57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 57:20–21

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ اور زینت (و آرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (و ستائش) اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اگتی ہے اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے ! ) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑجاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(بندو ! ) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے (اور) جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

اعلموآ انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو اتصال کی صورت یہ ہے کہ انسان بعض اوقات قتل اور موت کے خوف سے جہاد ترک کردیتا ہے۔ اس امر کو بیان کیا کہ دنیاوی زندگی حقیر چیز ہے اس لئے مناسب نہیں کہ جو چیز باقی رہنے والی نہیں اس کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے امر کو ترک کردیا جائے۔ مازائد ہے تقدیر کلام یہ ہے جان لو دنیاوی زندگی باطل، کھیل اور وشی کا لہو ہے پھر یہ ختم ہوجائے گا۔ قتادہ نے ہا، لعب و لہو کا معنی ہے کھانا اور پینا۔ مجاہد نے کہا : یہ لعب لہو ہے۔ سورة الانعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لعب م سے مراد ہے جو دنیا میں رغبت پیدا کرے اور لہو سے مراد ہے جو آخرت سے غاقل کر دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، لعب سے مراد مال جمع کرنا اور لہو سے مراد عورتیں ہیں۔ وزینۃ زینت سے مراد وہ چیز ہے جس سے زینت حاصل کی جاتی ہے۔ کافر دنیا سے زینت حاصل کرتا ہے اور آخرت کے لئے عمل نہیں کرتا اسی طرح وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز سے زینت حاصل کرتا ہے۔ وتفاخر بینکم یعنی تم میں سے بعض بعض پر اس کے ذریعے فخر کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خلقت اور قوت پر فخر کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، عربوں کی عادت کے مطابق انساب پر فخر کرتے ہو۔ صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم باہم تواضح کرو یہاں تک کہ کوئی دوسرے پر سرکشی نہ کرے اور کوئی دوسرے پر فخر نہ کرے۔ “ ‘ نبی کریم ﷺ سے یہ بھی ثابت ہے :” میری امت میں چار چیزیں جاہلیت سے تعلق رکھتی ہیں انساب پر فخر کرنا۔ “ یہ تمام بایں پہلے گزر چکی ہے۔ وتکاثر فی الاموال ولاولاد کیونکہ دور جاہلیت کی عادت تھی کہ بیٹوں اور اموال پر فخر کیا جاتا تھا مومنین کا فخر ایمان اور طاعت پر ہے۔ بعض متاخیرین نے کہا، لعب سے مراد بچوں کا کھیلنا ہے اور لہو سے مراد نوجوانوں کا لہو ہے۔ زینۃ عورتوں کی زینت ہے۔ تفاخر سے مراد ساتھیوں کا فخر کرنا ہے، تکاثر سے مراد تاجروں کا مال پر فخر کرنا ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : دنیا انہیں چیزوں کی طرح زائل اور فنا ہونے والی ہے۔ حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت عمار سے فرمایا : دنیا کے بارے میں غمگین نہ ہو کیونکہ دنیا چھ چیزیں ہیں ماکول، مشروب، ملبوس، مشموم (جس کو سونگھا جائے) مرکوب، منکوح۔ بہترین کھانا شہد ہے یہ مکھی کا لعاب ہے، اکثر مشروب پانی ہے اس میں تمام حیوانات برابر ہیں، بہترین لباس ریشم ہے یہ کیڑے کا بنا ہوتا ہے، فاضل خوشبو کستوری ہے یہ نافہ کا خون ہوتا ہے، بہترین سواری گھوڑا ہے اس پر سوار ہو کر لوگ قتل ہوتے ہیں، بہترین نکاح کی گئی عوتریں ہیں وہ بول کا محل بول کے محل میں ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم ! عورت اپنے بہترین حصہ کو مزین کرتی ہے جس کے ساتھ اس کے قبیح ترین حصہ کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی مثال ایسی کھیتی سے دی جس پر بارش ہوئی ہو، فرمایا : کمثل غیب اعجب الکفار نباتہ غیث سے مراد بارش ہے یہاں کفار سے مراد کاشتکار ہیں کیونکہ وہ بیج کو زمین میں دباتے ہیں۔ معنی ہے دنیاوی زندگی اس کھیتی کی مانند ہے جو زیادہ بارشوں کے باعث اپنی سرسبزی کے ساتھ دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے پھر وہ تھوڑے وقت میں ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے گویا وہاں کوئی کھیتی تھی ہی نہیں جب وہ کاشتکاروں کو خوش کرتی ہے تو اس وقت حد درجہ حسین ہوتی ہے۔ اس کی مثل گفتگو سورة یونس اور سورة کہف میں گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں کفار سے مراد اللہ تعالیٰ کا اناکر کرنے والے کیونکہ مومنین کے مقابلہ میں وہ دنیا کی زینت سے زیادہ خوش ہونے والے ہیں۔ یہ بہت اچھا قول ہے۔ کیونکہ اعجاب (خوش ہونا) اصل میں ان کے لئے اور انہی میں ہوتا ہے اور انہیں سے یہ چیز ظاہر بھی ہوتی ہے وہ دنیا اور مافیہا کی عظمت بجا لانا ہے موحدین میں تو اس کی حیثیت فرع کی سی ہوتی ہے جو ان کی شہوات سے جنم لیتی ہے۔ جب وہ آخرت کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے نزدیک یہ کم ہوجاتی ہے۔ یہاں کاف کا محل رفع ہے کیونکہ یہ صفت ہے ثم بھیج یعنی سرسبز و شاداب ہونے کے بعد وہ خشک ہو جای ہے۔ فترہ مصفراً جو اس پر ترو تازگی تھی وہ متغیر ہوجاتی ہے ثم یکون حطاماً وہ ٹکڑے ٹکڑے اور تنکا ہوجاتی ہے اس کے بعد اس کا حسن جاتا رہتا ہے اسی طرح کافر کی دنیا ہے۔ وفی الاخرۃ عذاب شدید یعنی کافروں کے لئے آخرت میں شدید عذاب ہے۔ اس پر وقف بہت اچھا ہے پھر کلام سے آغاز ہوگا ومغفرۃ من اللہ و رضوان یعنی یہ مومنین کے لئے ہے۔ فراء نے ہا، فی الاخرۃ عذاب شدید و مغفرۃ (الحدید : 28) اس میں تقدیر کلام یہ ہے اما عذاب شدید و اما مغفرۃ تو لفظ شدید پر کوئی وقف نہیں کیا جائے گا۔ وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور۔ یہ سابقہ کلام کی تاکید ہے یعنی دنیاوی زندگی کفار کو دھوکہ میں ڈالتی ہے جہاں تک مومن کا تعلق ہے دنیا اس کے لئے ایسی متاع ہے جو اسے جنت تک پہنچانے والی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے دنیاوی زندگی کے لئے عمل دھوکے کا بیان ہے یہ دنیا کے لئے عمل کرنے سے روکنا اور آخرت کے لئے عمل میں رغبت دلانا ہے۔ سابقوآء الی مغفرۃ من ربکم اعمال صالحہ کی طرف جلدی کرو جو تمہارے لئے تمہارے رب کی مغفرت کو ثابت کر دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : توبہ کی طرف جلدی کرو کیونکہ یہ عمل مغفرت کی طرف لے جاتا ہے : یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے امام کے ساتھ تکبیر اولی، یہ مکحول کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد پہلی صف ہے۔ وجنۃ عرضھا کعرض السمآء والارض اگر انہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مراد ہے تمام زمین اور تمام آسمان ایک دوسرے کے ساتھ پھیلا دیئے جائیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہر ایک آدمی کے لئے اتنی وسیع جنات ہوگی۔ ابن کیسان نے کہا : مراد جنتوں میں سے ایک جنت ہے۔ عرض، طول سے کم ہوتا ہے۔ عربوں کی عادت ہے کہ وہ کسی شی کی وسعت کو عضر سے تعبیر کرتے ہیں اس کی طوالت سے تعبیر نہیں کرتے، شاعر نے کہا : کان بلاد اللہ وھی عریضۃ علی الخائف المطلوب کفۃ حابل گویا اللہ تعالیٰ کے ملک جب کہ وہ بڑے وسیع و عریض ہیں خوفزدہ اور مطلوب شخص کے لئے شکاری کا پھندہ ہیں۔ یہ سب آل عمران میں بحث گزر چکی ہے۔ طارق بن شہاب نے کہا : اہل حیرہ میں سے ایک جماعت نے حضرت عمر سے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کا فرمان وجنۃ عرضھا کعرض السمآء والارض کو پیش نظر رکھتے ہوئے بتایئے جہنم کہاں ہے ؟ حضرت عمر نے انہیں فرمایا : بتائو جب رات چلی جاتی ہے اور دن آجاتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : تو رات میں جو کچھ ہے اسی کو آپ نے اخذ کیا ہے۔ اعذت للذین امنوا باللہ ورسلہ یہاں صرف ایمان کی شرط ہے کوئی اور شرط نہیں اس میں امید کو توقیت دی گئی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں ایمان کی شرط ذکر کی اور سورة آل عمران میں اضافہ کیا فرمایا اعدت للمتقین۔ الذین ینفقون فی السرآء و الضرآء والکظمین الغیظ ولعافین عن الناس (آل عمران) ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء یعنی جنت کو حاصل نہیں کیا جاسکتا اور اس میں داخل نہیں ہوا جاسکتا مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے ساتھ ہی اس میں داخل ہوا جاسکتا ہے۔ یہ بحث سورة اعراف وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ واللہ ذوالفضل العظیم۔
Ayahs 57:22–23

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہے اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور خدا کسی اترانے والے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

ما اصاب من مصیبۃ فی الارض مقاتل نے کہا، مصیبت سے مراد قحط، نباتات اور پھلوں کی قلت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کھیتی میں آفات ہیں۔ ولا فی انفسکم مراد جو تمہیں ب یماریاں لاحق ہوتی ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حدود کا قائم کرنا ہے، یہ ابن حبان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد معاش کی تنگی ہے۔ یہ وہ معنی ہے جسے ابن جریج نے روایت کیا ہے۔ الا فی کتب مراد لوح محفوظ ہے۔ من قبل ان نبراھا ھا ضمیر نفوس، الارض، المصائب یا سب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : معنی ہے قبل اس کے کہ وہ مصیبت کو پیدا کرے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس سے قبل کہ وہ زمین اور نفس کو پیدا کرے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر۔ یعنی ان تمام چیزوں کو پیدا کرنا اور ان کی حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔ ربیع بن سالم نے کہا، جب حضرت سعید بن جبیر کو پکڑ لیا گیا تو میں رونے لگا انہوں نے فرمایا : کس چیز نے تجھے رلایا ہے ؟ میں نے کہا، میں آپ کے ساتھ جو سلوک دیکھتا ہوں اور جس کی طرف آپ جا رہے ہیں اس کو دیکھ کر رو رہا ہوں۔ فرمایا : نہ رو اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ ایسا ہوگا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبراھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہا یٓت ماقبل کے ساتھ متصل ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اس امر کو آسان کردیا جو انہیں جہاد میں قتل اور زخم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس امر کی وضاحت کی کہ اموال کی مخافظت جو انہیں جاد سے روکتی ہے اور ان اموال میں جو نقصان وہا ہے سب مکتوب و مقدر ہے اس کو روکنے والا کوئی نہیں، بندے کے ذمہ امر کی اطاعت ہے۔ پھر انہیں ادب سکھایا تو یہ ارشاد فرمایا : لکیلا تا سوا علی مافاتکم یعنی تم سے جو رزق فوت ہوا ہے اس پر تم غمگین نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ جاتنے ہیں کہ رزق کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے تو ان کے ہاتھ سے جو چیز نکل چکی ہے اس پر وہ غمگین نہ ہوں گے۔ حضرت ابن مسعود سے روایت مروی ہے : لایجد احد کم طعم الایمان حتی یعلم ان ماصابہ لم یکن یخطئہ وما اخطاہ لم یکن لیصیبہ تم میں سے کوئی آدمی ایمان کا ذائقہ نہیں پا سکتا یہاں تک کہ وہ ہو یہ جان لے کہ اسے جو مصیبت پہنچی ہے وہ چھوٹنے والی نہ تھی اور جو نہیں پہنچی وہ پہنچنے والی نہ تھی۔ پھر لکیلاتا سوا علی مافاتکم کی قرأت کی۔ یعنی دنیا میں سے جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل چکی ہے اس پر غمگین نہ ہو کیونکہ یہ تمہارے حق میں مقدر نہ تھی اگر تمہارے حق میں مقدر ہوتی تو وہ تم سے فوت ہوتی۔ ولاتفرجوا بما اتکم یعنی دنیا میں سے جو چیز تمہیں ملتی ہے اس پر خوش نہ ہو، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : جو تمہیں عافیت اور خوشحلای ملی ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : کوئی آدمی نہیں مگر وہ غمگین بھی وہتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے۔ لیکن مومن اپنی مصیبت کو صبر اور غنیمت کو شکر بنا دیتا ہے۔ حزن اور خوش جن سے منع کیا گیا ہے وہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جن میں ایسی چیز کی طرف تجاوز کیا جاتا ہے جو جائز نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واللہ لایحب کل مختال فحور۔ اسے دنیا میں سے جو عطا کیا گیا ہے اس کے ساتھ تکبر کرنے والا ہے اور اس کے ذریعے لوگوں پر فخر کرتا ہے۔ عام قرأت آتاکم ہے یعنی الف مد کے ساتھ ہے یعنی اس نے تمہیں دنیا میں سے جو چیز عطا کی، ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ ابوالعالیہ، نضر بن عاصم اور ابو عمرو نے اتاکم الف کے قصر کے ساتھ اسے پڑھا ہے ابوعبید نے اسے پسند کیا ہے معنی ہے جو تمہارے پاس آئے۔ یہ اتاکم، فاتکم کا معادل ہے۔ اسی وجہ سے افاتکم نہیں فرمایا۔ حضرت جعفر بن محمد صادق رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کا : اے انسان ! تجھے کیا ہوگیا ہے تو مفقود چیز پر غمگین ہوتا ہے یہ غم کرنا فوت شدہ چیز کو تیری طرف واپس نہیں لوٹائے گا اور موجود چیز پر خوش نہ ہو کیونکہ موت اسے تیرے ہاتھ میں نہ چھوڑے گی۔ بزر جمہر سے کہا گیا : اے حکیم ! تجھے کیا ہوگیا ہے تو فوت ہونے والی چیز پر غمگین نہیں ہوتا اور حاصل ہونے والی چیز پر خوش نہیں ہوتا ؟ اس نے جواب دیا : فوت ہونے والی چیز آنسوئوں سے نہیں ملتی اور آنے والی چیز خوشی سے باقی نہیں رہتی۔ حضرت فضیل بن عیاض نے اسی بارے میں کہا، دنیا ہلاک کرنے والی اور فائدہ پہنچانے والی ہے جس کو ہلاک کر دے وہ چیز لوٹنے والی نہیں اور جس کا فائدہ پہنچائے تو اس کے کوچ کا اعلان کرتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : مختال اسے کہتے ہیں جو اپنی ذات کی طرف افتخار کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور فخورا سے کہتے ہیں جو لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ دو مشرک خفی ہیں فخور مصر اۃ کی طرح ہے جس کے تھنوں کو باندھا جاتا ہے تاکہ ان میں دودھ جمع ہوجائے اور مشتری کو وہم ہو کہ یہی اس کا معمول ہے اسی طرح وہ شخص جو اپنے اندرز ینت و جمال دیکھتا ہے اس کے ساتھ وہ اس کا دعویٰ بھی کرتا ہے تو اسے فخور کہتے ہیں۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ (اور) سزاوار حمد (و ثنا) ہے

الذین یبخلون یعنی وہ مختال کو پسند نہیں کرتا جو بخل کرتے ہیں۔ الذبن محل جر میں ہے اور یہ مختال کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے تقدیر کلام یہ ہے الذین یبخلون فاللہ غنی عنھم ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یہودیوں کے رئیس ہیں جو نبی کریم ﷺ کی ایسی صافت کو بیان کرنے سے بخل کرتے تھے جو صفات ان کی کتابوں میں موجود تھیں تاکہ لوگ آپ کی ذات پر ایمان نہ لے آئیں تاکہ ان کا کھاجہ ختم نہ ہوجائے، یہ سدی اور کلبی کا قول ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، جو علم کے بارے میں بخل کرتے ویامرون الناس بالبحل اور لوگوں کو بھی یہ کہتے کہ وہ لوگوں کو کسی شی کی تعلیم نہ دیں۔ زید بن اسلم نے کہا : مراد اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں بخل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد صدقہ اور حقوق میں بخل ہے، یہ عامر بن عبداللہ اشعری کا قول ہے۔ طائوس نے کہا، مراد ہے ان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے ان میں بخل کرتے ہیں۔ یہ تینوں قول قریب المعنی ہیں۔ اصحاب خواطر نے بخل اور سخاوت میں لوگوں کو دو فریقوں میں تقسیم کیا ہے (1) بخیل وہ ہے جو مال روکنے کے ساتھ لذت حاصل کرتا ہے اور سخی وہ ہے جو مال عطا کر کے لذت حاصل کرتا ہے (2) بخیل وہ ہے جو سوال کرنے کی صورت میں عطا کرتا ہے اور سخی وہ ہے جو سوال کے بغیر عطا کرتا ہے۔ ومن یتول جو ایمان سے اعراض کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے غنی ہے یہ بھی جائز ہے جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو صدقہ کرنے پر انگختیہ کیا تو لوگوں کو بتایا کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے غنی ہے عام قرآت یعنی باء مضموم اور فاء ساکن ہے حضرت انس، عبید بن عمیر، یحییٰ بن یعمر، مجاہد حمید، ابن محصین، حمزہ اور کسائی نے دو فتحوں کے ساتھ پڑھا ہے یہ انصار کی لغت ہے ابو العالیہ اور ابن سمیقع نے پڑھا ہے یعنی باء مفتوح ہے اور خاء ساکن ہے یہ انصار کی غلت ہے نصر بن عاصم نے دو ضموں کے ساتھ پڑھا ہے سب کی سب مشہور لغتیں ہیں سورة آل عمران کے آخر میں بخل اور شخ میں فرق گزر چکا ہے۔ نافع اور ابن عامر نے ھو ک بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے پڑھا ہے یہ ضمیر فصل ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ ضمیر مبتدا ہو اور الغنی اس کی خبر ہو اور جملہ ان کی خبر ہو جس نے اس کو حذف کیا تو بہتر یہ ہے کہ یہ ضمیر فصل ہو کیونکہ ضمیر فصل کا خذف مبتدا کے حذف سے آسان ہوتا ہے۔
Ayahs 57:25–26

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کیلئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرلے بیشک خدا قوی (اور) غالب ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر) بنا کر بھیجا اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں

بینات سے مردا واضح معجزات اور ظاہر شرائع ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا ہے رسولوں نے اس امر کی دعوت دی یہ سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک جاری رہا۔ کتاب سے مراد کتب ہے یعنی ہم نے ان کی طرف ان سے پہلوں کی خبریں وحی کیں ابن زید نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے اور معاملہ کیا جاتا ہے یعنی معاملات میں عدل کریں اس کا فرمان اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مراد معروف میزان ہے ایک قوم نے کہا : مراد عدل ہے : قشیری نے کہا : جب ہم نے اسے معروف میزان پر محمول کیا تو معنی ہوگا ہم نے کتاب کو نازل کیا اور میزان رکھا یعنی سے پہلے کا لفظ مخدوف ہے جس طرح اس جملہ میں ماء بار د اس سے پہلے فعل مخدوف ہے اسی قول پر اللہ تعالیٰ کا فرمان (الرحمن) دلالت کرتا ہے پھر فرمایا : (الرحمن 9) اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین کی طرف چار برکتیں نازل کیں۔ لوہا، آگ، پانی اور نمک “ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ نازل ہوئی حجر اسود یہ برف سے بھی زیادہ سفید تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا جو جنت کی آس کی لکڑی کا تھا اور اس کی لمبائی دس ہاتھ تھی جس قدر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قدر مبارک تھا اور لوہا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ تین چیزیں نازل فرمائیں آئرن، لوہا کا زنبور اور ہتھوڑا یہی مطرقہ ہے ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے : ثعلبی نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا حضرت آدم (علیہ السلام) جنت سے اترے جبکہ ان کے ساتھ لوہے کی پانچ چیزیں تھیں جو لوہاروں کے آلات میں شمار ہوتی ہیں آہرن، زنبور، بڑا ہتھوڑا، ہتھوڑا اور سوئی ہتھوڑا جس کے ساتھ کو ٹا جاتا ہے یوں اس باب کا ذکر کیا جاتا ہے : یعنی میں نے اسے کو ٹا۔ صحاح میں ہے اس جگہ کو بھی کہتے ہیں جس جگہ سے باز مانوس ہوتا ہے اور اس پر گرتا ہے اور دھوبی کی لکڑی کو بھی کہتے ہیں جس پر وہ کپڑے کو مارتا ہے اور لمبی سان۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ لوہا منگل کو نازل کیا گیا یعنی خون بہانے کے لئے اس میں بڑی طاقت ہے اسی وجہ سے منگل کے روز فصد کرانے اور پچھنے لگانے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ ایسا دن ہے جس میں خون بہا۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے ” منگل کے روز ایسی گھڑی ہے جس میں خون نہیں رکتا “ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کا معنی ہے ہم نے اسے پیدا کیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الزمر 6) یہ حضرت بصری کا قول ہے : پس لوہا زمین سے ہے اسے آسمان سے نازل نہیں کیا گیا علماء معانی نے کہا : لوہے کو معدن سے نکالا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعے صنعت کا علم سکھایا یعنی اسلحہ اور ڈھال ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں قتل کے ڈر سے شدید خوف ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد ڈھال ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگ لوہے سے بنی ضرورت کی چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس طرح چھری، کلہاڑا، سوئی وغیرہ لوہے کو اتارا تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کون اس کی مدد کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا عطف پر ہے یعنی ہم نے رسولوں کو بھیجا ان کے ساتھ کتاب نازل کی اور ان چیزوں کو پیدا کیا تاکہ لوگ حق و انصاف سے معاملہ کر زیں اور اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ کون اس کے دین کی مدد کرتا ہے اور کون اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ان کی مدد کرتے ہیں : وہ ان کو جھٹلاتے نہیں وہ ان پر ایمان لاتے ہیں جبکہ انہیں دیکھتے نہیں وہ پکڑنے میں قوی ہے اور غالب ہے یہ پہلے گزر چکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے بالغیب سے مراد اخلاص ہے پہلے جس کا ذکر اجمالی طور پہوا تھا کہ اس نے کتابوں کے ساتھ رسول بھیجے اور اب تفصیل بیان کی اور یہ خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجا اور نبوت ان ع کی نسل میں رکھی۔ ہم نے ان کی اولاد میں سے بعض کو انبیاء بنایا اور بعض کو امی بنایا جو آسمان سے نازل ہونے والی کتابوں کی تلاوت کرتے ہیں وہ تورات انجیل زبور اور فرقان ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کتاب سے قلم کے ساتھ لکھنا ہے یعنی جس نے حضرت ابراہیم علیہ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی اتباع کی وہ وہدایت یافتہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ان دونکوں کی اولاد میں سے ہدایت یافتہ ہیں۔ یعنی کافر اطاعت سے خارج ہیں۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذات سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے انکا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: ضمیر سے مراد ذریۃ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں مراد حضرت موسیٰ حضرت الیاس حضرت دائود حضرت سلیمان حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں یعنی ان کے پیچھے ان انبیاء و رسول کو بھیجا۔ یہ اپنی ماں کی جانب سے حضرت ابراہییم علیہ اسلام کی اولاد میں سے تھے انجیل سے مراد وہ کتاب ہے جو ان پر نازل کی گئی اس کا مادہ اشتقاق سورة آل عمران کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اسم موصول سے مراد حواری اور متبعین ہیں جنہوں نے آپ کے دین کی اتباع کی مراد محبت ہے وہ ایک دوسرے سے محبت کیا کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں انجیل میں حکم دیا گیا ہے کہ باہم صلح سے رہیں اور لوگوں کو اذیت نہ دیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کے دلوں کو نرم کردیا یہودیوں کا معاملہ مختلف ہے جن کے دل سخت ہوگئے اور انہوں نے کلمات کو اپنی جگہ سے بدل دیا کا معنی شفقت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کا معنی بوجھ میں کمی کرنا اور رحمت کا معنی بوجھ کو اٹھانا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے رحمت کی شدید صورت ہے اور کلام مکمل ہوگئی پھر فرمایا یعنی انہوں نے اپنی جانب سے رہبانیت کو گھڑ لیا ہے کا لفظ مضمر فعل کی وجہ سے منصوب ہو ابو علی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے زجاج نے کہا : جس طرح تو کہتا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا عطف پر ہے اس صورت میں معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ چیز عطا کی تو انہیوں نے اسے تبدیل کردیا اور اس میں بدعت کا سلسلہ شروع کیا ماوردی نے کہا : اس میں دو قرآتیں ہیں ان میں سے ایک راء کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کا معنی خوف ہے یہ رھب سے مشتق ہے دوسری قرآت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے یہ رھبان کی طرف منسوب ہے جس طرح رضوان سے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو مشقتوں پر برانگختیہ کیا کیونکہ انہوں نے کھانا، پینا نکاح کرنا چھوڑ دیا اور گرجوں سے وابستہ ہوگئے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بادشاہوں نے دین عیسوی کو تبدیل کردیا تھا اور ایک چھوٹی سی جماعت رہ گئی تھی تو انہوں نے رہبانیت کو اختیار کرلیا اور اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی ضحاک نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بادشاہوں نے حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کیا یہ سلسلہ تین سو سال تک چلتا رہا جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ پر قائم تھے انہوں نے بادشاہوں کے طریقہ کار کو پسند نہ کیا تو بادشاہوں نے انہیں قتل کردیا تو وہ لوگ جو ان کے بعد باقی رہ گئے انہوں نے کہا : جب ہم انہیں منع کرتے ہیں تو وہ ہمیں قتل کرتے ہیں اب ان کے ساتھ رہنا ہمارے لئے ممکن نہیں تھا تو وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہوگئے اور انہوں نے گرجے بنا لئے قتادہ نے کہا وہ رہبانیت جس کو انہوں نے اپنی جانب سے گھڑا تھا وہ عورتوں کو چھوڑنا اور گرجے بنانا تھا مرفوع حدیث میں کہ رہبانیت جس کو انہوں نے اپنایا تھا وہ جنگوں اور پہاڑوں میں چلے جانا ہے۔ “ نہ ہم نے انپ را سے فرض کیا تھا اور نہ یہم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا یہ ابن زید کا قول ہے یعنی ہم نے انہیں حکم نہیں دیا مگر اس چیز کا جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو یہ ابن سلم کا قول ہے زجاج نے کہا اس کا معنی ہے ہم نے ان پر کسی چیز کو لازم نہیں کیا تھا ضمیر سے بدل ہے جو موجود ہے معنی ہے ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کو لازم کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے منقطع ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یعنی انہوں نے اس کا حق ادا نہ کیا یہ عام کی تخصیص ہے کیونکہ جن لوگوں نے رعایت نہ کی تھی وہ قوم کے کچھ افراد تھے انہوں نے رہبانیت کے ساتھ لوگوں پر حاکمیت چاہی اور ان کے اموال کو کھانا چاہیے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (التوۃ 34) یہ ایسی قوم کے بارے میں ہے جنہیں رہبانیت آخر کار حکومت کی طلب کی طرف لے گئی۔ سفیان ثوری نے عطاء بن سائب سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بادشاہوں نے تورات اور انجیل کو بدل دیا تھا ان میں مومن تھے جو تورات اور انجیل پڑھا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دیا کرتے تھے تو کچھ لوگوں نے اپنے بادشاہوں سے کہا کاش تو اس جماعت کو قتل کردیتا مومنوں نے کہا : ہم تمہاری جانب سے اپنی نفسوں کو کافی ہیں ایک طائفہ نے کہا : ہمارے لئے مینارہ بنا دو ہمیں اس پر چڑھا دو اور ہمیں کوئی ایسی چیز دے دو جس کے ساتھ ہم اپنا کھانا اور اپنا پانی اوپر لے جاسکیں ہم تمہارے پاس نہیں آئیں گے ایک طائفہ نے کہا : ہمیں چھوڑ دو ہم زمین میں گھومیں پھریں گے۔ ہم اسی طرح پئیں گے جس طرح وحشی جانور پانی پیتے ہیں جب تمہیں ہمارے اوپر قدرت ہو تو تم ہمیں قتل کردینا ایک جماعت نے کہا ہمارے لئے جنگوں میں گھر بنا دو ہم کنویں کھودیں گے اور سبزیاں کاشت کریں گے تم ہمیں نہیں دیکھو گے ان میں سے کوئی فرد نہیں تھا مگر ان لوگوں میں سے ایک جگری دوست تھا تو انہوں نے اس طرح کیا وہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلتے رہے ان کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے کتاب کو تبدیل کردیا۔ انہوں نے اس طرح کیا۔ وہ لوگ حضر عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلتے رہے۔ ان کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے کتاب کو تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہا : ہم سیاحت کریں گے اور ہم اسی طرح عبادت کریں گے جس طرح وہ عبادت کیا کرتے تھے جب کہ وہ شرک پر قائم تھے انہیں ان لوگوں کے ایمان کا کچھ علم نہ تھا جن کی وہ اقتدار کر رہے تھے تو یہی اس ارشاد کا مفوہم ہے ورھبانیۃ ابتدعوھا ما کتبنھا علیھم الا ابتغآء رضوان اللہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اس کا آغاز تو ان صالحین نے کیا تھا تو متاخرین نے اس کی کما حقہ رعایت نہ کی۔ مسئلہ نمبر 3۔ یہ آیت اس امر پر دال ہے کہ ہر نئی چیز بدعت ہے جو آدمی اچھا کام شرع کرے اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ اس پر قائم دائم رہے اس کی ضد کی طرف نہ پھرے کہ وہ اس آیت میں داخل ہوجائے۔ حضرت ابو امامہ باہلی سے مروی ہے جس کا نام صدی بن عجلان تھا انہوں نے کہا، تم نے رمضان شریف کا قیام شرع کیا ہے جب کہ یہ تم پر فرض نہ تھا بیشک تم پر رزے فرض کئے گئے۔ جب تم نے یہ شروع کیا ہے تو اس پر دوام اختیار کرو اسے نہ چھوڑو۔ بیشک بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں نے ایسے امور کو شروع کیا اللہ تعالیٰ نے ان پر ان چیزوں کو لازم نہیں کیا تھا وہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے تو انہوں نے اس کی کما حقہ رعایت نہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ترک کرنے پر ان پر عیب لگایا جس طرح اس ارشاد میں ذکر ہوا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 آیت میں گرجوں اور گھروں میں الگ تھلگ ہو کر بیٹھ جانے پر دلیل موجود ہے جب زمانہ میں فساد برپا ہوجائے اور دوست بھائی بدل جائیں تو یہ امر مندوب ہوگا۔ اس کی وضاحت سورة کہف سے مفصل گزر چکی ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابو امامہ باہلی کی حدیث ہے ہم ایک سریہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے کہا، ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گزرا اس میں کچھ پانی موجود تھا اس کے دل میں خیال آیا کہ اس غار میں رہے اس میں جو پانی ہے اس سے قوت حاصل کرے اور اس کے اردگرد جو سبزیاں ہیں انہیں حاصل کرے اور دنیا سے کنارہ کش ہوجائے۔ کہا، اگر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں آپ سے یہ بات عرض کروں گا اگر حضور ﷺ نے مجھے اجازت دی تو میں ایسا کروں گا بصورت دیگر ایاسا نہیں کروں گا۔ وہ آدمی حاضر ہوا اور عرض کی اے اللہ کے نبی ! میں ایک غار کے پاس سے گزرا اس میں پانی اور سبزی تھی جو میری خوراک کے لئے کافی تھی میرے دل میں خیال آیا کہ میں اس میں رہوں اور دنیا سے کنارہ کش ہو جائوں۔ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہویدت اور نصرانیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا بلکہ مجھے سیدھے سادے آسان دین کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام دنیا و مافیہما سے بہتر ہے تمہارا پہلی صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا اکیلے ساٹھ سال تک نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ “ (1) کوفیوں نے حضرت ابن مسود سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کیا تو جانتا ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے ؟ ‘ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسلو بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : ” لوگوں میں سے زیادہ علم رکھنے والا وہ شخص ہے جو حق کے بارے میں لوگوں سے زیادہ بصیرت رکھتا ہو جب لوگ اس میں اختلاف کریں اگرچہ وہ عمل میں کوتاہی کرنے والا ہو اگرچہ وہ اپنی سرین پر گھسٹتا ہو۔ کیا تو جانتا ہے کہ بنی اسرائیل نے کہاں سے رہبانیت کو شروع کیا ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جابر ان پر غالب آگئے وہ نافرمانیاں کیا کرتے تھے۔ اہل ایمان ان پر ناراض ہوئے تو جابروں نے ان سے جنگ کی اور تین دفعہ اہل ایمان کو شکست دی۔ تو ان میں سے تھوڑے ہی افراد بچے۔ انہوں نے کہا، اگر ان جابر لوگوں نے ہمیں فنا کردیا تو دین کے لئے کوئی بھی نہ بچے گا جو اس دین کی طرف دعوت دے آئو ہم زمین میں بکھر جائیں یہاں تک کہ نیب امی مبعوث ہو جس کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہم سے وعدہ کیا۔ اس سے وہ نبی کریم ﷺ کی ذات مراد لیتے۔ وہ پہاڑوں کی غاروں میں بکھر گئے۔ انہوں نے رہباینت کو شروع کیا ان میں سے کچھ حضرت عیسیٰ کے دین پر کاربند رہے اور کچھ نے کفر کیا اور اس آیت کی تلاوت کی۔ کیا تو جانتا ہے میری امت کے لئے رہبانیت کیا ہے ؟ ہجرت، جہاد، روزہ، نماز، حج، عمرہ اور بلندو پست زمین پر تکبیر کہنا۔ اے ابن مسعودچ تم میں سے قبل جو یہودی ہو گزرے ہیں وہ اکہتر فرقوں میں بٹے ان میں سے ایک فرقہ نے نجات پائی اور باقی ہلاک ہوئے تم میں سے قبل جو نصاری ہوئے وہ بہتر فرقوں میں بٹے ان میں تین بچے باقی سب ہلاک ہوگئے۔ بادشاہوں نے ان سے مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنی پر ان سے جنگ کی یہاں تک کہ انہیں قتل کردیا ایک فرقہ ایسا تھا جن میں بادشاہوں سے مقابلہ کرنے ہمت نہ تھی وہ اپنی قوم میں ہی رہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کی طرف دعوت دی۔ بادشاہوں نے انہیں پکڑ لیا، انہیں قتل کیا اور انہیں آریوں کے ساتھ چیر دیا ایک جماعت ایسی تھی انہیں بادشاہوں کے ساتھ مقابلہ کی طاقت نہ تھی اور نہ یہ طاقت تھی کہ وہ اپنی قوم کے درمیان رہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ السلام کے دین کی طرف دعوت دیں وہ پہاڑوں میں سیاحت کرنے لگے اور ان میں رہبانیت کو پال یا یہی وہ جماعت ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ورھبانیۃ ابتدعوفا جو مجھ پر ایمان لایا میری پیروی کی اور میری تصدیق کی اس نے اس کی رعایت کی جس طرح رعایت کرنے کا حق تھا اور جو مجھ پر ایمان نہ لایا تو وہ فاسق ہے یعنی جس نے یہودیت اور نصرانیت کو اپنایا۔ ‘ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضتر محمد ﷺ کو پایا اور آپ پر ایمان نہ لایء تو وہی لوگ فاسق ہیں۔ آیت میں نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی ہے۔ یعنی پہلے لوگوں نے کفر پر اصرار کیا اس لئے اپنے زمانہ کے لوگوں پر تعجب نہ کیجیے اگر وہ کفر پر اصرار کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

یایھا الذین امنوا۔ یعنی جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ اتقوا اللہ وامنوا برسولہ رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ یوتکم کفلین من رحمتہ تمہیں دوگنا اجر دیا جائے گا کیونکہ تم حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد علیہما الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے ہو یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا (القصص : 54) اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ کفل کا معنی حصہ ہے۔ سورة نساء میں یہ بحث گزر چیک ہے۔ اصل میں اس کا معنی ایسا کمبل یا چادر ہے سوار جس کو اونٹ کی کہ ان لپیٹ لیتا ہے جو اسے گرنے سے بچاتی ہے، یہ ابن جریج کا نقطہ نظر ہے۔ کیا اس سے مراد وہ چادر ہے جسے سوار اونٹ کی کہ ان کے اردگرد لپیٹ لیتا ہے جب وہ اس کی کہ ان کی پچھلی جانب بیٹھتا ہے تاکہ وہ نہ گرے ؟ اس کا معنی ہے وہ تمہیں دو حصے دے گا وہ دونوں یص تمہیں معاصی کی ہلاکت سے محفوظ رکھیں گے۔ جس طرح کفل (چادر) سوار کی حفاظت کرتی ہے۔ حضر ابو موسیٰ اشعری نے کہا، کفلین کا معنی حبشہ کی زبان میں دو گنا ہے۔ حضرت ابن زید سے مروی ہے، کفلین سے مراد دنیا و آخرت کا اجر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب یہ آیت اولئک یوتون اجرھم مزتین بما صبروا (القصص : 54) نازل ہوئی تو اہل کتاب کے مومنوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ پر فخر کیا تو یہ آیت نازل وہئی۔ بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ ای کی نیک کا اجر ایک مثل ہی ہوگا۔ کہا : حسنہ عام اسم ہے اس کا صدق ایمان کی ہر نوع پر آئے گا اور اسے عموم پر ہی بولا جائے گا۔ جب حسنہ کا لفظ ایک نوع پر بولا جائے تو اس پر ثواب بھی ایک مثل ہی ہوگا۔ اگر ایسی نیکی پر بولا جائے جو دوناوں پر مشتمل ہو تو اس پر ثواب دو مثل وہ گا، اس کی دلیل یہ آیت ہے کیونکہ فرمایا : کفلین من رحمۃ اور فکل کا معنی نصیب ہے جس طرح مثل ہوتا ہے۔ جو آدی متقی ہو اور اس کے رسول پر ایمان لایا اس کے لئے دو حصے ہیں ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وجہ سے ایک حصہ اس کے رسول پر ایمان کے باعث ہے۔ اس چیز نے اس امر پر دلالت کی کہ وہ نیکی جس کا اجردس گنا بنایا گیا ہے وہ نیکی کی دس انواع کو جامع ہے وہ ایمان ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت میں دس انواع کو جمع کیا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان المسلمین و المسلمت (الاحزاب : 35) یہ دس انواع جس کا ثواب ان کی مثل ہے تو یہ نوع کے بلے میں ایک مثل ہوئی۔ یہ تاویل فاسد ہے کیونکہ یہ ظاہر کلام سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : من جآء بالحسنۃ فلہ عشرا مثالھا (الانعام : 160) عموم کی تخصیص اس کا احتمال نہیں رکھتی، کیونکہ جو دس نیکیوں کو جامع ہو تو ہر نیکی کو اس کی مثل ہی بدلہ دیا جائے گا تو اس سے یہ امر باطل ہوگیا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہو جب کہ اخبار اس پر دال ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اگر معاملہ اس طر ہو جس طرح ذکر کیا گیا ہے تو حسنہ اور سیئہ میں کوئی فرق نہ ہو۔ ویجعل لکم نرواً نور سے مراد بیان اور ھدی ہے، یہ مجاہد سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : اس سے مراد قرآن ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ضیاء ہے۔ تمسون بہ جس کی روشنی میں تم آخرت میں پل صراط پر سے گزرو گے اور قیامت کے روز جنت کی طرف جائو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس کی روشنی میں تم لوگوں میں چلو پھرو گے۔ انہیں اسلام کی طرف دعوت دو گے تو تم دین اسلام میں لوگوں کے روساء بن جائو گے تو تم سے وہ ریاست نہ ہوگی جس میں تم ہو گے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ خوف لاحق ہوا تھا کہ اگر وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے تو ان کی ریاست ختم ہوجائے گی اصل میں ان سے وہ رشوت ختم ہوتی تھی وہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں تحریف کر کے کمزور لوگوں سے حاصل کرتے تھے دین میں حقیقی سرداری ختم نہیں ہوتی تھی۔ ویغفرلکم تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا واللہ غفور رحیم۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

لئلایعلم اھل الکتب تاکہ اہل کتاب جان لیں۔ ان لا زائدہ ہے تاکید کا فائدہ دے رہا ہے ! یہ اخفش کا قول ہے۔ فراء نے کہا : معنی ہے کہ وہ جان لیں۔ لاہر اس کلام میں زائد ہوتا ہے جس پر لام حجد داخل ہو۔ قتادہ نے کہا، اہل کتاب نے مسلمانوں سے حسد کیا تو یہ آیت نازل ہوئی لئلا یعلم اھل الکتب معنی ہے تاکہ اہل کتاب جان لیں۔ الا یقدرون علی شیء من فضل اللہ وان الفضل بید اللہ مجاہد نے کہا : یہودیوں نے کہا قریب ہے کہ ہم میں سے ایک ایسا نبی ظاہر ہو جو ہاتھ پائوں کاٹے، جب اس نبی کا ظوہر عربوں میں ہوا تو انہوں نے اس نبی کا انکار کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی لائلا یعلم تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اس پر قادر نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الا یرجع الیھم قولاً (طہ : 89) حضرت حسن بصری سے یہ قرأت منقول ہے لئلا یعلم اھل الکتب یہ مجاہد سے روایت مروی ہے۔ قطرب نے لام کے کسرہ اور یاء کے سکون کے ساتھ روایت نقل کی ہے اور جر کو فتحہ دینا یہ عام لغت ہے یاء کو ساکن کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ہمزہ حذف کردیا گیا ہے تو وہ لنابن گیا تو نون کو لام میں مدغم کردیا گیا تو وہ لابن گیا جب تین لام جمع ہوگئے تو درمیانی لام کو یاء سے بدل دیا گیا مگر مشہرو لغت میں لام کو باقی رکھا گیا تو وہ اس توجیہ سے اقوی ہے۔ حضتر ابن مسعود سے مروی ہے، لکیلا یعلم۔ حطان بن عبداللہ سے مروی ہے لان یعلم۔ عکرمہ سے مروی ہے، لیعلم۔ یہ مصحف میں جو لکھا گیا ہے اس کے خلاف ہے۔ من فضل اللہ، فضل اللہ سے مراد اسلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد ثواب ہے۔ کلبی نے کہا، مراد رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں اور وان لفضل بید اللہ اللہ تعالیٰ کا فضل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ان کے قبضہ قدرت میں نہیں کہ وہ نبوت کو حضرت محمد ﷺ سے اس کی طرف پھیر دیں جسے وہ پسند کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسی کا ہے یوتیہ من یشآء جسے چاہے عطا فرمائے۔ بخاری شریف میں ہے حکم بن نافع، شعیب سے وہ ہزی سے وہ سالم بن عبداللہ سے وہ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا جب کہ آپ منبر پر کھڑے تھے :” تم سے قبل جو امتیں گزری ہیں ان کے مقابلہ میں تمہاری بقا اس قدر ہے جس قدر عصر کی نماز سے سورج غروب ہوتا ہے، الہ تورات کو تورات دی گئی انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن نصف تک پہنچ گیا پھر وہ عاجز آگئے تو انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی تو انہوں نے اس پر عصر کی نماز کے وقت تک عمل کیا پھر وہ عاجز آگئے تو انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا پھر تمہیں قرآن دیا گیا تو تم نے اس پر سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا تو تمہیں دو دو قیراط دیئے گئے۔ تو رات والوں نے کہا، اے اللہ ! یہ عمل کے اعتبار سے کم اور اجر کے اعتبار سے زیادہ ہیں۔ فرمایا : کیا میں نے تمہارے اجر میں کوئی کمی کی ہے۔ عرض کی : نہیں تو فرمایا : یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں میں دوں۔ “ ایک روایت میں ہے : یہودی اور نصرانی غضبناک ہوگئے عرض کی : اے ہمارے رب ! “ واللہ ذوالفضل العظیم۔ اللہ تعالیٰ فضل عظیم والا ہے۔