28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اس نے اسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا ؟ پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

افمن وعدنہ وعدا احسناً فھو لاقیہ ہاء ضمیر سے مراد جنت اور اس میں جو ثواب ہے کمن متعنہ متاع الحیوۃ الدنیا سے وہ عطا کیا جس کا ارادہ کیا۔ ثم ھو یوم القیمۃ من المحضرین آگ میں حاضر ہوگا۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ولو لا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین۔ (الصافات) حضرت ابن عباس نے کہا : یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ محمد بن کعب نے کہا : یہ حضرت حمزہ اور حضرت علی اور ابوجہل اور عمار اور ولید کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، عمار اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، یہ سدی کا قول ہے۔ قشیری نے کہا : صحیح یہ ہے کہ یہ آیت عموماً مومن اور کافر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ثعلبی نے کہا : خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ آیت ہر کافر کے بارے میں نازل ہوئی جس نے دنیا میں عافیت اور غنا سے فائدہ اٹھایا آخرت میں اس کے لئے آگ ہے اور یہ اس مومن کے بار میں نازل ہوئی جس نے دنیا کی مصیبتوں پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کیا اور اس کے لئے آخرت میں جنت ہے۔
Ayahs 28:62–67

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز خدا انکو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم کو دعوی تھا ؟

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

تو جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا (اور) جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح انکو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہو کر) ان سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ تو وہ انکو پکاریں گے اور وہ ان کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس روز (خدا) ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا ؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو وہ اس روز خبروں سے اندھے ہوجائیں گے اور آپس میں کچھ بھی نہ پوچھ سکیں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کیے تو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو

ویوم ینادیھم قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو ندا کرے گا۔ فیقول این شرک آئی میرے شریک کہاں ہیں جنہیں تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں مدد کریں گے اور تمہاری سفارش کریں گے ؟ قال الذین حق علیھم القول ان پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا وہ سروار ہیں، یہ کلبی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد شیاطین ہیں ربنا ھولاء الذین اغوینا ہم نے انہیں گمراہی کی طرف دعوت دی انہیں کہا جائے گا : کیا تم نے ان کو گمراہ کیا ؟ انہوں نے کہا : اغوینھم کما غوینا وہ مراد یتے ہیں ہم نے انہیں گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ تھے۔ تبرانا الیک ہم میں سے بعض نے بعض سے برأت کا اظہار کیا۔ شیاطین ان سے برأت کا اظہار کردیتے ہیں جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور سرداران سے برأت کا اظہار کردیتے ہیں جنہوں نے ان سے اس امر کو قبول کیا تھا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الا خلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین۔ (الزخرف) وقیل کفار سے کہا جائے گا اد عوا شرکآء کم دنیا میں جن کی تم عبادت کرتے رہے ان سے مدد طلب کرو تاکہ وہ تمہاری مدد کریں اور تم سے عذاب کو دور کردیں۔ قد عوھم انہوں نے معبودان باطلہ سے مدد طلب کی۔ فلم یستجیبوالھم بتوں نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور انہوں نے بتوں سے کوئی نفع نہ اٹھایا۔ وراو العذاب لوانھم کانوا یھتدون زجاج نے کہا : لو کا جواب محذوف ہے معنی ہے اگر وہ ہدایت پاتے تو ہدایت انہیں نجات عطا کرتی اور عذاب کی طرف نہ لوٹتے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر وہ ہدایت حاصل کرتے تو انہیں نہ بلاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جب انہوں نے عذاب کو دیکھا تو انہوں نے پسند کیا کاش وہ دنیا میں ہدایت پاتے یہ اس وقت کہیں گے جب وہ قیامت کے روز عذاب دیکھیں گے۔ ماذا اجبتم المرسلین اللہ تعالیٰ انہیں ارشاد فرمائے گا : تم نے ان انبایء کو کیا جواب دیا تھا جن کو تمہاری طرف مبعوث کیا گیا جب انہوں نے تمہیں پیغام پہنچایا فعئیت علیھم الانبآء یومئذ ان پر دلائل مخفی ہوگئے، یہ مجاہد کا قول ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان پر حجت تمام کردی تھی قیامت کے روز ان کے لئے کوئی عذر اور حجت نہیں ہوگی (1) الانبآء کا معنی اخبار ہے۔ ان کی حجتوں کو انباء کا نام دیا کیونکہ وہ خبریں ہیں جو وہ دیتے۔ فھم لایتسآء لون وہ ایک دوسرے سے دلائل کے بارے میں نہیں پوچھیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلائل کو باطل کردیا، یہ ضحا کا قول ہے (2) حضرت ابن عباس نے کہا : لایتسائولون وہ دلیل کے بارے میں ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس لمحہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے۔ وہ اس ساعت کی ہولناکی کی وجہ سے نہ جانیں گے کہ کیا جواب دیں۔ پھر وہ جواب دیں گے جس طرح ان کے قول کی خبر دی : واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔ مجاہد نے کہا : وہانساب کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے کہ اس کے گناہوں میں سے کس چیز کو اٹھائے ؟ ابن عربی نے اسکی حکایت بیان کی ہے۔ فامامن تاب جس نے شرک سے توبہ کی وامن جس نے تصدیق کی وعمل صالحاً فرائض کو ادا کیا اور نوافل کثرت سے ادا کئے فعسی ان یکون من المفلحین وسعادت کو پانے والے ہوں گے۔ جب فعل عسی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اس سے مراد جو ہوگا۔
Ayahs 28:68–70

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے انکو اس کا اختیار نہیں ہے یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک و بالاتر ہے

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کا حکم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

