49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اس میں دس مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1:۔ معتمر بن سلیمان، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں (2) انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی : کاش آپ عبداللہ بن ابی کے ہاں جاتے : نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے آپ گدھے پر سوار ہوئے اور مسلمان ساتھ چل رہے تھے۔ یہ سوریدہ زمین تھی جب نبی کریم ﷺ اس کے پاس آئے تو اس نے کہا : مجھ سے دور ہی رہیئے اللہ کی قسم : آپ کے گدھے کی بو مجھے اذیت دیتی ہے تو ایک انصاری نے کہا : اللہ کی قسم : رسول اللہ ﷺ کا گدھا خوشبو میں تجھ سے بڑھ کر ہے عبداللہ کے لئے اس کی قوم کا ایک فرد غصے میں آگیا ہر ایک کے لئے اس کے ساتھی غصے میں آگئے ان کے درمیان شاخوں، ہاتھوں او جوتوں سے لڑائی شروع ہوگئی ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی مجاہد نے کہا : اوس اوخزرج کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ مقاتل نے کہا : انصار کے دو قبیلے ڈنڈوں اور جوتوں سے باہم لڑے تو یہ آیت نازل ہوئی اس کی مثل سعید بن جبیر سے روایت مروی ہے کہ اوس اوخزرج کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لڑائی ہوئی جو کھجور کی شاخوں جوتوں وغیرہ کے ساتھ ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی۔ قتادہ نے کہا : یہ انصار کے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ان دونوں کا کسی حق کے بارے میں باہم جھگڑا تھا (1) ان میں سے ایک نے کہا میں اپنا حق سختی سے لوں گا کیونکہ اس کے خاندان کے افراد زیادہ تھے دوسرے نے اسے دعوت دی کہ رسول اللہ ﷺ کی بارہگاہ میں مسئلہ پیش کرتے ہیں تو پہلے ساتھی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا معاملہ ان کے درمیان ہی رہا یہاں تک وہ لڑ پڑے اور ان میں بعض نے بعض کو ہاتھوں، جوتوں اور تلواروں سے مارا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ کلبی نے کہا : یہ سمیر اور حاطب کی لڑائی کے بارے میں آیت نازل ہوئی سمیر نے حاطب کو قتل کیا تھا تو اوس خزرج آپس میں لڑ پڑے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم اور مومنوں کو حکم ارشاد فرمایا کہ دونوں کے درمیان صلح کرائیں۔ 2 سدی نے کہا : انصار کی ایک عورت تھی جسے ام زید ﷺ کہا جاتا وہ ایک غیر انصاری کے عقد میں تھی وہ اپنے خاوند سے الجھی اس عورت نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی قوم کے افراد کے پاس چلی جائے اس کے خاوند نے اسے محبوس کردیا اسے دوسری منزل میں رکھا جس میں اس کے خاندان کا کوئی فرد نہ تھا وہ عورت نے اپنی قوم کے افراد کو پیغام بھجیا اس کی قوم کے لوگ آئے انہوں نے اسے نیچے اتارا تاکہ اسے لے جائیں وہ آدمی نکلا اس نے اپنے خاندان کے لوگوں سے مدد مطلب کی اور اس کے چچازاد نکلے تاکہ عورت اور اس کے گھر والوں کے درمیان حائل ہوجائیں انہوں نے ایک دوسرے کو دھمکے دیئے اور جوتوں سے ایک دوسرے کو مارا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ طائفہ کا لفظ ایک آدمی، جمع اور دو کو شامل ہوتا ہے یہ معنی پر محمول ہوتا ہے لفظ پر محمول نہیں ہوتا کیونکہ دونوں طائفہ قوم الناس کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ کی قرآت میں بالقسط ہے ابن ابی عملہ نے اقلسستا پڑھا ہے کیونکہ طائفہ دو ہیں اس کے بارے میں گفتگو سورة برات میں گزر چکی ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان (النور) کے بارے میں کہا : مراد ایک اور اس سے اوپر ہے اور طائفہ سے مراد اس کا ٹکڑا ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف دعوت دے کر ان کے درمیان صلح کر ائو خوان کے حق میں ہو یا ان کے خلاف ہو۔ یعنی ایک حد سے تجاوز کرے اور اللہ تعالیٰ کے حکم اور کتاب کو نہ مانے یعنی اس سے مراد بات کو طول دینا اور فساد برپا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف لوٹے اگر وہ لوٹے یعنی ان دونوں کو انصاف اور برانگختیہ کرو اے لوگوْ انصاف سے کام لو تم باہم نہ لڑو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یعنی عدل سے کام لو۔ یعنی اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں اور حق پرستوں کو پسند کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2:۔ علماء نے کہا : مسلمانوں میں دو جماعتیں قتال کرنے میں دو حالتوں سے خالی نہ ہوں گی یا تو وہ دونوں میں سرکشی کے راستہ پر باہم قتال کریں گی یا ایسا نہیں ہوگا اگر پہلی صورت ہو تو اس میں یہ ضروری ہوگا کہ دونوں کے درمیان ایسے آدمی کو لایا جائے جو دوری کو ختم کرے اور ایک دو سے سے ہاتھ روک لیں اور الگ الگ ہوجائیں اگر وہ نہیں رکتے صلح بھی نہیں کرتے اور سرکشی پر ہی کمر بستہ رہتے ہیں تو ان دونوں سے جنگ کی جائے گی اور دوسری صورت یہ ہے کہ ایک جمات دوسری جماعت پر زیادتی کرتی ہو تو ضروری ہوگا کہ باغی گروہ سے جنگ کی جائے یہاں تک وہ وہ رک جائے اور توبہ کرلے اگر وہ ایسا کرے تو اس کے درمیان اور جس کے ساتھ زیادتی کی گئی اس کے درمیان عدل و انصاف سے مصالحت کرائی جائے اگر کسی شبہ کی بناء پر دونوں میں جنگ چھڑ جائے دونوں فریق اپنی جگہ حق پر ہوں تو ضروری ہے کہ دلائل اور براہین کے ساتھ شبہ کو زائل کیا جائے اور اگر وہ لڑائی جھگڑے پر گامزن رہیں اور جس امر کی طرف ان کی رہنمائی کی گئی اور حق کے واضح ہونے کے بعد جو انہیں اتباع حق کی نصیحت کی گئی اس پر عمل پیرا نہ ہوں تو دونوں باغی گروہ بن جائیں گے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اس آیت میں دلیل ہے کہ اس باغی گروہ کے ساتھ قتال واجب ہے جس کی بغاوت امام یا کسی مسلمان کے خلاف معلوم ہو اور جو آدمی مومنوں کے ساتھ جنگ کرنے سے منع کرتا ہے اس کے قول کو فاسد کرنے پر تگ و دو کرتا ہو اس کے خلاف بھی جنگ کرنا لازم ہے رسول اللہ ﷺ کے اس قول سے استدلال کیا گیا ہے (1) مومن سے جنگ کرنا (علامت) کفر ہے اگر مومن باغی سے قتال کرنا کفر ہے تو اللہ تعالیٰ نے کفر کا حکم دیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے بالا ہے حضرت صدیق اکبر نے ان لوگوں کے ساتھ جہاد کیا جو اسلام سے وابستہ رہے اور زکوۃ دینے سے رک گئے آپ نے حکم دیا : پیٹھ پھیر جانے والوں کا پیچھا نہ کیا جائے کسی زخمی کو نہ مارا جائے ان کے اموال لینا حلال نہیں جبکہ کافر میں یہ چیزیں واجب ہیں۔ طبری نے کہا : اگر ہر وہ اختلاف جو دو فریقوں کے درمیان ہوتا اس میں واجب بھاگ جاتا اور گھروں میں بیٹھ رہنا ہوتا تو کوئی حد قائم نہ ہوتی اور نہ باطل کو باطل کہا جاتا تو اہل نفاق اور فسق و فجور کا ارتکاب کرنے والے ہر چیز کو حلا کرنے کی راہ اپنا لیتے جسے اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کیا تھا جس طرح مسلمانوں کے اموال لینا ان کی عورتوں کو قیدی بنا لینا اور ان کے خون بہانا وہ ان مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کریں اور مسلمان ان سے اپنے ہاتھوں کو روک لیں یہ نبی کریم ﷺ کے قول کے خلاف ہے : (1) اپنے بیوقوف لوگوں کے ہاتھوں کو روکو۔ مسئلہ نمبر 4: قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : یہ آیت مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے میں اصل میں ہے اور غلط تاویل کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرنے میں بنیاد ہے۔ صحابہ نے اسی پر بھروسہ کیا اور ملت کے بڑے لوگوں نے اسی کی پناہ لی (2) نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشاد میں یہی آیت مراد لی عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی خارجیوں کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے وہ بہترین جماعت پر خروج ریں گے پہلی روایت زیادہ صحیح ہے کیوند کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : دو جماعتوں میں سے ایسی جماعت انہیں قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہے ‘ جس ہستی نے ان سے جنگ کی وہ حضرت علی شیر خدا اور جو لوگ آپ کے ساتھ مسلمان علماء کے نزدیک یہ ثابت ہے اور دینی دلیل سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی شیر خدا امام تھے اور جس نے بھی ان پر خروج کیا وہ باغی تھا اور اس کے ساتھ تو قتال واجب تھا یہاں تک کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئے اور صلح پر راضی ہوجائے کیونکہ حضرت عثمان ؓ کو شہید کیا گیا جبکہ صحابہ ان کے خون سے بری تھی کیونکہ جن لوگوں نے آپ کے خلاف شورش کی تھی ان کے ساتھ جنگ کرنے سے حضرت عثمان غنی ؓ نے منع کردیا تھا : فرمایا : میں وہ پہلا شخص نہیں بننا چاہتا جو رسول اللہ ﷺ کی امت میں قتل کے ساتھ نیابت کرے آپ نے آزمائش پر صبر کیا، امتحان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور امت کو اپنی جان کا نذرانہ دے دیا پھر یہ ممکن نہ تھا کہ لوگوں کو بےمقصد چھوڑ دیا جاتا حضرت عمر نے شوری میں جن افراد کا ذکر کیا تھا خلافت کو ان پر پیش کیا گیا اور انہوں نے اسے قبول نہ کیا حضرت علی شیر خدا اور اس کے زیادہ حقدار اور اہل تھے تو آپ نے امت پر احتیاط کی غرض سے اسے لے لیا کہ ان کے خون باطل طریقہ سے نہ بہتے رہیں اور بےمقصد ان کا معاملہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوجائے بعض اوقات دین میں تبدیلی رونما ہوگئی اور اسلام کے ستون ٹوٹ گئے جب آپ کی بیعت کی گئی تو اہل شام نے مطالبہ کردیا وہ تب بعیت کریں گے کہ جن لوگوں نے حضرت عثمان کو قتل کیا ہے ان پکڑیں اور ان سے قصاص لیں حضرت علی شیر خدا نے انہیں فرمایا : بعیت میں داخل ہو جائو اور حق کا مطالبہ کرو تم اس تک پہنچ جائو گے۔ انہوں نے کہا : آپ بیعت مستحق نہیں جبکہ حضرت عثمان کے قتال صبح و شام آپ کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں حضرت علی شیر خدا ؓ کی رائے اس بارے میں درست تھی کیونکہ حضرت علی شیر خدا اگر ان میں سے فورا قصاص لیتے تو قبائل ان کی عصبیت میں کھڑے ہوجاتے تو تیسری جنگ شروع ہوجاتی آپ نے انتظار کیا کہ خلافت کا معاملہ مضبوط ہوجائے اور بیعت منعقد ہوجائے اور مجلس حکم میں اولیا کی جانب سے مطالبہ ہو اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوجائے۔ امت میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ امام کے لئے یہ جائز ہے کہ قصاص میں تاخیر کرے خصوصاً جب قصاص فتنہ بڑھاکانے اور جمعیت کو منتشر کرنے کا باعث ہو حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لئے بھی ایسا ہی ہو اور دونوں حضرت علی ؓ سے دلایت کے مسئلہ پر الگ نہ ہوئے تھے اور نہ ہی انہوں نے دیانت کے اعتبار سے ان اعتراض کیا تھا ان کی رائے۔ یہ تھی کہ حضرت عثمان غنی ؓ کے قاتلیں سے بدلہ لینا یعنی انہیں پہلے قتل کرنا ضروری ہے۔ (1) ۔ میں کہتا ہوں : ان کے درمیان جو جنگ واقع ہوئی اس کا سبب بھی یہی قول تھا جلیل القدر علماء کہتے ہیں کہ بصرہ میں ان کے درمیان جو واقع ہوا وہ جنگ کے ارادہ سے نہ ہوا تھا بلکہ اچانک ہوا تھا ہر ایک فریق نے اپنا دفاع کیا کیونکہ اس کا گمان یہ تھا کہ دوسرے فریق نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے کیونکہ معاملہ ان کے درمیان منظم ہوچکا تھا صلح مکمل ہوچکی تھی باہم رضا مندی سے وہ الگ الگ ہونے والے تھے حضرت عثمان غنی ؓ کے قاتلیں کو خوف ہوا کہ انہیں پکڑ لیا جائے گا اور ان کو گھیر لیا جائے گا وہ اکٹھے ہوئے باہم مشاورت کی اور اختلاف کیا پھر ان کا اس رائے پر اتفاق ہوا کہ وہ دونوں فریقوں میں بٹ جائیں اور دونوں لشکروں میں سحری کے وقت جنگ شروع کریں تیر ان کے درمیان چلے وہ فریق جو حضرت علی ؓ کے لشکر میں تھا اس نے شور مچایا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے دھوکہ کیا اور جو فریق حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لشکر میں تھا اس نے شور مچایا کہ حضرت علی نے دھوکہ کیا کہ اس طرح وہ امر تکمیل پذیر ہوا جس کی انہوں نے تدبیر کی تھی اور جنگ نے ان میں اپنی جگہ بنا لی ہر فریق اپنے کئے کا اپنے ہاں دفاع کررہا تھا اور خون بہائے جانے سے مانع تھا یہ دونوں فریقوں کی جانب سے درست عمل تھا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت تھی کیونکہ باہم جنگ اور دفاع اس طریقہ سے ہوا تھا : یہی قول صحیح اور مشہور ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5: یہ قتال کا حکم ہے اور فرضہ کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو باقی ماندہ افراد سے یہ حکم ساقط ہوگیا یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں سے ایک جماعت اسی وجہ سے گھروں میں بیٹھی رہی جس طرح حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت محمد بن مسلمہ ؓ وغیرہ۔ حضرت علی شیر خدا نے ان کی رائے کو درست قرار دیا ان میں سے ہر ایک نے اپنا عذر پیش کیا جسے آپ نے قبول کیا۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ جب یہ معاملہ حضرت امیر معاویہ ؓ تک پہنچا تو انہوں نے حضرت عسد کو ان کے کئے پر عتاب کیا اور انہیں کہا : نہ تو آپ ان میں سے ہوئے جنہوں نے دو ایسے گروہوں کے درمیان صلح کرائی جو آپس میں لڑ رہے تھے اور نہ ہی باغی جماعت سے جنگ کی حضرت سعد نے کہا : میں نے باغی گروہ سے جو جنگ نہیں کی میں اس پر شرمند ہوں اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر ایک نے جو کیا اس کا وہ کامل طور پر ادراک نہیں رکھتا تھا یہ سب کچھ اجتہاد کے نتیجہ اور شرع کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے تھا۔ (2) مسئلہ نمبر 6: ان کی صلح میں عدل یہ ہے (3) کہ ان کے درمیان جو خون خرابہ ہوا اور جال کا ضیاع ہوا اس کا مطالبہ نہ کریں کیونکہ جو کچھ نقصان ہوا وہ کسی تاویل کی بناء پر ہوا اور ان کے مطالبہ کی صورت میں حقیقت میں یہ صلح سے بھاگنا اور بغاوت میں دور تک جانا ہے۔ مصالحت میں یہی اصل و قانون ہے لسان الامت : نے کہا : صحابہ کے درمیان جنگ میں حکمت یہ ہے کہ اہل اجتہاد کے قتال کے احکام کو جانا جاسکے کیونکہ اہل مشرک کے ساتھ قتال کے احکام رسول اللہ ﷺ کی زبان اور آپ کے عمل سے معلوم ہوچکے ہیں۔ مسئلہ نمبر 7:۔ جب کوئی باغی خروج کرنے والا عادل امام پر خروج کرے جبکہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو امام تمام مسلمانوں کو ساتھ لے کر قتال کرے جو ایسے کفایت کریں جنگ سے پہلے وہ انہیں اطاعت اور جماعت میں داخل ہونے کی دعوت دے اگر وہ اطاعت کی طرف لوٹے اور صلح سے انکار کریں تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے ان کے قیدیوں کو قتل کیا جائے، ان کے بھاگ جانے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، ان کے زخمی کو قتل کرنے میں جلدی نہ کی جائے ان کے بچوں کو قیدی نہ بنایا جائے اور ان کے اموال پر قبٗضہ نہ کیا جائے ان کے زخمی کو قتل کرنے میں جلدی نہ کی جائے ان کے بچوں کو قیدی نہ بنایا جائے جب عادل (امیر کا وفادار) باغی کو قتل کرے یا باغی عادل کو قتل کرے جبکہ وہ ایک دوسرے کے ولی ہوں تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے جان بوجھ کر قتل کرنے والا کسی صورت میں وارث نہیں بنے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عادل باغی کا وارث بنے گا : قصاص پر قیاس کیا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر 8: باغیوں او خارجیوں نے جو خون یا مال برباد کیا پھر وہ تائب ہوئے تو اس کی جہ سے ان کا مواخذہ نہیں ہوگا : امام ابوحنیفہ نے کہا : وہ ضامن ہوں گے امام شافعی کے دو قول ہیں امام ابوحنیفہ کے قول کی یہ دلیل ہے کہ یہ ظلم و زیادتی کے ساتھ اتلاف ہے توضمانت لازم ہوگی ہمارے نزدیک قابل اعتماد بات یہ ہے کہ صحابہ ؓ اپنی باہم جنگوں میں بھاگ جانے والے کا پیچھا نہیں کرتے تھے اور زخمی کو قتل نہیں کرتے تھے اور قیدی کو قتل نہیں کرتے تھے جان کے اتلاف اور مال ضائع ہونے کی صورت میں وہ ضمانت نہیں لیتے تھے وہی مقتداء ہیں۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ : کیا تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کیا حکم دیا ہے جو اس امت میں سے بغاوت کرتا ہے (1) ‘ عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے اور فرمایا : اس کے زخمی کو قتل نہ کیا جائے گا اس کے قیدی کو قتل نہیں کیا جائے گا بھاگ جانے والی کی تلاش نہیں کی جائے گی اور ان کا مال تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ ‘ جو مال اصل حالت میں ہو اس کو واپس کردیا جائے گا یہ سب کچھ آدمی کے بارے میں ہے جو کسی تاویل کی بناء پر خروج کرتا ہے جو تاویل اس خروج کو جائز قرار دیتی تھی۔ زمحشری نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے : اگر باغیوں کی تعداد تھوڑی ہو اس حیثیت میں کہ وہ اپنا دفاع نہ کرسکیں تو اس نے جو جنابت کی تھی تو لوٹ آنے کے بعد جماعت ضامن ہوگی اگر ان کی تعداد زیادہ ہو تو وہ قوت و شوکت والے ہوں تو وہ ضامن نہ ہوگی مگر محمد بن حسن شیبانی کا نقطہ نظر ہے آپ فتوی دیا کرتے تھے کہ ضمانت اس پر لازم ہوگی جب وہ رکوع کرے گا مگر جمع ہونے اور لشکر کشی کرنے سے قبل یا جنگ ختم ہونے کے وقت اوزار رکھنے کے وقت کا معاملہ ہے تو اس نے جنابت کی تو وہ سب کے نزدیک ضامن ہوگا۔ عدل کے ساتھ اصلاح پر برانگختیہ کرنا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : میں امام محمد کے نزدیک واضح ہے آیت کریمہ کے لفظ پر منطبق ہے (2) دوسرے علماء کے قول کے مطابق اس کی توجیہ یہ ہے کہ باغی جماعت کو قلیل تعداد پر محمول کیا جائے جس امر کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ غرض کینوں کو ختم کرنا ہے جنایات کی ضمانت دینا نہیں ہے یہ اس عدل حکم کے ساتھ حسن مطابقت نہیں رکھتا : زمحشری نے کہا : اگر تو سوال کرے : دوسرے کے ساتھ عدل کو ملایا گیا ہے پہلے کے ساتھ نہیں ملایا گیا ؟ میں اس کا جواب دوں گا : آیت کے شروع میں قتال سے مراد ہے کہ وہ دونوں باغی کی حیثیت میں قتال کریں یا ان میں شبہ پایا جائے کوئی بھی صورت ہو مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ حق کا ارادہ کرتے ہوئے شافی مواعظ کے ساتھ اور شبہ کی نفی کرنے کا اہتمام کرتے ہوئے جو جدائی واقع ہوچکی ہے اس میں اصلاح احوال کریں آگ کو ٹھنڈا کریں مگر جب وہ دونوں اصرار کریں تو ان سے جنگ ضروری ہے جہاں تک ضمانت کا تعلق ہے اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ جب ان میں سے ایک باغی ہو تو معاملہ اس طرح نہ ہوگا کیونکہ مذکوہ صورتوں میں ضمانت قابل توجہ ہوگی۔ مسئلہ نمبر 9: اگر وہ کسی علاقہ پر غلبہ پا لیں اور صدقات وصول کرلیں حدود قائم کریں اور ان میں فیصلہ کریں ان پر نہ تو دوبارہ صدقات لازم کئے جائیں گے اور نہ حدود قائم کی جائیں گی اور انہوں نے جو فیصلے کئے ان کے خلاف کوئی حکم نہیں دیا جائے گا مگر جو کتاب سنت اور اجماع کے خلاف ہو جس طرح جو باغی ہو تو اس کے فیصلے کے خلاف کوئی حکم نہیں دیا جاتا یہ مطرف اور ابن ماجشون کا قول ہے ابن قاسم نے کہا : کسی حال میں بھی یہ جائز نہیں (1) اصبغ سے مروی ہے، یہ جائز ہے، ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ جائز نہیں جس طرح ابن قاسم کا قول ہے، امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے کیونکہ اس نے ناحق ان لوگوں کے بارے میں عمل کیا ہے جس پر اس کی تولیت جائز نہ تھی تو یہ جائز نہ ہوگا جس طرح اگر وہ باغی نہ ہوتے تو بھی جائز نہ ہوتا ہمارے لئے قابل اعتماد وہی ہے جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ جب فتنہ فرور ہوگیا اور صلح کی وجہ سے اختلاف کیا گیا تو صحابہ نے کسی کے حکم میں کوئی معارضہ نہ کیا ابن عربی نے کہوا : جو چیز میرے پاس پسندیدہ ہے کہ یہ درست نہیں کیونکہ فتنہ جب ختم ہوگیا تو امام وہی باغی تھا تو وہاں کون تھا کو معترض بنتا (2) ۔ مسئلہ نمبر 10:۔ یہ جائز نہیں کہ صحابہ میں سے کسی صحابی کی طرف قطعی طور پر خطا کو منسوب کیا جائے کیونکہ ہر ایک نے جو بھی عمل کیا اس میں وہ مجتہد تھا وہ سب اللہ تعالیٰ کی ضرا کا ہی ارادہ کرتے تھے وہ سب ہمارے آئمہ ہیں ان کے درمیان جو اختلاف ہوا ہم اس سے باز رہنے کے پابند ہیں ہم ان کا ذکر احسن انداز میں ہی کریں گے کیونکہ صحابہ احترام کے مستحق ہیں اور نبی کریم ﷺ نے انہیں برا بھلا کہنے سے منع کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت کا ذکر کیا ہے اور ان سے راضی ہونے کی خبر دی ہے یہ چیز مختلف سندوں سے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ حضرت طلحہ شہید ہوئے جو روئے زمین پر چل پھر رہے ہیں جس جنگ کے لئے وہ نکلے تھے وہ نافرمانی ہوتی (3) تو اس میں قتل ہونے والا شہید نہ ہوتا اس طرح اگر جس جنگ میں وہ نکلے تھے تو تاویل میں غلطی کرتے اور واجب کوتاہی کرتے کیونکہ شہادت تو اسی وقت ہوتی ہے جب اطاعت کی صورت میں قتل ہو اس لئے ضروری ہے کہ ان کے معاملہ کو اس امر پر محمول کیا جائے جو ہم نے بیان کیا ہے اس امر پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علی شیر خدا کی روایات میں صحیح اور عام روایت ہے کہ حضرت زبیر کو قتل کرنے والا جہنم میں جائے گ اور ان کا یہ قول ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ابن صفیہ کے قاتل کو جن ہم کی بشارت دے دو “ جب معاملہ اس طرح ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نافرمانی کرنے والے اور قتال کے ذریعے گناہ گار نہ تھے کیونکہ اگر معاملہ اس طرح ہوتا یعنی وہ عاصی اور گناہ گنار ہوتے تو نبی کریم ﷺ حضرت طلحہ کے بارے میں یہ نہ کہتے کہ وہ شہید ہے او یہ خبر نہ دیتے کہ حضرت زبیر کا قاتل آگ میں ہے اس طرح جو گھر میں بیٹھ گیا وہ تاویل میں غلطی کرنے والا نہیں بلکہ وہ درست ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں اجتہاد کی راہ دکھائی جب معاملہ اس طرح ہے تو یہ امرا نہیں لعن طعن کرنے اور ان سے برات کا اظہار کرنے اور ان کو فاسق قرار دینے کو ثابت نہیں کرتا ان کے فضائل اور ان کے جہاد کو باطل نہیں کرتا اور دین میں جو ان کا عظیم مقام ہے ان کو ختم نہیں کرتا۔ بعض سے اس خون ریزی کے بارے میں پوچھا گیا جو ان کے درمیان واقع ہوئی تو یہ آیت پڑھی (البقرہ) ۔ بعض سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : وہ ایسی خونریزی تھی اللہ تعالیٰ نے میرا ہاتھ اس سے پاک رکھا میں اپنی زبان کو اس سے آلودہ نہیں کروں گا یعنی خطا میں واقع ہونے اور بعض پر ایسا حکم لگانے سے جو درست نہ ہو اس سے بچوں گا ابن فورک نے کہا : ہمارے دونوں میں سے کچھ نے کہا کہ صحابہ کے درمیان جو تنازعہ ہوئے ان کے بارے میں وہی رویہ ا پنائو جو حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان تنازعہ ہوا اس میں اپناتے ہوئے اس کے باوجود وہ دلایت اور نبوت کے دائرہ سے باہر نہ نکلے اور صحابہ کے درمیان جو معاملہ ہوا وہ بھی اسی طرح ہے۔ محاسبی نے کہا : جہاں تک خونریزی کا تعلق ہے ان کے اختلاف کی وجہ سے ہمارے لئے قول کرنا بہت مشکل ہے حضرت حسن بصری سے ان کے قتال کے بارے میں پوچھا گیا : فرمایا : اس میں حضرت محمد ﷺ کے صحابہ حاضر ہوئے جبکہ ہم غا ئب تھے وہ عالم تھے ہم جاہل ہیں وہ اکٹھے ہوگئے تو ہم نے ان کی اتباع کی اور انہوں نے اختلاف کیا تو ہم نے توقف کیا (1) ۔ محاسبی نے کہا : ہم وہی بات کرتے ہیں جس طرح حسن بصری نے کی ہے ہم جنتے ہیں جو اس میں داخل ہوئے تھے وہ ہم سے زیادہ علم رکھنے والے تھے جس امر پر انہوں نے اتفاق کیا ہم اس کی پیروی کریں گے جس میں انہوں نے اختلاف کیا ہم اس کے متعلق توقف کریں گے اور ہم اپنی جانب سے کسی رائے کو پیش نہیں کریں گے ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے اجتہاد کیا اللہ تعالیٰ کی رضا سے توفیق کے طالب ہیں۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: یعنی دین و حرمت میں بھائی بھائی ہیں یہ رشتہ نسب میں نہیں اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے : دینی اخوت نسبی اخوت سے زیادہ قوی ہے کیونکہ نسبی اخوت دینی مخالفت کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے اور دینی اخوت نسبی مخالفت کے باوجود ختم نہیں ہوتی۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (1) باہم حسد نہ کر باہم بغض نہ کرو جاسوسی نہ کرو خبر معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو کیا باہم بھائو پر بھائو نہ کیا کروبھائی بھائی بنتے ہوئے اللہ کے بندے بن جائو۔ ایک روایت میں ہے کہ ” باہم حسد نہ کیا کرو، بھائو پر بھائو نہ لگایا کرو، باہم بغض نہ کیا کرو، آپس میں دشمنی نہ رکھا کرو تم میں سے کوئی کسی کی خریدو فروخت کے معاہدے پر معاہدہ نہ کرے بھائی بھائی بنتے ہوئے اللہ کے بندے بن جائو۔ “ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اس کو بےیارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقییر جانتا ہے تقوی یہاں “ آپ نے تین دفعہ سینہ کی طرف اشارہ کیا ” ایک انسان کے لئے اتنی برائی ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت حرام ہے “ الفاظ مسلم کے ہیں۔ صحیحین کے علاوہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اس پر عیب لگاتا ہے نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ گھر بنانے میں اس کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے کہ اس پر ہوا کو روک دے مگر اس کی اجازت سے ایسا کرتا ہے وہ ہنڈیا کی خوشبو سے اسے اذیت نہیں دیتا مگر اس کے لئے چمچہ پھر سالن بھیجتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے لئے پھل نہ خریدے کہ وہ اسے لے کر پڑوسی کے بچوں کے پاس جائیں اور اس میں سے انہیں کوئی چیز نہ دیں “ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یاد کرلو تم میں سے بہت ہی تھوڑے افراد اسے یاد رکھیں گے۔ “ مسئلہ نمبر 2: یعنی جن دو مسلمان افراد کے درمیان جھگڑا ہے ان میں صلح کرائو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اوس و خزرج مراد ہیں جس طرح یہ بات پہلے گزر چکی ہے ابو علی نے کہا : اخوین سے مراد دو طائفے ہیں کیونکہ ثنیہ کا لفظ ذکر کیا جاتا ہے اور مراد کثرت ہوتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (المائدۃ 64) ابو عبیدہ نے کہا : یعنی دو بھائیوں کے درمیان مصالحت کر ائو اس کا صدق تمام افراد پر آتا ہے۔ ابن سیرین، نصر بن عاصم، ابو العالیہ، حجدری اور یعقوب نے بین اخوتکم پڑھا ہے حضرت حسن بصری نے اخوانکم پڑھا ہے باقی قراء نے اخویکم یاء کے ساتھ ثنیہ کا صیغہ پڑھا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اس آیت اور اس سے قبل والی آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ بغاوت ایمان کے اسم کو زائل نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سرکشی کرنے کے باوجود انہیں اخواہ اور مومنین کا نام دیا ہے حارث اعور نے کہا : حضرت علی شیر خدا ؓ سے جنگ جمل اور جنگ صفین میں شریک افراد کے بارے میں پوچھا گیا جبکہ ان کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے متقدی تھے کیا وہ مشرک ہیں ؟ فرمایا : نہیں وہ شرک سے بھاگے تھے، پوچھا گیا، وہ منافق تھے ؟ فرمایا : نہیں کیونکہ منافق اللہ کا بہت کم ذکر کرتے ہیں : پوچھا گیا : ان کا کیا حال ہے ؟ فرمایا : وہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہم پر بغاوت کی۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومنو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام (رکھو) ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سے بہتر ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اعتقاد اور باطنی طور پر اطاعت شعار ہونے میں بہتر ہوں۔ سحر کا یہ معنی استہزاء ہے اس کا باب ہے، ابو زید نے یہ بیان کیا ہے یہ سب سے روی لغت ہے، اخفش نے کہا : سب نے کہا : یہ کہا جاتا ہے اس کا اسم سخریہ اور سخری ہے دونوں کے ساتھ اسے پڑھا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الزخرف 32) فلاں سخرہ وہ عمل میں مذاق کرتا ہے یہ کہا جاتا ہے یعنی اس کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے سخرہ لوگ اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: اس کے سبب نزول میں اختلاف ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں نازل ہوئی ان کے کان میں گرانی تھی جب صحابہ نبی کریم ﷺ کی مجلس کی طرف سبقت کرتے جب وہ مجلس میں آتے تو صحابہ ان کی جگہ کھلی کردیتے یہاں تک کہ وہ آپ کے پہلو میں بیٹھ جاتے تاکہ جو رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائیں اس کو سن لیں ایک دن وہ آئے جبکہ نماز فجر کی ایک رکعت ہو چیک تھی جب نبی کریم ﷺ فارغ ہوئے تو آپ ﷺ کے حابہ اپنی اپنی جگہ بیٹھ چکے تھے ہر ایک آدمی نے اپنے آپ کو اپنی جگہ روک لیا اور اسی کے ساتھ چمٹ گئے۔ کوئی کسی کے لئے جگہ نہیں چھوڑ رہا تھا یہاں تک کہ جو آدمی جگہ نہ پاتا وہ کھڑا ہوجاتا جب حضرت ثابت نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے لوگوں کی گردنوں کو پھانگا اور کہتے : کھل جائو، لوگوں نے آپ کے لئے جگہ کھلی کردی یہاں تک کہ وہ نبی کریم ﷺ تک جا پہنچے جبکہ ان کے دریمان اور نبی کریم ﷺ کے دریمان ایک آدمی تھا حضرت ثابت نے کہا : جگہ دو ۔ اس آدمی نے آپ سے کہا : آپ نے جگہ پالی ہے یہیں بیٹھ جائیے۔ حضرت ثابت اس کے پیچھے غصہ کی حالت میں بیٹھ گئے پھر کہا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں ہے۔ حضرت ثابت نے کہا فلان کا بیٹا، اسے عاردلانا چاہتے تھے یعنی دور جاہلیت کی جو اس کی ماں تھی اس آدمی کو بڑی حیا آئی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ضحاک نے کہا : یہ بنو تمیم کے وفد کے بارے میں آیت نازل ہوئی جن کا ذکر سورة کے آغاز میں گزر چکا ہے انہوں نے فقراء صحابہ کا مذاق اڑایا جس طرح حضرت عمارخ حضرت خباب، حضرت ابن فہیرہ، حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت سلیمان اور حضرت سالم جو ابو حذیفہ کے غلام تھے یہ بات انہوں نے اس وقت کی جب انہوں نے ان کے برے حال کو دیکھا تو ان میں سے جو لوگ ایمان لائے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ مجاہد نے کہا : مراد غنی کا فقیر سے مذاق کرنا، ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جس کے گناہ پوشیدہ رکھے وہ اس آدمی کا مذاق نہ اڑھائے جس کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا ہو ممکن ہے کہ اس کے گناہوں کا دنیا میں ظاہر ہونا آخرت میں اس کے لئے بہتر ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت عکرمہ بن ابی جہل کے حق میں نازل ہوئی جب وہ مدینہ طیبہ میں مسلمان کی حیثیت سے آیا مسلمانوں نے جب اسے دیکھا تو کہا : اس امت کے فرعوں کا بیٹا، عکرمہ نے اس کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ کوئی آدمی اس پر مذاق کی جرأت نہ کرے جو اس کے سامنے آئے جبکہ اس کا حال پراگند ہو اس کے بدن میں کوئی عیب ہو یا وہ زیادہ اچھی طرح گفتگو نہ کرسکتا ہو ممکن ہے ضمیر کے اعتبار سے زیادہ مخلص اور دل کے اعتبار سے زیادہ صاف ہو اس آدمی کی بنسبت جو اس کی صفت کے مخالف ہے وہ اپنی جان پر ظلم کرے گا کہ وہ اس آدمی کو حقیر سمجھ رہا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے اور اس کے ساتھ مذاق کر رہا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عظیم قراردیا ہے سلف صالحین نے اس امر سے بچنے میں حد درجہ مبالغہ سے کام لیا ان میں عمرو بن شرجیل کا قول ہے اگر میں کسی آدمی کو دیکھوں کہ وہ بکری کے بچے کو بکری کا دودھ پلا رہا ہے تو میں اس پر ہنس پڑوں تو مجے ڈر ہے کہ میں وہ کام کروں گا جو اس نے کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے : آزمائش بات پر ہی منحصر ہے اگر میں کتے کا مذاق اڑائو تو مجھے ڈر ہے کہ میں کتنا بنا دیا جائوں قوم کا لفظ مذکرین کے لئے خاص ہے : زہیر نے کہا : میں نہیں جانتا ممکن ہے میں جان جائو کیا آل حصن مرد ہیں یا عورتیں ہیں۔ انہیں قوم کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ مصائب میں داعی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قائم کی جمع ہے پھر ہر جماعت میں اس کو استعمال کیا جانے ولا اگرچہ وہ کھڑے نہ ہوں قوم میں عورتیں مجاز داخل ہوجاتی ہیں سورة بقرہ میں اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 3: عورتوں کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ ان سے مذاق اکثر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (نوح 1) یہ سب کو شامل ہے مفسرین نے کہا : یہ نبی کریم ﷺ کی دو بیویوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ سے استہزاء کیا تھا آپ نے اپنی دونوں ڈھاکوں کو ایک سفید کپڑے سے باندھ رکھا تھا اور اس کی دونوں طرفوں کو پیچھے لٹکا دیا تھا وہ اسے گھسیٹ رہی تھیں حضرت عائشہ نے حضرت حفصہ سے فرمایا : اسے دیکھو یہ اپنے پیچھے کیا گھسیٹ رہی ہے گویا وہ کتے کی زبان ہے۔ یہ ان دونوں کا مذاق تھا۔ حضرت انس اور ابن زید نے کہا ا : یہ نبی کریم ﷺ کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت امہ سلمہ کو چھوٹے قد کا ہونے کی وجہ سے عار دلائی تھی (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ حضرت صدیقہ کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے اپنے ہاتھ سے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اے اللے کے نبی : وہ چھوٹے قد کی ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں عرض کی : رسول اللہ ﷺ عورتیں مجھے عار دلاتی ہیں وہ مجھے کہتی ہیں اے یہودن جو دو یہودیوں کی بیٹی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو نے یہ کیوں نہیں کہا ‘ میرا جد حضرت ہارون (علیہ السلام) اور میرے چچا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور میرے خاوند حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ مسئلہ نمبر 4: صحیح ترمذی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک آدمی کی نقل کی فرمایا، مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ میں کسی کی نقل کروں جبکہ میرے لئے یہ ہے “ کہاں میں نے نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کہ حضرت صفیہ چھوٹے قد کی عورت ہے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا فرمایا : تو نے ایسی بات کی ہے اگر اسے سمندر میں ملایا جائے تو وہ متغیر ہوجائے “ (2) بخاری میں حضرت عبداللہ بن زمعہ سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک اونٹ و مارنے کی طرح کیوں اپنی بیوی کو مارتا ہے پھر اسے گلے لگاتا ہے “ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں اور تمہارے احوال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دل اور اعمال دیکھتا ہے۔ “ (3) یہ عظیم حدیث ہے اس پر یہ حکم مرتب ہوتا ہے کہ کسی کے عیب کی وجہ سے وہ قطع تعلق نہ کرے وہ اس کی اطاعت کے اعمال دیکھے ممکن ہے جو اعمال ظاہرہ کی مخالفت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایک مذموم وصف کو جانتا ہو جس کے ساتھ وہ اعمال صحیح نہ رہتے ہوں ممکن ہے جس میں ہم کوئی نافرمانی اور کوتاہی دیکھیں اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایسا وصف محمود جانتا ہو جس کے باعث اس کے گناہ بخش دے اعمال ظنی نشانیاں ہیں یہ قطعی ادلہ نہیں جس کے اعمال دیکھیں اس کی تعظیم میں علونہ کریں جس کے برے اعمال دیکھیں اس کی تحقیر میں نہ جایا جائے اس میں غورو فکر کیجئے کیونکہ دقیق نظر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: لمز کا معنی عیب ہے سورة براۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے (توبہ 58) میں یہ بحث گزر چکی ہے طبری نے کہا : لمز ہاتھ، آنکھ زبان اور اشارہ سے ہو سکتا ہے اور ہمزصرف زبان سے ہوتا ہے یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان (النسائ 29) کی مثل ہے یعنی تم میں سے بعض بعض کو قتل نہ کریں کیونکہ مومنین ایک نفس کی طرح ہیں گویا بھائی کو قتل کرنے والا اپنے آپ کو قتل کرنے والا جس طرح مومنین ایک نفس کی طرح ہیں گویا بھائی کو قتل کرنے والا اپنے ٓپ کو قتل کرنے والا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (النور 61) یعنی تم میں سے بعض بعض کو سلام کرتے ہیں معنی ہے تم میں سے بعض بعض کو عیب نہ لگائیں۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ، اور سعید بن جبیر نے کہا : تم میں سے بعض بعض پر طعن نہ کریں ضحاک نے کہا : تم میں سے بعض بعض پر طعن نہ کریں اسے لاتلمزون بھی پڑھا گیا ہے انفسکم کے قول میں یہ تنبیہ موجود ہے کہ دانش مند آدمی اپنے آپ پر عیب نہیں لگایا اس لئے کسی غیر پر بھی عیب نہیں لگانا چاہیے کیوند کہ غیر بھی اس کی ذات کی طرح ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب مومون ایک جسم کی ماند ہیں اگر اس میں سے ایک عضو کو بیماری لگتی ہے تو سارا جسم اس کے لئے بیداری اور بخار کے ساتھ ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے۔ بکر بن عبداللہ مزنی نے کہا : اگر تو یہ ارادہ کرتا ہے کہ تو ہمت سے عیوب کو دیکھے تو بہت زیادہ عیب لگانے والے غور کر کیونکہ لوگوں پر وہی عیب لگاتا ہے جو اس کے عیوب سے زائد ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی میں تنکا دیکھ لیتا ہے اور اپنی آنکھ میں شہیتر کو چھوڑ دیتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : انسان کی سعادت مندی اس میں ہے کہ دوسروں کے عیوب میں مشغول ہونے کے بجائے اپنے عیوب میں مشغول ہوجائے : شاعر نے کہا : انسان اگر عقلمند ہو تو اس کا تقویٰ اسے گولوں کے عیوب سے غافل کردے گا جس طرح ایک مریض ہوتا ہے اس کا درد اسے تمام لوگوں کے درد سے غافل کردیتا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : جن عیوب کو لوگوں نے چھپا رکھا ہے تو انہیں ظاہر نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تیرے عیوب کو ظاہر کردے گا جب ان کا ذکر ہو تو ان کی اچھائیوں کا ذکر کر اور جو عیعب تجھے میں ہے وہ عیب کسی پر نہ لگا۔ مسئلہ نمبر 2: کا معنی ہے اس کی جمع انباز ہے نبز مصدر ہے تو اس کا باب یوں ظاہر کرتا ہے یعنی اسے لقب دیا فلاں بچوں کو لقب دیتا ہے کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے اسے مشدد پڑھا جاتا ہے یہ بھی جائز ہے برے لقب کو کہتے ہیں ان میں سے بعض نے بعض کو لقب دیا۔ ترمذی میں ابو جبیرہ بن ضحاک سے مروی ہے کہا : ہم میں سے ایک آدمی کے دو یا تین نام ہوا کرتے تھے ان میں سے کسی ایک نام سے اسے پکارا جاتا (1) ممکن تھا کہ وہ ناپسند کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ ابو جبیرہ نے کہا : وہی اخوثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری ہے، ابو زید بن سعید بن ربیع صاحب ہر وی ثقہ ہے مصنف ابی دائود میں ان سے یہ روایت مروی ہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی کہا : رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہم میں سے کوئی ایسا آدمی نہ تھا مگر اس کے دو یا تین نام تھے۔ رسول اللہ ﷺ اسے فرمایا کرتے : اے فلاں وہ عرض کرتے یا رسول اللہ ﷺ رک جائیے اور وہ اس نام سے ناراض ہوجاتا تو یہ آیت نازل ہوئی (2) ایک قول ہے۔ دوسرا قول ہے : حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا کہ اسلام لانے کے بعد آدمی کو کفر کے ساتھ عار دلائی جاتی کہا جاتا : اے یہودی اے نصرانی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ قتادہ اور ابو العالیہ اور عکرمہ سے مروی ہے قتادہ نے کہا : اس سے مراد اے فاسق، اے منافق، یہ مجاہد اور حضرت حسن بصری کا قول ہے یعنی یہ کتنی بری بات ہے کہ آدمی کا یہ نام ذکر کیا جائے اے زانی، اے کافر، جبکہ وہ اسلام قبول کرچکا ہے اور توبہ کرچکا ہے یہ ابن زید کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جس نے اپنے بھائی کا لقب ذکر کیا یا اس کے ساتھ مذاق کیا تو ایسا کرنے والا فاسق ہوتا ہے حدیث صحیح میں ہے کہ جس نے اپنے بھائی کے بارے میں کہا اے کافر : تو یہ قول کسی ایک کی طرف لوٹے گا اگر اسی طرح ہوا جس طرح اس نے ذکر کیا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ قول کہنے والا کی طرف لوٹ آئے گا ‘ جس نے وہ عمل کیا جس سے اللہ تعالیٰ نے معن کیا تھا یعنی مذاق، عیب لگانا تو ایسا کرنے والا فاسق ہوگا یہ جائز نہیں روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت ابو ذر نبی کریم ﷺ کے پاس تھے ایک آدمی نے ان سے جھگڑا کیا تو حضرت ابو ذر نے اسے کہا : اے یہودیہ کے بیٹے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو یہاں سرخ اور سیاہ نہیں دیکھتا تو اس سے افضل نہیں “ یعنی تو تقوی کے ساتھ اس سے افضل نہیں تو یہ آیت نازل ہوئی : وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا … کا مطلب ہے کہ آدمی نے برے اعمال کئے ہوں پھر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ نے اسے سابقہ گناہوں پر عار دلانے سے منع کیا ہے اس پر یہ امر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے کسی مومن کو اس گناہ کی وجہ سے عار دلائی جس سے اس نے توبہ کی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لے لیا ہے کہ اسے آزمائش میں ڈالے اور اسے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا کرے۔ “ مسئلہ نمبر 3: جس کا استعمال غالب ہوتا ہے اور وہ اس سے مستثنی ہے جس طرح کا نا، کبڑا جس میں اس کا اپنا کوئی عمل دخل نہ ہو امت نے ایسا قول کرنے کی اجازت دی ہے اور اہل ملت نے اس پر اتفاق کیا ہے ابن عربی نے کہا : اللہ کی قسم یہ چیز ان کی کتب میں ہے جس سے میں راضی نہیں وہ گفتگو صالح جزرہ کے بارے میں ہے کیونکہ اس نے خزرہ میں تصحیف کی تھی تو اسی کے ساتھ اس کا لقب رکھ دیا گیا اس طرح ان کا محمد بن سلیمان خضری کے بارے میں قول ہے مطین کیونکہ وہ مٹی میں گر پڑے تھے اسی کی مثل اور بھی اقوال ہیں جو متاخرین میں غالب آئے میں دین کے معاملہ میں اسے جائز نہیں سمجھتا۔ موسیٰ بن علی بن رباح مصری کہا کرتے تھے میں کسی آدمی کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ میرے باپ کا نام اسم مصغر کی صورت میں بنائے ان کے نام میں غالب عین کلمہ کا ضمہ تھا جو قاعدہ اس تمام بحث کو ضبط کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر وہ قول جسے انسان ناپسند کرے جب اسے اس کے ساتھ ندا کی جائے تو اذیت دینے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز نہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ میں کہتا ہوں اسی معنی میں بخاری نے جامع صحیح میں کتاب الادب کا ایک باب باندھا ہے۔ کہا نبی کریم : نے ارشاد فرمایا : عبداللہ بن خویزمنداد نے کہا : یہ آیت اس چیز کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے کہ انسان کو ایسا لقب نہ دیا جائے جسے وہ ناپسند کرتا ہے اور جسے وہ پسند کرتا ہے وہ لقب اسے دینا جائز ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر کو فاروق، حضرت ابوبکر کو صدیق، حضرت عثمان کو ذوالنورین، حضرت خزیمہ کو ذوشہاتیں، کسی کو ذوشمالین اور کسی کو ذویدین وغیرہ کا لقب دیا۔ زمحشری نے کہا : نبی کریم ﷺ سے مروی ہے (1) ایک مومن کا دوسرے مومن پر یہ حق ہے کہ اسے وہ نام دے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہو، اسی وجہ سے کنیت سنت اور ادب حسن میں سے ہے حضرت عمر ؓ نے کہا : کنتیں عام کرو کیونکہ یہ آگاہ کرنے والی ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق کا لقب عتیق اور صدیق تھا حضرت عمر کا لقب فاروق تھا حضرت حمزہ کا لقب اسد اللہ حضرت خالد کا لقب سیف اللہ دور جاہلیت اور دور اسلام میں کم ہی ایسا مشہور شخص ہوگا جس کا کوئی لقب نہ ہو عرب و عجم کی تمام قوموں میں ہمیشہ سے اچھے لقب ان کی گفتگو وں اور مکاتیب میں جاری ہیں کسی نے انکار نہیں کیا۔ ماوردی نے کہا : جہاں تک مستحب اور مستحسن القاب کا تعلق ہے۔ (2) تو وہ مکروہ نہیں رسول اللہ ﷺ نے کئی صحابہ کے ایسے اوصاف بیان کئے ہیں جو ان کے نمایاں لقب بن گئے۔ میں کہتا ہوں : جس کا ظاہر ناپسندیدہ ہو جب اس کے ساتھ صفت بیان کرنے کا ارادہ کیا ہو عیب کا ارادہ نہ ہو تو یہ اکثر ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن مالک سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کہہ رہا تھا جمین طویل، سلیمان اعمشن، حمید اعرج، مروان اصغر، فرمایا : جب تو اس کی صفت کا ارادہ کرے اس کے عیب کا ارادہ نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن سرجس سے مروی ہے : کہا : میں نے گنجے یعنی حضرت عمر ؓ کو دیکھا جو حجراسود کا بوسہ لے رہے تھے۔ ایک روایت میں اصلایلیح کے الفاظ ہیں۔ یعنی جو ایسے القاب ذکر کرنے سے توبہ تائب نہ ہوا جس سے مسلمان اذیت محسوس کرتے ہیں وہ ان معن کی گئی چیزوں کو اپنا کر اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