65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کیلئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو پھر اگر وہ بچے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو اور (بچے کے بارے میں) پسند یدہ طریق سے موافقت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچے کو) اس کے باپ) کے کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائیگی

اس میں چار مسائل ہیں : عدت کے دوران عورت کی رہائش، نفقہ اور کسوہ کے احکام مسئلہ نمبر 1 ۔ اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم اشہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے : وہ خاوند خود وہاں سے نکل جائے اور اسے اس گھر میں چھوڑ دے (1) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اسکنوھن اگر مرد نے اس کے ساتھ رہنا ہوتا تو یہ ارشاد نہ فرماتا۔ اسکنوھن ابن نافع نے کہا : امام مالک نے اللہ تعالیٰ کے فرمان اسکنوھن من حیث سکنتم کے بارے میں کہا : مراد وہ مطلقہ عورتیں ہیں جو اپنے خاوندوں سے جدا ہوگئیں اب خاوندوں کو ان سے رجوع کا حق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ حاملہ ہوں۔ انہیں رہائش کا حق ہے، نفقہ اور کسوہ کا حق نہیں کیونکہ وہ اپنے خاوند سے جدا ہوچکی ہے۔ وہ باہم وارث نہیں بنیں گے اور نہ ہی مرد کو اس کے ساتھ رجوع کا حق ہوگا۔ اگر وہ حاملہ ہو تو اسے رہائش، نفقہ اور کسوہ (لباس) کا حق بھی ہوگا یہاں تک کہ عدت ختم ہوجائے۔ وہ عورت جسے طلاق بائنہ نہ ہو، وہ ان مردوں کی بیویاں ہوں گی وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنیں گے (اگر عدت کے دوران کوئی فوت ہوجائے) جب تک وہ عدت میں ہوں گی وہ خاوندوں کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں جائیں گے۔ مردوں کو ان کو رہائش دینے کا حکم نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ ان کے خاوندوں پر لازم ہے، ساتھ ہی ساتھ نفقہ اور لباس بھی لازم ہوگا، وہ حاملہ ہوں یا حاملہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے رہائش کا حکم ان عورتوں کے بارے میں دیا ہے جو اپنے خاوندوں سے جدا ہوچکی ہیں (یعنی جنہیں طلاق بائنہ ہوچکی ہے) ساتھ ہی ساتھ ان کا نفقہ بھی لازم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن اللہ تعالیٰ نے حاملہ عورتوں کے لئے رہائش اور نفقہ کا حکم دیا ہے جن کو خاوندوں سے طلاق بائنہ ہوچکی۔ ابن عربی نے کہا : اس کی وضاحت اور تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سکنی کا ذکر کیا اسے ہر مطلقہ کے لئے مطلق ذکر فرمایا۔ جب نفقہ کا ذکر کیا تو اسے حمل کے ساتھ مقید کیا تو یہ اس امر پر دال ہے کہ وہ عورت جسے طلاق بائنہ حاصل ہے، اس کے لئے کوئی نفقہ نہیں۔ یہ عظیم مسئلہ ہے۔ ہم نے قرآن و سنت اور حکمت و معنی کے اعتبار سے اختلافی مسائل کے جو اصول بیان کئے ہیں، قرآن حکیم میں سے یہی آیت اس کا ماخذ ہے۔ میں کہتا ہوں : وہ عورت جس کو تین طلاقیں دی گئیں ہوں اس میں علماء کے تین قول ہیں۔ امام مالک اور امام شافعی کا مذہب ہے : اس کے لئے رہائش تو ہے، نفقہ نہیں۔ امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کا نقطہ نظر ہے : اس کے لئے رہائش اور نفقہ دونوں ہیں۔ امام احمد، اسحاق اور ابو ثور کا مذہب ہے، اس کے لئے کوئی نفقہ اور رہائش نہیں۔ وہ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں (1) ۔ حضرت فاطمہ بنت قیس نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ میرے ساتھ میرے خاوند کا بھائی تھا۔ میں نے کہا : میرے خاوند نے مجھے طلاق دی ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ میرے لئے رہائش اور نفقہ نہیں ؟ فرمایا : ” بلکہ تیرے لئے رہائش اور نفقہ ہے “۔ خاوند کے بھائی نے عرض کی : اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” رہائش اور نفقہ اس پر ہے جس کو رجوع کا حق ہو “۔ جب میں کوفہ آیا تو اسود بن یزید نے مجھے طلب کیا تاکہ مجھ سے اس بارے میں پوچھے کیونکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے شاگرد کہا کرتے تھے : ایسی عورت کے لئے رہائش اور نفقہ ہے۔ اسے دارقطنی نے تخریج کیا ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں (2) ۔ اس کے خاوند نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اسے طلاق دی تو اس کے خاوند نے اس کی جانب حقیر سا نفقہ بھیجا جب حضرت فاطمہ بنت قیس نے یہ دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ ﷺ کو ضرور اس بارے میں آگاہ کروں گی۔ اگر میرے لئے نفقہ ہے تو میں وہ نفقہ لوں گی جو میرے لئے مناسب ہوگا۔ اگر میرے لئے نفقہ نہ ہوا تو میں کچھ بھی نہ لوں گی۔ کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” تیرے لئے نہ نفقہ ہے اور نہ رہائش ہے “ (3) ۔ دارقطنی نے اسے اسود سے نقل کیا ہے۔ کہا : جب حضرت فاطمہ بنت قیس کا قول حضرت عمر تک پہنچا : فرمایا : ہم مسلمانوں میں ایک عورت کے قول کو حتمی شمار نہیں کرسکتے۔ حضرت عمر ؓ ایسی عورت کو رہائش اور نفقہ لازم کیا کرتے جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوتیں۔ امام شعبی سے مروی ہے، کہا : مجھے اسود بن یزید ملے۔ فرمایا، اے شعبی ! اللہ تعالیٰ سے ڈر اور حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیث سے رجوع کرلے کیونکہ حضرت عمر ؓ اس کے لئے رہائش اور نفقہ کا فیصلہ کیا کرتے تھے ( 4) ۔ میں نے کہا : میں ایسی چیز سے رجوع نہیں کرسکتا جسے حضرت فاطمہ بنت قیس نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ قول کتنا اچھا ہے۔ جبکہ قتادہ اور ابن ابی لیلیٰ نے کہا : طلاق رجعیہ کے سوا کسی کے لئے کوئی رہائش نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا (الطلاق) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اسکنوھن یہ بھی ماقبل کلام کی طرف راجع ہے جس میں مطلقہ رجعیہ کا ذکر ہے (5) ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کیونکہ رہائش، نفقہ کے تابع ہوتی ہے اور اس کے قائم مقام ہوتی ہے جب ایسی عورت کے لئے نفقہ واجب ہی نہیں جس کو طلاق بائنہ دی جا چکی ہے تو ایسی عورت کے لئے سکنی واجب نہیں ہوگا۔ امام اعظم ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ وہ عورت جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لئے نفقہ ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا تضاروھن لتضیقوا علیھن (الطلاق : 6) نفقہ کو ترک کرنا سب سے بڑھ کر تکلیف دینا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت فاطمہ بنت قیس کے قول کا جو رد کیا ہے وہ بھی اس اسی امر کی وضاحت کرتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے : وہ طلاق کی عدت گزار رہی ہے۔ وہ رہائش کی مستحق ہے۔ اس کے لئے نفقہ ہوگا جس طرح اس عورت کے لئے ہوتا ہے جس کو طلاق رجعی دی گئی ہو۔ تیسری وجہ یہ ہے، وہ خاوند کے حق کی وجہ سے محبوس ہے۔ وہ نفقہ کی مستحق ہے جس طرح بیوی نفقہ کی مستحق ہوتی ہے۔ امام مالک کی دلیل یہ ہے : وان کن اولات حمل جس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے مطلقہ رجعیہ اور اس کے احکام کا سورت کے شروع سے ذوی عدل منکم تک ذکر کیا۔ پھر اس کے بعد ایسے حکم کا ذکر کیا جو تمام قسم کی مطلقہ عورتوں کو عام ہے جیسے مہینوں وغیرہ کا شمار، یہ پھر مطلقہ میں عام ہے۔ اس کے بعد جو احکام ہیں، ہر مطلقہ عورت کی طرف راجع ہیں۔ وجد کا معنی و مفہوم مسئلہ نمبر 2 ۔ من وجدکم اپنی وسعت کے مطابق یہ جملہ بولا جاتا ہے (1): وجدت فی المال اجدو جدا، وجدا ووجدۃ، وجد کا معنی غنا اور قدرت ہے۔ عام قرأت وائو کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ اعرج اور زہری نے وائو کے فتحہ کے ساتھ قرأت کی ہے۔ یعقوب نے اسے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ تمام اس میں لغات ہیں۔ عورت کو نقصان دینے سے مراد مسئلہ نمبر 3 ۔ ولا تضاروھن لتضیقوا علیھن مجاہد نے مسکن مقدر مانا ہے۔ مقاتل نے نفقہ مقدر مانا ہے (2) ، یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ ابو ضحیٰ سے مروی ہے : اس سے مراد ہے وہ اسے طلاق دیجب عدت میں سے دو دن رہ جائیں تو اس سے رجوع کرے، پھر اسے طلاق دے۔ حاملہ کا نفقہ اور سکنیٰ مسئلہ نمبر 4 ۔ وان کن اولات حمل فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن اس میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ عورت جو حاملہ ہو اسے تین طلاقیں دی جائیں یا اس سے کم طلاقیں دی جائیں اس کے لئے نفقہ اور رہائش واجب ہے یہاں تک کہ اس کا وضع حمل ہوجائے۔ جہاں تک اس حاملہ کا تعلق ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے تو حضرت علی، حضرت ابن عمر اور حضرت ابن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین، شریح، امام نخعی، امام شعبی، حماد، ابن ابی لیلی، سفیان اور ضحاک رحمہم اللہ نے کہا : تمام مال میں سے اس پر خرچ کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا حمل وضع ہوجائے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن زبیر، حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ امام مالک، امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور انکے اصحاب کا نقطہ نظر ہے : وراثت میں سے جو اس کا حصہ بنتا ہے اس میں سے اس پر خرچ کیا جائے گا۔ سورة بقرۃ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ فان ارضعن لکم میں چار مسائل ہیں : مطلقہ عورت کا دودھ پلانا مسئلہ نمبر 1 ۔ فان ارضعن لکم مراد مطلقہ عورتیں ہیں۔ اگر مطلقہ عورتوں میں سے کوئی تمہارے بچوں کو دودھ پلائے تو آباء پر لازم ہے کہ ان کو دودھ پلانے کی اجرت دیں۔ مرد کو حق حاصل ہے کہ دودھ پلانے پر اپنی بیوی کو اجرت پر رکھے جس طرح وہ اجنبی عورت کو اجرت پر رکھتا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک جب اولاد اسی عورت سے ہو اور جب تک طلاق بائنہ نہ ہوجائے تو اس عورت کو اجرت پر رکھنا جائز نہیں۔ امام شافعی کے نزدیک یہ جائز ہے۔ سورة بقرہ اور سورة نساء میں رضاعت کے بارے میں بحث گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ معروف سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 2 ۔ واتبروا بینکم بمعروف یہ خاوندوں اور بیویوں کو خطاب ہے یعنی تم میں سے ہر ایک اس بات کو قبول کرے جو دوسرا فرد اچھی بات کرے۔ یہاں عورت کی جانب سے معروف جمیل سے مراد ہے بغیر اجرت کے بچے کو دودھ پلاتا اور مرد کی جانب سے جمیل کا مطلب ہے دودھ پلانے پر وافر اجرت دینا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معروف طریقے سے دودھ پلانے کے بارے میں مشورہ کرلیا کرو تاکہ بچے کو کوئی ضرر نہ پہنچے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد لباس اور بڑی چادر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے والدہ کو بچہ کی وجہ اور والد کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے۔ دودھ پلانے کی اجرت میں تعین نہ ہو سکے تو کیا طریقہ ہوگا ؟ مسئلہ نمبر 3 ۔ وان تعاسر تم اگر دودھ پلانے کی اجرت کے تعین میں مشکل کا شکار ہوجائو، خاوند انکار کر دے کہ ماں کو دودھ پلانے کی اجرت دے اور ماں انکار کر دے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے تو خاوند کو کوئی حق حاصل نہیں کہ اسے مجبور کرے۔ وہ ماں کے علاوہ کسی اور کو اجرت پر رکھ لے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر تم باہم تنگی کا شکار ہو جائو تو وہ خاوند اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لئے کسی اور کو معین کرلے۔ یہ امر کے معنی میں خبر ہے۔ ضحاک نے کہا : اگر ماں انکار کر دے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے تو وہ اپنے بچے کے لئے کسی اور کو اجرت پر لے۔ اگر وہ بچہ کو قبول نہ کرے تو اس کی ماں کو مجبور کیا جائے گا کہ اجرت پر دودھ پلائے۔ بچے کو دودھ پلانا کس پر واجب ہے ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے اور اس بارے میں تین قول ہیں۔ ہمارے علماء نے کہا : جب تک زوجیت کا رشتہ قائم ہے تو بچے کو دودھ پلانا اس کی ماں پر لازم ہے مگر وہ اپنے شرف اور مقام و مرتبہ کی وجہ سے ایسا نہ کرے تو باپ پر لازم ہے کہ اپنے مال میں سے اس پر خرچ کرے۔ (2) امام ابوحنیفہ نے کہا : ماں پر کسی حال میں بھی واجب نہیں (1) ۔ (3) ہر حال میں ماں پر واجب ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اگر خاوند اس عورت کو طلاق دے دے تو دودھ پلانا اس عورت پر لازم نہیں مگر اس صورت میں کہ بچہ اس کے سوا کسی کا پستان قبول نہ کرے، اس وقت اس عورت پر دودھ پلانا واجب ہوجائے گا (2) ۔ اگر اجرت میں اختلاف ہوجائے۔ اگر وہ عورت اجرت مثلی کا مطالبہ کرے اور خاوند صرف تبرع چاہتا ہے تو ماں اجرت مثلی پر دودھ پلانے کی زیادہ مستحق ہوگی، جب باپ کوئی ایسی عورت نہ پائے جو اس کو بطور تبرع (احسان) دودھ پلائے۔ اگر باپ اجرت مثلی پر اس عورت کو رکھنا چاہے اور ماں ایسا کرنے سے رک جائے تاکہ زیادہ مال کا مطالبہ کرے تو پھر باپ زیادہ حقدار ہوگا۔ اگر باپ اجرت دینے سے قاصر ہے تو بچے کو دودھ پلانے کے لئے جبراً پکڑ لیا جائے گا۔
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا۔

اس میں چار مسائل ہیں : نفقہ میں وسعت کا خیال رکھنا مسئلہ نمبر 1 ۔ لینفق یعنی خاوند اپنی بیوی اور چھوٹی اولاد پر اپنی وسعت کے مطابق یہاں تک کہ جب اس کے پاس فراوانی ہو تو ان پر وافر خرچ کرے۔ جو آدمی فقیر ہو وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔ نفقہ کا اندازہ لگایا جائے گا جیسی خرچ کرنے والے کی حالت ہوگی اور جس قدر اس بیوی اور بچے کی ضرورت ہوگی ان کی زندگی کے معمول کے مطابق قیاس کرلیا جائے گا۔ مفتی بیوی اور بچے کی ضرورت کو ملاحظہ کرے گا، پھر خاوند اور والد کی حالت کو دیکھے گا، اگر اس کی حالت اسے برداشت کرتی ہو تو وہ اسے نافذ کر دے گا۔ اگر خرچ کرنے والے کی حالت جس پر خرچ کیا جانا ہے، اس کی حاجت سے کم ہو تو اسے اس کی برداشت کی طرف پھیر دیا جائے گا۔ امام شافعی اور اس کے اصحاب نے فرمایا : نفقہ معین ہے اس میں حاکم اور مفتی کے اجتہاد کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس میں صرف خاوند کی حالت کا اعتبار ہے۔ وہ خوشحال ہو یا تنگ دست ہو، عورت کی حالت اور ضرورت کا اعتبار نہیں ہوگا۔ علماء نے کہا : خلیفہ کی بیٹی کی وہی ضرورت ہے جو چوکیدار کی بیٹی کی ضرورت ہے۔ اگر خاوند خوشحال ہوگا تو اس پر دو مد لازم ہوں گے، اگر وہ درمیانہ ہو تو ایک مد اور اس کا نصف لازم ہوگا، اگر تنگ دست ہو تو صرف ایک مد لازم ہوگا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے : لینفق ذوسعۃ من سعتہ۔ اعتبار خاوند کا کیا گیا ہے خوشحالی میں بھی اور تنگ دستی میں بھی عورت کا اعتبار نہیں کیا گیا۔ عورت کی ضرورت کا اعتبار کرنا اس لئے ممکن نہیں کیونکہ حاکم یا کوئی اور اسے نہیں جان سکتا تو یہ چیز خصوصیت کی طرف لے جاسکتی ہے۔ ان کے نزدیک اصل اللہ تعالیٰ کا فرمان : لینفق ذوسعۃ ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے : علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ (البقرہ : 236) اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت اس سے بڑھ کر کوئی چیز عطا نہیں کرتی کہ غنی اور فقیر کے نفقہ میں فرق کیا جائے اور یہ کہ نفقہ خاوند کی تنگ دستی اور خوشحالی کی بنا پر مختلف ہوگا، یہ تو مسلم ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بیوی کی حالت کا اعتبار نہ کیا جائے اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و علی المولود لہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف (البقرۃ :233) یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معروف ان دونوں سے متعلق ہے، ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں۔ یہ معروف میں سے نہیں کہ غنی عورت کی ضرورت، فقیر عورت کے نفقہ جیسی ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ہند سے فرمایا تھا : ” تو اتنا لے جو تیرے اور تیری اولاد کے لئے معروف انداز میں کافی ہو “ (1) ۔ نفقہ کو کفایہ پر پھیر دیا جبکہ آپ حضرت ابوسفیان کی خوشحالی کو جانتے تھے جو ہند کے مطالبہ کی وجہ سے ان پر نفقہ لازم ہوتا تھا۔ حضرت محمد ﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا : تیری ضرورت کا کوئی اعتبار نہیں، تیرے لئے صرف معین شی ثابت ہے بلکہ نفقہ کو پھیر دیا جس مقدار کو آپ اس کی ضرورت میں سے جانتے تھے اسے معین مقدار کے ساتھ معلق نہیں کیا۔ پھر انہوں نے جس تحدید کا ذکر کیا ہے وہ بھی توقیف کی محتاج ہے۔ آیت توقیف کا تقاضا نہیں کرتی۔ حضرت عمر ؓ کا نفقہ کی تعین کرنا مسئلہ نمبر 2 ۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے بچے کے لئے سو درہم معین کئے اور حضرت عثمان ؓ نے پچاس درہم معین کئے (2) ۔ ابن عربی نے کہا : یہ احتمال موجود ہے کہ یہ اختلاف سالوں کے مختلف ہونے یا خوراک اور لباس کے بھائو کے مختلف ہونے کی بنا پر ہو۔ محمد بن ہلالی مزفی نے کہا : میرے والد اور میری دادی نے بیان کیا کہ وہ حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں۔ حضرت عثمان ؓ نے میری دادی کو نہ پایا تو آپ نے اپنے گھر والوں سے پوچھا : کیا وجہ ہے میں فلانہ کو نہیں دیکھتا ؟ حضرت عثمان غنی ؓ کی بیوی نے عرض کی : اے امیر المومنین ! ان کے ہاں آج رات بچہ پیدا ہوا ہے۔ آپ نے اس کی طرف پچاس درہم بھیجے اور سنبلانیہ کپڑے بھیجے۔ پھر فرمایا : یہ تیرے بیٹے کا عطیہ ہے اور یہ اس کا لباس ہے۔ جب اس کی عمر ایک سال ہوجائے گی تو ہم اسے ایک سو تک بڑھا دیں گے۔ حضرت علی شیر خدا کی بارگاہ میں ایک لقیط پیش کیا گیا ہے تو آپ نے اس کے لئے ایک سو درہم وظیفہ معین فرما دیا۔ ابن عربی نے کہا : علماء نے جس میں اختلاف کیا وہ یہ ہے کہ یہ وظیفہ دودھ چھڑانے سے پہلے کا ہے (3) ۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اسے مستحب جانا ہے کیونکہ یہ آیت کے حکم میں داخل ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اسے واجب قرار دیا ہے کیونکہ حاجت نئی پیدا ہوتی رہتی ہے اور ضروریات پیش آتی رہتی ہیں۔ میں بھی یہی کہتا ہوں : جب وہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب اس کا دودھ چھڑایا جاتا ہے اس کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ سفیان بن وہب نے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مد ایک ہاتھ میں، ایک قسط ایک ہاتھ میں لیا۔ فرمایا : میں نے ہر مسلمان نفس کے لئے ہر ماہ میں دو مد گندم، دو قسط سر کے اور دو قط تیل کے مقرر کئے ہیں۔ ایک راوی نے اضافہ کیا ہے۔ کہا : ہم نے تمہارے لئے ہر ماہ میں تمہارے عطیات اور رزق جاری کردیئے ہیں جس نے ان میں کمی کی، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ یہ معاملہ فرمائے گا۔ ایسے آدمی کے حق میں بددعا فرمائی۔ حضرت ابودرداء نے کہا : کتنی ہی اچھی ہدایت والی سنتیں ہیں جو حضرت عمر ؓ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں جاری فرمائی ہیں۔ مد اور قسط کھانے اور سالن میں دو شامی کیل ہیں۔ اس میں ہمارے نزدیک اندازہ یہ ہے کہ طعام میں چوتھائی اور ادام دو آٹھویں حصے۔ جہاں تک لباس کا تعلق ہے تو یہ عادت کے مطابق ہے۔ قمیص، پاجامہ، موسم سرماہ میں جبہ، بڑی چادر، تہبند اور چنائی۔ یہ اصل ہے احوال اور عادت کے مطابق اس میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ نفقہ کا والد پر وجوب مسئلہ نمبر 3 ۔ یہ آیت نفقہ کے وجوب میں اصل ہے کہ بچے کے لئے یہ والد کے ذمہ ہے، والدہ کے ذمہ نہیں (1) ۔ محمد بن مواز نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے : یہ میراث کے مطابق والدین پر ہے۔ ابن عربی نے کہا : شاید محمد مواز نے ارادہ کیا ہے جب باپ نہ ہو تو یہ ماں پر ہوگا۔ بخاری شریف میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” تیری بیوی تجھے کہتی ہے : مجھ پر خرچہ کر ورنہ مجھے طلاق دے دے، غلام تجھے کہتا ہے : مجھ پر خرچ کر اور مجھ سے کام لے اور تیری اولاد تجھے کہتی ہے : تو مجھ پر اس وقت تک خرچ کرتا رہ یہاں تک تو مجھے سپرد کر دے “۔ قرآن و سنت ایک دوسرے کو قوت عطا کرتی ہیں اور ایک ہی طریقہ پر وارد ہیں ( 2) ۔ اللہ تعالیٰ کا بندے کو اس کی حیثیت کے مطابق مکلف بنانا مسئلہ نمبر 4 ۔ لایکلف اللہ نفسا الاما اتھا یعنی فقیر کو اس کی مثل مکلف نہیں بناتا جس کی مثل غنی کو مکلف بناتا ہے۔ سیجعل اللہ بعد عسریسرا۔ یعنی تنگی کے بعد غنا اور سختی کے بعد وسعت پیدا فرماتا ہے۔
Ayahs 65:8–11

