47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 47:22–24

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

(اے منافقو ! ) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لایۃ سے مشتق ہے ابو العالیہ نے کہا : معنی ہے تم سے یہی توقع ہے اگر تم حکومت کے والی بن جائو تو ایسے حکام بن جائے گے کہ رشوت لینے کے ساتھ زمین پر فساد برپا کرو گے (1) کلبی نے کہا : تم سے یہی توقع ہے اگر تم امت کے امور کے ذمہ دار بن جائو تو تم زمین میں ظلم کے ذریعے فساد برپا کرو گے۔ ابن جریج نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم طاعت سے رخ پھیرو گے تو تم زمین میں نافرمانیوں اور قطع رحمی کے ساتھ فساد برپا کرو گے (2) کعب نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم امر کے والی بن جائو گے تو تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کسی شے سے اعراض کرو، قتادہ نے کہا : تم سے یہی توقع ہے اگر تم کتاب اللہ سے اعراض کرو تو تم زمین میں حرام خون بہا کر فساد برپا کرو اور رشتہ داری کو ختم کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کا معنی ہے ممکن ہے اگر تم قرآن سے اعراض کرو اور اس کے احکام سے دور رہو تو تم زمین میں فساد برپا کرو اور اپنی جاہلیت کی طرف لوٹ جائو۔ اسے سین کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ سورة بقرہ میں گفتگو گزر چکی ہے۔ بکرمزنی نے کہا : یہ آیت حروریہ اور اخوراج کے بارے میں نازل ہوئی (3) یہ قول حقیقت سے بعید ہے۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں۔ ابن حبان نے کہا : مراد قریش ہیں۔ اسی کی مثل مسیب بن شریک اور فراء نے کہا : دونوں نے کہا : یہ آیت بن امیہ اور بنی ہاشم کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس تاویل کی دلیل وہ روایت ہے جسے حضرت عبداللہ بن مغفل نے روایت کیا ہے : کہا میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” اس سے مراد قریش کا یہ قبیلہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ لیا اگر یہ لوگ پر والی بنیں تو وہ زمین میں فساد برپا نہ کریں اور رشتہ داری کو ختم نہ کریں۔ “ حضرت علی بن ابی طالب نے یوں قرأت کی واو کے ضمہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ یہ ابن ابی اسحاق کی قرأت ہے اسے رویس نے یعقوب سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں : اگر تم پر ظالم حکمران بن گئے تو تم ان کے ساتھ فتنہ میں نکلو گے اور تم ان کے ساتھ جنگ کرو گے۔ تم بغاوت، ظلم اور قتل کے ذریعے اپنی رشتہ داری کو ختم کرو گے۔ یعقوب، سلام، عیسیٰ اور ابو حاتم نے تاء کے فتحہ اور قاف کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ قطع سے مشتق ہے وہ اس آیت پر استدلال کرتے ہیں (البقرۃ 27) ہارون نے ابو عمرو سے اس قرأت کو روایت کیا ہے۔ حضرت حسن بصری نے احروف کو مفتوح اور مشدد پڑھا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (الانبیا 93) پر قیاس کیا ہے باقی قراء نے تاء کے ضمہ اور طاء کے مشدد پڑھا ہے۔ یہ تقطیع سے مشتق ہے جو کثرت کے معنی کو بیان کرتی ہے۔ یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ سورة بقرہ میں عیستم کی بحث گزر چکی ہے زجاج نے نافع کی قرأت میں کہا : اگر یہ جائز ہے تو بھی جائز ہے جوہری نے کہا : یہ کہا جاتا ہے کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ سورة بقرہ میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ انہیں دھتکار دیا اور اپنی رحمت سے انہیں دور کردیا۔ انہیں سے حق سے بہرہ کردیا۔ ان کے دلوں کو خیر سے اندھا کردیا۔ ان خبروں کو اس کے پیھے ذکر کیا جس نے ایسا کیا اس پر اس کی لعنت ثابت ہوگئی اس کے کان اور آنکھ سے نفع حاصل کرنے کو سلب کرنا ثابت ہوجائے گا یہاں تکہ وہ کہ حق کی اطاعت نہیں کرے گا اگرچہ اس کو سنے تو اسے اس چوپائے کی مانند کردیا جو عقل نہیں رکھتا فرمایا : پھر فرمایا : تو عربوں کی عادت کے مطابق خطاب سے غیب کی طرف رجوع کیا۔ مسئلہ نمبر 2: یعنی کیا وہ نہیں سمجھتے کہ وہ جان جاتے جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے تیار کردیا ہے جو اسلام سے نہیں پھرے بلکہ دلوں پر قفل ہیں اللہ تعالیٰ نے جنہیں ان کے دلوں پر تیار کردیا ہے جو اسلام سے نہیں پھرے بلکہ دلوں پر قفل ہیں اللہ تعالیٰ نے جنہیں ان کے دلوں لگایا ہے پس وہ نہیں سمجھتے۔ یہ آیت قدریہ اور امامیہ کے مذہب کو رد کرتی ہے۔ حدیث مرفوع میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان پر ایسے تالے ہیں جس طرح لوہے کے تالے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھولے گا “ قفل اصل معنی خشکی اور سختی ہے۔ جب درخت خشک ہوجائے تو اسے قفل کہتے ہیں فقیل بھی اسی کی مثل ہے۔ قفیل کا معنی نباتات ہے۔ قفیل کا معنی آرزو ہے۔ روزے نے اسے خشک کردیا، یہ قشیری اور جوہری کا قول ہے : یہاں اقفال سے اشارہ دل کے بند ہونے اور ایمان سے خالی ہونے کی طرف ہے یعنی ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوگا اور ان سے کفر باہر نہیں نکلے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ یہاں فرمایا کیونکہ اگر علی قلوبھم ہوتا تو دوسروں کا دل اس میں داخل نہ ہوتا۔ مراد ان کے دلوں پر اور جو دل ان کی صفت پر ہوں گے سب پر تالے لگے ہیں۔ مسئلہ نمبر 3:۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا یہاں تک کہ جب وہ ان کی تخلیق سے فارغ ہوا تو رحم اٹھ کھڑی ہوئی اس نے عرض کی یہ قطع رحمی سے پناہ چاہنے والے کا مقام ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں کیا تو اس بات پر راضی نہیں جو تجھے جوڑے میں اسے جوڑوں اور جو تجھے قطع کرے میں اسے قطع کروں۔ رحم نے عرض کی، کیوں نہیں تو فرمایا : پس یہ تیرے لئے ہے ، “ پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” چاہو تو یہ پڑھو “ (1) آیت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ تمام کفار کو خطاب ہے قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : آیت کا معنی ہے امید ہے یا تمہارے بارے میں خوف ہے اگر تم ایمان سے اعراض کرو تو زمین میں خون بہانے کے ساتھ تم فساد کی طرف لوٹو۔ (2) قتادہ نے کہا : تم نے قوم کو کیسا دیکھا جب انہوں نے کتاب اللہ سے اعراض کیا کیا انہوں نے حرام خون کو نہیں بہایا، رحموں کو قطع نہیں کیا اور رحمن کی نافرمانی نہیں کی۔ “ اس تعبیر کی بناء پر رحم سے مراد دین اسلام اور ایمان کی رحم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں اخترد کا نام دیا ہے فراء کے قول کے مطابق آیت بنی ہاشم اور بنی امیہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان میں نفاق کو چھپایا اور قطع رحم سے اس امر کی طرف اشارہ کیا جو ان کے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان رشتہ داری تھی انہوں نے آپ کو جھٹلا کر اس کو توڑا۔ یہ قتال کو واجب کرتا ہے خلاصہ کلام یہ ہے رحم کی دو صورتیں ہیں۔ عام، و خاص، عام دین کا رحم ہے اس کو جوڑنا واجب ہے ایمان کو لازم پکڑنے کے ساتھ ایمان داروں سے محبت اور ان کی مدد کرنے کے ساتھ ان کے لئے اخلاص کا اظہار کرنا ان کو نقصان نہ دینا ان کے درمیان عدل کرنا ان کے معاملہ میں اصناف کرنا ان کے حقوق کو بجا لانا جس طرح مریضوں کی تیمارداری کرنا مردوں کے حقوق بجا لانا جیسے انہیں غسل دینا ان کی نماز جنازہ پڑھنا اور انہیں دفن کرنا اور اس کے علاوہ ان کے جو حقوق ہیں۔ جہاں تک رحم خاص کا تعلق ہے وہ ماں باپ کی جانب سے قرابت کے رحم ہے۔ ان کے لئے خاص حقوق اور زائد حقوق ثابت ہوتے ہیں جس طرح نفقہ دینا، احوال کی خبر لینا، ضرورت کے وقت ان کے معاملات میں غفلت کو چھوڑ دینا، ان کے حق میں رحم عامہ کے حقوق موکدہ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ جب حقوق متراحم ہوں تو زیادہ قریبی پھر اس کے بعد والے سے حقوق کی ادائیگی کو شروع کیا جائے گا۔ بعض علماء نے کہا : وہ رحم جس کی صلہ رحمی واجب ہے وہ یہ ذی رحم محرم کی رشتہ داری ہے چچا زاد بھائیوں میں اور خالہ زاد بھائیوں میں یہ واجب نہ ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے بلکہ یہ ہر اس رشتہ داری میں ہے جو ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں۔ وہ محرم ہو یا غیر محرم ہوں۔ اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماں کی رشتہ داری جس کی وجہ سے باہم وراثت جاری نہیں ہوتی ان کے ساتھ صلہ رحمی واجب نہ ہو اور ان کے ساتھ قطع رحمی حرام ہو۔ یہ صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ جسے رحم عام ہو ہر حال میں ان کے ساتھ صلہ رحمی واجب ہے وہ خونی رشتہ ہو یا دینی رشتہ، جس طرح ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ ابو دائو طیالسی نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ شعبہ، محمد بن عبدالجبار سے وہ محمد بن کعب قرظی سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” قیامت کے روز رحم کی زبان ہوگی۔ وہ عرض کرے گی : اے میرے رب : مجھے قطع کیا گیا : اے میرے رب : مجھ پر ظلم کیا گیا : اے میرے رب : میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا تو اس کا رب اسے جواب دے گا : کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تیرے ساتھ رشتہ جوڑے میں اس کے ساتھ تعلق جوڑوں اور جو تیرے ساتھ تعلق توڑے میں اس کے ساتھ تعلق کو منقطع کروں۔ “ صحیح مسلم میں حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : ” رشتہ داری کو قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا “ (1) ابن ابی عربی نے کہا : سفیان نے کہا : یعنی قطع رحمی کرنے والا، اسے امام بخاری نے رویت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 4:۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : (2) یہاں خلق، اختراع کے معنی میں ہے اس کا اصل معنی اندازہ لگانا ہے جس طرح پہلے گزرا ہے۔ یہاں خلق، مخلوق کے معنی میں ہے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (لقمان 11) یعنی یہ اس کی مخلوق ہے۔ فرغ منھم سے مراد ان کی خلقت کو مکمل کیا۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ ان کو پیدا کرنے میں مشغول ہوا پھر ان کی پیدائش سے فارغ ہوگیا کیونکہ اس کا فعل مباشرہ، منادلہ کی صورت میں نہیں ہوا اس کی تخلیق آلہ اور حیلہ سے نہیں ہوئی اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بالا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد : یہ کلام دو وجہموں میں سے ایک کا احتمال رکھتی ہے۔ 1 ۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے کسی کھڑا کردے گا جو رحم کی جانب سے گفتگو کرے گا اور وہ یہ کہے گا گویا اس عبادت پر کسی فرشتے کو معین کردیا ہے جو رحم کی جانب سے اس ذمہ داری کو ادا کرے گا جو صلہ رحمی کرتا ہے اس کے ثواب کو لکھتا ہے اور جو اسے قطع کرتا ہے اس کا بوجھ لکھتا ہے جس طرح اس نے باقی ماندہ اعمال کر لئے کراما کاتبین معین کئے ہیں اور نمازوں کے اوقات کے مشاہدہ کے لئے یکے بعد دیگرے آنے والے فرشتے معین کئے ہیں۔ 2 ۔ یہ کلام تدقیر و تمثیل کی صورت میں ہے جو اس کے محفوظ کرنے اور بہت زیادہ اہتمام کرنے کا فہم عطا کرتی ہے۔ گویا کلام یوں کی اگر رحم ان چیزوں میں ہوتی جو سمجھ بوجھ رکھتی ہیں اور گفتگو کرسکتی ہیں تو وہ یہ گفتگو کرتیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الحشر 21) پھر فرمایا : (الحشر) حضور ﷺ کا ارشاد : اس کلام کا مقصود یہ ہے کہ یہ خبر دی جائے کہ صلہ رحمی کا امر موکد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ حیثیت دی ہے جو اس آدمی کو حیثیت دی جاتی ہے کہ جو اس سے پناہ چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پناہ دیتا ہے اور اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے جب ماعملہ اس طرح ہے تو اللہ تعالیٰ کا پڑوس اپنانے والا رسوا نہیں ہوتا اور اس کا وعدہ توڑا نہیں جاتا اسی وجہ سے رحم سے خاب کرتے ہوئے کہا : یہ اسی طرح ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( 1) جو آدمی صبح کی نماز پڑھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوجاتا ہے پس تم میں سے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں آئی ہو چیز میں سے کسی شے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ جو اس کے ذمہ میں موجود چیز کا مطالبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پکڑ لیتا ہے، پھر اسے منہ کے بل آگ میں گرا دیتا ہے۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھرگئے شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا

قتادہ نے کا ہ : وہ اہل کتاب کے کفار ہیں : انہوں نے نبی کریم ﷺ کا انکار کیا جبکہ وہ نبی کریم ﷺ کی نعت سے بخوبی آشنا تھے یہ ابن جریج کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ضحاک اور سدی نے کہا : وہ منافق ہیں، قرآن حکیم میں جہاد کے حکم سے آگاہی کے بعد وہ جہاد کرنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ گئے۔ شیطان نے ان کی خطائوں کو مزین کیا : یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے : نے انہیں طویل آرزو دلائی اور لمبی عمر کا وعدہ کیا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے۔ وہ ذات جس نے انہیں لمبی آرزویں دلائیں اور ان کی عمروں کو لمبا کردیا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ فراء اور مفضل کا قول ہے کلبی اور مقاتل نے کہا : کا معنی ہے انہیں مہلت دی۔ اس تعبیر کی بناء پر اللہ تعالیٰ انہیں عذاب میں مہلت دینے والا ہے۔ ابو عمرو، ابن ابی اسحاق، عیسیٰ بن عمرو، ابو جعفر اور شیبہ نے ہمزہ کے ضمہ، لام کے کسرہ اور یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ مجہول کا صیغہ ہے۔ ابن ہرمز، مجاہد حجدری اور یعقوب نے اسی طرح پڑھا ہے مگر انہوں نے یاء کو ساکن پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے متعلق خبر دے رہا ہے کہ وہ یہ معاملہ ان کے ساتھ کرے گا گویا فرمایا : میں انہیں مہلت دیتا ہوں : ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کہا : ہمزہ کا فتحہ وہم دلاتا ہے شیطان انہیں آرزئویں دلاتا ہے جبکہ معاملہ اس طرح نہیں، اسی وجہ سے ضمہ کی طرف عدول کیا۔ مہدوی نے کہا : جس نے پڑھا تو فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا، مراد شیطان ہے : ابو عبید نے عام قرأت کو پسند کیا ہے : کہا کیونکہ معنی معلوم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الفتح 9) کی ضمیر غائب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات لی او توقیر و تعزیر کے فعل کو رسول اللہ ﷺ کے اسم کی طرف پھیرا ہے۔
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے

یعنی انہیں یہ مہلت دی تاکہ وہ کفر میں دور چلے جائیں کیونکہ وائو ضمیر سے مراد منافقین اور یہودی ہیں۔ سے مراد مشرک ہیں۔ بعض الامر سے مراد حضرت محمد ﷺ کی مخالفت کرنا، آپ کے دشمن میں باسم مدد کرنا، آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کے بجائے گھر میں بیٹھ رہنا اور رزاداری کے عالم میں آپ کی توہین کرنا۔ انہوں نے یہ بات رازداری کے عالم میں کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ کردیا۔ عام قرأت رھم ہے یہ سر کی جمع ہے یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کوفہ کے قراء ابن وثاب اعمش حمزہ کسائی اور حفص نے عاصم سے اسرارھم نقل کیا ہے کہ یہ مصدر ہے اسی کی مثل اللہ کا فرمان ہے : (نوح) یہاں جمع کا صیغہ ذکر کیا کیونکہ راز کی کئی صورتیں ہیں۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو اس وقت (انکا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے انکی جان نکالیں گے اور انکے مونہوں اور پیٹھو پر مارتے جائیں گے

ضاربین کے معنی میں ہے یہ حال کی جگہ واقع ہے کلام کا معنی خوف دلانا او دھمکانا ہے یعنی اگر عذاب ان سے موخر ہوگیا تو عمر کے اختتام تک یہ سلسلہ ہوگا سورة الانفال اور سورة النحل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کوئی آدمی معصیت پر فوت نہیں ہوتا مگر اس کے چہرے اور اس کی گدی پر شدید ضرب لگائی جاتی ہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جنگ کے وقت ہوتا ہے مقصود رسول اللہ ﷺ کی مدد ہوتی ہے۔ فرشتے ان کے مونہوں پر مارتے ہیں جب وہ جنگ کا سامنا کرتے ہیں اور جب وہ بھاگتے ہیں تو ان کی پشتوں پر مارتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قیامت کے روز ہوگا جب انہیں جہنم کی طرف ہانکا جارہا ہوگا۔
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اس نے بھی انکے عملوں کو برباد کردیا

