Ayah 48:25اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: مراد قریش ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے سال تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے منع کیا : جب نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا انہوں نے قربانی کے جانوروں کو روک دیا اور انہیں اپنی جگہ تک نہ پہنچنے دیا وہ اس کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے لیکن خود سری نے انہیں اس امر پر برانگختیہ کیا اور دور جاہلیت کی حمیت نے انہیں دعوت دی کہ وہ کام کریں جس کا وہ بطور دین اعتقاد نہیں رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس امر پر انہیں شرمندہ کیا اور اس پر انہیں دھمکی دی اور رسول اللہ ﷺ سے انس فرمایا کہ اس امر کی وضاحت کی اور آپ سے وعدہ کیا۔
مسئلہ نمبر 2:
معکوف کا معن محبوس ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی موقوف ہے۔ ابن علاء نے کہا : اس کا معنی مجموع ہے جوہری نے کہا، اسے قید رکھنا روکے رکھنا اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یہ جملہ کہا جاتا ہے : عن کذا کس چیز نے تجھے اس چیز سے روکا ؟ اسی معنی میں ہے یعنی مسجد میں رکنا۔
محل سے مراد قربان کرنے کی جگہ ہے یہ فراء کا قول ہے امام شافعی رحمتۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : مراد حرم ہے : امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : جس آدمی کو بیت اللہ کی زیارت سے روک دیا گیا ہو اس کی بدی کا محل حرم ہے محل کسی شے کی غایت کو کہتے ہیں جب محل ہو تو مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگ جا کر پڑائو ڈالتے ہیں۔ ہدی کے جانور ستر اونٹ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کے ساتھ اس جگہ کو ان کا محل بنا دیا۔ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے جس کی وضاحت سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کے تحت گزر چکی ہے صحیح وہ ہے جو ہم نے ذکر کردیا ہے۔
صحیح مسلم میں ابو زبیر سے مروی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا کہ ہم نے حدیبیہ کے سال اونٹ سات افراد کی جانب سے اور گائے سات افراد کی جانب سے ذبح کی (2) ان سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ ہم حج اور عمرہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہر سات افراد ایک اونٹ میں شریک ہوتے، ایک آدمی نے حضرت جابر ؓ سے کہا : کیا بدنہ میں اتنے لوگ شریک ہو سکتے ہیں جتنے جزور میں شریک ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا : وہ بدن ہی تو ہے : حضرت جابر ؓ حدیبیہ میں موجود تھے کہا : ہم نے اس روز ستر اونٹ ذبح کئے تھے ہم آپ میں شریک ہوئے سات افراد ایک اونٹ میں ساتھی بنے۔
بخاری شریف میں حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہم عمرہ کے ارادہ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو قریش کے کفار بیت اللہ شریف کی زیارت سے مانع بن گئے رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کو ذبح کیا اور اپنے سر کا حلق کرایا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے اس روز جس صحابی نے رسول اللہ ﷺ کا حلق کیا تھا وہ خراش بن امیہ بن ابی العیص خزاعی تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ قربانی دیں اور احرام اتار دیں صحابہ نے توقف کے بعد یہ کام کیا جس وجہ سے رسول اللہ ﷺ ان سے ناراض ہوئے حضرت ام سلمہ نے عرضہ کی : اگر آپ جانور ذبح کریں تو وہ بھی ذبح کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا جانور ذبح کیا تو صحابہ نے بھی اپنے جانور ذبح کردیئے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر کا حلق کرایا اور حلق کرانے والوں کے حق میں تین دفعہ دعا کی اور قصر کرانے والوں کے حق میں ایک دفعہ دعا کی۔ حضور ﷺ نے کعب بن عجرہ کو دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے سے گر رہی تھیں فرمایا :” کیا تجھے یہ جوئیں تکلیف دیتی ہیں (1) “ عرض کی : جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے حلق کرانے کا حکم دیا جبکہ آپ ﷺ حدیبیہ میں تھے۔ اسے امام بخاری اور دارقطنی نے نقل کیا ہے یہ روایت سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 3: دونوں لغتیں ہیں اسے محلہ پڑھا گیا ہے یعنی تخفیف و تشدید دونوں طرح یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اس کا واحد ہدیۃ ہے سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
اس کا عطف کی ضمیر مخاطب کم پر ہے یہ حال ہے میں ان کا محل حرف جار کے حذف کرنے کے ساتھ نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یہ جائز ہے کہ یہ مفعول لہ ہو، گویا یہ فرمایا : ابو علی نے کہا : اس کا عطف پر حمل کرنا درست نہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ عکف فعل متعددی میں آتا ہے آیت میں معکوفا آنا یہ اس امر کے جواز پر دال ہوگا کہ یہ معنی پر محمول ہو گویا جب یہ حبس (روکنا) ہے تو معنی کو اس پر محمول کیا جائے گا جس طرح رفث کو افضاء کے معنی پر محمول کیا جاتا ہے تو اسے الی کے ساتھ متعدی کیا جاتا ہے مگر اسے اس پر محمول کیا جائے تو اس کا محل نصب ہوگا۔ اگر سیبویہ کے قول پر قیاس کریں گے اور خلیل کے قول کے مطابق محل جر ہوگا یا معفول ہوگا گویا کہا : اسے محبوس کیا گیا ہے یہ ناپسند کرتے ہوئے کہ وہ اپنے محل تک پہنچے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ان میں جر کی تقدیر عن کے ساتھ ہو جو گز رچکا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اس کی مثل وہ روایت ہے جو سیبویہ نے یونس سے بیان کی ہے : حرف جار کو مضمر کیا گیا ہے کیونکہ اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ مراد مکہ مکرمہ میں مومنوں میں سے کمزور لوگ ہیں جو کفار کے درمیان رہتے تھے جس طرح حضرت سلمہ بن ہشام حضرت عی اس بن ابی بیعہ حضرت ابو جندل بن سہیل اور ان کی مثل لوگ ہیں۔