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام کی سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا۔ اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو۔ خدا نے تمہارے پاس نصحیت (کی کتاب) بھیجی ہے۔

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے) ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں انکو اندھیرے سے روشنی میں لے آئے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا انکو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآ باد اس میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے۔

وکاین من قریۃ جب احکام کا ذکر کیا تو امر کی مخالفت سے خبردار کیا اور قوم کی سرکشی اور ان پر عذاب کے نزول کا ذکر کیا۔ سورة آل عمران میں کاین کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ عتت عن امر ربھا یعنی انہوں نے نافرمانی کی۔ ذکر قریہ کا کیا مراد اس کے مکین ہیں۔ فحاسبنھا حسابا شدیدا یعنی دنیا میں ہم نے انہیں عذاب دے کر بدلہ دیا۔ و عدینھا عذابا نکرا۔ یعنی آخرت میں بھاری سزا دی۔ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے (1) ! دنیا میں ہم نے انہیں بھوک، قحط، تلوار، زمین میں دھنسانا، صورتیں مسخ کرنا اور باقی ماندہ مصائب میں مبتلا کیا اور آخرت میں شدید ترین حساب لیا۔ نکرت مراد منکر ہے۔ اسے مخفف اور مشتل دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ سورة کہف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ فذاقت وبال امرھا یعنی اپنے کفر کا انجام چکھا۔ و کان عاقبۃ امرھا خسرا۔ یعنی دنیا میں ہلاکت ہوگی اس کے ساتھ جو ہم نے ذکر کیا اور آخرت میں جہنم کے ساتھ ہلاکت ہوگی۔ یہاں ماضی کا لفظ ذکر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار (الاعراف :44) اس کی مثل دوسری آیات میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور وعید میں سے جس کا انتظار کیا جارہا ہے اس سے ضرور ملاقات ہوگی جو ہو کر رہنے والا ہے اسے قد کے ساتھ تعبیر کرنا درست ہے۔ اعدا اللہ لھم عذابا شدیدا اس خسر کو بیان کیا اور وہ آخرت میں عذاب جہنم ہے۔ فاتقوا اللہ یاولی الالباب اے دانشمندو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ الذین امنوا یہ اولی الالباب سے بدل ہے یا اس کی نعت ہے۔ مراد ہے اے دانشمندو ! جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہو اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے تم پر قرآن حکیم نازل کیا ہے یعنی اس سے ڈرو، اس کی طاعت کرو اور اس کی نافرمانیوں سے بچو۔ یہ بحث پہلے سے گزر چکی ہے۔ رسولا زجاج نے کہا : ذکر کا نازل کرنا ارسل کے اضمار پر دلیل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے انزل الیکم قرآنا و ارسل رسلا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جو ذکر والا ہے۔ رسولا یہ ذکر کی صفت ہے یہاں مضاف مخذوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسلا یہ ذکر کا معمول ہے کیونکہ ذکر مصدر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی قد انزل الیکم ان ذکر رسولا، ذکر سے بدل ہو اس صورت میں رسولا رسالت کے معنی میں ہوگا یا یہ اپنے باب پر ہے تو یہ معنی پر محمول ہوگا۔ گویا فرمایا : قد اظھر اللہ لکم ذکرا رسولا یہ بدل الشئی من الشئی سے ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ رسولا، اغراء کے طریقہ پر منصوب ہو۔ گویا فرمایا : اتبغوا رسولا۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : یہاں ذکر سے مراد شرف ہے (2) جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لقد انزلنا الیکم کتبا فیہ ذکر کم (الانبیائ : 10) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وانہ لذکرلک و لقومک (الزخرف :44) پھر اس شرف کو بیان فرمایا، فرمایا : رسولا اکثر کی رائے یہ ہے کہ یہاں رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ کلبی نے کہا : اس سے مراد جبرئیل امین ہے (3) ۔ دونوں نازل کئے گئے ہیں۔ یتلوا علیکم ایت اللہ یہ رسولا کی صفت ہے۔ ایت اللہ سے مراد قرآن ہے۔ مبینت عام قرأت یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے یعنی اسے اللہ تعالیٰ نے بیان کیا۔ ابن عامر، حفص، حمزہ اور کسائی نے اسے یاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، جن احکام کے تم محتاج ہوتے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے انہیں بیان کرتا ہے۔ پہلی صورت حضرت ابن عباس کی قرأت ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قدبینا لکم الایت (آل عمران : 118) لیخرج الذین امنوا و عملوا الصلحت اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے موجود تھا من الظلمت یعنی کفر سے الی النور نور سے مراد ہدایت اور ایمان ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت اہل کتاب کے معنوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اخراج فعل کی نسبت رسول کی طرف کی کیونکہ ایمان رسول کی طاعت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ ومن یومن باللہ و یعمل صالحا یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر نافع اور ابن عامر نے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ قد احسن اللہ لہ رزقا۔ اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے لئے وسیع رزق بنا دیا ہے۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے

اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت پر دلالت ہے وہ دوبارہ اٹھانے اور محاسبہ کرنے پر قادر ہے۔ آسمانوں کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں وہ سات ہیں ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں۔ اس پر معراج کا واقعہ اور دوسری چیزیں دال ہیں۔ پھر فرمایا : ومن الارض مثلھن یعنی سات زمین (1) ۔ ان کے بارے میں اختلاف ہے اور دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے اور یہی جمہور کا قول ہے (2) کہ زمینیں سات ہیں ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں۔ ہر دو زمینوں کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی مسافت دو آسمانوں کے درمیان ہے اور ہر زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ ضحاک نے کہا : ومن الارض مثلھن یعنی سات زمینیں۔ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں ان میں کوئی مسافت نہیں لیکن آسمانوں کا معاملہ مختلف ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ ترمذی اور نسائی میں ایسی روایات ہیں جو اس قول پر دلالت کرتی ہیں۔ سورة بقرہ میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔ ابو نعیم، محمد بن علی بن حبیش سے وہ اسماعیل بن اسحاق سراج التحویل (دوسری سند) ابو محمد بن حیان سے وہ عبد اللہ بن محمد بن ناجیہ وہ سوید بن سعید سے وہ حفص بن میسرہ سے وہ موسیٰ بن عقبہ سے وہ عطا بن ابی مروان سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں (3) کہ کعب نے ان کے سامنے قسم اٹھائی، اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے سمندر کو پھاڑا کہ حضرت صہیب نے اسے حدیث بیان کی کہ حضرت محمد ﷺ کوئی بستی نہ دیکھتے جس میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے مگر جب دیکھتے تو یہ کہتے : اللھم رب السموات ما اظللن و رب الارضین السبع و ما اقللن و رب الشیاطین وما اضللن و رب الریاح وما اذرین انا نسالک خیر ھذہ القریۃ و خیر اھلھا ونعوذ بک من شرھا و شر اھلھا و شرما فیھا۔ اے اللہ ! اے آسمانوں اور جن کو یہ سایہ کئے ہوتے ہیں ان کے رب ! اے ہوائوں اور جن کو یہ بکھیرتی ہیں ان کے رب ! ہم تجھ سے اس بستی کی خیر اور ان کے اہل کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور اس بستی کے شرء ان کے اہل کے شر اور اس میں موجود چیزوں کے شر کی پناہ چاہتے ہیں۔ ابو نعیم نے کہا : یہ حدیث ثابت ہے جو موسیٰ بن عقبہ سے مروی ہے اور عطا سے روایت کرنے میں منفرد ہے۔ ابن ابی زناد اور دوسرے علماء نے ان سے یہ روایت کی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت سعید بن زید سے مروی ہے (1) کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، من اخذ شبرا من الارض ظلما فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین جس نے بالشت بھر زمین ظلماً لی قیامت کے روز سات زمینوں سے اس کے برابر اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالا جائے گا۔ ماوردی نے کہا : اس تعبیر کی بنا پر کہ یہ سات زمینیں ہیں ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں (2) ، اہل اسلام کی دعوت اوپر والی زمین کے مکینوں کے ساتھ خاص ہے۔ دوسری زمینوں پر جو ہیں ان کو دعوت دینا ان پر لازم نہیں اگرچہ ان زمینوں میں ایسی مخلوق بھی ہو جو عقل رکھتی ہو اور ممتاز مخلوق سے اس کا تعلق ہو۔ ان کا آسمان کا مشاہدہ کرنا اور ان سے روشنی حاصل کرنا، اس میں دو قول ہیں۔ (1) وہ اپنی زمین کی ہر جانب سے آسمان کا مشاہدہ کرتے ہیں اور آسمانوں سے روشنی حاصل کرتے ہیں، یہ اس کا قول ہے جس نے زمین کو مسبوط قرار دیا ہے۔ (2) دوسرا قول ہے : وہ آسمان کا مشاہدہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے روشنی کو پیدا کردیا ہے جس سے وہ فائدہ حاصل کرتے ہیں، یہ ان کا قول ہے جو زمین کو گول قرار دیتے ہیں۔ آیت میں تیسرا قول بھی ہے : کلبی نے جسے ابو صالح سے وہ اسے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ سات زمینیں ہیں جو پھیلی ہوئی ہیں، وہ ایک دوسرے کے اوپر نہیں، ان کے درمیان سمندر حائل ہیں۔ آسمان ان سب پر سایہ فگن ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر اگر ایک زمین کے لوگ دوسری زمین تک نہ پہنچ سکیں تو اسلام کی دعوت اسی زمین کے لوگوں کے لئے خاص ہوگی۔ اگر اس زمین کے لوگ دوسری زمین کے لوگوں تک پہنچ سکیں تو یہ احتمال ہے کہ جہاں تک پہنچنا ممکن ہے ان تک اسلام کی دعوت پہنچانا لازم ہے کیونکہ سمندروں کا حائل ہونا جب انہیں پاٹنا ممکن ہے تو دعوت کے لزوم سے کوئی چیز مانع نہیں جس کا حکم عام ہے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ انہیں اسلام کی دعوت لازم نہ ہو کیونکہ اگر یہ دعوت لازم ہوتی تو اس کے بارے میں کوئی نص بھی وارد ہوتی اور نبی کریم ﷺ کو اس کے بارے میں حکم ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے علم کو اپنی ذات کے ساتھ خاص کیا ہے وہ اس کے بارے میں بہتر جانتا ہے اور مخلوق پر جو مشتبہ ہوچکا ہے اس میں جو درست ہے اسے بھی وہی بہتر جانتا ہے۔ پھر فرمایا : یتنزل الامر بینھن مجاہد نے کہا : امر سات آسمانوں سے سات زمینوں کی طرف نازل ہوتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : دو آسمانوں کے درمیان زمین اور امر ہے (1) ۔ یہاں امر سے مراد وحی ہے، یہ مقاتل اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ تو بینھن میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سب سے بالا زمین جو ادنیٰ ہے اور ساتویں آسمان جو سب سے بلند ہے، کے درمیان امر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یتنزل الامر بینھن بعض کی زندگی اور بعض کی موت، ایک قوم کی غنا اور ایک قوم کے فقر کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے وہ ان میں عجیب و غریب تدبیر فرماتا ہے، بارش نازل فرماتا ہے، نباتات کو نکالتا ہے، رات اور دن کو لاتا ہے، موسم گرما اور سرما کو لاتا ہے اور حیوانات کو مختلف انواع و ہئیتوں میں پیدا کرتا ہے، انہیں ایک حال سے دوسرے حال میں پھیرتا ہے۔ ابن کیسان نے کہا : یہ لغت کا میدان اور اس کی وسعت ہے جس طرح موت کو کہا جاتا ہے : امر اللہ، اسی طرح ہوا، بادل وغیرہ کو بھی لفظ امر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لتعلموا ان اللہ علی کل شیء قدیر جو اس ملک عظیم کو پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ چیزیں جو ان کے درمیان ہیں، ان پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے (2) ۔ عفو و انتقام پر زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ علما مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے کیونکہ احاط علم کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے وان اللہ قداحاط احاطۃ علما۔