تقدیر کلام یہ ہوگی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضور ﷺ کی جو نعت تورات میں تھی اسے انہوں نے چھپایا، اس سے مراد ان کا یہ عمل ہے۔ اگر اسے منافقین پر محمول کیا جائے تو وہ مراد وہ کفر ہوگا جو انہوں نے اپنے سینہ میں چھپا رکھا ہے رضوان سے مران ایمان ہے اعمال سے مراد صدقہ اور صلہ رحمی وغیرہ کے اعمال ہیں جس طرح یہ گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 47:29–30

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے

مرض سے مراد نفاق اور شک سے مراد منافقین ہیں۔ اضفان سے مراد وہ چیز ہے جو ناپسندیدہ چیز چھپائے ہوئے ہیں اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ سدی نے کہا : اس کا معنی ان کا کھوٹ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد ان کا حسد ہے قطرب نے کہا : مراد ان کی عداوت ہے او شاعر کا قول ذکر کیا : ابن ہند سے کہو میں نے ایسی گفتگو کا ارادہ نہیں کیا جو دوست کو بری لگے اور عداوت کو پختہ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد ان کے کینے ہیں اس کا واحد ضعفن سے کیا عنہ میں نے کینہ والے سے اپنے نفس کو روکا یہ بحث پہلے گزر چکی ہے : عمروبن کلثوم نے کہا : کینہ کے بعد کینہ تجھ پر ظاہر ہوجاتا ہے اور مخففی مرض کو باہر نکال دیتا ہے۔ جوہری نے کہا : سے مراد کینا ہے اس نے فلاں پر کینہ کیا۔ انہوں نے کینوں کو چھپایا۔ جب تو نے بچے کو گود میں لیا۔ احمر نے یہ شعر پڑھا۔ گویا وہ بچے کو گود میں لئے ہوئے ہے۔ فرس ضاغن ایسا گھوڑا جو مار کے بغیر نہیں چلتا۔ معنی ہے کیا انہوں نے یہ گمان کیا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی عداوت اور کینے اہل اسلام کے لئے ظاہر نہیں کرے گا۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہم تیری ان کو پہچان کرادیتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کی ان کو سورة برأت میں پہچان کرا دی تھی۔ عرب کہتے ہیں۔ یعنی جو کچھ میں کرنے والا ہوں تجھے اس کی پہچان کرا دوں گا۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (النسائ 105) اس کے مطابق جو دکھا دیا آپ کو اللہ تعالیٰ نیے یعنی آپ ان کی ان کی علامتوں سے پہچان کرلیں گے۔ حضرت انس ؓ نے کہا : اس آیت کے بعد منافقوں میں سے کوئی بھی آپ کی ذات پر مخفی نہ رہا، آپ انہیں ان کی نشانیوں سے پہچانتے تھے، ہم ایک غزوہ میں تھے اس میں سات منافق تھے جن کے بارے میں لوگوں کو شک تھا ایک رات انہوں نے صبح کی تو ان میں ہر ایک کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا ہذا منافق یہ منافق ہیں (1) یہ ان کی نشانی تھی۔ ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کے اظہار کو مقدر کیا انہیں حکم دیا گیا کہ وہ مسجد سے نکلیں تو انہوں نے انکار کردیا مگر یہ کہ وہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ چمٹے رہیں تو ان کے خون محفوظ ہوگئے۔ انہوں نے نکاح کیا اور ان کے ساتھ نکاح کیا گیا۔ اور آپ انہیں ضرور پہچان لیں گے ان کی گفتگو کے معنی سے اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : بہترین کلام وہ ہوا کرتی ہے جو معنی سے پہچانی جائے اور اس کی تصریح نہ کی جائے۔ سے ماخوذ ہے اس کا مطلب صحیح بات سے نکل جانا ہے اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے، تم میرے سامنے اپنے جھگڑے پیش کرتے ہو ممکن ہے تم میں سے کوئی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ قوت والا ہو یعنی وہ جواب میں دلیل کو لے جانے والا ہو کیونکہ وہ کلام کو پھیرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ابو زید نے کہا : جب تو ایسی بات کرے وہ تجھ سے اس کا معنی سمجھ لے اور دسرے پر وہ مخفی رہ جائے۔ اسے سمجھا۔ میں نے اسے یہ سمجھایا۔ میں ان کو سمجھ گیا۔ فزاری نے کہا : کتنی ہی باتیں ہیں جن سے میں لذت حاصل کرتا ہوں جو ان میں سے ہیں جن کی نعت بیان کرنے والے نعت بیان کرتے ہیں اس کا وزن بیان کیا جاتا ہے خوبصورت گفتگو ہوتی ہے بعض اوقات اس میں لحن ہوتا ہے اور بہترین گفتگو ہوتی ہے جو با معنی ہو۔ وہ مراد یہ لیتا ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں گفتگو کرتی ہے اور ارادہ کسی اور چیز کا کرتی ہے وہ اپنی گفتگو میں تعریض کرتی ہے اور اپنی ذہانت و فطانت سے اسے اصل جہت سے پھیر دیتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کلبی نے کہا : اس آیت کے نزول کے بعد کسی منافق نے آپ سے گفتگو نہ کی مگر آپ نے اسے پہچان لیا۔ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : منافق نبی کریم ﷺ سے ایسی گفتگو کرتے تھے جس میں آپ کے سامنے تواضع سے کام لیا کرتے تھے جبکہ نبی کریم ﷺ انہیں سن رہے ہوتے تھے اور ظاہر و متعاد معنی لیتے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ کردیا بعد میں جب نبی کریم ﷺ ان کی کلام سنتے تو انہیں پہچان لیتے تھے۔ حضرت انس ؓ نے کہا : اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کوئی منافق آپ پر مخفی نہ رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی وحی یا کسی علامت کے ذریعے پہچان کرا دی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس علامت کو پہچان لیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرا دی تھی۔ یعنی اس پر ان میں سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں انکو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں

ہم تم پر شرعی احکام لازم کریں گے اگرچہ ہم امور کے عواقب کو اچھی طرح جانتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم تہمارے ساتھ ممتحن کا سا معاملہ کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کا معنی ہے ہم جدا جدا کردیں۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں گے۔ سورة البقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ عام قرأت نون کے ساتھ ہے۔ ابو بکر نے عاصم سے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور رویس نے یعقوب سے وائو کے کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی نبلو کیونکہ یہ ماقبل سے الگ ہے۔ باقی قراء نے اسے منصوب پڑھا ہے کیونکہ اس کا تعلق کے ساتھ ہے وہ یہ علم وہ ہے جس کے جزا واقع ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزا علم قدیمی کی بناء پر نہیں دے گا بلکہ ان کے اعمال پر جزا دے گا۔ اس کی تاویل یہ ہے یہاں تک کہ ہم مجاہدین کو علم شہادت سے جان لیں کیونکہ انہیں عمل کا حکم دیا گیا انہوں نے جو کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دیکھتا ہے ثواب و عقاب کی جزا علم شہادت پر ہوگی۔ ہم ان کو آزمائیں اور ہم انہیں ظاہر کریں۔ ابراہیم بن اشعث نے کہا : جب حضرت فضیل بن عیاض اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو رویا کرتے تھے اور دعا کرتے تھے : اے اللہ : ہمیں نہ آزما کیونکہ جب تو ہمیں آزمائے گا تو تو ہمیں رسوا کردے گا اور ہمارے پر دو وں کو چاک کردے گا۔ (2)
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں کو سیدھا راستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں) کو خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کر دے گا

یہ آیت منافقوں یا یہودیوں کی طرف لوٹتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد وہ لوگ ہیں ج غزوہ بدر کے موقع پر کھانا کھلایا کرتے تھے، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : الانفال 36 یعنی رسول سے دشمنی کی اور اس کی مخالفت کی یعنی وہ دلائل اور آیات سے جانتے تھے کہ آپ نبی ہیں۔ وہ اپنے کفر کے باعث اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ انہوں نے جو عمل کیا اس کا ثواب برباد کردیتا ہے۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

