75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 75:24–25

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہونگے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرینگے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے

ووجوہ یومئذ باسرہ۔ تظن ان یفعل بھا فاقرہ۔ یعنی کفار کے چہرے قیامت کے روز تیوری چڑھے ترش ہوں گے، صحاح میں ہے بسرا الفحل الناقۃ وابتسرھا، یعنی نر اونٹ، اونٹنی کی خواہش کے بغیر اس پر جاپڑا۔ وبسرالرجل وجھہ بسورا، آدمی نے تیوری چڑھائی۔ کہا جاتا ہے، عبس وبسر۔ سدی نے کہا، باسرہ یعنی بدلے ہوئے معنی ایک ہی ہے انہیں یقین ہوگا کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک کیا جائے گا، فاقرۃ سے مراد بڑی مصیبت اور عظیم امر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، فقرتہ الفاقرہ۔ مصیبت نے اس کی کمرتوڑ دی مجاہد دوسرے علماء نے یہی معنی بیان کیے ہیں قتادہ نے کہا، فاقرہ کا مطلب مصیبت ہے۔ سدی نے کہا، ہلاکت ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید نے کہا، آگ میں داخل ہونا ہے سب معانی قریب قریب ہے اصل اس کا معنی ہے اونٹ کی ناک پر لوہے یا آگ سے ایسا نشان لگانا جو ہڈی تک جاپہنچے۔ یہ اصمعی نے کہا، کہا جاتا ہے۔ فقرت انف البعیر۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تولو ہے سے اس کی ناک میں سوراخ کرے پھر سوراخ کی جگہ چمڑے سے بنی رسی ڈالے جس پر کمان کی تان لپٹی ہوئی ہو تاکہ اس کے ساتھ تو اونٹ کو مطیع کرے، اسی معنی میں ان کا قول ہے، قد عمل بہ الفاقرہ اس کے ساتھ کمر توڑ سلوک کیا گیا۔ نابغہ نے کہا، وضربۃ فاس فوق راسی فاقرہ۔ میرے سر پر کلہاڑے کی ایسی ضرب لگائی جو ہڈی توڑنے والی تھی۔
Ayah 75:26

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے

کلا اذا بلغت التراقی۔۔ تا۔۔۔ المساق کلا اذا بلغت التراقی۔ کلاجھڑکنے کے لیے ہے۔ یعنی یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے کہ کافر روز قیامت پر ایمان لائے پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا اور فرمایا، جب نفس یا روح ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے جس نفس کا ذکر جاری نہیں تھا اس کی خبر دی کیونکہ مخاطب کو اس کا علم تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ حتی توارت بالحجاب۔ ص) یہاں تک کہ وہ حجاب میں چھپ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : فلولا اذا بلغت الحلقوم۔ الواقعہ) پس تم کیوں نہیں لوٹا دیتے جب روح حلق تک پہنچ جاتی ہے ؟ یہ پہلے بھی گزرچکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلا کا معنی حقا ہے معنی یہ بات ثابت کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جانا ہے، یعنی نفس جب ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے، حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے جب کافر کا نفس ہنسلی کی ہڈی تک جاپہنچے۔ تراقی، ترقوہ کی جمع ہے ان ہڈیوں کو کہت ہیں جو اونٹ ذبح کرنے کی جگہ جمع ہوتی ہیں یہ سینہ سے اوپر اور حلق کے ابتدائی حصہ میں ہوتی ہیں، یہی گھنگرو کی جگہ ہے، درید بن صمہ نے کہا : ورب عظیمۃ دافعت عنھم، وقد بلغت نفوسھم التراقی۔ کتنی ہی عظیم مصیبتیں ہیں جن کو تو نے ان سے دور کیا جب کہ ان کے نفوس ہنسلی کی ہڈی کو پہنچے ہوئے تھے۔ جو آدمی موت کے وقت کو پہنچ چکا ہو اس کے لیے کنایہ کے طور پر نفس کے ہنسلی کی ہڈی تک پہنچنے سے تعبیر کرتے ہیں مقصود یہ ہے کہ انہیں موت کے آنے کے وقت سختی کو یاد کرایاجائے۔
Ayah 75:27

