Ayah 60:11تفسیر
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وان فاتکم شئی من ازواجکم روایت میں ہے کہ مسلمانوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس پر ہم راضی ہیں اور مسلمانوں نے مشرکوں کو خط لکھے تو انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو یہ حصہ نازل ہوا۔ وان فاتکم ……زہری نے عروہ سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے وسئلو…… مسلمانوں نے کفار کو خط لکھے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر ہماری کوئی عورت تمہارے پاس آئے تو تم ہمیں مہر دو اور اگر تمہاری کوئی عورت ہمارے پاس آئے تو ہم اس کا مہر تمہیں دیں گے۔ جواب میں انہوں نے مسلمانوں کو خط لکھے : جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم نہیں جانتے کہ تمہارا کوئی حق ہم پر ہے اور اگر ہمارا تم پر کوئی حق ہے تو اسے ہماری طرف بھیج دو ۔ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو نازل کیا : وان فاتکم…… حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ذلکم حکم اللہ …… یہ ان مسلمانوں اور ان کفار کے بارے میں ہے جو اہل مکہ سے تھے جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہے۔ زہری نے کہا : اگر عہدوپیمان نہ ہو تو مسلمان عورتوں کو روک لیا جائے گا اور انہیں مہر واپس نہیں کیا جائے گا (1) ۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : انہیں حکم دیا گیا کہ جن کی بیویاں چلی گئی ہیں انہیں اتنا مال، مال فئی اور غنیمت میں سے دے دو جتنا انہوں نے بیویوں پر خرچ کیا تھا۔ دونوں نے کہا : یہ حکم اس کے بارے میں ہے جس کے ساتھ ہمارا اس معاملہ میں کوئی عہدوپیمان ہو جبکہ ہمارا اور ان کے درمیان تو کوئی ایسا معاہدہ نہیں۔ دونوں نے کہا : فعاقبتم کا معنی ہے تم بدلہ لو۔
فاتوا الذین …… مراد مہر ہیں۔ یہ تمام کفار میں عام ہے۔ قتادہ نے یہ بھی کہا ہے : اگر تم میں سے کسی کی بیوی ان کفار کے پاس چلی جائے جن کا اور تمہارا عہدو پیمان ہو تو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں انہیں اس کے برابر مال دو جتنا انہوں نے خرچ کیا۔ پھر سورة براءت میں یہ حکم منسوخ ہے۔ زہری نے کہا : فتح مکہ کے سال یہ حکم منقطع ہوگیا۔ سفیان ثوری نے کہا : آج اس پر عمل نہیں ہوگا۔ ایک قولم کا نقطہ نظر ہے : یہ حکم آج بھی ثابت ہے ؛ قشیری نے یہ بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ فعاقبتم عام قراءت فعاقبتم ہے۔ علقمہ، نخعی، حمید اور اعرج نے فعقبتم مشدو پڑھا ہے۔ مجاہد نے اسے فعاقبتم پڑھا ہے کہا : تم نے اس طرح کیا۔ جس طرح انہوں نے تمہارے ساتھ کیا۔ زہری نے فعقتبم الف کے بغیر تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ مسروق اور شفیق بن سلمہ نے فعقبتم قاف کے کسرہ کے ساتھ بغیر تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور کہا : اس کا معنی ہے تمہیں غنیمت حاصل ہو۔ تمام لغات کا ایک ہی معنی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عاقب، …… اور تعاقفب جب غنیمت حاصل ہو۔ قتبی نے کہا فعاقبتم کا معنی ہے تم یکے بعد دیگرے جنگ میں شریک ہو۔ ابن بحر نے کہا : تم مرتد عورت کو قتل کی سزا دو تو مسلمانوں کی غنیمتوں سے اس کے خاوند کو اس کا مہر واپس کیا جائے گا (2) َ
مسئلہ نمبر 3 ۔ فاتو……حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرما ہے اگر کوئی مومن عورت اہل مکہ کے کفار تک جا پہنچے، تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو اور اس کا خاوند مسلمان ہو اور تمہیں غنیمت حاصل ہو تو تم اس مسلمان خاوند کو مال غنیمت سے مہر کے برابر مال دے دو اور یہ ادائیگی پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے ہو۔ زہری نے کہا : مال فتئی سے اسے مہر دیا جائے گا (3) ۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہے : جو ہمارے ساتھ آملا ہے اسے مہر دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گی ا ہے۔ اگر کفار اس عورت کے مہر کی چٹی ادا کرنے کے لئے تیار نہ ہوں جو انکے پاس چلی گئی ہے تو ان کے ساتھ معاہدہ ختم کردو یہاں تک کہ تم فتح پائو اور مہر ان سے لے لو۔ اعمش نے کہا : یہ منسوخ ہے۔ عطا نے کہا : بلکہ اس کا حکم ثابت ہے۔ یہ سب پہلے گزر چکا ہے۔ قشیری نے کہا : یہ آیت ام حکم بنت ابی سفیان کے حق میں نازل ہوئی وہ مرتد ہوئی تھی اور اس نے اپنے خاوند عیاض بن غنم قرشی کو چھوڑ دیا۔ قریش میں سے ان کے علاوہ کوئی عورت مرتد نہیں ہوئی تھی پھر اسلام قبول کرلیا۔
ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : وہ کل چھ عورتیں تھیں جنہوں نے اسلام چھوڑ اور مشرکوں کے ساتھ جا ملی تھیں یہ مہاجر مسلمانوں کی بیویاں تھیں (1) ۔ (1) ام الحکم بنت ابی سفیان، یہ حضرت عیاض بن ابی شداد فہری کے عقد میں تھی۔ (2) فاطمہ بنت ابی امیہ بن مگیر جو حضرت ام سلمہ کی بہن تھی۔ یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے عقد میں تھی۔ جب حضرت عمر ؓ نے ہجرت کی تو اس نے انکار کیا اور مرتد ہوگئی۔ (3) بروع بنت عقبہ یہ حضرت شماس بن عثمان کے عقد میں تھی۔ (4) عبدہ بنت عبد العزی یہ حضرت ہشام بن عاص کے عقد میں تھی۔ (5) ام کلثوم بنت جرول یہ حضرت عمر بن خطاب کے عقد میں تھی۔ (6) شبہ بنت غیلان۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے خاوندوں کو ان کے مہر مال غنیمت سے ادا کئے تھے۔ واتقوا اللہ اس چیز سے بچو کہ تم ان امور میں حد سے تجاوز کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا۔
Ayah 60:12آیات۔ 12
تفسیر
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا ………جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو مکہ مکرمہ کی عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں تو نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان سے عہد لیں کہ وہ شرک نہیں کریں گی۔
صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں نے کہا : مومن عورتیں جب رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرتیں تو ان کا امتحان اس آیت کے ساتھ لیا جاتا یایھا……(2) ۔
مومنات میں سے جس نے اقرار کرلیا تو اس نے محنۃ کا اقرار کرلیا۔ جب وہ یہ اقرار کرلیتیں تو رسول اللہ ﷺ انہیں فرماتے :” جائو میں نے تم سے بیعت لے لی ہے “۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا آپ نے صرف گفتگو کے ذریعے ان سے بیعت لی۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے کبھی بھی بیعت نہیں لی مگر اسی چیز کی جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔ جب رسول اللہ ﷺ ان سے بیعت لیتے تو یہ فرماتے :” میں نے تم سے زبانی بیعت لے لی ہے۔ “ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت لی جبکہ آپ ﷺ کے اور ان عورتوں کے درمیان کپڑا تھا آپ ان پر شرط لگاتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب آپ مردوں کی بیعت سے فارغ ہوئے تو آپ صفا پہاڑی پر بیٹھے جبکہ آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ سے تھوڑا نیچے حضرت عمر تھے۔ رسول اللہ ﷺ عورتوں پر شرط ذکر کرتے اور حضرت عمر ؓ ان عورتوں پر اسے دہراتے تھے۔ ایک روایت یہ کی گئی : آپ ﷺ نے ایک عورت کی ذمہ داری لگائی جو صفا پر کھڑی ہوئی تو اس نے عورتوں سے بیعت لی۔ ابن عربی نے کہا : یہ ضعیب ہے (1) ۔ چاہے کہ اس چیز پر اعتماد کیا جائے جو صحیح میں ہے۔ حضرت ام عطیہ ؓ نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ایک گھر میں انصار کی عورتوں کو جمع کیا پھر حضرت عمر بن خطاب کو ہماری طرف بھیجا حضرت عمر دروازے پر کھڑے ہوگئے انہوں نے عورتوں کو سلام کیا اور عورتوں نے انہیں سلام کا جواب دیا۔ حضرت عمر نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کی جانب سے تمہیں پیغام پہنچانے والا ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائو گی۔ سب نے کہا : ہاں ٹھیک ہے۔ حضرت عمر ؓ کمرے کے باہر سے اور ہم نے کمرے کے اندر سے اپنے ہاتھوں کو بڑھایا۔ پھر حضرت عمر نے کہا : اے اللہ گواہ رہنا۔ عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے وہ دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب عورتوں سے بیعت لیتے تو پانی کا ایک پیالہ لیتے اپنا ہاتھ اس میں رکھتے پر عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ اپنا ہاتھ اس میں رکھیں تو وہ اپنا ہاتھ اس پیالہ میں رکھتیں (2) ۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب کہا :” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائو گے۔ “ ہند بنت عتبہ نے کہا جبکہ وہ نبی کریم ﷺ سے خوف کی وجہ سے نقاب میں تھی کہ کہیں آپ ﷺ اسے پہچان ہی نہ لیں۔ خوف کی وجہ سے اس کا وہ عمل تھا جو اس نے غزوہ احد کے موقع پر حضرت حمزہ کے ساتھ روا رکھا تھا : اللہ کی قسم ! آپ ﷺ ہم سے ایسی باتوں کا وعدہ لے رہے ہیں جو آپ نے مردوں سے نہیں لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر اسلام اور جہاد پر بیعت لی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” وہ چوری نہیں کریں گی “ (3) ۔ ہند نے کہا : ابو سفیان ایک بخیل آدمی ہے میں اس کے مال سے ضرورت کی چیز لے لیتی ہوں۔ ابو سفیان نے کہا : وہ تیرے لئے حلال ہے۔ نبی کریم ﷺ ہنس پڑے اور اسے پہچان لیا۔ فرمایا :” تو ہند ہے ؟ “ اس نے عرض کی : جو گزر چکا اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے۔ پھر فرمایا :” وہ بدکاری نہیں کریں گی “۔ ہند نے عرض کی : کیا آزاد عورت بھی بدکاری کرتی ہے ؟ فرمایا :” وہ اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی، وہ بچیوں کو زندہ درگور نہیں کریں گی اور جنین کو نہیں گرائیں گی “۔ ہند نے کہا : ہم نے ان بچوں کو چھوٹی عمر میں پالا اور جب وہ بڑے ہوگئے تو میدان بدر میں تم نے انہیں قتل کردیا۔ تم اور وہ زیادہ بصیرت والے ہیں۔ مقاتل نے یہ نقل کیا ہے : ہم نے انہیں چھوٹی عمر میں پالا اور بڑی عمر میں تم نے انہیں قتل کیا تو اور وہ زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ ہنس پڑے یہاں تک کہ پشت زمین پر جالگی۔ حنظلہ بن ابی سفیان یہی ہند کا پہلا بیٹا تھا جو غزوہ بدر میں قتل ہوا تھا۔ پھر فرمایا : ولا یاتین……۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بین ایدھن کا معنی یہ ہے زبان سے چغل خوری کرنا۔ اور (بین) ارجلھن کا معنی ہے شرمگاہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بین ایدھن کا معنی یہ ہے زبان سے چغل خوری کرنا۔ اور (بین) ارجلھن کا معنی ہے شرمگاہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بین ایدیھن سے مراد بوسہ لینا اور ٹٹولنا اور بین ارجھلن سے مراد جماع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہے کہ وہ کسی غیر کا بچہ اپنے خاوندوں کے ساتھ لاحق کریں گی ؛ یہ جمہور کا قول ہے۔ عورت کوئی بچہ پاتی تو اسے اپنے خاوند کے ساتھ لاحق کردیتی اور کہتی : یہ تجھ سے میرا بچہ ہے (1) ۔ یہ بہتان اور افتراء ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مابین یدیھا ورجلیھا یہ بچے سے کنایہ ہے کیونکہ اس کا بطن جس میں وہ بچے کوا ٹھاتی ہے وہ اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ شرمگاہ جس سے وہ بچہ جنتی ہے وہ اس کی ٹانگوں کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ حکم عام ہے اور بچے کو لانے اور اپنے خاوند کے ساتھ اسے لاحق کرنے کو شامل ہے۔ اگرچہ زنا سے نہی پہلے گزر چکی ہے۔
یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ جبہند نے یہ سنا تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! بہتان یہ قبیح امر ہے۔ آپ ﷺ حکم نہیں دیتے مگر سب سے بہترین امر اور مکارم اخلاق کا حکم دیتے ہیں۔ پھر فرمایا : ولا یعصینک فی معروف۔ قتادہ نے کہا : ” وہ نوحہ نہیں کریں گی اور ان میں سے کوئی عورت خلوت اختیار نہیں کرے گی مگر ذی رحم محرم رشتہ کے ساتھ ہی “۔ مراد ہے غیر محرم کے ساتھ تنہائی میں وقت نہیں گزارے گی۔ سعید بن مسیب، محمد بن سائب اور زید بن اسلم نے کہا :” وہ چہرے کو نہیں نوچیں گی، وہ گریبان نہیں پھاڑیں گی، وہ ہائے ہلاکت وغیرہ کا واویلا نہیں کریں گی، وہ شعر نہیں پڑھیں گی، وہ ذی رحم محرم رشتہ دار کے سوا مردوں سے گفتگو نہیں کریں گی “۔
