36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 36:51–54

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے (جگا) اٹھایا ؟ یہ تو وہی ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلا ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

و نفخ فی الصور یہ دوبارہ اٹھانے کے لئے دوسرا نفخہ ہے (1) ۔ سورة نمل میں ہم وضاحت کر آئے ہیں کہ نفحے دو ہیں تین نہیں ہیں ‘ یہ آیت اسی معنی پر دال ہے۔ مبارک بن فضالہ نے حضرت حسن بصری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو نفخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا پہلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر زندہ چیز کو موت عطا فرمائے گا اور دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر مرد چیز کو زندہ کرے گا “ (2) ۔ قتادہ نے کہا : صور ‘ صورۃ کی جمع ہے صورۃ اور صور اسی طرح ہیں جس طرح عمارت کی سورة ) دیوار ( اور سورة ہوا کرتی ہے۔ عجاج نے کہا : سرت الیہ فی اعالی السور میں اس کی طرف بلند دیواروں میں چلا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ونفخ فی الصور قرأت کی نحاس نے کہا : الصور ہے یعنی واو ساکن ہے اس سے مراد سینکھ ہے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح مروی ہے اور کلام عرب میں یہ اسی طرح مروی ہے۔ اہل لغت نے یوں کہا : نحن نطحناھم غداۃ الغورین بالضابحات فی بار الفقعین نطحاً شدید ً الا کنطع الصورین ہم نے غورین کے دن آواز نکالنے والے گھوڑوں کے ساتھ شدید جنگ کی جب کہ غبار شدید تھا کہ جنگ سینگھ لڑانے والی جنگ نہ تھی۔ یہ بحث سورة الانعام میں مفصل گذر چکی ہے۔ الاجداث سے مراد قبریں ہیں اسے الاجداف بھی پڑھا گیا (3) ‘ یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے یہ کہا جاتا ہے : جدث ‘ جدف فصیہ لغت جدث ہے اس کی جمع اجدث اور اجداث آتی ہے متنخل ہذلی نے کہا : عرفت باجدث میں نے قبروں کو پہچان لیا۔ اجتدث یعنی اس نے قبر بنائی۔ الی ربھم ینسلون وہ نکلتے ہیں ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے (4) اس معنی میں بچے کونسل کہتے ہیں کیونکہ وہ ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے وہ جلدی کرتے ہیں کیونکہ نسلان اور عسلان جلدی جلدی چلنے کو کہتے ہیں ‘ اسی معنی میں بھیڑیے کی چال ہے۔ شاعر نے کہا : برد اللیل علیہ فنسل (5) رات اس پر ٹھنڈی ہوئی اور وہ تیز چلایہ جملہ بولا جاتا ہے : عسل الذئب و نسل ‘ لیعسل و ینسل الذئب۔ یہ ضرب یضرب کے باب سے ہے ینسل بھی کہتے ہیں اس سے مراد تیز چلنا ہے ‘ معنی ہے وہ تیزی سے نکلتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ) لقمان (28: یخرجون من الاجداث کا نھم جواد منتشر۔ ) القمر ( یوم یخرجون من الاجداث سراعا کا نھم انی نصیب یو فضون۔ ) المعارج ( یعنی وہ بتوں کی طرف جلدی جاتے ہیں حدیث طیبہ میں ہے ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں کمزوری کی شکایت کی تو فرمایا : ” علیکم بالنسل تم جلدی چلا کرو کیونکہ یہ انسان کی چست بنا دیتا ہے (1) “۔ ابن انباری نے کہا : یویلنا پر وقف اچھا ہے پھر من بعثنا سے آغاز کرے بعض قراء سے مروی ہے یویلنا من بعثنا کان کا میم اور بعثنا کا ثاء مکسور ہے ‘ یہ حضرت علی شیر خدا سے بھی مروی ہے اس نقطہ نظر کے مطابق یویلنا پر وقف کرنا اچھا نہیں یہاں تک کہ وہ پر ہے من مرقدنا۔ حضرت ابی بن کعب کی قرأت کے مطابق من مرقدنا کے ساتھ وصل ہے تو یہ عام لوگوں کے مذہب کی صحت کی دلیل ہے۔ مہدوی نے کہا : ابن ابی لیلی نے قالو ایا ویلتنا قرأت کی ہے یہ ویل کی تانیث ہے اس کی مثل یو یلتیء الدوانا عجوز) ہود (72: حضرت علی شیر خدا نے یا ویلتا من بعثنا قرأ ت کی ہے من ویل سے متعلق ہے یا ویلتا سے حال ہے تو من مخدوف کے متعلق ہوگا گویا یہ کہا یا ویلتا کائنا من بعثنا جس طرح جار مجرور کی ویل سے خبر بنانا صحیح ہے اس طرح سے حال بنانا صحیح ہے من مرقدنا جار مجرور بعث کے متعلق ہے پھر یہ کہا گیا : انہوں نے یہ بات کیسے کہی جب کہ وہ تو اپنی قبروں میں عذاب دیے جا رہے ہوں گے ؟ اس کا جواب ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے کہا : وہ سو رہے ہوں گے۔ ایک روایت میں ہے : وہ کہیں گے۔ ہائے افسوس ! کس نے ہمیں ہماری قبروں سے اٹھایا ؟ ابوبکر انباری نے کہا : یہ حدیث اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ ھبنا کا لفظ قرآن کا حصہ ہے جس طرح وہ آدمی کہتا ہے جو قرآن پر طعن کتا ہے بلکہ یہ تو بعثنا کی تفسیر ہے یا یہ اس کے کسی معنی کی تعبیر ہے۔ ابوبکر نے کہا : میں نے من ھبنا الف کے بغیر یاد کیا ہے جب کہ من کانون ساکن ہے۔ لغت کے طریقہ کے ماطبق یہ صحیح ہے من اھبنالون کو فتحہ دیا کہ اھب کہ ہمزہ کے فتحہ کو من کے نون کو دیا اور ہمزہ کو ساقط کردیا جس طرح عرب کہتے ہیں من اخبرک ‘ من اعلمت وہ اس سے مراد من اخبرک لیتے ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : اھببت النائم فھب النائم میں نے سونے والے کو اٹھایا تو وہ اٹھ گیا۔ احمد بن یحییٰ نحوی نے ہمیں یہ سنایا : وعاذلۃ ھبت بلیل تلومنی مجھے ملامت کرنے والی اٹھی اور ملامت کرنے لگی۔ ابو صالح نے کہا : جب پہلا نفخہ ہوگا تو اہل قبور سے عذاب اٹھا لیا جائے گا تو وہ دوسرے نفخہ تک سو جائیں گے دونوں نفخوں کے درمیان چالین سال کا عرصہ ہوگا اسی وجہ سے ان کا یہ قول ہوگا من بعثنا من مرقدنا یہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے۔ علماء معانی نے کہا : کفار جب جہنم اور اس کے عذاب کی انواع کو دیکھیں گے تو انہیں قبروں میں جو عذاب دیا گیا تھا وہ جہنم کے عذاب کے مقابلے میں نیند کی طرح ہوگا۔ مجاہد نے کہا : مومن انہیں کہیں گے : یہ ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا۔ قتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جسے ہدایت دی ہوگی وہ ان کفار کو یہ کہیں گے : یہ ہے وہ جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا۔ فراء نے کہا : فرشتے انہیں یہ کہیں گے۔ نحاس نے کہا : یہ تمام اقوال متفق ہیں کیونکہ ملائکہ موموں میں سے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ان الذین آمنو و عملو الصلحت اولئک ہم خیر البریۃ۔ ) البینہ ( اسی طرح یہ حدیث ہے المؤمن عند اللہ خیر من کل ما خلق (1) مومن اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام مخلوق سے بہتر ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ فرشتوں اور دوسرے مومنوں نے انہیں یہ بات کہی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب کفار نے ایک دوسرے کو کہا : کس نے ہمیں ہماری قبروں سے اٹھایا تو انہوں نے جب اس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جس کی انبیاء نے انہیں خبر دی تھی تو انہوں نے رسولوں کی تصفیق کی پھر انہوں نے کہا : یہ وہ ہے جس کا رحمن نے ہم سے وعدہ کیا تسھا اور مرسلین نے سچ بولا تھا اور ہم نے اس کو جھٹلایا تھا ‘ انہوں نے اس وقت اقرار کیا جب اقرار نے انہیں کچھ نفع نہ دیا بعض قاری یعنی حفص من مرقدنا پر وقف کرنے اور پھر کلام کو شروع کرتے ھذا ابوبکر انباری نے کہا : من بعثنا من مرقدنا پر عطف بہت اچھا ہے پھر تو کلام کو شروع کرے ھذا ما وعدالرحمن یہ بھی جائز ہے کہ تو ھذا پر وقف کرے اور مرقد کی اتباع میں ھذا کو جر دے اور مائو عدالرحمن سے کلام کا آعاز کرے معنی ہوگا تمہارا اٹھایا جانا رحمن کا وعدہ ہے۔ نحاس نے کہا : کلام من مرقدنا پر مکمل ہوجاتی ہے اور ھذا مبتدا ہونے کی حدیثیت میں محل رفع میں ہے اور اس کی خبر ماوعد الرحمن ہے۔ یہ بھی جائز ہے ھذا مرقدنا کی صفت ہونے کی ہیثیت سے مجرور ہو تو اس صورت میں کلام میں من مرقدنا ھذا پر مکمل ہوگی اور ما وعدالرحمن تین وجوہات سے محل رفع میں ہوگی۔ ابو اسحاق نے اس کی دو وجوہ ذکر کی ہیں : (1) ھذا مضمر ہے (2) کلام اس معنی میں ہو حق ما وعد الرحمن بعثکم (3) کلام اس معنی میں ہو بعثکم ما وعد الرحمن۔ ان کو دوبارہ اٹھانا اور انہیں زندہ کرنا ایک چیخ کی صورت میں ہوگا وہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کا یہ کہنا ہے : اے بوسیدہ ہڈیو ! اے ٹوٹے ہوئے جوڑ اور ٹوٹے ہوئے بالو ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم فیصلہ کے لئے اکٹھے ہو جائو ‘ حق کے قول کا بھی یہی معنی ہے یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج۔ ) ق ( اور مھطعین الی الداع) القمر (8: کا مفہوم بھی یہی ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت اگر واقعی یہ آپ سے ثابت ہے ان کا نت الا زقیۃ واحدۃ اس میں زقیۃ کا معنی چیخ ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ فاذا ھم جمیع الدینا محضرون۔ ھم ضمیر مبتدا ہے اس کی خبر جمیع ہے جو نکرہ ہے اور محضرون اس کی صفت ہے محضرون کا معنی ہے انہیں جمع کیا جائے گا ‘ انہیں ہساب کے موقف میں حاضر کیا جائے گا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : وما امر الساعۃ الا کلمح البصر) النحل (77: کی طرح ہے۔ اس روز ان کے حساب میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ ما کنتم تعملون میں ما دو وجوہ سے محل نصب میں ہوگی : (1) فعل مجہول کا مفعول ثانی ہے ‘ حرف جر حذف کردیا گیا اصل میں بما کنہتم تعملون تھا۔ یعنی تعملونہ۔ پس اسے حذف کردیا گیا۔
Ayahs 36:55–59

