31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ نافع، ابو عمر و، حمزہ، کسائی اور ابن محیص نے تصاعر صاد کے بعد الف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ باب تفاعل سے ہے ابن کثیر، عاصم، ابن عامر، حضرت حسن بصری اور مجاہد نے تصعر پڑھا ہے جوزی نے تصعر صاد کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ صعر کا معنی باقی ہونا ہے۔ اس معنی میں بدو کا قول ہے : قد اقام الدھر صعری، بعد ان اقمت صعرہ زمانے نے میرے جھکائو کے سیدھا کردیا بعد اس کے کہ میں نے اس کا جھکائو سیدھا کیا تھا۔ اسی معنی میں عمرو بن حی تغلبی کا قول ہے : وکنااذا الجبارصعر خدہ اقمنا لہمنمیلہ فتقوم (1) جب جبار اپنے رخسار کو پھیر لیتا ہے تو ہم اس کے میلان کو سیدھا کردیتے ہیں تو وہ سیدھا ہوجاتا ہے۔ طبری نے اسے فتقوما پڑھا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ شعر کا قافیہ مخفوض (مجرور) ہے۔ ایک اور شعر میں ہے : اقمنا لہ من خذہ لمتصعر ہم اس کے مڑے ہوئے رخسار کو سیدھا کردیتے ہیں۔ ہروی نے کہا : ولا تصاعر یعنی تکبر کرتے ہوئے ان سے اعرض نہ کیجئے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے اصاب البعیر صعر وصید جب اونٹ کو کوئی ایسی بیماری لگے جس سے اس کی گردن مڑ جائے۔ متکبر کو کہا جاتا ہے : فیہ صعر وصید، لا تصعر کا معنی ہے اپنے رخسار کو ہمیشہ موڑے نہ رکھ۔ حدیث طیبہ میں ہے : یاتی علی الناس زمان لیس فیھم الا اصعر او ابتر لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا جس زمانہ میں لوگوں میں متکبر اور بےنسل کے سوا کوئی نہ ہوگا۔ اصعر اسے کہتے ہیں جو تکبر کی وجہ سے منہ موڑے ہوئے ہو، مراد کمینے لوگ ہیں جن کا کوئی دین نہ ہوگا۔ حدیث طیبہ میں ہے : کل صعار ملعون ہر متکبر ملعون ہے (1) ۔ مسئلہ نمبر 2۔ آیت کا معنی ہے : آپ اپنے رخسار کو لوگوں پر تکبر کرتے ہوئے، فخر کرتے ہوئے اور انہیں حقیر جانتے ہوئے ایک طرف نہ کرو ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ایک جماعت کا قول ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے جب تیرے سامنے کسی کا ذکر کیا جائے تو تو اپنی بانجھ کو ایک طرف کرلے گویا تو اس کو حقیر جانتا ہو، معنی ہے تواضع کرتے ہوئے، انس محبت کرتے ہوئے ان کی طرف توجہ کیجئے جب ان میں سے چھوٹے سے چھوٹا بھی آپ سے بات کرے تو اس کی بات توجہ سے سنیے یہاں تک کہ وہ اپنی بات مکمل کرلے۔ نبی کریم ﷺ اسی طرح عمل فرمایا کرتے تھے (3) ۔ میں کہتا ہوں : اسی معنی میں وہ روایت ہے جسے امام مالک نے ابن شہاب سے وہ حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کرتے ہیں فرمایا : ” باہم بغض نہ رکھا کرو ایک دوسرے سے اعراض نہ کیا کرو، باہم حسد نہ کیا کرا اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جائو، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن تک لا تعلق رہے “ (4) ۔ حدیث میں موجود لفظ التدابر کا معنی ہے اعرض کرنا، کلام، سلام وغیرہ ترک کرنا۔ اعراض کو تدابر کا نام دیا گیا کیونکہ جس سے تو بغض کرتا ہے تو اس سے اعراض کرتا ہے اور اپنی پشت کو اس کی طرف کرلیتا ہے، اسی طرح وہ تیرے ساتھ اسی طرح کرتا ہے۔ جس سے تو محبت کرتا ہے تو اپنا منہ اس کی طرف کرلیتا ہے اور تو اس کے بالمقابل ہوتا ہے تاکہ تو اس سے خوش ہو اور وہ تجھ سے خوش ہو۔ جو آدمی اپنا رخسار پھیر لیتا ہے اس میں تدابر کا معنی موجود ہے، مجاہدنے بھی اس کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے۔ ابن خویز منداد نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ولا تصعر خدک لناس سے مراد ہے گویا اللہ تعالیٰ نے منع کیا کہ انسان اپنے آپ کو بغیر ضرورت کے ذلیل کرتا رہے اس کی مثل نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا : لیس للانسان ان یذل نفسہ (5) انسان کے لیے مناسب نہیں کہ اپنے آپ کو ذلیل ورسوا کرے۔ مسئلہ نمبر 3۔ ولا تمش فی الارض مرحا تکبر کرتے ہوئے زمین میں چلے۔ مرحا مصدر ہے حال کی جگہ واقع ہے۔ سورة الاسراء میں بحث گزرچکی ہے۔ اس کا معنی چستی اور خوشی سے چلنا جب کہ کوئی کام اور حاجت نہ ہو۔ اس اخلاق وکردار والے فخر کو لازم پکڑتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں۔ مرح اسے کہتے ہیں جو اپنی چال میں تکبر کرتا ہے۔ یحییٰ بن جابر کائی، ابن عائذازدی سے وہ غضیف بن حارث ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عبید بن عمیر بیت المقدس آئے۔ کہا : ہم حضرت عبد اللہ بن عمر بن عاص کے پاس بیٹھے میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا : قبر بندے سے کلام کرتی ہے جب اسے قبر میں رکھا جاتا ہے وہ بندے کو کہتی ہے : اے انسان ! تجھے کس چیز نے میرے بارے میں دھوکے میں رکھا ؟ کیا تجھے علم نہیں تھا میں تنہائی کا گھر ہوں ؟ کیا تو نہیں جانتا میں تاریکی کا گھر ہوں ؟ کیا تو نہیں جانتا میں حق کا گھر ہوں ؟ اے انسان تجھے کس چیز نے میرے بارے میں دھوکہ میں مبتلا کیا ؟ تو میرے ارد گرد متکبر بنتے ہوئے چلا کرتا تھا۔ ابن عائذ نے کہا : میں نے غضیف سے کہا : اے ابا اسماء فداد سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اے بھتیجے ! بعض اوقات جو تیری چال ہوتی ہے۔ ابو عبید نے کہا : معنی ہے زیادہ مال والا اور تکبر والا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا “ (1) ۔ فخور اسے کہتے ہیں جو اسے عطا کیا گیا ہے اس کو شمار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا نہیں لاتا ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ اس سے مراد نسب پر اور دوسرے امور میں فخر کرنا۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے

اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ واقصد فی مشیک جب مذموم اخلاق سے منع کیا تو اخلاق کریمہ کو آپ کے لیے بیان کیا جن اخلاق کریمہ کو اپنانا چاہیے۔ فرمایا : واقصد فی مشیک اس میں میانہ روی اپنائو۔ قصد سے مراد تیزی اور سستی کی درمیانی حالت ہے بعض مرنے کا بہانہ کرنے والوں کے چلنے کی طرح رینگ رینگ کر نہ چلو اور چالاکوں کی طرح اچھل اچھل کر نہ چلو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تیز رفتاری مومن کے رعب کو ختم کردیتی ہے “ (2) ۔ جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے کہ حضور ﷺ جب چلا کرتے تو تیز چلا کرتے اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا حضرت عمر ؓ کے بارے میں قول : جب حضرت عمر ؓ چلتے تو تیز چلتے تو اس سے مراد وہ تیزی تھی جو بناوٹی مرنے والے کی چال سے بڑھ کر ہوتی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ جس کی یہ صفت ہو اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت بیان کی ہے جس کی وضاحت سورة فرقان میں گزرچکی ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ واغضض من صو تک اپنی آواز کو پست رکھو یعنی آواز بلند کرنے میں تکلف سے کام نہ لو اور اتنی آواز بلند کرو جتنی ضرورت ہو، کیونکہ ضرورت سے زائد آواز بلند کرنا یہ تکلیف ہے جو اذیت دیتا ہے۔ سب سے مراد تواضع ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اس موذن سے فرمایا جس نے اپنی طاقت سے بڑھ کر آواز کو بلند کرنے کا تکلف کیا : مجھے خوف ہوا کہ تیرا مریطاء پھٹ جائے گا موذن ابو محذورہ سمرہ بن معیر تھے مریطاء سے مراد ناف سے لے کر شرم گاہ تک کا حصہ ہے (3) ۔ مسئلہ نمبر 3۔ ان انکرالاصوات لصوت الحمیر ان میں سے قبیح ترین اور وحشت ناک ہے۔ اس معنی میں یہ جملہ ہے : اتانابوجہ منکر وہ ہمارے پاس ناپسندیدہ چہرے کے ساتھ آیا۔ گدھا بلیغ مذمت اور گالی میں ضرب المثال کے طور پر استعمال ہوتا ہے اسی طرح اس کا ہینگنا۔ وہ ان کے الگ ذکر کو برائی خیال کرتے ہیں وہ اس کا ذکر کنایہ کے انداز میں کرتے ہیں اور صراحت کے ساتھ ذکر کرنے سے اعراض برتتے ہیں، وہ کہتے ہیں : الطویل الاذنین گدھا۔ جس طرح وہ گندی چیزوں کا ذکر صراحت سے نہیں کرتے۔ اس امر کو خلاف ادب سمجھا گیا ہے کہ صاحب مروت لوگوں کی مجلس میں گدھے کا ذکر کیا جائے۔ عرب ننگ و عار کی وجہ سے گدھے پر سواری نہیں کرتے تھے اگرچہ انہیں پیدل بھی چلنا پڑتا۔ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور تواضع کی خاطر اس پر سوار ہوجاتے۔ مسئلہ نمبر 4۔ آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ گفتگو میں اور ناراضگی کے وقت آواز کو بلند کرنا قبیح ہے کیونکہ گدھوں کی آواز قبیح ہے کیونکہ ان کی آواز بلند ہوتی ہے۔ صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا : ” جب تم گدھے کی ہینگنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو کیونکہ انہوں نے شیطان کو دیکھا ہے “ (1) ۔ یہ بھی مروی ہے : گدھا نہیں ہینگتا اور کتا نہیں بھونکتا مگر وہ شیطان کو دیکھتا ہے “ سفیان ثوری نے کہا : ہر شی کی آواز تسبیح ہے مگر گدھوں کی آواز (2) ۔ عطا نے کہا : گدھوں کا ہینگنا ظالموں کے رحمۃ اللہ علیہخلاف بددعا ہے (3) ۔ مسئلہ نمبر 5۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ادب ہے کہ لوگوں کے سامنے ان کو ذلیل سمجھتے ہوئے چیخنے کو ترک کیا جائے یا مطلق چیخنے کو ترک کیا جائے۔ عرب بلند آواز پر فخر کیا کرتے تھے ان میں سے جس کی آواز شدید ہوتی تو وہ زیادہ معزز ہوتا۔ اور ان میں سے جس کی آواز پست ہوتی تو وہ ذلیل ہوتا۔ ان کے شاعر نے کہا : جھیرالکلام جھیر العطاسجھیرالرواء جھیرالنعم میرا ممدوح اونچی گفتگو کرنے والا، زور دار چھینک مارنے والا، خوبصورت چہرے والا اور بہت زیادہ اونٹوں والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جاہلیت کے خلق سے اس ارشاد کے ساتھ منع کیا (4): ان انکر الاصوات الخ یعنی اگر آواز کی وجہ سے کسی سے ڈرا جاتا تو گدھے سے ڈرا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مثال میں برابر کردیا (5) ۔ مسئلہ نمبر 6۔ لصوت الحمیر لام تاکید کے لیے ہے۔ صوت کے لفظ کو واحد ذکر کیا اگرچہ یہ جماعت کی طرف مضاف ہے کیونکہ یہ مصدر ہے مصدر کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ صات یصوت صوتا وھو صائت کا مصدر ہے یوں بھی کہا جاتا ہے : صوت یصوت فھو مصوت رجل صات ایسا آدمی جس کی آواز شدید ہو، جس طرح ان کا قول ہے : رجل مال ونال ایسا آدمی جس کا مال و منال زیادہ ہو۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن

آیت : الم ترو ان اللہ الخ اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے انسانوں پر کی ہیں اور یہ کہ اس ذات پاک نے انسانوں کے لیے ان تمام چیزوں کو مسخر کردیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جیسے سورج، چاند، ستارے اور فرشتے جو ان کی نگہداشت کرتے ہیں اور ان کے منافع ان کی طرف کھینچ کر لا رہے ہیں۔ وما فی الارض یہ پہاڑوں، درختوں، پھلوں اور جن چیزوں کو شمار نہیں کیا جاسکتا ان سب کو شامل ہے۔ واسبغ علیکم نعمہ اس نے تم پر اپنی نعمتوں کو مکمل کیا۔ حضرت ابن عباس اور یحییٰ بن عمارہ نے سین کے بجائے صاد سے پڑھا ہے، کیونکہ حروف مستعلیہ سین کو اس کی پستی سے اس کی بلندی کی طرف کھینچتے ہیں اور اسے صاد کی طرف لو ٹا دیتے ہیں۔ النعم یہ نعمت کی جامع ہے جس طرح سورة کی جمع سورة آتی ہے سدرہ اور سدردال کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ یہ نافع، ابو عمر اور حفص کی قراءت ہے۔ باقی قراء نے نعمۃ مفرد کا صیغہ پڑھا ہے۔ اور مفرد کا صیغہ بھی کثرت پر دلالت کرتا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان تعدو نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم : 34) صحیح سندوں سے یہی ثابت ہے کہ یہ حضرت ابن عباس ؓ کی قراءت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی اسلام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا جب کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں پوچھا تھا : ” الظاہرہ سے مراد اسلام اور تیری شکل و صورت میں سے جو حسن ہے وہ مراد ہے اور الباطنہ سے مراد جو تیرے برے اعمال میں سے تجھ پر پوشیدہ ہیں “ (1) ۔ نحاس نے کہا : اس کی وضاحت یہ ہے کہ حضرت سعید ابن جبیر نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں کہا : ولکن یرید لیطھرکم ولیتم نعمتہ علیکم (المائدہ : 6) فرمایا : تمہیں جنت میں داخل کرے۔ اللہ تعالیٰ کی بندے پر کامل نعمت یہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے جب اسلام کے معاملے کا انجام جنت ہے تو اسے نعمت کا نام دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظاھرۃ سے مراد صحت اور کمال خلق ہے اور باطنہ سے مراد معرفت اور عقل ہے۔ محاسبی نے کیا : ظاھرۃ سے مراد دنیاوی نعمتیں ہیں اور باطنہ سے مراد اخروی نعمتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظاھرۃ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آنکھوں سے دیکھی جائیں جیسے مال، جاہ و حشمت، لوگوں میں جمال، اطاعت کی توفیق اور باطنہ سے مراد وہ ہیں جسے انسان اپنے نفس میں پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت، حسن یقین اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے جو آفات دور کرتا ہے۔ ماوردی نے اس بارے میں تیرہ اقوال ذکر کیے ہیں سب اس طرف لوٹتے ہیں۔ آیت ومن الناس من یجادل الخ اس کا معنی سورة الحج وغیرہ میں داخل ہے۔ یہ ایک یہودی کے حق میں آیت نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا عرض کی : یا محمد ! مجھے اپنے رب کے بارے میں بتایئے ؟ وہ کس چیز کا ہے ؟ ایک بجلی آئی جس نے اسے مار ڈالا، یہ مجاہد کا قول ہے۔ سورة الرعد میں بھی یہ بحث گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ کہا کرتا تھا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں (1) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یجادل فی اللہ بغیر علم وہ کسی دلیل کے بغیر خصومت کرتا ہے۔ ولا ھدی ولا کتاب منیر واضح کتاب۔ شیطان اس کی طرف جو القا کرتا ہے اس کے ساتھ وہ خصومت کرتا ہے۔ وان الشیطان رحمۃ اللہ علیہرحمۃ اللہ علیہالخ (الانعام : 121) شیطان انہیں یہی القا کرتا ہے کہ وہ اپنے آباء کی پیروی کریں، جس طرح مابعد آیت میں ہے۔ اولو کان الشیطان الخ یعنی شیطان انہیں عذاب السعیر کی طرف دعوت دے تب بھی وہ اس کی پیروی کریں گے۔
Ayahs 31:21–22