تم انہیں پہچانتے نہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے تم نہیں جانتے کہ وہ مومن ہیں۔ تم انہیں قتل کر کے او ان پر ٹوٹ پڑنے کے ساتھ انہیں روند دو ۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : یعنی ان پر ٹوٹ پڑا ہے۔ اس کے بارے میں جائز ہے کہ یہ رجال ونساء سے بدل کے طور پر مرفوع ہو گویا تقدیر کلام یہ ہوگی۔
یہ بھی جائز ہے کہ کی ضمیر غائب ہم سے بدل ہونے کی حیثیت سے منصوب ہو تو تقدیر کلام یہ ہوگی دونوں صورتوں میں یہ بدل اشتمال ہے رجال اور نساء کی صفت ہوگی اور لوک اجواب مخدوف ہے لیکن وہ لوگ جو اپنے ایمانوں کو مخفی رکھے ہوئے ہیں ہم نے ان کی حفاظت کی ہے۔
ضحاک نے کہا : اگر کفار کی پشتوں اور ان کی عورتوں کے رحموں میں مومن مرد اور عورتیں نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے کہ تم ان کے آباء کو روند ڈالو گے تو ان کے بیٹے بھی ہلاک ہوجائیں گے۔
مسئلہ نمبر 2:۔ معرہ سے مراد عیب ہے یہ عر سے مفعلہ کا وزن ہے جس کا معنی جرب (خارش) ہے یعنی مشرک کہتے : انہوں نے اپنے دینی بھائیوں کو قتل کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ان کے قتل کی وجہ سے تمہیں وہ چیز پہنچتی جو اس وجہ سے تم کو لازم ہوتی ہے یعنی قتل خطا کا کفارہ (1) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دارالحرب میں مومن کے قاتل پر کفارہ لازم کیا ہے دیت لازم نہیں کی جبکہ اس نے ہجرت نہ کی ہو اور اس کے ایمان کا علم بھی نہ ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النسائ 92) یہ کلبی، مقاتل اور دوسرے علماء کا قول ہے اس بارے میں گفتگو سورة النساء میں گزر چکی ہے ابن زید نے کہا، معرہ کا معنی گناہ ہے : جوہری اور ابن اسحاق نے کہا : معنی ہے دیت کی چٹی، قطرب نے کہا : سختی اور ایک قول یہ کیا گیا ہے : غم
مسئلہ نمبر 3: صحابہ کی فضلیت کا ذکر ہے اور اس کی صفت کریمہ کی خبر دی جارہی کہ وہ معصیت سے دور اور تعدی سے محفوظ رہتے ہیں یہاں تک کہ اگر وہ اس میں سے کوئی چیز پائیں تو بغیر ارادہ کے وہ چیز ان سے صادر ہوتی ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح چیونٹی نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کی صفت بیان کی۔ (النمل)
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: خل میں لام مخدوف کے متعلق ہے معنی یہ بنے گا اگر تم انہیں قتل کرو گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یہ بھی جائز ہے کہ یہ ایمان کے متعلق ہو مومنات کے علاوہ اسے صرف مومنین پر محمول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی مومنین کو چھوڑ کر اسے مومنات پر محمول کیا جائے گا کیونکہ سارے رحمت میں داخل ہوت ہیں یہ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں مشرکین سے قتال کی اجازت نہیں دی تاکہ اہل مکہ میں سے جن کے بارے میں مسلمان ہونے کا فیصلہ ہوا ہے وہ صلح کے بعد مسلمان ہوجائیں اور اسی طرح ان میں بے سے بیشمار لوگ مسلمان ہوئے ان کا اسلام بہت اچھا ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوئے۔
مسئلہ نمبر 2: تزیلوا کا معنی تمیزوا ہے یعنی ایک دوسرے سے ممتاز ہوجائیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ جدا جدا ہوجائیں : یہ کلبی کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر مومن کفار کی پشتوں سے جداد ہوجاتے تو کفار کو تلوار کے ساتھ عذاب دیا جاتا، یہ ضحاک کا قول ہے لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں کی وجہ سے کفار کا دفاع کرتا ہے حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : میں نے اس آیت کے بارے میں پوچھا : فرمایا : مراد وہ مشرک ہیں جو نبی اللہ کے اجداد (1) میں سے تھے جو ان کے بعد ہوئے اور جو ان کے زمانہ میں ہوئے جن کی پشتوں میں مومن تھے اگر مومن کفار کی پشتوں سے جدا ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ کفار کو عذاب الیم دیتا۔
مسئلہ نمبر 3: اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ مومن حرمت کی وجہ سے کافر کے ساتھ رعایت کی جائے گی کیونکہ کافر کو اذیت مومن کو اذیت دینے کے ساتھ ہی ممکن ہے ابو زید نے کہا : میں نے ابن قاسم سے کہا بتائیے کہ مشرکوں کی ایک جماعت اپنے قلعوں میں سے ایک قلعہ میں ہو مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا ہو مشرکوں کے پاس مسلمانوں کے کچھ قیدی ہوں کیا اس قلعہ کو جلا دیا جائے گا یا نہیں ؟ کہا : میں نے امام مالک سے سنا آپ سے ان مشرکوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جو اپنی کشتیوں میں سوار ہیں کیا ہم ان پر آگ برسا سکتے ہیں جبکہ ان کشتیوں میں قیدی بھی ہیں ؟ کہا : امام مالک نے فرمایا : میں اسے جائز نہیں سمجھتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اہل مکہ کے لئے فرمان ہے : اس طرح اگر کوئی کافر کسی مسلمان کو ڈھال بنا لے تو اس کو تیر مارنا جائز نہیں اگر کسی نے ایسا کیا تیر مارا اور کسی مسلمان کو نقصان پہنچایا تو اس پر دیت اور کفارہ ہوگا اگر علم نہ ہو تو نہ دیت ہوگی اور نہ کفارہ ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انہیں علم ہو تو انہیں تیر مارنا جائز نہیں اگر وہ اس کے باوجود ایسا کریں تو وہ خطا قتل کرنے والے ہوں گے اور دیت ان کی عاقلہ پر ہوگی اگر وہ نہ جانتے تو ان کو تیر مارنا جائز ہوجاتا جب فعل جائز ہوگیا تو یہ جائز نہیں کہ ان پر کسی قسم کا بوجھ ہو ابن عربی نے کہا : ایک جماعت کا کہنا ہے اس کا معنی ہے اگر وہ عورتوں کی رحمتوں اور مردوں کی پشتوں سے جدا ہوجاتے۔ (2) یہ قول ضعیف ہے کیونکہ جو پشت میں ہے یا پیٹ میں ہے اسے روندا نہیں جاتا اور اس کی وجہ سے کوئی قد غن نہیں لگائی جاسکتی جبکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اس کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا جو عورت کے بطن میں ہو اور مرد کی پشت میں ہو اس کا اطلاق حضرت ولید بن ولید، حضرت سلمہ بن ہشام، حضرت عیاش بن ربیعہ اور حضرت ابو جندل بن سہیل پر ہوتا ہے امام مالک نے اسی طرح کہا ہے ہم نے ایک رومی شہر کا محاصرہ کیا پانی ان سے روک لیا گیا وہ قیدیوں کو نیچے اتارتے جو ان کے لئے پانی لے جاتے تو انہیں تیر مارنے پر کوئی قدرت نہ رکھتا تو ہماری پسند کے بغیر پانی مل جاتا امام ابوحنیفہ ان کے اصحاب اور امام ثوری نے مشرکوں کے قلعوں پر پتھر پھینکنے کی اجازت دی اگرچہ ان میں مسلمان قیدی اور ان کے بچے ہوں اگر کوئی مشرک مسلمان کے بچے کو ڈھال بناتا ہے تو مشرک پر تیر برسایا جائے گا اگر کسی مسلمان کو وہ لگ جاتا ہے تو اس میں دیت اور کفارہ نہیں ہوگا ثوری نے کہا : اس میں کفارہ ہوگا دیت نہ ہوگی۔ امام شافعی ہمارے قول کی موافقت کرتے ہیں کیونکہ ممنوع کی ہوتے ہوئے مباح چیز کا حصول جائز نہیں خصوصاً جب مسلمان کی زندگی کا سوال ہو اس لئے قول وہی درست ہے جو امام مالک کا ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
میں کہتا ہوں : ڈھال بنائے گئے فرد کو قتل کرنا جائز ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ان شاء اللہ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب مصلحت ضروریہ کلیہ قطعیہ ہو اس کے ضروری ہونے کا معنی یہ ہے کہ کفار تک تمام امت کا اس میں فائدہ ہو یہاں تک کہ اس ڈھال بنائے گئے فرد کو نہ قتل کیا جائے کلیہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ تمام امت کا اس میں فائدہ ہو یہاں تک کہ ڈھال کو قتل کرنے میں تمام امت کا اس میں فائدہ ہو یہاں تک کہ اس ڈھال بنائے گئے فرد کو قتل نہ کیا جائے، کلیہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ تمام امت کا اس میں فائدہ ہو یہاں تک کہ ڈھال کو قتل کرنے میں تمام مسلمانوں کی مصلحت ہو اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو کفار اس ڈھال کو قتل کردیں گے اور تمام امت پر غالب آجائیں گے قطعیہ کا معنی یہ ہے کہ اس ڈھال کو قتل کرنے سے وہ مصلحت قطعی طور پر حاصل ہوجائے گی ہمارے علماء کا کہنا ہے : ان قیود کے ساتھ اس مصلحت کو بنیاد بنانے میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فرض کیجئے کہ ڈھال بنایا گیا فرد قطعی طور پر قتل ہوجاتا ہے تو وہ دشمنوں کے ہاتھوں مار جائے گا تو عظیم فساد ظاہر ہوجائے گا وہ دشمنوں کا مسلمانوں پر غلبہ ہے یا وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارا جائے گا تو دشمن ہوگا اور تمام مسلمان نجات پا جائیں گے۔
کسی دانشمند کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کہے : اس صورت میں کسی وجہ سے بھی ڈھال کو قتل نہ کیا جائے گا کیونکہ اس طریقہ کی ڈھال سے اسلام اور مسلمان سب برباد ہوجائیں گے لیکن جب یہ مصلحت فساد سے خالی نہیں تو وہ آدمی جو اس میں وقت نظر سے کام نہیں لیتا اس کا نفس اس سے نفرت کرتا ہے کیونکہ وہ فساد حاصل ہونے والے نفع کے مقابلہ میں معدوم ہے یا معدوم کی طرح ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 4:۔ عام قرأت مگر ابو حیوہ نے اسے پڑھا ہے معنی میں یہ تزیلوا کی طرح ہے نزایل کا معنی جدا ہوتا ہے کا وزن ہے یہ ذلت سے مشتق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ تفعیلوا کا وزن ہغ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے لام یہاں سے یہ دو کلاموں کا جواب ہے (1) (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے لولا کا جواب مخدوف ہے جبکہ وہ پہلے گزر چکا ہے اور اسے نئی کلام شروع ہو رہی ہے۔
Ayah 48:26ھدا یہ فعل مضمر ہے تقدیر کلام اذکروا ہے المحمیت یہ فعلیۃ کا وزن ہے جس کا معنی ضد ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے جب تو اس سے خودداری کا اظہار کرے اور تجھے شرمندگی لاحق ہو کہ تو اس امر کو کرے اسی معنی میں متلمس کا قول ہے
خبردار میں ان میں سے ہوں اور میری عزت ان کی عزت ہے جس طرح خودار آدمی ہوتا ہے وہ اس امر سے حمیت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی ناک توڑ دی جائے۔
زہری نے کہا : ان کی حمیت نبی کریم ﷺ کی رسالت کے اقرار سے ضد کا اظہار کرنا (1) اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ کلام شروع کرنے سے ضد کا اظہار تھا اور صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکنا تھا جو آدمی بسم اللہ الرحمن الرحیم اور محمد ﷺ لکھنے سے رک گیا تھا وہ سہیل بن عمرو تھا جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔
ابن بحر نے کہا : ان کی حمیت سے مراد ان کا اپنے معبودوں کے بارے میں عصیبیت کا اظہار ہے (2) وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن بتوں کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے بارے میں ضد تھی کہ وہ کسی اور کی عبادت کریں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ انہوں نے کہا : انہوں نے ہمارے بیٹوں اور ہمارے بھائیوں کو قتل کیا پھر وہ ہمارے گھروں میں داخل ہوتے ہیں لات و عزی کی قسم : وہ اس شہر میں کبھی داخل نہیں ہو سکتے۔
