79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 79:41

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

اس کا ٹھکانہ بہشت ہے

فان الجنۃ ھی الماوی . اور بدی کا حکم دینے والے نفس کو خواہشات سے اس نے روکا تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے ‘ صحاح میں ہے کہ ہویٰ کا معنی ہے اپنی پسندیدہ چیزوں کی طرف نفس کا جھکاؤ ‘ ہویٰ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہویٰ صاحب ہویٰ کو دنیا میں مصیبت میں لے کر گرتی ہے اور آخرت میں ہاویہ کے اندر۔ ہویٰ کا معنی ہے نشیب کی طرف اترنا اور بلندی سے پستی کی طرف گرنا۔ ہویٰ تمام ممنوعات کا سرچشمہ اور حرام چیزوں کی بنیاد ہے۔ ابوبکر وراق کا قول ہے کہ اللہ نے کوئی مخلوق ہویٰ سے زیادہ گندی نہیں پیدا کی۔ ہویٰ ازروئے عقل بھی بری ہے اور ازروئے شرع بھی ‘ عقلی برائی تو یہ ہے کہ اشیاء کی حقیقتیں واقع میں موجود ہیں۔ خصوصاً مبدء و معاد کی حقیقت اور اخلاق و اعمال وغیرہ کے نتائج جو بجائے خود اپنے حسن و قبح کے خواستگار ہیں مگر ان کی اچھائی برائی عموماً عقل سے دریافت نہیں کی جاسکتی ‘ اگر بعض امور کا اچھا برا ہونا صرف عقل سے معلوم بھی ہوتا ہے تو وہ ناقابل اعتماد ہوتا ہے ‘ تاوقتیکہ علام الغیوب پیغمبروں کی معرفت اس کی اطلاع نہ دیدے کیونکہ اگر اشیاء کے حسن و قبح کو جاننے کے لیے عقل کافی ہو تو پیغمبروں کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ عقائد صحیحہ کا حصول ‘ اچھے برے اعمال کی شناخت اور ان پر عمل اور شریف و رذیل اخلاق کی تمیز ‘ اپنی خواہش کو چھوڑ کر پیغمبروں کی اتباع کیے بغیر ناممکن ہے۔ خواہش پرستی تو اتباع انبیاء کی ضد ہے۔ ہویٰ میں شرعی قباحت یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے : وما خلقت الجن والانس الاّ لیعبدون۔ جن و انس کو میں نے صرف اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ صحاح جوہری میں ہے کہ عبودیت کے معنی ہیں اظہار فروتنی اور عبادت کے مفہوم میں اور بھی زیادتی ہے یعنی انتہائی درجہ کی فروتنی کا اظہار۔ عبادت دو طرح کی ہوتی ہے : 1) تکوینی ‘ اضطراری جیسا کہ اس آیت میں ہے : وَِ ﷲِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَمٰوٰتِ والارضِ طَوْعًا وَّ کَرْھًا۔ جو کوئی آسمان و زمین میں ہے سب چار و ناچار اللہ کا فرمانبردار ہے۔ 2) اختیاری۔ یہی جن و انس سے مطلوب ہے پس جس طرح تکوینی طور پر ہر چیز اللہ کی فرمانبردار ہے ‘ اللہ کی مشیت و ارادہ کے خلاف تکوینی نظم کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اختیاری عبادت بھی ہونی چاہیے ‘ قلب کا کوئی فعل ہو یا اعضاء کا یا اخلاق نفسانیہ ‘ کوئی بھی اللہ کے ارادہ اور حکم کے خلاف نہ ہونا چاہیے۔ ہویٰ کو اس میں قطعاً دخل نہ ہونا چاہیے ‘ خواہش پرستی تو عبودیت کے خلاف ہے۔ ہر باطل ‘ قبیح ‘ (فعل ‘ عمل ‘ عقیدہ ‘ رائے) ہویٰ پرستی ہی کی شاخ ہے اور غلط افکار سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ کافروں نے اپنی فکر فاسد پر اعتماد کرتے ہوئے ہی تو کہا تھا : مَا لِھٰذَا الرّسولِ یاْکُلُ الطّعامُ و یمشی الاسواق اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحدًا نتّبعہٗ ۔ (یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں پھرتا ہے۔ کیا ہم اپنے میں سے ایک آدمی کا اتباع کریں) ۔ فرقہ مجسمہ نے کہا تھا اللہ موجود ہے اور ہر موجود جسم مکانی ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ بھی جسم مکانی ہے) معتزلہ وغیرہ نے کہا تھا کہ عذاب قبر ‘ وزن اعمال اور وجودِ پل صراط ممکن نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ گناہ کبیرہ کرنے والے اقرار کرتے ہیں کہ رسول اور قرآن کے احکام کی تعمیل فرض ہے اور برے اخلاق و اعمال والوں کو آخرت میں عذاب ہونے کا ان کو علم بھی ہے لیکن خواہش پرستی اور اتباع ہویٰ کی وجہ سے وہ اوامرو نواہی کے پابند نہیں ہوتے۔ اسی لیے فرائض کو ترک کرتے اور ممنوعات و مکروہات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ‘ تین چیزیں تباہ کن ہیں ‘ یہاں تک کہ حضور ﷺ نے فرمایا : خواہش پرست بندہ ‘ برا بندہ ہے۔ خواہش اس کو گمراہ کردیتی ہے۔ ترمذی و بیہقی بروایت حضرت اسماء بنت عمیس۔ یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا : تین چیزیں تباہ کن ہیں ‘ خواہش نفس جس کا اتباع کیا جائے۔ حد سے زیادہ کنجوسی جس کے حکم پر چلا جائے اور خود پرستی اور یہ سب سے زیادہ بری ہے۔ بیہقی نے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ میں کہتا ہوں اگرچہ حدیث میں ہویٰ سے خاص قسم کی ہویٰ مراد ہے مگر حقیقت میں تینوں تباہ کن چیزوں کا رجوع خواہش پرستی ہی کی جانب ہے۔ فائدہ ترک ہویٰ کے مختلف درجات ہیں۔ ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ عقائد کے متعلق جو سلف کا اجماع اور ظاہری نصوص ہیں ‘ ان کی مخالفت سے پرہیز کرے۔ اسی سے سنی مسلمان ہوتا ہے۔ اوسط درجہ وہ ہے جس کے متعلق مقاتل نے کہا ہے کہ گناہ کے ارادہ کے وقت آدمی یاد کرے کہ حساب فہمی کے لیے اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ یہ سن کر گناہ کے ارادہ کو چھوڑ دے ‘ اس درجہ کی تکمیل یہ ہے کہ مشتبہات (جن کی حرمت و حلت واضح نہ ہو) کو بھی ترک کر دے اور گناہ میں مبتلا ہوجانے کے ڈر سے ان چیزوں کو بھی ترک کر دے جن کو کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو مشتبہات سے بچتا ہے وہ اپنا دین و آبرو بچا لیتا ہے اور جو مشتبہات میں پڑجاتا ہے وہ ممنوعات میں بھی (آئندہ) پڑجاتا ہے ‘ جیسے وہ چرواہا جو جانوروں کو محفوظ ‘ ممنوع چراگاہ کے آس پاس چراتا ہے۔ ممکن ہے کسی جانور کو چراگاہ کے اندر بھی ڈال دے۔ (بخاری و مسلم) اس مرتبہ کی تکمیل یہ بھی ہے کہ ضروریات پر جواز کا دائرہ محدود کر دے۔ غیر ضروری چیز کی خواہش ترک کر دے۔ حضرت نعمان ؓ بن بشیر کی روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر دل پسند چیز کو کھا لینا بھی اسراف میں داخل ہے۔ (رواہ ابن ماجہ والبیہقی عن انس) حضرت مجدد (رح) نے فرمایا کہ ہمارے شیخ اجل حضرت شیخ بہاء الدین نقشبند فرماتے تھے کہ اللہ تک پہنچنے کا سب سے قریب راستہ مخالفت نفس ہے۔ مراد یہ ہے کہ احکام شریعت کی پوری نگہداشت کے ساتھ ساتھ نفس کی مخالفت کی جائے ‘ واللہ اعلم۔ یہاں ایک خاص نکتہ ہے وہ یہ کہ کچھ گناہ تو کھلے ہوئے ہیں ‘ بخوف حساب ان سے پرہیز ممکن ہے۔ کچھ چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ دقیق ہیں۔ یہ وہ گناہ ہیں جو نیکی کے جامہ میں ہوتے ہیں جیسے (عبادت وغیرہ کی) دکھاوٹ اور (اپنی عبادت و ریاضت پر) غرور اور کثرت نوافل و داعات سے نفس کا ایسا تزکیہ جس کی ممانعت آئی ہے۔ یہ مقام بڑی لغزش گاہ ہے۔ اکابر میں سے کسی نے اپنے مرید سے کہا تھا : بیٹا ! مجھے یہ اندیشہ تو نہیں کہ گناہوں کے راستہ سے شیطان کی رسائی تیرے پاس ہو سکے گی ‘ مجھے تو یہ خوف ہے کہ نیکیوں کے راستہ سے کہیں وہ تجھ تک (نہ) پہنچ جائے۔ اس مقام میں نگہداشت کی صورت یہ ہے کہ ہر کام میں نفس کو مشتبہ سمجھے اور زاری و استغفار کرے۔ (امام بوصیری کے قصیدہ بردہ کے چند اشعار کا ترجمہ) (نفس و شیطان کی مخالفت و نافرمانی کر ‘ اگر وہ تیری خالص خیر خواہی بھی کریں تب بھی مشتبہ سمجھ۔ حریف اور پنچ کی خفیہ تدبیروں سے تو تو واقف ہے ہی ‘ اسلئے وہ دونوں حریف بن کر آئیں یا پنچ بن کر ‘ تو کسی کا کہنا نہ مان۔ بےعمل قول کی اللہ سے معافی طلب کر کیونکہ تو بانجھ (ناقابل تولید) کی طرف نسب کی نسبت کر رہا ہے (یعنی بےعمل قول بانجھ ہے اس سے ثواب و خیر کی نسل نہیں پیدا ہوسکتی) اس مقام میں کامل تحفظ کی صورت یہ ہے کہ کسی فانی فی اللہ ‘ باقی باللہ شیخ کا دامن پکڑ لے اور کوئی کام اسکے حکم و اجازت کے بغیر نہ کرے۔ حضرت شیخ امام یعقوب کرخی نے اپنے ابتدائی حال کا ایک واقعہ بیان کیا ہے ‘ فرماتے ہیں میں نجار تھا۔ مجھے اپنے نفس میں کچھ سستی اور باطن میں کچھ تاریکی محسوس ہوئی۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ کچھ دونوں روزے رکھوں گا تاکہ یہ سستی اور تاریکی دور ہوجائے۔ روزہ رکھ لیا اور صبح کو شیخ اجل حضرت بہاء الدین نقشبند کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شیخ نے کھانا حاضر کرنے کا حکم دیا (کھانا آگیا) تو مجھ سے فرمایا : کھاؤ۔ وہ بندہ برا ہے جو ہویٰ پرست ہو اور خواہش اس کو گمراہ کر دے اور فرمایا : جو روزہ خواہش نفس کے زیر اثر ہو اس سے کھانا افضل ہے۔ اس سے میں سمجھ گیا کہ نفل عبادت کے لیے ایسے شیخ کی اجازت ضروری ہے جو فانی فی اللہ ہو اور خواہش نفس سے آزاد ہوچکا ہو۔ میں نے عرض کیا : اگر شیخ نہ ملے تو آدمی کیا کرے ؟ فرمایا : اللہ سے بکثرت استغفار کرے ‘ یا ہر نماز کے بعد بیس مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرلیا کرے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے دل پر کچھ کدورت آجاتی ہے اور میں روزانہ اللہ سے سو بار استغفار کرتا ہوں۔ خواہش نفس سے باز رہنے کا اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ اپنے دل سے بالکل خواہش نکال پھینکے ‘ سوائے خدا اور مرضی خدا کے اس کا نہ کوئی مقصود ہو نہ مراد۔ اس مرتبہ کو حاصل کرنے کے لیے صوفیہ لا الٰہ الا اللہ کی کثرت کرتے ہیں مگر لا الٰہ الا اللہ کہتے وقت پیش نظر یہ رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی مقصود نہیں۔ حضرت مجدد (رح) نے فرمایا ہے کہ بندہ جب تک خواہش نفس میں لگا رہتا ہے ‘ بندۂ نفس اور مطیع شیطان ہوتا ہے۔ یہ نعمت عظمی یعنی بالکل خواہش نفس سے آزاد ہوجانا خالص ولایت سے وابستہ ہے اور کامل ترین فناء وبقاء پر موقوف ہے (ہر شخص کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہوسکتا) میں کہتا ہوں کہ اس مرتبہ پر پہنچ کر صوفی تقدیر الٰہی کو پسند کرتا ہے ‘ خواہ اس کی طبیعت کے خلاف ہی ہو۔ کسی آئے ہوئے دکھ کو دور کرنے کی دعاء وہ صرف اس لیے کرتا ہے کہ اس کو دعا کرنے کا حکم ہے اور طلب عافیت پر وہ مامور ہے ‘ اس لیے دعا نہیں کرتا کہ وہ تکلیف سے دل تنگ اور مراد نہ ملنے سے کبیدہ خاطر ہوجاتا ہو ‘ اس مرتبہ میں وہ ویسا ہی اللہ کا بندہ اپنے اختیار سے ہوجاتا ہے جس طرح وہ تکوینی اور اضطراری طور پر خدا کا بندہ ہوتا ہے۔ اس وقت شیطان کو اس کے پاس پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا ‘ شاذ و نادر صورت اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ انسان تک شیطان کا راستہ عموماً خواہش نفس کے ہی ذریعہ سے پہنچتا ہے ‘ دیکھو جو شخص گرم مزاج رکھتا ہو اور غصہ سے مغلوب ہوجاتا ہو ‘ شیطان اس کی نظر میں قتل اور ظلم کو اچھا فعل بنا کر دکھاتا ہے اور جو شخص ٹھنڈے مزاج اور کمزور دل والا ہو اس کو سیطان بتاتا ہے کہ جہاد سے بھاگ جانا۔ حق کے معاملہ میں غیرت کو چھوڑ دینا اور منافقت کرنا اچھا ہے ‘ وغیرہ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص خواہش ہی کو ختم کر دے تو اس کے پاس آنے کے شیطان کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں۔ یہی مفہوم ہے اس آیت مبارکہ کا : اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا۔ شیخ اجل مولانا یعقوب کرخی نے اسی مقام کے متعلق فرمایا ہے کہ آدمی جب تک خواہش سے آزاد نہ ہوجائے مردوں کے مرتبہ پر نہیں پہنچتا۔ اسی مقام پر پہنچ کر بندہ کو مؤمن حقیقی کہا جاتا ہے اور یہی مراد ہے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی کہ جب تک کسی کی خواہش اس (شریعت) کے تابع نہ ہوجائے جو میں لے کر آیا ہوں ‘ وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ رواہ البغوی فی شرح السنۃ۔ نووی (رح) نے اربعین میں لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ ابن ابی حاتم نے باسناد جہیر ؓ ضحاک کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ مکہ کے مشرکوں نے بطور استہزاء رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ قیامت کب بپا ہوگی ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی :
Ayah 79:42