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی ؟ )

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے

ومن یسلم وجہہ الی اللہ جو اپنی عبادت اور ارادہ کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتا ہے۔ وھو محسن کیونکہ عبادت احسان اور دل کی معرفت کے بغیر کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومن یعمل من الصلحات الخ (طہ : 112) حضرت جبریل امین کی حدیث میں ہے عرض کی : مجھے احسان کے بارے میں بتایئے ؟ فرمایا : ” تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گو یا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر ایسا نہ ہو سکے تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے “ (2) ۔ فقداستمسک باالعروۃ الوثقی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عروہ وثقی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے (3) ۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ حضرت علی شیر خدا، سلمی اور عبداللہ بن مسلم بن یسار نے اسے ومن یسلم پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : یسلم اس میں زیادہ معروف ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فقل اسلمت وجھی للہ (آل عمران : 20) اس کا معنی ہے : میں نے اپنی عبادت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قصد کیا۔ یسلم کثرت کی بناء پر ہے، مگر سلمت، دفعت کے معنی میں مستعمل ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : سلمت فی الحنطہ بعض اوقات یہ جملہ بولا جاتا ہے : اسلمت۔ زمحشری نے کہا : حضرت علی شیر خدا نے اسے ومن یسلم شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اسلم امرک، سلم امرک الی اللہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دو ۔ اگر تو کہے : کیا وجہ ہے اسے الی کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے جب کہ اسے اس ارشاد میں لام کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے۔ بلی من اسلم وجہہ للہ (البقرہ : 112) میں جواب دوں گا جب اسے لام کے ساتھ متعدی کیا جائے اس نے پوری ذات اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کردی۔ اور جب الی کے ساتھ متعدی ہو تو اس سے مراد ہوتا ہے کہ اس نے اپنا آپ اس کے سپرد کردیا ہے، جس طرح کوئی سامان کسی کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ اس صورت میں مراد اس پر بھروسہ کرنا اور ایک چیز اس کے سپرد کرنا ہے (1) ۔ والی اللہ عاقبۃ الامور اس کا انجام اللہ کے سپرد ہے۔
Ayah 31:23

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمناک نہ کر دے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتائیں گے بیشک خدا دلوں کی بات سے واقف ہے

فننبئہم بما عملوا کا مطلب ہے کہ ہم انہیں بدلہ دیں گے۔ نمتعہم قلیلا ہم دنیا میں انہیں تھوڑے عرصے کے لیے باقی رکھیں گے جس سے وہ لطف اندوز ہوں گے۔ ثم نضطرھم پھر ہم انہیں پناہ دیں گے اوہ ہم انہیں ہانک کرلے جائیں گے۔ الی عذاب غلیظ اس سے مراد عذاب جہنم ہے۔ من کا لفظ واحد اوہ جمع سب کے لیے موزوں ہے اسی وجہ سے فرمایا : کفرہ پھر فرمایا مرجعھم اور ما بعد معنی کے اعتبار سے ہے۔
Ayahs 31:24–25

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بول اٹھیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

لیقولن اللہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے تو وہ اس کے علاوہ کسی اور کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟ قل الحمد للہ اس نے ہماری جو اپنے دین کی طرف راہنمائی کی اس پر الحمد للہ اس ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے حمد نہیں۔ بل اکثرھم لا یعلمون وہ نظروفکر نہیں کرتے اور تدبر نہیں کرتے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب ملکیت اور خلق کے اعتبار سے اسی کا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی مخلوق سے اور ان کی عبادت سے غنی ہے اور بےنیاز ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تاکہ بندوں کو نفع پہنچائے۔ وہ اپنی صفت پر حمد کے لائق ہے۔
Ayahs 31:26–27

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے بیشک خدا بےپرواہ اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہوجائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

