50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 50:30–35

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہاں وہ جو چاہیں گے انکے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے

یوم نقول لجھنم ھل امتلاوتقول ھل من مزید نافع اور ابوبکر نے یوم یقول یعنی یاء کے ساتھ پڑھا ہے وہ اسے لا تختصموالدی پر قیاس کرتے ہیں باقی نے نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہے یہ عظمت کا نون ہے۔ حضرت حسن بصری نے یوم اقول پڑھا ہے۔ حضرت مسعود اور دوسرے علماء نے اسے یوم یقال پڑھا ہے یوم کو نصب دی ہے کیونکہ اس کا معنی یہ بنتا ہے میرے ہاں اس روز قول نہیں بدلا جائے گا جس روز ہم جہنم سے کہیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل فعل مقدر ہے وہ منذرھم ہے کیونکہ پہلے وعدہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھرے گا۔ اس استفہام کا یہ مدعا ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے، وعدہ کو ثابت کیا جائے، دشمنوں کو خبر دار کیا جائے اور تمام بندوں کو متنبہ کیا جائے۔ جہنم کہے گی : کیا کوئی اور بھی ہے میرے اندر تو کوئی جگہ باقی نہیں جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ یا گھر چھوڑا ہے یعنی کچھ نہیں چھوڑا۔ کلام کا معنی انکار ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ استفہام، استہزاء کے معنی میں ہو، یعنی کیا کوئی اور ہے کہ میں زیادہ ہو جائوں ؟ یہ دونوں وجوہ کے لیے مناسب ہے کیونکہ استفہام میں انکار کی کوئی صورت موجود ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہاں کوئی قول نہیں ہوگا یہ ضرب المثل کے طریقہ پر کلام ہے یعنی اس کی جو حالت ہوگی اس کے ناطق ہونے کے قائم مقام ہوگی ؛ جس طرح شاعر نے کہا : حوض بھر گیا اور کہا : میرے لیے کافی ہے مہلت دو تحقیق تو نے میرے پیٹ کو بھر دیا ہے۔ یہ مجاہد اور دوسروں کی تفسیر ہے یعنی کیا مجھ میں کوئی راستہ ہے میں بھر چکی ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ آگ کو قوت گویائی عطا فرمائے گا یہاں تک کہ وہ بولے گی جس طرح اعضاء بولیں گے۔ یہ صحیح ترین قول ہے جس طرح ہم نے سورة فرقان میں بیان کیا ہے۔ صحیح مسلم، صحیح بخاری اور جامع ترمذی میں ہے کہ حضرت انس بن مالک نے نبی کرم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : جہنم میں لگاتار پھینکتا جاتا رہے گا اور وہ کہتی رہے گی کیا کوئی اور ہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھے گا تو اس کا بعض بعض کی طرف لپٹ جائے گا اور وہ کہے گی تیری عزت اور کرم کی قسم بس بس۔ جنت میں لگا تار اضافہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلوق پیدا فرمائے گا اور جنت کے زائد حصے میں انہیں سکوت عطا فرمائے گا (1) الفاظ مسلم شریف کے ہیں۔ ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث مروی ہے : جہاں تک جہنم کا تعلق ہے وہ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا رجل رکھے گا تو عرض کرے گی بس بس۔ اس موقع پر وہ بھر جائے گی اور اس کا بعض بعض کی طرف سمٹ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم نہیں فرمائے گا۔ جہاں تک جنت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلوق پیدا فرمائے گا (2) ۔ ہمارے علماء نے کہا : جہاں تک یہاں قدم کا تعلق ہے اس سے مراد وہ قوم ہے جنہیں اللہ تعالیٰ آگ کی طرف پہلے بھیجے گا۔ اللہ تعالیٰ کے علم پہلے سے ہے کہ جہنمی ہیں۔ اسی طررجل ہے اس سے مراد لوگوں اور دوسروں کی کثیر تعداد ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : رایت رجلامن الناس ورجلا من جراد میں لوگوں کی کثیر تعداد اور ٹڈی دل کی کثیر تعداد دیکھی۔ شاعر نے کہا : ہمارے پاس سے لوگوں کی کثیر تعداد گزری اور ان کے ساتھ یمنی قبائل کی کثیر تعداد شامل ہوگئی۔ اس معنی کی وضاحت وہ روایت کرتی ہے جو حضرت مسعود ؓ سے مروی ہے فرمایا : جہنم میں کوئی گھر، زنجیر، ہنٹر اور تابوت نہیں مگر اس پر جہنمی نام لکھا ہوا ہے۔ ہر داروغہ اس جہنمی کا انتظار کرتا ہے جس کا نام اور اس کی صفت اس نے پہچان رکھی ہے۔ جب ان میں سے ہر کوئی اس کو پورا پورا لے لیتا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا اور جس کا اسے حکم دیا گیا اور جس کا وہ انتظار کر رہا ہوگا اور ان میں سے کوئی باقی نہ رہا تو داروغوں نے کہا : بس بس ہمیں کافی ہے، ہمیں کافی ہے۔ اس وقت جہنم ان پر سمٹ جائے گی جو اس میں ہوں گے اور جس کا انتظار کیا جا رہا تھا جب ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا تو وہ سکڑ جائے گی۔ وہ جماعت جس کا انتظار کیا جا رہا تھا اسے قدم اور رجل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس تاویل کی تائید حدیث بھی کرتی ہے جنت میں لگا تار اضافہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے مخلوق پیدا فرمائے گا اور جنت کے زائد حصہ میں انہیں سکو نت عطاکرے گا (3) ہم نے اس کی اور وضاحت کی ہے اور کتاب الاسماء والصفات میں اس کو بیان کیا ہے جو الکتاب الاسنی کا حصہ ہے۔ الحمدللہ۔ نضر بن شمیل نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد : حتی یضع الجبار فیھا قدمہکا یہ معنی کیا ہے جس کے بارے میں پہلے سے علم ہے کہ وہ جہنمی ہے۔ وازلفت الجنتۃ للمتقعین غیر بعیدــیعنی جنت ان کے قریب کردی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہے دنیا میں ہی جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت ان کے قریب کردی جائے گی، یعنی ان کے دلوں کے اسے قریب رکھا گیا ہے جب انہیں کہا جائے گا : معاصی سے اجتناب کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جنت میں داخل ہونے کے بعد اس کے موضع اس کے قریب کردیئے جائیں گے وہ دور نہ ہوں گے۔ یہ کلام تاکید ہے۔ ہذا ما توعدون یعنی انہیں کہا جائے گا : یہ وہ جزا ہے جس کا تم سے دنیا میں رسولوں کی زبانوں سے وعدہ کیا گیا تھا عام قراءت تو عدون ہے۔ تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ ہے، ابن کثیر نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ غائب کا صیغہ ہے کیونکہ اس کا ذکر متقین کے بعد آیا ہے۔ لکل اواب حفیظ، اواب سے مراد معاصی سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں ( وہ پھر لوٹتا ہے) اور گناہ کرتا ہے اور پھر گناہ سے توبہ کرتا ہے : ضحاک اور دوسرے علماء نے یہی قول کیا ہے۔ حضرت ابن عباس اور عطا نے کہا : اواب سے مراد تسبیح کرنے والا ہے (1) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ماخوذ ہے یحبال اوبی معہ ( سبا :10) حکیم بن عتبہ نے کہا : اس سے مراد تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہے۔ شعبی اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد وہ ہے جو خلوت میں گناہوں کو یاد کرتا ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ سے عفو کا طالب ہوتا ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ عبید بن عمیر نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی مجلس میں نہیں بیٹھتا یہاں تک کہ وہ اس مجلس میں اللہ تعالیٰ سے بخشش کا طالب ہوتا ہے۔ ان سے مروی ہے ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ اواب حفیظ سے مراد وہ ہے جب وہ اپنی سے اٹھتا ہے تو وہ سبحان اللہ وبحمدہ کہتا ہے اور یوں دعا کرتا ہے اے اللہ ! میں تجھ سے اس گناہ پر بخشش کا طالب ہوں جو میں نے اس مجلس میں کیے ہیں۔ حدیث میں ہے ـ" جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے اٹھتے وقت کہے : سبحانک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک تو اس مجلس میں اس سے جو غلطی سرزد ہوئی تھی اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے ؛ (2) ۔ نبی کریم ﷺ یہی دعا کیا کرتے تھے۔ ایک عالم نے کہا : میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں کہوں استغفر کو اسا لک التوبۃ اور میں یہ کہنا پسند نہیں کرتا میں کہوں : اتوب الیک مگر میں جب حقیقی توبہ کروں۔ میں کہتا ہوں : یہ اچھا ہے اور اس میں حدیث کی اتباع ہے۔ ابوبکر وراق نے کہا : اواب سے مراد خوشحالی اور تنگدستی میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والا ہے۔ قاسم نے کہا : اس سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی میں دل نہیں لگاتا۔ حفیظ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے اپنے گناہ یاد رکھے یہاں تک کہ ان سے رجوع کیا (1) ۔ قتادہ نے کہا : حفیظ سے مراد یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنا حق اور نعمت عطاء کی اور اسے اس پر امین بنایا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ مروی ہے مراد اللہ تعالیٰ کے امر کی حفاظت کرنے والا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے حق کی حفاظت کرتا ہے اس کا اعتراف کرکے اور شکر کر کے اس کی نعمت کو یاد کرتا ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وصیت کو قبول کر کے وصیت کو یاد رکھنے والا ہے۔ مکحول نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس دن کے پہلے پہر میں چار رکعت نماز ( نفل) پر مواظبت اختیار کی تو وہ اواب و حفیظ ہے، ، (2) یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ من خشی الرحمن با لغیب، من محل جر میں ہے کیونکہ یہ اواب حفیظ سے بدل ہے یا یہ اواب سے صفت ہے۔ نئے جملہ کے طریقہ پر یہ محل رفع میں بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی خبرادخلوھا ہے۔ یہ تعبیر اس صورت میں ہوگی کہ جواب شرط حذف ہوگا۔ تقدیر کلام یہ ہوگی : فیقال لھم ادخلوھا۔ ﷺ خشیۃ بالغیب سے مراد ہے کہ اس سے ڈر جب کہ تو نے اسے دیکھا نہ ہو۔ ضحاک اور سدی نے کہا ؛ یعنی وہ خلوت میں ڈرے جب کہ اسے کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جب وہ پردہ لٹکا دے اور دروازے بند کردے (3 ) ۔ وجاء بقلب منیب (22 ) ، منیب سے مراد اطاعت پر توجہ کرنے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد مخلص ہے ابوبکر وراق نے کہا : منیب کی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرکت کو جاننے والا ہو، اس سے دوستی رکھنے والا ہو، اس کے جلال کے سامنے تو اضع کرنے والا ہو اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرنے والا ہو۔ میں کہتا ہوں ؛ یہ احتمال بھی موجود ہو کہ قلب منیب سے مراد قلب سلیم ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الا من اتی اللہ بقلب سلیم (22) (شعرائ) جس طرح یہ بات پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ادخلو ھا اس صفت کے حامل افراد کو کہا جائے گا : ادخلو ھا بسلیم، ذلک یوم الخلود۔ یعنی عذاب سے سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی جانب سے ان پر سلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ نعمت کے زوال سے سلامتی ہے فرمایا : ادخلو ھا۔ کلام کے شروع میں من خشی من جمع کے معنی میں ہے۔ لھم ما یشاء ون فیھا یعنی ان کے نفوس جو چاہیں گے اور اس کی آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گے۔ ولدینا مزید۔ یعنی ان کے لئے زائد نعمتیں ہوں گی جو ان کے دل میں کھٹکی تک نہیں۔ حضرت انس اور حضرت جابر ؓ سے مروی ہے : مزید سے مراد اللہ تعالیٰ کا بغیر کیفیت کے دیدار کرنا ہے۔ احادیث مرفوع میں بھی اس کی یہی تعبیر آئی ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے ؛ ابن مبارک اور یحییٰ بن سلام دونوں نے ذکر کیا ہے۔ مسعودی، منہال بن عمرو سے وہ ابو عبیدہ بن عبداللہ بن عتبہ سے وہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : جمعہ کی طرف جلدی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر جمعہ کو اہل جنت کے لئے سفید کو فور کے ٹیلہ میں ظہور فرماتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے قرب سے نوازے جاتے ہیں۔ ابن مبارک نے کہا : اس کا قرب اس قدر ہوگا جس قدر وہ دنیا میں جمعہ کی طرف جلدی کرتے تھے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : وہ دنیا میں جمعہ کے لئے جس قدر تیزی کیا کرتے تھے۔ اور یہ زائد ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ کرامت میں سے ان کے لئے ایسی چیز پیدا فرمائے گا جو انہوں نے اس سے قبل نہیں دیکھی ہوگی۔ یحییٰ نے کہا : میں مسعودی کے علاوہ سے سنا کہ وہ اپنی روایت میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا اضافہ کرتے ولدینا مزید۔ میں کہتا ہوں ؛ رویت میں فی کثیب سے مراد ہے جنتی کا فور کے سفید ٹیلے پر ہوں گے۔ جس طرح حضرت حسن بصر سے ایک مرسل رویت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنتی ہر جمعہ کو اپنے رب کا دیدار کریں گے جب کہ وہ کا فور کے ٹیلہ پر ہوں گے (1) ۔ ہم نے اس کا ذکر کتاب التذکرہ میں کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مزید سے مراد ہے کہ ان کی شادیاں حورعین سے کردی جائیں گی، اسے حضرت ابو سعید خدری نے مرفوع نقل کیا ہے۔