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنیوالا ہے

وقیل من راق۔ اس میں اختلاف کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ رقیہ سے مشتق ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، عکرمہ اور دوسرے علماء سے مروی ہے، ضحاک نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ من یرقی کا معنی ہے ایسا طبیب جو شفا دے، میمون بن مہران نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے معنی ہے کوئی طبیب ہے جو اس کاشفا دے یہ ابوقلابہ اور قتادہ نے کہا، شاعر نے کہا : ھل للفی من بنات الدھر من واق، ام ھل لہ من حمام الموت من راق۔ کیا نوجوان کو مصائب سے بچانے والی کوئی چیز ہے کیا اسے موت سے شفا دینے والا کوئی طبیب ہے۔ یہ بات وہ مایوسی کے طور پر کریں گے یعنی وہ کون ہے جو موت سے شفا دے ؟ حضرت ابن عباس اور ابوجوزاء سے مروی ہے یہ رقی، یرقی سے مشتق ہے جب وہ بلند ہو معنی ہے کون اس کی روح آسمان کی طرف لے جائے گا ؟ کیا رحمت کے فرشتے لے جائیں گے یا عذاب کے فرشتے لے جائیں گے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے موت کافرشتہ کہے گا، اس کی روح کو کون لے جائے گا اس کی وجہ یہ ہے کافر کا نفس ملائکہ کے قرب کو ناپسند کرتا ہے تو موت کافرشتہ کہے گا اے فلاں اسے لے جا۔ عاصم اور ایک جماعت نے من راق کو نون کو اظہار کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور بل ران (المطففین 14) میں لام کو اظہار کے ساتھ پڑھا ہے تاکہ یہ مراق کے مشابہ نہ ہو جس کا معنی شوربہ بیچنے والا اور بران کے مشابہ نہ ہوجائے جو بر کا تثنیہ ہے صحیح اظہار کو چھوڑنا ہے۔ من راق میں قاف کا کسرہ اور بل ران میں نون کا فتحہ التباس کو زائل کرنے کے لیے کافی ہے جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ من اور بل پر وقف کا قصد کرے اور ان میں اظہار کرے، یہ قشیری کا قول ہے۔
Ayah 75:28

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اس (جاں بلب) نے سمجھا کہ اب سے جدائی ہے

وظن انہ الفراق۔ انسان یقین کرلے گا کہ یہ دنیا، اہل، مال اور اولاد کے فراق کا وقت ہے یہ اس وقت ہوگا جب وہ فرشتوں کو دیکھ لے گا، شاعر نے کہا، فراق لیس یشبھہ فراق، قد انقطاع الرجاء عن التلاق۔ ایسا فراق جس کی مثل کوئی فراق نہیں جس میں ملاقات کی امید ختم ہوچکی ہے۔
Ayah 75:29