جب مشرکین کے خلاف استدلال کیا ہے جس کے ساتھ استدلال کیا ہے تو اس امر کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ کے کلام کے معانی ختم نہیں ہوں گے ان کی کوئی انتہا نہیں۔ قفال نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے اس امر کو ذکر کیا کہ اس ذات پاک نے ان کے لیے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کو ان کے لیے مسخر کردیا ہے اور ان پر اپنی نعمتیں بہائی ہیں تو اس مر پر بھی آگاہ کیا کہ اگر درخت قلمیں ہوتے اور سمندر روشنائی ہوتی اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفت کے عجائبات کو لکھا جاتا جو عجائبات اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے تو وہ عجائبات ختم نہ ہوتے۔ قشیری نے کہا : ان کلمات کے معنی کو مقدورات کی طرف پھیرنا اور آیت کو کلام قدیم پر محمول کرتا زیادہ بہتر ہے۔ مخلوق کی تو کوئی نہ کوئی انتہا ہوگی، جب اس کی مقدورات کی انتہا سے نفی کردی گئی تو یہ اس کی انتہا کی بھی نفی ہوگی جو مستقبل میں اس کی ایجاد کی تقدیر سے متعلق ہو۔ یہی وہ چیز ہے جسے موجود محصور کر دے اور اس کا شمار کردے تو اس کے لیے انتہا ہونا ضروری ہے۔ تحقیق یہی ہے کہ قدیم کی کوئی انتہا نہیں۔ سورة کہف کے آخر میں کلمات اللہ کے معنی کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔ ابو اعلی نے کہا : کلمات سے مراد (اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) وہ چیز ہوگی جو تخت القدرت ہو نہ کہ اس سے مراد وہ چیز ہوگی جو وجود کی طرف نکل چکی ہے یعنی موجود ہوچکی ہو (1) ۔ یہ اس کی مثل ہے جو قفال نے کہا : عرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کے معانی کی کثرت کو بیان کرنا ہے۔ یہ فی نفسھا غیر متناہی ہے۔ متناہی چیز کے ساتھ امر کو انسان کے ذہن کے قریب کیا ہے کیونکہ یہ وہی غایت ہے انسان کی کثرت میں جس سے آگاہ ہے اس سے مراد یہ نہیں کہ اگر اس سے زیادہ کلام اور سمندر ہوں تو وہ ختم ہوجائیں گے۔ آیت کے نزول کا معنی اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کلمات سے مراد قدیم کلام ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس آیت کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں نے کہا : اے محمد ﷺ ہم اس آیت کا مصداق کیسے ہو سکتے ہیں وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (الاسرائ) جب کہ ہم تورات عطا کی گئی جس میں اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کے احکام ہیں اور آپ کے ہاں یہ بھی ہے کہ یہ ہر چیز کا بیان ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تورات کثیر میں سے قلیل ہے (2) “ اور یہ آیت نازل ہوئی، آیت مدنی ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ بات واضح ہے کہ یہاں کلمات سے مراد علم اور حقائق الاشیاء ہیں کیونکہ اللہ تعالی، مخلوقات جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ان کو پیدا کرنے سے پہلے بھی علم رکھتا تھا وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو ذرہ کا وزن رکھتی ہیں، تمام اجناس کا علم رکھتا ہے، ان میں جو مال اور اعضاء ہیں ان کو بھی جانتا ہے، درخت میں جو پتے ہیں انہیں بھی جانتا ہے اس میں شکل و صورت کی جو اقسام بنتی ہیں انہیں جانتا ہے اس میں جو تصرف کیا جاتا ہے جیسے ذائقہ اور رنگ ان کو جانتا ہے۔ اگر وہ ہر جانور کا نام رکھ دے، قلیل و کثیر میں سے جو جانتا ہے ان کا نام رکھ لے، اس پر جو احوال متغیر ہوں گے، ہر زمانہ میں ان میں جو اضافہ ہوگا ان سب کے نام رکھ دے ہر درخت کو الگ واضح کر دے، اس سے جو شاخیں پھوٹتی ہیں اس کو واضح کر دے اور ہر زمانہ میں اس سے جو خشک ہوتا ہے اس کو مقدر کر دے پھر ان میں سے ہر ایک پر بیان اس چیز کو لکھے اللہ تعالیٰ ان میں سے جس کا احاطہ کیے ہوئے ہے پھر سمندر اس بیان کی سیاہی بن جائے جسے اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کے بارے میں بیان کیا ہے بعد میں سات اور سمندروں سے اس کی مدد کی جائے تو وہ بیان ان اشیاء سے زیادہ ہوگا میں کہتا ہوں : یہ قفال کے قول کا معنی ہے ان شاء اللہ۔ یہ اچھا قول ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے قریش نے کہا : یہ کلام محمد ﷺ کے لیے عنقریب مکمل ہوجائے گی، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ سدی نے کہا : قریش نے کہا : محمد کا کلام کتنا ہی زیادہ ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ والبحر یمدہ جمہور کی قراءت رفع کے ساتھ ہے یہ مبتدا ہے اس کی خبر جملہ میں اس کے بعد ہے اور جملہ حال کے محل میں ہے۔ گویا فرمایا : والبحر ھذہ حالہ سیبویہ نے بھی کلام اسی طرح مقدر کی ہے۔ ایک نحوی نے کہا : اس کا عطف ان پر ہے کیونکہ وہ مبتدا ہونے کی حیثیت میں محل رفع میں ہے۔ ابو عمر اور ابن ابی اسحاق نے اس والبحر منصوب پڑھا ہے اس کا عطف ما پر ہے جو ان کا اسم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اگر سمندر اس میں اضافہ کرتا۔ ابن ہرمز اور حضرت حسن بصری نے یمدہ پڑھا ہے جو امۃ سے مشتق ہے۔ ایک فرقہ کا کہنا یہ ہے : دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ ایک جماعت کا کہنا ہے : مجرد کا لفظ اس وقت بولتے ہیں جب ایک چیز کا بعض بعض میں اضافہ کرے جس طرح تو کہتا ہے : مد النیل الخلیج یعنی نیل نے اس میں اضافہ کردیا۔ امد الشی جب ایک چیز دوسری چیز کا جز نہ ہو۔ یہ بحث سورة بقرہ اور آل عمران میں گزر چکی ہے۔ جعفر بن محمد نے پڑھا : والبحر مدادہ، مانفدت کلمات اللہ اس کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔ ان اللہ عزیز حکیم یہ بھی بحث پہلے گزرچکی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہاں بحر سے مراد میٹھا پانی ہے جو قلموں کو اگاتا ہے جہاں تک نمکین پانی کا تعلق ہے تو وہ قلموں کو نہیں اگاتا۔
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

