Ayahs 74:30–31علیھا تسعۃ عشر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ذکری للبشر
علیھا تسعۃ عشر۔ یعنی سقر پر انیس فرشتے ہیں جو جہنم میں جہنمیوں سے ملاقات کریں گے پھر کہا گیا، مجموعی جہنم پر انیس فرشتے ہیں وہی اس کے خازن ہیں ایک مالک اور باقی اٹھارہ۔ یہ احتمال ہے انیس نقیب ہوں۔ یہ بھی احتمال ہے انیس فرشتے ہوں، اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے ثعلبی نے کہا، اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، جب ایک فرشتہ تمام مخلوق کی ارواح کو قبض کرسکتا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ انیس فرشتے بعض مخلوق کے عذاب پر متعین ہوں ابن جریج نے کہا، نبی کریم ﷺ نے جہنم کی داروغوں کی صفت بیان کی فرمایا، گویا ان کی آنکھیں بجلیاں ہیں، ان کے منہ قلعے ہیں، وہ اپنے بال کھینچتے ہوں گے ان میں سے ایک میں اتنی طاقت ہوگی جتنی جن وانس میں طاقت ہے، ان میں سے ایک پوری امت کو ہانک لے گا، اس کی گردن پر ایک پہاڑ ہوگا وہ ان سب کو آگ میں پھینک دے گا اور ان پر پہاڑ پھینک دے گا۔ میں نے کہا : ابن مبارک نے ذکر کیا کہا حماد بن سلمہ، ازرق بن قیس سے وہ بنی تمیم کے ایک آدمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم ابوعوام کے پاس تھے انہوں نے اس آیت کو پڑھا، وما ادراک ماسقر، لاتبقی ولاتذر، لواحۃ للبشر، علیھاتسعۃ عشر۔ پوچھا یہ انیس کیا ہیں انیس ہزار فرشتے یا انیس فرشتے ؟ میں نے کہا نہیں بلکہ انیس فرشتے پوچھاتونے یہ کہا سے سیکھا ؟ میں نے کہا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے، وماجعلنا عدتھم الافتنۃ اللذین کفروا۔ کہا تو نے سچ کہا وہ انیس فرشتے ہیں ان میں سے ہر ایک فرشتے کے پاس ایک گرز ہوگا جس کی آگے دو شاخیں ہوں گی وہ ایک ضرب لگائے گا تو اس کے ساتھ ستر ہزار افراد کو جہنم میں گرا دے گا۔ حضرت عمر وبن دینار سے مروی ہے، ان میں سے ہر ایک ایک ہی دھکے کے ساتھ ربیعہ اور مضر سے زیادہ افراد کو جہنم میں ڈال دے گا۔
امام ترمذی نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ کچھ یہودیوں نے کچھ صحابہ کرام سے کہا، کیا تمہارا نبی جہنم کے داروغوں کی تعداد کو جانتا ہے ؟ صحابہ نے کہا، جب تک ہم نبی کریم سے نہ پوچھ لیں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے عرض کی اے محمد ﷺ آج آپ کے ساتھ مغلوب ہوگئے پوچھا وہ کیسے مغلوب ہوگئے ؟ اس نے عرض کی یہودیوں نے ان سے سوال کیا، کیا تمہارا نبی جہنم کے داروغوں کو جانتا ہے ؟ رسول اللہ نے پوچھا، صحابہ نے کیا جواب دیا ؟ اس نے عرض کی صحابہ نے کہا ہم کچھ نہیں جانتے یہاں تک کہ ہم اپنے نبی سے سوال کرلیں، فرمایا کیا وہ قوم مغلوب ہوگئی جن سے ایسی بات پوچھی گئی جس کو وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے یہ کہا اسے نہیں جانتے جب تک ہم اس کے بارے میں نبی سے نہ پوچھ لیں ؟ جب کہ انہوں نے تو اپنے نبی سے یہ سوال کیا تھا، ہمیں اللہ تعالیٰ عیاں دکھا، اللہ کے دشمنوں کو میرے پاس لے آؤ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں، جب کہ وہ میدے کی طرح سفید ہے، جب وہ آگئے تو انہوں نے عرض کی، اے ابالقاسم، جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے ؟ فرمایا اتنی اتنی، ایک دفعہ دس انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور دوسری دفعہ نو کے ساتھ۔ انہوں نے کہا، ہاں اتنی ہی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا، جنت کی مٹی کیسی ہے ؟ وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا اے اباالقاسم کیا وہ روٹی جیسی ہے ؟ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا روٹی میدے کی ہے۔ امام ابوعیسی ترمذی نے کہا، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اسی سند سے جانتے ہیں۔ یعنی مجاہد، شعبی سے وہ حضرت جابر سے روایت نقل کرتے ہیں ابن وہب نے ذکر کیا اس نے کہا، عبدالرحمن بن زید نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے جہنم کے داروغوں کے بارے میں فرمایا، ان میں سے ایک کے کندھوں کے درمیان اتنافاصلہ ہوگا جتنا مشرق ومغرب کے درمیان ہوتا ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا ان میں سے ایک کے کندھوں کے درمیان فاصلہ ایک سال کی مسافت ہوگی، ان میں سے ایک کی قوت یہ ہوگی کہ وہ ایک گرز مارے گا تو ایک ہی دفعہ ستر ہزار انسانوں کو جہنم میں پھینک دے گا۔