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟

یسئلونک عن الساعۃ ایان مرساھا . مُرْسٰی ‘ راس سے مصدر ہے۔ کھڑا ہونا ‘ جمنا ‘ بپا ہونا۔ یعنی کفار قریش قیامت کے متعلق آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا ؟ (وہ کب بپا ہوگی ؟ ) حاکم اور ابن جریر ؓ نے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (لوگوں کے سوال کا جواب دینے کیلئے) قیامت کے متعلق (جبرئیل سے یا بوقت مناجات اللہ سے) سوال کرتے تھے اس پر آیت : یسئلونک عن الساعۃ .... نازل ہوئی۔ طبرانی اور ابن جریر نے طارق بن شہاب کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کا ذکر بکثرت کرتے تھے ‘ اس پر فیم انت من ذکرھا . نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عروہ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے قیامت بپا ہونے کا وقت دریافت کرتے تھے اور آپ ﷺ ان کو جواب دینے کے خواہش مند تھے۔ اس لیے اللہ سے وقت قیامت دریافت کرتے تھے۔ اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا اور آپ ﷺ نے سوال کرنا ترک کردیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعیین قیامت کو پوشیدہ رکھنے میں خاص حکمت ہے اور اس کا علم ناقابل امید ہے۔
Ayah 79:43