سکینہ سے مراد طمانیت اور وقار ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں تسلیم وضا کے اوپر پختہ کرنا ہے کفار کے دلوں میں جو ضد داخل کی وہ ان کے دلوں میں داخل نہیں کیے
ایک قول یہ کیا گیا ہے سے مراد لا الہ الا اللہ ہے ایک مرفوع حدیث ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے (3) یہی حضرت علی، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس ؓ ، عمرو بن میمون، مجاہد، قتادہ، عکرمہ، ضحاک، سلمہ بن کہیل، عبید بن عمیر، طلحہ بن مصرف، ربیع، سدی اور ابن زید کا قول ہے یہی قول عطا خراسانی کا ہے انہوں نے محمد ﷺ کا اضافہ کیا ہے۔
حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن عمر ؓ سے یہ بھی مروی ہے مراد لا الہ الا اللہ اللہ اکبر عطا بن ابی رباح اور مجاہد نے یہ بھی کہا اس سے مراد (4) ہے زہری نے کہا : مراد بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے یعنی مشرکوں نے اس کلمہ کا اقرار نہ کیا اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس کے لئے خاص کیا۔ التقوی سے مراد وہ کلمہ ہے جس کے ساتھ شرک سے بچا جاتا ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے التقوی سے مراد اخلاص ہے (5)
وہ کفار مکہ کی بنسبت اس کے زیادہ حقدار تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور اپنے نبی کی صحبت کے لئے انہیں پسند کرلیا۔
Ayah 48:27قتادہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ وہ مکہ مکرمہ میں اس حالت میں داخل ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں قریش سے صلح کرلی تو منافقوں کو شک ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ مکہ مکرمہ میں ضرور داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ فرمایا کہ وہ اس سال کے علاوہ کسی اور سال میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا خواب سچا ہے۔ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ابوبکر صدیق نے ہی یہ بات کی تھی کہ خواب کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ہوتا آپ ضرور اس میں داخل ہوں گے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ خواب حدیبیہ کے متعلق ہی تھا اور انبیاء کے خواب حق ہوتے ہیں اور خواب انبیاء کو وحی کرنے کی صورتوں میں سے ایک صورت ہوا کرتی ہے۔
یعنی آنے والے سال تم اس میں داخل ہوں گے ابن کیسان نے کہا : نبی کریم ﷺ کو خواب میں جو کچھ کہا گیا یہ اس کی حکایت ہے نیند میں آپ کو خطاب کیا گیا جس طرح معمول تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خبر دی کہ اس نے یہ بات کی ہے اسی وجہ سے استثنا کی اللہ تعالیٰ نے جس طرح تعلیم دی اسی پر عمل کیا جب ارشاد فرمایا : (الکہف)
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ایسے امر میں استثنا کی جو معلوم ہے کہ مخلوق اس چیز میں استثنا کرے جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔ یہ حسین بن فضل کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے استثنا امنین سے ہے یہ کلام بندوں کے خطاب کی طرف لوٹے گی جس طرح معمول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے انشاء اللہ کا معنی ہے اگر اللہ تعالیٰ تمہیں داخل ہونے کا حکم دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اگر اللہ تعالیٰ تجھے سہولت دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ انشاء اللہ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ چاہے۔ ابو عبید نے کہا : ان یہ اذ کے معنی میں ہے (2) یعنی جب اللہ تعالیٰ چاہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (البقرۃ) یہ بھی اذکنتھم کے معنی میں ہے یہ تعبیر حقیقت سے بعید ہے کیونکہ اذرمانہ ماضی اور اذر زمانہ مستقبل میں فعل کو خاص کرنے کے لئے آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے مسجد حرام میں داخل ہونے کا وعدہ کیا اور مشیت کی شرط کے ساتھ اسے متعلق کردیا یہ حدبیہ کے سال ہوا آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو خبر دی تو صحابہ اس سے بہت خوش ہوئے پھر یہ اس سال سے موخر ہوگیا جس میں انہوں نے طمع کی تو اس نے انہیں دکھ دیا یہ معاملہ ان پر شدید ہوا جو رسول اللہ ﷺ نے قریش سے صلح کی اور واپس لوٹ گئے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آنے والے سال میں اجازت دی تو یہ آیت نازل فرمائی۔ خواب میں آپ کو کہا گیا تھا : آپ کو خواب میں جو کچھ کہا گیا تھا قرآن حکیم میں اس کی حکایت بیان کی گئی ہے یہاں کوئی شک وغیرہ کا معاملہ نہیں جس طرح بعض لوگوں نے گمان کیا ہے کہ استثناء شک پر دلالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی شک نہیں۔ یہ تو تحقیق ہے تو شک کیسے ہوگا، ان اذا کے معنی میں ہے یعنی دشمنوں سے امن میں ہوں گے۔
حلق اور قصر سب مردوں کے لئے ہے اسی وجہ سے مردوں کو عورتوں پر غلبہ دیا حلق کرنا افضل ہے عورتوں کے لئے صرف بال چھوٹے کرانے کا حکم ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کے بال مردہ پر چوڑے پھل والے تیر سے کاٹے تھے۔ یہ عمرہ میں ہوا تھا حج میں نہیں ہوا تھا کیونکہ حضور ﷺ نے اپنے حج میں حلق کروایا تھا (1)
