62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ سوا یکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو اکثر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے

مسئلہ نمبر 1۔ واذا راواتجارۃ اولھوا انفضوآ الیھا صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہ تھے تو شام سے ایک تجاتری قافلہ آگیا لوگ اس قافلہ کی طرف چلے گئے، یہاں تک کہ صرف بارہ افراد مسجد میں رہ گئے (1) ایک روایت میں ہے، میں بھی ان میں سے ایک تھا، تو یہ آیت جو سورة جمعہ میں ہے نازل ہوئی۔ ایک رویت میں ہے : ان بارہ افراد میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاورق بھی تھے۔ کلبی اور دوسرے علماء نے کہا، جو اس تجارتی قافلہ کو لایا تھا وہ حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی تھے۔ جو شام سے یہ قافلہ لائے جبکہ زمانہ سخت بھوک اور مہنگائی کا تھا۔ ان کے پاس تمام وہ مال و اسباب تھا جس کی لوگوں کو ضرورت تھی جیسے گندم، آٹا وغیرہ۔ وہ مدینہ طیبہ کی منڈی احجار زیت میں اترے اور طبل بجایا تاکہ لوگوں کو اپنے آنے کی خبر دے تو لوگ ان کے پاس چلے گئے صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ کلبی نے کہا : وہ خطبہ جمعہ سن رہے تھے سارے چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس صرف آٹھ افراد رہ گئے، کلبی نے اسے حضرت ابن عباس سے نقل کیا۔ دار اقطنی نے حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیث سے قنل کی ہے : اسی اثناء میں کہ جمعہ کے روز رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک تجارتی قافلہ آیا جس کے پاس کھانے کا سامان تھا وہ بقیع میں اترا۔ لوگ اس قافلہ کی طرف متوجہ ہوئے اس طرف چلے گئے اور رسول اللہ کو چھوڑ دیا آپ کے ساتھ چالیس آدمی رہ گئے میں بھی ان میں سے ہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبیک ریم ﷺ پر اس آیت کو نازل فرمایا (2) اس اسناد میں لعی بن عاصم جو حصین سے روایت نقلک رتے ہیں نے ہی چالیس افراد کا ذکر کیا ہے۔ حصین کے دوسرے اصحاب نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا : نبی کریم ﷺ کے ساتھ صرف بارہ افراد ہی باقی رہ گئے۔ نبی کریم ﷺ سے یہ روایت مروی ہے : والذین نفسی بیدہ لوخر جوا اجمیعا لاضرم اللہ علیھم الوادی ناز (3) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر سب کے سب نکل اجتے تو اللہ تعالیٰ ان پر وادی کو اگٓ سے بھڑکا دیتا، زمحشری نے اسے ذکر کیا۔ ایک حدیث مرسل میں ان بارہ افراد کے نام ذکر کئے گئے ہیں۔ اسے اسد بن عمرو نے جو اسد بن موسیٰ بن اسد کے والد ہیں نے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمراور ق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی مرتضیٰ ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابو عبیدہ بن جراح، حضرت سعید بن زید، حضرت بلال ایک رویت میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور دوسری روایت میں حضرت عمار بن یاسر تھے۔ میں کہتا ہوں : اس روایت میں حضرت جابر کا ذکر نہیں، امام مسلم نے ذکر کیا ہے کہ وہ ان میں سے تھا۔ دارق طنی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ ابو دائود نے اپنی مراسیل میں اس کے سبب کا ذکر کیا ہے (1) جس کے باعث انہوں نے اپنے آپ کو خطبہ سننے کے ترک میں رخصت پائی جبکہ اپنی فضیلت کے باعث وہ اس کے مستحق تھے کہ ایسا نہ کرتے کہا، محمود بن خالد، لوید سے وہ ابو معاذ بکر بن معروف سے وہ حضرت مقاتل بن حیان سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ خطبہ سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے جس طرح عیدین کا معمول ہے یہاں تک کہ جمعہ کا دن تھا، نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جبکہ جمعہ کی نماز پڑھ لی تھی ایک آدمی آیا، اس نے کہا، حضرت وحیہ کلبی تجارتی سامان لائے ہیں۔ حضرت دحیہ جب تجاتری سامان لاتے تو اس کے اہل دف بجا کر ان کا استقبال کرتے۔ لوگ نکلے انہوں نے گمان کیا کہ خطبہ کو چھوڑ دینے میں ان کے لئے کچھ بھی نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، تو نبی کریم ﷺ نے خطبہ کو پہلے کردیا اور نماز کو موخر کردیا۔ اس نہی کے بعد کوئی آدمی نکسیر یا حدث کی صورت میں باہر نہ نکلتا مگر وہ اجازت لیتا اور انگوٹھے کے ساتھ والی اگنلی سے اشارہ کرتا۔ نبی کریم ﷺ سے اجازت دیتے پھر اسے ہاتھ سے اشارہ کترے۔ منفاقین میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جن پر خطبہ سننا اور مسجد میں بیٹھنا بوجھل محسوس ہوتا۔ جب مسلمانوں میں سے کوئی اجازت لیتا تو منافق اس کیپ ہلو میں کھڑا ہوجاتا۔ اپنے آپ کو اس کے پیھچے چھپا لیتا یہاں تک کہ باہر نکل جاتا تو اللہ تعالیٰ نے قدیعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا (النور 63) کو نازل فرمایا۔ سہیل نے کہا، یہ خبر اگرچہ صحیح سند سے ثابت نہیں تاہم صحابہ کرام کے بارے میں حسن ظن ثابت کرتا ہے کہ یہ صحیح ہو۔ قتادہ نے کہا : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ صحابہ نے یہ عمل تین دفعہ کیا۔ ہر دفعہ شام سے تجارتی قافلہ آیا تھا اور ہر دفعہ جمعہ کے دن آیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کا نکلنا صرف دحیہ کلبی کے تجاتری قافلہ کیلئے تھا اور اس قافلہ کو گزرتے ہوئے دیھکنے کے لئے تھا یہ سراسر لہو تھا اس میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اگر اس کے علاوہ کے لئے ان ان کا نکلنا ہوتا تو اس میں کوئی گناہ نہ ہوتا، لیکن جب اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے اعراض متصل تھا اور آپ کی بارگاہ سے اٹھ جانا شامل تھا تو اس میں سختی آگئی اور یہ عمل بڑا ہوگیا اور اس بارے میں قرآن نازل ہوا اور اسے لہو کا نام دے کر اس کی حقارت بیان کی گئی۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں ارشاد مروی ہے۔ کل مایلھوبہ الرجل باطل الارمیہ بقوسہ انسان جس کیساتھ لہو کرتا ہے وہ عمل باطل ہے۔ سوائے کمان کے ذریعے تیر پھینکنے کے۔ سورة الانفال میں یہ گزر چکی ہے۔ تمام تر تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا : جب عورتوں کے نکاح کئے جاتے تو وہ آلات لہو اور طبل کے ساتھ گزرتیں تو صحابہ ان کی طرف چلے گئے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ کنایہ کو تجارت کی طرف پھیرا کیونکہ تجارت اہم ہے۔ طلحہ بن مصرف نے و اذارا واتجارۃ اولھوا انفضوا الیھا نے قرأت کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جب وہ تجارت دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں یا لہو و لعب دیکھتے ہیں تو اس کی طرف نکل جاتے ہیں و کلام کے دلالت کرنے کی وجہ سے اسے حذف کردیا : جس طرح شاعر نے کہا : نحن بما عندنا وانت بما عندک راض والری مختلف ہم اس پر راضی ہیں جو ہمارے پاس ہے اور تو اس پر راضی ہے جو تیرے پاس ہے جبکہ رائے مختلف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عربی زبان میں یہ سب عمدہ ہے کہ ضمیر کو دونوں اسموں میں سے دوسرے اسم کے لئے بنایا جائے۔ مسئلہ نمبر 2۔ جتنے افراد کے ساتھ جمعہ ہوتا ہے اس کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے۔ (1) حضرت حسن بصری نے کہا : دو افراد کے ساتھ جمعہ منعقد ہوجاتا ہے (1) ۔ (2) لیث اور امام ابویوسف نے کہا، تین افراد کے ساتھ جمعہ ہوجاتا ہے۔ (3) سفیان ثوری اور امام ابوحنیفہ نیف رمایا : چار افراد کے ساتھ جمعہ ہوتا ہے (2) ۔ (4) ربیعہ نے کہا، بارہ افراد کے ساتھ جمعہ ہوتا ہے۔ نجاد ابوبکر احمد بن سلیمان نے ذکر کیا ابو خلاد یزید بن ہیثم بن طہمان وفاق، صبح بن دینار سے وہ معافی بن عمران سے وہ معقل بن عبید اللہ سے وہ زہری سے وہ اپنی سند کے ساتھ مصعب بن عمیر سے روایت نقل کرتے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے انہیں مدینہ طیبہ کی طرف بھیجا۔ آپ حضرت سعد بن معاذ کے گھر ٹھہرے آپ نے انہیں جمعہ کی نماز پڑھائی جبکہ ان کی تعداد بارہ تھی۔ اس روز ان لوگوں کے لئے ایک بکری ذبح کی گئی۔ (5) امام شافعی نے کہ : چالیس افراد ہوں۔ ابو اسحاق شیرازی نے ” کتاب التنبیہ علی مذہب الامام شافعی “ میں کہا : ہر وہ دیہات جس میں چالیس عاقل، بالغ، آزاد اور مقیم مرد ہوں وہ موسم سرما اور موسم گرما میں وہاں سے کوچ نہیں کرتے سفر کرتے بھی ہیں تو مجبوری کی وجہ سے اور وہ خطبہ کی ابتدا سے نماز جمعہ کے قیام تک واں حاضر رہتے ہیں تو ان پر جمعہ واجب ہوجائے گا۔ امام احمد اور امام اسحاق اسی قول کی طرف مائل ہوئے ہیں اور ان دونوں نے یہ شرطیں نہیں لگائیں۔ امام مالک نے کہا : جب بستی ایسی ہو جس میں بازار اور مسجد ہو تو تعداد کا اعتبار کئے بغیر ان پر نماز جمعہ فرض ہوگی۔ حضتر عمر بن عبدالعزیز نے یہ فرمان جاری کیا : جس بستی میں تیس گھر ہوں ان پر جمعہ لانا ہوگا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا، شہر کی قریبی بستیوں اور دیہاتوں کے مکین لوگوں پر جمعہ واجب نہیں ہوتا ان میں نماز جمعہ پڑھنا بھی جائز نہیں (3) ۔ جمعہ کے وجوب اور اس کے انقعاد میں آپ نے یہ شرطیں لگائی ہیں۔ 1۔ بڑا شہر، قوی سلطان، باور نق بازار اور جاری نہر۔ انہوں نے حضرت علی شیر خدا کی ایک حدیث سے استدلال کیا ہے : کوئی نماز جمعہ اور تکبیرات تشریق نہیں مگر بڑے شہر میں اور ایسے ساتھی جو ان کے معاون ہوں، اس قول کو حضرت ابن عباس کی روایت رد کرتی ہے۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے بعد جس مسجد میں سب سے پہلے جمعہ ادا کیا گیا وہ بحرین کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات کی مسجد ہے جس جواثی کہا جاتا (14) امام شافعی کی چالیس افراد میں دلیل حضرت جابر کی مذکورہ حدیث ہے جسے دار قطنی نے نقل کیا ہے۔ سنن ابن ماجہ، دار قطنی اور بیہقی کی دلائل النبوہ میں عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک سے مروی ہے کہا : جب میرے والد کی نظر جاتی رہی تو میں اپنے والد کو ساتھ لے کرجاتا جب میں انہیں جمعہ کے لئے لے کر چلا تو انہوں نے آذان کی آواز سنی تو حضرات ابوامامہ کے لئے دعا اور استغفار کی۔ کافی عرصہ تک ان کا یہی معمول رہا (1) وہ جمعہ کی آذان نہیں سنتے تھے مگر وہ یہی عمل کرتے۔ میں نے ان سے عرض کی : اے میرے اباب جانچ جب بھی آپ جمعہ کی آذان سنتے ہیں تو آپ حضرت امامہ کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ فرمایا : اے بیٹے ! یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے حرہ بن بیاضہ (2) جسے نقیع الخضمات کہتے اس کی پست جگہ میں مدینہ طیبہ میں پہلا جمعہ پڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا : اس وقت تمہاری تعداد کتنی تھی ؟ فرمایا : چدالیس۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے : طریقہ یہ چلتا آ رہا ہے ہر تین افراد میں ایک امام ہو اور ہر چالیس یا اس سے زائد افراد میں جمعہ، عید قربان اور عید فطر ہو (3) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جماعت ہیں اس یدار قطنی نے روایت کیا ہے۔ ابوبکر احمد بن سلیمان نجاد نے روایت نقل کی ہے : عبدالملک بن محمد رقاشی پر یہ روایت پڑھی گئی جبکہ میں خود سن رہا تھا کہ مجھے رجاء بن سلمہ نے حدیث بیان کی ووہ اپنے باپ سے وہ روح بن غطیب ثقفی سے وہ زہری سے وہ ابو سلمہ سیر ویات نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا، کتنے افراد پر جمعہ واجب ہوتا ہے ؟ فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی تعداد پچاس ہوگئی تو حضور ﷺ نے انہیں جمعہ کی نماز پڑھائی۔ عبدالملک بن محمد کو یہ روایت سناء گئی جبکہ میں سن رہا تھا کہ رجاء بن مسلمہ، عبادبن عباد مہلبی سے وہ جعفر بن زبیر سے وہ قاسم سخے وہ حضرت ابوامامہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جمعہ پچسا افراد پر واجب ہوتا ہے اس سے کم افراد پر واجب نہیں ہوتا۔ “ (4) ابن مذر نے کہا : حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ فرمان جاری کیا جس بستی میں پچاس آدمی جمع ہوجائیں وہ جمعہ کی نماز پڑھیں۔ زہری نے ام عبداللہ دوسیہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جمعہ ہر دیہات والوں پر واجب ہے اگرچہ اس میں چار افراد بھی نہ ہوں۔ “ (5) یہاں قری سے مراد شہر ہیں۔ یہ زہری سے ثابت نہیں۔ ایک روایت میں ہے :” جمعہ ہر بستی والوں پر واجب ہے اگرچہ اس میں تین افراد ہوں اور چوتھا ان کا امام ہو۔ “ (6) زہری کا سماع دسویہ سے ثابت نہیں اس کی سند میں حکم نامی شخص متروک ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ جمعہ امام کی اجازت اور اس کی موجودگی کے بغیر بھی صحیح ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا، ان کی شرطوں میں سے ایک شرط امام یا خلیفہ کا ہونا ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ ولید بن عقبہ جو کوفہ کا والی تھا ایک روز اس نے دیر کی تو حضرت ابن مسعود نے اس کی اجازت کے بغیر لوگوں کو نماز جمع پڑھا دی۔ یہ بھی روایت بیان کی جاتی ہغے کہ جن دنوں حضرت عثمان غین کا محاصرہ کیا گیا تھا ان دنوں میں حضرت علی شیر خدا نے نماز جمعہ پڑھائی تھی۔ یہ منقول نہیں کہ حضرت علی نے حضرت عثمان سے اس کی اجازت طلب کی تھی۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ سعید بن عاصی والی مدینہ جب مدینہ طیبہ سے باہر گئے تو حضرت ابو موسیٰ اشعری نے لوگوں کو نماز جمعہ پڑھائی جبکہ اجازت طلب نہیں کی تھی۔ امام مالک نے کہا، اللہ کی زمین میں اللہ کے فرئاض ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ضائع نہیں کرتا والی اس کی ذمہ داری اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ مسئلہ نمبر 4۔ ہمارے علماء نے کہا، اس کی ادائیگی کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اس کے لئے چھت والی مسجد ہونی چاہئے۔ ابن عربی نے کہا، میں اس کی وجہ نہیں جانتا (1) میں کہتا ہوں : اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و طھربیتی للظآئفین (الحج : 26) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فی بیوت اذن اللہ ان ترفع) (النور : 36) بیت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دیواروں اور چھت والا ہو۔ یہی عرف ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ وترکول قآئما جب خطیب خطبہ دے تو وہ منبر پر کھڑا ہو (2) علقمہ نے کہا، حضرت عبداللہ سے پوچھا گیا : کیا نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ؟ فرمایا : کیا تو وترکوک قآئما نہیں پڑھتا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضتر کعب بن عجرہ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھے خطبہ دے رہا تھا۔ فرمایا : اس خبیث کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دیا ت ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وترکول قآئماً ۔ (3) حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے پھر بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ ارشاد فرماتے۔ جو آدمی آ کو یہ بتائے کہ آپ ﷺ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تو اس نے جھوٹ بولا۔ اللہ کی قسم ! میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں۔ (4) جمہور فقہاء اور ائمہ کا یہی نقطہ نظر ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : خطبہ میں قیام شرط نہیں۔ یہ روایت کی جاتی ہے جس نے سب سے پہلے بیٹھ کا خطبہ دیا وہ حضرت امیر معاویہ ہیں حضرت عثمان نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا یہاں تک کہ رقت طاری ہوگئی تو آپ نے بیٹھ کر خطبہ دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت معاویہ بڑھاپے کی وجہ سے بیٹھ کر خطبہ دیتے۔ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے پھر بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور بیٹھنے کے دوران کوئی گفتگو نہ کرتے۔ حضرت جابر بن سمرہ نے اسے ہی روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عمر سے بھی بخاری میں اسی طرح مروی ہے۔ (5) مسئلہ نمبر 6۔ خطبہ جمعہ کے انعقاد میں شرط ہے، اس کے بغیر نماز جمعہ صحیح نہیں ہوتی، جمہور علماء کا یہی قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، یہ مستحب ہے (6) ۔ ابن ماجشون نے بھی اسی طرح کہا ہے : یہ سنت ہے فرض نہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا : یہ ظہر کی دو رکعتوں کے قائم مقام ہے۔ جب وہ خطبہ ترک کر دے اور نماز جمعہ ادا کرے تو نماز ظہر کی دو رکعتوں کو ترک کیا۔ اس کے وجوب پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وترکول قآئماً یہم ذمت ہے۔ شرعاً واجب کے ترک کرنے والے کی ہی مذمت کی جاتی ہے۔ پھر بنی کریم ﷺ نے خطبہ کے بغیر نماز جمعہ کو ادا نہیں کیا۔ مسئلہ نمبر 7۔ کمان یا عصا پر ٹیک لگا کر خطبہ دے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے ہشام بن عمار، عبدالرحمٰن بن سعد سے وہ اپنے باپ سے وہ دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب حالت جنگ میں خطبہ ارشاد فرماتے تو کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے اور جمعہ میں خطبہ ارشاد فرماتے تو عصا کے سہارے خطبہ ارشاد فرماتے۔ (1) مسئلہ نمبر 8۔ امام جب منبر پر چڑھے تو امام شافعی اور دوسرے علماء کے نزدیک لوگوں کو سلام کہے۔ امام مالک کی یہ رائے نہیں۔ ابن ماجہ نے حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب منبر پر تشریف فرما ہوتے تو سلام فرماتے۔ (2) مسئلہ نمبر 9۔ جب امام تمام خطبہ یا کچھ حصہ وضو کے بغیر دے تو امام مالک کے نزدیک اس نے غلط کام کیا۔ جب جب امام تمام خطبہ یا کچھ حصہ وضو کے بغیر دے تو امام مالک تو امام مالک کے نزدیک اس نے غلط کام کیا۔ جب نماز وضو کے ساتھ پڑھی تو اس پر خطبہ کا اعادہ نہیں۔ وضو کے وجوب میں امام شافعی کے دو قول ہیں۔ نئے قول میں آپ نے وضو کو شرط قرار دیا ہے اور قدیمی قول میں اسے شرط قرار نہیں دیا، یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 10 کم سے کم جس کے ساتھ خطبہ جائز ہوجائے گا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے، لوگوں کو تقویٰ کی وصیت کرے اورق رآن حکیم کی ایک آیت پڑھے دوسرے خطبہ میں یہی چار چیزیں واجب ہیں مگر پہلے میں قرأت کی نسبت دوسرے میں دعا رکے یہ اکثر فقہاء کا نقطہ نظر ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا، اگر اس نے الحمد اللہ سحبان اللہ اور اللہ اکبر پر اکتفاء کیا تو یہ کافی ہوجائے گا (3) حضرت عثمان غنی کے بارے میں مروی ہے کہ آپ منبر پر چڑھے تو الحمد اللہ کے الفاظ کہے تو زبان لڑکھڑا گی فرمایا : حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اس جگہ کے لئے گفتگو تیار کرتے تھے۔ تمہیں ایسے امام کی زیادہ ضرورت ہے جو گفتگو کی بجائے عمل کرنے والا ہو۔ تمہارے سامنے خطبے ہوتے رہیں گے پھر آپ نیچے اتر آئے اور نماز پڑھائی۔ یہ واقعہ صحابہ کی موجودگی میں ہوا تو کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔ امام ابو یوسف اور امام محمد نے کا، اتنا خطبہ دینا ضرویر ہے جس کو خطبہ کہا جاسکے یہی امام شافعی کا قول ہے۔ ابو عمر بن عبدالبر نے کہا : اس بارے میں جو گفتگو کی گئی ہے اس میں یہ صحیح ترین ہے۔ مسئلہ نمبر 11 صحیح مسلم میں حضرت یعلی بن امیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ پڑھتے ہوئے سنا : ونادوا یملک (الزخرف : 77) اس بارے میں حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن کی حدیث ہے جو وہ پانی بہن سے نقل کرتی ہیں کہ میں نے ق والقرآن المجید۔ نبی کریم ﷺ کی زبان سے یاد کی ہے، آپ ﷺ اسے ہر جمعہ کے موقع پر منبر پر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے (4) سورة قل کے شرع میں یہ گزر چکی ہے۔ امام ابودائود زہری سے مراسیل میں روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے خطبہ کا آغاز الفاظ سے وہتا الحمد للہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفر دوٰنعوذ بہ من شرور انفسنا (1) ۔ ” تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، ہم اس کی مدد چاہتے ہیں، ہم اس سے بخشش طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفوس کی شر سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور سج کے حق میں وہ گمراہی مقدر کر دے اس ککو کوئی ہدیات دینے والا نہیں۔ ہم گواہی دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ عیہ التحیتہ والثناء اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قیامت سے پہلیب شیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جوان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے وہ گمراہ ہوجاتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ جو ہمارا رب ہے سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی نارضاگی سے اجتناب کرتے ہیں ہم اس کیساتھ ہیں اور اسی کے لئے ہیں۔ “ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ جب آپ ﷺ خطبہ دیتے تو ارشاد فرماتے :” ہر آنے والی چیز قریب ہے اور جو آنے والی ہے وہ کوئی دور نہیں اللہ تعالیٰ کسی کی جلد بازی کے لئے اسے جلدی نہیں لاتا اور لوگوں کی وجہ سے تخفیف نہیں کرتا وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے نہ کہ وہ جو لوگ چاہیں ایک امر ہے جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے اور ایک امروہ ہے جس کا لوگ ارادہ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے اگرچہ لوگ ناپسند کریں، اللہ تعالیٰ جسے قریب کرے اسے دور کرنے والا کوئی نہیں، اللہ تعالیٰ جسے دور کرے اس کے قریب کرنے والا کوئی نہیں، اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شی واقع ہونے والی نہیں۔ “ (2) ۔ حضرت جابر نے کہا، نبی کریم ﷺ جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرماتے اللہ تعالیٰ کی حد اور انبیاء پر درود پڑھنے کے بعد آپ فرماتے :” اے لوگو ! تمہارے لئے علامتیں ہیں اپنی علامتوں کی طرف چلو تمہارے لئے انتہائیں ہیں اپنی انتہاء کی طرف چلو، بیشک بندہ مومن دو خوفوں کے درمیان ہے۔ ان خوفوں میں سے ایک اجل ہے جو گزر چکی ہے وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کیا فیصلہ فرمانے اولا ہے اور ایک اجل ہے جو باقی ہے وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے پس بندے کو چاہئے کہ اپنی ذات میں سے اپنی ذات کے لئے اور اپنی دنیا سے آخرت کے لئے حصہ بنائے، اپنی جوانی سے اپنے بڑھاپے کے لئے اور اپنی زندگی سے اپنی آخرت کے لئے حصہ بنائے۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! موت کے بعد رضا کے طلب کرنے کا موقع نہیں اور دنیا کے بعد کوئی وار نہیں مگر جنت ہے یا جہنم میں یہ کہتا ہوں اور پانے لئے اور تمہارے لئے بخشش کا طالب ہوں۔ “ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے یہ جو پہلا خطبہ ارشاد فرمایا وہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 12۔ جو خطبہ کو سنے اس پر خطبہ کے لئے خاموش رہنا واجب ہے، سنت یہ ہے کہ جو اسے سنے اور جو نہ سن سکے وہ اس کے لئے خاموش رہے انشاء اللہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔ جس نے اس وقت گفتگو کی اس نے لغو عمل کیا اس کے ساتھ اس کی نماز میں فساد واقع نہیں ہوگا۔ صحیح میں حضرت ابوہیرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب تو نے جمعہ کے روز اپنے ساتھی سے کہا، تو خاموش رہ جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو نے لغو عمل کیا۔ “ (1) زمحشری نے کہا : جب خاموش کرانے والے نے اپنے ساتھی سے کہا : تو خاموش ہو جاتو اس نے لغو عمل کیا (2) ۔ کہا : وہ خطیب جو اس میں غلو کرتا ہے وہ لغول عمل کرنے والا نہیں ہوگا ہم اسلام کی تنہائی اور ایام کے بےنفع ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 13۔ امام جب منبر پر چڑھے تو لوگ اس کی طرف منہ کریں۔ امام ابو دائود نے ابان بن عبداللہ سے مرسل روایت نقل کی ہے کہ میں جمعہ کے روز عدی بن ثابت کے ساتھ تھا جب امام نکلا یا کہا : منبر پر چڑھا تو امام کی طرف منہ کرلیا کہا : رسول اللہ ﷺ کے صحابہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، اسے ابن ماجہ نے عدی بن ثابت سے وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں (3) ۔ اسناد میں یہ اضافہ کیا عن ابیہ کہا، رسول اللہ ﷺ جب منبر پر کھڑے ہوتے تو صحابہ کرام اپناے منہ ان کی طرف کرلیتے تھے۔ ابن ماجہ نے کہا، میں امید کرتا ہوں کہ یہ روایت متصل ہوگی۔ میں کہتا ہوں : ابو نعیم حافظ محمد بن معمر نے وہ عبداللہ بن محمد ناجیہ سے وہ عباد بن یعقوب سے وہ محمد بن فضل خراسانی سے وہ منصور سے وہ ابراہیم سے وہ علقمہ سے وہ حضرت عبداللہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب منبر پر کھڑے ہوجاتے تو ہم اپنے منہ آپ ﷺ کی طرف کرلیتے۔ محمد بن فضل بن عطیہ منصور سے روایت کرنے میں متفرد ہیں۔ مسئلہ نمبر 14۔ امام خطبہ دے رہا ہو تو جو آدی مسجد میں داخل ہوتا ہے وہ نماز نہ پڑھے، یہ امام مالک کا نقطہ نظر ہے، یہ ابن شہاب اور دوسرے لوگوں کی رائے ہے۔ موطا میں ان سے مروی ہے : امام کا نکلنا نماز کو قطع کردیتا ہے اور اس کی گفتگو کلام کو ختم کردیتی ہے۔ یہ مرسل ہے صحیح مسلم میں حضرت جابر سے روایت مروی ہے : ا اذا جا احد کم یوم الجمعۃ والا مام یخطب فلیرکع رکعتیں ولیتجوزفیھا (14) ۔ تم میں سے کوئی جب جمعہ کے روز آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعت نماز پڑھے اور ان میں اختصار سے کام لے۔ یہ نماز پڑھنے میں نص ہے۔ امام شافعی اور دوسرے علماء یہی کہتے ہیں۔ مسلہ نمبر 15۔ ابن عون نے ابن سرین سے روایت نقل کی ہے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعت نماز پڑھے اور ان میں اختصار سے کام لے۔ یہ نماز پڑھنے میں نقص ہے۔ امام شافعی اور دوسرے علماء یہی کہتے ہیں۔ مسئلہ 15۔ ابن عون نے ابن سیرین سے روایت نقل کی ہے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو علماء نیند کو ناپسند کرتے اور اس بارے میں سخت قول کرتے۔ ابن عون نے کہا، اس کے بعد پھر مجھے ملے پوچھا : تو جانتا ہے وہ کیا کہتے تھے ؟ کہا : وہ کہتے ان کی مثال اس لشکر کی سی ہے جو اخفقوا کا شکار ہوئے۔ پھر پوچھا : کیا تو جانتا ہے۔ اخفقوا کیا ہے اس نے کچھ بھی غنیمت نہ پائی۔ حضرت سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذا نعس احد کم فلیتحول الی مقعد صاحبہ ولیتحول صاحبہ الی مقعدہ (5) تم میں سے جب کسی کو اونگھ آجائے تو وہ اپنے ساتھی کی جگہ چلا جائے اور اس کا ساتھی اس کی جگہ آجائے۔ مسئلہ نمبر 16۔ ہم اس میں جمعہ کی فضیلت اور فرضیت کا ذکر کریں گے جسے ہم نے ذکر نہیں کیا۔ ائمہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم جمعہ کا ذکر کیا فرمایا :” اس میں ایک گھڑی ہے جسے بندہ مومن نہیں پاتا مگر وہ نماز پڑھ رہا ہو وہ اس میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ “ (1) اپنے ہاتھ سے اس کے تھوڑا ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے مکمل ہونے تک کا وقت ہے۔ “ (2) حضرت انس سے مروی ہے ایک روز نبی کریم ﷺ نے ہمارے پاس تشریف لانے میں دیر کردی۔ جپ آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : آپ ﷺ کو روک لیا یا ؟ فرمایا :” اس کی وجہ یہ تھی کہ جبرئیل امین میرے پاس سفید آئینہ کی طرح کی چیز لائے جس میں سیاہ نکتہ تھا (3) ۔ میں نے پوچھا : اے جبرئیل ! یہ کیا ہے ؟ حضرت جبرئیل امین نے عرض کی : یہ جمعہ ہے اس میں آپ ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی امت کے لئے بھلائی ہے۔ یہود و نصاری نے اس کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس میں غلطی کی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کی ہدایت عطا فرمائی۔ میں نے پوچھا : اے جبریلچ یہ سیاہ نکتہ کیا ہے ؟ عرض کی : یہ جمعہ کے دن وہ گھڑی ہے کوئی مسلمان بندہ نہیں پاتا جس میں وہ خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے یا اس کی مثل اس کے لئے قیامت کے روز ذخیرہ فرما دیتا ہے یا اس کی مثل برائی اس سے دور کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہترین ون ہے۔ اہل جنت اسے یوم مزید کا نام یدتے ہیں۔ “ اور حدیث ذکر کی۔ ابن مبارک اور یحییٰ بن سلام نے کہا، مسعودی، منہال بن عمرو سے وہ ابوعبیدہ سے وہ عبداللہ بن عتبہ سے وہ حضتر ابن مسعود سے روایت نقل کرتے ہیں :” جمعہ کی طرف جلدی کرو کیونکہ یہ جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ اہل جنت کے لئے سفید کافور کے ٹیلے میں ظہور فرمائے گا۔ “ ابن مبارک نے کہا، وہ اس کے اس قدر قریب ہوں گے جس قدر وہ دنیا میں جمعہ کے لئے جلدی کیا کرتے تھے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، جس طرح وہ دنیا میں جمعہ کی طرف جلدی کیا کرتے تھے اور ان الفاظ کا اضافہ کیا وہ ان کے لئے کرامت میں سے ایسی چیز پیدا فرمائے گا۔ جس کو انہوں نے اس سے قبل نہیں دیکھا ہوگا۔ یحییٰ نے کہا، میں مسعودی کے علاوہ کسی کو نہیں سنا جس میں وہ اضافہ کرتا ہے وہ آیت کریمہ کا حصہ ہے ولدینا مزید۔ (ق) میں کہتا ہوں : فی کثیب نیلے میں سے مراد ہے جنتی یعنی وہ جنتی اس ٹیلہ پر ہونگے جس طرح حضرت حسن بصری نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جنتی جمعہ کو اپنے رب کا دیدار کریں گے جبکہ وہ کافور کے ٹیلہ پر ہونگے جس کی اطراف کو نہیں دیکھا جاسکے گا، اس میں جاری نہر ہوگی جس کے دونوں کنارے کستوری کے ہونگے اس پر ایسی دو شیزائیں ہوگنی وہ سب سے اچھی آواز میں قرآن پڑھ رہی ہونگی جسیپ ہلوں پاور پچھلوں نے سنا ہوگا۔ جب وہ اپنی اپنی منازل کی طرف جائیں گے تو ہر ایک جس کا ہاتھ چاہے گا پکڑ کرلے جائے گا پھر وہ موتیوں سے بنی پلوں پر سے گزر کر اپنے گھروں کو جائیں گے۔ (1) اگر اللہ تعالیٰ ان کے ان کے گھروں کی طرف راہنمائی نہ فرمائے تو وہ اپنے گھروں کی راہ نہ پائیں۔ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ہر جمعہ کو ان کے لئے نئی نئی چیزیں پیدا فرمائے گا، اسے یحییٰ بن سلام نے ذکر کیا۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں نے عرش کے نیچے ستر شہر دیکھے ان میں سے ہر شہر تمہارے ان شہروں سے ستر گنا بڑا ہے، وہف رشتوں سے بھرا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں وہ اس کی تسبیح کرتے ہوئے کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے بخش دے جو جمعہ کو حاضر ہو، اے اللہ ! اسے بخش دے جس نے جمعہ کے روز غسل کیا “ اسے ثعلبی نے ذکر کیا۔ قاضی شریف ابوالحسن علی بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی عیسوی جو عیسیٰ بن علی بن عبداللہ بن عباس ؓ کی اولاد میں سے تھے۔ یہ صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت نقلک رتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ قیامت کے روز دنوں کو ان کی حالت پر اٹھائے گا اور جمعہ کے دن کو روشن ومنور اٹھائے گا جمعہ والے اس کو گھیرے ہونگے جس طرح ایک دلہن ہو جسے معزز خاوند کی طرف بھیجا جا رہا ہو وہ ان کے لئے روشن ہوتی ہے جس کی روشنی میں وہ لوگ چلتے ہیں ان کے رنگ برف کی طرح سفید اور ان کی ہوا کستوری کی طرح پھیل رہی ہوگی۔ وہ کافور کے پہاڑوں میں داخل ہونگے انہیں جن و انس دیکھیں گے۔ وہ جنت میں داخل ہونگے کوئی ان کے ساتھ خلط ملط نہیں ہوگا مگر ایسے موذن جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آذان دیتا ہے۔ “ سنن ابن ماجہ میں ہے حضرت ابوہریرہ روایت نقلک رتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہے۔ جب تک گناہ کبیرہ چھا نہ جائیں۔ “ (2) امام مسلم نے بھی اس کی ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ اوس بن اوس ثقفی سے مروی ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہئے سنا :” جس نے جمعہ کے روز غسل کرایا اور خود غسل کیا، جلدی اٹھایا اور خود جلدی اٹھا اور پیدل چلا اور سوار نہ ہو اور امام کے قریب بیٹھا اور کوئی غلو عمل نہ کیا اس کے لئے ہر قدم کے عوض سال بھر کا عمل ہے۔ جس کے دنوں کے روزے اور راتوں کے قیام کا اجر ہوگا۔ “ (3) حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا :” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں توبہ کرو قبل اس کے کہ تمہیں موت آئے (4) مشغول ہونے سے پہلے اعمال حسنہ کی طرف جلدی کرو اپنے اور اپنے رب کے درمیان تعلق اس کا کثرت سے ذکر کر کے اور مخفی و اعلانیہ صدقہ کثرت سے کر کے تعق مضبوط کرو تو تمہیں رزق دیا جائیگا۔ تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں اجر دیا جائیگا۔ یہ جان لو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر میری اس جگہ، میرے اس شہر اور اس سال جمعہ فرض کیا ہے یہ قیامت تک فرض ہے۔ جس نے میری زندگی یا میرے پردہ کرنے کے بعد اسے ترک کیا جبکہ اس کا عادل امام یا ظالم امام ہو وہ اس کی تحقیر کرتا ہو یا اس کا انکار کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی جمعیت کو قائم نہ رکھے اور اس کے معاملہ میں برکت نہ رکھے خبردار ! اس کی کوئی نماز نہیں، اس کی کوئی زکوۃ نہیں، اس کا کوئی حج نہیں، اس کا کوئی روزہ نہیں اور اس کی کوئی نیکی نہیں یہاں تک کہ وہ توبہ کرے جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر نظر رحمت فرماتا ہے۔ خبردارچ کوئی عورت کسی مرد کی امامت نہ کرائے۔ کوئی بدو کسی مہاجر کی امامت نہ کرائے اور کوئی فاجر کسی مومن کی امات نہ کرائے مگر یہ کہ حاکم اس پر جبر کرے جس کی تلوار اور ڈنڈے سے وہ آدمی خوف محسوس کرتا ہو۔ “ میمون با ابی شیبہ نے کہا، میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کا ارادہ کیا۔ میں نے جانے کا ارادہ کیا۔ پھر میں نے کہا : میں کہاں جائوں گا ؟ کیا میں اس فاجر کے پیچھے نماز پڑھوں گا ؟ ایک دفعہ کہتا : میں جائوں گا اور ایک دفعہ کہتا : میں نہیں جائوں گا۔ میں نے جانے پر پختہ ارادہ کرلیا تو گھر کی جانب سے مجھے ایک ندا کرنے والے نے نے ندا کی : یا یھا الذین امنوا اذا نودی اللصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ ذرو والبیع۔ مسئلہ نمبر 17۔ قل ما عنداللہ خیر من اللھو ومن التجارۃ اس میں دو وجوہ ہیں (1) اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری نماز کا جو ثواب ہے وہ تمہاری لہو کی لذت اور تمہاری تجارت کے نفع سے زیادہ ہے۔ (2) اللہ تعالیٰ کے ہاں جو تمہارا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حق میں مقدر کیا ہے یہ اس سے بہتر ہے جو تم نے لہو اور تجارت سے حاصل کیا ہے۔ ابو رجا عطاردی نے قرأت کی، قل ماعند اللہ خیر من اللھو دمن التجارۃ للذین للذین امنوا۔ واللہ خیر الرزقین۔ جو بھی کسی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے ان سب سے اللہ تعالیٰ بہتر ہے، اسی سے طلب کرو اور اس کی طاعت کے ذریعے اس چیز کو حاصل کرنے میں مدد لو جو اس کے پاس ہے جو دنیا و آخرت سے بہتر ہے۔