ضحاک نے کہا : تم سب کی تحقیق ایک نفس کی تخلیق کی طرح ہی ہے اور قیامت کے روز تمہارا اٹھانا ایک نفس کے اٹھانے کی طرح ہوگا۔ نحاس نے کہا : نحویوں نے یہی مقدر کیا ہے کہ تم سب کو پیدا کرنا ایک نفس کے پیدا کرنے کی طرح ہوگا، یعنی لفظ خلق مقدر ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے : وسئل القریۃ (یوسف : 82) مجاہد نے کہا : کیونکہ وہ قلیل اور کثیر کے لیے فرماتا ہے کن فیکون (الانعام : 73) ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے (1) ۔ یہ آیت ابی بن خلف، ابی السدین، منبہ اور نبیہ جو حجاج بن سباق کے بیٹے تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف مراحل سے گزار کر پیدا کیا پہلے نطفہ، پھر جما ہوا خون، پھر گوشت کا لوتھڑا پھر ہڈیاں۔ پھر آپ کہتے ہیں : ہمیں ایک لمحہ میں کامل صورت میں پیدا کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا کیونکہ بندوں پر جو چیز مشکل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ اس کا پوری کائنات کو پیدا کرنا ایک نفس کے پیدا کرنے کی طرح ہے (2) ۔ ان اللہ سمیع یعنی جو وہ کہتے ہیں بصیر اور دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

آیت الم تر ان اللہ الخ اس بارے میں گفتگو سورة الحج اور سورة آل عمران میں گزرچکی ہے۔ وسخر الشمس والقمر اوقات کا اندازہ لگانے اور منافع کی تکمیل کے لیے طلوع و غروب کے ساتھ انہیں مسخر کرایا (2) ۔ کل یجری الی اجل مسمی حضرت حسن بصری نے کہا : مراد یوم قیامت ہے (3) ۔ قتادہ نے کہا : اجل مسمی سے مراد اس کے طلوع و غروب کا وقت ہے نہ اس سے تجاوز کرتا ہے اور نہ اس سے پہلے طلوع و غروب ہوتا ہے (4) ۔ وان اللہ بماتعملون خبیر یعنی جو ان چیزوں پر قادر ہے تو ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کو جاننے والا ہو اور ان اشیاء کو جاننے والا تمہارے اعمال کا جاننے والا ہو۔ عام قراءت تعلمون تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ ہے۔ سلمی، نصر بن عاصم اور دوری نے ابو عمرو سے یاء کے ساتھ غائب کا صیغہ پڑھا ہے یہ خطاب نہیں خبر ہے۔ ذلک اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کیا تاکہ تم جان لو اور اقرار کرو آیت ذالک بان اللہ رحمۃ اللہ علیہالخ کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ باطل ہے۔ باطل سے مراد شیطان ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : باطل سے مراد ہے بتوں میں سے جن کو بھی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹہراتے ہیں۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر وہ مقام و مرتبہ میں بلند اور بادشاہت میں بڑا ہے (5) ۔
Ayahs 31:30–31

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

الم تر ان الفلک، فلک سے مراد کشتیاں ہیں۔ تجری یہ جملہ خبر بن رہا ہے۔ فی البحر بنعمت اللہ تم پر جو وہ مہربانی فرماتا ہے اور تم پر جو رحمت فرماتا ہے کہ تمہیں اس سے خلاصی عطا فرماتا ہے۔ ابن ہرمز نے بنعمات اللہ قراءت کی۔ یہ نعمۃ کی جمع ہے اس کا معنی سلامتی ہے۔ اصل یہ تھا کہ عین کو حرکت دی جاتی پھر اسے ساکن کردیا گیا۔ لیریکم من ایاتہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی جو نشانیاں تم دیکھتے ہو۔ نقاش نے کہا : اللہ تعالیٰ انہیں جو رزق عطا فرماتا ہے (1) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سمندر کی چابیاں کشتیاں ہیں اور زمین کی چابی راستے ہیں اور آسمان کی چابی دعا ہے (2) ۔ آیت ان فی ذلک لایت لکل صبار شکورجو آدمی اس کی قضاء پر صبر کرتا ہے اور اس کی نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہے۔ اہل معانی نے کہا : مومنوں میں سے جو بھی اس صفت کے حامل ہیں اس کا ارادہ کیا، کیونکہ صبر اور شکر ایمان کی خصلتوں میں سے سب سے فضیلت والی خصلتیں ہیں۔ آیت کا معنی علامت ہے اور علامت یہ مومن کے سینے میں ظاہر نہیں ہوتی یہ ظاہر ہوتی ہے جو بلا پر صبر کرے اور خوشحالی پر شکر کرے۔ شعبی نے کہا : صبر نصف ایمان ہے اور شکر نصف ایمان ہے، یقین کامل ایمان ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں دیکھا : ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وفی الارض ایت للموقنین (الذاریا ت) (3) نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” ایمان کے دو حصے ہیں نصف صبر ہے اور نصف شکر ہے “ (4) ۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