میں کہتا ہوں کہ انشاء اللہ صحیح یہ ہے کہ یہ انیس سردار اور نقیب ہیں جہاں تک ان کی کل تعداد کا تعلق ہے عبارت اس کے اظہار سے عاجز ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ومایعلم جنود ربک الاھو (مدثر 31) تیرے رب کے لشکروں کو اس ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ صحیح میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اس دن جہنم کو لایاجائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام کیساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس قتادہ اور ضحاک نے کہا، جب علیھا تسعۃ عشر۔ آیت نازل ہوئی ابوجہل نے قریش نے کہا، تمہاری مائیں تم پر روئیں میں ابن ابی کبشہ کو سنتا ہوں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جہنم کے انیس داروغے ہیں جب کہ تمہاری اتنی تعداد اور تم اتنے بہادر ہو کیا تم اس بات سے بھی عاجز ہو کہ تم میں سے دس آدمی ایک کو پکڑلیں۔ سدی نے کہا، ابواسود بن کلدہ تیمی نے کہا، انیس تمہیں پریشان نہ کریں میں اپنے دائیں کندھے سے دس فرشتوں اور اپنے بائیں کندھے سے نوکوروک دوں گا پھر تم جنت میں داخل ہوجانا۔ وہ یہ بات بطور مزاق کے کیا کرتا۔ ایک روایت میں ہے حرث بن کلدہ نے کہا، میں سترہ کو تمہاری جانب سے کافی ہوں، تم میری جانب سے دو کو کافی ہوجانا، ایک قول یہ کیا گیا کہ ابوجہل نے کہا تھا، کیا تم میں سے سو عاجز ہیں کہ ان میں سے ایک کو پکڑ لیں پھر تم جہنم سے نکل جاؤ، تو یہ آیت نازل ہوئی، وماجعلنااصحاب النار الاملئکۃ، یعنی ہم نے انہیں انسان نہیں بنایا کہ تم ان پر غلبہ پاسکو، ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں فرشتے اس لیے بنایا کیونکہ وہ جن وانس کے خلاف ہو جنہیں عذاب دیاجانے والا ہے تو انہیں وہ چیز اپنی گرفت میں نہ لے گی جو شفقت اور رحمت ہم جنس کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، وہ داروغے جہنمیوں کے لیے راحت طلب نہیں کریں گے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بجالانے والے اور اس کے لیے غضب ناک ہونے والی سب سے قوی مخلوق ہے کہ ان کی نرمی فائدہ دے۔ ایک اور وجہ یہ ہے وہ پکڑا اور قت کے لحاظ سے سب قوی مخلوق ہے، وماجعلنا عدتھم الافتنۃ، کا معنی آزمائش ہے، حضرت ابن عباس سے کئی سندوں سے مروی ہے، ہم نے اس تعداد کو کافروں کے لیے گمراہی بنادیا ہے، اس سے مراد ابوجہل اور اس کے ساتھی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فتنہ سے مراد عذاب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم ھم علی النار یفتنون، ذوقوا فتنتکم، اس روز انہیں آگ پر عذاب دیا جائے گا، تم اپنے عذاب کو چکھو۔ (الذاریات) یعنی ہم نے اسے ان کے کفر اور عذاب کا سبب بنادیا۔
تسعۃ عشر۔ میں سات قرائتیں ہیں عام قرات تسعۃ عشر ہے، ابوجعفر بن قعقاع اور طلحہ بن سلیمان نے عین کو ساکن کرتے ہوئے تسعۃ عشر پڑھا ہے، حضرت ابن عباس سے تسعۃ عشر منقول ہے تا کے ضمہ کے ساتھ۔ حضرت انس بن مالک سے تسعۃُ وعشرُ ، تا اور شین کے ضمہ کے ساتھ منقول ہے، مہدوی نے اسے ذکر کیا ہے۔ جس نے تسعۃ َعشر پڑھا ہے وہ اسے ترکیب سے قبل اصل پر لایا ہے اور عشر کو تسعۃ پر معطوف کیا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے تنوین کو حذف کردیا ہے اور عشر کی راء کو سکوت کے کے ارادہ سے ساکن پڑھا ہے، جس نے تسعۃُعشر پڑھا ہے گویا یہ تداخل سے ہے گویا اس نے عطف کا ارادہ کیا اور ترکیب کو ترک کردیا۔ تسعۃ اعشر یہ قراءت معروف نہیں۔ ابوحاتم نے اس قرات کا انکار کیا ہے اسی طرح تسعۃ وعشر، عین کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ کیونکہ یہ بھی تسعۃ عشر پر محمول ہے واؤ ہمزہ کا بدل ہے۔ نحویوں کے نزدیک اس کی کوئی وجہ نہیں۔ زمحشری نے کہا، اسے تسعۃ اعشر پڑھا گیا ہے اعشر، عشیر کی جمع ہے جس طرح یمین کی جمع ایمن آتی ہے۔
لیستیقن الذین اوتوالکتاب۔ تاکہ جنہین تورات اور انجیل دی گئی ہے انہیں یقین ہوجائے کہ جہنم کے داروغوں کی جو تعداد ذکر کی گئی ہے وہ اس کے موافق ہے جوان کے پاس تعداد مذکور ہے، یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، ضحاک، مجاہد اور دوسرے لوگوں کا قول ہے، پھر یہ احتمال ہے کہ اہل کتاب میں سے مومن مراد ہیں حضرت عبداللہ بن سلما، یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے سب مراد ہیں، ویزدادالذین آمنوا ایمانا۔ اور اس لیے تاکہ اس پر ایمان رکھنے والوں کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ جب بھی انہوں نے کتاب اللہ میں موجود چیزوں کی تصدیق کی وہ ایمان الئے پھر جب انہوں نے جہنم کے دارغوں کی تعداد کی تصدیق کی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ ولایرتاب الذین اوتوالکتاب والمومنون اہل کتاب اور رسول اللہ کے صحابہ اس بات میں شک نہیں کرتے کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد انیس ہے، ولیقول الذین فی قلوبھم مرض یعنی اہل مدینہ کے منافقوں کے سینوں میں شک اور نفاق ہے جو ہجرت کے بعد آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونے والے تھے مکہ مکرمہ میں کوئی نفاق نہیں تھا، مدینہ طیبہ میں ظاہر ہوا تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی یہ ہے تاکہ وہ منافق کہیں جو آئندہ زمانہ میں ہجرت کے بعد ظاہر ہونے والے تھے۔ والکافرون سے مراد یہودونصاری ہیں، ماذا ارادہ اللہ بھذا مثلا، یعنی جہنم کے داروغوں کی تعداد سے اللہ تعالیٰ نے کیا ارادہ کیا ہے۔ حسین بن فضل نے کہا، سورت مکی ہے اور مکہ مکرمہ میں نفاق نہیں تھا، اس آیت میں مرض سے مراد اختلاف ہے اور کفار سے مراد عرب کے مشرک ہیں، اکثر مفسرین کی رائے پہلے قول کے موافق ہے۔ یہ بھی جائز ہے، مرض سے مراد شک اور ارتیاب ہے کیونکہ اہل مکہ میں سے اکثر شک کرنے والے تھے، بعض قطعی طور پر جھٹلاتے تھے اللہ تعالیٰ انہیں کے بارے میں خبردیتا ہے، ماذا اراد اللہ بھذا۔ وہ عدد جو بطور حکایت ذکر کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے کس چیز کا ارادہ کیا ہے یعنی یہ کیسی حکایت ہے۔ لیث نے کہا، مثل کا معنی حکایت ہے اس معنی میں مثل الجنۃ التی وعد المتقون (رعد 35) اس جنت کی کیفیت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے۔
کذالک یضل اللہ من یشاء ویھدی من یشاء۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے داروغوں کے بارے میں جس طرح ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو گمراہ کیا جس کو چاہتا ہے، رسوا کرتا ہے اور اندھا بنا دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے جس طرح حضرت محمد ﷺ نے صحابہ کو ہدایت عطا فرمائی ایک قول یہ کیا گیا ہے جسے چاہتا ہے جنت سے گمراہ کردیتا ہے اور جس کے بارے میں چاہتا ہے اسے راہنمائی کردیتا ہے۔
ومایعلم جنود ربک الاھو۔ اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کو عذاب دینے کے لیے جنہیں پیدا کیا اسکے سوا کئی نہیں جانتا۔ یہ ابوجہل کے جواب میں کلام کی گئی جس نے یہ کہا تھا، جہاں تک محمد کے لشکروں کا تعلق ہے وہ انیس ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم فرما رہے تھے تو حضرت جبرائیل امین حاضر ہوئے اور آپ کے پاس بیٹھ گئے ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا، تیرا رب تجھے یہ حکم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خوف ہوا کہ یہ کہیں شیطان ہی نہ ہو فرمایا، اے جربائیل کیا تو اسے پہچانتا ہے ؟ حضرت جبرائیل نے عرض کی، یہ فرشتہ ہے۔ میں تیرے رب کے تمام فرشتوں کو نہیں پہچانتا۔ اوزاعی نے کہا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے رب، آسمان میں کون ہے ؟ فرمایا میرے فرشتے۔ عرض کی، اے میرے رب ان کی تعداد کتنی ہے ؟ فرمایا بارہ سبط۔ عرض کی ہر سبط کی کا تعداد ہے ؟ فرمایا مٹی کے برابر، ثعلبی نے یہ دونوں قول ذکر کیے ہیں۔ ترمذی شریف میں نبی کریم سے مروی ہے، آسمان آواز نکالنے لگا اس کو زیبا یہی ہے کہ وہ آواز نکالے اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی جگہ نہیں مگر ایک فرشتہ سجدہ کی حالت میں اپنی پیشانی رکھے ہوئے ہے۔
وماھی الاذکری للبشر۔ ذکری سے مراد دلائل، حجتیں، اور قرآن ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ماھی سے مراد وہ آگ ہے جو سقر ہے۔ یعنی وہ آگ مخلوقات کے لیے نصیحت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، دنیا کی آگ آخرت کی آگ کو یاد کرانے والی ہے۔ یہ زجاج نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ تعداد نہیں مگر انسانوں کے لیے نصیحت ہے، یعنی وہ نصیحت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو جانیں وہ اعوان وانصار کا محتاج نہیں۔ اس صورت میں وماھی کی ضمیر جنود کی طرف لوٹے گی کیونکہ قریب وہی مذکور ہے۔
Ayah 74:32کلا والقمر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ الشافعین۔