یعنی مکہ مکرمہ میں داخل ہونے میں تاخیر میں جو بھلائی اور بہتری ہے تم اسے نہیں جانتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جونہی آپ حدیبیہ سے واپس آئے تو خیبر کی طرف چل دیئے اور اسے فتح کردیا آپ خیبر کے اموال کے ساتھ واپس لوٹے اس سال میں جو قوت اور سامان پہلے تھا اس سے کئی گنا حاصل کیا اور اس سے کئی گنا سامان اور قوت کے ساتھ مکہ کی فتح کے لئے گئے کلبی نے کہا : یعنی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے (2) کہ ان کا مکہ مکرمہ میں داخلہ ایک سال تک ہوگا تم اسے نہیں جانتے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ جانتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں مومن مرد اور مومن عورتیں ہیں جنہیں تم نہیں جانتے۔
یعنی نبی کریم ﷺ کی خواب کے علاوہ کی فتح مقرر کردی، یہ ابن زید اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : م راد فتح مکہ ہے، مجاہد نے کہا : مراد صلح حدیبیہ ہے، یہ اکثر مفسرین کا نقطہ نظر ہے زہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے دور اسلام میں جو فتوحات نصیب فرمائیں صلح حدیبیہ سے بڑھ کر ان میں سے کوئی فتح نہیں تھی کیونکہ جب لوگ ملتے ہیں تو باہم جنگ ہوتی ہے (3) جب صلح ہوئی تو جنگ ختم ہوگئی لوگ ایک دوسرے سے امن میں ہوگئے وہ آپس میں ملے گفتگو کی کوئی آدمی اسلام کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا جبکہ وہ کچھ سمجھ بوجھ رکھتا ہو تو وہ اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ان دو سالوں میں اسلام میں اتنے افراد داخل ہوئے جتنے اس سے پہلے شامل ہوئے تھے یا اس سے زیادہ داخل ہوئے تھے۔ اس امر پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے حدیبیہ جو چھ ہجری کا سال ہے صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی حدیبیہ کے سال کے بعد آٹھ ہجری کو تعداد دس ہزار تھی۔
Ayah 48:28سے مراد حضرت محمد ﷺ یعنی تمام ادیان پر غالب کردے۔ دین کے معنی میں مصدر ہے اس میں واحد اور جمع دونوں برابر ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اپنے رسول کو تمام دین پر غالب کر دے یعنی جو دین مشروع کیا ہے دلیل کے ساتھ اس پر غالب کردے یعنی ہاتھ اور تلوار باقی ماندہ کو منسوخ کردیا۔
شھیدا تفسیر کے طور پر منصوب ہے باء زائدہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لئے شہید کافی ہے اللہ تعالیٰ کی اپنے نبی کے حق میں شہادت نبی کریم ﷺ کی نبوت کی صحت کو معجزات کے ساتھ واضح کرتی ہغ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے جس چیز کے ساتھ آ پکو بھیجا اس پر گواہ ہے کیونکہ کفار نے اس امر کا انکار کیا کہ وہ یہ لکھیں یہ وہ چیز ہے جس پر محمد ﷺ نے صلح کی۔
Ayah 48:29اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: مبتدا اور رسول اس کی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لفظ محمد مبتدا ہے اور رسول اللہ اس کی صفت ہے کا عطف مبتدا پر ہے اور اس کی خبر بعد میں ہے اس تعبیر کی صورت میں رسول اللہ پر وقف نہیں ہوگا پہلی تعبیر کی صورت میں رسول اللہ پر وقف ہوگا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی صفات آپ کے صحابہ ہوگی اور رحما دوسری خبر ہوگی نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ میں ان صفات کا ہونا زیادہ مناسب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اہل حدیبیہ کفار پر شدید ترین تھے یعنی بہت زیادہ سخت تھے جس طرح شیر اپنے شکار پر سختی کرنے والا ہوتا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد تمام مومن ہیں۔
وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ باہم شفقت کرتے ہیں اور باہم محبت کرتے ہیں حضرت حسن بصری نے کو حال ہونے کی حیثیت سے منصوب پڑھا ہے گویا کہا : یعنی حضور کے صحابہ کفار پر حالت شدت میں اور آپس میں رحم کرنے کی حالت میں ہیں۔
ان کے بارے میں یہ خبر دینا ہے کہ وہ بہت زیادہ نماز پڑھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے جنت اور رضا کے طلب گار ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: سیما سے مراد علامت ہے اس میں دو لغتیں ہیں یعنی مد اور قصر، یعنی ان پر رات کے وقت بیدا ہونے اور جاگنے کی علامات روشن ہیں سنن ابن ماجہ میں ہے اسماعیل بن طلخی، ثابت بن موسیٰ ابو یزید سے وہ شریک سے وہ اعمش سے وہ ابو سفیان سے وہ حضرت جابر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (1) جس کی رات کے وقت نماز زیادہ ہوجاتی ہے دن کے وقت اس کا چہرہ حسین ہوجاتا ہے۔
ابن عربی نے کہا : کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی غلط طریقہ سے حدیث کے معنی چھپانے کی کوشش کی اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز مروی نہیں (2) اب وہب نے امام مالک سے یہ قول نقل کیا ہے کہ اس نشانی سے مراد وہ نشانی ہے جو زمین پر سجدہ کرنے کی وجہ سے پیشانی پر پڑجاتی ہے سعید بن جبیر نے بھی یہی کہا ہے۔
حدیث صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اکیس رمضان کی صبح کو نماز پڑھی جبکہ مسجد کا چھت بارش کی وجہ سے ٹپکا تھا اور وہ چھپر نما تھی نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے جبکہ آپ کی پیشانی اور ناک کے بانسے پر پانی اور مٹی کا نشان تھا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد وہ سفیدی ہے جو قیامت کے روز چہرے پر ہوگی۔ (3) یہ قول سعید بن جبیر نے بھی کیا ہے اسے عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے، یہ زہری کا قول ہے صحیح میں ہے حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے ” جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہوجائے گا اور اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے گا کہ اسے جہنم سے نکالے تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا جو آدمی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا اسے جہنم سے نکالو اللہ تعالیٰ جس پر رحم کرنے کا ارادہ کرے گا (1) وہ وہ ہوں گے جو یہ کہتے تھے۔ لا الہ الا اللہ۔ فرشتے انہیں سجدہ کے نشان سے پہچان لیں گے، آگ انسان کو کھا جائے گی مگر سجدہ کا اثر باقی رہے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کردے گا کہ وہ آگ کا نشان کھا جائے۔ “
