52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 52:35–43

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا1 وہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے و الے کے پیدا ہوگئے ہیں یا وہ خود اپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں۔

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا ہے (یہ کچھ بھی نہیں) بلکہ وہ لوگ یقین نہیں لاتے۔

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

یا کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار (کی رحمت) کے خزانے ہیں ؟ یا کیا وہ لوگ داروغہ ہیں۔

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی زینہ ہے کہ اس پر چڑھ کر (آسمان کی) باتیں سن لیتے ہیں، پس چاہیے کہ ان کا سننے والا کوئی صاحب دلیل ۔

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اللہ کے لیے لڑکیاں اور تمہارے لیے لڑکے (تجویز ہوں)

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا تم ان سے تبلیغ احکام پر کچھ اجرت مانگتے ہو کہ وہ تاوان ان کو بار گزرتا ہے۔

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ (اسے) لکھ رکھتے ہیں۔

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا یہ لوگ (ہمارے محبوب کے ساتھ) کچھ برائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں پس یہ کافر خود ہی (اس) برائی میں گرفتار ہوں گے۔

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی (اور) معبود ہے (ہرگز نہیں) اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔

حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔ پھر فرمایا اللہ کے خالق و رازق ہونے کی شہادت میں تو آسمان و زمین ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں انہوں نے یا ان کے جھوٹے معبودوں یعنی بتوں نے کوئی آسمان و زمین پیدا کیا ہوتولائیں دکھلائیں، اصل یہ ہے کہ ان کے جی میں عقبی کا یقین نہیں ہے ورنہ اپنی عاقبت یہ ایسی خراب نہ کرتے، پھر فرمایا کہ اللہ کے رسول کی بددعا سے ان پر رزق کی تنگی ہوئی اور سخت قحط پڑا وہ تو ان کو معلوم ہے۔ ان کے یا ان کے جھوٹے معبودوں کے اختیار میں اللہ تعالیٰ کے خزانے تھے یا اللہ تعالیٰ کے انتظام کے داروغائی ، ان کو یا ان کے جھوتے معبودوں کو تھی تو پھر انہوں نے اس قحط کو کیوں نہیں رفع کیا، جب ان کے جھوٹے معبودوں سے اتنا بھی نہ ہوسکا تو پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرانے کا کیا حق ہے، پھر فرمایا کہ جس شرک کو انہوں نے حق ٹھہرارکھا ہے اللہ تعالیٰ نے جو اپنے رسول پر آسمان سے وحی بھیجی ہے اس میں تو اس کی جابجا مذمت ہے پھر کیا ان کے پاس کوئی آسمان تک سیڑھی ہے جس سے آسمان پر چڑھ کر انہوں نے یہ جان لیا کہ جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ حق ہے اگر ایسا ہے تو اس کو ثابت کیا جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی نصیحت کو مان کر بتوں کو چھوڑا جائے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنی عقل پر یہاں تک بھروسہ ہے کہ اپنی عقلی باتوں سے آسمانی وحی کے مقابلہ کو مستعد ہیں کیا عقل مند ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اپنی اولاد میں جب بیٹی ہو تو اس کو برا سمجھتے ہیں اور اللہ کے فرشتوں کو یہ لوگ اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کیا اللہ کے رسول اللہ کا حکم سنانے پر ان لوگوں سے کچھ اجرت مانگتے ہیں کہ اس کے بوجھ سے یہ لوگ اللہ کا حکم سننے سے بھاگتے ہیں پھر فرمایا کہ ان کے پاس لوح محفوظ ہے کہ اس میں سے اللہ کی مرضی کی باتیں یہ لکھ لیتے ہیں اور ان کو اپنا دین ٹھہراتے ہیں اور وحی آسمانی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول پر جو دین کی باتیں اترتی ہیں ان کو نہیں مانتے پھر فرمایا کہ یہ لوگ جو اللہ کے رسول کی وفات کے منتظر ہیں تو کیا اللہ کے رسول کے ساتھ کوئی ایسا فریب کرنے والے ہیں جس سے اللہ کے رسول کو کچھ ضرر پہنچے گا اگر ایسا کریں گے تو یہ بات ان لوگوں کو یاد رہے کہ ان کا وہ فریب ان ہی پر الٹ پڑے گا اللہ کے رسول کو کچھ ضرر اس سے نہ پہنچے گا یہ آیت قرآن شریف کے کلام الٰہی اور نبی ﷺ پر تلواروں سے وار کرنے کا فریب جو سوچا تھا وہ عین ہجرت کی رات کا مشورہ تھا اور یہ آیت ہجرت سے پہلے کی مکی ہے ہجرت کی رات کے بعد جو حصہ قرآن شریف کا نازل ہوا وہ مکی نہیں کہلاتا ، غرض ہجرت کی رات جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اس کی خبر اس مکی آیت میں پہلے سے ہی دی ہے جو ایک معجزہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ کے رسول کے مخالفوں کا فریب ان ہی پر الٹ پڑے گا آخر کو ویسا ہی ہوا کہ بجائے اس کے کہ وہ مخالف لوگ اللہ کے رسولوں پر تلواروں کا حملہ کرتے خود ان ہی مخالفوں پر تلواروں کا حملہ ہوکر وہ سیدھے جہنم کو چلے گئے پھر فرمایا کہ اللہ کے سوا ن لوگوں کا کوئی جھوٹا معبود ایسا ہے کہ جو قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے ان لوگوں کو چھوڑا دے پھر آخر کو فرمایا اللہ کی شان ان سب شرک کی باتوں سے بالاتر ہے اور مشرک لوگ اپنی ان شرک کی باتوں کو خمیازہ ایک دن بھگتنے والے ہیں۔
Ayahs 52:44–47