وربک یخلق مایشآء و یختار یہ ان شرکئا کی ذکر کے ساتھ متصل ہے جن کی انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے شفاعت کے لئے انہیں اختیار کیا۔ شفعاء میں اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے مشرکین کا اس میں کوئی اختیار نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ولدین بن مغیرہ کا جواب ہے جب اس نے کہا، لو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف : 31) یعنی اس نے اپنے آپ کو اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی کو عظیم خیال کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ یہودیوں کا جواب ہے جب انہوں نے کہا : اگر جبریل امین کے علاوہ حضرت محمد ﷺ کی طرف پیغام لانے والا ہوتا تو ہم اس پر ایمان لے آتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، تیرا رب مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے طاعت کے لئے چن لیتا ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : معنی ہے تیرا رب مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے نبوت کے لئے چاہتا ہے پسند کرلیتا ہے۔ نقاش نے بیان کیا ہے : معنی ہے اللہ تعالیٰ میں سے جسے چاہتا ہے یعنی حضرت محمد ﷺ کو پیدا فرماتا ہے اور اپنے دین کے مددگار پسند کرلیتا ہے۔ (1) میں کہتا ہوں : کتاب البزار میں حضرت جابر سے صحیح اور مرفوع روایت ہے :” اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور مرسلین کے علاوہ میرے صحابہ کو عالمین پر چن لیا ہے اور میرے صحابہ میں سے میرے لئے چار صحابہ کو چن لیا ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمرو فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی شیر خدا (2) اللہ تعالیٰ نے انہیں میرے صحابہ بنایا ہے اور میرے تمام صحابہ میں خیر ہے، میری امت کو تمام امتوں پر چن لیا ہے اور میری امت میں سے چار قرون کو میرے لئے چن لیا ہے۔ “ سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے وہ دہب بن عنبہ سے وہ اپنے باپ سے اس آیت ور بک یخلق مایشآء ویختار کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ جو پائوں میں سے بکری، پرندوں میں سے کبوتر، ویختار پر وقف تام ہے۔ علی بن سلیمان نے کہا : یہ وقف تام ہے یہ جائز نہیں کہ مایختار کی وجہ سے محل نصب میں ہو کیونکہ اگر یہ محل نصب میں ہوتا تو فعل اس سے پہلے نہ ہوتا۔ کہا : اس میں قدر یہ کا رد ہے۔ نحاس نے کہا کلام وختیار پر مکمل ہوجاتی ہے یعنی وہ رسولوں کو چن لیتا ہے۔ ما کان لھم الخیرۃ جن کو وہ پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بھیجتا۔ ابو اسحاق نے کہا : ویختار یہ وقف تام ہے اور پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ ما، یختار کی وجہ سیمنصوب ہو معنی ہے وہ اسے چنتا ہے جس میں ان کا اختیار ہوتا ہے۔ قشیری نے کہا : صحیح پہلاقول ہے کیونکہ ان سب کا ویختار کے وقف پر اتفاق ہے۔ مہدوی نے کہا : یہ اہل سنت کے مذہب کے زیادہ مناسب ہے۔ ماکان لھم الخیرۃ میں ما تمام اشیاء کے لئے نفی عام ہے کہ اس میں بندے کے لئے کوئی چیزہو سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اسے حاصل کرے۔ زمخشری نے کہا : ماکان لھم الخیرۃ یہ بختیار کا بیان ہے کیونکہ اس کا معنی ہے جو چاہتا ہے پسند کرتا ہے اسی وجہ سے حرف عطف ذکر نہیں کیا۔ معنی ہے افعال میں اختیار اسی کا ہے اور وہ ان میں حکمت کی وجوہ کی خو جانتا ہے یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس پر اختیار رکھتا ہو۔ زجاج اور دوسرے علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ ما، یختار کی وجہ سے منصوب ہو (3) طبری نے اس کا انکار کیا ہے کہ مانا فیہ ہو، تاکہ یہ معنی نہ ہو کہ زمانہ گزشتہ میں ان کا کوئی اختیار نہیں تھا اور زمانہ مستقبل میں ان کے لئے اختیار ہوگا، کیونکہ نفی کی صورت میں کلام پہلے نہیں گزری (4) مہدوی نے کہا : یہ لازم نہیں آتا کیونکہ ماحال اور استقبال کی نفی کرتا ہے جس طرح لیس اسی وجہ سے ما، لیس کا سا عمل کرتا ہے اور کیونکہ آیات نبی کریم ﷺ پر اسی طرح نازل ہوتیں جس قسم کے سوال نبی کریم ﷺ سے کئے جاتے اور جیسے اعمال پر وہ مصر ہوتے اگرچہ یہ چیز نص میں نہیں ہے، طبری کے نزدیک آیت کی تقدیر یہ ہے ویختار لولایتہ الخیرۃ من خلقہ کیونکہ مشرکین اپنے بہترین اقوال چنتے اور انہیں اپنے معبودوں کے لئے مختص کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وربک یخلق مایشآء و ویختار یعنی اپنی مخلوق میں سے جسے ہدایت کے لئے چنتا ہے جس کے متعلق اس کے علم میں پہلے سے سعادت موجود ہوتی ہے جس طرحمشرک اپنے اموال میں سے بہترین اموال اپنے معبودوں کے لئے مختص کرتے ہیں۔ اس تعبیر کی بناء پر مازوی العقول کے لئے ہوگا اور یہ الذی کے معنی میں ہوگا۔ الخیرۃ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ لھم اس کی خبر ہے اور جملہ کان کی خبر ہے۔ اس کے مشابہ تیرا قول ہے : کان زید ابوہ منطق اس میں ضعف ہے کیونکہ کلام میں ایسی ضمیر نہیں ہے جو کان کے اسم کی طرف لوٹے مگر اس صورت میں کہ حذف کو مقدر کیا جائے تو یہ دوری کی وجہ سے جائز ہوگا۔ طبری نے جو کہا ہے اس کا معنی حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے۔ ثعلبی نے کہا : مانا فیہ ہے یعنی انہیں اللہ تعالیٰ پر کوئی اختیار نہیں (1) یہ زیادہ صحیح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ومان کان لمومن ولا مئومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم (الاحزاب : 36) محمود وراق نے کہا : توکل علی الرحمن فی کل حاجۃ اردن فان اللہ یقضی ویقدر اذا مایرد ذوالعرش امرا بعبدہ یصبہ وما للعبد ما یتخیر وقد یھلک الانسان من وجہ حذرہ وینجو بحمد اللہ من حیث (2) یحذر جس امر کا بھی تو ارادہ کرے اللہ تعالیٰ پر توکل کرے بیشک اللہ تعالیٰ ہی قضا و قدر کا مالک ہے۔ جب عزت والا اپنے بندے کے متعلق کسی امر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے وہ پہنچا دیتا ہے بندے کا کوئی اختیار نہیں۔ بعض اوقات انسان احتیاط کی وجہ سے ہلاک ہوجاتا ہے اور جو احتیاط نہیں کرتا بحمد للہ وہ نجات پا جاتا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : العبد ذوضجر والرب ذو قدر والدھر ذو دول والرزق مقسوم والخیر اجمع فیما اختار خالقنا وفی اختیار سواہ اللوم السوم بندہ پریشان ہونے والا ہے اور رب قدرت والا ہے زمانہ چکر لگانے والا ہے اور رزق تقسیم کیا جاجا چکا ہے۔ ہمارا خالق جس کو اختیار کرے بھلائی اس میں زیادہ جمع ہے اس کے سوا کیا ختیار میں ملامت اور نحوست ہے۔ بعض علماء نے کہا : کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ دنیا کے امور میں سے کسی امر کا ارادہ کرییہاں تک کہ وہ اس میں اللہ تعالیٰ سے بھلائی کا سوال کرے وہ بندہ دو رکعت نماز نقل استخارہ پڑھے پہلی رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد سورة قل یایھا الکفرون پڑھے اور دوسری رکعت میں سورة اخلاص قل ھو اللہ احد پڑھے بعض مشائخ نے یہ پسند کیا کہ وہ پہلی رکعت میں وربک یخلق مایشآء و یختار ماکان لھم الخیرۃ اور دوسری رکعت میں وما کان لئ مومن ولا مئومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم (الاحزاب : 36) یہ سب حسن ہے۔ پھر سلام کے بعد یہ دعا مانگے۔ وہ وہ دعا ہے جو امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے۔ نبی کریم ﷺ تمام امور میں ہمیں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے۔ جس طرح قرآن کی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ فرماتے تے : تم میں سے جب کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرضوں کے علاوہ دو رکعت نماز ادا کرے پھر یہ دعا کرے (1) علماء نے کہا : اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ اس کا دل تمام قسم کے وساوس سے فارغ ہو یہاں تک کہ وہ کسی امر کی طرف مائل نہ ہو تو اس وقت اس کا دل جس کی طرف سفر کا قصد کرے تو اپنے سفر کے لیء جمعرات یا پیر کا انتخاب کرے اس میں وہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدار کا ارادہ کر رہا ہو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے قول حق کے ساتھ پاکی بیان کی۔ فرمایا : سبحن اللہ و تعلی وہ پاک ہے مقدس ہے وہ بزرگ و برتر ہے۔ عما یشرکون۔ وربک یعلم ماتکن صدورھم و ما یعلنون جس کو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ ابن محیصن اور حمید نے تکن تاء کے فتحہ اور کاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے (1) سورة نمل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدح بیان کی وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ وھو الا لا الہ الا ھو لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ ولہ الحکم والیہ ترجعون وہ حدانیت میں منفرد ہے تمام محامد اس کے لئے ثابت ہیں حکم اس کا ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
Ayahs 28:71–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لادے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