شہر بن حوشب نے کہا : ان کے چہروں میں سے سجدوں کی جگہیں یوں ہوگی جس طرح چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : یہ سیما دنیا میں ہوگی وہ اچھی تعریف ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے، مراد خشوع اور تواضع ہے منصور نے کہا : میں نے مجاہد سے اسکے بارے میں پوچھا کیا اس سے مراد وہ نشان ہے جو آنکھوں کے درمیان ہوتا ہے ؟ فرمایا : نہیں بعض اوقات انسان کی آنکھوں کے درمیان بکری کے گھٹنے کی طرح چیز ہوجاتی ہے جبکہ اس کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے بلکہ اس سے مراد خشوع کی وجہ سے ان کے چہروں پر نور ہے۔ ابن جریج نے کہا : مراد وقار اور رونق ہے۔ ثمر بن عطیہ نے کہا : مراد رات کی عبادت کی وجہ سے چہرے کی زردی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جب تو انہیں دیکھے گا جبکہ وہ مریض نہیں۔ ضحاک نے کہا : یہ ان کے چہروں میں زخم کا اثر نہیں بلکہ مراد زردی ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : وہ رات کو نماز پڑھتے ہیں جب صبح کرتے ہیں تو اس کا اثر ان کے چہروں سے عیاں ہوتا ہے اس کی وضاحت رسول اللہ ﷺ کا وہ ارشاد ہے ” جو رات کو زیادہ نماز پڑھتا ہے دن کے وقت اس کا چہرہ حسین ہوجاتا ہے۔ “ (2) اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 3: فراء نے کہا : اس کی دو وجوہ ہیں اگر تو چاہے تو کہے : معنی ہے جس طرح ان کے اوصاف قرآن میں ہیں اسی طرح ان کے اوصاف تورات و انجیل میں ہیں تو وقف انجیل پر ہوگا اگر تو چاہے تو کہے : کلام کا اختتام تورات پر ہے پھر تو نئے سرے سے کلام کو شروع کرے اور کہے اس صورت میں وقف تورات پر ہوگا مجاہد نے کہا : ( 3) یعنی یہ تورات اور انجیل میں ان کی صفت ہے اس صورت میں تورات پر وقف نہیں ہوگا وقف انجیل پر ہوگا اور پھر نئے سرے سے شروع کرے گا۔ معنی ہوگا کذرع، سے مراد اولاد ہے یہ ابن زید اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ مقاتل نے کہا : اس سے مرد ایک پروا ہے جب اس کے بعد کوئی چیز نکلے تو یہ اس کے لئے کہیں گے، اخفش نے اخرج شطہ کے بارے میں کہا : یعنی وہ اپنی طرف نکلتا ہے ثعلبی نے اسے کسائی سے روایت نقل کیا ہے فراء نے کہا مشطی۔ جب وہ نکلے۔
شاعر نے کہا :
اس نے روئے زمین پر کونپل نکالی اور درختوں سے مختلف قسم کے پھل حاصل ہوتے ہیں۔
زجاج نے کہا : یعنی اس نے نباتات کو نکالا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سے مراد بالی کا کانٹا ہے عرب اسے سفا بھی کہتے ہیں یہ بمہمی ہے (ایک جڑی بوٹی سبز ہو تو اس سے بھیڑ بکریوں کو شدید درد ہوجاتا ہے) یہ قطرب کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد بالی ہے ایک دانہ سے دس نو اور آٹھ بالیاں نکلتی ہیں یہ فراء کا قول ہے۔ ماوردی نے اسے بیان کیا ہے ابن کثیر اور ابن ذکوان نے شطاعاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے ساکن پڑھا ہے۔ حضرت انس نصر بن عاصم اور ابن وثاب نے شطاء پڑھا ہے جس طرح عصاہ ہوتا ہے حجدری اور ابن ابی اسحاق نے ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے۔ یہ سب لغتیں ہیں۔
یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی بیان فرمائی ہے یعنی وہ تھوڑے ہوں گے پھر زیادہ ہوں گے او پھر کثیر ہوجائیں گے۔ جب نبی کریم ﷺ نے دین کی دعوت کا آغاز کیا تو آپ کمزور تھے ایک کے بعد ایک نے دعوت کو قبول کیا یہاں تک کہ آپ کا معاملہ قومی ہوگیا جس طرح ایک دانہ ہوتا ہے پہلے وہ کمزور ظاہر ہوتا ہے پھر ایک حال کے بعد دوسرے حال میں قوی ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس کا پودا اور شاخیں مضبوط ہوجاتی ہیں یہ صحیح ترین اور قوی ترین مثال ہے۔ قتادہ نے کہا : حضور ﷺ کے صابہ کی مثال انجیل میں لکھی ہوئی ہے کہ آپ ایک ایسی قوم سے ظاہر ہوں گے جو کھیتی باڑی کریں گے نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ (1)
اسے قوی کیا ایا اس کی مدد کی اور اسے مضبوط کیا یعنی اس کونپل نے کھیتی کو مضبوط کیا۔ ایک قول اس کے برعکس ہے۔ یعنی کھیتی نے کونپل کو مضوب کیا۔ عام قرأت فازرہ ہے یعنی مد کے ساتھ ہے ابن ذکوان، ابو حیوہ اور حمید بن قیس نے فازرہ قصر کی صورت میں پڑھا ہے جس طرح فعلہ ہے معروف مد ہی ہے، امراء القیس نے کہا :
محل استدلال قدآزر ہے۔
سوق سے مراد عدد (لکڑی) ہے جس پر وہ کھڑا ہوتا ہے پس وہی اس کے لئے پنڈلی ہے۔ سوق یہ سیاق کی جمع ہے یہ کھیتی کاشتکاروں کو خوش کرتی ہے یہ ضرب المثل ہے جس طرح ہم نے بیان کیا ہے کھیتی سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے او شطا سے مراد صحابہ کرام ہیں وہ تھوڑے تھے پھر زیادہ ہوگئے، کمزور تھے قوی ہوگئے یہ ضحاک اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ لام حروف جار محذوف کے متعلق ہے تقدیر کلام یہ ہو سکتی ہے۔