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت اس روز عیش و نشاط کے مشغلے میں ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا )

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا )

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور گنہگارو آج الگ ہوجاؤ

حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ارمجاہد نے کہا : باکرہ عورتوں کے ساتھ حقوق زوجیت نے انہیں غافل کردیا ہوگا۔ ترمذی حکیم نے اپنی کتاب ” مشکل القرآن “ میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ ہمیں محمد بن حمیدرازی نے انہوں نے یعقوب قومی سے انہوں نے حفص بن حمید سے انہوں نے شمسر بن عطیہ سے ‘ انہوں نے شفیق بن سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ باکرہ بیویوں سے حقوق زوجیت نے انہین مشغول کر رکھا ہو (1) ۔ محمد بن حمید ‘ ہارون بن مغیرہ سے وہ نہشل سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ ابو قلابہ نے کہا : اسی اثنا میں کہ ایک جنتی اپنے اہل کے ساتھ مصروف ہوگا کہ اسے کہا جائے گا : اپنے اہل کی طرف توجہ کرو وہ کہے گا : اپنے اہل کے ساتھ مشغول ہوں۔ اسے کہا جائے گا : اپنے اہل کی طرف توجہ کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنتی جنت کی لذات اور نعمتوں میں مصروف حوں گے انہیں نافرمانوں کے جہنم میں جانے کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی اور اس میں جو درد ناک عذاب ہوگا اس کی کوئی پرواہ نہ ہوگی اگرچہ ان لوگوں میں اس کے قریبی رشتہ دار اور گھر والے ہوں گے ‘ یہ سعید بن مسیب اور دوسروں لوگوں کا قول ہے۔ وکیع نے کہا : شعل کا معنی سماع ہے۔ ابن کیسان نے کہا : فی مشعل کا معنی ہے وہ ایک دوسرے کی ملاقات میں مصروف ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اللہ تعالیٰ کی ضیافت میں مصروف ہوں گے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا : میرے وہ بندے کہیاں ہیں جنہوں نے میری اطاعت کی وہ بن دیکھے میرے عہد کو یاد رکھا ؟ وہ کھڑے ہوں گے گویا ان کے چہرے چودھویں کے چاند اور روشن ستارے ہوں گے وہ نور کی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے ان کی لگامیں یا قوت کی ہونگی جو لوگوں کے سروں پر سے انہیں لے کر اڑتی ہوں گی یہاں تک کہ وہ عرش کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : میرے ان بندوں پر سلام جنہوں نے میری اطعات کی اور بن دیکھے میرے عہد کی حفاظت کی ‘ میں نے تمہیں چن لیا ‘ میں و نے تمہیں منتخب کرلیا ہے اور میں نے تمہیں اختیار کیا ہے جائو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہو جائو ‘ نہ آج تم پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم غمگین ہونگے ‘ وہ پل صراط سے اچکنے والی بجلی طرح گزر جائیں گے ‘ ان کے لئے دروازے کھول دیئے جائیں گے پھر مخلوق ابھی میدان محشر میں کھڑی ہوگی تو وہ ایک دوسرے کو کہیں گے : اے قوم ! فلاں کہاں ہے ؟ فلاں کہاں ہے ؟ جس وقت وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے تو ایک منادی ندا کرے گا : ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون۔۔ شعل اور شعل اس میں دو لغتیں ہیں دونوں کے ساتھ اسے پڑھا بھی گیا ہے جس طرح رعب اور رعب ‘ سحت اور سحت یہ گفتگوپہلے گزر چکتی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : فکھون کا معنی مسرورون ہے (1) ۔ حضرت اب عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی فرحون ہے (2) ۔ مجاہد اور صحاک نے کہا : اس کا معنی معجبون ہے۔ سدی نے کہا : اس کا معنی ناعمون ہے۔ سب کا معنی باہم قریب ہے۔ فکاھت کا معنی بھی مزاح اور اچھی گفتگو ہے۔ ابو جعفر ‘ شیبہ اور اعرج نے کہا فکھون الف کے بغیر ہے ‘ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح فارہ اور فرہ اور حاذر اور حذر ‘ یہ فراء کا قول ہے۔ کسائی اور ابو عبیدہ نے کہا الفاکہ سے مراد ذوالفاکھۃ ہے یعنی اسم فاعل نسبت کے معنی میں ہے جس طرح شاتم ‘ لاحم ‘ تامر اور لابن ہے اور فکہ سے مراد متف کہ اور متنعم ہے۔ فکھون قتادہ کے قول میں الف کے بغیر ہے جس کا معنی معجبون) خوش ہونے والے ( ہے۔ ابوزید نے کہا یہ کہا جاتا ہے : رجل فکہ جب خوش ہونے والا اور مسکرانے والا ہو۔ طلحہ بن مصرف نے فاکھین پڑھا ہے یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ھم و ازواجھم فی ظلل علی الارائک متکون۔ مبتدا اور خبر ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ ھم تاکید ہو اور ازوجھم کا عطف ضمیر پر ہو اور متکئون ‘ فاکھون کی صفت ہوئی۔ عام لوگوں کی قرائت فی ظلل ظاء کے کسرہ اور الف کے ساتھ ہے۔ حضرت ابن مسعود ‘ عبید بن عمیر ‘ اعمش ‘ یحییٰ ‘ حمزہ ‘ کسائی اور خلف نے اسے فی ظلل پڑھا ہے ظاء پر ضمہ ہے اور الف کے بغیر ہے ظلال ‘ ظل کی جمع ہے اور ظلل ‘ ظلۃ کی جمع ہے۔ ارائک سے مراد خیموں میں پلنگ ہیں اس کا واحد اریکہ ہے جس طرح سفینہ کی جمع سفائن آتی ہے شاعر نے کہا : کان احمرار الورد فوق عضونہ بوقت الضحی فی روضۃ المتضاحک خدود عداری قد خجلن من الحیاء تھا دین بالریحان فوق الارائک گویا گلاب کے پھول کی سرخی اس کی ٹہنیوں پر چاشت کے وقت مسکراتے باغیچے میں کنواری عورتوں کے رخسار ہیں جو حیاء کی وجہ سے شرمندہ ہیں جو پلنگوں پر ریحان کا پھول باہم تحفہ دیتی ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنتی جب بھی اپنی عوتوں سے حقوق زوجت ادا کر چکیں گے تو ان کی عورتیں باکرہ ہوجائیں گی (1) “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ایک جنتی سر سال تک حوار کے معانقہ کرے گا نہ مرد اس سے اکتائے گا اور نہ وہ مرد سے اکتائے گی جب بھی وہ جنتی اس کے پاس آئے گا اس باکرہ پائے گا جب وہ اس حور کی طرف لوٹے گا تو مرد کی شہوت لوٹ آئے گی وہ اس حور کے ساتھ ستر مردوں کی قوت کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کرے گا ان کے درمیان منی نہ ہوگی وہ منی کے بغیر آئے گا اور وہ مغنی کے بغیرآئے گی۔ لھم فیھا فاکھۃ یہ مبتدا اور خبر ہیں لھم ما یدعون۔ میں دوسرا دال اصل میں تاء ہے کیونکہ دعا سے یفتعلون کے وزن پر ہے یعنی وہ جو طلب کرے گا وہ چیز اسے عطا کردی جائے گی ‘ یہ ابو عبید نے معنی بیان کیا ہے۔ یدعون کا معنی ہے وہ آرزو کریں گے یہ دعا سے مشتق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان میں سے جو جس چیز کا دعویٰ کرے گا وہ اسی کی ہوجائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی فطرت سے پیدا کیا ہوگا کہ وہ ایسی چیز کا ہی دعویٰ کریں گے جوان کے لئے جمیل اور حسین ہوگی۔ یحییٰ بن سلام نے کہا یدعون کا معنی ہے وہ خواہش کریں گے (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ سوال کریں گے۔ معنی قریب قریب ہے ابن انباری نے کہا : ولھم ما یدعون پر وقف کرنا اچھا ہے پھر سلم سے تو کلام کو شروع کرے معنی یہ ہوگا : ذلک لھم سلام ‘ سلام کو اس طریقہ پر رفع دینا بھی جائزہ ہے و لھم ما یدعون مسلم خالص جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے لئے وہ مسلم اور خالص ہوگا۔ اس تعبیر کی بناء پر ما یدعون پر وقف کرنا اچھا نہیں۔ زجاج نے کہا : سلام یہ ما سے بدل کے طور پر مرفوع ہے معنی یہ بنے گا : ولھم ان سلام اللہ علیھم ان کے حق ہے اللہ تعالیٰ ان پر سلام بھیجے یہ جنتیوں کی خواہش ہوگی۔ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اسی اثناء میں کہ جنتی نعمتوں میں ہوں گے کہ ان کے لئے نور چمکے گا وہ اپنے سروں کو اوپر اٹھائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اوپر کی جانب سے ظاہر ہوگا فرمایا : اے جنتیوں ! تم پر سلام ہو ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان : سلم قولا من رب رحیم۔ کا یہی مفہوم ہے (3) اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور وہ اس کا دیدار کریں گے جب تک وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کر رہے ہوں گے اس وقت تک وہ جنت کی کسی اور نعمت کی طرف متوجہ نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ حجاب میں ہوجائے گا جب کہ اس کا نور اور اس کی برکات ان کے گھروں میں باقی رہيں گے (4) یہ ثعلبی اور قشیری نے ذکر کیا ہے اس کا معنی صحیح مسلم میں بھی ثابت ہے ہم نے اس کی وضاحت سورة یونس آیت 26 میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ میں میں بیان کردی ہے یہ بھی جائزہ ہے کہ مانکرہ ہو اور سلام اس کی صفت ہو معنی ہو جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں وہ ان کے لئے مسلم ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مامبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع اور سلام اس کی خبر ہو ان صورتوں میں ولھم ما یدعون پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں سلامامفعول مطلق ہے اگر تو چاہے تو اسے حال کی حیثیت سے منصوب تسلیم کرلے تقدیر کلام یوں ہوگی ولھم ما یدعون ذا سلام او سلامۃ او مسلما اس تاویل کی صورت میں یدعون پر وقف اچھا نہیں۔ محمد بن کعب قرظی سے سلم پڑھا ہے کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے گویا کہا : ذلک سلم لھم اس میں وہ کوئی تنازع نہیں کرتے تو اس صورت میں ولھم یدعون مکمل جملہ ہے۔ یہ بھی جائز ہے سلم ولھم ما یدعون سے بدل ہو اور ما یدعون کی خبر لھم ہوگی۔ یہ بھی جائز ہے سلام دوسری خبر ہو تو اس صورت میں کلام کا معنی ہو وہ انہیں کے لئے خالص ہے اس میں کوئی نزاع کرنے والا نہیں قولا یہ مفعول مطلق ہے تقدیر کلام یوں ہوگی قال اللہ ذالک قولا یا یقولہ قولا فعل مخدوف پر مصدر کا لفظ دلالت کرتا ہے اور دوسرے مذہب کی بناء پر یدعون پر وقف کرنا اچھا نہیں۔ سبحستانی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان سلم پر وقف مکمل ہے۔ یہ علط ہے کیونکہ قول ما قبل سے خارج ہے۔ یہ کہا جاتا ہے : تمیزوا ‘ امازو اور امتازو کا معنی ایک ہی ہے اور مجرد سے یوں مطاوعت کا صیغہ آتا ہے مزتہ فائماز و امتاز اور تفعیل سے یوں صیغہ آتا ہے میزتہ فتمیز جب جنتیوں کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا تو سوال کے لئے جب وہ کھڑے ہوں گے تو اس وقت انہیں یہ بات کہی جائے گی ‘ یعنی ان سے نکل جائو۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے یہ بہشت سے الگ کردیئے گئے (1) ۔ صحاک نے کہا : مجرم ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے (2) ۔ یہودی ایک جماعت کی صورت میں الگ ہوں گے ‘ نصاریٰ ایک جماعت کی صورت میں الگ ہوں گے ‘ مجوسی ایک فرقہ کی صورت میں الگ ہوں گے ‘ صابی ایک فرقہ کی صورت میں الگ ہوں گے اور بت پرست ایک فرقہ کی صورت میں الگ ہوں گے۔ ان سے ایک قول یہ بھی مروی ہے : ہر جماعت کا جہنم میں ایک کمرہ ہوگا جس میں اسے داخل کردیا جائے گا اور وہ دروازہ بند کردیا جائے گا وہ اس میں ہمیشہ ہمہشہ رہیں گے نہ وہ کسی کو دیکھیں گے اور نہ وہ کسی کو دکھائی دیں گے۔ دائود بن جراح نے کہا : مسلمان مجرموں سے الگ ہوجائیں گے مگر خواہش کے پجاری مجرموں کے ساتھ ہوں گے (3) ۔
Ayahs 36:60–64

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ہم نے تم کو کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