Ayahs 50:36–38

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے کہ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے ؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنادیا اور ہم کو ذرا بھی تکان نہیں ہوا

وکم اھلکنا قبلھم من قرن یعنی محمد ! ﷺ آپ کی قوم سے پہلے کتنی قوموں کو ہم نے ہلاک کیا جب کہ ان سے زیادہ طاقت اور قوت والے تھے۔ فنقبوا فی البلاد وہ شہروں میں چلے تاکہ بھاگ جانے کی کوئی جگہ تلاش کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہوں نے شہروں میں اثرات چھوڑے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : انہوں نے سفر کیا اور چکر لگایا۔ نضر بن شمیل نے کہا : انہوں نے چکر لگایا۔ قتادہ نے کہا : انہوں نے طواف کیا۔ معرج نے کہا : وہ دور تک چلے گئے اسی معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : وقد نقبت فی الافاق حتی رضیت من الغنیمۃ بالایاب (2) میں آفاق میں دور تک گیا یہاں تک کہ میں غنیمت کی بجائے لوٹ آنے پر راضی ہوگیا۔ پھر یہ کہا گیا : انہوں نے تجارت کی غرض سے دور دراز شہروں میں چکر لگایا، کیا انہوں نے موت سے بچنے کی کوئی جگہ پائی۔ ایک قول یہ کیا گیا : انہوں نے شہروں میں چکر لگایا وہ موت سے بچنے کی کوئی پناہ چاہتے تھے۔ حارث بن حلزہ نے کہا : نقبوا فی البلاد من حذر الموت وجالوا فی الارض کل مجال (3) ۔ وہ موت کے ڈر سے شہروں میں گھومے پھرے اور زمین میں ہر جگہ چکر لگایا۔ حضرت حسن بصری اور ابو العالیہ نے فنقبو اور منقبہ ہے۔ یہ ابن سکیت سے مروی ہے نقب کا معنی پھاڑنا اور کسی شے میں داخل ہونا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : نقب کا معنی پہاڑ میں راستہ ہے ؛ اسی سے منقب اور منقبہ ہے۔ یہ ابن سکیت سے مروی ہے نقب الجدار نقبا اس نے دیوار کو پھاڑا اور اندر داخل ہوگیا۔ اس نقبہ کا نام نقب بھی ہے نقب کی جمع نقوب بھی ہے۔ سلمیٰ اور یحییٰ بن یعمر نے فنقبوا پڑھا ہے صیغہ امر کا ہے اور دھمکی کے لئے ہے یعنی شہروں میں گھومو پھرو اور اس میں چلو اور دیکھو۔ ھل من محیص۔ کیا موت سے بھاگ جانے کی کوئی جگہ ہے ؛ ثعبلی نے اسے ذکر کیا ہے۔ تشیری نے اسے فنقبوا قاف کے کسرہ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ اس میں زیادہ چلے یہاں تک کہ ان کی سواریوں کے پائوں گھس گئے۔ جوہری نے کہا : نقب البعیر جب اس کے پائوں گھس جائیں۔ انقب الرجل جب آدی کے اونٹ کے پائوں گھس جائیں۔ نقیب الخف المبوس جب پہنا ہوا موزہ پھٹ گیا۔ محیص یہ حاص یحیص کا مصدر حیصا، حیوصا، محیوصا، محاصا اور حیصانا بھی آتا ہے معنی پھرجانا، بھٹک جانا، یہ جملہ کہا جاتا ہے : ماعنہ محیص یعنی کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں۔ انحیاص بھی اس کی مثل ہے حمایتیوں کے لئے کہا جاتا ہے : حاصوا عن العدو اور دشمنوں کے لئے کہا جاتا ؛ انھزمرا دونوں کا معنی بھاگ گئے۔ ان فی ذلک لذ کری یعنی اس صورت میں جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ نصیحت ہے۔ لمن کان لہ قلب یعنی جس کی عقل ہو جس کے ساتھ وہ سوچ و بچار کرے۔ قلب، عقل سے کنایہ ہے کہ دل عقل کی جگہ ہے : یہ معنی مجاہد اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ جس کی زندگی اور امتیاز کرنے والا نفس ہو۔ زندہ نفس کو دل سے تعبیر کیا ہے کیونکہ دل نفس کا وطن اور زندگی کا معدن ہے ؛ جس طرح امراء القیس نے کہا : اغرک منی ان حبک قاتلی وانک مھما تامری القلب یعفعل (1) تجھے میرے بارے میں اس چیز نے دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے کہ تیری محبت قتل کرنے والی ہے اور تو دل کو جو حکم دے گی وہ کر گزرے گا۔ قرآن حکیم میں ہے : لمنذر من کان حیا (یسین :60) یحییٰ بن معاذ نے کہا : دل دو قسم کے ہیں (1) جو دنیا کے مثاغل سے بھرا ہوتا ہے یہاں تک کہ جب امور آخرت میں سے کوئی امرا سے لاحق ہوتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کیا کرے (2) اور دوسرا ایسا دل ہے جو آخرت کی ہولنا کیوں سے بھرا ہوتا ہے جب امور دنیا میں سے کوئی اسے لاحق ہوتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ کیا کرے کیونکہ اس کا دل آخرت میں گم ہوتا ہے۔ اوالقی السمع یعنی وہ قرآن سے عرب کہتے ہیں الق الی سمعک یعنی میری بات سنو۔ سورة طہ میں سننے کی کیفیت اور اس کا ثمرہ گزر چکا ہے۔ وھو شھید۔ یعنی دل حاضر ہو۔ زجاج نے کہا : جو سن رہا ہے اس میں دل حاضر ہو۔ سفیان نے کہا : ایسا نہیں ہوتا چاہیے کہ خود حاضر ہو اور دل غائب ہو۔ پھر یہ کہا گیا ہے : آیت اہل کتاب کے لئے ہے ؛ یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یہ یہودیوں اور انصاری کے بارے میں خاص ہے (1) ۔ محمد بن کعب اور ابو صالح نے کہا : یہ اہل قرآن کے بارے میں خاص ہے۔ ولقد خلقنا السموت والارض ومابینھما فی ستۃ ایام، وما مسنا من لغوب، سورة اعراف اور دوسری سورتوں میں بحث گزر چکی ہے۔ لغوب کا معنی تھکاوٹ ہے۔ تو اسی معنی میں کہتا ہے : لغب یلغب لغوبا اور لغب یلغب لغوبا۔ اس میں لغت ہے الغبتہ انا یعنی میں نے اسے تھکا دیا۔ قتادہ اور کلبی نے کہا : یہ آیت مدینہ طبہ کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی (2) جنہوں نے گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری جمعہ تھا اور ہفتہ کے روز آرام کیا تو انہوں نے اسے راحت بنا دیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بارے میں جھٹلایا۔
Ayahs 50:39–40

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہہ کیا کرو

مسئلہ نمبر 1 ۔ فاصبر علی مایقو لون یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے مشرک جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرنے کا حکم دیا، یعنی ان کے امر کو اپنے اوپر آسان کر دیجئے۔ یہ جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے نازل ہوئی یہ منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کے لئے ثابت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے یہودی جو کہتے ہیں ان کے قول پر صبر کیجئے کہ ان کا قول یہ تھا : اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز آرام کیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وسمح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب، ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔ ابو صالح نے کہا : طلوع شمس سے پہلے صبح کی نماز ہے، غروب سے پہلے عصر کی نماز ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ نے اسے مر فوع نقل کیا ہے کہا ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا فرمایا : خبردار ! تم اپنے رب کا دیدار یوں کرو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھتے ہو تم اس کے دیدار کے لئے باہم بھیڑ نہیں کرو گے۔ اگر تم طاقت رکھو کہ سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے نماز پر تم مغلوب نہ ہو۔ یعنی عصر اور فجر کی نماز، (3 ) ۔ پھر جریرے نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم شریف کے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قبل الغروب سے مراد عصر کی نماز اور ومن الیل فسبحۃ سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تسبیح بالقول سے مراد سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ (1): یہ عطا خراسانی اور ابو الاحوص کا نقطہ نظر ہے۔ بعض علماء نے کہا : قبل طلوع الشمس سے مراد فجر کی دو رکعتیں ہیں اور قبل الغروب سے مراد مغرب کی نماز سے قبل دو رکعتیں ہیں۔ ثمامہ سے روایت مروی ہے حضرت محمد ﷺ کے صحابہ ؓ مغرب کے فرائض سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ صیحح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے : ہم مدینہ طیبہ میں تھے جب موذن مغرب کی اذان دیتا تو صحابہ ؓ ستونوں کی طرف جلدی کرتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے یہاں تک کہ اجنبی آدمی جب مسجد میں داخل ہوتا تو وہ گمان کرتا کہ نماز پڑھی جاچکی ہے۔ کیونکہ نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی۔ قتادہ نے کہا : میں نے حضرت انس اور حضرت ابو برزہ اسلمی کے سوا کسی کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ومن الیل مسبحہ وادبا السجود۔ اس میں چار قول ہیں (1) رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنا : یہ ابو احوص کا قول ہے (2) یہ تمام رات کی نماز ہے : یہ مجاہد کا قول ہے (3) یہ صبح کی دو رکعتیں ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے (4) یہ عشاء کی نماز ہے ؛ یہ ابن زید کا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا : جس نے کہا اس سے مراد درسات کے وقت تسبیح ہے تو اس کی تائید صیحح روایت کرتی ہے، جو رات کو جاگا اور کہا : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمدو ھو علی کل شیء قدیر سبحان اللہ والحمد للہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم، ، (2) جس نے کہا : یہ رات کی نماز ہے نماز کو تسبیح کہتے ہیں کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہوتی ہے اس معنی میں سبحتہ الضحی (چاشت کے نوافل) ہے جس نے کہا : اس سے مراد فجر یا عشاء کی نماز ہے کیونکہ دونوں رات کی نمازیں ہیں اور عشاء ان میں سے واضح ترین ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ وادبار السجود، ، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابوہریرہ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، حضرت حسن بصری، امام نخعی، امام شعبی، امام اوزاعی اور زہری نے کہا : ادبار السجود سے مراد مغرب کے بعد دو رکعتیں ہیں اور ادبار النجوم سے مراد فجر سے پہلے دور کعتیں ہیں ؛ اسے عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے، حضرت ابن عباس نے اسے مرفوع نقل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز مغرب کے بعد دو رکعتیں ادبار السجود ہے۔ اسے ثعلبی نے ذکر کیا ہے اور مادردی کے الفاظ ہیں : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ کے ہاں ایک رات گزاری تو آپ نے فجر کے فرائض سے پہلے دو رکعت نماز پڑھی پھر مسجد کی طرف نکلے فرمایا : اے ابن عباس ! فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ادبار النجوم ہیں اور مغرب کے بعد دو رکعتیں ادبار السجود ہیں ؛ (3) ۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے مغرب کی نماز کے بعد گفتگو سے پہلے دو رکعت نماز پڑھی تو اس کی نماز علیین میں لکھ لی گئی۔ حضرت انس ؓ نے کہا : پہلی رکعت میں قل یا یھا الکفرون۔ اور دوسری رکعت میں قل ھو اللہ احد۔ پڑھی۔ مقاتل نے کہا : اس کا وقت تک ہے جب تک شفق احمر غائب نہ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ؛ مراد نماز وتر ہے۔ ابن زید نے کہا : یہ فرائض کے بعد نوافل ہیں یعنی ہر فرض نماز کے بعد دو رکعات ہیں۔ نحاس نے کہا : ظاہر اس قول پر دلالت کرتا ہے مگر زیادہ موزوں اکثر کی اتباع ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے یہی صیحیح ثابت ہے۔ ابو حواص نے کہا : اس سے مراد نماز کے بعد تسبیح ہے۔ ابن عربی نے کہا : جو نظرو فکر میں قوی ہے حدیث صیحح میں ہے کہ نبی کریم ﷺ فرض نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے : لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمدو ھو علی کل شیء قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد (1) ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اس کے لئے بادشاہی ہے، وہی حمد کے لائق ہے، وہ ہر شے پر قادر ہے۔ اے اللہ ! جو تو عطا کرے اس کو روکنے والا کوئی نہیں اور جو تو روک لے اس کو عطا کرنے والا کوئی نہیں اور کسی صاحب مال کو مال نفع دینے والا نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم فرائض کے ساتھ منسوخ ہوگیا ہے پانچ نمازوں کے علاوہ کوئی نماز فرض نہیں، اسے ایک جماعت نے نقل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ نافع، ابن کثیر اور حمزہ نے ادبار السجود ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ ادبر الشی سے مصدر ہے جب وہ پھرے۔ باقی نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دبر کی جمع ہے ؛ یہ حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن عباس کی قراءت ہے۔ اس کی مثل طب اور اطناب ہے یا یہ دبر کی جمع ہے۔ جس طرح قفل اور اقفال آتی ہے۔ علماء نے اسے ظرف کے طور پر استعمال کیا ہے جس طرح تو کہتا ہے : جئتک فی دبر الصلوۃ و فی ادبار الصلوۃ سورة طہ کے آخر میں جو وادبار النجوم ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں اس سے مراد اس کی روشنی کا چلے جانا ہے جب فجر ثانی طلوع ہو۔ فجر ثانی سے مراد وہ سفیدی ہے جو رات کی سیا سی سے پھوٹتی ہے۔