مسئلہ نمبر 4:۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ وہ مومن ہیں جن کے اعمال صالح ہیں یعنی ایسا ثواب جو ختم نہ ہوگا وہ جنت ہے نہیں یعنی بعض صحابہ کو بعض سے خاص کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہ عام ہے یعنی بیانیہ ہے جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے (الحج 30) اس میں تبعیض کا قصد نہیں کیا گیا بلکہ یہ جنس کو بیان کرنے کے لئے ہے یعنی اس ناپاکی سے بچو جو اوثان کی جنس سے ہے کیونکہ ناپاکی کی کئی اجناس سے واقع ہو سکتی ہے اس میں زنا، سود شراب نوشی اور جھوٹ ہے من داخل کیا یا جو جنس کا فائدہ دیتا ہے اسی طرح منھم ہے یعنی اس جنس سے یعنی صحابہ کی جنس سے جس طرح یہ کہا جاتا ہے : یعنی اپنا خرچہ اس جنس سے بنا دے۔ حضور ﷺ کے صحابہ کو مغفرت کے وعدہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے مقصد ان کی فضلیت کو ظاہر کرنا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کے ساتھ مغفرت کا وعدہ کیا ہے۔ آیت میں ایک اور جواب بھی ہے وہ یہ ہے کہ من کلام کی تاکید کے لئے ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ نے تمام کے ساتھ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے یہ بھی عربی کے قول کے قائم مقام ہے مراد ہے تمام کپڑے کو قمیص بنا دیا۔ یہاں بعضیت کو ثابت کرنے کے لئے ہے قرآن میں سے اس کا شاہد (الاسر 82) ہے۔
اس کا معنی ہم قرآن کو شفا دینے کے لئے نازل کرتے ہیں اس کا ہر حرف شفا دیتا ہے شفاء اس میں سے بعض کے ساتھ خاص نہیں لغویوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو من کو جنسیہ کہتے ہیں تقدیر کلام یہ ہوگی … زہیر نے کہا۔
کیا تو ام اوفی دمنہ سے بات نہیں کرے گا۔ یہاں بھی من جنسیہ ہے ایک اور شاعر نے کہا :
اس شعر میں بھی من کسی چیز کی تقسیم کو بیان نہیں کرتا کیونکہ مقصودیابی الاظلامۃ ہے کیونکہ وہ نوفل زفر ہے۔ نوفل سے مراد کثیر عطیہ ہے زفر سے مراد لوگوں کی جانب سے بوجھ اور مشقت اٹھانے والا ہے۔
مسئلہ نمبر 5: ابو عروہ زبیری حضرت زبیر کے بیٹے سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم امام مالک بن انس کے پاس بیٹھے تھے لوگوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی شان میں تنقیص کیا کرتا تھا امام مالک نے اس آیت کو پڑھا۔ امام مالک نے کہا : لوگوں میں سے جس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی ایک کے بارے میں بغض ہو تو وہ اس آیت کا مصداق ہوگا (1) خطیب ابو کبر نے اس کا ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : امام مالک نے بہت اچھی بات کی اور درست تاویل بیان کی ہے جس آدمی نے ان صحابہ میں سے کسی ایک کی شان میں تنقیص کی یا اپنی روایت میں کسی ایک پر بھی طعن کیا تو اس نے اللہ رب العالمین کا رد کیا اور مسلمانوں کے شرعی احکام کو باطل کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اس کے علاوہ دوسری آیات ہیں جوان کی تعریف کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہیں اور ان کے صدق او فلاح کی شہادت کو ضمن میں لئے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الحزاب 23) ارشاد باری تعالیٰ ہے : (الحشر) ارشاد باری تعالیٰ ہے (الحشر) ۔ یہ سب کچھ اس لئے ارشاد فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے حال اور مال کو جانتا تھا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (1) لوگوں میں سے اچھے میرے زمانہ کے لوگ ہیں پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ (2) تم میرے صحابہ کو گالیاں نہ دینا اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا چرخ کرے تو وہ صحابہ کے صدقہ کے ایک مد (ایک پیمانہ) اور اس کے نصف مد تک نہیں پہنچتا۔ دونوں حدیثوں کو امام بخاری نے نقل کیا ہے۔ ایک او حدیث میں ہے اگر تم میں سے کوئی زمین میں جو کچھ ہے اس کے برابر خرچ کرے تو وہ ان کے صدقہ کے ایک مد اور نصف مد تک بھی نہیں پہنچتا۔
ابو عبید نے کہا : اس کا معنی ان کے ایک مد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی ان کے نصف مد تک پہنچتا ہے۔ نصیف سے یہاں نصف مراد ہے اسی طرح عشر کو عشیر، ، ، خمس کو خمیس، تسع کو تسیع، ثمن کو ثمین اور سدس کو سدیس ربع کو ربیع کہتے ہیں عرب ثلث کو ثلیث نہیں کہتے۔
مسند بزار میں حضرت جابر سے ایک صحیح مرفوع حدیث مروی ہے : 3 ۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور مرسلین کے علاوہ میرے صحابہ کو چن لیا ہے اور میرے صحابہ میں سے میرے لئے چار کو چنا ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی شیر خدا ؓ فرمایا : میرے تمام صحابہ میں بھلائی ہے۔
عویم بن ساعدہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے چنا، میرے لئے میرے صحابہ کو منتخب کیا ان میں سے میرے لئے وزراء اور داماد اور سسرال بنائے جو ان کو گالیوں دے تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نہ ان سے توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی فدیہ قبول کرے گا۔ “ (1)