(سو) جو تم کفر کرتے رہے اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ

آیت کریم میں عہد سے مراد وصیت ہے کیا میں نے تم کو وصیت نہیں کی اور رسولوں کی زبانوں پر تمہیں پیغام حق نہیں پہنچایا کہ تم میری نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کی اطاعت نہیں کرو گے۔ کسائی نہیں کہا لا نہی کے لئے ہے ان اعبدونی یہ نون کے کسرہ کے ساتھ اپنے اصل پر ہے جس نے اسے ضمہ دیا ہے اس نے کسرہ کے بعد ضمہ کو ناپسند کیا ہے۔ اضل کا معنی اغوی ہے یعنی اس نے گمراہ کیا جبلا کا معنی مخلوق ہے ‘ یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی جموعا کثیرہ ہے۔ مکی نے کہا : اس کا معزنی امما کثیرہ ہے معنی سب کا ایک ہی ہے۔ اہل مدینہ اور عاصم نے جبلا پڑھا ہے ابوعمرو اور ابن ععامر نے جبلا پڑھا ہے باقی قراء نے جبلا پڑھا ہے۔ حضرت حسن بصری ‘ ابن ابی اسحاق ‘ عیسیٰ بن عمر ‘ عبداللہ بن عبید اور نضر بن انس نے اسے مشدد پڑھا ہے یہ پانچ قرأتیں ہیں۔ مہدوی اور ثعلبی نے کہا : سب لغتیں خلق کے معنی میں ہیں۔ نحاس نے کہا : سب سے واضح پہلی قرأت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ سب نے اتفاق کیا ہے کہ انہوں نے والجبلۃ الاولین۔ ) الشعرا ( پڑھا ہے تو جبلا ‘ جبلۃ کی جمع ہے سب کا اشتقاق ایک ہے ‘ الہ تعالیٰ نے سب کو پیدا فرمایا۔ اس میں چھٹی قرأت بھی ذکر کی گئی ہے وہ ہے جبلا ضحاک سے یہ مروی ہے کہ ایک جیل سے مراد ستر ہزار افراد ہیں کثیر سے مراد ہے کہ جس کا شمار اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی بھی نہیں کرسکتا ‘ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے (1) ۔ کیا تم شیطان کی عداوت کو نہیں جانتے اور تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت واجب ہے جہنم کے داروغے انہیں کہیں گے یہ وہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تو تم نے اسے جھٹلایا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؟ نے ارشاد فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ انسانوں ‘ جنوں اولین و آخرین کو ایک میدان میں جمع کرے گا پھر جہنم کی گردن مخلوقات پر جھانکے گی تو وہ ان سب کو گھیر لے گی پھر ایک منادی کرنے والا منادی کرے گا : ھذا جہم التی کنتم توعدون۔ اصلوھا الیوم بما کنتم تکفرون۔ اس موقع پر لوگ اپنے گھٹنوں کے بل جھک جائیں گے ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور ہر دودھ پلانے والی اپنے بچے سے غافل ہوجائے گی ‘ تو لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھے گا جب کہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہو گے لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا سخت ہے “
Ayahs 36:65–68

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں پھر یہ راستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے ہیں ؟

صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ ﷺ ہنسے پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو کس وجہ سے میں ہنسا ہوں ؟ ہم نے عرضہ کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : ” بندہ اپنے رب سے جس انداز میں خطاب کرتا ہے اس وجہ سے میں ہنسا ہوں بندہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! کیا تم نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیوں نہیں۔ بندہ عرض کرتا ہے : میں اپنے سوا کسی کو اپنے اوپر گواہ جائز نہیں جانتا تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آج تجھ پر تیرا نفس اور کراما کا تبین ہی گواہ کافی ہیں۔ فرمایا : اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو اس کے اعضاء سے کہا جائے گا : بول تو وہ عضو اس کے اعمال کے بارے میں بات کرے گا پھر اس کے اور ان کی گفتگو کے درمیان رکاوٹیں ختم کردی جائیں گی تو وہ اعضاء کو کہے گا : تمہارے لئے ہلاکت ہو کیا میں اس لئے تمہاری حفاظت کرتا رہا ؟ “ (1) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی ایک روایت مروی ہے اس میں ہے ” پھر اسے کہا جائے گا : اب ہم تم پر کوئی گواہ لاتے ہیں ‘ وہ اپنے بارے میں سوچ و بچار کرے گا مجھ پر کون گواہی دے گا ؟ تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران اس کا گوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا جائے گا : بول تو اس کی ران ‘ اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گی۔ یہی وہ شخص ہے جو گناہ کیا کرتا تھا ‘ یہی منافق تھا اور یہی وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا “۔ امام ترمذی نے حضرت معاویہ بن حیدہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس نے نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا : ” یہاں سے لے کر وہاں تک تمہیں سوار اور پیدل جمع کیا جائے گا تمہیں قیامت کے روز کھینچا جائے گا تمہارے مونہوں پر چھیکے ہوں گے تم سترویں امت کو پورا کرو گے تم ان میں سے بہترین ہو اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزز ہو ‘ تمہارے اعضاء میں سے سب سے پہلے جو اظہار کرے گی وہ اس کی ران ہوگی “ دوسری روایت میں ” اس کی ران اور اس کی ہتھیلی ہوگی “۔ فدام سے مراد وہ کپڑا ہے جو کو زے اور لوٹے کے اوپر باندھا جاتا ہے ‘ یہ لیث نے کہا۔ ابو عبیدہ نے کہا : یعنی انہیں گفتگو سے روک دیا جائے گا یہاں تک کہ ان کی رانیں گفتگو کریں گی۔ تو گفتگو سے روکنے کے عمل کو اس کپڑے سے تشبیہ دی گئی ہے جسے لوٹے پر باندھا جاتا ہے منہ پر مہر لگانے کی چارو جوہ ذکر کی گئی ہیں : (1) انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اے ہمارے رب ہم شرک کرنے والے نہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے مونہوں پر مہریں لگا دیں یہاں تک کہ ان کے اعضاء نے گفتگو کی ‘ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قول ہے۔ (2) اہل موقف انہیں پہچان لیں اور ان سے ممتاز ہوجائیں گے ‘ یہ ابن زیاد کا قول ہے۔ (3) غیر ناطق کا اقرار اس کے اقرار سے دلیل میں یہاں بلیغ ہوتا ہے جوگ گفتگو کرسکتا ہو کیونکہ اس کی گفتگو معجزہ کے حکم میں ہوتی ہے اگرچہ اس دن کسی معجزہ کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ (4) تاکہ وہ خود جان لے کہ اس کے اعضاء اس کے بارے میں مددگار تھے تو وہ اس کے رب کے حق میں گواہ ہوگئے اگر یہ سوال کیا جائے : یہ کیوں فرمایا : و تکلمنا ایدیھم و تشھد ارجلھم ہاتھ کے اظہار کو کلام اور پائوں کے اظہار کو گواہی قراردی ؟ اس کا جواب دیا جائے گا : ہاتھ خود عمل کرتا ہے اور پائوں حاضر ہوتا ہے اور حاضرکا قول غیر پر گواہ ہوتا ہے فائل کا اپنے بارے میں قول اقرار ہوا کرتا ہے خواہ وہ قول کرے یا عمل کرے اسی وجہ سے ہاتھوں سے جو کچھ صادر ہوگا اس کو قول سے تعبیر کیا اور جو کچھ پائوں سے صادر ہوا اس کو شہادت کہتے ہیں۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :’‘ جس روز منہ پر مہر لگا دی جائے گی اس روز جو ہڈی سب سے پہلے کلام کرے گی وہ بائیں ٹانگ کی ران ہوگی “ یہ ماوردی اور مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کہا : میں جو گمان کرتا ہوں کہ انسان کی ہڈی جو سب سے پہلے گفتگو کرے گی وہ اس کی دائیں ران ہوگی ‘ یہ بھی مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے ذکر کیا : یہ احتمال موجود ہے کہ اعضاء میں سے پہلے ران گفتگو کرے گی کیونکہ وہ گناہوں کی لذت کا ادراک ان حواس میں کرتا ہے جو اس کے نچلے دھڑ میں ہوتے ہیں ان میں سے ران بھی ہے تو کیونکہ وہ قریب تر عضو ہے اس لئے وہ گواہی دینے میں سب سے پہلے ہوگی کہا : بائیں ران پہلے گواہی دے گی کیونکہ دائیں اعضاء میں شہوت بائیں اعضاء کی نسبت قوی ہوگی اسی وجہ سے بائیں ران ‘ دائیں ران پر گواہی دینے میں مقدم ہوگی کیونکہ اس میں شہوت کم ہوتی ہے (1) ۔ میں کہتا ہوں : یا اس کے برعکس ہوگا کیونکہ شہوت کا غلبہ ہوگا یا دونوں رانیں اور ہتھیلی اکٹھے گواہی دیں گے کیونکہ اس کے مجموعے سے ہی شہوت اور لذت مکمل ہوتا ہے۔ کسائی نے یوں حکایت بیان کی ہے : طمس ‘ یطمس ‘ یطمس اہل لغت کے نزدیک مطموس اور طمس اس اندھے کو کہتے ہیں جس کی آنکھوں میں شق ہی نہ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے معنی ہے ہم نے انہیں ہدایت سے اندھا کردیا وہ کبھی بھی حق کے راستہ کی طرف ہدایت پانے والے نہیں۔ حضرت حسن بسری اور سدی نے کہا : ہم نے انہیں اندھا بنا کر چھوڑ دیا وہ متر دو گھومتے پھرتے ہیں ان کا معنی ہے ہم نے انہیں اندھا بنا دیا وہ اپنے گھروں اور دوسری جگہ اپنے تصرفات کے طریقہ کو نہیں دیکھتے ‘ یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ پس انہوں نے راستہ کی طرف جلدی کہ تاکہ وہ گزر جائیں تو وہ کہاں سے دیکھیں۔ عطا ‘ مقاتل اور فتادہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہم ان کی گمراہی کی آنکھوں کو پھاڑ دیتے ہم انہیں ان کی گمراہی سے اندھے کردیتے اور ان کی نظروں کو گمراہی سے ہدایت کی طرف پھیر دیتے پس وہ ہدایت پا جاتے اپنی ہدایت کو دیکھ لیتے اور آخرت کے راستہ کی طرف جلدی کرتے جب کہ ہم نے ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا تو وہ کیسے ہدایت پا سکتے تھے جب کہ ہدایت کی آنکھ ہی بند تھی اور گمراہی پر باقی تھی۔ حضرت عبداللہ بن سلام سے سابقہ گفتگو سے مختلف مروی ہے انہوں نے یہ تاویل کی کہ یہ قیامت کے روز ہوگا کہا : جب قیامت کے دن ہوگا پل کو بچھا دیا جائے گا ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا : چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ اور اس کی امت کھڑی ہوجائے تو ان میں سے نیک و بد سب کھڑے ہوجائیں گے وہ سرور دو عالم ﷺ کے پیچھے چلیں گے تاکہ وہ پل صراط سے گزر جائیں پھر ایک ایک منادی اعلان کرے گا : چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی امت کھڑی ہو۔ آپ (علیہ السلام) اور آپ کی امت کھڑی ہوگی تو نیک و گناہگار ان کے پیچھے چل پڑیں گے تو ان کا راستہ وہی وہ گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہوگا باقی ماندہ انبیاء کی حالت بھی ایسے ہی ہوگی ‘ نحاس نے یہ ذکر کیا ہم نے اس کا ذکر ” تذکرہ “ میں کیا ہے یہ اسی کے مانسب ہے جو ابن مبارک نے ” رقائق “ میں ذکر کیا ہے اور قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اسود بن اسود نے ایک پتھر اٹھایا جب کہ اس کے ساتھ بنی مخزم کی ایک جماعت تھی اس نے پتھر اس لئے اٹھایا تھا تاکہ نبی کریم ﷺ پر اسے پھینکے اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو بند کردیا پتھر کو اس کے ہاتھ کے ساتھ چمٹا دیا نہ اس کے اس نے دیکھا اور نہ اس نے ہدایت پائی اس کے یہ آیت نازل ہوئی۔ مطموس اسے کہتے ہیں جس کی پلکوں کے درمیان شق نہ ہو یہ طمس الریح الاثر سے مشتق ہے ‘ یہ اخفش اور قتبی نے کہا۔ مسخ سے مراد خلقت کو تبدیل کردینا ہے اسے پتھر ‘ جمادیا چوپایا بنا ددینا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : معنی ہے ہم نے انہیں بٹھا دیا وہ طاقت نہیں رکھتے کہ آگے گزریں اور پیچھے ہٹیں اسی طرح جامع چیز آگے اور پیچھے نہیں ہو سکتی بعض اوقات مسخ انسان کو چوپایا بنانے کی صورت میں ہوتا ہے پھر وہ چوپایا کسی ایسے موقع و محل کی سمجھ نہیں رکھتا کہ جس کا وہ قصد کرے پس وہ حیران و پریشان ہوجاتا ہے نہ آگے بڑھتا ہے اور نہ پیچھے ہٹتا ہے۔ (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : معنی ہے اگر ہم چاہتے تو ہم ان کے مسکنوں میں ہی انہیں ہلاک کردیتے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر ہم چاہتے تو ہم اسے اس جگہ پر مسخ کردیتے جہاں اس نے نافرمانی کی جرأت کی تھی۔ حضرت ابن سلام نے کہا : یہ سب کچھ قیامت کے روز ہوگا اللہ تعالیٰ پل صراط پر سے گذرتے وقت ان کی آنکھوں کو مسخ کر دے گا۔ حضرت حسن بصری ‘ سلمی ‘ زربن حبیش اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں مکانتھم جمع کا صیغہ ہے جبکہ باقی نے واحد کا صیغہ پڑھا ہے ابو حیوہ نے فما استطاعو مضیاء قرأت کی ہے۔ المضی جب میم کے ضمہ کے ساتھ ہو تو مصدر ہوتا ہے جس کا معنی جاتا ہے۔ عاصم اور حمزہ نے ننکسہ پڑھا ہے۔ یہ تنکیس سے مشتق ہے جب کہ باقی قراء نے اسے ننکسہ پڑھا ہے یہ نکست الشی انکسہ نکسا سے مشتق ہے جس کا معنی ہے میں نے اسے سر کے بل الٹایا تو وہ الٹ گیا۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ نے اسے اس بڑھاپے کی حالت کی طرف پھیرا جو بچے کی حالت کے مشابہ ہے۔ سفیان نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : جب وہ اسی سال کی عمر کا ہوجاتا ہے تو اس کے جسم میں تبدیلی آجاتی ہے اور اس کی قوت کمزور ہوجاتی ہے (3) ۔ شاعر نے کہا : من عاشق اخلقت الایام جدتہ و خانہ ثقتاہ السمع والبصر (1) جو آدمی طویل عرصہ تک زندہ رہتا ہے تو ایام اس کی تروتاز کی کی بوسیدہ کردیتے ہیں اور اس کی دو قابل اعتماد چیزیں یعنی قوت سماعت اور قوت بصارت اس کے ساتھ خیانت کرتی ہیں۔ لمبی عمر جوانی کو بڑھ اپنے ‘ قوت کو ضعف ‘ زیادہ کو نقص میں تبدیل کردیتی ہے یہی غالب طریقہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارذل عمر کی طرف لوٹائے جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہی (2) ۔ سورة نحل میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے کیا تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ جس نے ایسا کیا ہے وہ تمہیں دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے۔ نافع اور ابن ذکوان نے تعلقون پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے یعقلون پڑھا ہے۔
Ayahs 36:69–70

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پراز حکمت) ہے

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا راستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