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

والتفت الساق بالساق۔ ایک شدت دوسری شدت کے ساتھ مل چکی ہے یعنی دنیا کے آخر کے شدت، آخرت کے آغاز کی شدت کے ساتھ مل چکی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے، امام شعبی نے اور دوسرے علماء نے فرمایا، موت کے وقت شدت تکلیف سے انسان کی دونوں پنڈلیاں لپٹ گئیں۔ قتادہ نے کہا، کیا تو نے نہیں دیکھا جب وہ موت کے قریب پہنچتا ہے تو وہ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر مارتا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب اور حضرت حسن بصری نے کہا : یہ انسان کی دو پنڈلیوں ہیں جب انہیں کفن میں لپیٹ دیاجائے۔ زید بن اسلم نے کہا، کفن کی پنڈلی میت کی پنڈلی کے ساتھ چمٹ گئی۔ حضرت حسن بصری نے یہ بھی کہا، اس کے دونوں پاؤں مرگئے اس کی دونوں پنڈلیاں سوکھ گئیں پس وہ اسے نہیں اٹھاتیں جب کہ وہ ان پر خوب گھومتا تھا۔ نحاس نے کہا، پہلاقول ان میں سے سب سے حسین ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے والتفت الساق بالساق۔ کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ دنیاکا آخری دن آخرت کے پہلے دن کے ساتھ لپٹ گیا تو ایک شدت دوسری شدت سے مل گئی مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے یعنی موت کی کرب کی شدت مطلع کی ہولناکی کی شدت سے مل گئی اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، الی ربک یومئذ المساق۔ مجاہد نے کہا، معنی ہے ایک مصیبت دوری مصیبت سے مل گئی، وہ کہتے ہیں اس پر شدائد پے درپے ہوگئیں، ضحاک اور ابن زید نے کہا، اس پر دو شدید امر جمع ہوگئے لوگ اس کے جسم کو تیار کرتے ہیں اور فرشتے اس کی روح کو تیار کرتے ہیں۔ عرب ساق کا لفظ بڑی مصیبت کے لیے استعمال کرتے ہیں اس معنی میں ان کا قول ہے، قامت الدنیا علی ساق، قامت الحرب علی ساق، دنیا بڑی مصیبت پر کھڑی ہے جنگ بڑی مصیبت پر کھڑی ہے شاعر نے کہا : قامت الحرب بنا علی ساق، جنگ نے ہمیں بڑی مصیبت پر کھڑا کردیا ہے۔ یہی معنی سورة قلم کے آخر میں گزرچکا ہے ایک قوم نے کہا کافر کو اس وقت عذاب دیا جاتا ہے جب اس کی روح جسم سے نکلتی ہے یہ پہلی مصیبت ہے پھر اس کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی مصیبت ہوگی۔
Ayah 75:30

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے

الی ربک یومئذ المساق۔ رب سے مراد خالق ہے، یومئذ سے مراد یوم قیامت ہے مساق سے مراد لوٹنا ہے۔ ایک تفسیر میں ہے وہ فرشتہ جو اس کی برائیاں لکھا کرتا تھا وہ اسے ہانکے گا، مساق یہ ساق، یسوق سے مصدر ہے جس طرح مقال یہ قال، یقول کا مصدر ہے۔
Ayah 75:31

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

تو اس (ناعاقبت اندیش نے تو کلام خدا کی) تصدیق کی نہ نماز پڑھی

فلا صدق ولاصلی۔۔۔ تا۔۔۔۔ فاولی۔ فلا صدق ولاصلی : ابوجہل نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضمیر انسان کی طرف لوٹ رہی ہے جو سورت کے آغاز میں ہے وہ اسم جنس ہے پہلاقول حضرت ابن عباس کا ہے یعنی اس نے رسالت کی تصدیق نہ کی اور نہ اپنے رب سے دعا کی اور نہ رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھا، قتادہ نے کہا، نہ کتاب اللہ کی تصدیق کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر نماز پڑھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نہ اپنے مال کا صدقہ دیا تاکہ اللہ کے ہاں ذخیرہ ہوجائے اور نہ ہی وہ نمازیں پڑھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے نہ اپنے دل سے ایمان لایا اور نہ اپنے بدن سے عمل کیا، کسائی نے کہا، لا، لم کے معنی میں ہے لیکن اسے غیر کے ساتھ ملا کر ذکر کیا جاتا ہے عرب کہت ہیں، لاعبداللہ خارج ولا فلاں، نہ عبداللہ نکلا نہ کوئی اور، تو یہ نہیں کہہ سکتا، مررت برجل لامحسن یہاں تک کہ تو ساتھ یہ نہ کہے ولامجمل میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو نہ محسن ہے نہ مجمل۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : فلا اقتحم العقبہ۔ البلد) وہ اس انداز کا نہیں کیونکہ اس کا معنی ہے کیا وہ عقبہ (مشقت) میں داخل نہیں ہوا۔ الف استفہام کو حذف کردیا گیا ہے۔ اخفش نے کہا، فلاصدق کا معنی ہے اس نے تصدیق نہ کی جس طرح فلا اقتحم ہے وہ داخل نہ ہوا۔ اس میں دوسری شئی کو پیچھے لانا شرط نہیں۔ عرب کہتے ہیں، لاذھب وہ نہ گیا، حرف نفی ماضی کی نفی کرتا ہے جس طرح مستقبل کی نفی کرتا ہے، اس معنی میں زہر کا قول ہے : فلا ھو ابد اھا ولم یتقدم، نہ اس نے اس ظاہر کیا اور نہ خود آگے بڑھا۔
Ayahs 75:32–33