کلاوالقمر۔ فراء نے کہا، کلا، قسم کا صلہ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ای والقمر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے حقا والقمر۔ ان دونوں تقدیروں کی بنا پر کلا پر وقف نہیں ہوگا۔ طبری نے کہا اس پر وقف جائز ہے اور اسے ان لوگوں کا رد بنایا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ جہنم کے داروغوں کا مقابلہ کرسکیں گے یعنی معاملہ اس طرح ہمیں جس طرح وہ آدمی گمان کرتا ہے کہ وہ جہنم کے داروغوں کا مقابلہ کرلے گا، پھر اس امر کو ثابت کرنے کے لیے جاندار اور مابعد کی مذکور چیزوں کی قسم اٹھائی ہے۔
Ayahs 74:33–34والیل اذا ادبر۔ یعنی جب رات پھرے اس طرح دبر کا معنی بھی یہی ہے۔ نافع، حمزہ اور حفص نے اذادبر قرات کی جب کہ باقی قراء نے اذادبر قراءت کی یعنی اذا الف کے ساتھ اور دبرالف کے بغیر ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں کہا جاتا ہے، دَبَر، ادبر اسی طرح قبل اللیل واقبل، عربوں نے کہا، امس الدابر والمدبر۔ صخر بن عمرو بن شرید سلمی نے کہا، ولقد قتلناکم ثناء وموحدا، وترکت مرۃ مثل امس الدابر۔ تحقیق ہم نے تمہیں دو اور ایک ایک قتل کیا اور میں نے مرہ کو گزشتہ کل کی طرح چھوڑا۔ شعر میں دابر کی جگہ مدبر بھی روایت کیا گیا ہے۔ یہ فراء اور اخفش کا قول ہے بعض اہل لغت نے کہا، دبر للیل جب وہ گزرجائے اور ادبر یعنی وہ پلٹنے لگی مجاہد نے کہا، میں نے حضرت ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے فرمان واللیل اذا ادبر کے بارے میں پوچھا تو آپ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ وہ پلٹنے لگی، فرمایا، اے مجاہد یہ وہ وقت ہے جب رات پلٹتی ہے محمد بن سمیقع نے واللیل اذا ادبر دونوں الفوں کے ساتھ اسے پڑھا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابی بن کعب کے صحیفوں میں اسی طرح ہے۔ قطرب نے کہا، جس نے دبر پڑھا تو وہ اس کا معنی اقبل لے گا۔ یہ عربوں کے قول دبرفلان سے ماخوذ ہے۔ جب وہ تیرے پیچھے سے آئے، ابوعمرو نے کہا، یہ قریش کی لغت ہے، حضرت ابن عباس سے ایک روایت مروی ہے جس میں ہے، صحیح ادبر ہے کیونکہ وہ اونٹ کی پشت کو زخمی کرتی ہے۔ ابوعبید نے اذا ادبر کو پسند کیا ہے کیونکہ یہ مابعد حروف کے زیادہ موافق ہے کیا تو نے اسے یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا، والصبح اذا اسفر۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک جگہ اذ ہو اور دوسری جگہ اذا ہو، قرآن حکیم میں کوئی ایسی قسم نہیں جس کے بعد اذ ہو قسم کے بعد اذا ہوتا ہے۔ اسفر کا معنی روشن ہونا ہے عام قرات اسفر الف کے ساتھ ہے ابن سمیقع نے سفر پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں یہ کہا جاتا ہے، سفر وجہ فلان واسفر، یہ اس وقت بولتے ہیں جب چہرہ روشن ہوجائے، حدیث طیبہ میں ہے اسفروابالفجر فجر کو خوب روشن کرو کیونکہ یہ عظیم اجر کا باعث ہوتا ہے، مراد یہ ہے صبح کی نماز خوب روشن کرکے پڑھو، ایک قول یہ کیا جاتا ہے، اسے صبح کے روشن ہونے تک لمبا کرو اسفار کا معنی روشن کرنا ہے، اسفر وجھہ، حسنا اس کا چہرہ حسن کی وجہ سے روشن ہوا، سفرت المراۃ یعنی عورت نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دیا، اس سے اسم فاعل سافر آتا ہے، یہ بھی جائز ہے کہ یہ سفرالظلام سے ماخوذ ہو، یعنی اس نے تاریکی کو دور کیا جس طرح بولتے ہیں سفرالبیت، یعنی گھر میں جھاڑو دیا جاتا ہے، اسی سی سفیر ہے سفیس اسے کہتے ہیں کو درخت کے پتوں میں سے گرے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے، اسے سفیر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہوا اسے اڑا لے جاتی ہے مسفرہ کا معنی جھاڑو ہے۔
Ayah 74:35انھالاحدی الکبر۔ یہ جواب قسم ہے۔ یعنی یہ جہنم کی اغ بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے۔ مقاتل کی تفسیر میں ہے، الکبر جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے، ان کا حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانا گناہ کبیرہ میں سے ایک ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے قیامت کا برپا ہونابڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، الکبر عذابوں میں سے بڑے عذاب کو کہتے ہیں، راجز نے کہا، یا بن المعلی نزلت احدی الکبر، داھیۃ الدھر وصماء الغبر۔ اے ابن معلی ایک بڑی مصیبت نازل ہوئی جو زمانے کی مصیبتوں میں سے بڑی ہے۔ کبر کا واحد کبری ہے۔ جس طرح صغر کا واحد صغری ہے اسی طرح عظم اور عظمی ہے عام قراء نے لاحدی پڑھا ہے، یہ ایسا اسم ہے جو ابتداء تانیث کے لیے وضع کیا گیا ہے، یہ مذکر پر مبنی نہیں، جس طرح عقبی اور اخری ہے اس کا الف قطعی ہے یہ وصل کی صورت میں بھی نہیں گرتا، جریر بن حازم نے ابن کثیر نے انھالاحدی الکبر، روایت کیا ہے یعنی ہمزہ کو حذف کردیا۔
