ان کے لیے آسان ہوتا ہے۔ مخلدون سے مراد ہے جس جوانی، حسن وبشاشت پر وہ ہیں اس پر باقی رہیں گے نہ وہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ہی ان میں کوئی تبدیلی ہوگی۔ وہ مرور زمانہ کے باوجود ایک ہی عمر پر رہیں گے ایک قول یہ کا گیا ہے جو ہمیشہ زندہ رہیں گے انہیں کوئی موت نہیں آئے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں کنگن اور بالیاں پہنائی جائیں گی یعنی انہیں زیورپہنایا گیا ہوگا تخلیہ کا معنی زیور پہنانا ہے یہ پہلے بھی گزرچکا ہے۔ اذا رایتھم حسبتھم لولومنثورا۔ ان کے حسن، کثرت اور ان کے رنگوں کی صفائی کی وجہ سے تو انہیں گمان کرے گا وہ مجلس میں بکھرے ہوئے موتی ہیں، موتیوں کو جب قالین پر بچھایاجائے تولڑی میں پروئے جانے کی بنسبت زیادہ خوبصورت لگتے ہیں۔ مامون سے مروی ہے کہ جس رات بوران بنت حسن بن سہیل نے اس کے ساتھ شب زفاف گزاری تو وہ ایک ایسی قالین پر تھا جس کو سونے کی تاروں سے بنا گیا تھا، خلیفہ کی گھر کی عورتوں نے موتیوں کو بکھیر دیا تھا، مامون نے قالین پر بکھرے ہوئے موتیوں کو دیکھا تو اس منظر کو بہت ہی حسین خیال کیا اور کہا، ابونواس کا بھلا ہو گویا اس نے یہ منظر دیکھا تھا جب اس نے کہا، کان صغری وکبری من فقاقعھا، حصباء در علی ارض من الذھب۔ گویا کہ چھوٹے بڑے بلبلے موتیوں کے سنگریزے ہیں جو سونے کی زمین پر پڑے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں بکھرے ہوئے موتیوں سے تشبیہ دی گئی کیونکہ وہ خدمت میں بہت تیز ہوں گے حورعین کا معاملہ مختلف ہے انہیں لولومکنون اور لولو مخزون سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ان سے خدمت نہیں لی جاتی۔
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے

واذا رایت ثم رایت نعیما وملکا کبیرا۔ ثم ظرف مکان ہے، یعنی جنت میں، ثم میں عامل رایت کا معنی ہے یعنی جب تو اپنی آنکھ سے وہاں دیکھے گا، فراء نے کہا، کلام میں مامضمر ہے تقدیر کلام یوں ہے، اذا رایت ماثم جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لقد تقطع بینکم (الانعام 94) تقدیر کلام یوں ہے مابینکم۔ زجاج نے کہا، ما، ثم کے ساتھ ملایا گیا ہے جس طرح فراء نے ذکر کیا ہے، یہ جائز نہیں کہ اسم موصول کو ساقط کیا جائے اور صلہ ترک کردیا جائے لیکن رایت معنی میں ثم کی طرف متعدی ہے معنی ہے جب تو اپنی نظر سے وہاں دیکھے گا اور ثم سے مراد جنت ہے۔ فراء نے یہ بھی ذکر کیا، نعیم سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جن سے لذت حاصل کی جاتی ہے۔ ملک کبیر سے مراد کہ فرشتے ان سے اجازت طلب کرتے ہیں یہ قول سدی اور دوسرے علماء نے کیا ہے، کلبی نے کہا، اس کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قاصد لباس، کھانا، مشروب اور تحائف اللہ کے ولی کے پاس لائے گا جب کہ اللہ کا ولی اپنے مکان میں ہوگا، وہ قاصد اس ولی سے اجازت طلب کرے گا یہی ملک عظیم ہے یہی تعبیر مقاتل بن سلیمان نے بھی کی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ملک کبیر یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے ستر حاجب ہوں گے ایک ھاجب دوسرے کے لیے حاجب ہوگا، اللہ کا ولی اس اثناء میں کہ وہ لذت و سرور میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والافرشتہ اس سے اجازت طلب کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اسے مکتوب، ہدیہ اور ایسے تحفہ کے ساتھ بھیجا ہوگا اس ولی نے ایسا پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ وہ فرشتہ باہر والے حاجب کو کہے گا، اللہ کے ولی سے اجازت طلب کرو کیونکہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجا ہوا ہے اس کے پاس مکتوب اور تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ولی کے ہاں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے، وہ اجازت طلب کرے گا یہاں تک کہ یہ معاملہ اس حاجب تک جاپہنچے گا جو اللہ کے ولی کے بالکل قریب ہوگا وہ دربان اللہ کے ولی سے کہے گا، یہ رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے وہ تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے، اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے مکتوب اور تحفہ ہے کیا اسے اجازت ہے ؟ اللہ کا ولی کہے گا ہاں تم اسے اجازت دو وہ دربان قریبی دربان کو کہے گا ہاں اسے اجازت دو توہ ودوسرے دربان کو یہی بات کہے گا یہاں تکہ کہ بات آخری دربان تک جاپہنچے گی وہ اسے کہا گا، ہاں اے فرتے تجھے اجازت ہے وہ داخل ہوگا وہ اللہ کے ولی کو سلام کرے گا اور کہے گا : السلام (اللہ تعالیٰ کا نام) تجھے سلام فرماتا ہے۔ یہ تحفہ ہے یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے مکتوب ہے اس مکتوب پر لکھا ہوگا اس حی کی جانب سے جسے موت نہیں آئے گی اس زندہ کی جانب جسے اب موت نہیں آئے گی اللہ کا ولی اس کو لے گا تو اس میں یہ تحریر ہوگا، میرے بندے میرے ولی، میری رحمت اور میری برکات پر سلام، اے میرے والی، کیا اب تجھ میں اپنے رب کی زیارت کا شوق نہیں ؟ شوق اسے بےتاب کردے گا وہ براق پر سوار ہوگا، براق علا الغیوب کی زیارت کی شوق میں ہوا کے دوش پر اڑے گا اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کرے گا جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہ ہوگا، کسی کان نے سنا نہ ہوگا اور کسی دل میں کھٹکا نہ ہوگا۔ سفیان ثوری نے کہا : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ملک کبیر سے مراد یہ ہے کہ فرشتے انہیں سلام کریں گے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب۔ الرعد) فرشتے ہر دروازے سے ان پر داخل ہوں گے، سلم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار۔ الرعد) تم نے جو صبر کیا ہے اس کی وجہ سے تم پر سلامتی ہو یہ جنت کتنا ہی اچھا ٹھکانہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ملک کبیر سے مراد ہے کہ تاج ان کے سروں پر ہوں گے جس طرح بادشاہ کے سر پر تاج ہوتا ہے۔ ترمذی نے کہا، اس سے مراد ملک تکوین ہے جب وہ کسی چیز کا ارادہ کریں گے تو وہ کہیں گے کن، تو ہوجا، ابوبکروراق نے کہا، ایسی بادشاہت جو ختم نہ ہو۔ حدیث طیبہ میں ہے، ملک کبیر، سے مراد یہ ہے کہ جنتیوں میں سے ادنی جنتی اپنی مملکت کو ایک ہزار سال کی مسافت تک دیکھے گا وہ اس کے سب سے دور والے کونے کو اس طرح دیکھے گا جس طرح اس کے قریب والے کونے کو دیکھا گا، فرمایا جنتیوں میں سے سب سے بلند مرتبہ والا وہ ہوگا جو دن میں دو دفعہ اپنے رب کا دیدار کرے گا۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (کے بدنوں) پر دیبا کے سبز اور اطلس کے کپڑے ہونگے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار انکو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

علیھم ثیاب خضر واستبرق۔ نافع حمزہ اور ابن محیصن نے علیھم یعنی یاء کو ساکن پڑھا ہے ابوعبید نے حضرت ابن مسعود، ابن وثاب اور دوسرے قراء کی قرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح پڑھا ہے، فراء نے کہا، علیھم یہ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اس کی خبر ثیاب سندس، ہے اسم فاعل سے جمع مراد ہے۔ اخفش کے قول میں یہ جائز ہے کہ یہ مفرد اس بنا پر ہو کہ یہ اسم فاعل اور متقدم ہو اور ثیاب اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو اور قائم مقام خبرد ہو اس میں اضافت انفصال کے حکم میں ہو کیونکہ اس میں تخصیص واقع نہیں ہوئی اس کے ساتھ کلام کی ابتدا کی گئی ہے، کیونکہ اضافت کی وجہ سے اختصاص واقع ہوگیا ہے، باقی قراء نے اسے علیھم یاء کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے، فراء نے کہا، یہ تیرے قول فوقھم کی طرح ہے عرب کہتے ہیں، قومک داخل دار وہ داخل کے لفظ کو ظرف کی بنا پر نصب دیتے ہیں کیونکہ یہ محل ہے، زجاج نے اس کا انکار کیا اور کہا، ہم اسے ظرف میں نہیں جانتے اگر یہ ظرف ہوتا تو یاء کو ساکن کرنا جائز نہیں ہوگا لیکن یہ دونوں چیزوں سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور ان میں سے ایک یطوف علیھم میں ھم ضمیر ہے۔ یعنی نیک لوگوں کے پاس بچے گردش کر رے ہوں گے جن لوگوں پر یہ لباس ہوگا۔ دوسری چیز وندان ہے معنی یہ بنے گا جب تو انہیں دیکھے گا تو تو انہیں بکھرے ہوئے موتی دیکھے گا جب کہ ان بچوں کے بدنوں پر یہ لباس ہوگا، ابوعلی نے کہا، حال میں عام ہے یا تو ولقھم نضرۃ وسرورا، ہے یاجزاھم بماصبروا ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ ظرف ہو تو اس کو منصرف بنادیا گیا ہے مہدوی نے کہا، یہ جائز ہے کہ یہ اسم فاعل کے وزن پر ہو اور ظرف ہو جس طرح تیرا قول ہے، ھوناحیۃ من الدار اس کی صورت پھر یہ ہوگی کہ عالیا جب فوق کے معنی میں ہے تو اسے بھی اس کے قائم مقام رکھا تو اسے ظرف بنادیا گیا ہے ابن محیصن، ابن کثیر اور ابوبکر نے عاصم سے خضر، مجرور نقل کیا ہے کیونکہ یہ سندس کی صفت ہے ابوعبید اور ابوحاتم نے معنی کی عمدگی کی وجہ سے اسے اپنایا ہے کیونکہ کپڑوں کی صفت میں خضر سب سے خوبصورت ہے پس یہ کلمہ مرفوع ہوگا میرا خیال ہے استبرق کا سندس پر، جو عطف ہے وہ جنس کا جنس پر عطف ہے معنی یہ ہوگا ان پر سبز کپڑے ہوں گے جو سندس اور استبرق کے ہوں گے یعنی ان دونوں ناموں سے ہوں گے، نافع اور حفص نے دونوں کو مرفوع پڑھا ہے، توخضر، ثیاب کی صفت ہوگی کیونکہ یہ دونوں جمع ہیں، استبرق اس کا عطف ثیاب پر ہے۔ اعمش، ابن وثاب، حمزہ اور کسائی نے دونوں کو جر کیساتھ پڑھا ہے، پھر خضر، سندس، کی صفت ہوگی، اور سندس اسم جنس ہوگا، اخفش نے اس امر کو جائز قرار دیا ہے کہ اسم جنس کی صفت جمع سے لگائی جائے اگرچہ اسے قبیح جانا جاتا ہے، تو کہتا ہے، اھلک الناس الدینار الصفر والدرھم البیض۔ دونوں مثالوں میں صفر اور بیض جمع کے صیغے ہیں جو الدینار اور الدرھم اسم جنس کی صفتیں ہیں لیکن کلام میں یہ بہت ہی مستبعد ہے اس قرات کی صورت میں معنی یہ ہوگا ان پر سبز سندسی کپڑے، اور استبرق کے کپڑے ہوں گے، ابن محیصن کے سوا سب نے استبرق کو منصرف کہا ہے اس نے اسے فتحہ دیا ہے اور منصرف نہیں کہا، اسے استبرق پڑھا ہے، جر کی جگہ زبر پڑھی ہے اور غیر منصرف قرار دیا ہے کیونکہ عجمی ہے، یہ غلط ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے اس پر حرف تعریف (الف لام) داخل ہوا ہے تو استبرق کہتا ہے مگر ابن محیصن گمان کرتا ہے کہ کپڑے کی اس قسم کو یہ نام دے دیا گیا ہے اس کو استبرق بھی پڑھا گیا ہے یعنی ہمزہ وصل اور اس کے اوپر زبر، یہ بریق سے مشتق ہے اور استصل کے ورن پر اس کا نام رکھا گیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ معرب ہے اس کا معرب ہونا مشہور ہے اصل میں استبرق تھا سندس باریک ریشم کو کہتے ہیں، استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ وحلواساور من فضۃ۔ اس کا عطف یطوف پر ہے، سورة فاطر میں گزرا ہے، یحلون فیھا من اساور من ذھب۔ اس میں انہیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے، سورة فاطر میں ہے یحلون فیھا من اساور من ذھب ولولوا۔ اس میں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، مرد کے زیورات اور چاندی اور عورت کے زیوارت سونے کے ہوں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کبھی وہ سونے کے زیورات پہنیں گے اور کبھی وہ چاندی کے زیورات پہنیں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک کے ہاتھ میں دو کنگن سونے کے، دو کنگن چاندی کے اور دو کنگن موتی کے جمع کیے جائیں گے تاکہ جنت کے محاسن ان کے لیے جمع ہوجائیں۔ یہ سعید بن مسیب نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ہر قوم کے لیے وہ کچھ ہوگا جس کی طرف ان کے دل مائل ہوں گے۔ وسقھم ربھم شرابا طھورا۔ حضرت علی نے اس آیت کی تفسیر میں یہ ارشاد فرمایا، جب جنتی جنت کی طرف متوجہ ہوں گے وہ ایک ایسے درخت کے پاس سے گزریں گے جس کے تنے کے نیچے سے دوچشمے جاری ہوں گے وہ ان میں سے ایک سے پانی پئیں گے تو ان پر نعیم کی تروتازگی جاری ہوجائے گی ان کی جلد میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی، اور ان کے بال کبھی بھی پراگندہ نہ ہوں گے پھر وہ دوسرے چشمہ سے پئیں گے تو ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہوگا وہ نکل جائے گا پھر جنت کے خازن ان کی طرف متوجہ ہوں گے وہ انہیں کہیں گے، سلم علیکم طبتم فادخلوھا خالدین۔ زمر) تم پر سلام ہو، تم خوب رہے ہو پس اندر تشریف لے چلو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ نخعی اور ابوقلابہ نے کہا، کھانا کھانے کے بعد جب وہ اسے پئیں گے تو وہ پانی انہیں پاکیزہ بنادے گا جو کچھ انہوں نے کھایا پیا ہوگا وہ کستوری کی مہک ہوجائے گا اور ان کے پیٹوں کو ضامر بنادے گا۔ مقاتل نے کہا، وہ جنت کے دروازے پر چشمے کا پانی ہے جو چشمہ درخت کے تنے سے پھوٹتا ہے جس نے بھی اس سے پی لیا اللہ تعالیٰ اس کے دل سے کینہ، کھوٹ، اور حسد خارج کردے گا، اور اسی طرح اس کے پیٹ میں جو غلیظ مادہ ہوگا اسے بھی خارج کردے گا اسے بھی نکال دے گا۔ حضرت علی نے جو کچھ روایت کیا ہے اس کا بھی یہی معنی ہے مگر مقاتل کے قول کے مطابق وہ چشمہ ایک ہے اس اعتبار سے طھورا مبالغہ کا صیغہ ہوگا۔ ائمہ احناف کی اس میں کوئی دلیل نہیں کہ اس کا معنی پاک ہے اس کی وضاحت سورة الفرقان میں گزرچکی ہے، الحمدللہ۔ کہا : اس کا معنی پاکیزہ اور خوبصورت ہے میں نے سہل بن عبداللہ کے پیچھے عشاء کی نما زپڑھی، انہوں نے وسقھم ربھم شرابا طھورا۔ الانسان) آیت کو پڑھا اور اپنے ہونٹوں اور منہ کو حرکت دینے لگے گویا وہ کسی چیز کو چوس رہے ہوں جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہیں کہا گیا کیا آپ کسی چیز کو پی رہے تھے یاقرات کررہے تھے، انہوں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ کی قسم اگر میں اس کی قرات سے ایسی لذت نہ پاتا جو اس کے پینے سے پاتا تو میں اس کی قرات نہ کرتا۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی

ان ھذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا۔ انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ تمہارا بدلہ ہے تمہارا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہے اللہ تعالیٰ کا بندے کے لیے شکر کا معنی ہے وہ اس کی اطاعت کو قبول کرتا ہے اس پر اس کی ثنا کرتا ہے اور اس پر عمل پر اسے بدلہ عطا فرماتا ہے، سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ان کو اچھی جزاء دیتا ہے مجاہد نے کہا، مشکورا، کا معنی مقبول ہے اور معنی قریب قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جب عمل قبول فرماتا ہے تو اس پر شکر کرتا ہے جب شکر کرتا ہے تو اس پر بڑا ثواب دیتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فضل عظیم والا ہے۔ حضر تابن عمر سے مروی ہے ایک حبشی نے عرض کی یارسول اللہ تم لوگوں کو ہم پر شکل و صورت رنگت اور نبوت میں فضیلت دی گئی ہے بتائیے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور میں ویسا ہی عمل کروں جو آپ عمل کرتے ہیں کیا میں آپ کے ساتھ جنت میں داخل ہوسکوں گا، فرمایا ہاں مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، بیشک حبشی کی سفیدی اور اس کی روشنی جنت میں ایک ہزار سال کی مسافت سے دکھائی دے گی، پھر نبی کریم نے فرمایا، جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں وعدہ ہے جس نے سبحان اللہ اور الحمدللہ کہا، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک لاکھ چالیس ہزار نیکیاں ہوں گی، اس آدمی نے عرض کی یارسول اللہ اس کے بعد ہم کیسے ہلاک ہوں گے ؟ فرمایا، قیامت کے روز ایک آدمی کو لایاجائے گا اگر وہ اس عمل کو پہاڑ پر رکھے تو پہاڑ کو بوجھل کردے پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت آئے گی قریب ہے کہ وہ ان سب اعمال کو ختم کردے مگر یہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ ان پر مہربانی کرے فرمایا، پھر یہ آیت نازل ہوئی، ھل اتی علی الانسان، ملکاکبیرا۔ حبشی نے عرض کی، یارسول اللہ کیا میری آنکھیں وہ کچھ دیکھیں گی جو جنت میں آپ کی آنکھیں دیکھتی ہیں ؟ نبی کریم نے ارشاد فرمایا ہاں، وہ حبشی رویا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا، میں نے رسول اللہ کو دیکھا آپ اسے قبر میں اتار رہے تھے اور زبان سے یہ پڑھ رہے تھے، ان ھذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا۔ ہم نے عرض کی، یارسول اللہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ نے اسے کھڑا کیا پھر فرمایا، اے میرے بندے میں تیرے چہرے کو سفید کروں گا اور جنت میں تجھے وہاں ٹھکانہ دوں گا جہاں تو چاہے گا تو عمل کرنے والوں کو اتنا اچھا اجر ہے۔
Ayahs 76:23–24

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بدعمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو

انا نحن نزلناعلیک القرآن۔۔۔ تا۔۔۔۔ طویلا۔ انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا۔ یعنی آپ نے اسے اپنی طرف سے گھڑا ہے اور نہ ہی آپ اسے اپنی طرف سے لائے جس طرح مشرک دعوی کرتے ہیں اس آیت کا ماقبل آیت کے ساتھ تعلق یہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے وعدہ اور وعید کی کئی صورتوں کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان کیا کہ یہ کتاب ان چیزوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے جن کی انسان کو ضرورت ہے، یہ جادو، کہانت اور شعر نہیں یہ حق ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، قرآن حکیم تھوڑا تھوڑا آیت در آیت نازل کیا گیا ہے یہ یکبارگی نازل نہیں کیا گیا ہے اس وجہ سے ارشاد فرمایا، نزلنا اس بارے میں گفتگو مفصل گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ فاصبر لحکم ربک ولاتطع منھم اثما اوکفورا۔ حکم سے مراد قضا و فیصلہ ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ معنی ہے مشرکوں کی اذیت پر صبر کرو اس طرح فیصلہ کیا گیا ہے پھر اسے جہاد والی آیت سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ پر جو طاعات لازم کی گئی ہیں ان پر صبر کیجئے یا اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیجئے کیونکہ اس نے تیرے ساتھ مدد کا وعدہ کیا ہے جلدی نہ کیجئے کیونکہ یہ ہر صورت ہوکر رہے گا، واثم سے مراد گناہ والا ہے، یعنی گناہ گار اور ناشکرے کی اطاعت نہ کیجئے۔ معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے، ابوجہل نے کہا، اگر میں نے (حضرت محمد) کو دیکھ لیاتو میں اس کی گردن رونڈ ڈالوں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، ایک قول یہ کیا جاتا ہے، یہ آیت عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی دونوں رسول اللہ کی بارگاہ میں مال اور شادی کی پیشکش لے کر حاضر ہوئے شرط یہ تھی کہ وہ نبوت کا ذکر چھوڑ دیں، ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، مقاتل نے کہا، جس نے شادی کی پیش کش کی تھی وہ عتبہ بن ربیعہ تھا اس نے کہا، میری بیٹیاں قریش کی عورتوں میں سے خوبصورت ترین ہیں میں بغیر مہر کے اپنی بیٹی سے تیری شادی کیے دیتا ہوں، اس امر سے تولوٹ جا، ولید نے کہا، اگر تو نے جو کچھ کیا مال کو حاصل کرنے کے لیے کیا ہے میں تجھے مال دوں گا، یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا جب کہ تو اس امر سے لوٹ جاتویہ آیت نازل ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں او کا لفظ ہے یہ سے زیادہ موکد ہے کیونکہ جب تو کہتا ہے، لاتطع زیدا وعمرا۔ اس نے ان میں سے ایک اطاعت کی تو وہ نافرمانی کرنے والا نہیں ہوگا کیونکہ اسے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ دور کی اطاعت نہ کرے جب یہ ارشاد فرمایا، لاتطع من اثما اوکفورا۔ او کے لفظ سے اس امر پر دلالت کی ان میں سے ہر ایک اس چیز کا اہل تھا کہ اس کی نافرمانی کی جائے جس طرح تو یہ کہے، لاتخالف الحسن او ابن سیرین۔ تو حسن بصری اور ابن سیرین میں سے کسی کی بھی مخالفت نہ کری اتبع الحسن او ابن سیرین۔ تو تونے یہ کہا ہے یہ دونوں اس بات کے اہل ہیں کہ ان دونوں کی اتباع کی جائے اور ان میں سے ہر ایک بھی اس کا اہل ہے کہ اس کی اتباع کی جائے یہ زجاج کا قول ہے، فراء نے کہا، یہاں او، لا کے معنی میں ہے گویا یوں فرمایا، لاکفورا نہ ناشکرے کی اطاعت کر، شاعر نے کہا : ولا وجد ثکلی کما وجدت ولا، وجد عجول اضلھا ربع۔ او وجد شیخ اضل ناقتہ، یوم توافی الحجیج فاندفعوا۔ جس کا بچہ فوت ہوا اور اس کا اتنا دکھ نہیں جتنا دکھ میں نے پایا نہ اس اونٹنی نے اتنا دکھ محسوس کیا جس کاموسم بہار میں پیدا ہونے والا بچہ فوت ہوا۔ اور نہ ہی اس شیخ کو اتنا دکھ ہواجس نے اپنی اونٹنی گم کردی ہو اس روز حاجی حج کے سامنے مناسک پورے کرے اور واپس چلے جائیں۔ یہاں بھی شاعر نے او سے مراد لالیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اثم سے مراد منافق اور کفور سے مراد ایسا کفر ہے جو اپنے کفر کو ظاہر کرتا ہے یعنی ان میں سے اثم کی اور نہ ہی کافر کی اطاعت کریں، یہ فراء کے قول کے بالکل قریب ہے۔
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو

واذکراسم ربک بکرۃ واصیلا۔ دن کے پہلے اور آخری حصہ میں اپنے رب کے حضور نماز پڑھیے، اس کے پہلے حصہ میں صبح کی نماز ہے اور آخری حصہ میں ظہر اور عصر کی نماز ہے۔
Ayah 76:26

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بڑی رات تک اسکے آگے سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

ومن اللیل فاسجدلہ وسبحہ لیلا طویلا۔ اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے اور رات کے نوافل ہیں یہ ابن حبیب کا قول ہے، حضرت ابن عباس اور سفیان کا نقطہ نظر ہے، قرآن حکیم میں جہاں بھی تسبیح کا لفظ ہے اس سے مراد نماز ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد مطلق ذکر ہے، خواہ وہ نماز میں ہو یا کسی اور صورت میں، ابن زید اور دوسرے علماء نے کہا، وسبحہ لیلا طویلا، یہ پنجگانہ نماز کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مستحب ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ نبی کریم کے ساتھ مخصوص ہے اس کی مثل میں گفتگو سورة المزمل میں گزرچکی ہے ابن حبیب کا قول اچھا ہے اصیل کی جمع اصائل اور اصل ہے جس طرح سفائن اور سفن ہے، شاعر نے کہا : ولاباحسن منھا اذ دناالاصل۔ جب عصر کا وقت قریب ہوتا ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں ہوتا۔ اصائل کے بارے میں کہا، یہ جمع الجمع ہے شاعر نے کہا، لعمری لانت البیت اکرم اھلہ، واقعد فی افیاء باالاصائل۔ میری زندگی کی قسم تو ایسا گھر ہے جس کے مکینوں کی میں تعظیم کرتا ہوں میں عصر کے وقت اس کے ساتھیوں میں بیٹھتا ہوں۔ سورة اعراف کے آخر میں یہ بحث مکمل گزرچکی ہے، اور اسم ظریف پر من بعضیت کے لیے داخل ہوا ہیی جس طرح اس فرمان میں، ویغفرلکم ذنوبکم، آل عمران 31) تاکہ تمہارے بعض گناہوں کو بخش دے۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑ دیتے ہیں

ان ھؤلاء یحبون العاجلۃ۔۔۔ تا۔۔۔ تبدیلا یہ کلام شرمندہ کرنے اور انہیں جھڑکنے کے لیے ہے، ھولاء سے مراد اہل مکہ ہیں، العاجلہ سے مراد دنیا ہے یذرون کا معنی ہے وہ چھوڑ دیتے ہیں، وراء ھم سے مراد ہے اپنے سامنے یوما ثقیلا سے مراد ہے بہت ہی سخت جس طرح فرمایا، ثقلت فی السماوات والارض ،۔ الاعراف 187) وہ آسمان و زمین میں بہت مشکل ہے یعنی وہ یوم قیامت پر ایمان کو ترک کردیتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے، وراء ھم کا معنی پس پشت یعنی وہ آخرت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں وہ اس کے لیے کچھ عمل نہیں کرتے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو انہوں نے رسول اللہ کی صفات اور نبوت کو ثبوت چھپایا تھا ان کا دنیا سے محبت کرنے کا مطلب ہے جو وہ چھپاتے ہیں اس پر وہ رشوت لیتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے منافقین مراد ہیں کیونکہ وہ کفر چھپاتے ہیں اور دنیا طلب کرتے ہیں آیت عام ہے یوم ثقیل سے مراد یوم قیامت ہے اپنی سختیوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے ثقیل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس دن بندوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اس وجہ سے ثقیل ہے۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا کیا اور انکے مفاصل کو مضبوط بنایا اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے انہی کی طرح اور لوگ لے آئیں

نحن خلقنھم وشددا اسرھم۔ ہم نے انہیں مٹی سے پیدا کیا اور ان کی خلقت کو مضبوط کیا، یہ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور مقاتل اور دوسرے علماء نے کہا، اسرکامعنی خلقت ہے، ابوعبید نے کہا، کہا جاتا ہے فرس شدید الاسر یعنی گھوڑے کی خلقت اور جوڑ بڑے مضبوط ہیں کہا جاتا ہے، اسرہ اللہ جل ثناءہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت اور جوڑوں کو مضبوط لیا، اخطل نے کہا، من کل مجتنب شدید اسرہ، سلس القیاد تخالہ مختالا۔ یہ مجتنب (ایساگھوڑا جس کی لگام پکڑ کر آگے چلا جاتا) مضبوط جوڑوں والا اطاعت شعار ہے تو اسے متکبر خیال کرے گا، حضرت ابوہریرہ، حضرت حسن بصری اور ربیع نے کہا، ہم نے ان کے جوڑوں کو رگوں اور پٹھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط کردیا مجاہد نے اسر کی تفسیر میں کہا، اس سے مراد شرج ہے یعنی جب پاخانہ اور پیشاب نکلتا ہے تو مخرج بند ہوجاتا ہے، ابن زید نے کہا، اس کا معنی قوت ہے ابن احمر گھوڑے کی صفت بیان کرتا ہے۔ یمشی باوظفہ شداد اسرھا۔ وہ گھوڑاباریک پنڈلی کے ساتھ چلتا ہے جو پنڈلی بہت مضبوط ہے۔ یہ اسار سے مشتق ہے اس سے مراد چمڑے کی رسی ہے جس کے ساتھ سامان باندھا جاتا ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، اسرت انقتب اسرا۔ یعنی میں نے اسے باندھا کہا جاتا ہے، ما احسن اسر قتبہ، اس کا سامان باندھنا کتنا ہی اچھا ہے۔ عربوں کا قول ہے، خذوباسرہ یعنی یہ سب تیرا ہے گویا انہوں نے اس کے باندھنے کا ارادہ کیا نہ وہ کھلے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز کم ہو، اسی سے ایک لفظ اسیر ہے کیونکہ اسے رسیوں سے باندھا جاتا ہے، یہ کلام نعمتوں کے ساتھ احسان کرنے کے اعتبار سے لائی گئی ہے جب انہوں نے ان کا نافرمانی کے ساتھ مقابلہ کیا، میں نے تیری خلقت کو درست لیا اور اسے قوتوں کے ساتھ مضبوط کیا پھر تو میرے ساتھ کفر کرتا ہے۔ واذا شئنا بدلنا امثالھم تبدیلا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، وہ فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو ہم انہیں ہلاک کردیتے اور ان کی جگہ زیادہ اطاعت شعار لوگوں کو لے آتے انہیں سے یہ بھی مروی ہے ہم ان کے محاسن کو قبیح ترین صورتوں میں بدل دیتے۔ ضحاک نے ان سے اسی طرح روایت کیا ہے پہلی تعبیر ابوصالح نے ان سے روایت کی ہے۔
Ayahs 76:29–30

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصحیت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو بیشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے

ان ھذہ تذکرہ فمن شاء اتخذ۔۔۔ تا۔۔۔۔ الیما۔ ان ھذہ تذکرہ، فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ ھذہ سے مراد سورت ہے تذکرہ سے مراد نصیحت ہے سبیلا سے مراد ایسا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کی طلب تک پہنچا دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے سبیلا سے مراد وسیلہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی سمت اور جنت کی طرف جانے والا راستہ ہے معنی ایک ہے تم طاعت، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ نہیں چاہ سکتے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہے اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی امر اس کے قبضہ قدرت میں ہے لوگوں کے قبضہ قدرت میں نہیں کسی کی مشیت نافذ نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آگے ہوسکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت مقدم ہوتی ہے، ابن کثیر اور ابوعمرو نے ومایشاء ون پڑھا ہے کہ یہ ان کے بارے میں خبر ہے، باقی تاء کے ساتھ پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں خطاب کیا جارہا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے پہلی آیت دوسری آیت کے ساتھ منسوخ ہے زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ ہی ہوتا ہے فراء نے کہا، وماتشاون الاان یشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، فمن یشاء اتخذ الی ربہ سبیلا، کا جواب ہے پھر انہیں خبر دی، امر ان کے ہاتھ میں نہیں ہے یعنی تم یہ راستہ اپنا نہیں سکتے مگر اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں یہ چاہے، اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو جانتا ہے اور تمہیں امرونہی دینے میں حکیم ہے۔ یہ گفتگو کئی مواقع پر گزرچکی ہے۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کیلئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

یدخل من یشاء فی رحمتہ، والظالمین اعدلھم عذاباالیما۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کرتے ہوئے جنت میں داخل فرما دیتا ہے، ظالمون کو عذاب دیتا ہے، ظالمین کو نصب فعل مضمر یعذب سے دی گئی ہے زجاج نے کہا، ظالمین کو نصب دی گئی ہے کیونکہ اس کا ماقبل منصوب ہے یعنی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے اور ظالمین یعنی مشرکوں کو عذاب دیتا ہے۔ اعدلھم یہ فعل مضمر کی تفسیر ہے جس طرح شاعر نے کہا، اصبحت لا احمل السلاح ولا، املک راس البعیر ان نفرا۔ میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں مسلح نہ تھا اور اونٹ کا مالک بھی نہ تھا اگر وہ بھاگ جائے۔ والذئب اخشاہ ان مررت بہ، وحدی واخشی الریاح والمطر۔ میں بھیڑیے سے ڈرتا ہوں اگر میں اس کے پاس سے تنہاگزروں میں ہواؤں اور بارش سے ڈرتا ہوں۔ تقدیر کلام یوں ہوگی اخشی الذئب اخشاہ، زجاج نے کہا، پسندیدہ نصب ہی ہے اگرچہ رفع جائز ہے تو کہتا ہے اعطیت زیداوعمرا عددت لہ برا۔ میں نے زید کو دیا اور عمرو سے نیکی کی، تقدیر کلام یوں ہوگی، بررت عمروا یا ابر عمر۔ حم، عسق، میں آیت گزری ہے، یدخل من یشاء فی رحمتہ، والظالمون۔ جو کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے اور ظالم۔ یہاں الظالمون کو رفع دیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی فعل مذکور نہیں جو اس پر واقع ہو کہ یہ معنوی طور پر منصوب ہوتا، اس سے قبل بھی ایسا کوئی اسم منصوب نہیں تھا جس پر اس کا عطف کیا جاتا تو یہ مبتدا کی حیثیت سے مرفوع ہے، یہاں اللہ تعالیٰ کا فرمان، اعدلھم عذابا ویعذب، فعل پر دلالت کرتا ہے اس وجہ سے نصب جائز ہے، ابان بن عثمان نے الظالمون پڑھا ہے، کہ یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر اعدلھم ہے الیما سے مراد تکلیف دہ دردناک ہے، سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں اس پر بحث گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