اس آیت میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے حال کی خبردی اور کفار کے قول کا رد کیا ہے کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور قرآن شعر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما علمنہ الشعر وما یتبغی لہ ‘ اسی طرح رسول اللہ ﷺ شعر نہیں کہتے تھے اور نہ موزوں کلام کیا کرتے تھے تھے جب آپ کوئی مثال بیان کرنے کے لئے کوئی مصرعہ کہنے کا ارادہ کرتے تھے تو اس نے کے وزن کو توڑ دیتے آپ صرف معانی کی حفاظت کا اہتمام کرتے تھے اس کی مثال یہ ہے کہ ایک روز آپ ﷺ نے (3) طرقہ کا شعر پڑھا : ستبدی لک الایام ما کنت جاھلا ویاتیک من لم تزودہ بالاخبار (4) زمانہ تیرے لئے وہ چیز ظاہر کر دے گا جس سے تونا واقف تھا اور تیرے لئے وہ خبریں لے آئے گا جس کو تو نے زادراہ نہ دیا۔ ایک روز آپ ﷺ نے یہ شعر پڑھا : الم تریانی کلما جئت طارقا وجدت بھا و ان لم تطیب طیبا (5) ایک روز آپ نے یہ شعر پڑھا : اتجعل نھبی و نھب العبید بین الاقرع و عیینہ (6) نبی کریم ﷺ نے شاید ہی کبھی صحیح شعر پڑھا ہے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کا شعر پڑھا : یبیت یجا فی جنبہ ‘ عن فراشہ اذا استثقلت بالمشرکین المضاجمع (1) اس کا پہلو بستر سے الگ تھلگ رات گزارتا ہے جب کہ بستر مشرکین سے بوجھل ہوجاتے ہیں۔ حضرت حسن بن ابی الحسن نے کہا نبی کریم ﷺ نے کہا : کفی بالاسلام والشیب للمرء نا ھیا (2) اسلام اور بڑھاپا انسان کو خبردار کرنے کے لئے کافی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ شاعر نے تو کہا ہے : ہریرہ ودع ان تجھزت غادیا کفی الشیب والاسلام للمرء ناھیا حضرت ابوبکر یا حضرت عمر نے عرض کی : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ ‘ خلیل بن احمد سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ کے ہاں شعر سب سے مرغوب کلام تھا لیکن آپ ﷺ شعر کہتے نہیں تھے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ کبھی کبھی صحیح وزن سے کلام کرنا اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ آپ ﷺ شعر جانتے تھے اس طرح آپ نثر میں سے ایسا کلام کرتے تھے جو موزوں ہوتا جس طرح یوم حنین اور دوسرے مواقع پر فرمایا۔ ھل انت الا اصبع دمیت و فی سبیل اللہ مالقیب (3) تو محض ایک انگلی ججو خون آلود ہوئی تو نے اللہ کی راہ میں دشمن سے ملاقات نہیں کی۔ اور آپ ﷺ کا یہ کہنا : انا النبی لا کذب انا اب عبدالمطلب (4) میں نبی ہوں کوئی جھوٹ نہیں میں ابن عبدالمطلب ہوں۔ آپ قرآن کی آیات اور ہر کلام میں اس طرح کا انداز اپناتے نہ وہ شعر ہوتا اور نہ ہی اس کے معنی میں ہوتا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لن تنا لوا البر حتی تنفقو مما تحبون) آل عمران (92: اللہ تعالیٰ کا فرمان : نصر من اللہ و فتح قریب۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : و جفان کالجواب و قدور رسیت) سبا : (13 اس کے علاوہ کئی اور آیات ہیں۔ ابن عربی نے ان میں سے آیات کا ذکر کیا ہے ان پر گفتگو کی اور وزن سے خارج کیا کہا : ابو الحسن اخفش نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد انا النبی لا کذب کے بارے میں کہا : یہ شعر نہیں خلیل نے کتاب ” العین “ میں کہا : جو سجع دو جزئوں میں ائے وہ شعر نہیں ہوتا ان سے یہ روایت کیا گیا ہے کہ یہ منسوک الجرجز (1) میں سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ منھوک الرجز میں سے نہیں ہوتا مگر جب لا کذب اور عبدالمطلب کی باء پر وقف کیا جائے کسی کو یہ معلوم نہیں نبی کریم ﷺ نے کیسے کیا۔ ابن عربی نے کہا : غالب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے لاکذب کی باء کو مرفوع کہا اور عبدالمطلب کی باء کو اضافت کی وجہ سے مکسور پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : بعض نے کہا روایت اعراجب کے ساتھ ہیق جب روایت اعراب کے ساتھ ہو تو وہ شعر نہیں ہوگا کیونکہ وہ جب پہلے بیت کی باء کو فتحہ دیں یا ضمہ دیں یا تنوین دیں اور دوسرے مصرے کی باء کو کسرہ دیں تو وہ شعر کے وزن سے نکل جائے گا۔ بعض نے کہا : یہ وزن شعر کا نہیں یہ بڑے لوگوں کا مکابرہ ہے کیونکہ عربوں کے اشعار میں اس وزن پر خلیل اور دوسرے علماء نے روایت کیسے ہیں جہاں تک نبی کریم ﷺ کا یہ قول ہے ھل انت الاصبع دمیت (2) ایک یہ کیا گیا ہے کہ یہ بحر سریع میں سے ہے یہ اس وقت ہوگا جب تو دمیت کی تاء کو کسرہ دے اگر اسے ساکن پڑھا جائے تو کسی صورت میں بھی شعر نہیں ہوگا کیونکہ اس حقیقت پر دونوں کلمے فعول کا وزن ہوتا ہے جب کہ فعول کا کوئی دخل نہیں شاید نبی کریم ﷺ نے اسے تاء ساکنہ یا تاء متحرکہ کی اتباع کے بغیر کہا ہو۔ انفعال کی صورت میں اعتماد اس پر ہوگا کہ اسے شعر تسلیم کرلیا جائے اور اعتراض ساقط ہوجاتا ہے اس پر پھر بھی لازم نہیں آتا کہ نبی کریم ﷺ شعر کا علم رکھتے تھے اور نہ یہ لازم اتا ہے کہ آپ شاعر تھے بیت نزر کی شکل اختیار کرنا اور رجز وغیرہ کے دو قافیوں کا پانا اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ اس کا قائل شعر کو جانتا ہے۔ اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسے شاعر نہیں کہتے جس طرح کوئی آدمی ایک دفعہ کپڑا سی لے تو اسے خیاط نہیں کہتے ابو اسحاق زجاج نے کہا کہ وہ علمنہ الشعر کا معنی ہے کہ ہم نے اسے شاعر نہیں بنایا یہ اس کے مانع نہیں کہ آپ ﷺ کو شاعر کہیں۔ نحاس نے کہا : اس بارے میں جو گفتگو کی گئی ہے یہ اس میں سے بہترین گفتگو ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے یہ خبری دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شعر کی تعلیم نہیں دی مگر اس کی خبر نہیں دی کہ آپ شعر نہ کہیں یہی کلام کا ظاہر معنی ہے اس میں ایک واضح قول کیا گیا ہے قول کرنے والے نے یہ گمان کیا گیا کہ یہ اہل لغت کا اجماع ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء نے کہا ہے : جس نے کوئی موزوں کلام کیا جس کے ساتھ وہ شعر کا قصد نہیں کرتا تھا تو وہ شعر نہیں ہوتا وہ شعر کے موافق ہوتا ہے ‘ یہ واضح قول ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے جس چیز کی نفی کی ہے وہ شعر اس کے اضاف قوافی کے علم کی نفی ہے اور اس کے ساتھ متصف ہونے کی نفی کی ہے۔ سرور دو عالم ﷺ اس کے ساتھ متصف نہ تھے کیا تم دیکھتے نہیں کہ قریش آپس میں مشورہ کرتے تھے کہ موسم حج کے موقع پر جب عرب ان کے پاس ائیں گے تو وہ انہیں کیا کہیں گے ؟ بعض نے کہا : ہم کہیں گے وہ شاعر ہے ‘ ان میں سے بعض ذہین لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! عرب تم کو جھٹلا دیں گے کیونکہ وہ شعر کی اصناف کو خوب سمجھتے ہیں اللہ کی قسم ! ان کا کلام تو شعروں میں سے کسی کے بھی مشابہ نہیں اور نہ ہی ان کا قول شعر ہے۔ حضرت انیس جو حضرت ابوذر کے بھائی تھے کہا : تحقیق میں نے ان کے کلام کو اصناف پر پیش کیا تو یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ وہ شعر ہے ‘ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت انیس عربوں کے عمدہ شاعر تھے۔ اسی طرح عتبی بن ربیعہ نے جب رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی تو کہا : اللہ کی قسم ! وہ شعر نہیں ‘ وہ کہانت نہیں ‘ وہ جادو نہیں جس کی وضاحت سوہ فصلت میں انشاء اللہ آئے گی اس کے علاوہ بھی عرب کے فصحاء اور بلغاء نے یہی کہا ہے۔ زبان پر جو کلام مزوں جاری ہوتا ہے اسے شعر نہیں کہتے اس موزوں کلام کو شعر سمار کیا جاتا ہے جو شعر کے وزن پر ہو اور شعر کا قصد بھی کیا جائے کوئی کہنے والا کہتا ہے : ایک بزرگ نے ہمیں بیان کیا ینادی یا صاحب الکسائی۔ اے شعر شمار نہیں کیا جاتا۔ ایک آدمی اپنی مرض میں یوں ندا کیا کرتا تھا : اذھبو ابی الی الطبیب وقولو قداکتوی یہ کوئی شعر نہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ابن قاسم نے ام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ ان سے شعر کہنے کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا : زیادہ شعر نہ کہا کرو اس کا عیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وما علمنہ الشعروما ینبغی لہ ‘ کہا : مجھے یہ خبری پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعرمی کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے پاس شعراء کو جمع کرو اور ان سے شعر کے بارے میں پوچھو کیا ان کے ہاں شعر کی پہچان باقی ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ نے لبید کے حاضر کیا کہا : اس نے انہیں جمع کیا اور ان سے پوچھا انہوں نے کہا : ہم شعر پہچانتے ہیں اور ہم شعر کہتے ہیں انہوں نے لبید سے سوال کیا تو لبید نے کہا : جب سے میں نے اللہ تعالیٰ کے کلام : الم۔ ذلک الکتب لا ریب فیہ سنا میں نے شعر نہیں کہا۔ ابی عربی نے کہا : یہ آیت شعر کا عیب نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : وما کنت تتلوا من قلبہ من کتب ولا تخطہ ‘ بیمینک) عنکبوت (48: کتاب کے عیب میں سے نہیں ہے جب امیت خط کے عیب میں سے نہیں اسی طرح نبی کریم ﷺ سے شعر کی نفی شعر کا عیب نہیں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ مامون نے ابو علی منقرمی سے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو امی ہے تو شعر صحیح نہیں کہہ سکتا اور تو غلط کرجاتا ہے۔ اس نے کہا : اے امیر المومنین ! جہاں تک غلطی کا تعلق ہے بعض اوقات سبت لسانی سے ایسا ہوجاتا ہے جہاں تک امی ہونے اور شعر کو تور دینے کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ بھی تو نہیں لکھتے تھے اور شعر درست نہیں پڑھتے تھے تو مامون نے کہا : میں نے تجھ سے تین عیبوں کے بارے میں پوچھا تھا تو نے چوتھے کا اضافہ کردیا ہے وہ جہالت ہے اے جاہل ! جہاں تک نبی کریم ﷺ میں اس وصف کا تعلق ہے وہ فضیلت ہے جب کہ تجھ میں اور تیرے جیسے دوسرے افراد میں نقص ہے ‘ نبی کریم ﷺ کو اس سے روکا گیا تھا تاکہ آپ ﷺ سے ایک تہمت کو ختم کیا جائے شعر اور کتاب میں کسی عیب کی وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا تھا۔ مسئلہ نمبر -4 شعر کہنا آپ کے لئے مناسب نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے نبی کریم ﷺ کی علامت میں سے ایک علامت بنایا ہے تاکہ جن کی طرف آپ ﷺ کو معبوث کیا گیا ہے انہیں اشتباہ نہ ہو تو اس سے یہ کمان پیدا نہ ہو کہ آپ قرآن پر اس لئے قوی تھے کیونکہ آپ کو شعر کہنے کی قوت حاصل ہے ملحد کو اس بنا پر اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں کہ قرآن حکیم اور رسول اللہ ﷺ کے کلام میں وزن اتفاقا پایا جا رہا ہے کیونکہ جس کا وزن شعر کے وزن کے موافق ہے جب کہ شعر کا قصد نہیں کیا تو وہ شعر نہیں ہوتا تو عام لوگوں میں سے جو بھی موزوں کلام کرتا وہ شعر ہوتا ہے جب کہ لوگ اسے شاعر نہیں کہتے ‘ جس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے کسی کا شعر دہرانا اور اپنی جانب سے شعر کہنا آپ ﷺ کے لئے آسان نہیں رسول اللہ ﷺ جو تم پر تلاوت کرتے ہیں وہ ذکر اور قران حکیم ہے۔ حیا سے مراد دل کا زندہ ہے یہ قتادہ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : حیا سے مراد دانشمند ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ اسے ڈرائیں جو اللہ تعالیٰ کے علم میں مومن ہے۔ تعبیر اس صورت میں ہوگی جب تاء کے ساتھ قرأت ہو اور خطاب نبی کریم ﷺ کو ہو۔ باقی قراء نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں فعل اللہ تعالیٰ کی ذات کے کی طرف لوٹے گا یا فعل نبی کریم ﷺ یا قرآن حکیم کی طرف منسوب ہوگا۔ ابن سمیقع سے لینذر مروی ہے۔ و یحق القول علی الکفرین۔ یعنی کافروں پر قرآن کے ذریعے حجت ثابت ہوچکی ہے۔
Ayahs 36:71–73