کہو تو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ روز قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لادے جس میں تم آرام کرو ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور (اس میں) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

قل ارئیتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمداً سرمد سے مراد دائمی ہے، اسی معنی میں طرف کا قول ہے : لعمرک ما امری علی بغتۃ نھاوی ولا لیلی علی یسرمد تیری زندگی کی قسم ! میرا معاملہ مجھ پر چھپا ہوا نہیں میرا دن اور میری رات مجھ پر ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے معیشت کے اسباب کو مسخر کردیا تاکہ وہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لائیں۔ من اللہ غیر اللہ یاتیکم بضآء کون نور لائے گا جس میں تم اپنی روزی تلاش کرو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کون دن لائے گا جس میں تم اپنے رزق کے اسباب کو دیکھ سکو گے اور اس میں پھل اور نباتات درست ہوں گے۔ افلاتسمعون کیا تم فہم اور قبول والا سننا نہیں سنتے۔ قل ارئیتم ان جعل اللہ علیکم النھار سرمداً الی یوم القیمۃ من اللہ غیر اللہ یاتیکم بلیل تسکون فیہ جس رات میں کم تھکاوٹ سے آرام پاتے ہو۔ افلا تبصرو نغیر کی عبادت سے تم غلطی میں ہو جب تم نے اقرار کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا دن اور رات کے لانے پر کوئی قادر نہیں تو پھر تم اس کے ساتھ کیوں شرک کرتے ہو ؟ ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لتسکونہ فیہ فیہ میں ضمیر رات اور دن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر ان کے لئے جو رات اور دن ہے۔ ولتبتغوا من فضلہ دن میں تم اس کا رزق طلبکرو۔ یہاں فیہ کو حذف کردیا گیا ہے۔ ولعلکم تشکرون
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعوی تھا کہاں گئے ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ایک امت میں سے گواہ نکالیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو وہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا

ویوم ینادیھم فیقول این شرکآءی الذین کنتم تزعمون حالوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ضمیر کا اعادہ کیا۔ وہ ایک دفعہ ندا کرتے ہیں تو انہیں کیا جاتا تھا : این شرکآء الذین کنتم تزعمون وہ بتوں کو بلائیں گے تو وہ انہیں جواب نہ دیں گے تو ان کی حیرت ظاہر ہوگی۔ پھر وہ دوبارہ ندا کریں گے اور خاموش ہوجائیں گے۔ یہ تو بیخ اور روسائی کیزیادتی ہے۔ یہ ندا اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہ ہوگی ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کفار سے کلام نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا یکلمھم اللہ یوم القیمۃ (البقرہ : 174) لیکن اللہ تعالیٰ انہیں ایسے امور کا حکم دے گا جو ان کو شرمندہ کر دے گا اور لا جواب کرے گا اور مقام حساب میں ان پر حجت تمام کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ احتمال ہے کہ ندا اللہ تعالیٰ کی جانب ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ولا یکلمھم اللہ یہ اس وقت ہوگا جب انہیں کہا جائے گا : اخموافیھا ولاتکلمون۔ (المومنون) اللہ تعالیٰ نے شرکاء کا لفظ ذکر کیا ہیکیون کہ وہ بتوں کے لئے اپنے اموال میں سے حصہ مختص کیا کرتے تھے۔ ونزغنا من کل امۃ شھیداً شہید سے مراد نبی ہے، یہ مجاہد سے مروی ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آخرت کے عادل ہیں جو بندوں پر گواہی دیں گے کہ وہ دنیا میں یہ عمل کرتے رہے۔ پہلاقول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فکیف اذ جئنامن کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولآء شھیداً ۔ (النسائ) ہر امت کا شہید اس کا وہ رسول ہے جو اس امت پر گواہی دے گا۔ شہید سے مرادحاضر ہے یعنی ہم نے ان کے اس رسول کو حاضر کیا جو رسول ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ فقلنا ھاتوا برھانکم برہان سے مراد حجت ہے۔ فعلموآ ان الحق للہ انہیں علم ہوگیا کہ انبیاء جو لائے ہیں وہ سچ ہے۔ وہ ضل عنھم ان سے چلا گیا اور باطل ہوگیا ما کانویافترون جو وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے رہے کہ اس کیساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے۔
Ayahs 28:76–77

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدی کرتا تھا اور ہم نے اسکو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت (کی بھلائی) طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو اور ملک میں طالب فساد نہ ہو کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