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو

فِیْمَ میں مَ (جو اصل میں مَا تھا) استفہام انکاری کے لیے ہے اور مِنْ ذِکْرٰھَا اس کا بیان ہے۔ یعنی آپ ﷺ قیامت کے کس ذکر میں پڑے ہیں ‘ اس کے وقت کا بیان جائز نہیں کیونکہ آپ ﷺ کو اسکا علم نہیں اور نہ علم ہوسکتا ہے۔ اس کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت ہے یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کا علم خود آپ کو نہیں (اس وقت ذِکْرٰی بمعنی علم ہوگا) محاورہ میں بولا جاتا ہے : لیس فلان فی العلم من شئی یعنی فلاں شخص کو بالکل علم نہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ فِیْمَ خبر ہو اور مبتداء محذوف ہو ‘ یعنی یہ سوال کس غرض سے ہے ‘ اس کا کیا فائدہ ؟ اس کے بعد اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا سے نیا کلام شروع کیا کہ آپ ﷺ تو خود قیامت کی علامات میں سے ہیں ‘ آپ ﷺ کے وجود سے تو خود قیامت کی یاد ہوجاتی ہے کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ﷺ ہیں۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ کو اور قیامت کو ان دونوں (انگلیوں سبابہ و وسطیٰ ) کی طرح (متصل) بھیجا گیا ہے۔ (بخاری و مسلم) حضرت مستورد ؓ بن شداد کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے قیامت کے ہی وقت میں بھیجا گیا ہے ‘ مجھے سابق بنا دیا گیا جیسے یہ اس سے سابق ہے۔ حضور ﷺ نے کلمہ کی انگلی اور انگوٹھے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا۔ (ترمذی) یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیم انت من ذکرٰھا کا تعلق یسئلونک سے ہے یعنی وہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے وقت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب بپا ہوگی اور کہتے ہیں کہ تم کو اسکے مقرر وقت کے متعلق کیا معلومات ہیں ‘ بتاؤ اور اس کا معین وقت بیان کرو۔
Ayah 79:44

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)

الی ربک منتھھا . یعنی مدت دنیا جس کے ختم ہونے پر قیامت بپا ہوگی ‘ خدا ہی کے سپرد ہے ‘ اس کے علاوہ کسی کو اسکا علم نہیں۔ یہ کلام انکار سابق کی علت ہے۔ جواب نما لیکن اگر فیم انت من ذکرٰھا کو سوال کا تتمہ قرار دیا جائے تو یہ جواب ہوگا۔
Ayah 79:45

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو

انما انت منذر من یخشھا . یعنی آپ کو قیامت کا وقت بیان کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ اس لیے بھیجا گیا ہے کہ اہل خشیت کو شدائد قیامت سے ڈرائیں تاکہ شدائد قیامت میں مبتلا کرنے والے اسباب سے وہ پرہیز کریں اور صرف اتنا یقین کرلینا کہ قیامت آئے گی ‘ دوسروں کو ڈرانے کے لیے کافی ہے ‘ قیامت کا تعینی وقت بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ( رسول اللہ ﷺ ہر شخص کے لیے منذر تھے کیونکہ بغیر تخصیص کے آپ : ﷺ کی نبوت عمومی تھی) مگر اہل خشیت ہی آپ ﷺ کے انذار سے فائدہ اٹھانے والے ہیں (جن کے دل میں خوف خدا اور اندیشۂ قیامت نہیں ان کو کچھ فائدہ نہیں) اسی لیے خاص طور پر اہل خشیت کا ذکر کیا۔ سوال کرنے کی ممانعت کی علّت جو پہلے کلام سے مستفاد ہوتی تھی ‘ اس کی یہ جملہ تاکید ہے۔
Ayah 79:46

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے

کانھم یوم یرونھا لم یکبثوا الا عشیۃ اوضحھا . یعنی جس روز وہ قیامت کو دیکھیں گے تو ایسا محسوس کریں گے کہ گویا دنیا میں اور قبروں میں ایک دن کے صرف نصف اخیر یا مع نصف اوّل کے (یعنی پورے دن) رہے تھے۔ ضُحٰی کی اضافت عشیّۃ کی ضمیر کی جانب اسلئے کی گئی کہ دونوں ایک ہی دن کے جزء ہیں (نصف اوّل یعنی ضحٰی اور نصف اخیر یعنی عشیۃ) ۔ مراد یہ ہے کہ دنیا میں اور قبروں میں رہنے کی مدت چونکہ محدود ہے اور وہ مدت ختم ہوچکی ہوگی اور عذاب کی مدت غیر محدود ہوگی اور عذاب کی شدت بھی ہوگی اس لیے وہ مدت عذاب کے مقابلہ میں دنیا اور قبر کے قیام کو ہیچ سمجھیں گے اور خیال کریں گے کہ ہم وہاں بہت تھوڑے وقت رہے۔ اسی مضمون کو آیت : لبثنا یوما او بعض یوم میں بیان کیا گیا ہے گویا مذکورۂ بالا آیت ان کے سوال کا جواب ہے۔ انہوں نے وقت قیامت پوچھا تھا ‘ جواب دیا گیا کہ قیامت آنے کا وقت قریب ہی ہے۔ الحمد ﷲِ سورة والنازعات ختم ہوئی