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

ولکن کذب وتولی، ثم ذھب الی اھلہ یتمطی۔ اس نے قرآن کو جھٹلایا اور ایمان سے روگردانی کی۔ پھر وہ اس پر فخر کرتے ہوئے تکبر کے انداز میں اپنے گھر چلا گیا یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ مجاہد نے کہا، اس سے مراد ابوجہل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ مطا سے مشتق ہے جس کا معنی پشت ہے معنی ہے وہ اپنی پشت کو دہر کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کی اصل یتمطط ہے یعنی سستی کا اظہار کرنا اور بوجھل ہونا ہے وہ حق کی طرف دعوت دینے والے سے بوجھل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک طاء کو یاء سے بدل دیا کیونکہ ایک ہی جنس کے حرف ہونا پسندیدہ تھا۔ تمطی یہ پرواہ نہ کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ تمدد سے بھی یہی مراد ہے گویا وہ تکبر کی وجہ سے اپنی پشت کو پھیلاتا ہے اور اسے دہرا کرتا ہے۔ مطیطعہ حوض کے نیچے گاڑھے پانی کو کہتے ہیں۔ حدیث میں ہے جب میری امت کمریں دہری کرکے چلے گی اور ایرانی اور رومی اس کے خدمت گزار ہوجائیں تو اس کی آپس میں جنگ شروع ہوجائے گی۔ مطیطاء سے مراد تکبر کرنا اور چلتے وقت ہاتھوں کو پھیلانا ہے۔
Ayahs 75:34–35