ان قارن کان من قوم موسیٰ جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدین (الشوریٰ : 36) تو اس امر کو واضح کیا کہ قارون کو مال عطا کیا گیا، اس نے اس کے ساتھ دھوکہ کھایا اور مال و دولت قارون کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ نہیں رکھے گا جس طرح فرعون کو معصوم نہیں رکھے گا۔ اے مشرکو ! تم تعداد اور مال میں قارون اور فرعون سے تعداد میں زیادہ نہیں ہو گے۔ فرعون کو اس کے لشکروں اور اموال نے کوئی فائدہ نہ دیا اور قارون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رشتہ داری اور مال نے کوئی نفع نہ دیا۔ نخعی قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب موسیٰ بن عمران بن قاہت ہے (1) ابن اسحاق نے کہا : وہحضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ماں، باپ دونوں کی طرف سے چچا تھا (2) ایک یہ کیا گیا ہے : وہ ان کا خالہ زاد تھا۔ یہ عجمہ اور معرفہ ہونے کی وجہ سے منصرف ہے جو فاعول کے وزن پر عجمی ہو اس میں الف، لام اچھا نہیں ہوتا وہ معرفہ ہو تو منصرف نہیں ہوتا اور نکرہ میں منصرف ہوتا ہے۔ اگر اس میں الف لام اچھا ہو تو وہ منصرف ہوگا اگر یہ مذکر کا اسم ہو جس طرح طائوس اور اقود ہے۔ زجاج نے کہا، اگر قارون قرنت الشوء سے ماخوذ ہو تو یہ منصرف ہوگا۔ فبغی علیھم اس کی بغاوت یہ تھی کہ اس نے اپنے کپڑے کی لمبائی ایک بالشت سے زیادہ رکھی ہوئی تھی، یہ شہر بن حوشب کا قول ہے حدیث طیبہ میں ہے : لاینظر اللہ الی من جراز ارہ بطر (1) جس آدمی نے تکبر کرتے ہئے اپنے تہبند کو گھسیٹا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی سرکشی سے مراد یہ کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا، یہضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کیبغی سے مراد اپنے مال اور اولاد کی زیادتی کی وجہ سے لوگوں کو حقیر جاننا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی بغی سے مراد اللہ تعالیٰ نے اسے جو خزانے دیئے اس نے انہیں اپنی طرف منسوب کیا کہ اس نے یہ اموال اپنے علم اور حیلہ سے حاصل کئے ہیں، یہ ابن بحر کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، بغی سے مراد اس کا یہ قول ہے جب نبوت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے اور مذبح و قربان ہارون کو حاصل ہے تو میرے لئے کیا ہے ؟ یہ روایت بیان کی جاتی ہے، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انہیں لے کر سمندر سے گزرے اور رسالت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہوئی اور امامت حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لئے ہوئی جو قربانی پیش کرتا ہے اور ان میں سردار ہوتا قربانی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہوئی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنے بھائی کے لئے مختص کردیا۔ قارون نے دل میں ناراضگی پائی اور ان دونوں سے حسد کیا۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا، امر تم دونوں کے لئے ہے میرے لئے کچھ بھی نہیں میں کب تک صبر کروں گا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا امر ہے۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تیری تصدیق کروں گا یہاں تک کہ تو معجزہ لے آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نبی اسرائیل کے سرداروں کو حکم دیا کہ ان میں سے ہر ایک اپنا عصا لائے آپ نے ان سب کا گھٹا بنایا اور انہیں اس قبہ میں ڈال دیا جس قبہ میں آپ پر وحی نازل ہوئی تھی وہ رات کو اپنے عصا کی حفاظت کرتے رہے انہوں نے صبح کی تو حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عصا ہل رہا تھا اور اس کے سبز پتے بھی تھے۔ وہ اخروٹ کے درخت کا تھا۔ قارون نے کہا : جو کچھ تو کرتا ہے وہ جادو سے زیادہ تعجب کا باعث نہیں تو اس نے یہ کہہ کر ان پر ظلم کیا۔ یحییٰ بن سلام اور ابن مسیب نے کہا : قارون مال دار آدمی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے بنی اسرائیل پر عامل تھا اس نے ان پر تعدی کی اور ان پر ظلم کیا وہ ان میں سے ایک تھا۔ ساتواں قول یہ ہے کہ : حضرت ابن عباسنے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے زانی کو رجم کرنے کا حکم دیا تو قارون نے ایک بدکار عورت کا قصد کیا اور اسے مال دیا اور اسے برانگیختہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر دعویٰ کرے کہ حضرت موسیٰ نے اس کے ساتھ بدکاری کی ہے اور اسے حاملہ کردیا ہے۔ یہ امر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر گراں گزرا آپ نے اس عورت سے اس اللہ کی قسم اٹھوائی جس نے بنی اسرائیل کے سمندر پھاڑا اور جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کہ تو سچ بولے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا اس نے کہا، پس گواہی دیتی ہوں کہ تو بری ہے اور قارون نے مجھے مال دیا اور مجھے برانیگختہ کیا کہ میں وہ کہوں جو میں نے کہا، آپسچے ہیں اور قارون جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قارون کا معاملہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد کردیا اور زمین کو حکم دیا کہ تو اس کی اطاعت کر۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے جب کہ وہ زمین کو کہہ رہے تھے : اے زمین : اس کو پکڑ لے اے زمین ! تو اس کو پکڑ لے، زمین اسے آہستہ آہستہ پکڑتی رہی جب کہ وہ مدد کے لئے پکار رہا تھا۔ اے موسیٰ ! یہاں تک کہ وہ خود اس کا گھر اور اس کے ساتھی جو اس کے مذہب پر تھے وہ زمین میں دھنس گئے۔ روایت بیان کی گی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی : میرے بندوں نے تجھے مدد کے لئے پکارا تو نے ان پر رحم نہیں کیا اگر وہ مجھے بلاتے تو مجھے اپنے قریب پاتے اور دعا قبول کرنے والا پاتے۔ ابن جریج نے کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ہر روز وہ انسان کی قامت کے برابر زمین میں دھنستا رہے گا۔ وہ قیامت تک زمین کی پست ترین سطح تک نہیں پہنچیں گے۔ ابی ابی الدنیا نے کتاب الفرج میں ذکر کیا ہے : ابراہیم بن راشد، دائود بن مہران سے وہ ولید بن مسلم سے وہ مروان بن جناح سے وہ یونس بن میسرہ بن حلبس سے روایت نقل کرتے ہیں قارون حضرت یونس (علیہ السلام) سے سمندر کی تاریکیوں میں ملا تو قارون نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو ندا کی اس نے کہا : اے یونس ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو تو پہلے قدم پر ہی اسے پائے گا کہ وہ تیری طرف رجوع فرمائے گا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اسے فرمایا : تجھے توبہ سے کس چیز نے روکاڈ اس نے کہا : میری توبہ میرے چچا زاد بھائی کے سپرد کردی گی تو اس نے مجھے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حدیث میں ہے : قارون جب ساتویں زمین کی قرار گاہ تک پہنچے گا تو حضرت اسرائیل صور میں پھونک دیں گے : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ سدی نے کہا : اس بدکار عورت کا نام سبرتا ہے، قارون نے اسے دو ہزار ہم دیئے تھے (1) قتادہ نے کہا : قارون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سمندر طے کیا اس کے حسن صورت کی وجہ سے تورات میں اسے منور نام دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے دشمن نے منافقت کی جس طرح سامری نے منافقت کی۔ واتینہ من الکنوز عطا نے کہا : قارون نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بہت سے خزانے پائے (2) ولید بن مروان نے کہا : وہ کیمیاء گری کا کام کرتا تھا (3) مآ ان مغاتحہ ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر ما کا صلہ ہے اور ما آتینا کا صلہ ہے۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بنسلیمان کو کہتے ہوئے سنا : کو فیصلہ کے بارے میں جو کتے ہیں وہ کتنی ہی قبیح بات ہے الذی اور اس کے اخوات کا صلہ ان اور ان کے معمول کو بنانا جائز نہیں قرآن حکیم میں ما ان مفاتحہ اس میں مفاتح، مفتح کے جمع ہے۔ مفتح اسے کہتے ہیں جس کے ساتھ تالے کو کھولا جاتا ہے جس نے مفتاح کہا اس نے مفاتیح کہا ہے جس نے کہا : یہ خزانے ہیں تو اس کا واحد مفتح ہے جو میم کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ لتنوآء بالعصبۃ اس بارے میں جتنے بھی اقوال کئے گئے ہیں ان میں سے سب سے بہترین معنی یہ ہے کہ اپنے بوجھ کی وجہ سے ان کو جھکا دے جب باء مفتوحہ ہوگی تو باء داخل ہوگی، جس طرح انہوں نے کہا : مربذھب بالیوس ویذھب البوس تو وہ لتنوآء بالعصبۃ ہوگا (4) یعنی مشقت سے اٹھی، جس طرح تیرا قول ہے : تم بنا یعنی ہمیں یوں بنا دو کہ ہم اٹھیں۔ یوں باب ذکر کیا جاتا ہے ناء ینونوا جب وہ مشکل سے اٹھے۔ شاعر نے کہا : تنئو باخراما فلایا قیامھا وتمشی الھوینی عن قریب فتبھر وہ اپنی سرین کو اٹھاتی ہے تو اس کا قیام دیر سے ہوتا ہے وہ نرمی سے قریب جگہ تک چلتی ہے اور ہانپنے لگتی ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا ، اخذت فلم املک و نوت فلم اقم کانی من طول الزمان مقید میں کوئی چیز پکڑتا ہوں تو اس پر قبضہ نہیں کرسکتا میں اٹھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میں اٹھ نہیں پاتا گویا میں طویل عرصہ سے مقید ہوں۔ اناءنی جب اس نے مجھے بوجھل کردیا، یہ ابو زید سے مروی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کا قول لتنوآء بالعصبۃ اس میں قلب کا قاعدہ جاری ہو رہا ہے۔ لتنوبھا العصبۃ یعنی اس کے ساتھ اٹھتا ہے۔ ابوزید نے کہا : نسوت بالحمل جب میں بوجھ کے ساتھ اٹھا۔ شاعر نے کہا : اذ وجدناخلفا بس الخلف عبدا اذا ما نا بالجمل وقف جب ہم نے خلف پایا تو وہ غلام کتنا برا خلف تھا جب اس نے بوجھ اٹھایا تو چلنے سے رک گیا۔ پہلی تعبیر حضرت ابن عباس ابو صالح اور سدی کے قول کا معنی ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ نحاس نے اسے پسند کیا ہے جس طرح یہ جملہ کہا جاتا ہے، ذھبت بہ اذھبتہ جئت بہ واجاتہ نوت بہ واناتہ مجرو حرف جارباء کے ساتھ اور باب افعال سے فعل کا معنی ایک ہی جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے : لہ عندی ماساءہ وناءہ تو یہ اتباع کے قاعدہ سے ہے ضروری یہ تھا کہ وہ کہتا : اناءہ اس کی مثل ھنانی الطعام و مرانی ہے میرے لئے کھانا مبارک ہوا۔ واخذہ ما قدم وما حدث پرانا اور نیا اس نے لے لیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ نائی بمعنی بعد سے ماخوذ ہے۔ اس معنی میں شاعر کا قول ہے : یناون عنا وماتنای مودتھم فالقلب فیھم رھین حیثما کا نوا وہ ہم سے دور ہوتے ہیں اور ان کی محبت دور نہیں ہوتی وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے دل ان کے قبضہ میں ہے۔ بدیل بن میسرہ نے لینویاء کے ساتھ پڑھا ہے اس وقت اس کا فاعل الواحد یا المذکور ہوگا معنی پر اسے محمول کیا۔ ابو عبیدہ نے کہا، میں نے رئوبتہ بن عجاج سے اس کے اس شعر کے بارے میں کہا : فیھا خطوط من سواد و بلق کا نہ فی الجلد تولیع البھق اس میں سیاہ اور سفید لکیریں ہیں گویا جلد میں برص کے مرض کو پھیلا دیا گیا ہے۔ اگر تو نے خطوط کا ارادہ کیا ہے تو تجھے کہنا چاہئے : کا نھا اگر تو نے سواد اور بلق کا ارادہ کیا تو تو کہہ، کا نھما اس نے کہا : میں نے سب کا ارادہ کیا ہے۔ عصبہ کے معنی میں اختلاف ہے جس سے مراد ایسی جماعت ہے جو ایک دوسرے کے لئے عصبیت کا اظہار کرتی ہے اس کے بارے میں گیارہ قول ہیں (1) تین آدمی، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، ان سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد تین سے لے کر دس تک کے افراد ہیں (1) مجاہد نے کہا : یہاں عصبہ سے مراد پندرہ سے بیس تک کے افراد ہیں (1) ان سے یہ بھی مروی ہے : دس سے لے کر پندرہ تک کے افراد ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : پانچ سے لے کر دس تک کے افراد ہیں۔ پہلا شعبی، دوسرا قول قشیری اور ماوردی کا اور تیسرا قول مہدوی کا ہے۔ ابوصالح، حکم بن عتیبہ، قتادہ اور ضحاک نے کہا : اس سے مراد چالیس افراد ہیں (2) سدی نے کہا : دس سے لے کر چالیس تک کے افراد ہیں، یہ قتادہ کا بھی قول ہے۔ عکرمہ نے کہا : کچھ علماء وہ ہیں جو کہتے ہیں چالیس اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو کہتے ہیں ستر، یہ ابو صالح کا قول ہے کہ عصبہ سے مراد ستر افراد ہیں۔ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ پہلا قول ثعلبی نے اس سے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ساٹھ افراد ہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا : مراد چھیا سات افراد ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید نے کہا، تین سے لے کر نو تک یہی ” نفر “ ہے۔ کلبی نے کہا : اس سے مراد دس افراد ہیں (3) کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا : ونحن عصبۃ (یوسف : 8) یہ مقاتل کا قول ہے۔ خیثمہ نے کہا : میں نے انجیل میں پایاقارون کے خزانوں کی چابیاں ستر پنج کلیاں خچروں کا وزن تھا۔ وہ ان چابیوں کے بوجھ کی وجہ سے جھک جاتی تھیں ان میں سے کوئی چابی ایک انگلی سے بڑی نہیں تھی۔ ہر چبای کے لئے ایک خزانہ تھا اگر وہ خزانہ اہل بصرہ پر تقسیم کیا جاتا تو انہیں کافی ہوجاتا۔ مجاہد نے کہا : وہ چابیاں اونٹ کے چمڑے سے بنائی گی تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ گائے کے چمڑے کی تھیں تاکہ اس کے لئے ہلکی پھلکی ہوں۔ قشیری نے ذکر کیا : جب وہ سفر پر روانہ ہوتا تو وہ ستر خچروں پر لادی جاتیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ پچاس خچروں پر لادی جاتیں، یہ ضحاک کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کی چابیوں سے مراد اس کے برتن ہیں۔ ابو صالح نے اسی طرح کہا ہے کہ مفاتح سے مراد خزانے ہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اذ قال لہ قومہ بنی اسرائیل کے مومنوں نے اسے کہا : یہ سدی کا قول ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : یہاں قوم سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ فراء نے کہا، یہ جمع کا صیغہ ہے مراد واحد ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الذین قال لھم الناس (آل عمران : 173) یہاں الناس سے مراد نعیم بن مسعودہ جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ لافترح توتکبر نہ کر ان اللہ لایحب الفرحین اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، یہ مجاہد اور سدی کا قول ہے۔ شاعر نے کہا : ولست بمفراج اذ الدھر سرنی جب زمانہ مجھے خوش کرے تو میں تکبر کرنے والا نہیں۔ زجاج نے کہا : معنی ہے تو مال پر خوش نہ ہو کیونکہ مال پر خوش ہونے والا اس کا حق ادا نہیں کرتا۔ بشر بن عبداللہ نے کہا، لا تفرح کا معنی ہے تو فساد برپا نہ کر۔ شاعر نے کہا : اذا انت لم تبرح توذی امانۃ و تحمل اخری افرحتک الودائع جب تو ابھی امانت ادا نہیں کرتا اور دوسری امانت لے لیتا ہے تو ودیعتیں تجھے خراب کریں گی۔ ابو عمرو نے کہا : افرحہ الدین کا معنی ہے قرض نے اسے بوجھل کردیا۔ زجاج نے کہا : الفرحین اور الفارحین دونوں برابر ہیں۔ فراء دونوں میں فرق کیا۔ کہا : الفرحین کا معنی ہے جو خوشی کی حالت میں ہو۔ الفارحین جو زمانہ مستقبل میں خوش ہوں گے اور گمان کیا اسی کی مثل طمع اور طامع ہے میت اور مائت ہے۔ یہ کلام اس کیخلاف دلالت کرتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انک میت وانھم میتون۔ (الزمر) یہاں اللہ تعالیٰ نے مائت نہیں فرمایا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : لاتفرح کا معنی ہے تو بغاوت نہ کر (1) ان اللہ لایحب الفرحین اللہ تعالیٰ بغاوت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ابن بحر نے کہا : اللہ تعالیٰ بخل کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (2) ۔ وابتغ فیمآ اتک اللہ الدارالاخرۃ اللہ تعالیٰ نے تجھے جو دنیا عطا کی ہے اس میں دار آخرت کو طلب کرے اور دار آخرت سے مرادت جنت ہے۔ مومن کا حق یہ ہے کہ دنیا کو ایسے امور میں صرف کرے جو اسے آخرت میں نفع دیں وہ تکبر اور سرکشی میں دنیا کو صرف نہ کرے۔ ولاتنس نصیبک من الدین ان میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس اور جمہور علماء کا نقطہ نظر ہے (3) تو اپنی عمر ضائع نہ کر کہ تو اپنی دنیا میں عمل صالح نہ کرے کیونکہ آخرت کے لئے عمل کیا جاتا ہے انسان کا نصیب اس کی عمر اور اس میں اس کا عمل صالح ہے۔ اس تاویل کی صورت میں کلام نصیحت میں شدت ہے۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے کہ تو اپنی دنیا میں سے اپنا حصہ ضائع نہ کر جیسے تو حلال سے لطف اندوز ہو اور اس کی طلب کر جب کہ تیری نظر تیری دنیا کی عاقبت کے لئے ہو۔ اس تاویل کی بنا پر کلام میں کچھ نری ہے اور اس امر کے حصول کی تگ و دو کرنا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا استعمال نصیحت کے ساتھ واجب ہے تاکہ سختی کی وجہ سے انسان دور ہی نہ ہوجائے، یہ ابن عطیہ کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ دونوں تاویلیں ایسی ہیں جن کو حضرت ابن عمر نے اپنے اس قول میں جمع کردیا ہے : احرث لدنیاک کا نک تعیش ابداو اعمل لاخرتک کا نت تموت غدا اپنی دنیا کے لئے تگ و دو کرو گویا تو ہمیشہ زندہ رہے گا اور اپنی آخرت کے لئے کوشش کر گویا توکل ہی مر جائے گا (14) حضرت حسن بصری سے مروی ہے : زائد کو آگے بھیج دو اور جو ضرورت پوری کرے اس کو روک لو۔ امام مالک نے کہا، اس سے مراد بغیر اسراف کے کھانا اور ینا ہے (5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : نصیب سیمراد کفن ہے یہ متصل وعظ ہے، گویا انہوں نے کہا : تو نہ بھول کہ تو اپنا تمام مال چھوڑ جائیگا مگر اپنا حصہ جو کفن ہے۔ اس کی مثل شاعر کا قول ہے : نصیبک مما تجمع الدھر کلہ رداء ان تلوی فیھما و حنوط جو تمام زمانہ جمع کرتا ہے اس میں سے تیرا حصہ دو چادریں ہیں جن میں تجھے لپٹایا جاتا ہے اور تیرا حصہ حنوط ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : ھی القناعۃ لاتبغی بھا بدلا فیھا النعیم وفیھا راحۃ البدن انظر لمن ملک الدنیا باجمعا ھل راح منھا بغیر القطن والکفن یہ قناعت ہے جس کے بدلے تو بدل نہیں چاہتا اس میں نعمتیں ہیں اور اس میں بدن کی راحت ہے اسے دیکھ جو تمام دنیا کا مالک بن گیا۔ کیا اس نے روئی اور کفن کے بغیر کسی چیز سے راحت پائی ؟ ابن عربی نے کہا : اس بارے میں میرے پاس سب سے عمدہ قتادہ کا قول ہے : تو اپنا حلال حصہ نہ بھول، یہ دنیا میں سے تیرا حصہ ہے۔ یہ کتنا اچھا قول ہے ؟ واحسن کمآ احسن اللہ الیک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر اور اس کی عبادت کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر انعام کیا ہے اس معنی میں حدیث طیبہ ہے مالاحسان احسان کیا ہے (1) ؟ فرمایا : ان تعبد اللہ کا نک تراہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مساکین کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم ہے۔ ابن عربی نے کہا، اس میں بیشمار اقوال ہیں ان سب کا جامع یہ قول ہے : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی طاعت میں اسعتمال کرو۔ امام مالک نے کہا : بغیر اسراف کے کھانا اور پینا۔ ابن عربی نے کہا : میرا خیال ہے امام مالک نے ان لوگوں کا رد کرنے کا ارادہ کیا ہے جو عبادت اور بدحالی میں غلو کرتے ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ حلوہ (میٹھی چیز) کو پسند فرماتے، شہد پیتے، بھنی ہوئی چیز استعمال کرتے اور ٹھنڈا پانی پیا کرتے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔ ولاتبغ الفساد فی الارض، ان اللہ لایحب المفسدین نافرمانیاں نہ کیا کرو۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی تھیں ؟ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا

قال انما اوتیتہ، علی علم عندی، مراد علم تورات ہے یہ اس سے روایت کیا گیا ہے جو تمام لوگوں میں سے زیادہ قاری ہیں اور ان سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ وہ ان ستر علماء میں سے ایک تھا جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے میقات کے لئے منتخب کیا تھا۔ ابن زید نے کہا : مجھے یہ اس لئے عطا کیا گیا کیونکہ وہ میری فضیلت اور اس کی مجھ سے رضا سے آگاہ تھا (2) قول : عندی اس کا معنی ہے میرے ہاں اس کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ خزانے عطا کئے ہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اپنی فضیلت کی وجہ سے میں ان کا مستحق ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مجھے یہ عطا کیا گیا ہے کہ میرے پاس تجارت اور کمائی کے مختلف ذرائع ہیں، یہ علی بن عیسیٰ کا نقطہ نظر ہے (3) اسے یہ عمل نہیں تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کے لئے مال کمانے کو آسان نہ کرتا تو یہ اموال اس کے پاس جمع نہ ہوتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کیونکہ میرے پاس سونے کے کام کا علم ہے۔ اس نے علم کیمیا کی طرف اشارہ کیا۔ نقاش نے بیان کیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے کیمیا کی صنعت کا حضرت یوشع کو ایک تہائی اور حضرت ہارون کو ایک تہائی علم عطا کیا۔ قارون نے ان دونوں کے ساتھ دھوکہ کیا کہ جب کہ وہ اس وقت حضرت موسیٰ پر ایمان رکھتا تھا یہاں تک کہ ان دونوں کے پاس جو علم کیمیا تھا وہ بھی سیکھ لیا اور کیمیا کا عمل کیا تو اس کے اموال بہت زیادہ ہوگئے ایک قول یہ کہا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تین افراد کو علم کیمیا سکھایا، یوشع بن نون، کالب بن یوحنا اور قارون از جاج نے پہلے قول کو پسند کیا اور اس کے قول کا انکار کیا جس نے کہا : وہ کیمیا کا علم کرتا تھا۔ اس نے کہا : کیمیا باطل ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بہن کو علم کیمیا سکھایا جو قارون کی بیوی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے قارون کو علم سکھایا : اللہ بہتر جانتا ہے۔ یعنی عذاب کے ساتھ ہلاک کیا۔ گزشتہ کافرامتوں میں سے۔ مال زیادہ جمع کرنے والے تھے۔ اگر مال فضلیت پر دلالت کرتا تو انہیں ہلاک نہ کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قوت سے مراد آلات ہیں اور جمع سے مراد اعوان و انصار ہیں۔ کلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے قارون کے لئے خبردار کرنے کا طریقہ پر واقع ہوئی ہے ؟ یعنی کیا قارون نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے قبل کن امتوں کو ہلاک کیا۔ ان سے سوال رضا مندی طلب کرنے کے لئے نہیں ہوگا جس طرح فرمایا : (الجاثیہ) (فصلت) ان سے سوال ان کو شرمند کرنے کے لئے ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الجر) یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (1) ۔ مجاہد نے کہا : ملائکہ کل قیامت کے روز مجرموں سے سوال نہیں کریں گے کیونکہ وہ ان کو ان کے چہروں سے ہی پہچان لیں گے۔ (2) قیامت کے روز انہیں سیاہ چہروں اور نیلی آنکھوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ قتادہ نے کہا : مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ وہ ظاہر ہوں گے اور کثیر ہوں گے بلکہ وہ بلا حساب آگ میں داخل ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس امت کے مجرموں سے سابقہ امتوں کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا جن کو دنیا میں عذاب دیا گیا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : سابقہ امتوں میں سے جن کو بھی ہلاک کیا وہ ان کے گناہوں کو جانتے ہوئے ہلاک کیا ان کے گناہوں کو پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayahs 28:79–80

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال و متاع) قارون کو ملا ہے کاش (ایسا ہی) ہمیں بھی ملے وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں کو ہی ملے گا

اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ اس حال میں جو اس نے دنیاوی زندگی کے سامان میں سے جس میں زینت دیکھی اس کے ساتھ وہ ان پر نکلا یعنی کپڑے چوپائے اور عید کے دن بنائو سنگھار۔ غزنوی نے کہا : مراد ہفتہ کا دن ہے : زینتہ کے معنی میں ہے : شاعر نے کہا :۔ شعر میں بالنفوس کے معنی میں ہے وہ ستر ہزار پیروکاروں کے ساتھ نکلا جن کے جسم پر عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے تھے، وہ پہلا شخص تھا جس کے لئے کپڑوں کو عصفر سے رنگا گیا تھا۔ سدی نے کہا : وہ ہزار سفید رنگ کی لونڈیوں، سفید خچروں پر نکلا جن خچروں پر سونے کی زینتیں تھیں اور ارجونی (سرخ) کپڑے ان پر پڑے ہوئے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ منہ نے کہا : سرخ خچروں پر نکلا۔ مجاہد نے کہا : سفید ترکی گھوڑوں پر نکلا جن پر سرخ زینیں تھیں ان کے بدنوں پر عصفر سے رنگے کپڑے تھے۔ یہ پہلا دن تھا جس میں عصفر سے رنگے کپڑے دیکھے گئے قتادہ نے کہا : وہ چار ہزار سواریوں پر نکلا جن پر سوار لوگوں نے سرخ کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان جانوروں میں سے ایک ہزار سفید خچر تھے جن پر سرخ کپڑے ڈالے گئے تھے۔ ابن جریج نے کہا : وہ سیاہی مائل سفید رنگ کے خچروں پر نکلا۔ جن پر سرخ رنگ کے کپڑے پڑے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ تین سو لونڈیاں تھیں جو سیاہی مائل سفید رنگ کے خچروں پر سوار تھیں جن کے جسموں پر سرخ رنگ کے کپڑے تھے ابن زید نے کہا : وہ ستر ہزار افراد میں نکلا جن پر عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے تھے۔ (1) کلبی نے کہا : وہ سبز کپڑوں میں نکلا اللہ تعالیٰ نے وہ کپڑا جنت سے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا۔ قارون نے یہ کپڑا (2) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چوری کر لیا تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے کہا : اس کی زینت سرخ رنگ تھی۔ میں کہتا ہوں : قرمز سرخ رنگ جوار جوان کی مثل ہوتا ہے ارجوان لغت میں سرخ رنگ کو کہتے ہیں : قشیری نے اس کو ذکر کیا ہے۔ سے مراد دنیا کا وافر حصہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس وقت کے مومنوں کا قول ہے : انہوں نے دنیا میں رغبت کی بناء پر اس کے مال کی مثل کی آرزو کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایسے لوگوں کا قول ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی اس میں رغبت رکھتے تھے وہ کفار تھے۔ بنی اسرائیل کے علماء نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے قارون کے مکان کو حاصل کرنے کی خواہش کی تھی : اللہ تعالیٰ کے ثواب سے مراد جنت ہے : یعنی اعمال صالحہ یا آخرت میں جنت صرف انہیں کو ملے گی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کریں گے۔ یہاں ضمیر ذکر کرنا جائز ہے کیونکہ ثواب اللہ سے یہی مراد ہے۔
Ayahs 28:81–82

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی اور نہ وہ بدلا لے سکا

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کل اس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ہائے خرابی کافر نجات نہیں پاسکتے

مقاتل نے کہا : جب حضرت موسیٰ علیہ الشلام نے زمین کو حکم دیا تو زمین نے اسے نگل لیا بنی اسرائیل نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اس لئے ہلاک کیا ہے تاکہ اس کے مال کا وارث بن جائے، کیونکہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا اور تین دن کے بعد اس کے تمام اموال کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تیرے بعد زمین کو کسی کی اطاعت کرنے کا حکم نہیں دوں گا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مکان زمین میں چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں غائب کردیا۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وہ زمین میں دھنس گیا، اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ خسوف القمر سے مراد چاند کا گرہن لگ جانا ہے۔ ثعلب نے کہا : یہ عمدہ کلام ہے۔ خسف کا معنی نقصان ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ وہ کم حصہ پر راضی ہوگیا۔ سے مراد جماعت اور جتھہ ہے۔ اس پر خسف کی صورت میں جو عذاب نازل ہوا اس سے بچنے والا نہیں تھا۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ قارون ہر روز انسان کی قامت کے برابر نیچے جاتا ہے یہاں تک کہ جب زمین کی انتہائی گہرائی تک جا پہنچے تو حضرت اسرافیل صور پھونک دیں گے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ وہ اس آروز پر شرمند ہوں گے۔ وہی حرف ندامت ہے۔ نحاس نے کہا : اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے ان میں سے سب سے اچھا قول خلیل سیبویہ، یونس اور کسائی کا قول ہے قوم متنبہ ہوئی یا انہیں متنبہ کیا گیا انہوں نے کہا : وہی عربوں میں شرمندگی کا اظہار کرنے والا شرمندگی کے دوران وی کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ جوہری نے کہا : وی کلمہ تعجب ہے۔ یہ کہا جاتا ہے : تجھ پر تعجب ہے، اللہ کے بندے پر تعجب ہے۔ بعض اوقات وی کا لفظ کان مخفلہ اور مشددہ پر داخل ہوتا ہے تو کہتا ہے : خلیل نے کہا : یہ مفصولہ ہے تو کہتا ہے : وی پھر نئے سرے سے کلام شروع کرتا ہے اور تو کہتا ہے : کان : ثعلبی نے کہا : فراء نے کہا : یہ کلمہ تقریر ہے جس طرح تیرا قول ہے : کیا تو اللہ تعالیٰ کی کاری گری اور اس کے احسان کی طرف نہیں دیکھتا۔ یہ ذکر کیا کہ ایک بدوی عورت نے اپنے خاوند سے کہا : اس نے جواب دیا، یعنی کیا تو اسے دیکھتی نہیں وہ گھر کے پیچھے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کلمہ ابتداء اور کلمہ تحقیق ہے ؟ اس کی تقدیر کلام یہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلمہ تنبیہ ہے اَلاّ کی جگہ استعمال ہوتا ہے اور جس طرح اَلاّ تفعل اور اما کے قائم مقام ہوتا ہے جو تیرے قول : امابعد میں ہے، شاعر نے کہا : ان دونوں نے مجھ سے طلاق کا سوال کیا جب انہوں نے مجھے دیکھا کہ میرا مال گم ہوگیا ہے تحقیق تم عجیب مطالبہ لائی ہو۔ خبردار جب آدمی کے پال مال ہو اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو فقیر ہوتا ہے وہ تکلیف کی زندگی بسر کرتا ہے۔ قطرب نے کہا : یہ اصل میں ویلک ہے اس کا لام حذف ہوگیا اور کاف جو خطاب کا ہے اس کے ساتھ ملا دیا گیا۔ عشرہ نے کہا : میرے نفس کو شفا دی اور اس کی بیماری کو ٹھیک کردیا، شاہسواروں کے اس قول نے : تو ہلاک ہوا اے عشر : آگے بڑھو ! نحاس اور دوسرے علماء نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ معنی صحیح نہیں کیونکہ قوم ایک فرد کو خطاب نہیں کرتی کہ وہ اسے کہے : ویلک : اگر یہ ایسے ہوتا تو انہ کسرہ کے ساتھ ہوتا نیز ویلک سے لام حذف کرنا جائز نہیں۔ ان میں سے بعض نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے ویلک اعلم انہ تو اعلم کو مضمر کردیا۔ ابن اعرابی نے کہا : ویکان اللہ اعلم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے الم تر ان اللہ۔ قتیی نے کہا : اس کا معنی ہے رحمتہ لک، یہ حمیر کی لغت میں ہے۔ کسائی نے کہا : وی اس میں تعجب کا معنی ہے (3) ۔ اس سے یہ بھی مروی ہے کہ وی پر وقف ہے اور کہا : یہ تفجہ کا کلمہ ہے ؎ جس نے کہا : ویک او کاف پر وقف کیا تو اس کا معنی ہے خوش ہوجا کیونکہ اللہ تعالیٰ رزق کو فراخ کرنے والا ہے اور خوش ہوجا کیونکہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ یہ بھی مناسب ہے کہ کاف حرف خطاب ہو یہ اسم نہ ہو کیونہ وی ان کلمات میں سے نہیں جن کو مضاف کیا جاتا ہے اسے اکٹھے لکھا جاتا ہے جب اس کا استعمال زیادہ ہو اسے ما بعد کے ساتھ ایک چیز بنا دیا گیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایمان اور رحمت کے ساتھ ہم پر احسان نہ فرا اتا اور قارون جس بغاوت اور تکبر پر تھا اس سے ہمیں محفوظ نہ رکھتا، تو وہ ہمیں بھی زمین دھنسا دیتا۔ اعمش نے پڑھا لو لا من اللہ علینا، حفص نے پڑھا لخف بنا تو یہ معروف کا صیغہ ہے۔ باقی قراء نے اسے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ ابو عبیدہ کا پسندیہ نقطہ نظر ہے۔ عبداللہ کی قرأت لا تخسف بنا جس طرح تو کہتا ہے : انطلق بنا اسی طرح اعمش اور طلحہ بن مصرف نے قرأت کی۔ ابو حاتم نے دو وجوہ سے جماعت کی قرأت کو پسند کیا ہے ان دونوں میں سے ایک قول ہے : دوسرا قول : اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اولیٰ ہے کیونہ یہ اس کے قریب اسم ہے۔
Ayahs 28:83–84

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (صلہ موجود) ہے اور جو برائی لائے گا تو جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو بدلا بھی اسی طرح کا ملے گا جس طرح کے وہ کام کرتے تھے

مراد جنت ہے اسم اشارہ بعید کا ذکر اس کی تعظیم او تفخیم شان کے لئے یعنی وہ جس کا ذکر تو نے سنا او تجھ تک اس کا وصف پہنچا یعنی ایمان اور مومنین پر بلندی اور تکبر کا ارادہ نہیں کرتے۔ و لا فسادا معاصی پر عمل کرنا، یہ ابن جریج اور مقاتل کا نقطہ نظر ہے۔ عکرمہ اور مسلم بطین نے کہا : فساد سے مراد ناحق مال لینا ہے (1) کلبی نے کہا : غیر اللہ کی عبادت کی طرف دعت دینا ہے (2) یحییٰ بن سلام نے کہا : اس سے مراد انبیاء اور مومنین کو قتل کرنا ہے۔ ضحاک نے کہا : عاقبتہ سے مراد جنت ہے۔ ابو معاویہ نے کہا : الذی لا یرید علوا سے مراد وہ ہے جو دنیا کی ذلت پر جزع فزع نہیں کرتا اور اس میں عزت حاصل کرنے لئے مقابلہ نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان میں سب سے زیادہ بلند وہ ہے جو ان میں سب سے متواضع ہے اور آخرت میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہوگا جو آج ان سب سے زیادہ عاجزی کو لازم کرنے والا ہوگا۔ سفیان بن عینیہ نے اسماعیل بن خالد سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی بن طالب ؓ مساکین کے پاس سے گزرے جو کھانے کے ٹکڑے کھا رہے تھے حضرت علی بن طالب نے انہیں سلام کیا تو مساکین نے انہیں کھانے کی دعوت دی تو آپ نے اس آیت کو تلاوت کیا : پھر آپ سواری سے اترے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ پھر فرمایا : میں نے تمہاری دعوت قبول کی اور اب تم بھی میری دعوت قبول کرو آپ انہیں اپنے مکان پر لے آئے انہیں کھانا کھلایا او انہیں لباس پہنایا اور پھر روانہ کیا۔ ابوالقاسم طبرانی سلیمان بن احمد نے اسے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنے باپ سے وہ سفیان بن عینیہ سے روایت نقل کرتے ہیں اور اس روایت کو ذکر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : کا لفظ ثواب اور عقاب کو شامل ہے۔ مراد یہ کہ اس گھر سے وہی فائدہ اٹھاتے ہے ج تقویٰ کو اختیار کرے اور جو تقویٰ اختیار نہ کرے تو یہ گھر اس کے لئے نہیں کیونکہ وہ دار اس کو نقصان دیتا ہے اور اسے نفع نہیں دیتا۔ سورۃ نمل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ عکرمہ نے کہا : لا الہ الا اللہ سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ معنی جو لا الہ الا اللہ لایا اس کے لئے اس میں سے خیر ہے۔ سیئہ سے مراد وہ شرک ہے وہ ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے عمل کے لائق ہو۔