Ayahs 28:32–35اسلک یدک فی جیبک اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے واضم الیک جناح من الرھب من حرف جار ولی کے متعلق ہے یعنی ولی مدبرا من الرشب۔ حفص، سلمی، عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے من الرھب راء کے فتحہ اور ہاء کے سکو ن کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر، کوفہ کے قراء نے سوائے حفص کے راء کے ضمہ اور ہاء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی فراء نے راء اور ہاء دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویدعوننا رغباً و رھباً (الانبیائ : 90) یہ سب غتیں ہیں اور معنی خوف ہے۔ معنی ہے جب تیرے ہاتھ کا معاملہ اور اس کی شعاع تجھے پریشان کرے تو اسے اپنے گریبان میں داخل کرو اور اسے لوٹائو تو جس طرح وہ پہلے تھا اس طرح ہوجائے گا۔ ایک قول کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا ہاتھ اپنے سینے کے ساتھ ملانے کا حکم دیا تو اس کی وجہ سے سانپ کا خوف ختم ہوگیا، یہ مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ ضحاک نے اسے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ کہا : حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جس کے دل میں خوف ہوتا پھر وہ اپنا ہاتھ داخل کرتا اور اسے اپنے سینے پر رکھتا تو اس کا خوف ختم ہوجاتا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ ایک کاتب آپ کے سامنے لکھ رہا تھا اس کی ہوا خارج ہوگئی وہ شرمندہ ہوا وہ اٹھا اور اپنا قلم زمین پر مارا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے فرمایا : اپنا قلم اٹھائو اور اپنے ہاتھ کو سینہ پر رکھو تیری روح خوش ہوجائے گی۔ میں کسی اور سے اسے اتنا نہیں سنتا جتنا میں یہ آواز اپنے آپ سیسنتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنا ہاتھ اپنے سینے پر مارتا ر کہ تیرے سینے میں جو خوف ہے اللہ تعالیٰ سے دور کرے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خوف کی وجہ سیکانپتے تھے یا تو آل فرعون سے یا سانپ سے۔ ضم جناح سے مراد سکون ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واحفض لھا جناح الذل من الرحمۃ (الاسرائ : 24) اس سے مراد نرمی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واحفض لھما جناح الذل من الرحمۃ (الرسرائ : 24) اس سے مراد نرمی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واخفض جناح لمن اتبع من المومنین۔ (الشعرائ) یعنی ان پر نرمی کیجیے۔ فراء نے کہا : جناح سے مراد عصا لیا ہے۔ بعض اہل معانی نے کہا : الرھب سے مراد حمیر اور بنی حنیفہ کی لغت میں اسٓتین ہے۔ مقاتل نے کہا : ایک بدوی عورت نے مجھ سے کوئی چیز ماگنی جب کہ میں کھاتا کھا رہا تھا میں نے ہتھیلی بھری اور اس کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے کہا : ھاھنا فی رھبی وہ اپنی آستین کا ارادہ کر رہی تھی یعنی میری آستین میں ڈالو۔ اصمعی نے کہا، میں نے ایک بدو کو دوسرے کو کہتے ہوئے سنا : اعطنی رھبن میں نے اس سے رہب کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا، آستین۔ استعبیر کی صورت میں معنی ہوگا اپنا ہاتھ اپنے جسم کے ساتھ جمع کرو اور اسے آستین سے نکالو کیونکہ آپ نے عصا کپڑا جب کہ ان کا ہاتھ ان کی آستین میں تھا۔ اسلک یدک فی جیبک یہ قول اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مراد دایاں ہاتھ ہے کیونکہ جیب (گریبان) بائیں پر ہوتی ہے، قشیری نے یہ ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : علماء نے جو تفسیر بیان کی ہے کہ ہاتھ کو سینے پر رکھنے کا امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گریبان سینے پر ہوتا ہے۔ سورة النور میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ زمحشری نے کہا : یہ عجیب تسیر ہے کہ حمیر کی لغت میں رہب سے مراد آستین ہے وہ کہتے ہیں۔ اعطنی مما فی رھبک کاش میں جانتا کہ لغت میں یہ کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ کہا : اس نے قابل اعتماد لوگوں سے سنا ہے جن کی زبان پر رضا مندی کا اظہار کیا جاتا ہے پھر کاش میں جانتا کہ آیت میں اس کا کیا موقع ہے اور کیسے قرآن کے باقی ماندہ کلمات کے ساتھ مفصل تطبیق ہوگی ؟ اس کی وجہ یہ ہے جس رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کلام کا شرف حاصل کیا اس وقت ان کے جسم پر اون کا جبہ تھا جس کی آستینیں نہیں تھیں۔ قشیری نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان، واضمم الیک جناحک اس سے مراد دونوں ہاتھ ہیں اگر ہم کہیں : سانپ کے خوف سے امن کا ارادہ کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : واضمم الیک جناحک اس سے مراد ہے آستنیں چڑھالو اور تیاری کرلو تاکہ کہ تو رسالت کا بوجھ اٹھا لے۔
میں کہتا ہوں : اسی وجہ سے کہا گیا ہے انک من الامنین یعنی تو رسولوں میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انی لایخاف لدی امرسلون۔ (النمل) ابن حبر نے کہا، اس تاویل کی بنا پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس قول کے ساتھ رسول بن گئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس قول کے ساتھ رسول بنے : فذنک برھانن من ربک الی فرعون وملائہ برھانان سے مراد یہ بیضا اور عصا ہے۔ ابن کثیر نے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اس میں تخفیف کی ہے۔ ابو عمارہ نے ابو فضل سے وہ ابوبکر سے وہ ابن کثیر سے روایت نقل کرتے ہیں فذانیک یعنی تشدید اور یاء کے ساتھ۔ ابو عمرو سے یہ بھی مروی ہے کہ بنو ہذیل کی لغت فذانیک ہے قریش کی لغت فذانک ہے جس طرح ابو عمرو اور ابن کثیر نے قرأت کی ہے۔ اس کی علت میں پانچ قول ہیں (1) ایک قول یہ کیا گیا : نون کی شد اس لف کے عضو دی گئی ہے جو اس ذالک میں ساقط ہے جو ذامرفوع کا تثنیہ ہے۔ اس کو رفع ابتدا کی وجہ سے دیا گیا ہے ذا کا الف محذوف ہے کیونکہ اس پر الف تثنیہ داخل ہے۔ اجتماع ساکنین کی طرف توجہ نہیں کی کیونکہ اس کا اصل فذانک ہے پہلے الف کو تون مشددہ کے عوض حذف کردیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تشدید، تاکید کے لئے ہے جس طرح انہوں نے اس میں لام کو داخل کیا۔
کلبی نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے جس نے اس کو شددی ہے اس نے اس کی بنیاد اس آدمی کی لغت پر رکھی ہے جس واحد میں ذلک کہا جب یہ بنا ہے تو نون تثنیہ کے بعد اس نے لام کو ثابت رکھا پھر لام کو نون میں مدغم کردیا یہ اس آدمی کے ہے جس نے دوسرے حرف کو پہلے میں ادغام کا قول کیا ہے، جب کہ اصل قاعدہ یہ ہے کہ پہلے کو دوسرے حرف میں ادغام کیا جائے، مگر کوئی اس میں مانع ہو تو دوسرے حرف کو پہلے حرف میں مدغم کیا جاتا ہے۔ جو علت اس کے مانع ہے کہ پہلے حرف کو دوسرے حرف میں مدغم کیا جائے وہ یہ ہے کہ اگر ایسا کیا جائے تو اس نون کی جگہ جو تثنیہ پر دلالت کرتی ہے اس کی جگہ لام مشدد ہوجاتا ہے تو تثنیہ کا لفظ ہی بدل جاتا ہے تو اس وجہ سے دوسرے حرف کو پول ہے حرف میں مدغم کردیا جاتا ہے تو وہ نون مشدد ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : جب یہ اس کے منافی ہے تو نون سے قبل لام کو ثابت رکھا پھر حرف کو دوسرے میں ادغام کیا جس طرح ادغام کا طریقہ ہے تو وہ نون مشدد ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کو شد اس لئے دی گئی تاکہ اس کے درمیان اور اس اسم ظاہر کے درمیان فرق کیا جائے اضافت جس کے نون کو ساقط کردیتی ہے، کیونکہ ذان کا لفظ مضاف نہیں کیا جاتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسم معرف اور اس اسم کے درمیان فرق کرنے کے لئے اسے شد دی گئی ہے۔ الذان اور ھذان کی شدید میں یہی علت ہے۔ ابو عمرو نے کہا : ابو عمرو نے اس حرف کو تشدید کے ساتھ خاص کیا ہر تثنیہ میں یہ قاعدہ جاری نہیں کیا جو اس جنس سے تعلق رکھتا ہو، کیونکہ اس کے حروف تھوڑے ہیں تو اسے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ جس نے اسے فذانیک یاء کے ساتھ پڑھا ہے جب کہ نون میں تخفیف ہے تو اس کے نزدیک اصل فذانک تشدید کے ساتھ ہے دوسرے نون کو یاء سے بدل دیا، کیونکہ ایک جنس کے حروف کو ناپسند کیا ہے جس طرح علماء نے کہا : لا املاہ یہ اصل میں لا املہ تھا۔ دوسرے نون کو یاء سے بدل دیا، کیونکہ ایک جنس کے حروف کو ناپسند کیا ہے جس طرح علماء نے کہا : لا املاہ یہ اصل میں لا املہ تھا۔ دوسرے لام کو الف سے بدل دیا۔ جس نے نون مشدد کے بعد یاء پڑھا تو اس کی توجیہ یہ ہے کہ اس نے نون کے کسرہ میں اشباع کا قاعدہ جاری کیا تو اس سے یاء جنم لیا۔
فارسلہ معنی رداً اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیجے۔ یہ ارداتہ سے مشتق ہے جس کا معنی ہے میں نے اس کی مدد کی رداء کا معنی مدد ہے۔ شاعر نے کہا :
الم تر ان اضرم کان ردل وخیر الناس فی قل ومال
کیا تو نہیں دیکھتا کہ اصرم میرا مددگار ہے مال ہو یا نہ ہو بہترین انسان ہے۔
نحاس نے کہا : قد ارداہ، رداہ، دونوں کا معنی مدد کرنا ہے۔ تحقیق کے طریقہ پر ہمزہ کو ترک کردیا، نافع نے یہی قرأت کی ہے۔ یہ مہموز کے معنی میں ہے۔ مہدوی نے کہا : عربوں کے اس قول سے ہمرزہ کو ترک کرنا جائز ہے اردی علی الماہ سے زائد، گویا معنی ہے اسے میرے ساتھ بھیجئے تاکہ میری تصدیق میں اضافہ ہوا، یہ مسلم بن جندب نے قول کیا ہے، شاعر کے شعر میں یہ الفاظ ہیں :
واسمر خطیاً کان کعبہ نوی القسب قد اری دی ذراعا علی العشر
مقام خط کے نیزے گویا ان کی گرہ ٹھوس خشک کھجور جی کٹھلی ہے وہ نیز دس ہاتھ سے ایک ذراع زائد ہے۔
ماوردی نے اسے اس طرح بیان کیا ہے۔ غزنوی اور جوہری نے صحاح میں قدارمی ذکر کیا ہے۔ کہا : القسب سے مراد سخت ہے القسب خشک کھجور ہے گٹلھی کی سختی منہ میں ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ کہا : شاعر نیزہ کی تعریف کرتا ہے۔ جوہری نے کہا : ردوالثی یردو رداءۃ فھو ردی یعنی وہ فاسد ہے۔ اداتہ میں نے اسے فاسد کیا۔ ارداتہ میں نے اس کی مدد کی۔ تو کہتا ہے : ارداتہ بنفق میں اس کا مددگار تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فارسلہ معنی ردایصدقنی نحاس نے کہا : وقد حکی رداتہ ردء او جمع رداء اردائ، ردء کی جمع ارداء ہے۔ عاصم اور حمزہ نے یصدقنی رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے اسے جزم دی ہے، یہ ابو حاتم کا پسندیدہ قول ہے۔ یہ دعا کے جواب میں ہے۔ ابو عبید نے ارسلہ میں جو باء ضمیر ہے اس سے حال ہونے کی وجہ سے رفع پسند کیا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ارسلہ ردء امصدقا حالۃ التصدیق جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے انزل علینا مآئدۃ من السمآء تکون (المائدہ : 411) تکون کائنۃ کے معنی میں ہے یہ حال ہے جو استقبال کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ رداء کی صفت ہے۔ انی اخاف ان یکذبون جب میرا کوئی وزیر یا مددگار نہ ہو کہ کیونکہ وہ میری بات سمجھنے والے نہیں۔ قال سنشد عصدک یاخیک اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا : ہم تیرے بھائی کے ذریعے تجھے قوت بہم پہنچائیں گے۔ یہ تمثیل ہے کیونکہ ہاتھ کی قوت بازو کے ساتھ ہی ہوتی ہے، طرفہ نے کہا :
بنی لبینی لستم بید الا یدا لیست لھا عضد
اے بنی لبینی تم ہاتھ نہیں ہو مگر ایسا ہاتھ جس کا بازو نہ ہو۔
اچھی دعا کے موقع پر یہ کہا جاتا ہے : شد اللہ عضدک اس کی ضد میں کہا جاتا ہے، فت اللہ فی عضدک اللہ تعالیٰ تیرے بازو کو مضبوط کرے۔ اللہ تعالیٰ تیرے بازو کو ریزہ ریزہ کرے۔
ونجعل لکما سلطنا سلطان سے مراد حجت اور برہان ہے۔ فلا یصلون الیکما وہ تم دونوں کو اذیت نہیں دے سکتے بایتنا تم ہماری آیات کی وجہ سے محفوظ مامون رہو گے۔ جائز ہے کہ الیکما پر وقف کیا جائے کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ایک قول یہ کیا یا ہے، تقدیر کلام یہ ہے ربما و من اتبعکما الغابون بایاتنا، یہ اخفش اور طبری کا قول ہے۔ مہدوی نے کہا : اس صورت میں صلہ موصول پر مقدم ہوتا ہے مگر یہ مقدر کیا جائے انتما غالبان با یاتنا انما و من اتبعکما الغالبون یہاں آیات سے مراد آپ کے باقی معجزات ہیں۔
Ayah 28:36فلما جآء ھم موسیٰ بایتنا بینت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واضح اور ظاہر آیات لائے۔ قالوا ماھذا الا سحر مفتری انہوں نے کہا : یہ گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔ وما سمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیات جن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے توحید کے اثبات میں استدلال کیا ہے جو دلائل عقلیہ سے تعلق رکھتی ہیں ہم نے انہیں اپنے آباء سے تو نہیں سنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیات سے مراد معجزات ہیں۔
Ayah 28:37وقال موسیٰ عام قرأت وائو کے ساتھ ہے۔ مجاہد، ابن کثیر اور ابن محیصن نے وائو کے بغیر قال قرأت کی ہے اہل مکہ کے مصحف میں یہ اس طرح ہے ربی اعلم بمن جآء بالھدی، ھدی سے مراد ارشاد ہے۔ من عندہ ومن تکون لہ عاصم کے ملاوہ کوفہ کے قراء نے یکون یاء کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے عاقبۃ الذار یعنی دار جزا انہ ہاء ضمیر امرو شان ہے لایفلح الظلمون ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔
Ayah 28:38وقال فرعون یا یھا الملا ما علمت لکم من الہ غیری حضرت ابن عباس نے کہا : اس کلام اور انا ربکم الاعلی کے قول کے درمیان چالیس سال کا عرصہ حائل ہے۔ اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا ہے بلکہ اسے علم تھا کہ اس کا وہاں رب ہے جو اس کا اور اس کی قوم کا خالق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولئن سآلتھم من خلقھم لیقولن اللہ (الزخرف : 78) اس نے کہا فاوقدلی یھامن علی الطین میرے لئے اینٹیں پکائو یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ قتادہ نے کہا : فرعون وہ پہلا شخص ہے جس نے اینٹیں پکوائیں اور ان سے عمارت بنوائی۔
جب فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ اس کے لئے محل بنائے تو ہامان نے مزدور جمع کئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے پچاس ہزار مستری جمع کئے معاونین اور مزدور اس کے علاوہ تھے اس نے اینٹیں پکانے، چونا تیار کرنے، لکڑی چیرنے اور کیل لگانے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے محل بنایا، محل کو خوب اونچا کیا اور اسے پختہ کیا جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا کوئی عمارت اس تک نہیں پہنچتی تھی۔ عمارت بنانے والا اس کی چوٹی پر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے آزمانے کا ارادہ کیا۔ سدی نے حکایت بیان کی ہے : فرعون اس چھت پر چڑھا اور ایک تیر آسمان کی طرف پھینکا وہ تیر خون میں لت پت واپس آیا۔ اس نے کہا : میں نے (حضرت) موسیٰ کے الہ کو قتل کردیا ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے : اللہ تعالیٰ نے اس کی اس گفتگو کے موقع پر جبریل امین کو بھیجا حضرت جبریل امین نے اپنا پر مارا تو اس نے محل کے تین ٹکڑے کردیئے۔ ایک ٹکڑا فرعون کے لشکر پر پڑا جس کی وجہ سے ان کے دس لاکھ سپاہی مارے گئے ایک ٹکڑا سمندر میں جا گرا اور ایک ٹکڑا مغرب میں جا گرا اور وہ تمام ہلاک ہوگئے جنہوں نے اس محل کے بنانے میں کام کیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات کی صحت کو خوب جانتا ہے۔
وانی لاظنہ من الکذبین یہاں ظن سے مراد شک ہے۔ اس نے شک کرتے ہوئے انکار کیا کیونکہ اس نے ایسے دلائل دیکھے جن کا سمجھنا عقل مند پر کوئی مشکل نہ تھا۔
Ayahs 28:39–41واستکبرھود جمودہ فرعون نے خود اور اس کے لشکروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے اپنے آپ کو بڑا خیال کیا۔ فی الارض بغیر الحق بغیر الحق سے مراد سرکشی ہے یعنی اس کے پاس کوئی ایسی دلیل نہ تھی جس کے ساتھ وہ ان معجزات کا دفاع کرسکتا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے۔ وظنوا انھم الینا لایرجعون انہوں نے گمان کیا کہ نہ ان کے لئے معاد ہے اور نہ ہی دوبارہ اٹھانا ہے۔ نافن، ابن محیصن، شیبہ، حمید، یعقوب، حمزہ اور کسائی نے لایرجعون پڑھا یعنی یاء پر فتحہ اور جیم کے نیچے کسرہ ہے، اس بنا پر کہ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ باقی قراء نے یرجعن مجہول کا صیغہ پڑھا ہے، یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ پہلا قول ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ فاخذنہ و جنودہ وہ ستائیس لاکھ تھے۔ فنبذنھم فی الیم ہم نے انہیں نمکین سمندر میں پھینک دیا۔ قتادہ نے کہا : مصر سے آگے ایک سمندر ہے جسے اساف کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں اس میں غرق کیا۔ وہب اور سدی نے کہا : وہ جگہ جہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں غرق کیا وہ بحر قلزم کی ایک جانب تھی جسے بطن جزیرہ کہا جاتا۔ وہ آج تک غصے میں ہے۔ مقاتل نے کہا ہے : مراد دریائے نیل ہے۔ یہ قول ضعف ہے۔ پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ فانظر اے محمد ! ﷺ دیکھیے۔ کیف کان عاقبۃ الظلمین ان کے امر کا انجام کیسے ہوا ؟ وجعلنھم ائمۃ ہم نے انہیں زعماء بنا دیا ہے جن کی کفر پر پیروی کی جاتی ہے ان پر ان کا بوجھ ہے اور ان کا بوجھ ہوتا ہے جو ان کی پیروی کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کی سزا زیادہ ہوجاتی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم میں سے ایسے سردار بنا دیئے جو ان میں سے بیوقوفوں کے سردار تھے وہ جہنم کی طرف دعوت دیتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ایسے ائمہ تھے جن کی اتباع عبرت والے کرتے اور ان سے صاب بصیرت نصیحت حاصل کرتے۔ یدعون الی النار جہنمیوں کے عمل کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ویوم القیمۃ لاینصرون قیامت کے روز ان کی مدد نہ کی جائے گی۔
Ayah 28:42واتبعنھم فی ھذہ الدنیا لعنۃ ہم نے بندوں کو حکم دیا کہ ان پر لعنت کریں تو جو بھی ان کا ذکر کرے تو ان پر لعنت کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی میں نے ان پر لعنت کو لازم کیا یعنی خیر سے دوری کو لازم کیا۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین جس کو ہلاک کیا گیا ہو اور ان پر ناراضی کی کوئی ہوئی، یہ ابن کیسان اور ابو عبیدہ کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ان کے چہروں کے سیاہ ہونے اور آنکھوں کے نیلے ہونے کے ساتھ ان کی شکلیں ہی بدل گئی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دور کئے گئے لوگوں میں سے ہوں گے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : قبحہ اللہ یعنی اسے یہ بھلائی سے الگ کردیا گیا۔ قبتحہ وقبحہ جب اسے قبیح بنا دیا۔ ابو عمرو نے کہا : قبحت وجھہ جب شدنہ ہو تو اس کا معنی بھی قبحت ہی ہے یعنی مجرد اور مزید فیہ دونوں بابوں سے معنی ایک ہی ہے، شاعر نے کہا :
الا قبح اللہ البراحم کلھا وقبح یربوعا و قبح دارما
اللہ تعالیٰ تمام برا جم کو بھلائیوں سے دور کرے پر بوع اور دارم کو بھلائی سے دور کرے۔
یوم کو نصب اس لئے دی ہے کیونکہ فی ھذہ الدنیا کے محل پر محمول ہے (1) من المقبوحین حرف عطمف کا ذکر نہیں یعنی حرف عطف سے مستغنی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں حرف عطف نہیں : سیقولون ثلثہ رابعھم کلھم (الکہف : 22) یہ بھی جائز ہے کہ یوم میں عامل مضمر ہو جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ھم من المقبوحین یہ اسی طر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم یرون الملٓئکۃ لابشریٰ یومئذ اللمجرمین (الفرقان : 22) یہ بھی جائز ہے کہ یوم میں عامل ھم من المقبوحین ہے اگرچہ ظفر متقدم ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مجاز کے قاعادہ کے مطابق منفعول ہوگیا فرمایا : واتبعناھم فی ھذہ الدینا لعنۃ یوم القیامۃ
Ayah 28:43ولقد اتینا موسیٰ الکتب، الکتاب سے مراد تورات ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : وہ پہلی کتاب ہے یعنی تورات جس میں فرائض، حدود اور احکام نازل ہوئے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں کتاب سے مراد مثانی سبع میں سے چھ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا : یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، اسے مرفوع روایت کیا ہے
من بعدما اھلکما القرن الاولی حضرت اب سعید خدری نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے کسی قوم، فرن (زمانہ کے لے لوگ) امت اور اہل قریۃ کو آسمان کے عذاب سے ہلاک کیا اور نہ ہی زمین کے عذاب سے ہلاک کیا۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کو نازل کیا سوائے اس بستی کے جن کو بندوں کی شکل میں مسخ کردیا گیا۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو نہیں دیکھتے : ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعدمآ اھلکنا القرن الاولی۔ “ مراد قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کے بعد۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بعد اس کے کہ ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور قارون کو زمین میں دھنسایا۔ بصآبر للناس یعنی ہم نے اسے کتب دی جو بصیرتیں ہیں یعنی وہ اس سے بصیرت حاصل کریں۔ وھدی جو آدمی اس پر عمل کرے اس کو گمراہ سے ہدایت دینے والی ہے و رحمۃ جو اس سے بصیرت حاصل کریں۔ وھدی جو آدمی اس پر عمل کرے اس کو گمراہی سے ہدایت دینے والی ہے ورحمۃ جو اس پر ایمان لائے اس کے لئے رحمت لعلنھم یتذکرون تاک اس نعمت کو یاد کریں اور دنیا میں اپنے ایمان پر قائم ریں اور آخرت میں اپنے ثواب پر اعتماد کریں۔
Ayahs 28:44–45وما کنت اے محمد ! ﷺ آپ نہیں بجانب الغربی پہاڑ کی مغربی جانب : شاعر نے کہا :
اعطاک من اعطی الھدی النبینا نورا یزین المبر الغربیا
جس نے سراپا ہدایت نبی عطا کیا اس نے تجھے ایسا نور عطا کیا جو منبر کی مغربی جانب کو مزین کرتا ہے۔
اذ قضینآ ابی موسیٰ الامر جب ہم نے اسے اپنے امر اور نہی کا مکلف بنایا اور اپنا عہد اس پر لازم کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے، جب ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف آپ کا امر پہنچایا اور ہم نے تیرا ذکر اچھے انداز میں کیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اذ قضینآ کا معنی ہے یعنی ہم نے خبر دی کہ حضرت محمد ﷺ کی امت بہترین امت ہے وما کنت من الشھدین تو حاضرین میں سے نہ تھا۔
ولکنا انثانا قروناً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد فیظاول علیھم العمر یہاں تک کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد اور امر کو بھلا دیا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الم یان للذین امنوا ان تخشع الخ (الحدید : 61) اس کا ظاہر واجب کرتا ہے کہ اس وقت ہمارے نبی کا ذکر جاری ہوا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے مبعوث فرمائے گا، لیکن مدت لمبی ہوگئی، غالب آگئی اور قوم اس کو بھول گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور ہم نے اس کی قوم سے عہد لیا پھر زمانہ میں طویل ہوگیا اور انہوں نے کفر کیا تو ہم نے حضرت محمد ﷺ کو دین کا مجدد بنا کر بھیج دیا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا بنا کر بھیج دیا۔
وما کنت ثاویافی اھل مدین آپ ان میں مقیم نہ تھے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے درمیان مقیم تھے۔ عجاب نے کہا :
فبات حیث یدخل الثوی اس نے وہاں رات گزاری جہاں اقامت کرنے والا مہمان داخل ہوتا ہے۔
تتلوا علیھم ایتنا انہیں وعدہ اور وعید یاد دلائیں۔ ولکنا کنا مرسلین ہم نے تجھے اہل مکہ میں بھیجا اور ہم نے تجھے ایسی کتاب دی جس میں یہ خبریں ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو آپ انہیں نہ جانتے ہوتے۔
Ayah 28:46وما کنت بجانب الطور اذنا دینا جس طرح آپ مکان کی غربی جانب نہیں تھے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا اسی طرح بھیجا اسی طرح آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا کی جب وہ ستر افراد کے ساتھ وقت مقررہ پر آئے تھے۔ عمرو بن دینار نے مرفوع روایت نقل کی ہے : ندا کی گئی : اے امت محمد ! میں نے تمہاری دعا قبول کی قبل اس کے کہ تم دعا کرو اور میں نے تمہیں عطا کردیا قبل اس کے کہ تم مجھ سے سوال کرو۔ (1) ۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے : وما کنت بجانب الطور اذنا دینا۔
حضرت ابوہریرہ نے کہا : ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے امت محمد ! میں نے تمہاری دعا قبول کرلی قبل اس کے کہ تم مجھ سے دعا کرو اور میں نے تمہیں عطا کیا قبل اس کے کہ تم مجھ سے سوال کرو، تمہاری مغفرت طلب کرنے سے پہلے میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے حضرت محمد ﷺ کی اور آپ کی امت کی فضیلت کا ذکر کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : امت محمد ! تو انہوں نے اپنے آباء کی پشتون سے جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہاری عرض داشت کو پورا کیا قبل اس کے کہ تم مجھ سے دعا کرو۔ اس تعبیر کی بنا پر معنی ہوگا : آپ طور کی جانب نہیں تھے جب ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کی اور ہم نے اسے تیری امت کو ندا کی اور ہم نے تیرے لئے اور تیری امت کے لئے قیامت تک جو کچھ لکھ دیا ہے اس کے بارے میں اسے خبر دی۔
ولکن رحمۃ من ربک یعنی جو ہم نے کہا ہے یہ تمہارے اوپر اپنی جانب سے رحمت کے طور پر کیا ہے۔ اخفش نے کہا : رحمۃ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ فعل ذلک بل لاجل الرحمۃ نحاس نے کہا : آپ نے انبیاء کے واقعات کا مشاہدہ نہ کیا اور نہ ہی انہیں آپ پر بیان کیا گیا لیکن ہم نے تجھے مبعوث کیا اور ہم نے رحمت کے لئے تیری طرف وحی کی۔ کسائی نے کہا : کان کی خبر ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے لکن کان رحمۃ رفع دینا بھی جائز ہے یہ اس معنی میں ہے ھی رحمۃ زجاج نے کہا : رفع جائز ہے اس معنی کا اعتبار کرتے ہوئے لکن فعل ذلک رحمۃ
لتذر قوماما اتھم من نذیر من قبلک قوم سے مراد عرب ہیں آپ نے ان اخبار کا مشاہدہ نہیں کیا لیکن ہم نے انہیں تیری طرف وحی کیا ان پر رحمت کرتے ہئوے جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے تاکہ آپ ان کے ذریعے انہیں ڈرائیں۔ لعلھم یتذکرون تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 28:47ولولا ان تصیبھم ھم ضمیر سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد یہودی ہیں۔ قصیبۃ اس سے مراد عقوبت اور اتنقام ہے۔ بسا قذمت ایدیھم اس سے مراد کفر اور معاصی ہیں۔ ابدی کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ عموماً کمائی اس سے واقع ہوتی ہے۔ لولا کا جواب محذوف ہے۔ ان کے سابقہ گناہوں کی وجہ سے انہیں کیوں عذاب نہیں پہنچا۔ فیقولوا ربنا لولا لولا، ھلا کے منی میں ہے۔ ارسلت الینا رسولاً ہم نے رسول کیوں نے بھیجے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے کیوں عذاب کو جلدی نہیں بھیجا ؟ رسولوں کو مبعوث کرنا، کافر کے عذر کو ختم کرنے کے لئے ہے جس طرح سورة الاسراء اور سورة طہ کے آخر میں گزر چکا ہے۔ فنتبع ایتک فعل کو نصب تخصیص کے جواب کے طور پر ہے۔ ونکون من الممنین فعل کا عطف فنتبع پر ہے۔ مومنین سے مراد تصدیق کرنے والے ہیں۔ اس آیت سے اس نے استدلال کیا ہے جس نے کہا : عقل ایمان اور شکر کو واجب کردیتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بما قدمت ایدیھم یہ عقاب کا موجب ہے کیونکہ وجوب رسولوں کی بعثت سے قبل ثابت ہوچکا تھا یہ عقل سے بھی جانا جاسکتا ہے۔ قشیری نے کہا، صحیح یہ ہے کہ کلام محذوف یوں ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو نئے رسول بھیجنے کی ضرورت نہ ہوتی، یعنی یہ کفار معذور نہیں کیونکہ ان تک سابقہ شریعتیں پہنچ چکی ہیں اور توحید کی دعوت بھی پہنچ چکی ہے لیکن زمانہ طویل ہوگیا اگر ہم ان کو عذاب دیتے تو ان میں سے کوئی کہنے والا کہتا : رسولوں کا زمانہ طویل ہوگیا۔ یہ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ عذر ہے جب کہ ان کے لئے کوئی عذر نہیں کیونکہ انہیں رسولوں کی بعثت کی خبر پہنچی ہے لیکن ہم نے عذر کو مکمل طور پر ختم کردیا اور بیان کو مکمل کردیا، پس اے محمد ! ﷺ ہم نے تجھے ان کی طرف مبعوث کیا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا کہ وہ کس بندے کو یہاں اور حجت کے اکمال اور رسولوں کی بعثت کے بعد ہی سزا دے گا۔
Ayah 28:48فلما جآء ھم الحق من عندنا حق سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ قالوا یعنی کفار مکہ نے کہا : لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ لولا، ھلا کے معنی میں ہے مثل ما اوتی سے مراد عصا اور ید بیضا ہے اور تورات کی طرح آپ کو قرآن حکیم اکٹھے کیوں نازل نہیں کیا گیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خبر حضرت محمد ﷺ سے پہلے پہنچ چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم یکفروا بمآ اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحرن تظھرا ساحران سے مراد انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ لئے ہیں جن دونوں نے باہم جادو پر تعاون کیا معاذ اللہ۔ کلبی نے کہا : قریش نے یہودیوں کی طرف پیغام بھجیا اور ان سے حضور ﷺ کی بعثت اور ان کے معاملہ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا : ہم نے رات میں آپ کی نعت اور صفت پاتے ہیں۔ جب جواب ان تک پہنچا۔ قالوا سحرن تظھرا ایک قومل کا خیال ہے : یہودیوں نے مشرکوں کو تعلیم دی اور انہوں نے کہا : (حضرت) محمد ﷺ سے پوچھو آپ کو اس طرح کی چیزیں کیوں نہ عطا کی گئیں جس طرح کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئیں، کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ہی دفعہ تو رات دی گئی تھی۔ یہ استدلال یہودیوں پر وارد ہے یعنی کیا ان یہودیوں نے یہ کہہ کر اس چیز کا انکار نہیں کیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی جب انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے بارے میں یہ کہا تھا : ھماساحران یہ دونوں جادو گر ہیں۔
ان بکل کفرون ہم ان میں سے ہر ایک کا انکار کرنے والے ہیں۔ کو فیوں نے پڑھا سحران یہ الف کے بغیر ہے مراد انجیل اور قرآن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تو رات اور فرقان ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تورات اور انجیل ہے، یہ ابورزین کا قول ہے۔ باقی قراء نے ساحر ان لف کے ساتھ پڑھا ہے اس میں تین اقوال ہیں (1) مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ ہیں، یہ مشرکین عرب کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے (2) حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ہیں، یہ یہودیوں کا قول ہے جو انہوں نے ان دونوں کی رسالت کی ابتدا کے موقع پر کیا تھا، یہ قول سعید بن جبیر، مجاہد اور ابن زید کا قول ہے۔ تو استدلال ان کے خلاف ہوگا۔ یہ تعبیر اس امر پر دال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : لولا انتصیبھم مصیبۃ میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے لولا ان تصیبھم مصیبۃ لما جددنا بعثۃ الرسل کیونکہ یہودیوں نے نبوتوں کا اعتراف کیا لیکن انہوں نے تحریف کی، تبدیلی کی اور عقاب کے مستحق ہوگئے اور کہا : ہم نے حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ ان کے تمام عذر ختم کردیئے (3) مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ ہیں یہ آج یہودیوں کا قول ہے، قتادہ نے یہی قول کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ : کیا تمام یہودیوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا جو تورات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور اس تورات میں ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی۔ اس تو رات میں انجیل اور قرآن کا ذکر ہے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساحر اور دونوں کتابوں کو سحر خیال کیا۔
Ayah 28:49قل فاتوا بکتب من عند اللہ ھو اھدی منھمآ اتمعہ اے محمد ! ﷺ کہو : اے مشرکوں کی جماعتو ! جب تم نے ان دونوں کتابوں کا انکار کردیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ کتاب لے آئو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت یا فتہ ہو پس کس ای اتباع کروں گا تاکہ تمہارے لئے بھی کفر میں کوئی عذر ہو۔ ان کنتم صدقین اگر تم اس میں سچے ہو کہ وہ دونوں جادوگر ہیں یا تم ایسی کتاب لائو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی کتابوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ یہ کہ فیول کی قرأت سحر ان کو قوت بہم پہنچاتی ہے۔ اتبعہ، فراء نے کہا : یہ رفع کے ساتھ ہے کیونکہ کتاب کی صفت ہے اور کتاب نکروہ ہے کہا : جب اسے جزم دی جائے جو اس میں ایک صورت ہے تو وہ شرط کی صورت میں ہوگی۔
Ayahs 28:50–51فان لم یستجیبوالک اے محمد ! ﷺ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کتاب نہ لا سکیں فاعلم انما یتبعون اھوآء ھم تو یہ جان لو کہ وہ اپنے دلوں کی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں اور جس چیز کو وہ اچھا خیال کرتے ہیں اور شیطان جس چیز کو ان کے لئے محبوب بنا کر پیش کرتا ہے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ومن اضل ممن اتبع ھو بہ بغیر ھدی من اللہ کوئی اس سے بڑھ کر گمراہ نہیں ان اللہ لایھدی القوم الظلمین
ولقد وضلما لھم القول یعنی ایک کے بعد دوسرا قول بھیجا اور ایک رسول کے بعد دوسرا رسول مبعوث کیا۔ حضرت حسن بصری نے پڑھا : وصلنا یہ مخفف ہ۔ ابو عبیدہ اور اخفش نے کہا : وصلنا کا معنی ہے ہم نے مکمل کیا جس طرح تو کسی چیز کو مکمل کرتا ہے۔ ابن عینیہ اور سدی نے کہا : ہم نے بیان کیا، یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا۔ مجاہد نے کہا : ہم نے تفصیل بیان کردی، اس طرح وہ قرأت بھی کرتے تھے ابن زید نے کہا : ہم نے ان کے لئے دنیا کی خبر آخرت کی خبر کے ساتھ ملا دی گویا وہ دنیا میں ہی آخرت میں ہیں۔ اہل معانی نے کہا : اس کا معنی والینا اور تابعنا ہے یعنی ہم نے قرآن کو نازل کیا اس کا بعض بعض کے پیچھے ہیں، کبھی وعدہ، کبھی وعید، کبھی قصے، کبھی عبرتیں، کبھی نصاح اور کبھی مواعظ ہیں۔ مقصودیہ ہے کہ وہ نصیحت حاصل کرلیں اور کامیاب ہوجائیں۔ اس کی اصل وصل الجبال بعضھا ببعض ان کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا۔ شاعر نے کہا :
فقل لبنی مروان ما بال ذمۃ وحبل ضعیف ما یزال یوصل
بنی مروان سے کہو : اس ذمہ اور کمزوری سی کا کیا ہے جس کو جوڑا نہیں جاتا۔
امرئوالقیس نے کہا :
دریر کخدروف الولید امرہ تقلب کفیہ بخبط موصل
محل استدلال موصل ہے۔
لھم میں ضمیر قریش کے لئے ہے، یہ مجاہد سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ یہود کے لئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان سب کے لئے ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کا رد ہے جس نے یہ کہا : حضرت محمد ﷺ کو قرآن اکٹھا کیوں نہ دیا گیا۔
لعلھم یتذکرون حضرت ابن عباس نے کہا : وہ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں غور و فکر کریں اور آپ پر ایمان لے آئیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : وہ غور فکر کریں اور اس سے ڈریں کہ ان پر ایسا ہی عذاب نہ نازل ہوجائے جو ان سے قبل لوگوں پر نازل ہوا، یہ علی بن عیسیٰ کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : شاید وہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر قرآن سے نصیحت حاصل کریں نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے۔
Ayahs 28:52–53الذین انتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون یہ خبر دی بنی اسرائیل میں سے جنہیں کتاب دی گئی ان میں سے ایک قوم قرآن کے نازل ہونے سے پہلے قرآن پر ایمان رکھتی تھی۔ جس طرح حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت سلمان اور نصاریٰ کے علماء میں سے جو مسلمان ہوئے وہ بھی اس میں داخل ہیں وہ چالیس لوگ تھے۔ وہ حضرت جعفر بن ابی طالب کے سانحہ مدینہ طبہ آئے تھے بتیس آدمی حبشہ سے ائے تھے اور آٹھ آدمی شام سے آئے تھے وہ نصاریٰ کے ائمہ تھے ان میں بحیرا راہب، ابرہہ، اشرف، عامر، ایمن، ادریس اور نافع ھتے۔ ماوردی نے یہی نام ذکر کئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ اور بعد والی آیت نازل کی ہے اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہ : یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام، حضرت تمیم داری، حضرت جارود عبدی اور حضرت سلمان فارسی کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اسلام لائے اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت رفاعہ قرظی سے مروی ہے : یہ آیت دس آدمیوں کے بارے میں نازل ہئی، میں ان میں سے ایک ہوں۔ حضرت عروہ بن زبیر نے کہا : یہ آیت حضرت نجاشی اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی نجاشی نے بارہ آدمی بھیجے وہ نبی کریم ﷺ کے مجلس میں بیٹھے ابوجہل اور اس کے ساتھی قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے وفد کے لوگ نبی کریم ﷺ پر ایمان لے آئے جب وہ حضور ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ابوجہل اور اس کے ساتھی ان کے پیچھے ہو لیے ابوجہل نے انہیں کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے جیسے قافلہ کو غائب و خاسر کرے اور تمہارے جیسے وفد کو قباحت میں ڈالے تم تھوڑی دیر بھی نہ ٹھہرے کہ تم نے ان کی تصدیق کردی ہم نے تم سے بڑھ کر کوئی وفد زیادہ احمق اور زیادہ جاہل نہیں دیکھا انہوں نے ابو جہل کو جواب دیا : سلم علیکم ہم اپنے نفوس کو ہدایت کے نوازنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے لنا اعمالنا ولکم اعمالکم یہ بحث سورة مائدہ میں واذا سمعوا مانزل الی الرسول کے تحت گزر چکی ہے۔ ولا والعالیہ نے کہا : یہ ایسی قوم ہیں جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائی قبل اس کے کہ آپ کو مبعوث کیا جاتا جب کہ ان میں سے بعض نے آپ کو پایا۔ من قبلہ قرآن سے پہلے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت محمد ﷺ سے پہلے ھم بہ باء ضمیر سے مراد قرآن ہے یا حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے یومنون۔
Ayahs 28:54–55اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تین قسم کے افراد ایسے ہیں جنہیں دو گنا اجر دیا جائے گا (1) اہل کتاب میں سے آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور اس نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا تو وہ حضور ﷺ پر ایمان لایا، آپ کی اتباع کی اور آپ کی تصدیق کی۔ اس کے لئے دو اجر ہیں (2) مملوک غلام حسن نے اللہ تعالیٰ کے حق کو اور اپنے آقا کے حق کو ادا کیا اس کے لئے دو اجر ہیں (3) ایک مرد جس کی ایک لونڈی تھی۔ اس نے اسے غذا دی اور اچھی غذا دی اسے ادب سکھایا اور بہترین ادب سکھایا پھر اسے آزاد کیا اور اس سے شادی کی تو اس کے لئے دو اجر ہیں “ (1) شعبی نے خراسان سے کہا : یہ حدیث بغیر کسی شے کے لے لو جب کہ ایک آدمی اس سے کم درجہ کی حدیث کے لئے مدینہ طیبہ تک کا سفر کیا کرتا تھا۔ اسے امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ ہمارے علماء نے کہا : جب ان میں سے ہر ایک دو جہتوں سے دو امور کا مخاطب بنا تو ان میں سے ہر ایک دو اجروں کا مستحق ہوا۔ کتابی اپنے نبی کی جانب سے مخاطب تھا پھر ہمارے نبی کی جانب سے اسے خطاب کیا گیا اس نے اس دعوت کو قبول کیا اور اس کی پیروی کی تو اس کے لئے دو ملتوں کا اجر ہے۔ اس طرح غلام وہ اللہ تعالیٰ کی جہت سے مامور ہے اور اپنے سید کی جانب سے مامور ہے اور لونڈی کا مالک، جب اس نے وہ فرائض ادا کئے جسے اپنی لونڈی کی تربیت کے اور ادب کے حالے سے خطاب کیا گیا تھا تو اس نے اسے تربیت کے ساتھ زندہ کیا پھر جب اس نے اسے آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کی تو آزادی کے احیاء کے ساتھ زندہ کیا پھر اسے اپنے ساتھ لاحق کرلیا تو اس نے وہ امور سر انجام دیئے جن کا اسے حکم دیا گیا تھا تو ہر ایک کے لئے دو اجر ہیں پھر ہر ایک اجر کو کئی گنا کردیا جائے گا۔ ایک نیکی دس گناہ ہے تو اس کے اجروں کو بھی کئی گنا کردیا جائے گا، اسی وجہ سے کہا گیا : ہر وہ غلام جو اپنے آق کا حق ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حق آزاد یعنی مالک کے حق سے زیادہ ہے یہی وہ چیز ہے جسے ابو عمر بن عبدالبر اور دوسرے علماء نے پسند کیا ہے۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مملوک غلام جو اپنی اصلاح کرنے والا ہو اس کے لئے دو اجر ہیں۔ “ (2) مجھے اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد، حج اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کا تصور نہ ہوتا تو میں اس کو پسند کرتا کہ میں مرتا اس حال میں کہ میں مملوک ہوتا۔ سعید بن مسیب نے کا : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے حج نہ کیا یہاں تک کہ ان کی ماں مر گئی مقصد ماں کی خدمت تھی۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایک مملوک کے لئے کتنا اچھا ہے کہ وہ فوت ہو وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اچھی طرح کرتا ہو اور اپنے آقا کی خدمت اچھی طرح کرتا ہوا اس غلام کے لئے کتنا اچھا ہے “ (3) ۔
مسئلہ نمبر 2۔ بما صبروا اپنی ملت پر صبر کرنے میں یہ عام ہے پھر اس عمل اور اس اذیت سے جو وہ کفار وغیرہ سے پاتے ہیں پر صبر کرتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 3۔ ویدرئون بالحسنۃ السئۃ وہ برائی کو نیکی سے دور کرتے ہیں درات یہ اس وقت بولتے ہیں جب تو دفاع کرے۔ دردء کا معنی دور کرنا ہے۔ حدیث میں ہے :” حدود کو شبہات کے ساتھ دور کرو “ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بردات اور اچھی کلام کے ساتھ اذی کو دور کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ توبہ اور استغفار کے ساتھ گناہوں کو دور کرتے ہیں۔ پہلی تعبیر کی صورت میں یہ مکارم اخلقا کا وصف ہے یعنی جوان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ اس کے ساتھ نرمی کرتے ہیں اور اچھے قول کے ساتھ پیش آتے ہیں اس کے ساتھ وہ برائی کو دور کرتے ہیں یہ آیت صلح ہے یہ ابتداء اسلام میں تھا یہ وہ آیت ہے جسے آیت سیف نے منسوخ کردیا ہے اور کفر کے سوا کے لئے اس کا حکم باقی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی امت قیامت تک بجالاتی رہ گی۔ اس معنی میں حضرت معاذ کے لئے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : اتبع السیئۃ الحسنۃ تمحھا و خالق الناس بخلق حسن (2) برائی کے پیچھے نیکی لائو جو اس برائی کو مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے ملو۔ خلق حسن میں سے یہ بھی ہے کہ ناپسندیدہ چیز اور اذیت کو دور کرو ظلم پر اس سے اعراض اور نرم گفتگو کے ساتھ صبر کرو۔
مسئلہ نمبر 4۔ وما رزقنھم ینفقون اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی کہ وہ اپنے اموال طاعات اور شرع کے احکام میں خچ کرتے ہیں۔ اس میں صدقات پر برانگیختہ کیا گیا ہے بعض اوقات روزے اور نماز کی صورت بدنی صدقہ ہوتا ہے پھر لغو سے اعراض کرنے پر ان کی مدح کی، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واذا مروا باللغو مروا کراماً ۔ (الفرقان) مشرک جو انہیں اذیت دیتے اور گالیاں دیتے اس کو سنتے تو یہ اس سے اعراض کرتے یعنی اس میں مشغول نہ ہوتے۔ وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلم علیکم یہ کلام ایک دوسرے سے لاتعلق ہونے کی بنا پر ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واذا خاطبھم الجھلون قالوا سلما۔ (الفرقان) یعنی ہمارے لئے ہمار ادین اور تمہارے لئے تمہارا دین ہے سلم علیکم یعنی تمہیں ہم سے امن ہے ہم جنگ نہیں کرتے اور ہم تمہیں گالیاں نہیں دیتے یہاں سلام کا کوئی ذکر نہیں۔ زجاج نے کہا : یہ قتال کا حکم آنے سے قبل کا معاملہ ہے۔ لانبتغی الجھلین ہم انہیں جھگڑے، بات لوٹانے اور باہم گالی دینے کے لئے طلب نہیں کرتے۔
Ayah 28:56میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ مفسرین کی بڑی تعداد کا اتفاق ہے کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے چچا ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ امام بخاری اور مسلم کی حدیث ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة براۃ میں گزر چکی ہے۔ ابو روق نے کہا : ولکن اللہ یھدی من یشآء میں اشارہ حضرت ابن عباس کی طرف ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ وھو اعلم بالمھتدین مجاہد نے کہا : جس کے حق میں ہدایت کو مقدر کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من احببت کا معنی ہے جس کی ہدایت پانے کو آپ پسند کرتے ہیں۔ جبیر بن مطعم نے کہا : وہ وحی جو نبی کریم ﷺ پر کی جاتی اس کو کسی نے نہیں سنا صرف حضرت ابوبکر صدیق نے اسے سنا کیونکہ انہوں نے حضرت جبریل امین کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے محمد : اے محمد ! پڑھو انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء
Ayah 28:57وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا یہ مشرکین مکہ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : قریش میں سے یہ بات حرث بن عثمان بن نوفل بن عبدمناف قرشی نے کی : اس نے نبی کریم ﷺ سے کہا : ہم جانتے ہیں کہ تیرا قول ہے لیکن ہمیں یہ خوف کہ عرب ہمیں اپنی سر زمین (مکہ) سے اچک لیں یہ خوف اس سے روکتا ہے کہ ہم تیرے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں اور تجھ پر ایمان لائیں گے، کیونکہ وہ سب ہمارے خلاف مجتمع ہیں اور ہم میں ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں یہ ان کی حجت بازیوں میں سے تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی حجت بازیوں کا جواب دیا اور کہا : اولم نمکن لھم حرماً امناً آمنا یہاں ذا امن کے منی میں ہے اس کی وجہ یہ تھی عرب دور جاہلیت میں ایک دوسرے سے غارت گری مچاتے تھے، ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور اہل مکہ حرم کی حرمت کی وجہ سے امن میں ہوتے جہاں بھی ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے انہیں امن دیا۔ ان سے ان کے دشمن کو روکا انہیں ڈرنا چاہئے کہ عرب ان کے ساتھ جنگ میں ان کی حرمت کو حلال سمجھیں گے۔ تخطف سے مراد تیزی سے اچک لینا ہے، یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : تم میرے حرم میں امن میں ہوتے ہو، تم میرا رزق کھاتے ہو اور میرے غیر کی عبادت کرتے ہ۔ کہا : تم اس وقت خوف کھاتے ہو جب تم میری عبادت کرو گے اور مجھ پر ایمان لائو گے۔
یجبی الیہ ثمرت کل شیء تمام سر زمین اور تمام ملکوں کے پھل اس کی طرف جمع کئے جاتے ہیں، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : جبی الماء فی الحوض اس نے پانی کو حوض میں جمع کیا۔ جابیہ سے مراد بڑا حوض ہے۔ نافع اسے تحیی تاء کے ساتھ پڑھتے۔ یہ ثمرات کی وجہ سے ہے باقی قراء نے کل شیء کی وجہ سے یاء کے ساتھ پڑھا ہے، ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے۔ کہا : اسم مونث اور فعل کے درمیان فاصلہ حائل ہے نیز ثمرات جمع ہیں، یہ مونث حقیقی نہیں۔
رزقا من لدنا یعنی ہماری جانب سے ولکن اکثرھم لایعلمون لیکن ان میں سے اکثر عقل نہیں کھتے، یعنی وہ استدلال سے غافل ہیں، یعنی وہ ذات جس نے زمانہ گزشتہ میں حالت کفر میں انہیں رزق دیا ہے اور انہیں امن دیا ہے اگر وہ اسلام لائے تب بھی انہیں رزق دے گا اور حالت اسلام میں کافر کو ان سے روکے گا۔ رزقاً مفعول لاجلہ کی وجہ سے منصوب ہے مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے نصب دینا جائز ہے کیونکہ تجی کا معنی ترزق ہے۔ اس کو یجنی پڑھنا بھی جائز ہے یہ جنا سے مشتق ہے یہ الی حرف جار کے ساتھ متعدی ہے جس طرح تیرا قول ہے، یجنی الیہ فیہ، فجنی الی الخافۃ خافہ سے مراد وانوں کیلئے برتن ہے۔
Ayah 28:58وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا اس آدمی کے لئے اس امر کو واضح کیا جو یہ گمان کرتا ہے کہ اگر وہ ایمان لایا تو عرب اس سے قتال کریں گے ایمان کے ترک کرنے میں خوف بہت زیادہ ہے کتنی ہی قومیں ہیں جنہیں نے کفر کیا پھر ان پر ہلاکت واقع ہوئی۔ بطر سے مرادنعمت کے بدلے میں سرکشی کرنا ہے، یہ زجاج کا قول ہے۔ معیشتھا سے مراد فی معیشتھا ہے جب فی کو حذف کیا تو فعل متعدی ہوگیا، یہ مازنی اور زجاج کا قول ہے، جس طرح اس ارشاد میں حرف جار حذف ہے، و اختار موسیٰ قومہ سبعین رجلاً (الاعراف : 551) فراء نے کہا : یہ تفسیر کے طور پر منوب ہے اسی طرح فرمایا : جس طرح تو کہتا ہے ابطرت مالک وبطرتہ اس کی مثل اس کے ہاں یہ ہے الا من سفہ نفسہ (البقرہ : 031) اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے فان طبن لکم عن شی الامنہ نفساً (النسائ : 4) بصریوں کے نزدیک اسم معرفہ کو نصب دینا محال ہے کیونکہ تفسیر اور تمیز کا مطلب یہ ہے کہ واحد نکرہ ہو جو جنس پر دلالت کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بطرت کی وجہ سے منصوب ہے بطرت کا معنی ہے جھلت جاہل اور ناقواف ہے معنی ہے وہ بستی اپنی معیشت پر شکر بجا لانے سے جاہل ہے۔
قتلک مسکنھم لم تسکن من بعدھم الا قلیلاً ان کے اہل کے ہلاک ہونے کے بعد کچھ مسکن ہی آباد ہوئے اکثر برباد ہوگئے۔ استثناء مساکن کی طرف راجع ہے۔ یعنی بعض میں رہئاش رکھی جاتی ہے یہ زجاج کا قول ہے۔ اس پر اعتراض کیا گیا اور کہا گیا : اگر استثناء مساکن کی طرف لوٹتی تو ارشاد یوں ہوتا : الاقلیل کیونکہ تو کہتا ہے : القوم لم تضرب الاقلیل قلیل کو رفع دیا جاتا ہے کیونکہ مارے جانے والے افراد تھوڑے ہوتے ہیں۔ جب تو نصب دے گا تو قلیل، ضرب کی صفت ہوگی۔ یعنی تھوڑا مارا گیا۔ تو اس وقت معنی ہوگا وہ ایسے مساک نہیں جن میں مسافر ہی رہائش پذیر ہوتے اور وہ لوگ جو اس راستہ سے گزرے وہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے یعنی ان کے بعد تھوڑی ہی رہائش رکھی گئی حضرت ابن عباس نے اس طرح کہا، یعنی ان میں مسافر یا راہ گزر وہی ایک دن یا دو دن رہائو کنانحن الورثین یعنی ان کی ہلاکت کے بعد انہیں ان کا نائب بنایا گیا۔ (1)
Ayah 28:59وما کان ربک مھلک القریٰ یعنی ایسی بستیاں جن کے اہل کافر ہیں۔ حتی یبعث فی امھا ہمزہ کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے کسرہ جر کی اتباع میں ہے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ رسولاً مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی امھا سے مراد ان میں سے سب سے بڑی، رسولاً ایسا رسول جو انہیں خبردار کرے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ان کے اوائل میں (1)
میں کہتا ہوں : مکہ مکرمہ اپنی حرمت اور اولیت کی بنا پر سب سے عظیم بستی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان اول بیت وضع للناس (آل عمران : 96) رسول کی بعثت کے لئے ان بستیوں میں سے بڑی کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ رسولوں کو اشراف کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے وہ شہروں میں رہتے ہیں یہ اردگرد کی بستیوں کے لئے ام کا درجہ رکھتی ہے۔ سورة یوسف کے آخر میں معنی گزر چکا ہے۔
یتلوا علیھم ایتنا، یتلو صفت کے محل میں ہے یہ تالیا کے معنی میں ہے یعنی وہ رسول انہیں بتاتا ہے کہ عذاب ان پر نازل ہوگا اگر وہ ایمان نہ لائیں۔ وما کنا مھل کی القریٰ اضافت کی وجہ سے مھل کی کی نون گر گئی ہے جس طرح ظالمی انفسم میں نون اضافت کی وجہ سے گر گئی۔ الا واھلھا ظلمون یعنی میں نے انہیں ہلاک نہیں کیا مگر وہ کفر پر اصرار کی وجہ سے ہلاکت کے مستحق ہوگئے تھے کیونکہ ان کے تمام عذر ختم کردیئے گئے تھے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے عدل اور ظلم سے مبرا ہونے کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک نہیں کرتا مگر اس وقت جب وہ ظلم کے ساتھ ہلاکت کے حق ہوچکے ہوتے ہیں۔ ان کے ظالم ہونے کے باوجود انہیں ہلاک نہیں کرتا مگر حجت کی تاکید اور رسولوں کی بعثت کے ساتھ اتمام حجت کے بعد ہی ہلاک کرتا ہے۔ ان کے احوال سے آگاہی کو ان کے خلاف حجت و دلیل نہیں بناتا اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ ان کو ہلاک کر یجب کہ وہ ظالم نہ ہوں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وما کان ربک لیھلک القریٰ بظلم و اھلھا مصلحون۔ (ہود) اس آیت میں ظلم کا لفظ ذکر کیا ہے اس بنا پر کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرتا جب کہ وہاصلاح کرنے والے ہوتے تو یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر ظلم ہوتا جب کہ اس کی حالت ظلم کے منافی ہے یہی اس کی حکمت کا تقاضا ہے اس پر حرف نفی اور لام کے ساتھ دلالت کی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (البقرہ : 143 )
Ayah 28:60وما اوتیتم من شی تم ضمیر سے مراد اہل مکہ میں فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتا تم اپنی زندگی کے عرصہ میں اس سے لطف اندوز ہوئے ہو یا اپنی زندگی میں ایک عرصہ تک یا تو تم اس سے الگ ہوجاتے ہو یا وہ تم سے زائل ہوجاتی ہے۔ وما عند اللہ خیرو ابقی اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہوے وہ افضل اور دائمی ہے۔ اس سے مراد دار آخرت ہے اور یہ جنت ہے۔
افلا تعقلون کیا تم اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے کہ باقی رہنے والی چیز فانی سے افضل ہوتی ہے۔ ابو عمرو نے اسے یعقلون یاء کے ساتھ پڑھا ہے (1) باقی قراء نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے یہی پسندیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما اوتیتم