Ayahs 50:41–45

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس دن لوگ چیخ یقینا سن لیں گے وہی نکل پڑنے کا دن ہے

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

اس دن زمین میں ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کر کھڑے ہو نگے یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اسکو قرآن سے نصیحت کرتے رہو

واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب۔ ، استمع کا مفعول محذوف ہے مراد ہے ندا اور آواز کو سنو یا صیحہ کو سنو۔ اس سے مراد صیحہ قیامت ہے اور وہ نفحہ ثانیہ ہے ندا کرنے والے جبریل امین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت اسرافیل ہیں۔ زمحشری نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے اور حضرت جبریل امین منادی کریں گے، وہ حشر بپاہ ہونے کا اعلان کریں گے، وہ کہیں گے : حساب کے لئے آئو۔ تعبیر کی بنا پر ندا میدان حشر میں ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استمع کا مفعول بہ نداء الکفار ہے وہ دیل اور ہلاکت کی ندا کریں گے یعنی قریب سے اس کو ندا کو سنو، یعنی سب اس آواز کو سنیں گے کوئی بھی اس ندا سے دور نہیں ہوگا۔ عکرمہ نے کہا : رحمن کا منادی ندا کرے گا گویا وہ ان کے کانوں میں ندا کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مکان قریب سے مراد بیت المقدس کا صخرہ ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : یہی زمین کا وسط ہے اور زمین کا یہ حصہ آسمان سے دوسری جگہ کی بنسبت بارہ میل قریب ہے۔ کعب نے کہا : اٹھارہ میل قریب ہے۔ پہلا قول زمحشری اور قشیری نے نقل کیا ہے۔ دوسرا قول ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت جبرئیل امین یا حضرت اسرافیل صخرہ پر کھڑے ہوں گے وہ حشر بپا ہونے کا اعلان کریں گے۔ اے بوسیدہ ہڈ یو ! اور ٹوٹے ہوئے جوڑو ! اے فنا ہونے والے کفنو ! اے خالی دلو ! اے فاسد بدنو ! اے بہنے والی آنکھ ! رب العالمین کے حضور پیشی کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد حضرت اسرافیل ہیں جو صور والے ہیں۔ یوم یسمعون الصیحۃ بالحق، الصیحۃ سے مراد بارہ اٹھائے جانے کا صیحہ ہے خروج کا معنی حساب کے لئے جمع ہوتا ہے۔ ذلک یوم الخروج، یعنی یہ قبروں سے نکلنے کا دن ہے۔ انا نحن نحی و نمیت یعنی ہم زندوں کو موت دیتے ہیں اور مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ یہاں حقیقت کو ثابت کیا۔ یوم تشقق الا رض عنھم سراعا یعنی وہ منادی جو صور پھونکنے والا ہے وہ اس کی آواز پر جلدی سے بیت المقدس کی طرف جائیں گے۔ ذلک حشر علینا یسیر ،۔ یعنی آسان ہے۔ کو فیوں نے پڑھا تشقق یعنی شین تخفیف کے ساتھ ہے اور پہلی تاء محذوف ہے باقی قراء نے تاء کو شین میں مدغم کیا ہے۔ ابن محیصن، ابن کثیر اور یعقوب نے المنادی کو یاء کو اصل پر دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے نافع اور ابو عمرو نے فصل میں ثابت رکھا ہے کسی اور صورت میں ثابت نہیں رکھا۔ باقی قراء نے دونوں حالتوں میں اسے حذف کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : سنت نے اس آیت کو مزید وضاحت کردی ہے امام ترمذی نے حضرت معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہا : آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا فرمایا : یہاں سے لے کر وہاں تک تمہیں جمع کیا جائے گا تم سوار اور پیدل ہوگے، قیامت کے روز تمہیں منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، تمہارے مونہوں پر فدام (وہ چیز جو جانوروں کے منہ پر چڑھا دی جاتی ہے تاکہ وہ چر نہ سکے) ہوگا تم ستر امتوں کو پورا کرو گے اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین اور معزز ہوگے تمہاری جانب سے سب سے پہلے جو چیز حقیقت حال کا اظہار کرے گی وہ تمہاری ران ہوگی۔ ایک دوسری روایت میں ہے، تمہاری ران اور تمہاری ہتھیلی ہوگی۔ علی بن سعید نے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں اس میں ہے :، اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل سے فرمادے گا دوبارہ اٹھانے کا نفحہ پھونکو وہ صور پھونکیں گے تو روحیں شہد کی مکھیوں کی طرح نکل پڑیں گی وہ زمین و آسمان کو بھر دیں گے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : میری عزت و جلال کی قسم ! ہر روح اہنے جسم میں لوٹ جائے تو روحیں امین میں اپنے جسموں میں داخل ہوجائیں گی پھر وہ ناک کے بانسوں میں داخل ہوں گی تو روحیں جسموں میں یوں سرائیت کر جائیں گی جس طرح زہر اس ذات میں سرائیت کرتی ہے جس کو ڈسا گیا ہو پھر زمین پھاڑ دی جائے گی میں وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین پھٹے گی تم زمین سے نو جوانوں کی طرح اٹھو گے سب کی عمریں تئیس 23 سال کی ہوں گی اس روز زبان سریانی ہوگی، ، اور حدیث بیان کی میں نے ان کا اور دوسرے لوگوں کا ذکر اپنی کتاب، التذکرہ، میں مفصل کیا ہے الحمد للہ۔ نحن اعلم بما یقولون وہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور جو آپ کو گالیاں دیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جانتا ہے۔ وما انت علیھم بجبار یعنی آپ ان پر مسلط نہیں کہ آپ انہیں اسلام کی طرف زبردستی لے آئیں یہ آیت جہاد والی آیت زبردستی لے آئیں یہ آیت جہاد والی آیت کے ساتھ منسوخ ہے۔ جبار جبریہ سے مشتق ہے۔ جبار کو مجبر کے معنی میں نہیں لایا جاتا۔ جس طرح خراج مخرج کے معنی میں نہیں ہوتا ؛ قشیری نے سے بیان کیا ہے۔ نحاس نے کہا : معنی ہے آپ انہیں مجبور کرنے والے نہیں یہ سراسر غلطی ہے کہ افعل سے مفعل کے معنی میں نہیں ہوتا۔ ثعلبی نے حکایت باین کی ہے افعال کا صیغہ مفعل کے معنی میں آتا ہے جب کہ شاذ ہے جبار، مجبر کے معنی میں دراک، مدرک کے معنی میں، سراع، مسرع کے معنی میں بکائ، مبک کے معنی میں اور عدا معید کے معنی میں ہے۔ رشاد، مرشد کے معنی میں ہے اس مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد اللہ تعالیٰ ذات ہے اسی طرح اما السفینہ فکانت لمسکین (الکہف :79) پڑھا گیا ہے جو مسکین کے معنی میں ہیں۔ ابو حامد خارزنجی نے کہا : عرب کہتے ہیں سیف سقاط یہاں سقاط، مسقط کے معنی میں ہے، ایک قول یہ کیا گیا : جبار کا معنی مسیطر ہے، جس طرح سورة غاشیہ میں ہے لست علیھم بمصیطر۔ ، فراء نے کہا : میں نے کہا ایک عرب سے سنا جو کہہ رہا تھا جبرہ علی الامر یعنی اس پر سختی سے لازم کیا۔ اس لغت کی بنا پر جبار کو قہر کے معنی میں لینا صیحح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جبار یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے جبرہ علی الامرفلاں نے اسے مجبور کیا۔ یہ لغت کنانیہ ہے دونوں لغتیں ہیں۔ جوہری نے کہا : اجبرتہ علی الامر یعنی میں اسے امر پر مجبور کیا۔ اجبرتہ کا معنی ہے میں نے اسے جبر کی طرف منسوب کیا جس طرح تو کہتا ہے : اکفرتہ یعنی تو نے اسے کفر کی طرف منسوب کیا۔ فذکر بالقران من یخاف وعید، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : صحابہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ! کاش آپ ہمیں ڈراتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جو میری نافرمانی کرے گا میں نے اس کے لئے عذاب تیار کر رکھا ہے (1) ۔ وعید سے مراد عذاب اور وعد سے مراد ثواب ہے۔ شاعر نے کہا : وانی وان اوعدتہ او اعدتہ لمخلف ایعادی و منجز موعدی اگر میں اسے دھمکی دوں یا اس سے عدہ کروں میں اپنی دھمکی کی خلاف ورزی کرنے والا اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا ہوں۔ قتادہ یوں دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو تیری دھمکی سے ڈرتے ہیں اور تیرے وعدہ کی امید رکھتے ہیں۔ یعقوب نے دونوں حالوں میں وعیدی کی یاء کو ثابت رکھا ہے۔ ورش نے وصل میں ثابت رکھا ہے اور وقف میں گرادیا ہے اور باقی قراء نے دونوں حالتوں میں اسے حذف کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