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اور1 اگر وہ آسمان سے کوئی ٹکڑا (یعنی عذاب) گرتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے یہ گہرا بادل ہے (پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے) ۔

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

پس انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں جس میں وہ بیہوش ہوجائیں گے (یعنی نفخہ اولی کا دن) ۔

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

اس دن ان کا فریب ان کے کچھ کام نہ دے گا اور نہ ان کی مدد ہو۔

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور بیشک ان ظالموں کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے (مثلا قحط وقتل بدر وغیرہ) و لیکن اسے اکثر لوگ جانتے نہیں۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان کفار کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس عذاب کے بادل کو جس طرح قوم عاد نے معمولی بادل بتلایا تھا ویسا ہی یہ کہیں گے کہ یہ تو کہیں کی ہوا یا بادل ہے اوپر تلے جمع ہوگئے ہیں اور غلیظ ہوکرابر کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور اب بارش ہوگی پھر فرمایا کہ جب ان لوگوں کی سرکشی اس درجے کو پہنچ گئی تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے سمجھا نے اور نصیحت کرنے کا موقع اب باقی نہیں رہا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے پھر ان کو ان کی سرکشی کی سز امل جائے گی ۔ دنیا میں کچھ عذاب ان پر آئے گا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ عذاب آخرت میں گرفتار رہیں گے ، اللہ کا وعدہ سچا ہے دنیا کا عذاب بدر کی لڑائی میں آیا کہ بڑے بڑے سرکش قریش بڑی ذلت اور خواری سے اس لڑائی میں مارے اور قید ہوئے اور ہر شخص کی آنکھیں تو اس قابل نہیں ہیں کہ وہ عذاب آخرت کو دنیا میں دیکھ سکے مگر اللہ نے اپنے محبوب کو ان سرکشوں کے عذاب آخرت کا حال بھی دنیا میں دکھلادیا، اسی واسطے آپ نے ان سرکشوں کی لاشوں پر کھڑے ہوکر فرمایا کہ اب تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پالیا، صحیح مسلم میں انس بن مالک کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے جگہ بتلادی تھی کہ یہاں ابو جہل کی لاش پڑی ہوگی اور یہاں فلاں شخص کی آگے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہو ہم تم کو دیکھتے ہیں ضرور تمہاری مدد کریں گے۔
Ayahs 52:48–49

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اور تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کیے رہو، بیشک تم ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور1 تم اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کرو جب کھڑے ہو۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور کچھ رات میں اس کی پاکی بیان کرو اور ستاروں کے ڈوبنے کے بعد بھی۔

(ف 1) یعنی جب سوکراٹھو تو اللہ کی حمد وتسبیح کیا کرو، نبی ﷺ سوتے سے اٹھ کر اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی سوتے سے اٹھ کر اللہ کی توحید بیان کرے اور پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول فرماتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ ہر مجلس سے اٹھتے وقت حمد وتسبیح بجالایا کرو، اور اکثر مفسرین نے رات کی تسبیح کی تفسیر تہجد کی نماز کی ہے اور تاروں کے ڈوبنے کے بعد مراد یہ ہے کہ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح و تمحید کرو، بعض مفسرین نے تسبیح کی تفسیر صبح کی دوسنت رکعتوں کی کی ہے۔