اس معنی میں احادیث بہت زیادہ ہیں، ان صحابہ میں سے کسی کے بارے میں نازیبا بات کرنے سے بچو جس طرح ان لوگوں نے کیا جنہوں نے دین میں طعن کیا انہوں نییہ بھی کہا کہ معوذ تین، سورة فلق اور سورة الناس “ قرآن میں سے نہیں ان دونوں سورتوں کے قرآن حکیم میں ہونے کے بارے میں جتنی بھی روایات ہیں ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں مگر عقبہ بن عامر کی ایک روایت ہے اور عقبہ بن عامر ضعیف (2) ہے کسی اور نے اس مسئلہ میں میں ان کی موافقت نہیں کی پس اس کی روایت چھوڑ دی جائے گی کتاب و سنت میں سے جس کا ہم نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے یہ اس قول کا رد ہے اور دین کی جو باتیں صحابہ نے نقل کی ہیں۔ اس کا ابطال ہے کیونکہ حضرت عقبہ بن عامر ان لوگوں میں سے ہیں جن سے ہمارے لئے شرعی احکام نقل کیے گئے ہیں ان سے مروی روایات بخاری، مسلم اور دوسری احادیث میں ہیں یہ بھی ان میں سے ہوئی جن کی اللہ تعالیٰ نے مدح بیان کی ان کی صفت کا ذکر ان کی تعریف کی ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کا ذکر کیا جو آدمی آپ کی یا صحابہ میں سے کسی ایک کی جھوٹ کی طرف نسبت کرے تو وہ شریعت سے خارج ہے قرآن کا ابطال کرنے والا ہے اور رسول اللہ ﷺ پر طعن کرنے والا ہے ان میں سے کسی ایک کی یہ نسبت کرنا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے تو اس کو گالی دی گئی تو اللہ تعالیٰ کے انکار کے بعد جھوٹ سے بڑھ کر کوئی عار نہیں اور عیب نہیں جس نے صحابہ کو گالیاں دیں اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر لعنت کی ان میں سے بہت سے جھوٹے مرتبہ والے کو جھٹلانا (جبکہ ان میں سے کوئی بھی جھوٹا نہیں) اللہ تعالیٰ کی لغت میں داخل ہے جس کی شہادت رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اور ہر اس فرد پر اس کو لازم کیا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کو گالی دی یا اس پر طعن کیا۔
عمر بن حبیب سے مروی ہے کہ میں ہارون رشید کی مجلس میں تھا کہ ایک بحث چھڑ گئی جس میں حاضرین نے جھگڑا کیا اور ان کی آوازیں بلند ہوگئیں ان میں سے ایک نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے حضرت ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے تھے ان میں سے بعض نے ایک حدیث کو مرفوع ذکر کیا باہم نزاع اور جھگڑا بڑھ گیا یہاں تک کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا : اس حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ حضرت ابوہریرہ ﷺ سے ج مروی روایات ہیں ان میں ان پر تہمت لگائی جاتی ہے اور انہوں نے آپ کے جھوٹ کی تصریح کی۔ میں نے ہارون رشید کو دیکھا کہ اس نے ان کی طرف داری کی اور ان کے قول کی مدد کی۔ میں نے کہا : حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت نقل کرنے میں صحیح ہیں اور جو وہ نبی کریم ﷺ اور دوسرے لوگوں سے روایت کرتے ہیں اس میں صحیح ہیں۔ رشید نے مجھے غضبناک نظروں سے دیکھا میں مجلس سے اٹھا اور اپنے گھر چلا آیا کچھ وقت نہ گزرا تھا کہ ڈا کیا دروازے پر آیا وہ داخل ہوا اور مجھے کہا : مقتول کی حیثیت سے امیر المومنین کے حکم کی تعمیل کرو خوشبو اور کفن کا انتظام کرلیجئے۔ میں نے کہا : اے میرے اللہ : تو جانتا ہے میں نے تیرے نبی کے صحابی کا دفاع کیا ہے اور اس بارے میں تیرے نبی کی تعظیم کی ہے کہ آپ کے صحابہ پر طعن کیا جائے، مجھے اس کے شر سے محفوظ رکھ۔ میں ہارون رشید کے پاس گیا وہ سونے کی بنی ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اس نے اپنی آستینیں چڑھائی ہوئی تھیں اس کے ہاتھ میں تلوار تھی اور اس کے سامنے چمڑے کی چٹائی پڑی ہوئی تھی جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے مجھے کہا : اے عمر بن حبیب : میری بات کا ایسا جواب مجھے کسی نے نہیں دیا جیسا جواب تو نے مجھے دیا ہے۔ میں نے کہا : اے امیر المومنین : جو کچھ آپ نے کہا اور جو جھگڑا کیا اس میں رسول اللہ ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے اور جو پیغام حق آپ لائے ہیں اس کی توہین کا پہلو نکلتا ہے جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ جھوٹے ہیں تو شریعت باطل ہے روزوں، نماز، طلاق، نکاح اور حدود میں تمام احکام مردود وغیر مقبول ہوں گے اس نے اپنی طرف توجہ کی پھر کہا : اے عمر بن حبیب : تو نے مجھے نئی زندگی دی اللہ تعالیٰ تجھے زندگی عطا کرے اور مجھے دس ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔
میں کہتا ہوں : صحابہ سب کے سب عادل ہیں اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اصفیاء ہیں انبیاء کرام اور رسل کے بعد وہ اس کی بہترین مخلوق ہیں، یہ اہل سنت کا مذہب ہے اس امت کے آئمہ کی جماعت کا بھی یہی نقطہ نظر ہے ایک چھوٹے سے گروہ کی رائے یہ ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں کہ صحابہ کا حال دوسروں کے حال کی طرح ہے اس وجہ سے ان کی عدالت کے بارے میں بحث ضروری ہے ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ان کے احوال کے درمیان بداۃ امر کے حوالے سے فرق کرتے ہیں : کہا : پہلے پہل وہ عادل تھے پھر ان کے احوال بدل گئے ان میں جنگیں اور خون خرابہ ہوا اس لئے بحث ضروری ہے۔ ان کا یہ قول مردود ہے کیونکہ صحابہ کرام میں سے بہترین اور جلیل القدر ہستیاں جیسے حضرت علی شیر خدا، حضرت طلحہ، حضرت زبیرؓ، جو ان ہستیوں میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ان کا تذکرہ کیا اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا انہیں راضی کیا اور اس ارشاد کے ساتھ ان کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا : خصوصاً دس عشرہ مبشرہ جن کی جنت کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دس وہ سردار ہیں جبکہ ان کے بارے میں کثیر آزمائشیں اور امتحانات آتے رہے یہ سب کچھ نبی کریم ﷺ کے بعد بعد جس کی خبر نبی کریم ﷺ انہیں دے گئے تھے ایسے امور ان کے مرتبہ اور فضلیت کو ساقط کرنے والے نہیں کیونکہ یہ امور اجتہاد پر مبنی ہیں : ہر مجتہد ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ سورة حجرات میں اس موضوع پر گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