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چار پائے پیدا کر دئیے اور یہ ان کے مالک ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

آیت میں رئویت سے مراد دل کا دیکھنا ہے یعنی کیا وہ نظر و فکر نہیں کرتے ‘ عبرت حاصل کرتے اور سوچ و بچار نہیں کرتے ان اعمال میں جو ہم نے بغیر مثال کے کیے ہیں اور واسطہ ‘ واکالت اور شراکت کے بغیر کیسے ہیں مما میں ماء الذی کے معنی میں ہے ضمیر عائد اسم کی طوالت کی وجہ حذف کردی گئی اگر ما کو مصدری بنایا جائے تو ضمیر حذف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انعام یہ نعم کی جمع ہے اور نعم مذکر ہے اب یہ لوگ ان جانوروں کے مالک ہیں اور ان پر غالب ہیں (1) ۔ ہم نے جانوروں کو ان کے لئے مسخر کیا ہے (2) ۔ یہاں تک کہ ایک بچہ بڑے اونٹ کی مہار کو پکڑ کر چلتا ہے ‘ اسے مارتا ہے جیسے چاہتا ہے اس سے کام لیتا ہے اور اس کی طاعت سے نہیں نکلتا ان جانوروں میں سے کچھ ایسے ہیں جن پر سواری کی جاتی ہے رکوب کی عام قرأت راء کے فتحہ کے ساتھ ہے جس طرح حلوب محلوب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اعمش ‘ حسن بصری اور اب سمیقع نے رکوبھم پڑھا ہے یعنی راء مضموم ہے اور مصدر ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے اسے رکوبتھم پڑھا ہے ان کے مصحف میں بھی ایسا ہے رکوب اور رکوبۃ کا معنی ایک ہی ہے جس طرح حلوب اور حلوبہ ‘ حمول اور حمولہ۔ نحوی کو فیوں نے حکامیت بیان کی ہے کہ عرب کہتے ہیں : امراۃ صبور ‘ شکور اس کے آخر میں ھاذکر نہیں کرتے وہ کہتے ہیں شاۃ حلوبہ ‘ ناقۃ رکوبۃ کیونکہ انہوں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اس امر میں فرق کریں کہ کس کا فعل ہے اور کس پر فعل واقع ہو رہا ہے ؟ فاعل سے انہوں نے ھاء کو حذف کردیا ہے اور مفعول میں اسے ثابت رکھاجس طرح شاعر نے کہا : فیھا اثنتان وأربعون حلوبۃ سودا کخافیۃ الاسحم (1) ” ان میں بیالیس ایسی اونٹنیاں ہیں جنہیں دوہا گیا ہے وہ سیاہ رنگ کی ہیں جس طرح سیاہ کوے کے پر ہیں “۔ اس تعبیر کی بنا پر رکوبتھم ہونا واجب ہے۔ جہاں تک بصریوں کا تعلق وہ کہتے ہیں : ھاء تانیث نسبت کی وجہ سے حذف ہے۔ پہلے قول کی دلیل وہ ہے جو جرمی نے ابوعبیدہ سے نقل کی ہے کہا : رکوبۃ یہ واحد اور جمع دونوں کے لئے ہے اور رکوب صرف جمع کے لئے ہے اس تعبیر کی بناء پر یہ جمع کے مذکر ہونے کے لئے ہے۔ ابو حاتم نے گمان کیا : فمنھارکوبھم راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں کیونکہ وہ مصدر ہے اور رکوب اسے کہتے ہیں جس پر سوار ہوا جاتا ہے ‘ فراء نے اسے جائز قرار دیا ہے یعنی راء کے ضمہ کے ساتھ جائز قرار دیا ہے جس طرح تو کہتا ہے : فمنھا اکلھم و منھا شربھم ان میں سے کچھ ان کا کھانا ہے اور ان میں سے کچھ ان کا مشروب ہے اور ان کے گوشت تم کھاتے ہو ان کے کئی اور منافع بھی ہیں یعنی اون ‘ بال وغیرہ ان کی چربیاں اور گوشت وغیرہ۔ مشارب سے مراد ان کے دودھ ہیں (2) یہ منصرف نہیں کیونکہ دونوں جمع ہیں واحد میں ان کی کوئی مثال نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر بجا نہیں لاتے۔
Ayahs 36:74–76

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لئے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(مگر) وہ ان کی مدد کی (ہر گز) طاقت نہیں رکھتے اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کئے جائیں گے

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

ان لوگوں نے ہماری قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھا ہے پھر انہوں نے ہمیں چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں وج کسی فعل پر قدرت نہیں رکھتے جب کہ وہ ان کی اس وقت مدد کی امید رکھتے ہیں اگر ان پر عذاب نازل ہو عرب یوں کلام کرتے ہیں لعلہ ان یفعل جب کہ وہ معبود ان باطلہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ بتوں کے لئے فعل واونون کے ساتھ جمع ذکر کیا ہے کیونکہ ان کے بارے میں خبری دی گئی ہے جس طرح انسانوں کے بارے میں خبری دی جاتی ہے۔ جب کفار ان جھوٹے معبودوں کے حاضر لشکر ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان معبودوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں (3) قتادہ نے کہا : کفار دنیا میں ان کے لئے غضبناک ہوجاتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : کفا ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں پس کفار ان کے لئے لشکر کے حکم میں ہوتے ہیں جب کہ یہ معبود ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ تینوں قول قریب المعنی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : معبود ان باطلہ ‘ اپنے عبادت گزاروں کے لشکر ہوں گے ان کے ساتھ جہم میں حاضر ہوں گے ان میں سے بعض کا دفاع نہیں کریں گے۔ ایک قوم یہ کیا گیا : اس کا معنی ہے بت جہنم میں ان کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ کے لشکر ہوں گے کیونکہ یہ بت ان مشرکوں پر لعن طعن کریں گے اور ان کی عبادت پر برأت کا اظہار کریں گے۔ ایک قوم یہ کیا گیا ہے : معبود ان باطلہ ان کے لشکر ہوں گے قا امت کے روز انہیں حاضر کیا جائیگا تاکہ یہ بت ان کے گمانات میں ان کی مدد کریں۔ حدیث طیبہ میں ہے : ” یہ قوم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کیا کرتی تھی اسے ایک مثالی صورت دی جائیگی وہ قوم جہنم کی طرف اس معبود کے پیچھے پیچھے چلے گی پس وہ کفار ان کے حاضر لشکر ہوں گے “۔ میں کہتا ہوں : اس حدیث کا معنی جو صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور ترمذی شریف میں ثابت ہے وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے روز اللہ تعالیٰ قومووں کو کھلے میدان میں جمع کرے گا پھر رب العالمین ان کی طرف جھانکے گا ارشاد فرمائے گا : خبردار ! ہر انسان اس کے پیچھے چلے جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا صلیب کی پوجا کرنے والے کے لئے صلیب کو مثالی صورت دی جائے گی ‘ تصاویر کی پوجا کرنے والے کے لئے تصویر کو مثالی صورت دی جائیگی اور آگ کی پرستش کرنے والے کے لئے آگ کو مثالی صورت دی جائے گی تو جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے چلیں گی اور مسلمان باقی رہ جائیں گے (1) “ اور طویل حدیث ذکر کی۔ اے محبوب ! آپ ﷺ کو ان کی گفتگو غمگین نہ کرے یحزنک کو مجرد سے معروف پڑھنا یہ فصیح لغت ہے عربوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں : یخزنک اس سے مرادی نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا ہے یعنی ان کا یہ کہنا : وہ شاعر ہے ‘ جادوگر ہے تجھے غمگین نہ کرے گفتگو اپنے اختتام کو پہنچی پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا فرمایا : انا نعلم ماسرون وہ یعلنون۔ یعنی اللہ تعالیٰ قول و عمل کو جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں اور جسے وہ ظاہر کرتے ہیں پس ہم اس کے مطابق انہیں بدلہ دیں گے۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انسان سے مراد عبداللہ بی ابی ہے (2) ۔ سعید بن جبیر نے کہا : وہ عاصی بن دائل سہمی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ ابی بن خلف جمحی ہے ‘ یہ ابن اسحاق کا قول ہے۔ اب وہب نے اسے امام مالک سے روایت کیا ہے۔ نطفہ سے مراد تھوڑا سا پانی ہے نطف سے مراد ہے جب وہ ٹپکائے۔ خصیم مبین۔ سے مراد ہے (3) وہ خصومت ہے جدال کرنے والے اور حجت کو بیان کرنے والا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک پرانی ہڈی لایا اس نے کہا : اے محمد ! کیا تیری یہ رائے ہے کہ اس ہڈی کے بوسیدہ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہاں اللہ تعالیٰ تجھے زندہ کرے گا اور تجھے جہنم میں داخل کرے گا ٭“ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 36:78–79

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کہ (جب) ہڈیا بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا ؟

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار ان کو پیدا کیا تھا اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

مسئلہ نمبر -1 وہ بھول گیا کہ ہم نے اسے مردہ نطفہ سے پیدا کیا اور ہم نے اس کی زندگی کو رکھ دیا یعنی اس کی ذات میں ہی جواب موجود ہے اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہاں اللہ تعالیٰ تجھے اٹھائے اور اور تجھے جہم میں داخل کرے گا (1) “ اس میں قیاص کی صحت پر دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منکرین بعث کے خلاف پہلی دفعہ پیدا کرنے سے استدلال کیا ہے۔ رمیم کا معنی بوسیدہ ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے : رم العظیم فھو رمیم و رمام۔ رمیم فرمایا رمیمہ نہیں کہا کیونکہ یہ فاعلۃ سے معدول ہے جو کلمہ اپنے وزن سے معدول ہوا سے اعراب سے بھی پھیردیا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما کا نت امک بغیا۔ ) مریم ( بغیاء کے آخر سے یاء کو گرا دیا کیونکہ اسے باغیۃ سے پھیرا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کافر نے نبی کریم ﷺ سے کہا : بتائیے اگر میں اسے پیس دوں اور ہوا میں بکھیر دوں کیا اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کرے گا (2) تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی فرما دیئجئے : وہ ذات اسے زندہ کرے گی جس نے اسے پہلی بار بغیر مثال کے پیدا کیا تو وہ دوبارہ کسی شے کو پیدا کرنے پر بدرجہ اولی قد رہے (3) وہ شے عجم الذنب ہے اسے پہلی دفعہ پیدا کرنا ہے اور کیسے اسے دوبارہ پیدا کرنا ہے (4) ۔ مسئلہ نمبر 2 : اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ ہڈیوں میں زندگی ہے اور اور موت کے ساتھ وہ ناپاک ہوجاتی ہیں ‘ یہ امام ابوحنیفہ اور بعض اصحاب شافعی کا قول ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : ہڈی میں کوئی زندگی نہیں۔ یہ بحث سورة نحل میں پہلے گذر چکی ہے۔ اگر یہ کہا جائے : اللہ تعالیٰ نے من یحی العظام سے مراد اصحاب عظام لئے ہیں اور مضاف الیہ کا مضاف کی جگہ واقع ہونا لغت میں بہت زیادہ ہے اور شریعت میں بھی موجود ہے۔ ہم کہتے ہیں : اس وقت ہوتا ہے جب ضرورت ہو جب کہ یہاں کوئی ضرورت نہیں جو اس اضمار کا باعث ہو یہاں تک کہ اس تقدیر کلام کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہے اور وہ اس پر قادر ہے حقیقت اس کی گواہی دیتی ہے کیونکہ احساس جو زندگی کی علامت ہے اس میں موجود ہے ‘ ایہ ابن عربی کا قول ہے