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی۔ دھمکی کے بعد دھمکی ہے۔ وعید کے بعد وعید ہے۔ یہ چار چیزوں پر چار وعیدیں ہیں جس طرح روایت کی گئی ہے یہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رب سے جاہل تھا یعنی اس نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق نہ کی میرے سامنے کھڑانہ ہوا کہ نماز پڑھتا بلکہ اس نے میرے رسول کی تکذیب کی اور میرے سامنے نماز پڑھنے سے روگردانی کی، تصدیق کو چھوڑنا ایک خصلت ہے جھٹلانا ایک خصلت ہے نماز چھوڑنا ایک خصلت ہے اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنا ایک خصلت ہے چار چیزوں کو چھوڑنے کی وجہ سے چار وعیدیں آئیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ نہ کہا جائے، اللہ تعالیٰ کا فرمان، ثم ذھب الی اھلہ یتمطی، پانچویں خصلت ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں، یہ خصلت جھٹلانے اور اعراض کرنے سے پہلے بھی موجود تھی تو اس کے بارے میں خبر دی۔ یہ قتادہ کے قول میں واضح ہے جس طرح ہم ذکر کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے رسول اللہ ایک روز مسجد سے نکلے تو مسجد کے دروازے پر آپ کو ابوجہل ملا جو بنی مخزوم کے دروازے کے ساتھ تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک یا دو دفعہ جھٹکا دیا پھر فرمایا، اولی لک فاولی۔ ابوجہل نے آپ سے کہا کیا تو مجھے دھمکاتا ہے ؟ اللہ کی قسم میں اس وادی کے مکینوں میں سے سب سے زیادہ معزز ومحترم ہوں۔ رسول اللہ نے جس طرح ابوجہل سے فرمایا تھا اس اسلوب میں آیت نازل ہوئی، یہ دھمکی کے کلمات ہیں شاعر نے کہا : فاولی ثم اولی ثم اولی، ھل للدر یحلب من مرد۔ ہلاکت ہو، ہلاکت ہو پھر ہلاکت ہو کیا دودھ کو باربار دوہاجاسکتا ہے۔ قتادہ نے کہا : ابوجہل تکبر کرتے ہوئے آیا نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑا فرمایا، اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی۔ اس نے کہا تو اور تیرا رب مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے میں ان دو پہاڑوں کے درمیان سب سے معزز ہوں، جب بدر کا دن آیا تو وہ مسلمانوں کے قریب ہوا کہا، آج کے بعد اللہ کی عبادت کبھی بھی نہ کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کردیا، اور وہ برے طریقے سے قتل ہوا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے تیرے لیے ہلاکت ہے اسی بارے میں خنساء کا شعر ہے : ھممت بنفسی کل الھموم، فاولی لنفسی اولی لھا، ساحمل نفسی علی آلۃ، فاما علیھا واما لھا۔ میں نے اپنے بارے میں ہر قسم کا ارادہ کیا میرے نفس کے لیے ہلاکت ہے اس کے لیے ہلاکت ہے میں اپنے نفس کو ایسی حالت پر مجبور کروں گی، وہ حالت اس کے خلاف ہوگی یا اس کے حق میں ہوگی۔ الالہ کا معنی حالت ہے اور الالۃ کا معنی چار پائی بھی ہے جس پر میت کو اٹھایا جاتا ہے اس تاویل کی بنا پر یہ کہا جائے گا کہ ان کلمات میں سے ہے جن میں قلب کا قاعدہ جاری ہوا گویا کہا گیا، اویل پھر حرف علت کو موخر کیا گیا معنی ہے تیرے لیے زندہ ہونے کی صورت میں ہلاکت ہے، تیرے لیے مردہ ہونے کی صورت میں ہلاکت ہے جس روز تو جہنم میں داخل ہو یہ جانے کے وقت ہلاکت ہے اور تیرے لیے اس روز ہلاکت ہے جس روز تو جہنم میں داخل ہو، یہ تکرار اسی طرح ہے جس طرح کسی نے کہا۔ لک الویلات انک مرجلی۔ تیرے لیے پے درپے ہلاکتیں ہوں تو مجھے آزاد چھوڑنے والا ہے۔ مراد یہ ہے لک الویل ثم الویل۔ یعنی تیرے لیے ہلاکت، پھر ہلاکت اور پھر ہلاکت۔ یہ قول ضعیف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے تیری مذمت اس کے ترک کرنے سے بہتر ہے مگر کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اصمعی نے کہا کلام عرب میں اولی کا لفظ ہلاکت کے قریب ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے گویا وہ کہتا ہے تو ہلاکت کے قریب ہوگیا۔ یہ ولی سے ماخوذ ہے جس کا معنی قرب ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا ایھا الذین آمنو اقاتلوالذین یلونکم من الکفار۔ توبہ 123) اے ایمان والو۔ ان کفار سے تم جنگ کرو جو تمہارے قریب رہتے ہیں۔ اصمعی نے یہ مصرعہ پڑھا، واولی ان یکون لہ الولائ۔ قریب ہے کہ اس کے لیے حکومت ہو، اور اس نے یہ مصرعہ بھی پڑھا۔ اولی لمن ھاجت لہ ان یمکد۔ جس کے دل کا مرض جوش مارنے لگا اس کی ہلاکت کا وقت قریب ہوگیا۔ ابوالعباس ثعلب، اصمعی کے قول کی تحسین کرتا وہ کہتا کوئی آدمی اصمعی کی وضاحت جیسی وضاحت نہیں کرتا۔ نحاس نے کہا : عرب کہتے ہیں اولی لک۔ قریب تھا کہ تو ہلاک ہوجاتا پھر بچ گیا۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے اولی لک واولی لک الھلاکۃ۔ مہدوی نے کہا، تقدیر کلام یہ نہ ہوگی، ولا تکون اولی۔ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہوگی۔ گویا یہ کہا، الوعید اولی لہ من غیرہ کیونکہ ابوزید نے بیان کیا، اولاۃ الان۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ دھمکی دیں۔ علامت تانیث کا اس پر داخل کرنا اس امر پدلیل ہے کہ معاملہ اس طرح نہیں۔ لک خبر ہے اولی مبتداء ہے اولی غیر منصرف ہے کیونکہ یہ وعید کا علم (نام) ہوچکا ہے یہ اس طرح ہے جس طرح کسی کا نام احمد ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں تکرار اس معنی کی بنا پر ہے تجھ پر تیرے پہلے برے عمل، دوسرے، تیسرے اور چوتھے پر لازم کرتا ہو جس طرح یہ پہلے گزرچکا ہے۔
Ayahs 75:36–37