Ayah 74:36نذیراللبشر۔ یعنی اس صفت سے موصوف آگ لوگوں کو خبردار کرنے والی ہے۔ نذیرا، انھا کی ضمیر سے حال ہے، یہ زجاج کا قول ہے، نذیرا کو مذکر ذکر کیا ہے، کیونکہ اس کا معنی عذاب ہے، یا یہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ذات انذار، جس طرح ان امثلہ میں اسم فاعل نسبت کے معنی میں ہے، امراۃ طالق واطاہر۔ خلیل نے کہا، نذیر مصدر ہے جس طرح نکیر مصدر ہے اسی وجہ سے اس کے ساتھ اسم مونث کی صفت ذکر کردی جاتی ہے حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اس سے زیادہ خوفناک چیز کے ساتھ نہیں ڈرایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، نذیر سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ کی ذات ہے، معنی یہ ہوگا، لوگوں کو ڈرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، نذیرا، ثم میں پوشیدہ ضمیر سے حال ہے، جو قم فعل سورت کے آغاز میں ہے، ارشاد فرمایا، قم فانذر، ابوعلی فارسی اور ابن زید نے یہ کہا، حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فراء نے اس کا انکار کیا ابن انباری نے کہا، بعض مفسری نے کہا، اس کا معنی ہے اے چادر اوڑھنے والے۔ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اٹھیے۔ یہ تعبیر پسندیدہ نہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان کلام بہت طویل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، ابومعاویہ ضریر نے روایت کی ہے اسماعیل بن سمیع نے ابورزین سے روایت نقل کی ہے کہ نذیراللبشر۔ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمہیں اس سے خبردار کرنے والا ہوں اس سے ڈرو، اس صورت میں نذیرا حال ہوگا، یعنی ہم نے جہنم کے داروغے نہیں بنائے مگر فرشتے اس حال میں کہ اس کے ساتھ انسانوں کو خبردار کرے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ھو سے حال ہے، جو اللہ تعایل کے اس ارشاد میں ہے، ومایعلم جنود ربک الاھو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مصدر کی جگہ واقع ہے گویا یہ فرمایا، انذارللبشر۔ فراء نے کہا، یہ بھی جائز ہے کہ نذیرا، انذار کے معنی میں ہو تقدیر کلام یہ ہوگی، انذرانذارا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، فکیف کان نذیر، یعنی میرا ڈرانا کیسا ہے ؟ اس صورت میں یہ سورت کے آغاز کی طرف راجع ہوگی، تقدیر کلام یہ ہوگی قم فانذر انذارا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ مضمر فعل کی وجہ سے منصوب ہے، ابن ابی عبلہ نے نذیر کو مرفوع پڑھا ہے، اس صورت میں ھو ضمیر مضمر ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ قرآن انسانوں کو خبردار کرنے والا ہے کیونکہ یہ اپنے اندر وعدہ اور وعید کو لیے ہوئے ہے۔
Ayah 74:37لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر۔ لام تعلیل نذیرا کے ساتھ متعلق ہے یعنی یہ خبردار کرنے والا ہے اسے بھی جو خیر اور طاعت کی طرف آگے بڑھے یاشر اور معصیت کے لیے پیچھے ہٹے، اس کی مثل ولقد علمنا المستقدمین منکم والقد علمنا المستاخرین۔ حجر) ہے تحقیق ہم نے تم میں سے خیر کی طرف آگے بڑھنے والوں کو بھی جان لیا، اور تم میں سے جو اس سے پیچھے رہنے والے ہیں ابھی جان لیا، حضرت حسن بصری نے کہا، یہ وعید اور دھمکی ہے اگرچہ خبر کے انداز میں بیان کی گئی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ کہف 29) جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے بعض اہل تاویل نے یہ تعبیر کی ہے اس کا معنی ہے جس کے حق میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور پیچھے رہے، مشیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہے یہاں تقدیم سے مراد ایمان اور تاخیر سے مراد کفر ہے۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے، یہ دھمکی اور آگاہی ہے کہ جو آدمی حضرت محمد ﷺ پر ایمان اور آپ کی اطاعت کی طرف بڑھا اسے ایسا بدلہ دیا جائے گا جو ختم نہ ہوگا اور جو طاعت سے پیچھے رہا اور حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا اسے ایسا عذاب دیا جائے گا کہ جو ختم نہ ہوگا، سدی نے کہا، اس سے مراد ہے، جو مذکورہ آگ کی طرف آگے بڑھایا جنت کی طرف جانے کے لیے اس سے پیچھے ہٹا۔