حضرت ام عطیہ نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ یہ حکم نوحہ کے متعلق ہے، یہ حضرت اب عباس کا قول ہے۔ شہر بن حوشب نے حضرت امل سلمہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : اسے مراد نوحہ ہے (2) ۔
مصعب بن نوح نے کہا : میں ایک ایسی بوڑھی سے ملاجوان عورتوں میں سے تھی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی تھی اس نے مجھے ولا یعصینک فی معروف کی تفسیر کے حوالے سے حدیث بیان کی کہ مراد نوحہ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی یبایعنک علی ……فرمایا : ” اس سے مراد نوحہ ہے “ (3) ۔ کہا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! مگر آل فلاں کیونکہ انہوں نے دور جاہلیت میں میری مدد کی تھی۔ اس عورت سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیعت کے ساتھ ہم سے یہ وعدہ بھی لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ ہم میں سے پانچ عورتوں کے سوا کسی نے بھی ان سے وفا نہ کی۔ حضرت ام سلیم، حضرت ام العلائ، حضرت بن ابی سرہ جو حضرت معاذ کی زوجہ تھیں یا حضرت بنت ابی سرہ، حضرت معاذ کی زوجہ رضوان اللہ علیھن۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں معروف سے مراد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے ؛ یہ قول میمون بن مہران کا ہے۔ بکر بن عبد اللہ مزنی نے کہا : وہ کسی ایسے امر میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی جس میں ان کے لئے ہدایت کا پہلو ہو۔ کلبی نے کہا : یہ ہر معروف میں عام ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حکم دیا (1) ۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت ہند نے اس وقت کہا : ہم اس مجلس میں نہ بیٹھتیں اگر ہمارے دلوں میں کوئی ایسی بات ہوتی کہ ہم آپ کے کسی معاملہ میں نافرمانی کریں۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بیعت کی صفت میں کئی امور ذکر کیے ہیں ان امور میں دین میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان کی وضاحت کی گئی اور امر کے ارکان ذکر نہیں کئے گئے وہ بھی چھ چیزیں ہیں اللہ تالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور جنابت سے غسل، اس کی وجہ یہ ہے کہ نہی ہر زمانہ اور ہر حال میں قائم رہتی ہے تو دائمی رہنے والی چیزوں پر تنبیہ زیادہ موکد ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جن امور سے منع کیا گیا ہے عورتوں میں یہ بہت زیادہ ہوتی ہیں اور نسب کا شرف انہیں سے نہیں روکتا، اس لئے انہیں خصوصی طور پر ذکر کیا گیا : اس کی مثال حضور ﷺ کا ارشاد ہے جو آپ نے عبد القیس کے وفد سے فرمایا :” میں تمہیں وباء (کدو سے بنا برتن) حنتم (روغنی گھڑا) نقیر (کھجور کے تنے سے بنا برتن) اور مزفت (تارکول ملا برتن) سے منع کرتا ہوں “ (2) ۔ نبی کریم ﷺ نے دوسرے گناہوں سے نہی کے بجائے صرف شراب پینے سے منع کیا کیونکہ یہی ان کی پسندیدہ چیز اور عادت تھی۔ جب انسان نافرمانیوں میں سے پسندیدہ امر کو ترک کرتا ہے تو اس کے لئے باقی شہوتوں کے چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ جب نبی کریم ﷺ نے بیعت میں ولا یسرقن فرمایا : حضرت ہند نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابو سفیان بخیل آدمی ہے۔ کیا مجھ پر گناہ ہوگا کہ میں اس کے مال سے اتنا لے لوں جو میرے اور میری اولاد کے لئے کافی ہو ؟ فرمایا : ” نہیں مگر معروف طریقہ سے “ (3) ۔ حضرت ہند کو خوف ہوا کہ اگر اس نے اسی مال پر اکتفاء کیا جتنا حضرت ابو سفیان اسے دیتے ہیں تو وہ تو ضائع ہوجائے گی یا اس سے زیادہ لیا تو وہ چوری کرنے والی اور مذکورہ بیعت کو توڑنے والی ہوجائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا :” تو معروف طریقہ سے جو لے گی اس میں کوئی حرج نہیں “ یعنی جب وہ ضرورت سے زائد نہ لے تو کوئی حرج نہیں۔ ابن عربی نے کہا : یہ اس مال کے بارے میں ہوگا جو خاوند اس سے چھپا کر نہیں رکھتا اور اسے تالے میں نہیں رکھتا۔ جب بیوی اسے تالے کو توڑے اور مال سے لے وہ چوری ہوگی، اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگی اور اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ حضرت عبادہ بن صامت نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کا عہد لیا جس طرح عورتوں سے عہد لیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائو گے، کسی کے ساتھ بدکاری نہیں کرو گے، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کرو گے، تم ایک دوسرے کے خلاف جادو نہیں کرو گے اور جو نیکی کا تمہیں حکم دیا جائے گا اس میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ ابن بحر اور دوسرے علماء نے کہا : ولا یاتین ببھتان سے مراد وہ جادو نہیں کریں گے۔ بہتان سے مراد جادو ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ……جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ بہتان سے مراد وہ بچہ ہے……… جسے وہ لقیط کے طور پر لے وارجلھن جس کو وہ بدکاری سے جنے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ ولا یعصینک …… بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے ولا یعصینت…… کی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے فرمایا : یہ ایسی شرط ہے جو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے مقرر کی ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے (1) ۔ صحیح یہ ہے کہ یہ عام ہے اور نبی کریم ﷺ نے جو بھی حکم دیا ہے اور جن سے منع کیا ہے ان کو جامع ہے اس میں نوحہ، کپڑے پھاڑنا، بال کاٹنا اور غیر محرم کے ساتھ خلوت کرنا شامل ہے۔ یہ سب گناہ کبیرہ اور دور جاہلیت کے افعال ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو مالک اشعری سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” میری امت میں چار امور دور جاہلیت سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے آپ ﷺ نے نوحہ کا بھی ذکر کیا “ (2) ۔ یحیٰی بن ابی کثیر، ابو سلمہ سے اور وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ان نوحہ کرنے والیوں کی قیامت کے روز دو صفیں بنائی جائیں گی ایک صف دائیں جانب اور ایک صف بائیں جانب ہوگی وہ اس دن میں یوں بھونکیں گی جس طرح کتے بھونکتے ہیں جو دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا پھر انہیں جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا “۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” فرشتے نوحہ کرنے والی اور چیخنے والی کے لئے رحمت طلب نہیں کرتے “۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ایک عورت کو نوحہ کرتے ہوئے سنا آپ اس کے پاس آئے اس کو دورے سے مارا یہاں تک کہ اس کی اوڑھنی اس کے سر سے نیچے گر گئی۔ عرض کی گئی : اے امیر المومنین ! عورت، عورت اس کی اوڑھنی گر گئی ہے۔ فرمایا : اس کی کوئی حرمت نہیں۔ ثعلبی نے تمام کی سندیں ذکر کی ہیں۔ جہاں تک فی معروف کا ارشاد ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ولا یعصینک میں قوت ہے اس میں دو قول ہیں۔ (1) یہ تاکید کے انداز میں معنی کی تفسیر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قل رب……(الانبیائ :112) کیونکہ اگر احکم فرماتا تو یہ بھی کافی ہوتا۔ (2) نبی کریم ﷺ کی بیعت میں معروف کی شرط لگائی تاکہ اس امر پر تنبیہ ہو کہ کوئی اور اس شرط کا زیادہ مستحق ہے، اس پر یہ چیز لازم ہے اور اشکال کی نفی کرنے والی ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ امام بخاری نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھے۔ فرمایا :” کیا تم میری اس پر بیعت کرتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائو گے، تم بدکاری نہیں کرو گے اور تم چوری نہیں کرو گے “ (1) ۔ سورة ٔ نساء کی آیت کی تلاوت کی۔ آیت کے ساتھ ان الفاظ کا اضافہ کیا :” جس نے اس عہد کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے اور جس نے کوئی غلطی کی تو اسے سزا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ بن جائے اور جس نے کوئی غلطی کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے بخشش دے “۔
صحیحن میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں عید الفطر کے روز رسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ کے ساتھ تھا سب خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے پھر خطبہ دیا کرتے تھے اللہ کے نبی ﷺ نیچے اترے گایو میں آپ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو بٹھا رہے ہیں پھر لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ حضرت بلال کے ساتھ عورتوں تک پہنچے (2) اور یہ آیت تلاوت کی …………یہاں تک کہ آیت سے فارغ ہوئے۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا :” تم اس پر ہو ؟ “ ایک عورت نے جواباً عرض کیا اس کے علاوہ کسی نے بھی جواب نہ دیا : ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔ حسن بن مسلم راوی نہیں جانتا کہ وہ عورت کون تھی۔ کہا : عورتوں نے صدقہ کیا۔ حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلا دیا، عورتیں اپنے چھلے اور انگوٹھیاں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ الفاظ بخاری کے ہیں۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ مہدوی نے کہا : تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ امام کے لئے ضروری نہیں کہ وہ عورتوں پر یہ شرط لگائے اس کا حکم دینا مستحب ہے لازم نہیں۔ بعض اہل نظر نے کہا : جب امتحان (جانچ پڑتال) کی ضرورت ہو کیونکہ دار دور ہے تو اس امتحان (جانچ پڑتال) کا قائم کرنا مسلمانوں کے امام پر ضروری ہوگا۔
Ayah 60:13یا یھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم۔ قوما سے مراد یہودی ہیں۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ مسلمان فقراء میں سے کچھ لوگ یہودیوں کو مومنوں کو خبریں دیتے اور ان کے ساتھ تعلقات قائم کرتے اس طرح ان سے کچھ پھل حاصل کرلیتے تو انہیں اس امر سے منع کیا گیا۔
قد یئسو…… مراد یہود یہیں ؛ یہ ابن زید کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد منافق ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مراد یہود و نصاری ہیں (3) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے انہوں نے آخرت کے لئے عمل کو ترک کردیا اور دنیا کو ترجیح دے دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ آخرت کے ثواب سے مایوس ہوگئے (1) ؛ یہ مجاہد کا قول ہے : کما یئس ……۔ یعنی زندہ کا فر اصحاب قبو کے بارے میں مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں گے ؛ یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : اس کا مصداق ہوہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا : وما ی……(الجاثیۃ :24) ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے جس طرح وہ کفار مایوس ہوگئے جو قبروں میں ہیں کہ وہ دنیا کی طرف لوٹیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے سورت کا اختتام بھی اسی چیز سے کیا جس سے سورت کو شروع کیا تھا کہ کفار کے ساتھ دوستی کو ختم کردیا جائے۔ یہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کو خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ ارادہ فرماتا ہے کہ قریش کے کفار آخرت کی بھلائی سے یوں مایوس ہوگئے ہیں جس طرح وہ کفار جو قبروں میں دفن ہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگئے ہیں (2) ۔ قاسم بن ابی بزہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : کفار میں سے جو فوت ہوچکا ہے وہ بھلائی سے مایوس ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