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا

ایحسب الانسان ان یترک سدی۔۔۔ تا۔۔۔۔ الموتی۔ ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گانہ اسے حکم دیا جائے گا نہ اسے نہی کی جائے گی، یہ ابن زید اور مجاہد نے کہا، اسی سے اہل سدی ہے جو اونٹ چرواہے کے بغیر چرتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے قبر میں ہمیشہ کے لیے اس طرح چھوڑ دیا جائے گا اسے دوبارہ نہیں اٹھایاجائے گا۔ شاعر نے کہا : فاقسم باللہ جھد الیمین ما ترک اللہ شیا سدی۔ میں اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو مہمل نہیں چھوڑا۔ الم یک نطفۃ من منی یمنی۔ پانی کا قطرہ جسے رحم میں ٹپکایا جاتا ہے۔ منی کو منٰی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہاں جانور ذبح کیے جاتے ہیں یہ بحث پہلے گزرچکی ہے نطفہ کا معنی تھوڑا پانی ہے کہتے ہیں، نطف الماء، جب وہ قطرہ قطرہ گرے کیا وہ مرد کی پشت اور عورت کی سینے کی ہڈیوں میں قلیل پانی نہ تھا ؟ حفص نے اسے منی یمنی پڑھا ہے۔ ابن محیصن، مجاہد، یعقوب اور عیاش نے ابوعمرو سے یہی روایت نقل کی ہے ابوعبید نے لفظ منی کی وجہ سے یاء کے ساتھ قرات کو اختیار کیا ہے جب کہ باقی قراء نے لفظ نطفہ کی وجہ سے تمنی پڑھا ہے ابوحاتم نے اسے پسند کیا ہے۔
Ayahs 75:38–39

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اسکے اعضاء کو درست کیا)

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

ثم کان علقۃ فخلق فسوی، فعل منہ الزوجین الذکر والانثی۔ نطفہ کے بعد وہ خون تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی بےقدری کو بیان کرنے کے لیے ان چیزوں کا یکے بعد دیگرے ذکر کیا پھر اندازہ لگایا اور اس کی روح رکھ کر مناسب اور موزوں بنادیا پھر اس انسان سے مرد اور عورت بنائے ایک قول یہ کیا گیا ہے، منہ کی ضمیر سے مراد منی ہے۔ جس نے خنثی کو ساقط کرنے کی رائے قائم کی ہے اس نے اس آیت سے استدلال کیا ہے سورة شوری میں یہ بات گزرچکی ہے کہ یہ آیت اور اس جیسی آیات غاب طریقہ کے اعتبار سے ہیں سورة النساء میں بھی اس بارے میں قول گزرچکا ہے میراث والی آیت میں اس کا حکم گزرچکا ہے اس کے دوبارہ اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayah 75:40

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا اس کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟

الیس ذالک بقدر علی ان یحییٰ الموتی۔ کیا وہ ذات پاک جس نے پانی کے ایک قطرہ سے اس انسان کو پیدا کیا ہے وہ ان اجسام کے بوسیدہ ہونے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر قادر نہیں۔ رسول اللہ سے یہ روایت مروی ہے کہ جب آپ اس آیت کی تلاوت کرتے تو زبان سے یہ کلمات پڑھتے، سبحانک اللھم بلی اے اللہ۔ تو ہر عیب سے پاک ہے کیو نہیں تو ایسا کرنے پر قادر ہے۔ حضڑت ابن عباس نے ارشاد فرمایا، جو سبح اسم ربک الاعلی۔ کی قرات کرے وہ امام ہو یا کوئی اور توہ یہ کہے سبحان ربی الاعلی، اور جو سورة القیامہ کی تلاوت کرے وہ امام ہو یا کوئی اور تو وہ سبحانک اللھم بلی، کہے۔ ثعلبی نے یہ ابواسحاق سبیعی سے روایت نقل کی ہے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں۔