Ayah 74:38کل نفس بما کسبت رھینہ۔ ہر نفس اپنی کمائی کے بدلہ میں رھن رکھا گیا ہے، اور اپنے عمل کے بدلے میں ماخوذ ہے، یا تو اس کا عمل اس سے چھٹکارا دلائے گا، یا اسے ہلاک کرے گا، رھینہ، رھین کی مونث ہے کیونکہ نفس مونث ہے کیونکہ اس کی صفت کا قصد کیا جاتا تورھین ہوگا۔ کیونکہ فعیل کا وزن جب اسم مفعول کا معنی دے تو اس میں مذکر اور مونث برابر ہوتے ہیں بلکہ یہ رہن کے معنی میں اسم ہے، جس طرح شتیبہ، شتم کے معنی میں ہے گویا کلام یوں کی گئی ہے کل نفس بماکسبت رھین۔ اس معنی میں حماسہ کا شعر ہے۔ ابعدالذی بالنعف نعف کو یکب، رھینہ رمس ذی تراب وجندل۔ گویا رھین، رمیس کہا، معنی یہ ہوگا ہر نفس اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے اعمال کے بدلہ میں رہن رکھا گیا ہے اسے آزادی نہیں۔
Ayah 74:39الا اصحاب الیمین۔ وہ اپنے گناہوں کے عوض رہن رکھے گئے، اصحاب الیمین کی تعین میں اختلاف ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا، اس سے مراد فرشتے ہیں حضرت علی شیر خدا نے فرمایا، مسلمان کی اولادیں مراد ہیں جنہوں نے کوئی عمل نہ کیا، وہ عمل کے بدلے رہن رکھے جاتے ہیں ضحاک نے کہا، اس سے مراد وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے جن کے لیے حسنی مقرر ہوچکی ہے۔ اسی کی مثل ابن جریج سے مروی ہے ہر نفس کوا سکے عمل کے بدلے میں محاسبہ ہوگا مگر اصحاب یمین وہ جنتی لوگ ہیں ان کا محاسبہ نہیں ہوگا، مقاتل نے بھی اسی طرح کی گفتگو کی ہے اس سے مراد وہ جنتی ہیں جو یوم میثاق کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی دائیں طرف تھے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا، یہ جنت میں ہیں، مجھے ان کی کوئی پر اوہ نہیں۔ حضرت حسن بصری اور ابن کیسان نے کہا، یہ مخلص مومن ہیں ان کو رہن نہیں رکھا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے فرائض ادا کردیے ابوظبیان نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد مسلمان ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد اصحاب حق اور اہل ایمان ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو ان کی کتابیں ان کے دائیں ہاتھ میں دی گئیں ابوجعفر باقر نے کہا، ہم اور ہمارے حمایتی اصحاب یمین ہیں اور جس نے بھی ہم اہل بیت سے بغض رکھا وہ رہن رکھے گئے ہیں حکم نے کہا، وہ لوگ اللہ تعالیٰ نے جنہیں اپنی خدمت کے لیے چن لیا وہ رہن میں داخل نہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خادم ہیں اور چنے ہوئے ہیں ان کا عمل انہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔ قاسم نے کہا، ہر نفس کا خیر اور شر کے بدلے میں مواخذہ ہوگا مگر جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت پر اعتماد کرے نہ کہ اپنے عمل اور خدمت پر اعتماد کرے جس نے بھی اپنے عمل پر اعتماد کیا وہی رہن رکھا گیا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے فضل پر اعتماد کیا وہ ماخوذ نہیں ہوگا۔
Ayahs 74:40–42فی جنت یتساء لون، عن المجرمین۔ ماسلکم فی سقر۔ جنت سے مراد باغات ہیں، یتساء لون، یسالون کے معنی میں ہے، یعنی جنتی مشرکوں سے سوال کریں گے کس چیز نے تمہیں جہنم میں داخل کیا ہے ؟ جس طرح تو کہتا سلکت الخیط فی کذا، یعنی میں نے اس میں دھاگا داخل کردیا، کلبی نے کہا، جنتی جہنمی سے اس کا نام لے کر سوال کرے گا وہ اسے کہے گا، اے فلان، حضرت عبداللہ بن زبیر کی قرات میں ہے اے فلاں تجھے کس چیز نے جہنم میں داخل کیا ؟ کلبی سے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے یوں قرات کی، یا فلان ماسلکم فی سقر۔ یہ قرات آیت کی تفسیر بیان کرنے کے طریقہ پر ہے۔ یہ قرآن حکیم کا حصہ نہیں جس طرح وہ لوگ گمان کرتے ہیں جو قرآن حکیم پر طعن کرت ہیں یہ ابوبکر بن اباری کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مومن فرشتوں سے اپنے قریبی رشتہ داروں کے بارے میں پوچھیں گے اور فرشتے مشرکوں سے پوچھیں گے انہیں کہیں گے تمہیں جہنم میں کس چیز نے داخل کیا ؟ فراء نے کہا، اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اصحاب یمین سے مراد بچے ہیں کیونکہ وہ گناہوں کو نہیں جانتے۔
Ayahs 74:43–45قالو لم نک من المصلین، ولم نک نطعم المسکین، وکنا نخوض مع الخائضین۔ جہنمیوں نے کہا، ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے ہم صدقہ نہیں کرتے تھے اور ہم اہل باطل کے ساتھ ان کے باطل میں شامل ہوجایا کرتے تھے ابن زید نے کہا، ہم حضرت محمد کے مسئلہ میں ہرزہ سرائی کرنے والوں کے ساتھ ہرزہ سرائی کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے وہ یہ کہتے : وہ کاہن، مجنون، شاعر اور جادوگر ہے۔ سدی نے کہا ہم جھٹلانے والوں کے ساتھ مل کر جھٹلایا کرتے تھے۔ قتادہ نے کہا جب بھی کوئی گمراہ گمراہوں جیسا عمل کرتا ہے ہم بھی اس کے ساتھ اس عمل میں شریک ہوجاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ ہم تو پیروکار تھے ہم پیشوا نہیں تھے۔