مومنو ! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

اس میں دو مسئلے ہیں : جب کفار کی حالت کو بیان کیا تو مومنوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے اور رسول اللہ کی سنن میں اطاعت کو لازم پکڑو۔ یعنی اپنی نیکیوں کو معاصی کے ساتھ باطل نہ کرو (1) یہ حضرت حسن بصری کا نقطہ نظر ہے۔ زہری نے کہا : کبیرہ گناہ کر کے اپنے اعمال کو باطل نہ کرو (2) ابن جریج نے کہا : ریا کاری اور شہرت کی خواہش کر کے اپنے اعمال باطل نہ کرو (3) مقاتل اور ثمالی نے کہا : احسان جتلا کر اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔ یہ اسے خطاب ہے جو اسلام قبول کرنے کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر احسان جتلایا کرتا تھا سب معانی قریب قریب ہیں۔ حضرت حسن بصری کا قول سب کو جامع ہے اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ کبیرہ گناہ اطاعات کو برباد کرتا ہے او نافرمانیاں ایمان سے خارج کردیتی ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: ہمارے دوسرے علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نفل نماز ہو یاروزہ اس کو شروع کرنے کے بعد چھوڑ دینا جائز نہیں کیونکہ اس میں عمل کا ابطال ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے۔ جس نے اس کی اجازت دی یعنی امام شافعی وغیرہ انہوں نے کہا : اس سے مراد فرض عمل کا ثواب ہے تو ایسے آدمی کو اپنے عمل کے ثواب کو باطل کرنے سے منع کیا گیا۔ جہاں تک نفل عمل کا تعلق ہے اس کے شروع کرنے کے بعد توڑنا کوئی منع نہیں کیونکہ یہ اس پر واجب نہیں تھا اگر وہ یہ گمان کریں کہ لفظ عام ہے تو عام کی تخصیص کی جائز ہے۔ اس کی تخصیص کی دلیل یہ ہے کہ نفل زائد عمل ہوتا ہے اور زائد عمل اختیار کا تقاضا کرتا ہے۔ ابو العالیہ سے مروی ہے : لوگوں کا خیال تھا اسلام لانے کے بعد کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی تو لوگ اعمال کی بربادی کی وجہ سے اس کے ڈر سے گناہ کبیرہ سے ڈرنے لگے۔ مقاتل نے کہا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جب تم نے رسول کی نافرمانی کی تو تو تم نے اپنے اعمال کو باطل کردیا۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور خدا کے راستے سے روکتے رہے پھر کافر ہی مرگئے خدا ان کو ہرگز نہیں بخشے گا

اس امر کو واضح کیا کہ کفر کی صورت میں موت یہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے کو واجب کردیتی ہے۔ سورة بقرہ میں یہ وضاحت گزر چکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ آیت کا مصداق غزوہ بدر کے گڑھے میں ڈالے جانے والے لوگ ہیں (1) اس آیت کے احکام عام ہیں۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم تو غالب ہو اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1:۔ تم اقتال سے ضعف کا اظہار نہ کرو، وہھن کا معنی ضعف ہے یہ کبھی متعدی ہوتا ہے اور کبھی غیر متعدی ہوتا ہے شاعر نے کہا : کسرہ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اس کا معنی بھی کمزور ہونا ہے اسے ھنوا بھی پڑھا گیا ہے یعنی ھاء پر ضمہ اور کسرہ ہے سورة آل عمران میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 2:۔ السلم کا معنی صلح ہے تم ان کی نبسنبت اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بہتر جانتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم دلیل دینے میں غالب ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے تم غالب ہو کیونکہ تم مومن ہو اگرچہ بعض احوال میں وہ تم پر غالب آجائیں گے قتادہ نے کہا : تم پہلا ایسا طائفہ نہ بنو جو اپنے مدمقابل کے سامنے مغلوب ہوگیا (1) مسئلہ نمبر 3: علماء نے اس کے حکم میں اختلاف کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : (الانفال 61) کے لئے ناسخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صلح کی طرف میلان کرنے سے منع کیا ہے جب مسلمانوں کو صلح کی ضرورت نہ ہو تو ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ محکم ہے : دونوں آیات دو مختلف الحال وقتوں میں نازل ہوئی ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ مخصوص افراد کے بارے میں ہے جبکہ دوسری عام ہے کفار کے ساتھ صلح ضرورت کے وقت ہی ہوگی اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے جس مسلمانوں کے ضعف کی وجہ سے ہم ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوں۔ یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نصرت اور مدد کرنے میں تمہارے ساتھ ہے جس طرح ارشاد ہے : (العنکبوت) یعنی وہ تمہارے اعمال میں کمی نہیں کرے گا حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے یہ قول مروی ہے اسی سے ایک لفظ موتدر ہے جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے تو اس کا قصاص نہ لیا جاسکے اس کا باب یوں چلے گا اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ؎ (2) جس آدمی کی عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کے اہل اور مال میں نقصان ہوگا، اسی طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ اس نے اس کے حق میں کمی کی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اللہ تعالیٰ تیرے اعمال میں کمی نہیں کرتا : جس طرح تو کہتا ہے : یعنی ایک جملہ میں فی صلہ موجود ہے اور دو سے میں نہیں ہے، یہ جوہری کا نقطہ نظر ہے، فراء نے کہا : یہ وتر سے مشتق ہے جس کا معنی فرد ہے معنی ہوگا، یعنی تمہیں ثواب کے بغیر تنہا نہیں چھوڑے گا۔
Ayahs 47:36–37