واذا غشیھم موج کا الظلل مقاتل نے کہا : پہاڑوں کی مانند۔ کلبی نے کہا : بادلوں کی مانند (5) ؛ یہ قتادہ کا قول ہے یہ ظلۃ کی جمع ہے موج کو اس کے ساتھ تشبیہ اس کے بڑے اور بلند ہونے کی وجہ سے دی ہے۔ نابغہ نے سمندر کی تعریف میں کہا : یماشیھناخضر ذو ظلال علیحافاتہفلق الدنان (6) موج کو ظلل کے ساتھ تشبیہ دی موج واحد ہے اور ظلل جمع ہے کیونکہ موج آہستہ آہستہ آتی ہے اور اس کا بعض بعض پر سوار ہوجاتا ہے جس طرح پہاڑ ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جمع کے معنی میں ہے اسکو جمع کا صیغہ نہیں بنایا گیا کیونکہ یہ مصدر ہے اس کا اصل معنی حرکت اور ازدحام ہے اسی سے ماج البحر اور الناس یموجون ہے۔ کعب نے کہا : فجئناالی موجمنالبحروسطہ احا بیش منھمحاسدومقنع ہم سمندر کی موج کی طرف آئے جس کے وسط میں حبشی تھے۔ ان میں سے کچھ حاسد اور کچھ سر جھکائے ہوئے تھے۔ محمد بن حنفیہ نے اسے پڑھا موج کا لظلال یہ ظل کی جمع ہے : دعو اللہ مخلصین لہ الدین اس کی وحدانیت کا اعلان کرتے ہوئے وہ اپنے بچائو کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے دعا نہیں کرتے۔ یہ بحث پہلے گزرچکی ہے فلما نجھم یعنی جب سمندر سے نجات عطا کی (1) ۔ الی البر فمنھم مقتصد۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سمندر میں اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرنے والے ہیں۔ نقاش نے کہا : وعدہ میں عدل کرنے والے ہیں۔ سمندر میں جو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا خشکی میں اس کو پورا کرنے والے ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مقتصد کا معنی ہے مومن ہیں اور توحید و اطاعت کو اپنانے والے ہیں (2) ۔ مجاہد نے کہا : قول میں درست ہیں اور کفر کو چھپانے والے ہیں (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں حذف ہے، معنی اس طرح ہے ان میں سے کچھ حق پرست ہیں اور کچھ کافر ہیں محذوف پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : وما یجحد بایاتنا الا کل ختار کفور ختار کا معنی دھوکہ ہے۔ ختر کا معنی بہت ہی برا دھوکہ ہے، عمر وبن معدیکرب نے کہا : فانک لو رایتاباعمیرملاء تیدیک من غدروختر (4) اگر تو ابو عمیر کو دیکھے گا تو تو اپنے ہاتھوں کو دھوکہ سے بھرلے گا۔ اعشی نے کہا : بالابلق الفردمنتیمائمنزلہ حصن حصینو جار غیرختار جوہری نے کہا : ختر کا معنی دھوکہ ہے۔ یوں جملہ بولا جاتا ہے : خترہ فھو ختار۔ مادردی نے کہا : یہ جمہور کا قول ہے : عطیہ نے کہا : اس سے مراد انکار کرنے والا ہے یوں جملہ بولا جاتا ہے : ختر یختر ویختر خترا۔ قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے، جحد الآیات سے مراد آیات کے ایمان کا انکار کرنا اور الجحد باالآیات سے مراد ان کے دلائل کا انکار کرنا۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے

آیت یا ایھا الناس اتقوا ربکم، الناس سے مراد مومن اور کافر ہے، یعنی اس سے ڈرو اور اس کی وحدانیت کا انکار نہ کرو۔ آیت واخشو یوما الخ سورة بقرہ وغیرہ میں یجزی کا معنی گزرچکا ہے اگر یہ کہا جائے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس کے ایسے تین بیٹے فوت ہوجائیں جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں انہیں جہنم کا عذاب نہیں پہنچے گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے “ (1) ۔ فرمایا : جس آدمی کو ان بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا اس نے ان پر احسان کیا تو وہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی “ (2) ۔ اسے جواب دیا جائے گا : اس آیت سے مراد ہے کوئی والد اپنے بچے کا گناہ نہیں اٹھائے گا، کوئی بچہ اپنے والد کا گناہ نہیں اٹھائے گا اور کسی کا دوسرے کی وجہ سے مواخذہ نہیں ہوگا اور احادیث سے مراد ہے موت پر صبر اور بچیوں کے ساتھ احسان کا ثواب بندے کو آگ سے محجوب کر دے گا اور بچہ جنت کی طرف اسے لے جانے والا ہوگا۔ ان وعد اللہ حق وعدہ سے مراد بعث ہے۔ فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا دنیاوی زندگی اپنی زینت اور جس کی طرف یہ دعوت دیتی ہے وہ چیزیں تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالیں کہ تم اسی پر بھروسہ کرنے لگو، اس کی طرف مائل ہو جائو اور آخرت کے لیے عمل کو چھوڑ دو ۔ آیت ولا یغرنکم باللہ الغرور یہاں عام قراءت سورة ملائکہ میں اور سورة الحدید میں غین کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ مجا ہد وغیرہ کے قول کے مطابق اس سے مراد شیطان ہے یہی مخلوق کا دھوکہ دیتا ہے، دنیا کی آرزو دلاتا ہے اور آخرت سے غافل کرتا ہے (3) ۔ سورة النساء میں ہے یعدھم و یمنیھم (120) سماک بن حرب، ابو حیوہ اور سمقیع نے غین کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی تم دھوکہ نہ کھائو۔ گویا یہ غر یغر غرور کا مصدر ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : مراد ہے وہ معصیت کا فعل کرے اور مغفرت کی تمنا کرے (4) ۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے

فراء نے گمان کیا ہے کہ اس میں نفی کا معنی موجود ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : اس میں نفی اور ایجاب دونوں کا معنی پایا جاتا ہے کیونہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر اگاہ کیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو (الانعام : 53) فرمایا :” اس سے مراد یہی چیزیں ہیں “۔ میں کہتا ہوں : ہم نے سورة الانعام میں اس بارے میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کا ذکر کیا، حضرت جبریل امین کا حدیث میں ہے عرض کی : مجھے قیامت کے بارے میں بتایئے ؟ (1) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس سے اس کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے سائل سے زیادہ نہیں جانتا، یہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، وہ جانتا ہے کہ رحم میں کیا ہے اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا “ حضرت جبریل امین نے فرمایا : آپ نے سچ فرمایا “ الفاظ ابو دائود اور طیالسی کے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا : پانچ چیزوں کے علاوہ ہر چیز تمہارے نبی کو دے دی گئی۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ ہی جانتا ہے اسے کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل نہیں جانتا جس نے کہا : وہ ان میں سے کسی کو جانتا ہے اس نے قرآن کا انکار کیا کو ن کہ اس نے قرآن کی مخالفت کی۔ پھر انبیاء اللہ تعالیٰ کی پہچان کرانے سے بہت سے اور غیب جانتے ہیں مراد کاہنوں، نجومیوں اور جو ستاروں کی مدد سے بارش کے ہونے کی باتیں کرتا ہے ان کا ابطال کرنا ہے۔ بعض اوقات طویل تجربہ سے کچھ اشیاء کی پہچان ہو سکتی ہے جس طرح حمل کا مذکر اور مونث ہونا وغیرہ۔ جس طرح سورة الانعام میں اس کا ذکر گزرچکا ہے۔ بعض اوقات تجربات مختلف ہوجاتے ہیں عادت کے بر عکس معاملہ ہوجاتا ہے اور علم قطعی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے باقی رہتا ہے۔ ایک روایت کی جاتی ہے : ایک یہودی علم نجوم سے حساب لگاتا۔ اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : اگر تو چاہے تو میں تیرے بیٹے کے نجم سے آگاہ کروں وہ دس دن کے بعد فوت ہوجائے گا اور آپ فوت نہیں ہوں گے مگر آپ نابینا ہوجائیں گے اور مجھ پر ایک سال نہیں گذرے گا کہ میں مر جائوں گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے پوچھا : اے یہودی ! تیری موت کہاں واقع ہوگی ؟ اس نے عرض کی : میں یہ تو نہیں جانتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا : وما تدری نفس بای ارض تموت۔ حضرت ابن عباس ؓ واپس آئے اور اپنے بیٹے کو بخار میں مبتلا پایا۔ وہ بچہ دس دن کے بعد فوت ہوگیا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نابیناحالت میں فوت ہوئے۔ علی بن حسین جو اس حدیث کے راوی ہیں انہوں نے کہا : یہ حدیثوں میں سب سے عجیب حدیث ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت ایک بدو کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا نام وارث بن عمر بن حارثہ تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میری بیوی حاملہ ہے مجھے بتایئے کہ وہ کیا جنے گی ــ؟ ہمارے علاقہ قحط زدہ ہیں بتایئے کب بارش نازل ہوگی ؟ مجھے علم ہے جب میں پیدا ہوا مجھے بتایئے میں کب مروں گا ؟ مجھے علم ہے میں نے آج کیا کیا ہے مجھے بتایئے میں کل کیا کروں گا ؟ اور مجھے بتایئے قیامت کب برپا ہوگی ؟ (1) تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا ؛ قشیری اور ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابو ملیح، ابو عزہ ہذلی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقہ میں قبض کرنا چاہتا ہے تو وہاں اس کی ضرورت پیدا فرما دیتا ہے اس کی زندگی ختم نہیں ہوگی مگر وہ اس جگہ آجاتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی “ ماوردی نے اس کا ذکر کیا (2) ۔ ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود سے اس کی ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ ہم نے کتاب ” التذکرہ “ میں اس کو مکمل ذکر کیا ہے عام قراءت وینزل تشدید کے ساتھ ہے۔ ابن کثیر، ابو عمر، حمزہ اور کسائی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے پڑھا ہے بایۃ ارض باقی قراء نے بای ارض پڑھا۔ فراء نے کہا : ارض کی تانیث کا اکتفاء ای کی تانیث پر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ارض سے مراد مکان ہے۔ اس وجہ مذکر ذکر کیا۔ شاعر نے کہا : فلامزنۃ ودقت ودقھا ولا ارضابقلابقالھا کسی بادل نے پورا پانی نہیں برسایا اور کسی قطعہ زمین سے اپنا سبزہ نہیں اگایا۔ اخفش نے کہا : یہ جائز ہیمررت بجاریۃ ای جاریۃ وایۃ جاریۃ سیبویہ نے ای کی تانیث کو کل کی تانیث کے مشابہ قرار دیا، جس طرح ان کا قول ہے : کلتھن۔ ان اللہ علیم خبیر، خبیر یہ علیم کی نعت ہے یا خبر کے بعد خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