Ayahs 74:46–47وکنا نکذب بیوم الدین، حتی اتناالیقین۔ ہم یوم قیامت یعنی یوم جزا کو جھٹلا تھے تھے یہاں تک کہ ہم پر موت واقع ہوگئی اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، واعبد ربک حتی یاتیک الیقین۔ الحجر) اپنے رب کی عبادت کریہاں تک کہ تجھے موت آجائے۔
Ayah 74:48فماتنفعھم شفاعۃ الشافعین۔ یہ گناہ گاروں کے حق میں شفاعت کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل توحید میں سے کچھ لوگوں کو گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا پھر ان کی شفاعت کی جائے گی اللہ تعالیٰ ان کے موحد ہونے اور شفاعت کی وجہ سے ان پر رحم فرمائے گا اور انہیں جہنم سے نکال دے گا۔ کفار کو کوئی شفیع نہیں ہوگا، جوان کے بارے میں شفاعت کرے، حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا، تمہارے نبی چار میں سے چوتھے نمبر پر شفاعت کریں گے۔ حضرت جبرائیل امین پھر حضرت ابراہیم پھر حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) پھر تمہارے نبی ﷺ پھر ملائکہ، پھر انبیاء، پھر صدیق پھر شہدائ، ایک قوم جہنم میں رہ جائے گی تو انہیں کہا جائے گا تمہیں کس چیز نے جہنم میں داخل کیا ؟ تو وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا، یہی لوگ جہنم میں رہ جائیں گے ہم نے اس کی سند کتاب التذکرہ میں ذکر کی ہے۔
Ayah 74:49فمالھم عن التذکرۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ یخافون الاخرۃ۔
فمالھم عن التذکرۃ معرضین۔ اہل مکہ کو کیا ہوگیا ہے انہوں نے اس چیز سے اعراض کیا اور منہ پھیرلیا جو آپ لائے تھے مقاتل کی تفسیر میں ہے قرآن حکیم سے اعراض دو طریقوں سے ہوتا ہے۔ (1) انکار (2) اس کے حکم پر عمل کو چھوڑ دینا۔ معرضین، لھم میں ھم ضمیر سے حال ہے اور اس کے لام میں فعل کا معنی پایا جاتا ہے حال کو نصب فعل کے معنی کی وجہ سے ہے۔
Ayah 74:50کانھم حمر مستنفرہ۔ گویا یہ کفار حضرت محمد ﷺ سے بھاگنے میں بدکے ہوئے گدھے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد وحشی گدھے ہیں نافع اور ابن عامر نے فاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، منفرۃ پڑھا ہے۔ ابوعبید اور ابوحاتم نے اسی قرات کو پسند کیا ہے جب کہ باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، جس کا معنی کافرہ ہے، کہا جاتا ہے، نفرت، استنفرت دونوں ہم معنی ہیں، جس طرح عجبت، استعجبت اور سخرت، استخرت ہے، فراء نے یہ شعر پڑھا ہے۔ امسک حمارک انہ مستنفرۃ فی اثر احمرۃ عمدن لغرب۔ اپنے گدھے کو روکو وہ گدھوں کے پیچھے بھاگا جارہا ہے، جنہوں غرب (جگہ کا نام) کا قصد کیا۔
Ayah 74:51فرت من قسورۃ۔ وہ ان تیراندازوں سے بھاگے جارہے ہیں جو انہیں تیر مارتے ہیں اہل لغت میں سے ایک نے کہا، قسورۃ کا معنی تیرانداز ہے اس کی جمع ق سورة ہے۔ سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ضحاک اور ابن کیسان نے کہا : ق سورة سے مراد تیر انداز اور شکاری ہیں۔ عطاء، حضرت ابن عباس اور ابوظبیان (ابوحیان) حضرت ابوموسی اشعری سے روایت نقل کرتے ہیں، اس سے مراد شیر ہے، یہی قول حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس کا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا، ق سورة کا معنی غلبہ ہے شیر، درندوں پر غالب آجاتا ہے اور وحشی گدھے درندوں سے دور بھاگتے ہیں ابوحمزہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہا، میں عربوں میں سے کسی کی لغت میں بھی ق سورة کا معنی شیر نہیں جانتا کہیں یہ لوگوں کی جماعتیں ہیں کہا، ق سورة سے مراد بہاروں کی جماعتیں ہیں اور یہ شعر پڑھا۔ یابنت کونی خیرہ لغیرہ، اخوالھا الجن واھل القسورۃ۔ اے بیٹی خیرہ، کے لیے اچھی صفات والی ہوجا اس کے ننہال جن اور بڑی جماعتوں والے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی لوگوں کی آوازیں ہیں انہیں سے ایک قول یہ بھی مروی ہے، فرت من ق سورة یعنی وہ شکاریوں کی چالوں سے بھاگے ہوئے ہیں انہیں سے ایک قول یہ بھی مروی ہے۔ عربوں کی زبان میں ق سورة سے مراد شیر اور حبشیوں کی زبان میں تیر انداز، ایرانیوں کی زبان میں شیر اور نبطیوں کی زبان میں اریا ہے، ابن اعرابی نے کہا، ق سورة سے مراد رات کا پہلا حصہ ہے یعنی وہ رات کی تاریکی سے بھاگے ہوئے ہیں۔ عکرمہ نے بھی یہی قول کیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، رات کی سیاہی کا پہلاحصہ ق سورة یکبلاتا ہے اور رات کی سیاہی کے آخری حصہ کو ق سورة اور قسور کہتے ہیں لبید بن ربیعہ نے کہا، اذا ھتفنا ھتفۃ فی ندینا، اتانا الرجال العائدون القس اور۔ جب ہم نے اپنی مجلس میں آواز دی تو ہمارے پاس طاقتور لوگ آئے۔
Ayah 74:52بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرہ۔ یعنی انہیں کھلی کتاب دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوجہل اور قریش کی ایک جماعت نے کہا، اے محمد ﷺ ہم میں سے ہر ایک پاس رب العالمین کی جانب سے ایک مکتوب لے آ جس میں یہ لکھا ہوا ہے، میں نے حضرت محمد ﷺ کو تمہاری طرف بھیجا ہے، اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتابا نقروہ۔ الاسرائ 93) ہم تیرے آسمان پر جانے کو تسلیم نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہم پر کتاب نازل کرے جسے ہم پڑھیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ کہا کرتے تھے اگر محمد سچے ہیں تو وہ صبح کے وقت ہم میں سے ہر کسی کے پاس ایک صحیفہ لے آئیں جس میں اس کے جہنم سے بری ہونے اور اس سے محفوظ ہونے کا ذکر ہو۔ مطروراق نے کہا، انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ انہیں بغیر عمل کے یہ چیز دے دی جائے، کلبی نے کہا، مشرکوں نے کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کے پاس صبح کے وقت اس کے سرہانے اس کا گناہ اور کفارہ لکھا ہوتا تھا ہمارے پاس اس کی مثل لاؤمجاہد نے کہا، انہوں نے ارادہ کیا ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک کتاب ہو جس میں یہ تحریر ہوفلاں بن فلاں، کے نام خط ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی یہ ہے اس کا ذکر جمیل کیا جائے تو صحیفے ذکر کی جگہ مجازا رکھے گئے انہوں نے کہا، جب انسان کے گناہ اس پر لکھے جاتے ہیں تو کیا وجہ ہے ہم اسے نہیں دیکھتے۔
Ayah 74:53کلا، بل یخافون الاخرۃ۔ ایساہرگز نہیں، ایک قول یہ کیا گیا، اس کا معنی حقا ہے یعنی یقینا ایسا ہے، جب کہ پہلا معنی زیادہ عمدہ ہے کیونکہ اس میں ان کے قول کا رد ہے، یعنی جن کی وہ تمنا کرتے ہیں میں انہیں عطا نہیں کروں گا کیونکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی وجہ سے دھوکہ میں مبتلا ہیں۔ سعید بن جبیرہ نے صحفا منشرہ۔ پڑھا ہے جہاں تک کہ حاء کو ساکن پڑھنے کا تعلق ہے تو اس میں تخفیف ہے جہاں تک نون کو ساکن پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ شاذ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے، نشرت الثوب وشبھہ، انشرت کے الفاظ نہیں کہے جاتے، یہ بھی جائز ہے کہ صحیفہ کو میت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو گویا وہ لپیٹ دینے کی صورت میں مردہ ہے اور جب اسے پھیلایا گیا تو وہ زندہ ہوگیا، یہ جملہ بھی بولا گیا، انشر اللہ المیت۔ جس طرح میت کو زندہ کرنے کو کپڑا پھیلانے سے تشبیہ دی گئی اس بارے میں یہ جملہ بھی بولا گیا، نشرا للہ المیت پس یہ بھی اس میں ایک لغت ہے۔
Ayahs 74:54–56کلاانہ تذکرہ۔۔۔ تا۔۔۔ واھل المغفرہ
یہ سچی بات ہے کہ قرآن سراپانصیحت ہے پس جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت حاصل کرنے پر قادر ہوتے ہیں مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ اسے چاہے، عام قرات یذکرون ہے، ابوعبید نے اسے پسند کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلابل لایخافون الاخرۃ۔ اس میں بھی صیغہ غائب کا ہے، نافع اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے، ابوحاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ یہ عام ہے، سب اس یذکرون کی تخفیف پر متفق ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک سے روایت مروی ہے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس کا حق رکھتا ہوں کہ مجھ سے ڈرایاجائے پس جو مجھ سے ڈرا اور اس نے میرے ساتھ کسی کو الہ نہ بنایا تو میں اس کا مستحق ہوں کہ میں اسے بخش دوں۔ الفاظ ترمذی کے ہیں امام ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا، حدیث حسن غریب، ایک تفسیر میں ہے جو آدمی اس کی بارگاہ میں بڑے بڑے گناہوں سے توبہ تائب ہوا میں اس کے بڑے گناہ بخشنے والا ہوں اور بڑے گناہوں سے اجتناب کے باعث چھوٹے گناہوں کو بخشنے والا ہوں۔ محمد بن نصر نے کہا، معنی ہے میں اس کا اہل ہوں کہ میرا بندہ مجھ سے ڈرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو میں اس کا اہل ہوں کہ میں اسے بخش دوں، میں اس پر رحم کروں میں غفورورحیم ہوں۔