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کر کے رہے

سورة الانعام میں یہ بحث گزر چکی ہے : یعنی وہ تمہیں حکم نہیں دیتا کہ تم زکوۃ میں سارا مال ہی دے دو بلکہ اس نے بعض مال نکالنے کا حکم دیا ہے، یہ ابن عینیہ اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسکا معنی ہے وہ تمہارے اموال اپن ذات کے لئے یا اپنی کسی ضرورت کے لئے نہیں مانگتا وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ اس کا ثواب تمہاری طرف لوٹے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت محمد ﷺ علیہ التحیۃ والثنا رسالت کی تبلیغ پر تم سے کسی اجر کا سوال کرنے والے نہیں اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الفرقان 57) یعنی وہ تم سے اصرار کرتا ہے، یہ کہا جاتا ہے اور الحسب کا ایک ہی معنی ہے حفی اسے کہتے ہیں جو سوال کرنے میں انتہا تک جائے اسی طرح احفاء کا لفظ گفتگو اور منازعہ میں بہت دور تک جاتا ہے اسی معنی میں شاربۃ ہے یعنی اس نے مونچھیں کانٹے میں بہت سختی کی۔ یعنی بخل تمہاری ناگواری کو ظاہر کردے گا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیًٰ کو علم تھا کہ مال کا سوال کرنے میں ناگواری کا اظہار ہوتا ہے حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، ابن محصین اور حمید نے دتخرج پڑھا اور مرفوع پڑھا کیونکہ وہ فاعل ہے۔ ولید نے یعقوب حضری سے ونخرج نقل کیا ہے ؎ ابو معمر، عبدالوارث سے وہ ابو عمرو سے ویخرج جیم میں رفع کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہاں گفتگو ختم ہوتی ہے اور پھر نئی کلام شروع ہوتی ہے ان سے مشہور ویخرج ہے جس طرح باقی قراء کی قرأت ہے اس کا عطف ماقبل پر کلام پر ہے۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے

اے مومنو ! تم ہی وہ ہو جن کو دعوت دی جاتی ہے۔ یعنی تم جہاد اور بھلائی کے راستہ میں خرچ کرو۔ یہاں علی کے معنی میں ہے یعنی اجر وثواب اسے روکتا ہے یعنی وہ تمہارے اموال کا محتاج نہیں تم اموال کے محتاج ہو یعنی ایسی قوم لے آئے گا جو تمہاری نسبیت اللہ تعالیٰ کے زیادہ محتاج ہوں گے امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی : صحابہ نے پوچھا : ہماری جگہ کن لوگوں کو بدل دیا جائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا ” یہ اور اس کی قوم “ اور یہ اور اس کی قوم “ (1) کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ اس میں سند میں اعتراض کی گنجائش ہے۔ عبداللہ بن جعفر بن جحجیج جو علی بن مدینی کے والد تھے نے یہ حدیث علاء بن عبدالرحمن سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ : وہ کون لوگ ہیں (2) کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا اگر ہم روگردانی کریں تو ان کو ہماری جگہ لے آیا جائے گا پھر وہ ہماری مثل نہ ہوں گے ؟ کہا : حضرت سلمان فارسی رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ مارا فرمایا : ” یہ اور اس کے ساتھی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر ایمان ثریا کے ساتھ لٹک رہا ہوگا تو وہ فارس کے لوگ اس کو حاصل کرلیں گے۔ “ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ عجمی لوگ ہیں۔ (3) عکرمہ نے کہا : وہ فارس اور روم کے لوگ ہیں۔ محاسبی نے کہا : عربوں کے بعد تمام عجمی لوگوں میں سے ایرانیوں سے بڑھ کر کون دین میں اچھا ہوگا اور ان میں سے ہی علماء ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ یمنی ہیں اور وہی انصار ہیں، یہ شریح بن عبید نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ نے اسی طرح کہا کہ وہ انصار ہیں : ان سے بھی یہ مروی ہے کہ وہ ملائیکہ ہیں۔ ان سے بھی یہ مروی ہے کہ وہ تابعی ہیں۔ مجاہد نے کہا : مراد وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ طبری نے کہا : اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرنے میں وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اس سے خوش ہوئے اور فرمایا : ” یہ دنیا سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ “