Ayahs 36:30–3230.32:۔ یحسرۃ علی العباد ‘ حرۃ منصوب ہے کیونکہ نکرہ کو ندا کی جا رہی ہے۔ بصریوں کے نزدیک نصب کے علاوہ کوئی صورت جائز نہیں۔ حضرت ابی کی قرأت میں یا حسرۃ العباد یعنی حسرۃ کا لفظ مضاف ہے (1) لغت میں حسرت کے معنی یہ ہے کہ انسان کو شرمندگی لاحق ہو جس کی وجہ سے یہ حسیر یعنی افسوس کرنے والا ہوجائے۔ قراء نے کہا : پسندیدہ قرائت نصب ہے۔ اگر نکرہ کو رفع دیا جائے جو صلہ کے ساتھ ملا ہوا ہو تو یہ بھی صورت درست ہے اور چند چیزوں سے دلیل قائم کی ہے ان میں سے یہ ہے کہ انہوں نے عربوں سے سنا یا یامھتم بامرنا لاتھتم اور یہ مصرعہ پڑھا :
یا دارغیرھا البلی تغیرا
اے گھر ! جسے بوسیدگی نے تبدیل کردیا۔
نحاس نے کہا : اس میں تو نداء کے تمام احکام یا اکثر احکام کا ابطال ہے کیونکہ وہ خالص نکرہ کو رفیع دیتا ہے اور اسے جو اپنی طوالت میں مضاف کے قائم مقام ہوتا ہے اس کو رفع دیتا ہے اور تنوین کے حذف کے ساتھ رفیع دیتا ہے جب کہ وہ متوسط ہو اور اسے رفع دیتا ہے جو معنی میں مفعول ہو جب کہ ایسی علت نہ ہو جو اسے واجب کرے۔
عربوں سے جو کچھ اس نے حکایت بیان کی ہے وہ تو اس کے مشابہ نہیں جس کو اس نے جائز قرار دیا ہے کیونکہ یامھتم بامرنا لاتھتم کی تقدیر تقدیم و تاخیر کی بنا پر ہے معنی ہے یا یھا المھتم الاتھتم بامرنا اس مصرعہ کی تقدیر کلام یون ہے یا ایتھا الدار پھر خطب کو تبدیل کیا اور کہا : اے لوگو ! اس گھر کی بوسیدگی نے بدل دیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حتی ازا کنتم فی الفلک و جرین بھم) یونس (22: حسرۃ کا لفظ ندا کی وجہ سے منصوب ہے جس طرح تو کہتا : یا رجلا اقبل۔ ندا کا مطلب یہ ہوگا یہ حسرت کے حاضر ہونے کی جگہ ہے۔ طبری نے کہا : معنی ہے بندوں کی اپنی ذاتوں پر حسرت اور شرمندگی ہے کہ وہ اللہ کے رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے ہائے بندوں پر ہلاکت۔ ان سے یہ بھی قول مروی ہے : یہ لوگ اس جگہ واقع ہوتے ہیں جن پر حسرت کی جاتی ہے۔
ربیع نے انس سے وہ ابوالعالیہ سے روایت نقتل کرتے ہیں : یہاں عباس سے مراد رسول ہیں اس کی وجہ سے کفار نے جب عذاب کو دیکھا تو انہوں نے کہا : یحسرۃ علی العباد تو انہوں نے قتل کرنے ‘ ایمان کو ترک کرنے پر حسرت کا اظہار کیا انہوں اس وقت ایمان کی تمنا کی جب ایمان انہیں کوئی نفع نہ دے سکتا تھا ‘ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : جب کفار نے رسولوں کو جھٹلایا تو فرشتوں نے کفار پر حسرت کی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یحسرژ علی العباد آدمی کا قول تھا جو شہر کے دور دراز حصہ سے دوڑتا ہوا آیا تھا جب قوم کے لوگ اسے قتل کرنے کے لئے جھپٹ پڑے تھے۔
ایک قول یہ کیا گیا کہ ان تین افراد نے یہ بات کہی تھی جب قوم نے اس آدمی کو قتل کردیا تھا اور بھیجے گئے افراد ان سے جدا ہوگئے تھے یا انہوں نے تین بھیجے گئے افراد کے ساتھ اس آدمی کو بھی قتل کردیا جس طرح روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے : ہائے ان بھیجے گئے افراد پر افسوس ! اس آدمی پر افسوس کاش ! ہم ان پر اس وقت ایمان لاتے جس وقت ایمان انہیں نفع دیتا۔ اس کے بارے میں گفتگو مکمل ہوچکی ہے پھر نئے سرے سے گفتگو شروع کی فرمایا : ما یاتیھم من رسول۔
ابن یزید ‘ مسلم بن جندب اور عکرمہ نے یا حسرژ علی العباد پڑھا ماء کو ساکن پڑھا ہے مقصود بیان پر حرص دلانا ہے اور نفس میں معنی کو پختہ کرنا ہے کیونکہ موقع وعظ و نصیحت کا تھا عرب اس موقع پر اس قسم کا عمل کرتے ہیں اگرچہ وقف کا موقع نہ بھی ہو اس معنی میں وہ روایت بھی ہے جو نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں مروی ہے کہ آپ ﷺ ایک ایک حرف (1) قرائت کرتے مقصود بیان اور سمجھانے پر حرص دلانا تھا گویا حسرۃ پر وقف کو مقدر کیا اور ھاء کو کسرہ دیا پھر کہا : علی العباد یعنی میں بندوں پر حسرت کرتا ہوں۔
حضرت ابن عباس ‘ ضحاک اور دوسرے علماء سے یہ مروی ہے یاحسرۃ العباد میں حسرۃ کا لفظ مضاف ہے اور علی کا لفظ مخذوف ہے۔ یہ مصحف کے خلاف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اپنے فاعل کی طرف مضاف ہو تو العباد اس کا فاعل ہوگا گویا جب انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کیا تو انہوں نے حسرت کا اظہار کیا عو یہ کلام تیرے اس صورت میں عباد کا لفظ مفعول ہوگا گویا بندوں پر وہ حسرت کا اظہار کرتا ہے جو ان پر شفقت کرتا ہے جس نے یاحسہ ہ علی العباد کی قرائت کی ہے وہ اس معنی کو قوت بخشتی ہے سیبو یہ نے کہا میں ان کم اھلکنا سے بدل ہے یہاں کن خبر یہ ہے اس وجہ سے اس سے اس چیز کو بدل بنانا جائر ہے جو استفہام نہ ہو معنی اس کا یہ بن جائے گا : کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جن قوموں کو ہم نے ہلاک کیا ہے وہ ان کی طرف لوٹنے والے نہیں۔
فراء نے کہا : کم دو وجہ سے محل نصب ہیں : (1) یروا کی وجہ سے، اس پر دلیل حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات سے پیش کی ہے وہ قراءت اس طرح ہے الم یروا من اھلکنا (2) اھلکنا کی وجہ سے کم منصوب ہے۔ نحاس نے کہا : پہلا قول محال ہے کیونکہ کم میں اس لا ما قبل عمل نہیں کرتا کو ن کہ یہ استفہا حیہ ہے اور یہ بات محال ہے کہ استفہام ما قبل کی خبر پر داخل ہو جب یہ ہو تو اس وقت بھی اس کی صورت حال یہی ہوگی اگرچہ سیبو یہ نے ان میں سے بعض چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور انھم کو کم سے بدل بنایا ہے۔ محمد بن زید نے اس کا شدید ترین رد کیا ہے اور کہا کم اھلکنا کی قوموں کو ہلاک کردیا، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ہب مسعود کی قرائت میں من اھلکنا ہے۔
حضرت حسن بصری نے اسے لنھم الیھم لایرجعون پڑھا ہے کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے (2) یہ آیت اس آدمی کا رد ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ مخلوقات میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جو موت کے بعد قیا مت سے پہلے لوٹیں گیں۔
و ان کل لما جمیع الدینا محضرون۔ سے مراد یوم قیامت ہے ‘ جزا کے لئے انہیں حاضر کیا جائے گا۔ اب عامر ‘ عاصم اور حمزہ نے لما پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے لما پڑھا ہے۔ ان مشقلہ سے مخففہ ہے اس کا مابعد مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اس کا مابعد خبر ہے جب اس کا لفظ بدل گیا تو اس کا عمل باطل ہوگیا اس کی خبر پر لام کی داخل کرنا لازم ہے تاکہ ان تاکیدیہ اور ان نافیہ کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ ابوعبیدہ کے نزدیک ما زائدہ ہے اس کے نزدیک تقدیر کلام ہوں ہوگی و ان کل لجمیع۔ فراء نے کہا جس نے اسے مشدد پڑھا ہے اس نے لما کو الا کے معنی میں بنایا ہے اور ان ‘ ما کے معنی میں ہے جس طرح یہ قوم ہے : ان ھو الا رجل بہ جنۃ) المومنون (25: وہ نہیں مگر ایسا آدمی جس کو جنون ہے۔ سیبویہ نے سائتک باللہ لما فعلت میں حکایت بیان کی ہے۔ کسائی نے کہا : یہ معروف نہیں۔ یہی بحث سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
ہضرت ابی کی قرائت میں و ان منھم الاجمیع لدینا محضرون ہے۔
Ayahs 36:33–36اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے انہیں مردوں کے زندہ کرنے پر متنبہ کیا اور ان کے سامنے اپنی توحید اور کمال قدرت کا ذکر کیا یہ مردہ زمین ہے جسے نباتات اور نباتات سے دانہ نکالنے کے ساتھ اسے زندہ کیا اس دانہ سے تم غذا حاصل کرتے ہو اہل مدینہ نے المیتۃ کے لفظ کو مشدد پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور ہم نے اس زمین میں باغات بنائے کھجور اور انگروں کا خصوصی طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ دونوں اعلی قسم کے پھل ہیں ان باغات میں ہم نے چشمے جاری کردیئے ثمرہ میں جو ضمیر ہے وہ عیون کے پانی کی لوٹتی ہے کیونکہ پھل اسی سے پیدا ہوتے ہیں یہ جرجانی ‘ مہدوی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ایک قوم یہ کیا گیا ہے : جن کا ہم نے ذکر کیا وہ اس کے پھل کھائیں جس طرح ارشاد فرمایا : و ان لکم فی الانعام لعبرژ نسقیکم مما فی بطونہ) النحل (66: حمزہ اور کسائی نے اسے من ثمرہ پڑ ھا ہے۔
جبکہ باقی قراء نے اسے مفتوح پڑھا ہے۔ اعمش نے یہ لفظ ثاء کے ضمہ اور میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اس بارے میں گفتگو الانعام میں گزر چکی ہے۔
وما عملتہ ایدیھم میں ما کا لفظ محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف من ثمرہ پر ہے یعنی ممما عملتہ ایدیھم کو فیون نے اسے ھاء کے بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے اپنے اصل پر حذف کے بغیر پڑھا ہے۔ کلام میں ضمیر عائد کا حذف اکثر ہوتا ہے کیونکہ اسم طویل ہوتا ہے) کیونکہ اسم موصول صلہ کے ساتھ ملکر ایک اسم کے حکم میں ہوتا ہے ( یہ بھی جائز ہے کہ ما نافیہ ہو اس کا اعراب میں کوئی محل نہ ہوا اسے صلہ اور ضمیر عائد کی کوئی ضرورت نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اگائی ہے وہ ان کے ہاتھوں کے پیدا کردہ نہیں ‘ یہ حضرت ابن عباس ‘ ضحاک اور مقاتل کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس کا معنی ہے ان پھلوں میں سے جون کے ہاتھوں کی کاوش کا نتیجہ ہیں اور میٹھی اور کھانے کے مختلف اقسام میں سے اور وہ چیزیں جو کسی خاص طریقہ سے دانوں سے بناتے ہو جس طرح روٹی اور تیل جو تلوں اور زیتون سے نکالا جتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس طرف راجع ہے جسے لوگ کھاتے ہیں ‘ یہی معنی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ افلا یشکرون۔ کا مفعول نعمہ ہے کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا نہیں لاتے۔
سبحن الذی اللہ تعالیٰ نے کفار کے قول سے اپنی پاکی بیان کی ہے کیونکہ کفار نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی قدرت کے آثار کو دیکھنے کے بعد غیر اللہ کی عبادت کی۔ اس کلام میں فعل امر کی تقدیر ہے مراد یہ ہے سجوہ و نزھوہ عما لا یلیتق بہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسی میں تعجب کا معنی ہے یعنی ان کافروں کے کفر پر تعجب ہے جو ان آیات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود اس کا انکار کرتے ہیں۔ جو کسی چیز پر تعجب کا اظہار کرتا ہے تو وہ سبحان اللہ کہتا ہے۔ ازواج کا معنی انواع واضاف ہیں ہر زوج صنف ہوا کرتا ہے کیونکہ وہ رنگ ‘ ذائقہ ‘ شکل ‘ چھوتے برے ہونے میں مختلف ہوتے ہیں ان کا اختلاف ہی ان کی ازواج ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد مذکر اور مئونث ہے۔
مما تنبت الارض سے مراد نباتات ہے کیونکہ اس کی اقسام ہوتی ہے و من افسھم سے مراد ایسی اولاد ہے جو جوڑے جوڑے ہیں ان میں سے مذکر اور مئونث ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے خشکی ‘ سمندر ‘ آسمان اور زمین میں ایسی مخلوقات میں سے ہیں جنہیں تم نہیں جانتے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے پیدا فرماتا ہے اسے کوئی انسان نہ جانتا ہو اور فرشتے اسے جانتے ہوں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اس مخلوق کو کوئی دوسری مخلوق نہ جانتی ہو۔ اس آیت میں استدلال کی صورت یہ ہے کہ جب وہ پیدا کرنے میں منفرد ہے تو مناسب نہیں کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔
Ayahs 36:37–38یہ اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ اس کی قدرت اور اس کی اہمیت کے ثبوت پر علامت ہے سدخ کا معنی اتارنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : سلخہ اللہ من دینہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے دین سے الگ کردیا پھر یہ نکالنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے روشنی جانے اور تاریکی کے آنے کو ‘ کسی شے سے چمڑے کو اتارنے اور جسم کے ظاہر ہونے کی طرح ہے پس یہ اشارہ ہے مظلون۔ وہ تاریکی میں داکل ہونے والے ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : اظلمنا ہم رات کی تاریکی میں داخل ہوتے ہیں اظہرنا ہم ظہر کے وقت میں داکل ہوئے۔
ایک قول یہ کیا گیا منہ ‘ عنہ کے معنی میں ہے اس کا معنی ہے ہم نے اس سے دن کی روسنی کو الگ کردیا تو اچانک وہ تاریکی میں تھے کیونکہ دن کا نور ہوا میں داخل ہوتا ہے تو وہ روشن ہوجاتا ہے جب وہ ہوا سے نکل جاتا ہے تو وہ تاریک ہوجاتا ہے (1) ۔
والشمس تجری لمستقرلھا یہ جائز ہے کہ تقدیر کلام یوں ہو ایۃ لھم الشمس یہ بھی جائز ہے کہ الشمس اس فعل کی وجہ سے مرفوع ہو جس کی تفسیر مابعد فعل کرتا ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ الشمس مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو۔ تجری خبر ہے جو جاریۃ کے معنی میں ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان و الشمس تجری لمستقرلھا کے بارے میں سوال کیا۔ فرمایا : ” اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے (2) “ اس بارے میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ “ صبحانہ نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا :” سورج چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے سفر کی انتہا کرتا ہے پھر وہ سندہ ریز ہوجاتا ہے وہ اسی طرح رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے : تو اٹھ اور جہاں سے تو آیا ہے اس کی طرف واپس لوٹ جا تو وہ صبح کے وقت اپنے مطلع سے طلوع کرتا ہے ‘ پھر وہ چلتا رہتا ہے لوگ اس سے کوئی عجیب چیز نہیں دیکھتے یہاں تک کہ وہ عرش کے نیچے اس ٹھکانے تک جا پہنچتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے : اٹھ تو مغرب سے کل صبح طلوع کر تو وہ مغرب سے طلوع کرے گا “۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو کہ یہ کب ہوگا ؟ یہ اس وقت ہوگا جس وقت کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے قبل ایمان نہیں لایا تھا اس نے اپنے ایمان میں کوئی خیر کا عمل نہ کیا تھا “۔
بخاری شریف کے الفاظ حضرت ابوذر ؓ سے یوں مروی ہیں (3) کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے اس وقت کہا جب سورج غرب ہوا : کیا تو جانتا ہے سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ فرمایا : ” یہ جاتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے وہ اجازت طلب کرتا ہے تو اسے اجازت دی جاتی ہے ممکن ہے وہ سجدہ کرے تو اس کا سجدہ قبول نہ کیا جائے وہ اجازت طلب کرے تو اسے اجازت نہ دی جائے اسے کہا جائے : جہاں سے آیا ہے اسی طرف لوٹ جا تو وہ مغرب کی جانب سے طلوع کرے اللہ تعالیٰ کا فرمان : والشمس تجری لمستقرلھا ذلک تقدیر العزیز العلیم۔ کا یہی مفہوم ہے۔
ترمذی شریف کے الفاظ حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس طرح مروی ہیں (1) : جب سورج غروب ہوگیا تو میں مسجد میں داخل ہوا جب کہ نبی کریم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! کیا تو جانتا ہے کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ “ میں عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ فرمایا :” یہ جاتا ہے سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دی جاتی ہے گویا اسے کہا جاتا ہے جہاں سے آیا ہے وہاں سے طلوع ہو تو وہ مغرب سے طلوع کرتا ہے پھر آپ ﷺ نے اس کی تلاوت کی “۔ ذالک مستقرھا کہا : یہ حضرت عبداللہ کی قراءت ہے۔ امام ترمذی حضرت ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عکرمہ نے کہا : سورج جب غروب ہوتا ہے وہ عرش کے نیچے ایک محراب میں د اخل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسیبح بیان کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صبح کرتا ہے جب وہ صبح کرتا ہے تو باہر آنے سے اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلب گار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرمایا ہے : جب میں نکلوں گا تو تیرے سوا میری عبادت کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : نکل اس وجہ سے تجھ پر کوئی قدغن نہیں میں ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ ان کی طرف جہنم بھیجو گا وہ اسے کھینچتے ہوئے لائیں گے یہاں تک کہ فرشتے ان سب کو جہنم میں داخل کریں گے “ کلبی اور دوسرے لوگوں نے کہا : اس کا معنی وہ غروب میں بعید ترین منزل کی طرف چلے گا پھر وہ قریب ترین منزل کی طرف لوٹے گا اس کا ٹھکانہ اس کا اس جگہ تک پہنچنا ہے جہاں سے وہ آگے نہیں جاتا ل کہ اس جگہ سے لوٹ آتا ہے جس طرح ایک انسان وہ مسافت طے کرتا ہے یہاں تک کہ آخری منزل تک پہنچتا ہے اور اپنا کام مکمل کرتا ہے پھر اس پہلی منزل کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے اس نے اس سفر کا آغاز کیا تھا سورج کا اپنی آخری منزل تک پہنچنا جب کہ وہ اس کا مستقر ہے جب وہ ہمنعہ) جسے تیئس 23 جون ( طلوع ہوتا ہے یہ سال کا سب سے لمبا دن ہوتا ہے اور اس کی رات سب سے چھوٹی ہوتی ہے دن پندرہ گھنٹے کا ہوتا ہے اور رات نو گھنٹے کی ہوتی ہے پھر دن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور سورج لوٹ آتا ہے جب ثریا طلوع کرتا ہے تو رات اور دن برابر ہوجاتے ہیں تو رات اور دن میں سے ہر ایک بار بار گھنٹے کے ہوجاتے ہیں پھر وہ قریبی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور نعائمہ) تیئس 23 دسمبر ( کو طلوع ہوتا ہے۔ یہ سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے اور رات پندرہ گھنٹے کی ہوتی ہے یہاں تک کہ فرغ دلوموخر) تیئس 23 مارچ ( کو طلوع کرتا ہے تو رات اور دن برابر ہوجاتے ہیں ہر رات دن سے ہر روز گھنٹے کا تئیسواں حصہ لیتی ہے ہر دن گھنٹے کا ایک تہائی لیتے ہیں اور ہر ماہ ایک گھنٹہ لیتا ہے یہاں تک کہ رات اور دن سے اسی طرح حصہ لیتا رہتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سورج کے سال میں تین سو ساٹھ مطلع ہوتے ہیں ہر روز ایک مطلع میں نزول کرتا ہے پھر ایک سال تک اس میں نزول نہیں کرتا وہ انہیں منازل میں گردش کرتا رہتا ہے (2) یہی اس کا مستقر ہے یہ معنی میں اس جیسا جس کا زکر پہلے ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب سورج غروب ہوتا ہے اور اس کی جگہ تک جا پہنچتا ہے جس سے آگے تجاوز نہیں کرتا تو وہ طلوع ہونے تک اس کے نیچے قرار پر رہتا ہے۔
میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ نے جو کہا ہے وہ تمام اقوال کو جامع ہے اس میں غور کرو۔ حضرت ابن مسعود اور ہضرت ابن عباس رضی للہ عنہما نے کہا : یوں قرأت کی والشمس تجری لمستقرلھا کہ وہ رات اور دن میں جاری رہتا ہے اس میں نہ ٹھہرائو ہے نہ ہی قرار ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت کے روز اسے گرا دے گا۔ جس نے مصحف کی مخالف کی اس نے کہا : میں حضرت اب مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت کو پڑھتا ہوں۔ ابن انباری نے کہا : جس نے یہ قول نقل کیا ہے وہ باطل ہے اس پر اسے لوٹا دیا جائے کیونکہ ابو عمر نے ماجد سے ‘ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ابن کثیر نے مجاہد سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ والشمس تجری لمستقر لھا یہ دونوں سندیں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہیں جن کی صحت پر اجماع گواہی دیتا ہے اور جو ضعیف سند کے ساتھ جماعت اور امت کے متفق علیہ مذہب کی مخالفت کرتا ہے یہ دونوں سندیں اس کو باطل کردیتی ہیں۔
میں کہتا ہوں : وہ ثابت شدہ احادیث جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اس کے قول کو رد کردیتی ہیں اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے وہ اللہ پر کتنا جری ہے۔
قول لمستقرلھا میں لام ‘ الی کے معنی میں ہے۔ مستقر سے مراد قرار کی جگہ ہے یعنی رات ‘ دن اور سورج کا جو مقام ذکر کیا گیا ہے یہ عزیز وعلیم و تقدیر ہے۔
Ayah 36:39اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ والقمر اس کی تقدیر کلام یوں ہے و ایۃ لھم القمر۔ یہ بھی جائز ہے کہ القمر مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہو کر فیوں نے اسے والقمر منصوب پڑھا ہے کیونکہ فعل مضمر ہے ‘ یہ ابو عبیدہ کا پسندیدہ مسلک ہے ‘ اس نے کہا : اس سے قبل نسلخ فعل ہے اور اس کے بعد قدرناہ فعل ہے۔ وہ ھاء میں عامل ہے۔ ابو حاتم نے کہا : اس میں رفع بہتر ہے کیونکہ تو نے ضمیر کی وجہ سے فعل کو اس سے غافل کردیا ہے تو اسے رفع دے گا۔ یہ قول کیا جاتا ہے : چاند کی منازل نہیں ہوتیں تو پھر کیسے ارشاد فرمایا : قدرنہ منازل اس بارے میں دو جواب ہیں : (1) اس سے مراد ہم نے اسے منازل والا بنا دیا ہے جس طرح وسل القریۃ) یوسف (82: سے مراد اہل قریۃ ہے (2) اصل کلام یوں تھا قدرنا لہ منازل پھر لام کو حذف کردیا گا وس کا حذف بہت اچھا ہے تاکہ فعل دو مفعولوں کی طرف واسطہ کے بغیر متعدد ہو جس طرح اس ارشاد میں ہے : واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا) الاعراف (155: منازل اٹھائیس ہیں۔ چاند ہر روز ایک منزل میں اترتا ہے وہ سرطان ‘ بطین ‘ ثریا ‘ دبران ‘ ہقعہ ‘ ہنعہ ‘ ذراع ‘ نثرہ ‘ طرف جبہہ ‘ خراتان ‘ صرف ‘ عواء ‘ سماک ‘ غفر ‘ زبانیان ‘ اکلیل ‘ قلب ‘ شولہ ‘ نعائم ‘ بلدہ ‘ سعدالذابح ‘ سعد بلع ‘ سعد السعود ‘ سعد الاخبیہ ‘ الفرغ المقدم ‘ الفرغ الموخر اور بطن الحوت (1) ۔
جب چاند اس آخری منزل میں پہنچتا ہے تو پھر پہلے کی طرف لوٹ آتا ہے وہ فلک کو اٹھائیس راتوں میں طے کرتا ہے پھر چھپ جاتا ہے پھر ہلال کی صورت میں طلوع کرتا ہے اور فلک طے کرنے میں منازل کی طرف لوٹ آتا ہے یہ بروج پر منقسم ہے ہر برج دو منزلیں اور ایک تہائی ہے حمل کے لئے سرطان ‘ بطین اور ثریا ایک تہائی ہے ‘ ثور کے لئے ثریا کے دو ثلث اور دبران اور ہقعہ کے دو تہائی ہیں ہر باقی کے لئے بھی یہی صورتحال ہے۔ سورة حجر میں بروج کے ناموں کا ذکر ہوچکا ہے۔ الحمد اللہ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو آگ سے پیدا کیا ہے پھر طلوع کے وقت انہیں نور کا لباس عطا کیا جہاں تک سورج کے نور کا تعلق ہے تو وہ وعرش کے نور سے ہے جہاں تک چاند کے نور کا تعلق ہے تو وہ کرسی کا نور ہے وہ ان کی پیدائس کی اصل اور یہ ان کی لباس ہے جہاں تک سورج کا تعلق ہے تو اس کے لباس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ شعاع والا اور روشن ہوتا رہے جہاں تک چاند کا تعلق ہے روح الامین نے اپنے پروں کو اس کے چہرہ پر پھیر تو اس کی روشنی کو پروں کے غلبہ سے مٹا دیا کیونکہ وہ روح ہیں اور روح اس کی سلطان ہے جو تمام اشیاء پر غالب ہے اس کا محو باقی رہا جیسا اسے مخلوق دیکھتی ہے پھر اسے پانی کے غلاف میں رکھ دیا پھر اس کے لئے گذر گاہ بنائی ہر رات مخلوق کے لئے اس غلاف سے اس قدر چاند ظاہر ہوتا ہے جس قدر وہ ان کے لئے ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا ظہور ان کے لئے مکمل ہوجاتا ہے اور مخلوق اس چاند کو مکمل اور پورا گول دیکھتی ہے پھر ہر رات اس میں سے کچھ حصہ اس غلاف کی طرف لوٹ جاتا ہے اور اسی مقدار سے دکھائی دینے میں کم ہوتا جاتا ہے جس قدر ظاہر ہونے میں ظاہر ہوا تھا اور اسی جانب سے نقصان میں کمی شروع ہوجاتی ہے جس جانب سورج اسے نہیں دیکھتا وہ اس کی وجہ اس کا خشک ہونا اور باریک ہونا ہے۔ اسے قمر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی سفیدی کی وجہ سے فضا کو سفید کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ چھپ جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ زجاج نے کہا : یہ کھجور کی ایسی شاخ ہے جس پر چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں ہوں (2) یہ انعراج سے فعلون کا وزن ہے انعراج کا معنی مڑ جانا ہے یعنی وہ اپنی منازل میں چلتا ہے جب وہ آخری منزل میں پہنچتا ہے تو وہ باریک ہوجاتا ہے۔ قوس دار ہوجاتا ہے اور تنگ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ کھجور کی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے اس تعبیر کی بنا پر نون زائدہ ہے قتادہ نے کہا : عرجون سے مراد کھجور کی خشک مڑی ہوئی شاخ ہے۔ ثعلب نے کہا العرجون سے مراد کھجور کا گھچا جب کاٹا جائے تو جو باقی رہے جائے وہ عرجون ہے القدیم سے مراد بوسیدہ ہے۔ خلیل نے کہا : عرجون سے مراد شاخ کی جڑ ہے یہ زرد رنگ کی چوڑی ہوتی ہے جب چاند ٹیڑھا ہوجاتا ہے تو اسے اس شاخ کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے جوہر نے کہا : عرجون نے مراد شاخ کی جڑ ہے جس کی چھوٹی شاخیں کاٹی دی جاتی ہیں تو وہ کھجور کے درخت پر ہی باقی رہتی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : عرجنہ اسے شاخ کے ساتھ مارا ان لوگوں کے قول کے مطابق نون اصلیہ ہے اسی معنی میں اعشیٰ بن قیس کا شعر ہے :
شرق الملک والعبیر بھا فھی صفراء کعرجون القمر
کستوری اور عبیر اس پر چمک اٹھی وہ زرد ہے جس طرح چاند جب شاخ کے طرح ٹیڑھا ہوتا ہے
کھجور کی شاخ جب خشک اور قوس دار ہوجاتی ہے تو چاند کی باریکی اور زردی میں اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ اسے اہان ‘ کباسہ اور قنو بھی کہتے ہیں ‘ ابل مصر اسے اسباط کہتے ہیں۔ اسے عرجون بھی پڑھتے ہیں (1) یہ فرحون کا وزن ہے یہ دنوں لغتیں ہیں جس طرح بزبون اور یذیون۔ زمحشری نے یہ ذکر کیا ہے اور کہا : عرجون کھجور کی شاخ کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو کھجور اور اس کے پتوں کے درمیان ہوتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھ سال چار موسموں پر منقسم ہے ہر موسم کی سات منازل ہیں پہلا موسم بہار ہے اس کا آغاز اذار) مارچ ( کی پندرہ تاریخ سے ہوتا ہے اس کے دنوں کی تعداد بانوے (92) ہے اس موسم میں سورج تین برج حمل ‘ ثور اور جوزاء اور سات منازل شرطان ‘ بطین ‘ ثریا ‘ دبران ‘ ہقعہ ‘ ہنعہ اور ذراع کو عبور کرتا ہے پھر موسم گرما حزیان) جون ( کو پندرہ تاریخ کو داخل ہوجاتا ہے اس کے دنوں کی تعداد بانوے (92) ہے اس موسم میں سورج تین برجوں شرطان ‘ اسد اور سنبلہ اور سات منازل کو طے کرتا ہے وہ سات منازل نثرہ ‘ طرف جہہ ‘ خراتان ‘ صدقہ ‘ عواء اور سماک ہیں ‘ پھر ایلول) ستمبر (کی پندرہ تاریخ کو موسم خزاں داخل ہوجاتا ہے اس کے دنوں کی تعداد اکانوے (91) ہے اس موسم میں سورج تین برجون یعنی میزان ‘ عقرب اور قوس اور سات منازل یعنی غفر ‘ زبان ‘ اکلیل ‘ قلب ‘ شولہ ‘ نعائم اور بلدہ کو طے کرتا ہے کانون اول) دسمبر ( کی پندرہ تاریخ کو موسم سرما داخل ہوجاتا ہے اس کے دنوں کی تعداد نوے ہے بعض اوقات اس کے دنوں کی تعداد اکانوے ہوتی ہے اس موسم میں سورج تین برجون یعنی جدی ‘ دلو اور ہوت کو طے کرتا ہے اور سات منازل کو طے کرتا ہے سعد الذابح ‘ سعد بلع ‘ سعد سعود ‘ سعد اخبیہ ‘ فرغ مقدم ‘ فرغ موخر اور بطن حوت۔ یہ سریانیوں کی مہینوں کی تقسیم ہے تشرین اولاول) اکتوبر ( تشرین الثانی) نومبر ( نیسان) اپریل ( حزیران) جون ( اور ایلول) ستمبر ( یہ تیس دن کے ہوتے ہیں اشباط) فروری ( اٹھائی مکمل اور 1/4 دن کا ہوتا ہے اس سے ہم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ کرے اللہ تعالیٰ کا فرمان والقمر قدرنہ منازل کا یہی مفہوم ہے جب سورج ایک منزل میں ہوتا ہے تو ہلال اس کے بعد والی منزل میں پڑائو کرتا ہے اور فجر دو منزلیں اس سے پہلے ہوتی ہیں جب سورج اپریل کی پچیس تاریخ کو ثریا میں ہوتا ہے تو فجر شرطیں میں ہوتی ہے اور چاند بران میں پڑائو کرتا ہے پھر ہر رات میں اس کی ایک منزل ہوتی ہے یہاں تک کہ اٹھائیس راتوں میں وہ اٹھائیس منزل طے کرتا ہے یہی عزیز وعلیم کی تقدیر ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ زمحشری نے قدیم کی وضاحت کتے ہوئے کہا : جب وہ شاخ پرانی ہوجاتی ہے تو وہ باریک ٹہڑی اور زرد ہوجاتی ہے چاند کو اس کے ساتھ تین وجوہ سے تشبیہ دی جاتی ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس چیز کی صفت قدیم کے لفظ کے ساتھ بیان کی گئی ہو اس کا کم سے کم عرصہ سال ہوتا ہے اگر کوئی آدمی کہے : کل مملوک لی قدیم فھو حر یا اس نے اپنی وصیت میں یہ قول کیا ہو تو جو غلام ایک سال یا اس سے زیادہ اس کی ملک میں رہا ہو تو وہ آزاد ہوجائے گا۔
میں کہتا ہوں : چاند پر جو احکام مرتب ہوتے ہیں ان کا ذکر سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ الحمد اللہ۔
Ayah 36:40لفظ الشمس کو رفع دیا گیا ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اور لا معرفہ میں عمل نہیں کرتا۔ علماء نے اس آیت کے معنی میں گفتگو کی ہے بعض نے کہا : اس کا معنی سورج چاند کو نہیں پا سکتا کہ اس کی ہقیقت اور افادیت کو باطل کر دے ہر ایک کی اپنے دائرہ کار میں حاکمیت ہے ان میں سے کوئی ایک بھی دائرے پر اس پر طرح داخل نہیں ہو سکتا کہ اس کی حکومت کو ختم کردے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں جو تدبیر فرمائی ہے اس کو باطل کردے تو سورج اس کے مغرب سے طلوع ہوجائے جس طرح اس کی وضاحت سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب سورج طلوع ہوتا ہے تو چاند کی روشنی نہیں ہوتی اور جب چاند طلوع ہوتا ہے تو سورج کی روشنی نہیں ہوتی (2) ‘ یہ معنی حضرت ابن عباس اور ضحاک سے مروی ہے۔ مجاہد نے کہا : ایک روشنی دوسرے کی روشنی جیسی نہیں ہوتی (3) قتادہ نے کہا : ہر ایک کی حد اور نشانی ہے نہ وہ اس سے تجاوز کرتا ہے اور نہ اس سے پہلے ہی رک جاتا ہے جب ایک کی حکومت آتی ہے تو دوسرے کی حکومت ختم ہوجاتی ہے۔
حضرت حسن بصری نے کہا : یہ دونوں آسمان میں جمع نہیں ہوتے خصوصاً چاند کی رات جمع نہیں ہوتے یعنی سورج باقی نہیں رہتا یہاں تک کہ چاند طلوع ہوتا ہے لیکن جب سورج غروب ہوجاتا ہے تو چاند طلوع ہوجاتا ہے (1) ۔ یحییٰ بن سلام نے کہا معنی ہے چودہویں رات کی چاند خاص کر سورج چاند کو نہیں پاتا کیونکہ چاند سورج کے طلوع ہونے سے قبل غروب ہونے میں جلدی کرتا ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے معنی ہے جب وہ آسمان میں جمع ہوتے ہیں وہ منازل میں ایک دوسرے سے آگے ہوتے ہیں دونوں ان میں شریک نہیں ہوتے (3) ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ایک قول کیا گیا ہے : چاند آسمان دنیا میں ہے اور سورج چوتھے آسمان میں ہے سورج اس کو نہیں پا سکتا ‘ یہ نحاس اور مہدوی نے ذکر کیا ہے : نحاس نے کہا : اس کے معنی میں جو سب سے اچھا اور واضح قول کیا گیا ہے جس کا رد نہیں کیا جاسکتا کہ چاند کی رفتار تیز ہے سورج کی چال میں چاند کو نہیں پا سکتا ‘ یہ مہدوی نے بھی ذکر کیا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و جمع الشمس والقمر) القاتمہ ( یہ اس وقت ہوگا جب سورج کو طلوع ہونے سے روک دیا جائے گا جس کی وضاحت سورة الانعام کے آخر میں گذر چکی ہے اور سورة القیامۃ میں بھی آئیگی ان دونوں کا جمع ہونا یہ دنیا کہ ختم ہونے اور قیامت کے برپا ہونے کی علامت ہوگی۔
سورج اور چاند اپنے فلک میں رواں دواں ہیں۔ ایک قول کیا گیا ہے : معنی ہے وہ چکر لگا رہے ہیں یہاں تسبیع کا صیغہ ذکر نہیں کیا کیونکہ اپنے فعل کے ساتھ صفت بیان کی جس کے ساتھ ذوالعقول کی صفت بیان کی جاتی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سورج ‘ چاند اور ستارے آسمان و زمین کے درمیان فلک میں ہیں اس کے ساتھ چمٹے ہوئے نہیں اگر یہ چمٹے ہوئے ہوتے تو نہ چلتے (4) ‘ یہ ثعلبی اور ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
بع نے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : ولا الیل سابق النھار کہ دن کو رات سے قبل بنایا گیا رات خلق میں اس سے سبقت نہیں لے گی۔ ایک قوم یہ کیا گیا : ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے وقت پر آتا ہے ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر سبقت نہیں لے جاتا یہاں تک کہ قیامت کے روز سورج اور چاند کو جمع کردیا جائے گا جس طرح فرمایا : و جمع الشمس والقمر) القیامۃ ( اس وقت یہ آگے پیچھے اس لئے آ رہے ہیں تاکہ بندوں کے مصالح مکمل ہوں اور تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب کو جان لو ‘ رات آرام کے لئے اور دن کام کاج کے لئے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و من رحمۃ جعل لکم الیل والنھار لتسکنوا فیہ والتبتغوا من فضلہ) القصص (73: اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : و جعلنا نو مکم سباتا۔ ) النبائ ( یعنی نندک کو دن کے کام کاج سے تمہارے بدنوں کو آرام پہنچانے کے لئے بنایا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : ولالیل سابق النھار رات دن پر غالب آنے والی نہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : سبق فلاں فلانا ‘ فلاں فلاں پر غالب آگیا۔ مبرد نے ذکر کیا ہے میں نے عمارہ کو ولا الیل سابق النھار پڑھتے ہوئے سنا میں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : اس نے کہا : میں نے سابق النھار کا ارادہ بیان کیا ہے میں نے تنوین کو حذف کرلیا ہے کیونکہ یہ خفیف ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے النھار تنوین کے بغیر منصوب ہو اور تنوین اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف ہو۔
Ayahs 36:41–44الیۃ لھم من تین معانی کا احتمال ہے : (1) یہ ان کے لئے عبرت ہے کیونکہ آیات میں عبرتیں ہیں (2) ان پر نعمت ہے کیونکہ آیات میں انعام ہے (3) انہیں خبردار کرنا ہے کیونکہ آیات میں خبردار کرنے کا پہلو موجود ہوتا ہے (1) ۔
انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون۔ سورت میں مشکل ترین آیت ہے کیونکہ انہیں ہی کشتی میں سوار کیا گیا تھا ‘ ایک قول یہ کیا گیا : اہل مکہ کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے سابقہ قوموں کی اولادوں کو بھری کشتی میں سوار کیا۔ دونوں ضمیریں مختلف ہیں ‘ یہ مہدوی نے زکر کیا ہے۔ نحاس نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا ہے اور اس کی حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : دونوں ضمیریں اہل مکہ کے لئے ہیں کہ ذریتھم سے مراد ان کی اولادیں اور ان کے ضعیف لوگ ہیں پہلے قول کے مطابق الفلک سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے اور دوسری تاویل کی بنا پر یہ اسم جنس ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و احسان کا ذکر کیا کہ اس نے کشتیوں کو پیدا کیا ان میں انہیں سوار کردیا جس کے لئے چلنا اور سواری پر سوار ہونا مشکل ہوتا ہے جیسے اولادیں اور کمزور لوگ۔ اس تعبیر کی بنا پر دونوں ضمیریں متفق ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا : ذریۃ سے مراد آباء و اجداد ہیں (2) اللہ تعالیٰ نے جنہیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار کیا آباء ذریت ہیں ‘ اور ابناء بھی ذریت ہیں اس کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے یہ ابو عثمان کا قول ہے۔ آباء کو ذریت اس لئے کہتے ہیں کیونکہ انہیں میں سے بیٹوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ایک چوتھا قول یہ بھی ہے : ذریۃ سے مراد نطفے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مائوں کے پیٹوں میں اٹھایا اور ان بیٹوں کو فلک مشحون سے تشبیہ دی ‘ یہ حضرت علی شیرا خدا ؓ کا قول ہے ‘ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے (3) ۔ سورة البقرہ میں لفظ ذریۃ کا اشتقاق اور اس کے بارے مفصل گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ مشحون کا معنی بھری ہوئی ہے۔ فلک کا لفظ واحد اور جمع دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ سورة یونس میں اس پر مفصل بحث گزر چکی ہے۔
مایرکبون۔ اصل میں ما یرکبونہ ہے اسم موصول کی طوالت کی وجہ سے صلہ کی ضمیر حذف ہے اس لئے بھی کہ یہ ایت کا سرا ہے اس کے معنی میں تین قول ہیں (1): مجاہد ‘ قتادہ اور مفسرین کی ایک جماعت کا مذہب ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ من مثلہ سے مراد اونٹ ہے ‘ اونٹ خشکی میں سواری کے لئے اسی طرح پیدا کیا گیا ہے جس طرح سمندر میں سواری کے لئے کشتی پیدا کی گئی ہے۔ عرب اونٹوں کو کشتیوں سے تشبیہ دیتے ہیں ‘ طرفہ نے کہا
کان حدوج المالکیۃ غدوۃ خلایاسفین بالنواصف من دد (1)
گویا صبح کے وقت مالکیہ کے حودج بڑی کشتیاں ہیں جو دو کے کھلے میدان میں ہیں۔
خلایا ‘ خلیۃ کی جمع ہے جس کا معنی بڑی کشتی ہے۔
(2) اس سے مراد اونٹ ‘ چوپائے اور سواری کا ہر جانور ہے۔
(3) اس سے مراد کشتیاں ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ قول صحیح ترین ہے کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ سے سند متصل کے ساتھ مروی ہے کہ و خلقنالھم من مثلہ ما یرکبون۔ سے مراد اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کشتیاں بنائیں جو اونٹوں کی مثل ہیں جن میں وہ سوار ہوتے ہیں۔ ابو مالک نے کہا : اس سے مراد چھوٹی کشتیاں ہیں (2) جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی کشتیوں کی طرح بنایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت حسن بصری سے اسی طرح مروی ہے۔ ضحاک اور دوسرے علماء نے کہا : اس سے مراد وہ کشتیاں ہیں جنہیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد بنایا گیا ہے۔ ماوردی نے کہا : حضرت علی شیر خدا ؓ کی تاویل کے نتیجے میں یہ پانچواں قول سمجھ آتا ہے کہ فلک مشہون میں ذریۃ سے مراد وہ نطفے ہیں جو عورتوں کے بطن میں ہیں کہ اس کا معنی یہ ہو کہ عورتیں اس لئے پیدا کی گئیں ہیں تاکہ خاوندان پر سوار ہوں (3) لیکن میں نے کسی کو یہ بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
و ان نشا نغرقھم یعنی ہم انہیں سمندر میں غرق کردیئے۔ ضمیر اصحاب ذریت کی طرف لوٹے گی یا سب کی طرف لوٹے گی یہ تاویل حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے جس نے یہ کہا : من مثلہ سے مراد کشتیاں ہیں اونٹ نہیں تو ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا (4) ‘ یہ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے۔ شیبان نے قتادہ سے یہ قول نقل کیا ہے : ان کے لئے کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی۔ دونوں کا معنی قریب قریب ہے صریح ‘ مصرخ کے معنی میں ہے یعنی فعیل ‘ مفعل کے معنی میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے فلاصریخ لھم کیونکہ اس کے بعد ایسی چیز ہے جس میں رفع کے بغیر کوئی چیز جائز نہیں ‘ نحوی یہ پسند کرتے ہیں لا رجل فی الدار ولا زید۔
لا ھم ینقذون۔ کا معنی ہے انہیں غرق ہونے سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عذاب سے انہیں کوئی بچانے والا نہ ہوگا مگر ہماری رحمت ہی انہیں عذاب سے بچائے گی۔ کسائی نے کہا : الا رحمۃ یہ مستثنی کی حیثیت سے منصوب ہے۔ زجاج نے کہا : مفعول لہ کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی رحمت کے لئے متا عاً اس کا معطوف ہے۔ حین سے مراد موت ہے ‘ یہ قتادہ کا قول ہے یحییٰ بب سلام نے کہا : قیامت تک مراد ہے معنی ہوگی مگر یہ کہ ہم ان پر رحمت کریں اور ان کی آجال تک انہیں لطف اندروز ہونے دیں (5) ۔ اللہ تعالیٰ سابقہ امتوں کا عذاب جلدی لے آیا اور حضرت محمد ﷺ کی امت کے عذاب کو موت اور قیامت تک مٔوخر کردیا اگرچہ وہ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلائیں۔
Ayahs 36:45–50قتادہ نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد تم سے قبل کی امتوں کے واقعات ہیں (1) اور وما خلفکم سے مرادآخرت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ماجد نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد سابقہ گناہ ہیں (2) اور وما خلفکم سے مراد آنے والے گناہ ہیں حضرت حسن بصری نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد جو تمہاری عمر گزر چکی ہے (3) اور وما خلفکم سے مراد جو باقی ماندہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما بین ایدیکم سے مراد دنیا ہے اور وما خلفکم سے مراد عذاب آخرت ہے ‘ یہ سفیان کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے کہ ما بین ایدیکم سے مراد امر آخرت اور اس کے لئے اعمال ہیں اور وما خلفکم سے مراد دنیاوی امور ہیں ان سے بچو اور اس کے ساتھ دھوکہ میں مبتلا نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ مابین ایدیکم سے مراد جو تمہارے لئے ظاہر ہے اور وما خلفکم سے مراد جو تمہارے لئے مخفی ہے (4) ۔ جواب مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی : اذا قیل لھم ذلک اعرضوا اس کی دلیل ما بعد قول ہے : وما تاتیھم من ایۃ من آیت الا کانو عنھا معرضین جواب کی بجائے اس دلیل پر اکتفا کیا۔
انفقوا سے مراد فقراء پر صدقہ کرو۔ حضرت حسن بصری نے کہا 0 یہودیوں کو جب فقراء پر صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایک قوم یہ کیا گیا : ضمیر کا مصداق مشرکین ہیں انہیں نبی کریم ﷺ کے فقراء صحابہ نے یہ کہا (5) : تم اپنے اموال میں سے جن کے بارے میں یہ خیال کرتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں وہ ہمیں دو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : و جعلوا للہ مما ذرامن الحرث و الانعام نصیبا) الانعام (136: وہ اسی پر دلالت کرتا ہے ‘ تو انہوں نے فقراء کو محروم رکھا اور مذاق کے طور پر کہا : اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں کھلاتا ہم تمہیں کچھ بھی نہ کھلائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے دین کی طرف لوٹو۔ انہوں نے کہا : کیا ہم تمہیں دیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے کھلاتا۔ انہیں مسلمانوں کا یہ قول پہنچا تھا کہ رازق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تو انہوں نے مذاق کیا انداز میں کہا : کیا ہم اسے کھلائیں کہ اللہ تعالیٰ اگر اسے کھلانا چاہتا تو اسے غنی کردیتا۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں زنا دقہ تھے (1) جب انہیں مساکین پر صدقہ کرنے کا حکم دیا جاتا تو وہ کہتے : اللہ کی قسم ! نہیں کیا اللہ تعالیٰ تو اسے فقیر بنائے اور ہم اسے کھلائیں ؟ وہ مومنوں کی باتیں سنا کرتے وہ افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ معلق کرتے وہ کہتے : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فلاں کو غنی کردیتا ‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فلاں کو عزت دے دیتا ‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس طرح ہوجاتا۔ انہوں نے یہ جواب مومنوں کا استہزاء کرنے کے لئے نکالا اور اس کا مذاق اڑانے کے لئے دیا جو مومن امور کو اللہ تعالیٰ مشیت کی طرف معلق کردیتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے انہوں نے یہ قول اس لئے کیا تھا تاکہ مومنوں کے قول کو اپنے ساتھ مشروط کردیں انفقوا مما رزقکم اللہ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق دیا تو وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ تمہیں بھی رزق دے تو پھر تم ہم سے کیوں رزق طلب کرتے ہو ؟ یہ استدلال باطل تھا کیونکہ الہ تعالیٰ جب کسی بندے کو مال کا مالک بناتا ہے پھر اس میں حق لازم کردیتا ہے گویا اتنا حصہ اس سے الگ کردیا تو اعتراض کی کوئی وجہ نہیں رہتی وہ اپنے اس قول لو یشاء اللہ اطعمہ ‘ میں سچے تھے لیکن دلیل میں جھوٹے تھے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کے فرمان ہے سیقول الذین اشرکوا لو شاء اللہ ما اشرکنا) الانعام (148: اور اللہ تعالیٰ کا فرامان ہے : قالو انشہد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ ) المنافقون ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان انتم الا فی ضلل مبین۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ کفار کا مومنوں کے حق میں قول ہے یعنی تم جو مال کا سوال کرتے اور حضرت محمد ﷺ کی اتباع کرتے ہو اس میں تم گمراہی میں مبتلا ہو۔ کہا : یہ مقاتل اور دوسرے علماء نے معنی کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کا کفار کے حق میں قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا کفار کے حق میں قول ہے جب انہوں نے اس جواب کے ساتھ رد کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ مسلمان مساکین کو کھانا کھلایا کرتے تھے تو ابوجہل ان سے ملا اور کہا : اے ابوبکر ! کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ان فقراء کو کھانا کھلانے پر قادر ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : ہاں ‘ اس نے پوچھا : کیا وجہ ہے اس نے ان کو نہیں کھلایا ؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو فقر کے ساتھ آزمایا اور کچھ لوگوں کو غنا کے ساتھ آزمایا ہے ‘ فقراء کو صبر کا حکم دیا اور اغنیاء کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا۔ تو ابو جہل نے کہا : اللہ کی قسم ! اے ابوبکر ! تو گمراہ ہے کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کھلانے پر قادر ہے اور وہ انہیں نہیں کھلاتا پھر تو انہیں کھلاتا ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : فاما من اعطی واتقی۔ و صدق بالحسنی۔ ) اللیل ( نازل ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت زنادقہ کے حق میں نازل ہوئی ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو زندیق تھے وہ اس کائنات کے صانع پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اس قول کے ذریعے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے قشیری اور ماوردی نے اس کا ذکر کیا (1) ۔
جب کفار کو یہ کہا گیا : اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم تو انہوں نے کہا : متی ھذا الوعد یہ قیامت کب برپا ہوگی ؟ یہ کفار کی جانب سے استہزاء تھا یعنی یہ وعید متحقق نہ ہوگی اللہ تعالیٰ کا فرمان : وہ صرف حضرت اسرافیل کے نفحہ کا انتظار کر رہے ہیں جو انہیں اپنی گرفت میں لے لے گی جب کہ وہ دنیا کے امور میں جھگڑ رہے ہوں گے تو وہ اسی جگہ مر جائیں گے ‘ یہ صعق کا نفحہ ہے۔
یخصمون میں پانچ قرأتیں ہیں : ابوعمرو اور ابن کثیر نے یخصمون پڑھا ہے یعنی یاء اور خاء کو مفتوح اور صاد پر شد پڑھی ہے ورش نے نافع سے اسی طرح روایت کی ہے۔
اصحاب قرأت اور ورش کے سوا اصحاب نافع نے یخصمون روایت کیا ہے یعنی خاء کو ساکن اور صاد کو مشدد پڑھا ہے یعنی دو ساکنوں کو جمع ذکر کیا ہے۔ یحییٰ بن وثاب ‘ اعمش اور حمزہ نے اسے یخصمون پڑھا ہے خاء کو ساکن اور صادر کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ‘ یہ خصمہ سے مشتق ہے۔ عاصم اور کسائی نے اسے یخصمون پڑھا ہے یعنی خاء مکسور اور صادر مشدد ہے اس کا معنی ہے وہ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا۔ نفحہ انہیں آپہنچے گا جب کہ وہ آپس میں یہ دلائل قائم کر رہے ہوں گے کہ انہیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا (2) ۔ ابن جبیر ‘ اوبکر سے وہ عاصم سے اور حماد ‘ عاصم سے یاء اور خاء کے کسرہ اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : پہلی قرأ ت ان سب سے واضح ہے اصل میں یہ یختصمون تھا تاء کو صاد میں مدغم کردیا گیا اس کی حرکت خاء کی طرف نقل کردی گئی۔ ابی کی قرأ ت میں یختصمون خاء کو ساکن کرنا جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں دو ساکنوں کا اجتماع ہے کیونکہ ان میں سے کوئی بھی حرف مدہ اور لین نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا : انہوں نے خاء کو اپنے اصل پر رکھتے ہوئے ساکن پڑھا ہے مینم وہ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہوں کے تو مضاف کو حذف کردیا گیا۔ یہ بھی جائز ہے کلام اس معنی میں ہو یخصمون مجادلھم عند انفسھم تو مفعول کو حذف کردیا گیا۔
ثعلبی نے کہا : یہ حضرت ابی بن کعب کی قرأت ہے۔ نحاس نے کہا : یخصمون کی اصل یختصمون ہے تاء کو صاد میں مدغم کیا گیا پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے خاء کو کسرہ دیا گیا۔ فراء نے گمان کیا ہے کہ یہ قرأت سب سے عمدہ اور اکثر مروی ہے اور جو صورت بہتر تھی اس کو ترک کردیا یعنی تاء کی حرکت خاء کو دی اور اس کے لئے ایک اور حرکت لے آیا اور پھر یاء اور کسرہ کو جمع کردیا اور گمان یہ کیا۔ یہ عمدہ اور اکثر مستعمل ہے۔ یہ اکثر کی قرأت کیسے ہو سکتی ہے جب کہ فتحہ کے ساتھ قرأت اہل مکہ اہل بصرہ اور اہل مدینہ کی قرأت ہے ؟ عاصم سے یاء اور خاء کے کسرہ کے ساتھ جو مروی ہے وہ اتباع کیوجہ سے ہے۔ یہ بحث تخطف میں سورة بقرہ میں اور یھدی میں سورة یونس میں گزر چکی ہے۔
عکرمہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان الا صیحۃ واحدۃ کے بارے میں کہا : اس سے مراد صور میں پہلا نفحہ ہے۔ حضرت ابو ہریرؓ نو کہا : لوگ بازاروں میں ہوں گے کوئی دودھ دوہ رہا ہوگا ‘ کوئی کپڑا ماپ رہا ہوگا اور کوئی کام کاج میں مصروف ہوگا کہ صور پھونک دیا جائے گا۔
نعیم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد : ” قیامت برپا ہوجائے گی جب کہ دو آدمی کپڑے کی خریدو فروخت کے لئے اسے پھیلائے ہوئے ہوں گے وہ اسے ابھی نہیں لپیٹیں گے یہاں تک کہ قیامت برپا ہوجائے گی ‘ ایک آدمی اپنا حوض درست کر رہا ہوگا تاکہ وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلائے ابھی وہ اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلائے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی ‘ ایک آدمی اپنا ترازو نیچے جھکائے گا ابھی وہ اسے اوپر نہیں اٹھائے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی ‘ ایک آدمی اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھائے گا ابھی وہ اسے نہیں نگلے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی “ (1) ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث میں ہے ” سب سے پہلے جو آدمی صور کی آواز سنے گا وہ وہ آدمی ہوگا جو اپنے حوض کو درست کر رہا ہوگا وہ چیخ مارے گا اور دوسرے لوگوں بھی ثیخ ماریں گے “ (2) ۔
وہ ایک دوسرے کو توبہ وغیرہ کی وصیت کی طاقت نہ رکھیں گے بلکہ اپنے بازاروں اور اپنے اپنے مواقع پر ہی مر جائیں گے جب وہ مر جائیں گے تو وہ اپنے گھروں کی طرف نہیں لوٹیں گے (3) ایک قول یہ کیا گیا : اس کا معنی ہے کہ وہ ان کے لئے انا للہ و انا الیہ رجعون نہیں کہیں گے۔ قتادہ نے کہا : وہ اپنے گھروں کی طرف نہیں لوٹیں گے کیونکہ ان کے ساتھ بہت جلد معاملہ کیا گیا ہے۔